Baaghi TV

Tag: bjp

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو

  • سٹیزن شپ امینڈمٹ ایکٹ CAA کیا ہے اور انڈیا کے مسلمانوں کو اس سے کیا خطرات ہیں؟ طہ منیب

    یہ قانون 11 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کیا گیا۔ یہ قانون بظاہر ہمسائیہ ممالک کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی اقلیتوں کو شہریت دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ان اقلیتوں میں ہندو ، سکھ، عیسائی اور بدھ مت تو شامل ہیں لیکن مسلمان نہیں
    انڈین مسلمانوں کو خوف ہے کہ یہ قانون انکے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے جو NRC (نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن ) کی ابتدائی شکل ہے۔

    نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیا ہے ؟ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کا مقصد انڈیا کے تمام شہریوں کو ایک نیشنل رجسٹر میں شامل کرنا ہے۔ جس سے قبل انہیں اپنے آباء و اجداد کے تاریخی کاغذات کے زریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں انڈیا میں رہنے کا حق کیوں ہے؟
    یاد رہے کہ شناختی (ID) کارڈ یا ٹیکس کی رسیدات نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیلئے ناکافی ہیں۔

    بھارت کے کروڑوں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے پاس اپنے آباء و اجداد کے بھارتی ہونے کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں۔ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کے زریعے مسلمانوں کے علاوہ تمام دیگر اقلیتوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ جبکہ کروڑوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل یا حراستی (Detention) کیمپس میں رکھا جائے گا۔

    اس قانون کے بننے کے بعد بھارت کی اقلیتیں خاص طور پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کی ابتداء یونیورسٹی طلباء نے کی جن میں جامعہ ملیہ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء شامل ہیں۔پولیس نے نہتے طلباء پر لاٹھی چارج ، فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد بڑی تعداد میں طلباء کو گرفتار کیا۔احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پھیل گیا. دنیا بھر میں یونیورسٹی طلباء پر تشدد کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

    19 دسمبر کو پورے بھارت میں احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا
    نیو دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل کر دی گئی۔آج 20 دسمبر بروز جمعہ احتجاج بدستور جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلوبل رفیوجی کانفرنس جنیوا میں عالمی دنیا کی توجہ بھارت میں پیدا ہونیوالے بحران کی طرف مبذول کروائی۔انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی حکومت کے انتہا پسندی پر مبنی قانون اور اسکے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کو کوریج دی۔محمد علی جناح کا ستر سال قبل پیش کیا گیا موقف درست ثابت ہوا۔بھارت کے مسلم و سیکولر حلقوں کی جانب سے مودی کو وقت کا ہٹلر قرار دیا جا رہا ہے جو ہند کو تقسیم کرنے کے درپے ہے۔

  • برقعہ پر پابندی ، بی جے پی نے کی شیو سینا کی مخالفت

    بی جے پی نے اپنی اتحادی جماعت شیو سینا کے مسلم خواتین کے برقعہ پر پابندی کے مطالبے کی مخالفت کر دی ہے. یہ بات بی جے پی کے ترجمان جی وی ایل نرسیمہا راہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کی. یاد رہے کہ شیو سینا جو بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم ہے اور اکثر مسلم مخالف اقدامات کرتی رہتی ہے اسکی جانب سے یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا جب ہمسایہ ملک سری لنکا نے اپنے ملک میں ہونے والے دھماکوں کے بعد چہرہ ڈھانپنے والے ہر قسم کے لباس پر پابندی لگا دی تھی جسکے نتیجے میں 350 سے زائد افراد کی ہلاکت جبکہ 500 سے زائد زخمی ہو گئے تھے.