Baaghi TV

Tag: banking economy

  • یورپ میں ایل این جی کی طلب، طویل مدت تک مقابلہ سخت

    یورپ میں ایل این جی کی طلب، طویل مدت تک مقابلہ سخت

    یورپ میں ایل این جی کی طلب نئی سپلائی کے لیے طویل مدت تک مقابلہ سخت اورتجارت پر غالب رہے گی
    شیل کے انرجی آؤٹ ْلک 2023 کے مطابق یورپ میں قدرتی مائع گیس (ایل این جی) کی بڑھتی ہوئی طلب آئندہ دو برسوں کے دوران دستیاب نئی لیکن محدود سپلائی کے لیے ایشیا کے ساتھ مقابلہ سخت ہوتا نظر آرہا ہے اور شاید مانگ میں یہ اضافہ طویل مدت تک ایل این جی کی تجارت پر غالب رہ سکتا ہے۔

    برطانیہ سمیت یورپی ممالک نے سنہ 2022ء میں 121 ملین ٹن ایل این جی درآمد کی جو سنہ 2021ء کے مقابلے میں 60 فیصد زیادہ ہے اور جس نے اْنھیں یوکرائن پر حملے کے بعد پائپ لائن کے ذریعے روسی گیس کی درآمد میں کمی کو برداشت کرنے کے قابل بنایا ہے۔چینی درآمدات میں 15 ملین ٹن کمی کے ساتھ جنوبی ایشیائی خریداروں کی جانب سے بھی درآمدات میں کمی نے یورپی ممالک کو کافی مقدار میں گیس کو محفوظ کرنے اور قلت سے بچنے میں مدد فراہم کی ہے۔ایل این جی کے لیے یورپ کی تیزی سے بڑھتی ہوئی طلب نے قیمتوں کو ریکارڈ بلندیوں پر پہنچا دیاہے اور دنیا بھر میں انرجی مارکیٹ میں اتار چڑھاؤپیدا کیا ہے۔

    پائپ لائن کے ذریعے روسی گیس کی فراہمی میں کمی کے باعث ایل این جی یورپ میں توانائی کے تحفظ کا اہم ستون بنتی جارہی ہے اور جسے شمال مغربی یورپ میں نئے ری گیسیفکیشن ٹرمنلز کی تیزی سے تعمیر کی مدد حاصل ہے۔اس کے برعکس، چین تیزی سے بڑھتی ہوئی درآمدی منڈی کی حیثیت اختیار کرتا جا رہا ہے تاکہ ایل این جی کی عالمی منڈی میں توازن پیدا کرنے کی صلاحیت کے ساتھ زیادہ لچکدارکردار ادا کر سکے۔

    اس بارے میں شیل کے ایگزیکٹو وائس پریزیڈنٹ برائے انرجی مارکیٹنگ، اسٹیو ہل نے کہا:”یوکرائن کے ساتھ جنگ نے پوری دنیا میں توانائی کے تحفظ پر دور رس اثرات مرتب کیے ہیں اور اس وجہ سے مارکیٹ میں اسٹرکچرل تبدیلیاں آئی ہیں جن سے طویل عرصے کے لیے ایل این جی کی صنعت کے متاثر ہونے کا امکان ہے۔“اسٹیو نے مزید کہا:”اس صورت حال نے زیادہ اسٹریٹجک نقطہ نظر کی ضرورت پر زوردیا ہے یعنی طویل مدتی معاہدوں کے ذریعے قیمتوں میں اضافے سے بچنے کی غرض سے قابل ا عتماد فراہمی کی محفوظ بنانا۔“

    پائپ لائن کے ذریعے آنے والی روسی گیس کے بہاؤ میں کمی نے کبھی نا دیکھی گئی پالیسی اور ریگولیٹری انٹروینشن کی حوصلہ افزائی کی ہے کیوں کہ یورپ میں حکومتوں نے توانائی کے تحفظ کو تقویت دینے اور اپنی معیشتوں کو ایل این جی کی درآمدات کو ترجیح دینے کے ساتھ نئے درآمدی ٹرمنلزکوتیزی سے تیار کر کے قیمتوں میں اضافے سے بچانے کی کوشش کی ہے۔

    سنہ 2022ء میں یورپ کی ایل این جی کی طلب نے دوسرے خریداروں کو مجبور کیا کہ وہ بھی اپنی درآمدات کم کریں اور دیگر اقسام کے ایندھن کے استعمال پر منتقل ہوں، جس سے زیادہ اخراج حاصل ہوں۔ ایل این جی کی بلند عالمی قیمتوں کے باعث جنوبی ایشیا میں ایل این جی کی درآمدات میں کمی ہوئی ہے جن میں پاکستان اور بنگلہ دیش بجلی کی فراہمی کی قلت دور کرنے کی غرض سے ایندھن کا زیادہ تر حصہ تیل کی صورت میں درآمد کرتے ہیں جبکہ بھارت کوئلے کا استعمال زیادہ کرتا ہے۔

    سنہ 2022ء میں ایل این جی کی کل تجارت397 ملین ٹن تک پہنچ گئی تھی۔صنعت کے حوالے سے کیں گئیں پیشگوئیوں کے مطابق سنہ 2040ء تک ایل این جی کی طلب میں 650 سے 700 ملین ٹن سالانہ سے زیادہ ہونے کی توقع ہے۔سنہ 2020 کی دہائی کے بعد طلب اور رست کے فرق سے بچنے کے لیے مائع ایندھن کے منصوبوں میں مزید سرمایہ کاری کی ضرورت ہے۔

    گیس اور ایل این جی کی سپلائی چین سے اخراج کو کم کرنے کے لیے نئی اور مختلف ٹیکنالوجیز توانائی کی منتقلی میں اس کا کردار مستحکم کرنے میں مدد کریں گیں اور صنعت کی توجہ کاربن سے پاک کی گئی گیسوں کو فروغ دینے اور استعمال پر بڑھ رہی ہے جن میں قابل تجدید قدرتی گیس، مصنوعی قدرتی گیس، ہائیڈروجن اور ایمونیا گیسیں شامل ہیں اور یہ مستقبل میں زیادہ پائیدار توانائی کو تحفظ فراہم کر س سکتیں ہیں

    سی ٹی ڈی کی لاہورسمیت پنجاب بھر میں کارروائیاں،9 دہشت گرد گرفتار

    عمران خان اسمبلیاں توڑنے میں اور دہشتگرد خیبرپختونخوا کے بے گناہ عوام کو قتل کرنے میں مصروف ہیں

    اسلحہ کے زور پر ڈکیتی، رابری کرنے والا 7 رکنی خطرناک ڈکیت گینگ گرفتار 

  • کفایت شعاری مہم، احسن اقبال نے 4500 سی سی گاڑی واپس کر کے 1800 سی سی مانگ لی

    کفایت شعاری مہم، احسن اقبال نے 4500 سی سی گاڑی واپس کر کے 1800 سی سی مانگ لی

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر ، ن لیگی رہنما احسن اقبال نے دوسرے وزراء کے لئے مثال قائم کر دی، احسن اقبال نے سرکاری گاڑی واپس کر دی ہے

    ملکی معاشی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے احسن اقبال نے اپنی سرکاری گاڑی واپس کر دی ہے، اس ضمن میں احسن اقبال نے کابینہ ڈویژن کے خصوصی سیکرٹری کو خط بھی لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مہنگی گاڑی کی جگہ چھوٹی گاڑی استعمال کی جا سکتی ہے،بطور وفاقی وزیر اپنے زیر استعمال 4500 سی سی ٹیوٹا لینڈ کروز واپس کررہا ہوں تا کہ کفایت شعاری کی جا سکے. احسن اقبال نے خط میں 1800 سی سی کی گاڑی مانگی ہے،

    تمباکو سیکٹر میں سالانہ 70 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا انکشاف

    جب حکمران ٹکٹ ہی ان لوگوں کو دیں جن کا کاروبار تمباکو اور سگریٹ سے وابستہ ہو تو کیا پابندی لگے گی سینیٹر سحر کامران

    تمباکو نوشی کا زیادہ استعمال صحت کے لئے نقصان دہ ہے،ڈاکٹر فیصل سلطان مان گئے

    تمباکو نوشی کے استعمال کے خلاف مہم،ویب سائٹ کا افتتاح

    letter

  • سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپرٹیکس کیس:وفاقی حکومت اورایف بی آر کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا

    سپر ٹیکس کیسز میں وفاقی حکومت اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر ) کو سپریم کورٹ سے ریلیف مل گیا۔

    باغی ٹی وی: سپر ٹیکس سے متعلق سندھ ہائی کورٹ کے فیصلےکے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ میں کیس کی سماعت ہوئی،سندھ ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف وفاقی حکومت اور ایف بی آر کی اپیلوں پر سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا۔

    چیف جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے فیصلہ سناتے ہوئے تمام فریقین کو 4 فیصد سپرٹیکس ادا کرنےکا حکم دے دیا۔

    مختلف انڈسٹریز نے گزشتہ سال بجٹ میں عائد سپر ٹیکس کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کیا تھا۔ سندھ ہائیکورٹ نے گزشتہ سال سے دس فیصد سپر ٹیکس کی وصولی کو کالعدم قرار دے دیا تھا۔

    وفاقی حکومت اور ایف بی آر نے سپر ٹیکس کی وصولی کے لئے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی جو منظور کرلی گئی اور چار فیصد سپر ٹیکس ادا کرنے کا حکم دے دیا گی-

    سپر ٹیکس کیا ہے؟

    یہ ایک خاص ٹیکس ہوتا ہے اور عمومی ٹیکس کے اوپر لگایا جاتا ہے،یہ ٹیکس حالات کو دیکھ کر لگایا جاتا ہے اور ایمرجنسی کی صورت میں کوئی بھی حکومت ہنگامی اقدامات کے تحت اسے عائد کر سکتی ہے،پاکستان میں اس سے پہلے 2010 میں بھی سپر ٹیکس عائد کیا گیا تھا جب سیلاب آیا تھا تاہم حالیہ سپر ٹیکس کا زیادہ فائدہ نہیں ہو گا۔‘

    معاشی ماہرین کے مطابق سپر ٹیکس ایک ایسا ٹیکس ہوتا ہے جو حکومتیں اپنے اخراجات پورے کرنے کے لیے آمدن پر ایک اضافی طور پر لگاتی ہیں۔ شہریوں یا ایک خاص طبقے پر لگائے جانے والے اضافی ٹیکسوں کے بعد ان کی ٹیکس کی مد میں آنے والی آمدن کے اوپر کچھ فیصد کا مزید ٹیکس سپر ٹیکس کے زمرے میں آتا ہے۔

    سابق وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے جون 2022 میں قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے بتایا تھا کہ تمام سیکٹرز پر 4 فیصد اور 13 مخصوص سیکٹرز پر 10 فیصد سپر ٹیکس لگایا گیا ہے جس کے بعد ان سیکٹرز پر ٹیکس 29 فیصد سے 39 فیصد ہو جائےگایہ ٹیکس صرف ون ٹائم یعنی ایک مالی سال کے لیے لگایا گیا ہے اور اس کے ذریعے سابقہ چار ریکارڈ بجٹ خساروں کو کم کیا جائے گا

    اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف نے معاشی ٹیم کے اجلاس کے بعد گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ عام آدمی کو ٹیکس سےبچانے کے لیے صنعتوں پرٹیکس لگایا ہے، سیمنٹ، اسٹیل، شوگرانڈسٹری، آئل اینڈگیس، ایل این جی ٹرمینل، فرٹیلائزر، بینکنگ، ٹیکسٹائل، آٹوموبائل، کیمیکل، بیوریجز اور سگریٹ انڈسٹری پر بھی 10 فیصد سپر ٹیکس لگے گا۔

    انہوں نے کہا تھا کہ سالانہ 15کروڑ روپے سے زائد آمدن کمانے والے پر ایک فیصد، 20 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر2 فیصد، 25 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر3 فیصد اور 30 کروڑ روپے سالانہ سے زائد آمدن والے پر4 فیصد ٹیکس لگایا جائے گا جو غربت میں کمی کا ٹیکس ہے۔

  • مہنگائی کی ستائی عوام کیلئے ایک اور بری خبر:بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں کی جائیں گی

    مہنگائی کی ستائی عوام کیلئے ایک اور بری خبر:بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں کی جائیں گی

    اسلام آباد:وفاقی کابینہ نے بجلی صارفین سے 76 ارب روپے اضافی وصول کرنے کی منظوری دیدی۔

    باغی ٹی وی : ذرائع کے مطابق کے الیکٹرک سمیت بجلی صارفین سے اضافی وصولیاں آئندہ 4 ماہ میں کی جائیں گی، رقم پاور ہولڈنگ کمپنی کے قرض کی سود کی مد میں وصول کی جائے گی جب کہ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ سے کابینہ ڈویژن کی سمری کی سرکولیشن کے ذریعے منظوری لے لی گئی ہے۔

    آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    صارفین سے اضافی سرچارج کے ذریعے مارچ سے جون 2023 کے دوران وصولیاں کی جائیں گی جبکہ بجلی صارفین پر 3 روپے 39 پیسے فی یونٹ کا اضافی سرچارج لگے گا، بجلی صارفین سے اضافی وصولیوں کیلئے فی یونٹ سرچارج 3 روپے 82 پیسے ہوجائے گا۔

    وفاقی کابینہ نے ایک روپے فی یونٹ کا اضافی سرچارج لگانے کی بھی منظوری دی ہے جو آئندہ مالی سال 2023-24کے لیے لاگو ہوگا، وصولیاں300 سے کم یونٹ والے بجلی صارفین سے نہیں کی جائیں گی جبکہ کے الیکٹرک کے صارفین پر بھی اضافی سرچارج کا اطلاق ہوگا۔

    کے پی اسمبلی کے انتخابات : الیکشن کمیشن اورگورنر سے تحریری جواب طلب

    دوسری جانب ملک میں نیپرا نے نیٹ میٹرنگ کے فروغ کے لیے (متبادل اور قابل تجدید توانائی) ڈسٹری بیوٹڈ جنریشن اور نیٹ میٹرنگ ریگولیشن 2015میں مجوزہ ترمیم پر فیصلہ جاری کر دیا ہے۔

    فیصلہ کے مطابق نیٹ میٹرنگ کے صارفین ڈسکوز کو اضافی بجلی19 روپے 32 پیسے فی یونٹ کے حساب سے فروخت کرتے رہیں گے۔
    ترجمان نیپرا نے بتایا کہ نیپرا اتھارٹی نے ریگولیشنز میں ترمیم کے لیے اسٹیک ہولڈرز اور عوام سے رائے مانگی تھی، عوامی سماعت بھی کی تھی۔

    پی ایس ایل 8:لاہوراورراولپنڈی میں ہونیوالے میچز کی ٹکٹوں کی فروخت کا شیڈول جاری

  • آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف کا مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ

    آئی ایم ایف نے پاکستان سے ایک مرتبہ کی بجائے مستقل ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے-

    باغی ٹی وی :پاکستانی حکام نے آئی ایم ایف کو پیر کی رات آگاہ کیا ہے کہ حکومت وفاقی کابینہ کے آگے منگل کو مختلف ٹیکس تجاویز پیش کرنے جا رہی ہے تاکہ صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اضافی 170؍ ارب روپے ٹیکسوں کی منظوری لی جا سکے۔

    آئی ایم ایف شرط؛ بجلی کے بعد گیس کی قیمتوں میں بھی اضافہ

    آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ صرف ایک مرتبہ کیلئے نہیں بلکہ ٹیکس اقدامات ہمیشہ کیلئے متعارف کرائے جائیں۔ اس کے بعد حکومت نے درآمدات پر سیلاب ٹیکس (فلڈ لیوی) عائد کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے کیونکہ آئی ایم ایف نے اس ضمن میں سخت مزاحمت کی ہے تاہم حکومت نے جی ایس ٹی کے معیاری 17 فیصد کو ایک فیصد بڑھا کر اسے 18 فیصد کرنے کی تجویز دی ہے۔

    سرکاری ذرائع نے دی نیوز سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم آرڈیننس لانے کا طریقہ اختیار کریں گے تاکہ زیادہ وقت برباد نہ ہو اور جیسے ہی کابینہ منظوری دے گی، صدارتی آرڈیننس اسی ہفتے نافذ کردیا جائے گا۔

    دوسری جانب آئی ایم ایف کے مطالبے پر گیس بھی مہنگی کر دی گئی،حکومت نے گیس 16 اعشاریہ 6 فیصد سے 124 فیصد تک مہنگی کردی، نئی قیمت یکم جنوری سے 30 جون 2023ء تک نافذ العمل رہیں گی۔

    گیس نرخوں کا اطلاق گھریلو، کمرشل، سی این جی سمیت تمام شعبوں پر ہو گا، پچاس کیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین اضافے سے مستثنیٰ ہوں گے حکومت کو تین سو دس ارب روپے کا ریونیو ملے گا، اقتصادی رابطہ کمیٹی نے سوئی گیس کی قیمتوں میں اضافے کی منظوری دے دی۔

    وفاقی حکومت نے آئی ایم ایف کی شرائط پوری پر گیس کی قیمتوں میں 17سے 112 فیصد تک اضافہ کردیا ہے، گیس کی قیمتوں میں اضافہ گھریلو، کمرشل، پاور سیکٹر، کھاد، سیمنٹ انڈسٹری ‘برآمدی صنعتوں اور سی این جی سمیت تمام شعبوں کے لیے ہوگا۔

    حکومتی اعلامیے کے مطابق گیس کے نئے نرخ پورے پاکستان کے صارفین پر لاگو ہوں گے، صرف 50 کیوبک میٹر ماہانہ گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین مستثنیٰ ہوں گے، 100 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے قیمت میں 16 اعشاریہ 6 فیصد کا اضافہ کیا گیا ہے۔

    کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے قیمت 300 روپے سے بڑھا کر 350 روپے ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی ، 200 کیوبک میٹر گیس استعمال کرنے والے گھریلو صارفین کے لیے قیمت میں 32 فیصد اضافہ ہوا-

    200 کیو بک میٹر گیس استعمال پر گھریلو صارفین کے لیے قیمت 553 سے بڑھا کر 730 روپے ایم ایم بی ٹی یو کر دی گئی تین سوکیوبک میٹر تک گیس استعمال کرنے والے صارفین کیلئے قیمت بڑھاکر 1250روپے فی یم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔

    شہبازگل نےٹرائل کورٹ سے درخواست بریت مسترد ہونےکا فیصلہ ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا

  • مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف  کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    مذاکرات کا دوسرا دور: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان ورچوئل بات چیت آج سے ہوگی

    اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض پروگرام کی بحالی کیلئے آج سے آن لائن مذاکرات شروع ہوں گے۔

    باغی ٹی وی: ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان امریکا مذاکرات کا دوسرا دور آج سے واشنگٹن میں شروع ہوگاپاکستانی وفد کی قیادت چیف آف جنرل اسٹاف کریں گے، امریکی وفد کی نمائندگی انڈر سیکریٹری ڈیفنس کریں گے-

    پاکستان اورآئی ایم ایف میں آن لائن مذاکرات آج سےہوں گےمذاکرات کا دوسر ا دور16فروری تک جاری رہے گا،مذاکرات میں شعبہ دفاع و سلامتی میں تعاون سے متعلقہ امور پر بات چیف کی جائے گی-

    ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق مذاکرات میں بیرونی قرضوں، زرمبادلہ کے ذخائر سے متعلق بات چیت ہوگی،ٹیکس نفاذ ،منی بجٹ پر امور طے کیے جانے کا معاملہ بھی مذاکرات کاحصہ ہوگا مذاکرات کا پہلا دور جنوری 2021میں پاکستان میں ہوا تھا-

    آن لائن مذاکرات کیلئے 170 ارب کے نئے ٹیکس لگاکر 200 ارب سے زیادہ اضافے کیلئے منی بجٹ کی تیاریاں شروع کرلی گئی ہیں، منی بجٹ اسمبلی میں پیش کرنے کی بجائے آرڈیننس کی صورت میں لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    حکومت کی جانب سے بجلی مہنگی کرنے کی منظوری دی جا چکی ہے،کسان پیکج اور برآمدی شعبے کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی منظوری بھی ہو چکی ہے، اس حوالے سے مذاکرات میں پیش رفت سے آئی ایم ایف کو آگاہ کیا جائے گا۔

  • لاہور میں آٹا چکیوں کو محکمہ خوراک روزانہ گندم فراہم کرے گا

    لاہور میں آٹا چکیوں کو محکمہ خوراک روزانہ گندم فراہم کرے گا

    لاہور:محکمہ خوراک نے آٹا چکیوں سے شہر میں آٹا سپلائی کرنے کا پلان مرتب کرلیا-

    باغی ٹی وی :اس حوالے سے لاہور محکمہ خوراک نے مراسلہ جاری کردیا ہے مراسلے کے مطابق لاہور میں آٹا چکیوں کو محکمہ خوراک روزانہ گندم فراہم کرے گی-

    فلور ملز مالکان نے کل سے پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا

    مراسلے میں کہا گیا ہے کہ آٹا چکیوں کو روزانہ 50کلو کے 4بیگ گندم فراہم کیے جائیں گے ڈپٹی کمشنرز آٹا چکیوں پر فی کلو آٹا کی قیمت متعین کریں گے-

    واضح رہےکہ لاہور سیکریٹری خوراک اور فلور ملز ایسوسی ایشن کے درمیان تنازعہ مزید بڑھ گیا ہےفلور ملز مالکان نے کل سے پنجاب بھر میں ہڑتال کا اعلان کردیا۔

    پمز اسپتال سے ڈاکٹرز کی 10رکنی ٹیم ادویات کیساتھ ترکیہ روانہ

    اس حوالے سے فوڈ کنٹرولر راولپنڈی نے ڈی سی کو مراسلہ لکھا تھا مراسلے میں سیکریٹری فوڈ کی ہدایت پر،7 فلورملز مالکان کے خلاف کارروائی کرنے کا حکم دیا گیا ،مراسلے میں کہا گیا کہ فلورملز مالکان ہڑتال کیلئے دیگر ملز مالکان کو اکسا رہے ہیں،ہڑتال کے اعلان سے مارکیٹ میں مصنوعی قلت پیدا ہورہی ہے-

    سیکریٹری خوراک نے 10ملز مالکان کیخلاف مقدمہ درج کرانے کی ہدایت کی ہے،نگران وزیر اعلیٰ پنجاب نے بھی سیکریٹری خوراک سے رپورٹ مانگ لی، سیکریٹری خوراک پنجاب کا کہنا ہے کہ بلیک میلنگ میں نہیں آئیں گے،شہر میں آٹے کی قلت پیدا ہونے نہیں دیں گے، لاہور میں کچھ ملیں بند ہیں-

    انقلاب کی 44 ویں سالگرہ پرصدر پاکستان کی ایران کو مبارکباد

  • سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا ہے.

    عالمی مارکیٹ میں کمی کے باوجود پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں 3300 روپے کا بڑا اضافہ ہوگیا۔ سونے کی فی تولہ قیمت ایک لاکھ 98 ہزارروپے ہوگئی. 10 گرام سونےکی قیمت میں 2 ہزار 829روپےکااضافہ بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 17 ڈالر کی کمی سے 1865 ڈالر کی سطح پر پہنچنے کے باوجود مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعہ کو فی تولہ اور فی دس گرام سونے کی قیمتوں میں بالترتیب 3300 روپے اور 2829 روپے کا اضافہ ہوگیا۔

    نتیجے میں ملک میں فی تولہ سونے کی قیمت بڑھ کر 198000 روپے اور فی دس گرام سونے کی قیمت بڑھ کر 169753 روپے کی سطح پر آگئی۔ اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 30 روپے کے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام چاندی کی قیمت بھی 25.72 روپے کے اضافے سے 1851.85 روپے کی سطح پر آگئی۔رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔

    انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    دوسری طرف پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں آج کاروبار کا منفی دن رہا، 100 انڈیکس 724 پوائنٹس کم ہوکر 41 ہزار 741 پر بند ہوا۔ کاروباری دن میں 100 انڈیکس 890 پوائنٹس کے بینڈ میں رہا، بازار میں آج 28 کروڑ 18 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے، شیئرز بازار کے کاروبار کی مالیت 14.70 ارب روپے ہے۔ انٹرنیشنل مارکیٹ میں فی اونس چاندی 22.14 ڈالر پر فروخت ہورہی ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    مارکیٹ کیپٹلائزیشن 93 ارب روپے کم ہوکر 6559 ارب روپے ہے۔عالمی مارکیٹ میں سونے کی قیمت میں 17 ڈالر کی کمی ریکارڈ کی گئی جس کے بعد فی اونس نرخ 1865 ڈالر پر آگئے۔ رپورٹ کے مطابق چاندی کی فی تولہ قیمت 30 روپے اضافے سے 2160 روپے اور دس گرام نرخ 25.72 روپے بڑھ کر 1851.85 روپے ہوگئے۔

  • ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری

    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری ہے.

    حکومت کو آئی ایم ایف سے میمورنڈم آف اکنامک فنانشل پالیسی کا مسودہ موصول ہونے کے بعد اگلے ہفتے واشنگٹن سے آن لائن مذاکرات جاری رہنے جیسے عوامل کے باعث جمعہ کو بھی ڈالر بیک فٹ پر رہا جس سے ڈالر کے انٹربینک ریٹ 270 روپے سے بھی نیچے آگئے جبکہ اوپن ریٹ 273 روپے کی سطح پر آگئے۔ انٹربینک مارکیٹ میں کاروباری دورانیے کے دوران ایک موقع پر ڈالر کی قدر 55 پیسے بڑھ گئی تھی لیکن آئی ایم ایف کے ساتھ میمورنڈم آف اکنامک اینڈ فنانشل پالیسی کا پہلا اقدام مکمل ہونے کے بعد آئی ایم ایف بورڈ کی منظوری اور قرضے کی قسط کا اجراء یقینی ہونے سے ڈالر دوبارہ بیک فٹ پر آگیا۔

    ایک موقع پر ڈالر کے انٹربینک ریٹ 2 روپے کی کمی سے 268.50 روپے پر بھی آگئے تھے لیکن کاروبار کے اختتام پر انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر 1.22 روپے کی کمی سے 269.28 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر 50 پیسے کی کمی سے 273 روپے کی سطح پر بند ہوئی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان آئی ایم ایف کی شرائط پر بتدریج عمل درآمد کا خواہشم ند ہے لیکن آئی ایم ایف حکام تمام شرائط پر فوری عمل درآمد چاہتا ہے۔ زرمبادلہ کے سرکاری ذخائر بھی 3 ارب ڈالر سے گھٹ کر 9 سال کی کم ترین سطح پر آگئے ہیں لیکن اس کے باوجود ڈالر کی بہ نسبت روپیہ تگڑا ثابت ہورہا ہے اور اس تگڑے پن کی بنیادی وجہ آئی ایم ایف کے ساتھ ممکنہ طور پر جلد ہی اسٹاف سطح کا معاہدہ ہونے کے نتیجے میں قسط کے اجراء کی توقعات ہیں۔

    آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر میں مزید کمی کے خدشات پر مختلف برآمدی شعبے بھی مارکیٹ میں اپنے ڈالر کیش کرارہے ہیں جس سے رسد قدرے بڑھ گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ڈالر پر کیپ ختم ہونے اور اس کی قدر کو مارکیٹ فورسز پر چھوڑنے سے ڈالر کے انٹربینک اور اوپن ریٹ کے درمیان فرق بھی بتدریج گھٹتا جارہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے آئی ایم ایف قرض پروگرام وقت کی اہم ضرورت ہے جب ملک اپنے زرمبادلہ کے ذخائر مطلوبہ سطح تک لانے میں کامیاب ہوجائے گا، اس وقت ہم آزادانہ معاشی فیصلے کرسکیں گے۔ آئی ایم ایف قرض پروگرام کی بورڈ سے منظوری کے نتیجے میں عالمی برادری اور مالیاتی اداروں کی جانب سے اعلان کردہ 10 ارب ڈالر کے فلڈ ریلیف فنڈز کا بھی اجراء ممکن ہوسکے گا جس سے معیشت میں ڈالر کی رسد بڑھنے سے زرمبادلہ کے بحران پر قابو پایا جاسکے گا۔

  • حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

    حالیہ ہفتے کے دوران ملک میں 29 اشیائے ضروریہ مہنگی ہوئیں

    اسلام آباد: ملک میں مہنگائی کی شرح میں اضافے کا رجحان مسلسل جاری ہے-

    باغی ٹی وی : وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری ہفتہ وار رپورٹ کے مطابق حالیہ ہفتے کے دوران مہنگائی کی شرح میں 0.17 فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ سالانہ بنیادوں پر مہنگائی کی شرح میں اضافہ 34.83 فیصد تک پہنچ گیا۔

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ہفتہ وار رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 9 فروری کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران آلو، گڑ، لہسن، ویجیٹیبل گھی، دال ماش، دال چنا، دال مسور اور کھلا تازہ دودھ، دہی، سادہ روٹی، سرسوں کا تیل، آگ جلانے والی لکڑی، ماچس، نمک، ایل پی جی اور چاول سمیت مجموعی طور پر 29 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ ہوا –

    جبکہ پیاز، ٹماٹر، چینی، انڈے اور آٹے پر مشتمل 5 اشیاء سستی ہوئی ہیں جبکہ 17 اشیائے ضروریہ کی قیمتیں مستحکم رہی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہفتہ وا ر بنیادوں پر گزشتہ ہفتے کے دوران چکن 6.94 فیصد، آلو 7.15 فیصد، ویجی ٹیبل گھی 2.71 فیصد، باسمتی ٹوٹا چاول 3.80فیصد، کوکنگ آئل 2.60 فیصد، دال ماش2.42، لہسن 2.20 فیصد، دال مونگ2.20 فیصد، ایل پی جی3.06 فیصد اور سگریٹ 2.25 فیصد مہنگی ہوئی ہے۔ اسی طرح پیاز 9.83 فیصد، ٹماٹر 5.40 فیصد، انڈے 3.40 فیصد، آٹا 2.71 فیصد اور چینی 0.31 فیصد سستی ہوئی گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلہ میں ملک میں مہنگائی کی شرح 34.83 فیصد رہی ہے۔

    اے این ایف کی مختلف شہروں میں کارروائیاں ،منشیات برآمد ،ملزمان گرفتار

    گزشتہ ہفتے کے دوران حساس قیمتوں کے اعشاریہ کے لحاظ سے سالانہ بنیادوں پر 17 ہزار 732 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کے لیے مہنگائی کی شرح میں 31.56 فیصد، 22 ہزار 888روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 32.55 فیصد رہی-

    29 ہزار 517 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح میں 34.86 فیصد، 44 ہزار 175 روپے ماہانہ تک آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 36.36 فیصد رہی جبکہ 44 ہزار 176 روپے ماہانہ سے زائد آمدنی رکھنے والے طبقے کیلئے مہنگائی کی شرح 35.83 فیصد رہی ہے-

    قوم مزید قربانیاں نہیں دے سکتی،اشرافیہ قربانی دے: سراج الحق