پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا گیاجہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں
وائسرائے ہند کی طرح یہ لوگ پاکستان حکومت کرنے آتے ہیں، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کا کہنا ہےتھا کہ ظل سبحانی نے جس ایون فیلڈ سے انکار کیا آج وہاں شان سے مقیم ہیں ، اقتدار سے محرومی پر عوام کو لاورث چھوڑ کر اپنے بچوں کے پاس جانا ان کا وطیرہ ہے۔
ایک طرف دکھی انسانیت کی خدمت کیلئے پناہ گاہیں اور لنگر خانے تعمیر کئے جا رہے ہیں جبکہ دوسری طرف ایون فیلڈ فلیٹ، جاتی امرا ء محل اور سرے محل تعمیر کئے گئے۔ تحریک انصاف کی حکومت عوام کو علاج کی بہترین سہولیات فراہم کرنے کیلئے صحت انصاف کارڈ مہیا کر رہی ہے دوسری طرف 35سال تک باریاں لینے والے ظل سبحانی نے پنجاب پر نحوست کو مسلط رکھا اور پاکستان میں ایک بھی ایسا ہسپتال نہ بنایا جہاں شاہی خاندان کے افراد اپنا علاج کروا سکیں۔
نواز شریف کو مخاطب کرتے ہوئے انکا کہنا تھا کہ ظل سبحانی کے کالے کرتوت بین الاقوامی سطح پر عیاں ہوئے، براڈ شیٹ کی چارج شیٹ ن لیگ کے خوشامدیوں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کافی ہے۔ن لیگ والے چوری اور اوپر سے سینہ زوری کر رہے ہیں۔کنیز اول حکومت پر برستی رہتی ہیں، نادان درباریوں سے کہتی ہوں کہ ظل سبحانی ہجرت کرچکے ہیں۔
عوام جواب چاہتے ہیں پریس کانفرنس کے بدلے پریس کانفرنس نہیں چاہتے۔ کشمیر کمیٹی کا چئیرمین ہوتے ہوئے مولانا نے مقبوضہ کشمیر پر چڑھائی کا اعلان کیوں نہ کیا۔مودی کی بجائے مولانا کا رخ پنڈی کی جانب ہوتا ہے۔ہم منتظر ہیں کہ پی ڈی ایم کب اعتراف جرم کرے گی ۔ پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں،یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے۔عمران خان اور آرمی چیف ایک پیج پر ہیں.دونوں کا مقصد دہشت گردی کا خاتمہ ہے.
معاون خصوصی وزیر اعلیٰ کا کہنا ہے کہ مشکل پڑنے پر مولانا کو بھی زرداری اور نواز شریف اپنے پاؤں کے نیچے دبا لیں گے۔
ان خیالات کا اظہار معاون خصوصی وزیراعلیٰ پنجاب ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان نے داتا دربار پناہ گاہ کے دورہ کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ بزدار حکومت غریب، بے سہارا، نادار اور مستحقین کے حقوق کی پاسدار ہے۔ماضی کے ڈرامے بازوں اور شوبازوں کے برعکس عوام کے وزیراعظم عمران خان کے ویژن کے مطابق بزدار حکومت معاشرے کے کمزور طبقہ کے حقوق کا تحفظ کرتے ہوئے پناہ گاہوں اور لنگرخانوں کا قیام عمل میں لائی ہے۔ وزیراعلی عثمان بزدار کی زیرسرپرستی پناہ گاہوں میں مقیم افراد کوبہترین سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جارہی ہے۔
پناہ گاہوں کا منصوبہ غریب اور مستحق افراد کیلئے ہے۔مخیر حضرات کا شکریہ ادا کرتی ہوں جنہوں نے پناہ گاہوں کی تعمیر میں حصہ لیا.پناگاہوں میں معیاری کھانا مہیا کیا جاتا ہے. حکومت نے باہمت بزرگ اور وسیلہ پروگرام کے ذریعے بوڑھے بزرگوں کی ذمہ داری اٹھائی۔حکومت کبھی اپنے پسے ہوئے طبقات کو تنہا نہیں چھوڑے گی۔ معاون خصوصی نے پناہ گاہ میں شہریوں کو دی جانے والی سہولیات کا جائزہ لیا اور وہاں مقیم افراد کے ساتھ کھانا بھی کھایا۔
Tag: baaghitvnews

پی ڈی ایم والے دل کھول کر مارچ کریں، یہی گھوڑا اور یہی میدان ہے، معاون خصوصی وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فردوس کی (ن) لیگ کو للکار اورطنزوں کی بوچھاڑ سب مخالفین کے پول کھول دیئے۔

گستاخانہ خاکوں کے خلاف مسلم ممالک کا بائیکاٹ، توانائی، زراعت اور جنگی سامان صنعت کو خطرہ
مسلم ممالک گستاخانہ خاکوں کیخلاف فرانسی سفیر
کو ملک بدر اور مصنوعات کا بائیکاٹ کریں،متحدہ
علماء محاذحکمران اسلام کے نظام عدل کو نافذ و سیرت مصطفی ﷺ کو مشعل راہ بنائیں،پروفیسر حافظ محمد سلفی
سیرت رسولؐ اسلامی اخوت و یکجہتی و استعمار کے خلاف بیداری کا درس دیتی ہے،مقررین وحدت امت سیمینار
کراچی()متحدہ علماء محاذ پاکستان اور شبان غرباء اہلحدیث کے زیر اہتمام پروفیسر حافظ محمد سلفی کی زیر صدارت جامعہ ستاریہ میں وحدت امت سیرت مصطفی ﷺ کی روشنی میں تیسرے سیمینار میں شریک مختلف مکاتب فکرکے علماء،محاذ کے بانی مولانا محمد امین انصاری،علامہ عبدالخالق فریدی،شیخ الحدیث مفتی محمد انس مدنی، علامہ روشن دین الرشیدی، علامہ مرتضیٰ خان رحمانی،علامہ سید سجاد شبیررضوی،علامہ قاضی احمد نورانی صدیقی ودیگر نے کہا ہے کہ ملک کے موجودہ حالات میں ملک کے دفاع اور
استحکام کے لئے سیرت نبویؐ سے سبق حاصل کیاجائے۔مسلم حکمران اسلام کے نظام عدل کو نافذ العمل و
سیرت مصطفی ﷺ کو مشعل راہ بنائیں۔ نبی کریم ؐ کی تعلیمات امن،اخوت، محبت، صبر و تحمل،ایثار و قربانی، برداشت،باہمی رواداری،عدل و انصاف او رخوداحتسابی کی تعلیم دیتی ہے۔ فرقہ واریت،دہشت گردی سے اسلام کا کوئی تعلق نہیں نفاذ اسلام ہی ملک کو موجودہ سنگین درپیش مشکلات،چیلنجزسے نجات اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکتاہے۔قرآن و سنت ہی پاکستان کا اٹل دستور و منشور و آئین ہے جس کی موجودگی میں ہمیں غیر شرعی مغربی جمہوریت اور سیکولر سمیت کسی نظام کی قطعاً ضرورت نہیں ہے۔سیرت رسولؐ اسلامی اخوت و یکجہتی و استعمار کے خلاف بیداری کا درس دیتی ہے۔پرامن اسلامی انقلاب پاکستان کا مقدرہے

ایف بی آر نے فیصل آباد میں جعل سازی کی بڑی کوشش ناکام بنا دی
فیڈرل بورڈ آف ریونیو کے چیرمین شبر زیدی نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ ایف بی ار فیصل آباد کی ٹیم کو میں مبارکباد پیش کرتا ہوں جنہوں نے جعلی رسیدیں بنانے والے دو جعلسازوں کو بے نقاب کیا ہے اور انہیں جسمانی ریمانڈ کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے ، لوگوں سے درخواست ہے کہ وہ ایسے ہتھکنڈوں سے خوشیار رہیں ، جعلسازی کے معاملات میں ملوث تمام افراد کیساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے گا ، اور آٹو میٹڈ انوائسنگ کی وجہ سے ایسے جعلسازوں تک پہنچنا بہت آسان ہو گیا
مزید پڑھیں
نیب نے وزیراعظم پر بھی کیس بنایا، وفاقی وزیر نے کیا انکشاف
مقامی صنعت کار کو آن لائن شاپنگ اسٹورز کیساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ
راولپنڈی چیمبر آف کامرس نے کاروباری سرگرمیوں میں اضافہ اور پاکستانی مصنوعات کی بیرون ملک پذیرائی کیلئے آن لائن شاپنگ سٹورز کو مقامی تجارتی مراکز کیساتھ منسلک کرنے کا فیصلہ کیا ہے ، راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے نومنتحب صدر صبور ملک نے کہا کہ مارکیٹنگ کے جدید طریقوں کا فروغ وقت کی ضرورت ہے، راولپنڈی چیمبر مقامی دستکاریوں کے فروغ کیلئے بھرپور اقدامات کرے گا اور متعلقہ صنعت کار کی شراکت سے دستکاروں کے کام کی مارکیٹنگ سے روزگار و کاروبار کے مواقع فراہم کرے گا ، پاکستانی مصنوعات کی عالمی مارکیٹنگ کیلئے آن لائن شاپنگ سٹورز کو مقامی مراکز کے ساتھ منسلک کرنے کے اقدامات بھی کیے جائیں گے ،

ورلڈ ریبیز ڈےاور پاکستان : علی چاند
دنیا بھر میں 28 ستمبر کو ورلڈ ریبیز ڈے منایا جاتا ہے ۔ اس دن کے منانے کا مقصد دنیا بھر سے ریبیز کی بیماری کو روکنا اور کنٹرول کرنا ہے ۔ ریبیز ایک جان لیوا بیماری ہے جو کسی جانور خاص طور پر کتے کے کاٹنے سے ہوتی ہے ۔ ریبیز لاٸسا واٸرس کی وجہ سے پھیلتی ہے جو انسان میں تب اثر انداز ہوتی ہے جب یہ واٸرس انسان کی ریڑھ کی ہڈی یا دماغ کی طرف بڑھتا ہے ۔ یہ واٸرس عصاب کے ذریعے دماغ تک پہنچتا ہے اور جب یہ واٸرس دماغ تک پہنچتا ہے تو اس مرض کی علامات ظاہر ہوتی ہیں ۔ یہ واٸرس شکل میں پستول کی گولی سے مشابہ ہوتا ہے ۔ یہ واٸرس پاگل کتے کے کاٹنے سے اس کی رطوبت کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسان میں ریبیز کی بیماری ہوتی ہے ۔
ریبیز کی بیماری کی دو اقسام ہوتی ہیں ۔ فیورس اور ڈمپ ۔ فیورس سے انسانی دماغ میں سوزش ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے مریض بے چینی اور ڈپریشن محسوس کرتا ہے ۔ ایسی حالت میں مریض انسان کو باقی لوگوں سے الگ کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دینا چاہیے جبکہ ڈمپ میں انسان پٹھوں کی کمزوری اور فالج کی کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے ۔ ایسی حالت میں انسان کی جلد موت واقع ہوجاتی ہے ۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق اس بیماری کا کورس تین ٹیکوں پر مشتمل ہوتا ہے ۔ اور یہ ٹیکے بیماری کے پہلے دن ، ساتویں اور اٹھاٸیسویں دن لگانے ہوتے ہیں ۔ اس کے بعد احتیاط کے طور پر ایک سال بعد ایک ٹیکہ اور پانچ سال بعد ایک اور ٹیکہ لگوا کر اس بیماری سے مستقل طور پر بچا جا سکتا ہے ۔ کتے کے کاٹنے کے فورا بعد مریض کے زخم کو اچھی طرح دھونا چاہیے اگر جراثیم کش لیکوڈ پاس ہو تو چاہیے کہ زخم کو اس سے دھویا جاٸے ۔ زخم پر ٹانکے ہرگز نہ لگواٸیں جاٸیں اور نہ ہی زخم کے اوپر پٹی کرنی چاہیے ۔
دنیا بھر میں اکثر ممالک میں یا تو ریبیز کا مکمل خاتمہ ہوچکا ہے یا پھر یہ بیماری زوال پذیر اور ختم ہونے کے قریب ہے ۔ لیکن پاکستان میں بد قسمتی سے ابھی بھی صورتحال بدتر سے بدتر ہوتی جارہی ہے ۔ اس کی بڑی وجہ مرض سے لاعلمی اور پھر علاج کے لیے گھریلو ٹوٹکے اور دیسی علاج ہیں ۔ اس کے علاوہ اہم وجہ پاکستان کے ہسپتالوں کی ابتر صورتحال اور ادویات کی کمی بھی ہے ۔ پاکستان میں ریبیز کی ویکسین کی کمی کی وجہ سے پانچ ہزار لوگ موت کا شکار ہورہے ہیں ۔ ایک حالیہ رپوٹ کے مطابق 9 ماہ میں صرف کراچی میں ریبیز کے تقریبا آٹھ ہزار مریض سامنے آٸیں ہیں ۔ محکمہ سندھ کی طرف سے شاٸع کردہ رپوٹ کے مطابق اس سال کے پہلے پانچ ماہ میں کتے کے کاٹے کے 69 ہزار کیس سامنے آٸے ہیں ۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لوگوں کو اس بیماری کے بچاو کے حوالے سے حفاظتی انتظامات کے طریقوں سے آگاہ کرے ۔ ریبیز کے مریضوں کو بھر وقت ویکسین کی سہولت دی جاٸے ۔ ہسپتالوں میں ادویات کی کمی کو پورا کیا جاٸے ۔ کتوں کی نسل کشی کی جاٸے اور ایسے کتے جس سے ریبیز کی بیماری کا خطرہ ہو انہیں فوری طور پر مار دیا جاٸے ۔ لوگوں کو ریبیز کے حوالے سے مکمل آگاہی دی جاٸے اور ابتداٸی طبی امداد کے حوالے سے آگاہ کیا جاٸے ۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل تیسرے ہفتے تیزی
کراچی: پاکستان سٹاک ایکسچینج مسلسل تیسرے ہفتے تیزی کے رجحان پر بند ہوئی ، بروز اتوار سٹاک ایکسچینج 100 انڈیکس 630 پوائنٹس کے اضافے کیساتھ 32111 پوائنٹس پر بند ہوئی ،ٹاپ لائن سیکیورٹیز کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے تین ہفتوں میں سٹاک ایکسچینج میں کل 8 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے،
سعودی ائل کمپنی ارمکو کی تنصیبات پر حملے کے بعد دنیا میں تیل کی قیمتوں میں 20 فیصد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جس کے باعث انویسٹر تیل و گیس کے سٹاک پر سرمایہ کاری میں زیادہ دلچسپی لے رہا ہے اور سٹاک مارکیٹ میں اضافے کا باعث بن رہا ہے ،
تحریک انصاف کی ایک اور بڑی کامیابی
حکومت پاکستان کے ادارہ برائے اعداد شمار کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پاکستان کی پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں 26 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے ، اور پاکستان کی برآمدات میں معمولی اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ،
ادارہ برائے اعداد شمار کی رپورٹ کے مطابق اگر پاکستان کی کل درامدات کا جائزہ لیا جائے تو اس میں 21.4 فیصد کی نمایاں کمی ہوئی ہے جس سے پاکستان کی درآمدات 7.67 ارب ڈالر تک آ گئی ہیں ، اگر درآمدات کو پراڈکٹ کے لحاظ سے دیکھا جائے تو پیٹرولیم مصنوعات کی درآمد میں کل 1.93 ارب ڈالر کی کمی واقع ہوئی ہے ، جس میں سب سے زیادہ کمی خام تیل کی درآمد میں ہوئی ہے ، ایل این جی کی درآمد میں 8.75 جبکہ ایل پی جی کی درآمد مین 39.7 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے ،
ٹیلی کمیونیکیشن گروپ کی درآمدات میں 10.9 فیصد کا اضافہ ہوا ہے ، موبائل فون کی 19.4 فیصد اضافہ ہوا ہے جس کی بنیادی وجہ موبائل اسمگلنگ کو روکنے کیلئے حکومت کی طرف سے کیے جانے والے اقدامات اور باہر سے انے والے موبائل فونز پر بھاری ٹیکسز کا لگنا ہے ،
دوسری طرف پاکستان کی برامدات میں اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا ہے ، ٹیکسٹائل برآمدات میں 2.3 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا ہے ، کاٹن کی برآمد میں پچھلے سال کی نسبت 150 فیصد اضافہ دیکھا گیا
وال مارٹ نے امریکہ میں ای سگریٹ کی فروخت بند کردی
امریکہ میں کاروبار کے سب سے بڑے بروکر وال مارٹ نے الیکٹرنک سگریٹ کی فروخت پر مکمل پابندی عائد کر دی ، اس پابندی کی بڑی وجہ الیکڑانک سگریٹ کے باعث نوجوانوں میں پھیلنے والی سانس کی بیماریاں ہیں،
وال مارٹ کی انتظامیہ کو ایک رپورٹ موصول ہوئی جس میں الیکٹرانک سگریٹ اور نکوٹین کے نوجوانوں میں استعمال بڑھنے کے اثرات کا زکر کیا گیا تھا ، اس رپورٹ میں واضع زکر تھا کہ کتنے فیصد امریکی نوجوان اس نشے کی لت میں دھت ہو کر یا بیمار ہو چکے ہیں یا اپنی زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ، اور وال مارٹ نے اپنے کسٹمر کی حفاظت کی غرض سے یہ قدم اٹھایا اور الیکٹرانک سگریٹ کو بند کر دیا ،
کینیڈا میں شہریوں کے اسلحہ خریدنے پر پابندی عائد کریں گے، کینیڈین وزیراعظم
کینیڈا کے موجودہ وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے کہا ہے کہ لبرل پارٹی دوبارہ اقتدار میں آئے گی اور کینیڈا میں سرعام ہونے بکنے والے بھاری اسلحےپر مکمل پابندی عائد کرے گی ،
کینیڈا میں 21 اکتوبر 2019 سے الیکشن کا آغاز ہو رہا ہے جو کہ مختلف مرحلوں میں پورے ملک میں کروایا جائے گا ، جسٹن ٹروڈو نے اپنی انتخابی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبرل پارٹی اور کنزرویٹو پارٹی میں صرف اتنا فرق ہے کہ ہم چاہتے ہیں کینیڈا میں اسلحہ خریدنے کے قوانین سخت ترین ہوں اور وہ چاہتے ہیں ہر کینیڈین اسلحہ لیکر گھومے ،
جسٹن ٹروڈو کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام قسم کی اسالٹ رائفلز پر پابندی لگائیں گے اور جن لوگوں کے پاس پہلے سے موجود ہیں ان سے واپس خریدنے کا پلان بھی بنائیں گے ،
مدنی صاحبان آر ایس ایس کے معترف کیوں ؟ تحریر بھارتی صحافی ادتیہ مینن
(ادتیہ مینن انڈیا سے تعلق رکھنے والے نوجوان محقق اور صحافی ہیں۔ بھارتی سیاست پر ان کے تجزیات اور ڈیٹا کی بنیاد پر تجزیاتی رپورٹس معروف ویب سائٹ the quintپر شایع ہوتے ہیں۔ حالیہ دنوں میں جمعیت علمائے ہند قائدین کے آر ایس ایس سے رابطوں اور مودی سرکار سے متعلق ان کے بیانات پر ادتیہ مینن کا ایک مضمون شایع ہوا، باغی ٹی وی کی ٹیم the quint کی مشکور ہے کہ انہوں نے یہ آرٹیکل شائع کیا )
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کی زیر قیادت جمعیت علمائے ہند کے دونوں دھڑوں کی جانب سے حال ہی میں راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) اور مودی سرکار سے متعلق مصالحانہ بیانات سامنے آئے ۔
مولانا ارشد مدنی نے حال ہی میں آر ایس ایس کے سرسنگھ چالک(سربراہ) موہن بھاگوت سے ملاقات کی اور انھیں سراہا۔ ’’دی کوئنٹ‘‘ سے اس ملاقات کے بعد ہونے والی گفتگو کے چند اقتباسات حسب ذیل ہیں:
۔۔۔ ’’بھاگوت جی کی تنظیم (آر ایس ایس) انتہائی منظم ہے۔ میری رائے میں بھارت میں کوئی اور اس جیسا نہیں۔‘‘
۔۔۔’’آرایس ایس اپنے ہندو راشٹر کے تصور سے پیچھے ہٹ سکتی ہے‘‘
۔۔۔۔ ’’اگر آر ایس ایس ہم سے نرمی برتتی ہے تو ہم ایسا کیوں نہ کریں۔‘‘
مولانا محمود مدنی نے بھی آر ایس ایس کے حق میں کئی بیانات دیے اور کشمیر اور نشینل رجسٹر آف سٹیزن شپ(این آر سی) جیسے امور پر مودی سرکار کی حمایت کی۔ ان کے چند بیانات ملاحظہ کیجیے:
۔۔۔’’میرا خیال ہے کہ حالیہ دنوں میں آر ایس ایس نے نرم روی یا آزاد خیالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ ایک سنہرا موقع ہے میل جول کی حوصلہ ا فزائی ہونی چاہیے۔‘‘
۔۔۔۔’’این آر سی کی جانچ پڑتال پورے بھارت میں ہونی چاہیے تاکہ معلوم ہوجائے کہ یہاں کتنے گھس پیٹھیے ہیں‘‘
۔۔۔ کشمیر ہمارا ہے اور ہمارا ہی رہے گا۔ ہم ہندوستان کے ساتھ کھڑے ہیں۔‘‘
ان دونوں علما کے بیانات کو مختلف انداز میں دیکھا جاسکتا ہے۔ بعض کے خیال میں یہ بیانات مدنی صاحبان کے مابین جمیعت کی قیادت کے لیے جاری کھینچ تان کا نتیجہ ہے اور اب ان میں سرکاری سرپرستی حاصل کرنے کی دوڑ شروع ہوچکی ہے۔ دونوں ہی کاتعلق جمیعت کے بانی محمود الحسن اور اس کے سابق صدر حسین احمد مدنی کے خاندان سے ہے۔
سینٹر فور دی اسٹڈی آف ڈیولپنگ سوسائٹیز(سی ایس ڈی ایس) کے ہلال احمد کا کہنا ہے کہ جمیعت مسلمانوں کی نمائندگی نہیں کرتی اور وہ اس پر کشمیر اور این آر سی کو فرقہ ورانہ رنگ دینے کا الزام بھی عائد کرتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف نفرت کی بنیاد پر ہونے والے جرائم(ہیٹ کرائمز) کو دستاویزی شکل دینے والے محمد آصف خان کے مطابق مدنی صاحبان ہندوتوا کے بیانیے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔
تاہم مدنی صاحبان کے اس اقدام کو بڑے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے اور بالخصوص یہ دو پہلو بہت اہم ہیں۔ پہلے اسے جمیعت کی نظر سے دیکھنا چاہیے اور دوسرا اسے بھارت میں مسلمانوں کو درپیشن بڑے چیلنجز کے سیاق و سباق میں دیکھا جاسکتا ہے۔
جمیعت کا مؤقف کیا ہے:
جمیعت علمائے ہند اتر پردیش کے علاقے دیوبند میں قائم دارالعلوم کے علما کی نمائندہ تنظیم ہے۔ اگرچہ دیوبندی ہندوستانی مسلمانوں میں اقلیت میں ہیں، اور بعض اندازوں کے مطابق ہندوستانی مسلمانوں کی کل آبادی میں سے تقریبا پندرہ سے بیس فی صد اپنی شناخت بطور دیوبندی کرواتے ہیں، لیکن بریلویوں کے مقابلے میں ان میں زیادہ مرکزیت پائی جاتی ہے۔
اپنی اسی مرکزیت کی وجہ سے جمیعت بھارت میں مساجد کے سب سے بڑے نیٹ ورک پر کنٹرول رکھتی ہے۔ تاریخ طور پر مسلمانوں کی دیگر تنظیموں کے مقابلے میں جمیعت سیاسی جماعتوں اور حکومت میں زیادہ رسوخ رکھتی ہے۔
متحدہ قومیت:
جمیعت کی سیاسی فکر کی بنیاد متحدہ قومیت کے تصور پر ہے جو مولانا حسین احمد مدنی نے ۱۹۳۸میں اپنی کتاب ’’متحدہ قومیت اور اسلام‘‘ میں پیش کیا تھا۔
متحدہ قومیت کا تصور اس عقیدے کی مخالفت میں پیش کیا گیا تھا جس کے مطابق ہندو اور مسلمانوں کو دو الگ قومیتیں قرار دیا جاتا تھا اور مسلم لیگ کے محمد علی جناح جس پر یقین رکھتے تھے۔
متحدہ قومیت کے مطابق مختلف مذاہب کو مختلف اقوام کے طور پر نہیں دیکھا جاسکتا۔ اس کے بجائے قومیت کا تعلق زمینی حدود سے ہے جس میں مسلم و غیر مسلم ایک قوم کا حصہ ہوسکتے ہیں۔ مسلم اور غیر مسلم کے مابین رنگ، نسل زبان یا ثقافت جیسے مشترکات ہوسکتے ہیں۔
مدینہ کی مثال:
حسین احمد مدنی نے مشترکہ قومیت کی سند کے طور پر پیغمبر کے دور کے مدینہ کی نظیر پیش کی۔ ان کے مطابق ، میثاق مدینہ کے تحت یہود اور مسلمان قومیت کا یکساں احساس رکھتے تھے۔
میثاق مدینہ کی طرح ، جمیعت نے آزادی کے بعد یہ خیال پیش کیا کہ اب ہندوستان کے مسلمانوں اور غیر مسلموں کے مابین ہندوستان کو ایک سیکیولر ریاست بنانے کا معاہدہ طے پاچکا ہے۔ بھارت کا آئین اس معاہدے کی نمائندگی کرتا ہے اور اس معاہدے میں شامل ہونے کی وجہ سے ہر مسلمان پر آئین کی پاسداری لازم ہے۔
جمیعت یقین رکھتی تھی کہ مسلمانوں کو عبادات اور عائلی و مخصوص قوانین کی پیروی کے لیے مسلم لیگ کے پاکستان کے بجائے کانگریس کے بھارت میں زیادہ سازگار ماحول میسر آئے گا۔ جمیعت کے قائدین مسلم لیگ کی قیادت کو بے عمل مسلمان سمجھتے تھے اور انھیں مسلم قوانین سے متعلق کانگریس سے وسعت ِقلبی کی توقع تھی۔
جمیعت کے متحدہ قومیت کے تصور پر مسلمانوں کا مکمل اتفاق رائے نہیں ہوسکا۔ دیوبند کے علما میں مولانا اشرف علی تھانوی اور مولانا شبیر احمد عثمانی نے اس تصور اور اس کی مدینہ سے تطبیق پر اعتراض کیا اور اسے نصوص کے خلاف قرار دیا۔ بعدازاں شبیر احمد عثمانی نے علیحدہ ہوکر جمیعت علمائے اسلام قائم کرلی اور قیام پاکستان کی حمایت کی۔ حسین احمد مدنی کے متحدہ قومیت کے تصور پر علامہ اقبال اور بانی جماعت اسلامی سید مودودی جیسی شخصیات نے بھی تنقید کی۔
مدنی صاحبان کا ’’عملی‘‘ نقطہ نظر :
مولانا ارشد مدنی اور مولانا محمود مدنی کے آر ایس ایس کے ساتھ رابطے ایک اعتبار سے حسین احمد مدنی کے پیش کردہ متحدہ قومیت کے تصور ہی کا پھیلاؤ ہے۔ انہوں نے اس تصور کی خلاف ورزی بھی کی ہے جس پر آگے چل کر بحث کی جائے گی۔
دونوں صاحبان یہ نتیجہ اخذ کرنےمیں حق بجانب ہیں کہ جب مولانا حسین احمد مدنی نے متحدہ قومیت کا تصور پیش کیا تو اس وقت کانگریس ہندووں کی نمائندہ تھی ، اور آج یہ نمائندگی بی جے پی کے پاس ہے۔ اس لیے ان کے تصور جہاں بینی کے مطابق ہندووں سے کسی بھی قسم کے مکالمے کے لیے وزیر اعظم مودی اور سربراہ آرایس ایس موہن بھاگوت سے بات کرنا ہوگی۔
لوک سبھا کے انتخابات میں کام یابی کے بعد مودی کے نام محمود مدنی کے ستایشی خط اور ارشد مدنی کی موہن بھاگوت سے ملاقات کو اسی سیاق و سباق میں دیکھنا چاہیے۔ جمیعت کے نزدیک کانگریس اور سماج وادی پارٹی جیسی سیکیولر جماعتوں کے ذریعے ہندووں سے بات کرنا بے سود ہوچکا ہے اور اس کے لیے بی جے پی اور آر ایس ایس ہی موثر ثابت ہوسکتی ہیں۔ یہ بلا شبہہ ایک معروضی حقیقت ہے اور اس کا ادراک کرنے پر مدنی صاحبان کو مورد الزام نہیں ٹھیرایا جاسکتا۔
….گومگو کا شکارمسلمان:
مدنی صاحبان کا بی جے پی اور آر ایس ایس کی جانب جھکاؤ دراصل مسلمانوں کی اس گومگو کی کیفیت کا نتجہ ہے جس کی بنیاد یہ سوال ہے کہ ہندووں کی اکثریتی مطلق العنانیت میں اپنی بقا کیسے ممکن بنائی جائے۔
سادہ انداز میں کہا جائے تو آزادی کے بعد ہی سے بھارتی مسلمان سمجھتے تھے کہ ’’سیکیولر ہندو‘‘ کے ذریعے ہی ’’فرقہ پرست ہندو‘‘ کو روکا جاسکتا ہے۔ سیاسی میدان میں اس رائے کا اظہار اس طرح ہوا کہ مسلمانوں نے کانگریس، جنتا دَل اور اس سے ٹوٹنے والی بی ایس پی ، دائین بازو کی جماعتوں جیسی سیکیولر فکررکھنے والی سیاسی پارٹیوں کو ’’مسلمان‘‘ جماعتوں پر ترجیح دی۔
ہندو ووٹرکی اکثریت مودی کے پیچھے چل پڑی اور بی جے پی نے ان سیکیولر جماعتوں کو پچھاڑ دیا۔ اب مسلمان اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کررہے ہیں۔
مسلمانوں میں کئی حلقوں کا خیال ہے کہ بند گلی سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سے روابط بنائے جائیں۔
مدنی صاحبان اس فکر میں تنہا نہیں۔ مسلم اشرافیہ میں سابق مرکزی وزیر عارف محمود خان، کاروباری شخصیت ظفر سریشوالا، اور ماہر تعلیم فیروز بخت احمد اور ان جیسے دوسرے مسلسل کہتے آ رہے ہیں کہ مسلمان اب بی جے پی کو اچھوت سمجھنا چھوڑ دیں۔ بی جے پی بھی خان کو گورنر اور فیروز احمد اور سریشوالا کو مولانا آزاد نیشنل یونیورسٹی کاچانسلر بنا کر واضح اشارہ دے چکی ہے کہ اسے کیسے مسلمان درکار ہیں۔
عام خیال یہی ہے کہ (بی جے پی کی )حمایت ایشوز کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔
ماہرقانون اور نیشنل اکیڈمی آف لیگل اسٹڈیز اینڈ ریسرچ(نالسر) کے وائس چانسلر فیضان مصطفی نے اپنے ایک حالیہ مضمون میں لکھا کہ ریزرویشن پر آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت کے خیالات سبھی کو سننے چاہییں۔
آرٹیکل ۳۷۰کے خاتمے کا وسیع پیمانے پر متعدد مسلمانوں نے خیر مقدم کیا،کہنہ مشق صحافی شاہد صدیقی سے لے کر سوشل میڈیا پر حلقہ اثر رکھنے والے تحسین پوناوالا اور زینب سکندر بھی حکومتی اقدامات کو سراہنے والوں میں شامل ہیں۔ مدنیوں کی طرح یہ حلقے بھارت کے موجودہ حقائق(جس سے مراد بی جے پی اور آر ایس ایس کی بالا دستی ہے) کو عملیت کی نظر سے دیکھنے کے قائل ہیں۔
تاہم یہ مکمل طور پر عملی نکتہ نظر نہیں۔
مدنی صاحبان سے کہاں چوک ہوئی:
باوجو یہ کہ مدنی صاحبان اور مسلم اشرافیہ کے چند لوگ بی جے پی اور آر ایس ایس کو ’’مائل‘‘ کرنے اور مخصوص معاملات میں ان کی حمایت کرنے کی ڈگر پر ہیں ، ان میں سے مؤخر الذکر نے مسلمانوں کے تحفظات دور کرنے کے لیے کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
مدنی صاحبان متحدہ قومیت کے تصور سے اس لیے منحرف ہوتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے یہ حقیقت فراموش کردی ہے کہ سیکیولر ریاست کے قیام کا معاہدہ دو طرفہ تھا اور صرف مسلمان ہی اس کے پابندنہیں تھے۔
بی جے پی اور ہندوتوا نے باضابطہ طور پر بھارت کو ہندو راشٹر قرار نہیں دیا تاہم ان کے متعدد فیصلوں سے بھارتی ریاست کی سیکیولر حیثیت کمزورپڑ رہی ہے اور یہ فیصلے بھارت کے اپنی اقلیتوں سے کیے گئے عہد کے بھی خلاف ہیں۔ مثال کے طور پر:
۔۔ مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز جرائم میں گزشتہ چند برسوں میں اضافہ ہوا اور بی جے پی کی جانب سے انھیں روکنے کے لیے کوئی قابل ذکر کوشش نہیں کی۔ اس کے برعکس بی جے پی کے لیڈروں نے جھاڑ کھنڈ میں علیم الدین انصاری کے ہجومی قتل میں ملوث افراد کو پھولوں کے ہار پہنائے اور مغربی اتر پردیش میں محمد اخلاق کے قاتلوں کی عزت افزائی کی۔
۔۔شہریت کے قوانین میں ترمیم کے لیے متعارف کردہ بل میں پاکستان، بنگلا دیش اور افغانستان جیسے مسلم اکثریتی ملکوں کے غیر مسلم تارکین وطن کو شہریت دینے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ایک امتیازی قانون ہے جس میں مسلمانوں کو بھارتی شہریت کے حق سے محروم رکھا گیا ہے۔
۔۔۔ گئو رکھشا پر بی جے پی اور آر ایس ایس کا بڑھتا ہوا اصرار نہ صرف ہندو عقائد کی بالادستی کے لیے کیا جارہا ہے بلکہ یہ دیگر لوگوں کے کھانے پینے کے انتخاب کی آزادی پر بھی قدغن ہے۔ گئو رکھشا اب اس حد تک پہنچ چکی ہے جہاں ہندووں کی خواہشات پر قانون کی حکمرانی کو قربان کردیا جاتا ہے۔
۔۔۔ عدالت کی جانب سے منسوخی کے باوجود مسلمانوں میں رائج ایک مجلس کی تین طلاق کو جرم قرار دیا گیا۔
۔۔۔ بی جے پی نے انتخابات ممیں اُس پرگیا ٹھاکر کو ٹکٹ دیا جس پر میلاگاؤں دھماکوں میں ملوث ہونے کا الزام ہے، اس واقعے میں متعدد مسلمان جان سے گئے تھے۔ پرگیا ٹھاکر مہاتما گاندھی کے قاتل ،نتھورام گوڈسے کی تعریف و تحسین بھی کرچکی ہیں۔
۔۔۔ آرٹیکل ۳۷۰کی تنسیخ سے یہ بات واضح ہوگئی کہ بی جے پی اور آر ایس ایس اپنے نظریاتی اہداف کے لیے آئین کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے بھی دریغ نہیں کریں گے۔ آئین ریاست ہند کے جمیعت کے ساتھ عہد کا مظہر ہے ، اس میں دخل اندازی پر تشویش ہونی چاہیے تھی۔
ان مثالوں سے یہ تو واضح ہے کہ بی جے پی اور آر ایس ایس سیکیولرزم کے تحفظ کے لیے فکر مند نہیں۔ ابھی تو ہم نے بی جے پی کے قائدین کے ان بیانات پر بات شروع بھی نہیں کہیں جن میں وہ مسلمانوں کو نشانہ بنانے پر اکساتے اور ملک کو ہندو راشٹربنانے کے دعوے کرتے ہیں۔ اس کے بعد یکساں شہری قوانین اگلا قدم ہوسکتے ہیں، جو نجی زندگی سے متعلق ضابطوں کی آزادی، جمیعت کے نزدیک جس کی بہت قدر ہے، کے برخلاف ہوں گے۔
آر ایس ایس کو خوش کرنے اور ہندوستان میں اکثریت کی مطلق العنانیت کی راہ ہموار کرنے کے بجائے جمیعت اور مسلم اشرافیہ کو سیکیولرزم اور متحدہ قومیت کے تحفظ کے لیے حکومت کو جوابدہ بنانا چاہیے۔
(ترجمہ رانامحمدآصف)









