Baaghi TV

Tag: balochistan

  • شہدا کی تدفین کر دیں شیخ رشید کی التجا

    تدفین ہو جائے تو وزیراعظم آج ہی کوئٹہ جانے کیلئے تیار ہیں،شیخ رشید

    ایف سی کو علاقے میں بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن کی ہدایت کی ہے، شیخ رشید

    میتیں سب کی سانجھی ہوتی ہیں، شیخ رشید

    التجا ہے شہدا کی تدفین کردی جائے، شیخ رشید

    ‏پاکستان میں دہشتگردی کی نئی لہر ہے، دہشتگردی کی تھریٹس ہیں، شیخ رشید

    ڈی سی سمیت تمام انتظامیہ کو معطل کر دیا ہے، شیخ رشید

    ہزارہ قبیلے کے مطالبات پر کام شروع کر دیا ہے، شیخ رشید

    لاہور، کوئٹہ، پشاور میں ہائی الرٹ ہے، شیخ رشید

    ‏بہت سی چیزیں ہیں جو شیئر نہیں کی جاسکتیں، شیخ رشید

    سانحہ مچھ کی وسیع پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں، شیخ رشید

    افغان شہدا کو بطور وزیر داخلہ معاوضہ دینے کو تیار ہوں، شیخ رشید

    بلاول اور مریم نے کوئٹہ میں سیاسی تقریر کی، شیخ رشید

    ‏عبدالغفور حیدری نے دھرنے کے شرکا کو کہا ڈٹے رہو، بیٹھے رہو،شیخ رشید

    اسلام آباد میں ایگل اسکواڈ لا رہے ہیں، 192 ممالک کا ویزہ آن لائن کر دیا ہے،شیخ رشید

    ایف آئی اے، نادرا اور وزارت داخلہ کو ٹھیک کریں گے، شیخ رشید

  • بلوچستان کے کئی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ

    بلوچستان کے کئی علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ

    بلوچستان کےبیشتر علاقوں میں سردی کی شدت میں اضافہ

    قلات میں درجہ حرارت منفی13 ڈگری سینٹی گریڈرکارڈ،محکمہ موسمیات

    کوئٹہ میں درجہ حرارت منفی 10 ڈگری سینٹی گریڈرکارڈ،محکمہ موسمیات

    پنجگور میں منفی3 ،ژوب میں منفی2ڈگری سینٹی گریڈرکارڈ،محکمہ موسمیات

    دالبندین میں درجہ حرارت منفی6،نوکنڈی میں منفی4ڈگری سینٹی گریڈ رکارڈ

  • حکومت دہشت گردوں کے خلاف مصلحت کے بجائے کھل کر کاروائی کرے.

    حکومت دہشت گردوں کے خلاف مصلحت کے بجائے کھل کر کاروائی کرے.

    پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے وائس چیئرمین عبدالحاکم قائد نے کہا ہے کہ پاسبان ہزارہ کمیونٹی کے افراد کے قتل کی شدید مذمت کرتی ہے۔

    حکومت تمام شہریوں کی جان و مال کو حفاظت دینے کی اپنی ذمہ داری پوری کرے۔ پاکستانی عوام بھارتی و دشمن سازشوں کو پہچانیں اور ہر حال میں آپس میں اتفاق کو برقرار رکھیں۔

    بلوچستان میں مسلسل رونما ہونے والے دہشت گردی کے واقعات بدترین ظلم اور لمحہ فکریہ ہیں۔ جو کان کن اپنے بچوں کا پیٹ بھرنے کے لئے کان کنی جیسا مشقت طلب اور جان لیوا کام کرتے ہیں پاسبان کی پوری ٹیم انہیں سلام پیش کرتی ہے۔

    دہشت گردی اور قتل و غارتگری کرنے والے مسلمان نہیں ہو سکتے یہ کام را کے ایجنٹوں کا ہے۔ ملک دشمن قوتیں، پاکستان کا حال عراق اور شام جیسا کرنا چاہتی ہیں۔ پاکستانی عوام متحد ہیں اور مل کر سنی و شیعہ بھائیوں کے درمیان منافرت پھیلانے کی ہر سازش کو ناکام کر دیں گے۔

    اگر پاکستان میں پراکسی وار لڑی جا رہی ہے تو حکومت پاکستان مصلحت اندیشی کے بجائے کھل کر کاروائی کرے۔ عمران خان جوتشیوں کی جانب سے غریب سگنل کا انتظار نہ کریں بلکہ مشکل کی اس گھڑی میں ہزارہ برادری کے ساتھ کھڑے ہوکر یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ جو بھی مزدور شہید ہوئے ہیں وہ محنت کش تھے اور ہمارے بھائی ہیں۔

    دکھ کی اس گھڑی میں پوری قوم مظلوموں کے ساتھ ہے۔ بلوچستان کے مسئلے کا سیاسی حل نکالا جائے۔بلوچستان کے سانحہ مچھ میں مذہبی منافرت کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی ہے۔ عوام اشتعال انگیزی کے بجائے بردباری سے کام لیں اور ایسی سازشوں کو کامیاب نہ ہونے دیں۔ بلوچستان کی صوبائی حکومت سانحہ مچھ کی شفاف تحقیقات کے لئے کمیٹی تشکیل دے اور ذمہ داروں کو جلد از جلد کیفر کردار تک پہہنچایا جائے۔

    پاسبان پریس انفارمیشن سیل سے جاری کردہ بیان میں عبدالحاکم قائد نے مچھ میں گیارہ افراد کے بہیمانہ قتل پر اظہار افسوس کرتے ہوئے مزید کہا کہ ملک دشمن عناصر پاکستانی عوام کو عصبیت، قومیت اور لسانیت کے نام پر لڑوا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنے کی گھناؤنی سازشوں میں مصروف ہیں۔ کلبھوشن اور اس قبیل کے دہشت گردوں کو پھانسی نہ دی گئی تو ہزارہ جیسے سانحات کو نہیں روکا جا سکتا۔ مہنگائی بے روزگاری،پے در پے ناانصافیوں اور سانحات پر حکومت کے کمزور موقف نے تبدیلی کا جنازہ نکال دیا ہے۔ مصلحت پسند اور الیکٹ ایبلز وڈیرہ شاہی اور لٹیرا شاہی پر مبنی لیڈرشپ ملک کے حالات کبھی نہیں بدل سکتی۔

    پاسبان ڈیموکریٹک پارٹی کے مشن و مقصد کے مطابق عام آدمی کو اسمبلیوں میں آنے کا موقع دیا جائے اور ملک میں ہر سطح پر میرٹ کے نفاذ کو یقینی بنایا جایا.

  • سانحہ مچھ، لواحقین کا میتوں کے ساتھ احتجاج پانچویں روز بھی جاری

    سانحہ مچھ، لواحقین کا میتوں کے ساتھ احتجاج پانچویں روز بھی جاری

    ‏سانحہ مچھ کے خلاف کوئٹہ میں مغربی بائی پاس پر میتوں کے ساتھ دھرنا پانچویں روز بھی جاری ہے.جانبحق ہونے والے افراد کے لواحقین نے وزیراعظم کے آنے تک تدفین نا کرنے کا اعلان کیا ہے.

    وزیراعلیٰ بلوچستان بھی لواحقین کو نہ منا سکے، ہزارہ برادی سے اظہار یکجہتی کے لئے شہر میں شٹرڈاؤن ہڑتال کی جارہی ہے.

    کراچی سمیت ملک کے اکثر علاقوں میں دھرنوں کا آغاز ہو گیا ہے. اطلاعات کے مطابق مریم نواز آج کوئٹہ کا دورہ کریں گی.

  • مچھ میں ہزارہ کمیونٹی کا کوئی پرسان حال نہیں. شیری رحمان

    مچھ میں ہزارہ کمیونٹی کا کوئی پرسان حال نہیں. شیری رحمان

    سینیٹ اجلاس میں خطاب کررے ہوئے پی پی پی کی سینئر رہنما شیری رحمان نے کہا ہے کہ بلوچستان میں ہزارہ کمیونٹی کا کوئی پرسان حال نہیں.

    انھوں نے کہا ہزارہ کمیونٹی سخت سردی میں میتیں لیکر احتجاج کر رہی ہے.

    ماضی میں پیپلز پارٹی کے وزیراعظم اور وزیر ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ سڑک پر بیٹھ گئے تھے،

    ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ مستقل مظالم ہو رہے ہیں.
    ہزارہ کمیونٹی کے ساتھ سخت ظلم کیا گیا ہے.

    وزیر اعلی وہاں پہنچے، ان سے بات کریں اور ان کے زخم پر مرہم رکھیں.حکومت رحم دلی دکھائے اور وہاں پہنچے.انھوں نے مزید کہا کہ اپوزیشن جماعتیں ہزارہ کمیونٹی کے احتجاج میں شامل ہے.

    حکومت مچھ واقعے کا نوٹس لے، شیری رحمان 

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں تباہی

    کہیں ٹڈیوں کو شوق سے کھایا جاتا ہے تو کہیں ان ٹڈیوں سے خوف کھایا جاتا ہے. ٹڈیوں کے سفر کی کہانی بھی چند ماہ قبل شروع ہوئی جب یمن، سعودی عرب اور ایران میں تباہی مچانے کے بعد پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے کئی اضلاع ٹڈی دل کے حملوں کی لپیٹ میں ہیں۔اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت نے متنبہ کیا ہے کہ بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو ٹڈی دل کے حملوں میں شدت آ سکتی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق معمول سے چھ سے سات ہفتے پہلے ہونے والی بارشوں کے نتیجے میں مئی میں جزائر عرب اور جنوب مشرقی ایشیا میں سازگار موسمی حالات ملنے پر ٹڈی دل کی افزائش میں غیر معمولی اضافہ دیکھا گیا۔مشرقی یمن سے غول اور لشکر کی صورت میں سعودی عرب ، اردن، کویت، مصر اورسوڈان ہجرت کرنے والے ٹڈی دل نے بعد میں ایران، پاکستان اور انڈیا کے صحرائی علاقوں کا رخ کیا ہے اور پاکستانی سرحد سے ملحقہ ایرانی صوبہ سیستان و بلوچستان سمیت ایران کے جنوب مشرقی صوبوں میں فصلوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

    ایران سے ٹڈی دل ہجرت کرکے پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی وصحرائی علاقوں گوادر، کیچ ،پنجگور، خاران، واشک، چاغی اور نوشکی میں درختوں اور فصلوں پر حملہ آور ہوئے ہیں۔بلوچستان میں ٹڈی دل نے ان علاقوں کو متاثر کیا ہے جو گذشتہ ایک دہائی سے خشک سالی کا شکار تھے تاہم رواں سال اچھی بارشیں ہونے کی وجہ سے خشک سالی کے اثرات کم ہونے پر فصلیں اچھی آنے پر زمیندار خوش تھے مگر ٹڈی دل کے حملوں نے ان کے لیے نئی مشکلات کھڑی کردی ہیں۔ ٹڈی دل کے لشکر واشک کے علاقوں ناگ، گورگی، باغ سوپک اور حسین زئی پہنچ گئے ہیں مگر سرکاری سطح پر کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔ زمینداروں کی ہزاروں ایکڑ پر پھیلی تیار فصلیں تباہ ہوئی ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پلانٹ پروٹیکشن اور محکمہ زراعت کو بار بار درخواست دینے کے باوجود ہنگامی اقدامات نہیں کیے جا رہے۔ 20 دن پہلے دو گاڑیاں سپرے کے لیے فراہم کی گئیں مگر ڈسٹرکٹ واشک رقبے کے لحاظ سے پاکستان کے بڑے ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ 43 ہزار مربع کلومیٹر پر مشتمل ضلع کو دو گاڑیوں سے کور نہیں کیا جا سکتا۔
    صغیر احمد نے 90 کی دہائی میں ٹڈی دل کا اس طرز کا حملہ دیکھا تھا۔ ان کے مطابق مکران، واشک، خاران اور چاغی سمیت بلوچستان کے بیشتر علاقے گذشتہ 12 سالوں سے خشک سالی کی لیپٹ میں تھے ۔ یہاں کی آبادی کی اکثریت کا ذریعہ آمدن زراعت اور گلہ بانی ہے۔ خشک سالی کے باعث زمیندار اور گلہ بانی سے وابستہ افراد نان شبینہ کے محتاج ہو گئے تھے۔

    پلانٹ پروٹیکشن ڈیپارٹمنٹ پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر فلک ناز کے مطابق پاکستان میں 1997 کے بعد پہلی مرتبہ ٹڈی دل نے اس شدت سے یلغار کی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ماہ رمضان سے قبل گوادر اور کیچ کے ایرانی سرحد سے ملحقہ علاقوں گوادر، پسنی، تربت، دشت کے علاوہ کراچی سے متصل ضلع لسبیلہ کے علاقے اوتھل اور بیلہ میں ٹڈی دل کی بڑی تعداد میں موجودگی کی رپورٹس ملیں جس پر ہم نے متاثرہ علاقوں میں ٹیمیں بھیجیں۔

    اہل پاکستان کے لیے دلچسپ خبر یہ بھی ہے کہ عرب ممالک میں ٹڈیوں کو شوق سے پکا کر کھایا جاتا ہے کیونکہ اس میں پروٹین، آئرن، کیلشیم، سوڈیم وغیرہ پایا جاتا ہےٹڈیاں کھانے کے شوقین انہیں ’خشکی کا جھینگا ‘کہتے ہیں۔

  • افغانستان قندھار میں طالبان نے BLA کا ہیڈ کوارٹر بارود سے اڑا دیا

    افغانستان کے صوبے قندھار میں افغان طالبان نے دہشت گرد تنظیم بلوچ لبریشن آرمی کا ہیڈ کوارٹر بارود کے دھماکے سے اڑا دیا ہے.

    یاد رہے بلوچستان لبریشن آرمی آزاد بلوچستان کے نعرے کے ساتھ پاکستان میں پاکستانی اور چینی فورسز پر متعدد حملوں میں ملوث ہے. اسی طرح یہ تنظیم غیر بلوچ اقوام کے بھی مزدوروں اور دیگر لوگوں پر بھی حملے کرتی رہی ہے. ایک ہفتہ قبل گوادر پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی زمہ داری بھی بی ایل اے نے قبول کی تھی.
    انکا ہیڈ کوارٹر جو کہ مبینہ طور پر افغانستان میں کام کر رہا تھا باغی ٹی وی کی تازہ ترین اطلاعات کے مطابق افغان طالبان نے ایک زبردست حملے میں اسے اڑا دیا ہے. جس میں کئی ایجنٹس کی ہلاک اور زخمی ہونے کا خدشہ ہے.

  • سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

    سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال

    سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ کی مذمت ،دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوت کریں گے، وزیر اعلیٰ بلوچستان.
    وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے سیٹلائیٹ ٹاؤن مارکیٹ دھماکہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ہم دہشت گردی کا بھر پور مقابلہ کریں گے. پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے والوں سے سختی سے نمٹیں گے. انہوں نے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا. یاد رہے کہ اس دھماکے میں اب تک چار پولیس اہلکاروں کی شہادت جبکہ سویلین سمیت 11 زخمی ہیں. انہوں نے زخمیوں کو بہتر طبی امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی.

  • کوئٹہ سیٹلائیٹ ٹاؤن دھماکہ میں شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد چار ہو گئی

    کوئٹہ دھماکہ، شہید پولیس اہلکاروں کی تعداد 4 ہو گئی سیٹلائیٹ ٹاؤن مین مارکیٹ میں موٹرسائیکل پر نصب بم کے پھٹنے سے ایک پولیس وین تباہ ہوگئی، جس میں 4 پولیس اہلکار شہید جبکہ میں پولیس و سویلین زخمیوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے.
    گوادر پی سی ہوٹل کے حملے کے ٹھیک دو دن کوئٹہ میں حملہ ہو گیا. شہداء کی تعداد بڑھنے کا اندیشہ.