Baaghi TV

Tag: Bajaur

  • اسپیکر قومی اسمبلی کی باجوڑ، گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت

    اسپیکر قومی اسمبلی کی باجوڑ، گوادر میں سکیورٹی فورسز پر حملے کی مذمت

    اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف کا باجوڑ اور گوادر میں سکیورٹی فورسز کے قافلے پر دہشتگردوں کے حملے کی مذمت کی ہے جبکہ اسپیکر کی باجوڑ میں سکیورٹی فورسز کی دہشتگردوں کے خلاف مقابلے دوران سپاہی محمد شعیب کے جانی نقصان پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اسپیکر نے سپاہی محمد شعیب کے اہلخانہ سے دلی تعزیت کا اظہار بھی کیا۔

    اسپیکر قومی اسمبلی نے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے کے درپے ہیں جبکہ پوری قوم دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اپنے سیکیورٹی اداروں کے ساتھ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی ماند کھڑی ہے، دشمن اپنے مذموم مقاصد کے ذریعے سیکیورٹی فورسز کا دہشتگردی کے خلاف غیر متزلزل جذبے کو متزلزل نہیں کر سکتا.

    اسپیکر قومی اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ جش آزادی کے موقع پر ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کے ذریعے ملک کے امن کو سبوتاژ کرنے چاہتا ہے.لیکن ہم ڈٹے ہوئے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے شہید سپاہی محمد شعیب کے درجات کی بلندی اور سوگوار خاندان کو اس ناقابل تلافی نقصان کو برداشت کرنے کے لیے صبر جمیل عطاء فرمانے کی دعا کرتے ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    خیال رہے کہ سیکیورٹی فورسز نے گوادر اور باجوڑ میں مختلف کارروائیوں میں 6 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا تھا جبکہ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں دہشت گردوں نے آج صبح 10 بجے فوجی قافلے پر حملہ کیا، سیکیورٹی فورسز کے مؤثر ردعمل کے نتیجے میں 2 دہشت گرد جہنم واصل جبکہ 3 زخمی ہوگئے تھے۔

    دوسری جانب خیبرپختونخوا کے باجوڑ چارمنگ میں فورسز نے کارروائی کرتے ہوئے 4 دہشتگرد ہلاک جبکہ ایک دہشتگرد کو گرفتار کرلیا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق فائرنگ کے تبادلے کے دوران کوہاٹ سے تعلق رکھنے والے 24 سالہ سپاہی محمد شعیب نے بہادری سے لڑتے ہوئے شہادت کو گلے لگا لیا۔ ترجمان کے مطابق دہشت گرد سیکیورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردی کی متعدد کارروائیوں اور بے گناہ شہریوں کے قتل اور خودکش دھماکوں میں سرگرم رہے۔دہشتگردوں سے خودکش جیکٹ، اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد کرلیا گیا۔ تاہم خیال رہے کہ رہے کہ دو روز قبل بھی سیکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے ضلع کیچ میں دہشت گردوں کے خلاف کامیاب انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا، آپریشن کے دوران 2 دہشت گرد مارے گئے جبکہ ایک دہشت گرد کو زخمی حالت میں گرفتار کرلیا گیا۔

  • زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    زخمی کارکن مولانا فضل الرحمان سے ملاقات پر خوشی سے نہال

    سینئر صحافی حامد میر نے ایک ویڈیو اپنے ایکس (ٹوئیٹر) اکاؤنٹ پر پوسٹ کرتے ہوئے لکھا کہ "باجوڑ میں زخمی ہونے والا جے یو آئی کا کارکن اپنے قائد مولانا فضل الرحمان کو سامنے دیکھ کر بہت خوش ہوا اور کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے اپنے سینے پر زخم کھایا ہے ،ایسے بہادر کارکن سیاسی جماعتوں کا اصل سرمایہ ہیں ان کارکنوں کو اسمبلیوں میں لانا چاہئیے.”

    جبکہ خیال رہے کہ جے یو آئی ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے دورہ پشاور پر زخمی کارکنان سے فردا فردا خود جاکر ان سے ملاقات کی اور
    زخمی کارکن پارٹی قائد کو اپنے درمیان دیکھ کر ناصرف خوش ہوئے بلکہ چند لہحوں کیلئے زخم کے درد بھی بھول گئے. جمیعت علماء اسلام ف نے اپنے ٹوئیٹر پر مزید لکھا کہ "قائد جمعیت فردا فردا ہر زخمی کارکن کے پاس گئے، زخمیوں کو بوسہ دیا ،گلدستہ پیش کیا ،کارکن قائد جمعیت اور قائد جمعیت کارکنوں کو دلاسہ دیتے رہے ۔”


    پارٹی کے آفیشل اکاؤنٹ سے مزید کہا گیا کہ کارکنوں کے بلند حوصلوں سے ہمارے حوصلے بلند ہیں ۔ایک کارکن نے قائد جمعیت کو کہا کہ ہمیں آپ پر فخر ہے میں نے گولی سینے پر کھائی ہے. تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل وفاقی وزیر برائے ہاﺅسنگ مولانا عبد الواسع رکن قومی اسمبلی مولانا صلاح الدین ایوبی ، رکن قومی اسمبلی مولانا محمود شاہ سنیٹر مولانا فیض محمد ، مولانا عطاء الحق درویش و دیگر ارکین پارلیمنٹ نے بھی لیڈی ریڈنگ اسپتال میں باجوڑ دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کی تھی.

    جبکہ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ باجوڑ حادثے میں جے یو آئی کے 60 کارکن شہید جبکہ 200 کے قریب زخمی ہوئے ہیں اور باجوڑ دھماکہ افسوسناک ہے، یہ حالات کا ایک جبر ہے اور تاریخ کا سیاہ واقعہ ہے، جبکہ آزمائشیں قوموں پر آتی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حادثے کے باوجود کارکنوں کے حوصلے بلند ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کو اعلیٰ مقام نصیب فرمائے، آزمائش کی گھڑی میں قوم کا شکر گزار ہوں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    مولانا نے یہ بھی کہا کہ اقوام متحدہ کی سطح پر بھی واقعے کی مذمت کی گئی ہے، جنہوں نے ٹارگٹ کیا انہوں نے ذمہ داری قبول کی ہے، اسلحے کی جنگ کو غیر شرعی قرار دیتے ہیں، کسی کو حق نہیں ہے کہ کسی بے گناہ مسلمان کا خون بہائے، پوائنٹ سکورنگ نہیں سیاسی عمل پر یقین رکھتے ہیں جب کہ اس معاملے پر اس پر سیاست نہیں کرنی چاہیے، دلیل کی بنیاد پر یہ جنگ جیتیں گے، بے گناہ مسلمانوں کا خون بہانے والوں کو شرم آنی چاہیے۔

    انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علما اسلام اپنا نظریہ نہیں چھوڑے گی اور ہم نے کارکنوں کو پرامن رہنے کا پیغام بھی دے دیا ہے تاکہ کسی قسم کی شرانگیزی سے بچا جاسکے اور ہم نے دہشت گردی کا جواب دہشت گردی کے انداز میں نہیں دینا بلکہ پرامن جدوجہد کرنی ہے.

  • عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ وزیراطلاعات خیبرپختونخوا

    عوزیراطلاعات خیبرپختونخوا فیروز جمال کا کہنا ہے کہ عوامی اجتماعات کیلئےاجازت لینا ضروری ہے۔ جب کہ جمعیت علمااسلام کے رہنما حافظ حمد اللہ کا کہنا ہے کہ باجوڑ میں ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی فراہم نہیں کی۔ جبکہ نجی ٹی وی سے بات کرتے ہوئے خیبرپختونخوا کے نگران وزیراطلاعات فیروز جمال کا کہنا تھا کہ باجوڑ واقعہ کی پر زورمذمت کرتے ہیں، اور شہدا کے اہلخانہ سے اظہار تعزیت کرتے ہیں، حملے میں 54 افراد شہید اور 200 افراد زخمی ہوئے، 100 سے زائد افراد اسپتالوں میں زیرعلاج ہیں۔

    فیروزجمال نے مزید کہا کہ عوام کے جان ومال کا تحفظ اولین ترجیح ہے، صوبے میں امن وامان سے متعلق محکمہ داخلہ میں اجلاس ہوا، دھماکے کی تحقیقات بھی جاری ہیں، تحقیقات سے جلد آگاہ کریں گے، تاہم عوامی اجتماعات کیلئے اجازت لینا ضروری ہے۔ تاہم جے یو آئی کے رہنما حافظ حمداللہ نے کہا کہ باجوڑ جلسے میں مجھے بھی شرکت کرنی تھی، لیکن شرکت نہیں کرسکا، باجوڑ حملے میں 80 سے زائد افراد شہید ہوئے ہیں، اللہ تعالیٰ شہدا کے درجات بلند فرمائے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    حافظ حمداللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا آئین اسلام کی بنیاد پر بنا، لیکن ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں کئی علما شہید ہوئے، مولانا فضل الرحمان پر 3 حملے ہو چکے ہیں، جے یو آئی کے 22 ٹکٹ ہولڈر دہشت گرد حملوں میں شہید ہو چکے ہیں۔ رہنما جے یو آئی نے کہا کہ ورکرز کنونشن کیلئے انتظامیہ سے رجوع کیا تھا، لیکن انتظامیہ نے سیکیورٹی نہیں دی، اور سیکیورٹی دینے سے معذرت کی، جب کہ چیف سیکرٹری آئے تو ان کے ساتھ بھاری سیکیورٹی تھی، افسران کے پروٹوکول کیلئے سیکیورٹی موجود ہے، لیکن جلسوں کو سیکیورٹی نہیں دی جاتی۔