Baaghi TV

Tag: blog

  • ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    ہماری سیاست انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ختم ہوتی، تجزیہ؛ شہزاد قریشی

    عمران خان کی سزا کو لے کر قوم کے کچھ دانشور اس کو مکافات عمل قرار دے رہے ہیں اگر یہی سچ ہے کہ ہر ایک کے زوال کو اس کیلئے مکافات عمل کا نام دیا جائے تو عرض ہے کہ اس کا اطلاق محض ہٹلر‘ مسولینی اور چنگیز خان پر ہی نہیں ہوا بلکہ اچھے سے اچھے تاجدار بھی ایک وقت میں اپنے اقتدار سے الگ ہوئے مثلاً اورنگزیب عالمگیر اور عمر بن عبدالعزیز تو کیا ان کے لئے تخت شاہی سے علیحدہ ہوجانا کسی مکافات عمل کا نتیجہ تھا؟ ہرگز نہیں بلکہ یہ ایک پراسیس ہے کہ اس دنیائے فانی سے ہر ایک کو رخصت ہونا ہے اور اس کی جگہ کسی دوسرے نے لینی ہے لہذا اس پراسیس کو مکافات عمل دینا ہرگز مناسب نہیں۔
    بقول شاعر
    کہو طوفان سے اپنی سمت بدلے
    میری کشتی میں کوئی نوح نہیں ہے

    بھٹو سے قبل اور بھٹو کے بعد نواز شریف سے لیکر محترمہ بے نظیر بھٹو شہید تک جتنے بھی وزیراعظم کے عہدوں پر فائز رہے وہ عبرت کا نشان بنے۔ ہماری سیاسی اور جمہوری تاریخ بڑی دردناک ہے اس کی سب سے بڑی وجہ ہماری سیاسی جامعتوں میں نہ سیاست اور نہ جمہوریت ہے ہماری سیاست اور جمہوریت انتقام سے شروع ہو کر انتقام پر ہی ختم ہوتی ہے۔ ایسا بھی نہیں کہ سیاست میں جمہوریت آئین اور قانون کی حکمرانی کا پرچار کرنے والے نہیں ہیں لیکن ان کی آوازیں دب چکی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ریلوے کیرج فیکٹری کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ
    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ
    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
    پی آئی اے کی لینڈنگ کی وجہ سے سالانہ 71 ارب کا نقصان ہو رہا ہے،اسحاق ڈار
    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا،سعد رفیق

    سیاسی جماعتوں میں غیر جمہوری اور مفاد پرست طبقے کی اکثریت ہے۔ موقع پرست مفاد پرست سیاستدانوں کا تجربہ پیپلز پارٹی‘ مسلم لیگ (ن) کی لیڈر شپ کو ہے بالخصوص نواز شریف کو بہت زیادہ ہے اور اب عمران خان بھی اس تجربے سے گزر رہے ہیں۔ کسی زمانے میں سیاست نظریے کے گرد گھومتی تھی نظریاتی صحافی تھے اور شاعر بھی تھے آج ریاست اور عوام کے مسائل کو پس پشت ڈال دیا گیا آج کی سیاست اقتدار اور صرف اقتدار کے گرد گھومتی ہے ۔ ملکی سیاسی جما عتوں کو بالخصوص لیڈر شپ کو دوبارہ نظریاتی سیاست کی پٹڑی پر جانا ہوگا یا اسی میں ملکی مسائل کا حل ہے اور جمہوریت کو مستحکم کرنے کا میں ایک راستہ ہے باقی تمام راستے غلط ہیں مثبت سیاست ہماری قومی ضرورت ہے۔ سیاست کے اندر اور سیاسی جماعتوں کو سینہ کوبی کرنے کی بجائے کاروباری سیاست اور مفاداتی سیاست کو دفن کرنا ہو گا۔ ایک دوسرے کے خلاف انتقامی سیاست کا دروازہ بند کر نا ہوگا ہے۔

  • یوسف ادریس مصر کے ممتاز ڈرامہ نویس، صحافی، افسانہ اور ناول نگار

    یوسف ادریس مصر کے ممتاز ڈرامہ نویس، صحافی، افسانہ اور ناول نگار

    یوسف ادریس مصر کے ممتاز و معروف ڈراما نویس، صحافی، افسانہ و ناول نگا رتھے۔

    یوسف ادریس 19 مئی، 1927ء کو البیرم، مصر میں پیدا ہوئے۔ صوبائی دار الحکومت میں ثانوی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ 1945ء میں طب کی اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے قاہرہ چلے گئے اور وہیں اُس دہائی کی آخری برسوں میں اُن کی کہانیاں المصری نامی اخبار میں شائع ہونی شروع ہوئیں۔

    وفد پارٹی کے حامی اس اخبار پر بعد میں جمال عبدالناصر کے حکم سے پابندی لگا دی گئی۔ 1951ء میں طب کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد یوسف ادریس نے چند سال پریکٹس بھی کی، مگر 1965ء کے لگ بھگ طب کو خیر باد کہہ کر کل وقتی ادیب اور صحافی کا پیشہ اختیار کر لیا۔ یوسف ادریس کی کہانیوں کا پہلا مجموعہ 1945ء میں شائع ہوا تھا اور اس کے بعد بہت سے مجموعے، ڈرامے اور ناول شائع ہوئے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    یوسف ادریس 1 اگست، 1991ء کو 64 برس کی عمر میں حرکتِ قلب بند ہونے سے لندن، برطانیہ میں وفات پا گئے۔

  • مافیاز کی پشت پناہی کرنیوالا کون؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    مافیاز کی پشت پناہی کرنیوالا کون؟ تجزیہ، شہزاد قریشی

    ملکی سیاست میں نظریات‘ ضمیر‘ اصول بے معنی الفاظ بن کر رہ گئے ہیں۔ ملکی سیاست نظریہ ضرورت کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔ ملکی سیاست کا دارومدار ایک دوسرے کی مخبری‘اقربا پروری‘ مفاد پرستی‘حصول اقتدار‘جاہ و جلال تک محدود ہو کر رہ گئی۔ سیاستدانوں کی اکثریت عوام سے بے پرواہ ہو کر تماشوں تک محدود ہوگئی ہے۔ انتظامیہ اور بڑے بڑے بیوروکریٹس تو موجود ہیں جو نظر آتا ہے وہ محض نظر کا دھوکہ ہے۔

    انتظامیہ اشرافیہ کی حفاظت اور ان کے مفادات کی نگہبان ہے۔ صوبہ سندھ سے لیکر خیبر تک ایک منڈی کا راج ہے جس منڈی کا نام لینڈ مافیا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری زمینوں پر قبضے، محکمہ جنگلات کی زمینوں پر قبضے‘ ریلوے کی زمینوں پر قبضے‘ شوگر مافیا‘ آٹامافیا‘ ادویات مافیا کا اس ریاست پر قبضہ ہے۔ ان مافیاز کی پشت پناہی آخر کون کر رہا ہے؟ سماج سسک رہا ہے ‘ تکلیف ہے‘ غربت‘ بے روزگاری‘ بیماری اور افلاس کے عذابوں میں گرے عوام ناامیدی کی کھائی میں گرتے جارہے ہیں۔

    پورے ملک میں معصوم بچوں کو ملاوٹ شدہ دودھ پلایا جارہا ہے۔ مذہبی جماعتوں نے کبھی اس ملاوٹ پر آواز بلند نہیں کی جو مذہبی جماعتیں آپؐ کی ایک حدیث مبارکہ پر عمل نہیں کروا سکیں ان کا حق ہے کہ وہ اپنے آپ کو جماعتیں لکھوائیں؟ تاہم ملک کی تمام سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو یہ اعزاز ضرور حاصل ہے کہ وہ ہر معاملے میں فوج کو گھسیٹ کر اسے متنازع بنانے کی کوشش کرتے ہیں مگر شاید وہ یہ بھول جاتے ہیں ایک فوج ہی تو ہے جس پر اس ملک کے عوام کا اعتماد ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ

    حکومت کی آئینی مدت پوری ہو رہی ہے۔ آخری ڈیڈلائن 8 اگست دی جا رہی ہے۔ نگران حکومت کا وزیر اعظم آئی ایم ایف کا ہوگا یا کوئی سینئر سیاستدان، الیکشن مقررہ وقت پر ہوں گے یا ملتوی ہوں گے؟ اس کا جواب نہیں مل رہا۔ نگران حکومت جو بھی ہوایسی ہو جن پر سب کا اتفاق ہو جو ملک میں صاف و شفاف انتخابات کرواسکے۔ ویسے دنیا میں جہاں پارلیمانی نظام ہے کئی ایسے ممالک موجود ہیں جہاں نگران حکومت کا تصور نہیں لیکن کچھ ایسے ممالک بھی ہیں جہاں نگران حکومت بنتی ہیں تاہم ان ممالک میں الیکشن کمیشن غیر متنازعہ ہوتا ہے اور الیکشن کمیشن کی نگرانی انتخابات کا انعقاد ہوتا ہے۔ تاہم ملکی سیاسی گلیاروں میں کون بنے گا وزیر اعظم کا کھیل جاری ہے۔

  • اک زوال عروج سے ہو کر،  میں عروج زوال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر، میں عروج زوال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر
    میں عروج زوال تک پہنچا

    شارق جمال

    22 جولائی 2023 تاریخ وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز بااصول پولیس آفیسر ڈی آئی جی شارق جمال 22 جولائی 2023 کی علی الصبح ڈفینس سوسائٹی لاہور میں اپنے ایک دوست کے فلیٹ میں وفات کر گئے ۔ ان کے قریبی ذرائع کے مطابق شارق جمال صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ کے درمیاں کافی عرصہ سے ناراضگی چلی آ رہی تھی ان کی اہلیہ ایک عرصہ سے اپنی اکلوتی بیٹی کے ہمراہ امریکہ میں مقیم تھیں ۔ شارق جمال ایک بہت باصلاحیت ، بہادر اور بااصول پولیس آفیسر کے ساتھ ساتھ ایک بہت اچھے شاعر اور کالم نگار بھی تھے ۔ شارق جمال کو اس وقت بہت شہرت ملی جب انہوں نے مشہور زمانہ موٹروے جنسی زیادتی کیس کے ملزم عابد ملہی کو 3 ماہ کی طویل جدوجہد کے بعدچ گرفتار کر لیا تھا جسے عدالت سے اس جرم میں سزائے موت سنائی گئی تھی ملزم نے عابد ملہی نے موٹر وے پر ایک خاتون کو اس کے بچوں کے سامنے زبردستی جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا تھا۔ پنجاب میں اکثر مشکل کیسز شارق جمال کو دیئے جاتے تھے اور وہ ان کی توقعات پر پورے اترتے تھے۔ شارق جمال 7 دسمبر 1967 کو مقبول روڈ اچھرہ لاہور میں پیدا ہوئے تھے ۔ وفات کے بعد انہیں ان کے آبائی قبرستان اچھرہ لاہور میں سپرد خاک کیا گیا۔ شارق جمال ایس پی ، ایس ایس پی ، ڈی پی او اور ڈی آئی جی پولیس کے اہم عہدوں پر فائز رہے وہ 20 گریڈ کے آفیسر تھے اور اب اگست 2024 میں وہ 21 گریڈ پر ترقی پانے والے تھے وہ اس کیلئے تربیتی کورس بھی مکلم کر چکے تھے اور وہ فروری 2023 سے او ایس ڈی اسٹیبلشمنٹ ڈویژن لاہور میں تعینات تھے ۔ شارق جمال کے اب تک دو شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں جن میں ” آتش زیر پا ” اور” فسانہ کون و مکاں ” شامل ہیں ۔

    شارق جمال صاحب کی شاعری سے ایک خوب صورت غزل اور چند اشعار قارئین کی بصارتوں کی نذر
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    تیرے حسن و جمال تک پہنچا
    میں بھی کتنے کمال تک پہنچا

    بعد مدت کے ذہن آشفتہ
    ایک نازک خیال تک پہنچا

    اے مرے شوق بے مثال مجھے
    آج اس بے مثال تک پہنچا

    اک زوال عروج سے ہو کر
    میں عروج زوال تک پہنچا

    ذہن آزاد ہو گیا میرا
    جب یقیں احتمال تک پہنچا

    تذکرہ حسن کے تناسب کا
    پھر ترے خد و خال تک پہنچا

    اک معمہ تھا میرا مستقبل
    کتنی مشکل سے حال تک پہنچا

    اس طرح میں ترے قریب آیا
    جیسے ممکن محال تک پہنچا

    یہ ہوس بھی کمال تک پہنچی
    وہ بدن بھی کمال تک پہنچا

    اک گلہ زندگی کے ہونے کا
    ہوتے ہوتے ملال تک پہنچا

    اک خلش سی رہی کہیں دل میں
    ہجر جب بھی وصال تک پہنچا

    تھا ازل سے سوال کے اندر
    جو جواب اب سوال تک پہنچا

    شارقؔ اس عشق کے وسیلے سے
    میں جلال و جمال تک پہنچا
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    خود پہ الزام دھر گیا ہوں میں
    کام مشکل تھا کر گیا ہوں میں

    کل بھی کچھ درد کم نہ تھا لیکن
    آج تو جیسے مر گیا ہوں میں

    وہی تنہائی کا عالم وہی صیاد کا خوف
    اپنا زندان ہوں تو آزاد نہ کر لوں خود کو

  • 19 جولائی  ساغر صدیقی کا یوم وفات

    19 جولائی ساغر صدیقی کا یوم وفات

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    ساغر صدیقی

    19 جولائی 1974: یوم وفات

    محمد اختر المعروف ساغر صدیقی جدید اردو ادب کے شاعر تھے،نئے زمانے کی شاعری کرتے تھے ،جس زمانے میں ساغر صدیقی نے شاعری شروع کی ،اس وقت جدید اور ترقی پسند ادب و شاعری کی جڑیں بہت گہری ہو چکی تھیں ،اس لئے ساغر کی شاعری میں جدیدت اور ترقی پسندیت نظر آتی ہے۔ساغر 1928 میں مشرقی پنجاب کے علاقے انبالہ میں پیدا ہوئے ،،ماں باپ کی اکلوتی اولاد تھے ،ماں کا تعلق دلی اور باپ کا پٹیالہ سے تھا۔غریب گھرانے سے تعلق تھا ،اس لئے بچپن میں چند درجے ہی تعلیم حاصل کر سکے ۔

    اس زمانے میں ان کے پڑوس میں ایک انسان رہا کرتے تھے جن کا نام حبیب حسن تھا ،عالم و فاضل انسان تھے ،اس لئے ساغر ان سے تعلیم و تربیت لیتے،کہا جاتا ہے کہ جب ان کی عمر سات سے دس برس کے درمیان تھی ،اس وقت سے ہی انہوں نے مشاعروں میں شاعری پڑھنا شروع کردی ۔انبالہ میں غربت سے تنگ آگئے تو پندرہ برس کی عمر میں محنت و مزدوری کے لئے امرتسر چلے گئے ۔اب محنت مزدوری کرتے ،جہاں کام ملتا ،وہ سوجاتے ،لیکن شعر بدستور کہتے رہے ،اب چند غریب دوست تھے ،انہیں شعر سناتے ،اپنا تخلص ناصر حجازی رکھ لیا ،بعد میں تخلص بدلا اور ساغر صدیقی ہو گئے ۔

    سولہ سال کی عمر میں انیس سو چوالیس میں امرتسر میں اس بچے نے ایک مشاعرے میں اپنی غزل پڑھی اور پھر کیا تھا ہر طرف سے بھرپور داد ملی ۔سمجھ لیں ساغر نے مشاعرہ لوٹ لیا ۔یہی سے دنیائے ادب میں ان کی پہچان بننا شروع ہوئی ۔اب فنی سفر کا آغاز ہو چکا تھا ،مزدوری چھوڑ دی ،باقاعدہ شعر و شاعری شروع کردی ۔لطیف انور گرداسپوری سے شاعری کے حوالے سے تربیت حاصل کی ۔1947 میں ہندوستان تقسیم ہو گیا ،پاکستان کی تخلیق ہوگئی ،ساغر اب امرتسر سے لاہور آگئے ۔اب ان کی عمر 19 سال تھی ۔داتا کی نگری میں انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا گیا ۔ان کا کلام اخبارات اور رسالوں میں شائع ہونے لگا۔وہ مشاعروں کی کامیابی کی ضمانت بن گئے تھے ۔اب ساغر بیس سال کا تھا ،خوبصورت نوجوان ،جس کے لمبے سنہرے گھنگریالے بال تھے ،لمبا قد ،حسین آنکھیں ،کھلتا رنگ ،خوبصورت باتیں ،حسن و جوانی ،ناز و انداز ،یہ تھے ساغر صدیقی جنہیں جنہیں اردو شاعری کا شہزادہ کہا جاتا تھا ،وہ دنیائے ادب کے شہزادے بن گئے تھے ۔اب وہ بھارت اور پاکستان کے فلم سازوں کی فلموں کے لئے گانے لکھ رہے تھے ،وہ نغمے مشہور بھی ہورہے تھے ۔پچاس کی دہائی کے اوائل میں محمد رفیع نے ایک گانا گایا تھا جو بہت مقبول ہوا،گانا تھا ،میں نے چاند اور ستاروں کی تمنا کی تھی ،مجھ کو راتوں کی سیاہی کے سوا کچھ نہ ملا ۔یہ ساغر کی عزت اور شہرت کا زمانہ تھا ۔1947 سے 1952 تک کا زمانہ ساغر صدیقی کا سنہری دور تھا ۔یہ زمانے انہیں کامیابی ،شہرت ،اور دولت کی بلندیوں پر لے جانے والا تھا ۔کاش ایسا ہوتا ،لاابالی طبعیت تھی ،لاہور میں رہنے کے لئے ایک گھر تک نہ بنایا انہوں نے شادی بھی نہیں کی ،انہیں کہا گیا کہ متروکہ جائیداد کا دعوی کرکے مفت گھر حاصل کر لیں ،کہا کہ وہ جائیدار ترک کرکے نہیں آئے تھے ،اس لئے گھر نہیں لیں گے ۔سسٹی ہوٹلوں میں رہتے تھے ،کرائے کے کمروں میں رہائش اختیار کرتے ،کھانا بازار سے کہیں بھی مل جاتا ،کھا لیتے ،اپنا خیال کبھی نہ رکھا ۔پھر بھی زندگی اچھی گزر رہی تھی ،لیکن پھر حالات بدلنے لگے ،کہا جاتا ہے 1952 میں ایک ادبی مہانامے کے دفتر میں بیٹھے تھے کہ شدید سردرد ہوا،درد سے نجات کے لئے معرفین کا کسی نے انجیکشن لگادیا ۔

    سردرد تو ختم ہو گیا ،لیکن نشے سے آشنا ہو گئے ۔اوپر سے بدقسمتی دیکھیں کہ جس دوست فوٹو گرافر کے ساتھ کرائے کے کمرے میں رہتے تھے ،وہ ہر قسم کا نشہ کرتا تھا ۔شراب ،افیون ،چرس ،بھنگ وہ سب نشے کرتا تھا ،ساغر بھی اسی راستے پر چل نکلے ۔ا سلئے ساغر شکستہ کھنڈر بنتے چلے گئے ۔اب ہوش و حواس میں شاعری کررہے تھے ،لیکن زمانے کی ستم ظریفیاں ان کا مقدر بن گئیں تھی۔دوستوں نے آنکھیں پھیر لی ،دوستوں کے ظلم وستم سہہ رہے تھے ۔انہیں محسوس کررہے تھے ،لیکن خاموش تھے ۔کبھی شکوہ نہیں کیا ۔اب ان کی شاعری دکھ کی آواز بن گئی تھی ۔ان کے کلام میں بہت نغمگی تھی ،اس لئے ان کے کلام کو جس نے بھی گایا وہ مشہور ہو گیا اور خوب دولت سمیٹی ،لیکن ساغر کی حالت بدترین تھی ۔عزیر میاں قوال کی گائی گئی مشہور قوالی،کون بشر ہے اللہ جانے ،ان کی تحریر کردہ ہے ۔اسی طرح نصرت فتح علی خان کی آواز میں یہ غزل تو سب نے سن رکھی ہوگی ،میں تلخی حیات سے گھبرا کے پی گیا ،یہ بھی ساغر صدیقی کی غزل ہے ۔استاد غلام علی نے تو ساغر صدیقی کے غزلوں کی مکمل کیسٹ ریلیز کی ۔

    ان تمام گلوکاروں کو معاوضے ملتے ،لیکن ساغر کو کوئی پیسہ نہ ملا ۔ریڈیو پر ساغر کے لکھے گانے چل رہے ہوتے اور ساغر لاہور کی سڑکوں پر بھیک مانگ رہا ہوتا ،یہ تھا وہ کرب جس کا وہ شکار تھے ۔اب وہ داستان عبرت بن گئے تھے ۔اب ساغر صدیقی نشے کی علت پوری کرنے کے لئے بلیک میل ہورہا تھا ،لوگ ان سے غزل اور نظم لکھواتے ،اور نشہ لیکر دیتے ،فلمساز ان کے گانوں سے پیسہ کمارہے تھے ،لیکن ساغر لاہور کی سڑکوں پر بدحال تھا ۔لوگ ان کے کلام کو جمع کرکے چھپوا رہے تھے اور پیسے بٹور رہے تھے ۔ساغر نظم اور غزل کا عظیم شاعر ہے ،جس نے کبھی بھی اپنی شاعری میں کسی فلسفے کی تبلیغ نہیں ،غم پسندی ،حسن و عشق ،ان کی شاعری کے موضوعات ہیں ۔ساغر نے وطن سے محبت کی خاطر غیر سرکاری قومی ترانہ بھی لکھا تھا ،وہ قومی ترانہ ایک زمانے میں سینما گھروں میں دیکھایا اور سنایا جاتا تھا ،بیس سال تک لوگ ساغر کو ایک ملنگ ،درویش ،مجذوب اور پاگل کہتے رہے ،لیکن ان کا کلام کہیں سے بھی کسی دیوانے کا کلام نہیں لگتا ۔بھاٹی،لوہاری،داتا دربار،میکلوڈ روڈ گوال منڈی میں وہ خون تھوک رہا تھا ،وہ جس نے عظیم گیت لکھے ،وہ اب مررہا تھا ،جانے کیسا سفر ہے میرا ،جہاں ہے منزل وہی لٹیرا ۔اب پڑھے لکھے لوگ ساغر کو نشے کی پوریا ،بھنگ ،چرس اور شراب اس شرط پر دیتے کہ وہ انہیں نظم یا غزل لکھ کردیں گے ،ساغر انہیں لکھ کر دیتا اور وہ اپنے نام پر چھپواتے ۔

    سب نے آنکھیں پھیر لی تھی ۔ساغر اب مکمل طور پر نشے کی پناہ میں تھا ۔وہ نوجوان جو حسین و جمیل تھا ،اب اس کے بال بکھرے ہوئے تھے ۔جسم پر میلے کچیلے بدبودار کپڑے تھے ۔میلی سی چادر میں لپٹا یہ شاعر ننگے پاوں لاہور کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں گھوم رہا تھا ۔اس کے ہاتھ میں سگریٹ تھے ۔اور زمانے پر وہ مسکرارہا تھا ۔کہتے ہیں اسی زمانے میں ایک کتا بھی ان کا رفیق بن گیا تھا ،اب وہ جہاں جاتے ،وہ کتا بھی ان کے ساتھ ہوتا ۔ایک حسین اور حساس شاعر اس دنیا میں ایک کتے کے ساتھ رہ رہا تھا ۔عمر اب 46 برس تھی ،دن تھا 19 جولائی سال تھا 1974 جب صبح لوگوں نے دیکھا کہ لاہور کی ایک سڑک کے کنارے پر ساغر کی لاش پڑی ہے ۔زمانے کے ظلم نے عظیم شاعر کو برباد کردیا ،وہ جو اپنی شاعری ترنم سے پڑھتا تھا ،وہ جو ہر دور کا شاعر ہے ،وہ جو خوش پوش نوجوان تھا ،وہ جو بوسکی کے ملبوسات پہنتا تھا ،وہ جو دلچسپ باتیں کرتا تھا ،اس کی لاش سڑک کنارے ملی ،یہ ہے ہمارا سماج جس پر ہم فخر کرتے ہیں اور اپنے آپ کو اشر ف المخلوقات سمجھتے ہیں ۔وہ جس کا سینا امنگوں اور حوصلوں سے بھرا تھا ،اس سماج نے اسے سڑک کے کنارے جانور سے بھی بدترین موت دیدی ۔اس سماج نے ہی اسے اس مقام تک پہنچایا تھا ۔وہ اپنی زات میں سمٹتا چلا گیا اور دور ہو تا چلا گیا ،یہاں تک کے ایک آوارہ کتے نے اسے اپنا دوست بنا لیا تھا ۔کتے کو بھی انسانیت کی شناخت تھی ،لیکن انسانوں نے اسے کتے کی موت دی ۔سوال یہ ہے کہ وہ تو اپنی زات کو تسخیر کر گیا ،لیکن ہم کہاں کھڑے ہیں ؟ان کی ایک نظم ملاحظہ ہو ،

    بات پھولوں کی سنا کرتے تھے ،
    ہم کبھی شعر کہا کرتے تھے ،

    مشعلیں لے کے تمہارے غم کی ،
    ہم اندھیروں میں چلا کرتے تھے ،

    اب کہاں ایسی طبعیت والے ،
    چوٹ کہا کر جو دعا کرتے تھے ،

    بکھری بکھری زلفوں والے
    قافلے روک لیا کرتے تھے ،

    آج گلشن میں شگوفے ساغر ،
    شکوے باد صبا کرتے تھے ۔

    میلی چادر ،نحیف جسم ،چپل سے محروم ،روٹی سے محروم ،دن رات سڑکوں کی خاک،نشے کی لعنت میں غرق،ہم نے ایسے کیسے ہونے دیا ؟کیا کبھی سوچا کہ ہم کتنے ظالم ہیں ؟جس کے شعر سینوں میں سنسنہاہٹ اور دلوں کو گداز بخشتے تھے ،وہ کتے سے بھی بدترین موت کا شکار ہو گیا ؟ساغر کا ایک شعر ہے کہ ۔۔

    چشم تحقیر سے نہ دیکھ ہمیں ،
    دامنوں کا فراغ ہیں ہم لوگ ۔۔۔۔

    جس عہد میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی ،
    اس عہد کے سلطاں سے کچھ بھول ہوئی ہے

    تحریر ‘ نامعلوم
    ترتیب و ترسیل: آغا نیاز مگسی

  • 14 جولائی سارہ خان کا یوم پیدائش

    14 جولائی سارہ خان کا یوم پیدائش

    سارہ خان ایک پاکستانی اداکارہ ہیں جو اکثر اردو زبان کی ٹیلی ویژن سیریز میں دکھائی دیتی ہیں۔ سارہ خان نے ٹی وی اسکرین پر جلوہ گر ہونے کی شروعات 2012ء میں ہم ٹی وی کے ٹیلی ویژن سیریل بڑی آپا میں معاون کردار سے کی تھی اور پھر اس کی پیروی کئی کامیاب ٹیلی ویژن سیریز میں مختصر کرداروں کے ساتھ کی ۔

    وہ مومل پروڈکشن کے تیار کردہ رومانٹک ڈراما الوداع (2015ء) میں ایک خود غرض موقع پرست کے کردار سے نمایاں ہوگئیں۔ اس کے بعد سارہ خان نے اسرار ڈراما محبت آگ سی (2015ء) میں گھریلو خاتون کا کردار ادا کیا، جس پر انہیں بہترین معاون اداکارہ کا ہم ایوارڈ بھی ملا۔ سارہ خان جو اب سارہ فلک شبیر ہیں 14 جولائی 1992 کو مدینہ منورہ میں پیدا ہوئیں تھیں۔سارہ خان کی والدہ ایک لبنانی خاتون تھیں۔سارہ خان نے اپنی زندگی کے ابتدائی 10 سال مدینہ منورہ میں گزارے ہیں

    سارہ خان نے 16 جولائی 2020ء کو پاکستانی گلوکار اور گیت کار فلک شبیر سے شادی کی۔فلک اور سارہ کی ملاقات لاہور میں ایک برائڈل فیشن ویک کے دوران ہوئی تھی جہاں فلک نے سارہ کو شادی کی پیشکش کی تھی۔ اس وقت تو سارہ نے نہ کر دی لیکن پھر فلک سارہ کے والد کے پاس ان کا ہاتھ مانگنے پہنچ گئے۔ سارہ خان نے اپنی اداکاری کا آغاز 2012ء میں معاون کردار کے طور پر کیا ، بڑی آپا جو ہم ٹی وی پر نشر کیا گیا ، جہاں انہوں نے مرکزی کرداروں کی بیٹی کا کردار ادا کیا۔ اس کے بعد وہ مرتہ العروس میں نظر آئیں جو اسی سال جیو ٹی وی پر نشر کی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بشریٰ بی بی پھنس گئی،بلاوا آ گیا، معافی مشکل
    پشاور ہائی کورٹ، سونے کے قیمتوں کے تعین پر سماعت
    اسمبلیاں تحلیل کرنے کی بجائے مدت پوری کرنے دینی چاہئے،نیئر بخاری
    واشنگٹن پاکستانی سفارتخانے کی پرانی عمارت کس نے خریدی؟
    نجی تعلیمی اداروں کو بلا معاوضہ پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ
    روپیہ کی قدر میں اضافے کو بریک، ڈالر ایک بار پھر مہنگا
    انہوں نے مہوش حیات ، میکال ذو الفقار، احسن خان، ثمینہ احمد اور عائشہ خان کے ساتھ ہمنا کا نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کے بعد انھوں نے صنم جنگ اور عمران عباس نقوی کے ساتھ رومانٹک ڈراما الوداع میں 2015ء میں ایک خود غرض موقع پرست کا منفی کردار کے ادا کیا جو ہم ٹی وی پر ڈراما نشر کیا گیا تھا۔ اسی سال، انھوں نے ڈراما محبت آگ سی میں عمدہ اداکاری کی اور معاون کردار میں بہترین اداکارہ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ اس کے بعد انہوں نے رومانٹک ڈراما تمارے ہیں ، کالے جادو پر مبنی رومانوی نظر بد (دونوں 2017ء) اور ہارر ڈراما بیلاپور کی دیان (2018ء) میں اہم کردار پیش کرنے پر وسیع پیمانے پر شناخت اور عوامی تعریف حاصل کی ، جس میں سے آخری ڈراما پر ہم ایوارڈ میں بہترین اداکارہ کی نامزدگی حاصل کی۔ اسرار ڈراما بند کھڑکیاں (2018ء) میں ان کی اداکاری کے لیے مزید تعریف ہوئی۔

  • میڈیا سے اجتناب کرنا

    میڈیا سے اجتناب کرنا


    ہمارے اردگرد بہت شورشرابہ ہے۔ ٹی وی، یو ٹیوب چینلز، متعدد سوشل میڈیا پلیٹ فارمز، اور تو اور، تمام نسلوں کو میسجنگ کا نشہ ڈالنے والا موبائل فون، کثیر جہتی موضوعات پر واٹس ایپ گروپس – چوبیسس گھنٹے توجہ لیتے ہیں۔

    نوجوان نسل خاص طور پر، حقیقی زندگی میں دوستوں سے میل کے بجائے ورچوئل دوستوں، اور آن لائن تعلقات پر زیادہ انحصار کرتی ہے۔ اوپر سے سوشل میڈیا کی ستم ظریفی کہ جہاں اس کا مقصد لوگوں کو اکٹھا کرنا ہے، وہیں یہ افراد اور ان کے ماحول کے درمیان ایک اہم خلا بھی پیدا کر سکتا ہے۔ یہ عجب ستم ظریفی ہے۔ سوشل میڈیا لوگوں کو جوڑتا ہے لیکن دوسری طرف یہ صارفین کی حقیقی زندگی میں لوگوں کے ساتھ تعلق کے درمیان حائل ہوتا ہے۔

    ان کو FOMO کاخطرہ لاحق ہوجاتا ہے، یعنی ایسے احساس کہ ان کے بغیر کچھ ہو نہ جائے۔ ان کو ایسا لگتا ہے کہ وہ ماحول کے”اندر” نہیں ہیں اور پارٹیوں میں مدعو نہیں کیے جا رہے ہیں اور انہیں پیچھے چھوڑ دیا گیا ہے۔ ایک کمرے میں بیٹھا خاندان اکثر اپنے آپ کو اپنے موبائل میں مشغول اور ایک دوسرے کے ساتھ کم ہی پائے گا۔

    مزید برآں، سوشل میڈیا کی لت اکثر صحت مند سرگرمیوں سے غفلت کا باعث بنتی ہے. مثلاً کھیل، ورزش، اور باہر وقت گزارنے سے۔ اس کاہلی والے طرز زندگی کے نتیجے میں صحت کے مختلف مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

    ایک دوست نے مجھے ایک اقتباس بھیجا، مصنف نامعلوم، "آج سٹاربکس میں ایک آدمی کو دیکھا۔ نہ آئی فون، نہ ٹیبلیٹ، نہ لیپ ٹاپ۔ وہ بس وہیں بیٹھا تھا۔ کافی پی رہا تھا۔ بلکل جیسے کوئی نفسیاتی مریض ہو۔” اس بات نے مجھے سنجیدگی سے سوچنے پر مجبور کیا۔ کیا ہم نے سادہ خوشیوں کی لذت نہیں کھو دی؟ گھر والوں کا ایک ساتھ ناشتہ کرنا؟

    خط لکھنے اور وصول کرنے کی خوشی؟ پوسٹ کارڈز؟ اپنے بزرگوں کے ساتھ بیٹھ کر ان کی زندگی کے قصے کہانیاں سننا؟ ہماری یادداشت میں ہمیشہ کے لیے رہنے والی تصویر کی خواہش،بزرگوں سے عیدی ملنے کی خوشی، زیادہ بڑی رقم نہیں بلکہ وہ رقم جو احساس کے اعتبار سے معنی خیز تھی؟ تمام خاندان کا ایک گھر میں کھانے پر آنا؟ بچوں، نوجوانوں، اور بزرگوں سے بھرے ہوۓ کمرے؟ عید کی روایتی سوغات۔ چاندی کے ورق والی میٹھی سویاں، حلوے کے میٹھے ٹکڑے، کھٹی اور مسالے دار چاٹ، مختلف اقسام کے سموسے، کباب، شیرمال اور نان کے ساتھ نہاری، شیرہ ٹپکتی ہوئی گھریلو گلابی جامن۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    غم کے مواقع پر، مثلاً موت، یا بیماری کے وقت، متاثرہ گھر والوں کو خاندان کے دیگر افراد نے ایسے جیسے گھیر لیا ہو، کوئی کھانا لے کر آرہا ہو گا، یا ہسپتال میں مریض کے ساتھ رہنے آیا ہو گا، یا صرف سہارا دینے کے لیے وہاں موجود ہو گا۔

    مشکل اوقات میں برادری اور تعلق کا یہ احساس بتدریج ختم ہوتا جا رہا ہے. کیونکہ خاندان علیحدہ ہوتے جارہے ہیں اور لوگ ورچوئل دنیا میں مجذوب ہوتے جارہے ہیں۔

  • 6 جولائی صحافی و کالم نگار مظہر عباس  کا یوم پیدائش

    6 جولائی صحافی و کالم نگار مظہر عباس کا یوم پیدائش

    بین الاقوامی شہرت یافتہ پاکستانی صحافی ، کالم نویس ، تجزیہ و تبصرہ نگار مظہر عباس 6 جولائی 1958 میں حیدر آباد سندھ میں پیدا ہوئے انہوں نے حیدر آباد اور کراچی تعلیم حاصل کی ۔ انہوں نے زمانہ طالب علمی سے ہی لکھنا شروع کر دیا تھا جس کی ابتدا انہوں نے روزنامہ نوائے وقت سے کی اس کے بعد کراچی کے ایک مشہور ایوننگ اخبار دی اسٹار میں کام شروع کیا۔ تعلیم سے فراغت کے بعد انہوں نے 1982 میں باضابطہ طور پر صحافت کا پیشہ اختیار کر لیا وہ 6 سال کراچی میں A F P کے بیورو چیف 2 سال ایکسپریس نیوز کے ڈائریکٹر افیئرز رہے ۔

    مظہر عباس کافی عرصہ ڈان گروپ میں کالم اورآرٹیکل لکھتے رہے انہوں نے دی نیوز ، ایکسپریس اردو، ایکسپریس ٹریبون، ہم ٹی وی، پی ٹی وی ،دی فرائیڈے ٹائمز ، ہارلڈ نیوز لائن ، خلیج ٹائمز اور انڈیا کے آئوٹ لک میں بھی کام کیا۔ وہ 2013 سے جنگ اور جیو سے وابستہ ہیں اس کے علاوہ وہ مختلف نیوز چینلز کے ٹاک شوز میں تبصرے اور تجزیئے پیش کرتے رہتے ہیں ۔

    2002 میں انہوں نے وال اسٹریٹ جرنل کے سائوتھ ایشیا کے بیورو چیف امریکی صحافی ڈینیل پرل کے اغوا اور قتل کی خبر سے دنیا کو آگاہ کیا۔ وہ پی ٹی وی سے بھی وابستہ رہے ۔ مظہر عباس کو 2007 میں بہترین صحافت کی خدمات کے عوض انٹر نیشنل پریس فار فریڈم کے انعام سےنوازا گیا یہ ایوارڈ بین الاقوامی سطح کے 5 صحافیوں کو دیا گیا جن میں مظہر عباس بھی شامل ہیں یہ انعام ان صحافیوں کو دیا جاتا ہے جنہوں نے آزادی صحافت کو برقرار رکھنے کیلئے حملوں ،اغوا،دھمکیوں اور قید و بند کا سامنا کیا ۔2009 میں انہیں Missouri, Medal of Honer کے ایوارڈ سے نوازا گیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وہاب ریاض نے سوشل میڈیا پر اپنی وائرل ویڈیو پر ہونے والی تنقید پر ردعمل کا اظہار کیا ہے
    عالمگیر ترین کی نماز جنازہ کب ہو گی؟ اعلان ہو گیا
    نواز شریف کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنایا گیا،مریم اورنگزیب
    اپنی 40 سالہ صحافت میں انہوں نے 5000 سے زائد کالم اور مضامین وغیرہ لکھے ہیں جبکہ 400 سے زائد ٹی وی شوز کا حصہ بنے۔ مظہر عباس کے 3 بھائی ہیں ظفر عباس ڈان کے مدیر ہیں اطہر عباس سابق ڈی جی آئی ایس پی آر اور اظہر عباس جیو نیوز سے وابستہ ہیں ۔ مظہر عباس کی اہلیہ محترمہ ارم عباس کا 24 دسمبر 2020 میں کراچی میں انتقال ہوا ۔اولاد میں انہیں 2 بیٹیاں ہیں ۔ مظہر عباس اس وقت اسلام آباد میں مقیم ہیں ۔

  • خطے کا امن اور خوشحالی ، تحریر ، خلیل احمد تھند

    خطے کا امن اور خوشحالی ، تحریر ، خلیل احمد تھند

    خطے کا امن اور خوشحالی

    ہندوستان اور پاکستان کبھی اپنے جھگڑے ختم کر کے روا داری ، امن ترقی اور خوشحالی کی منزل حاصل کر پائیں گے؟
    صدیوں سے مل کر رہنے والے ایک دوسرے کے دشمن کیسے بن گئے کیا دونوں ملکوں کے اہل اختیار اور دانشور اس سوال کا جواب تلاش کرسکیں گے ؟
    انگریزوں نے برصغیر پر قبضہ کے بعد لڑاو اور حکومت کرو کی حکمت عملی اختیار کر کے ماضی کے حکمران مسلمانوں کو ایک منصوبے کے تحت پسماندگی کی طرف دھکیل دیا رہی کسر مسلمانوں کے محدود تصور اور ویژن کے حامل مذہبی طبقے نے جدید علوم کی مخالفت کرکے نکال دی جس کے نتیجے میں ہندو اور دیگر غیر مسلم آبادی کو آگے بڑھنے کے مواقع مل گئے جبکہ مسلمان تعلیمی ، معاشی اور سیاسی میدان میں پسماندگی کا شکار ہوتے چلے گئے اس وجہ سے ان میں احساس محرومی بڑھتا گیا عدم توازن کے اس ماحول نے مسلمانوں اور ہندووں میں دوریاں پیدا کیں جو انگریزی استعمار کی بھی ضرورت تھی
    برصغیر دنیا میں موجود تمام بر اعظموں سے زیادہ وسائل رکھنے والا خطہ جسے ماضی میں بھی سونے کی چڑیا تصور کیا جاتا تھا دنیا کی ہر اہم غیر ملکی طاقت نے اس پر قابض ہونے یا اپنا اثرورسوخ قائم کرنے کی کوشش کی آزادی و یکجہتی کی صورت میں اس خطے کے اندر سپر پاور بننے کے تمام تر لوازمات موجود تھے
    یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ برصغیر میں مسلم دور حکمرانی میں ہندو اور سکھ ، مسلم حکمرانی میں شریک اقتدار رہے ہیں اور انہیں بطور شہری وہ تمام حقوق حاصل رہے ہیں جو مسلمانوں کو حاصل تھے مسلمانوں نے حاکم اور طاقت ور ہونے کے باوجود غیر مسلم کمیونٹی پر کبھی اسلام قبول کرنے یا اسلامی معاشرت مسلط کرنے کے لئے طاقت اور جبر کا استعمال نہیں کیا جو رواداری کی خوبصورت مثال ہے۔
    دوسری حقیقت یہ ہے کہ انگریزی استعمار نے برصغیر پر طویل حکمرانی کے باوجود ناانصافی کا رویہ اختیار کرتے ہوئےخطے کے باسیوں کو برطانیہ کے اصل باشندوں کے برابر حقوق اور جدید سہولیات فراہم نہیں کیں نا ہی اس لیول کا انفراسٹرکچر قائم کیا جبکہ اپنے لئے اس نے برصغیر کے سرمائے سے بھرپور فائدہ اٹھایا لیکن اسے پسماندہ رکھ کر تیسری دنیا کے معیار سے دانستہ آگے نہیں بڑھنے دیا
    برطانوی استعمار نے مزید چال یہ چلی کہ برصغیر کی ذہین اور معاملات کو سمجھنے والی ویژنری قیادت کو ہر طرح سے پیچھے دھکیل کر ایسی قیادتوں کو پروان چڑھانے کی بھرپور کوشش کی جو دانستہ یا نادانستہ برطانوی استعمار کے ایجنڈے کی تکمیل کرتے رہیں
    برطانوی استعمار تاریخ کا بھر پور ادراک رکھتا تھا اسے معلوم تھا کہ برصغیر میں کسی بھی دور میں ہندووں کی ایک مرکزی حکومت نہیں رہی وہ ہمیشہ چھوٹی چھوٹی ریاستوں میں منقسم اور آپس میں لڑتے رہے ہیں یہاں صرف مسلمانوں کے ادوار میں ایک مرکزی حکومت قائم تھی
    برطانوی استعمار کو اس بات کا پورا ادراک تھا کہ خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد ہندوستان ہی وہ واحد مردم خیز خطہ ہے جو مستقبل میں انہیں چیلنج کر سکتا تھا دوسرے لفظوں میں انکو سب سے زیادہ خطرہ مسلمانوں سے ہی تھا
    بالفور ڈیکلئریشن جیسے تھنک ٹینک کے مشوروں پر برطانوی استعمار نے ہندوستان کی مسلم قوت کو تقسیم کرکے رکھ دیا تاکہ مستقبل میں انکو کسی مزاحمت کا سامنا نا کرنا پڑے لہذا مسلمانوں اور ہندووں میں مستقل جھگڑے کی بنیاد رکھ کر یہ سونے کی چڑیا تباہ کر دی گئی اس وقت سے آج تک اس خطہ کے عوام جنگ ، مفلسی اور معاشی پریشانیوں سے باہر نہیں نکل پائے
    برطانوی راج میں یہاں کے باشندوں کا بائیو ڈیٹا ٹرائبل ہسٹری کے نام پر جمع کرنے کے ساتھ ساتھ انگریزوں نے مسلمانوں ، ہندووں اور سکھوں کی جانب سے برپا کی گئی تحاریک آزادی میں خطے کے باشندوں کی بہادری اور قائدانہ صلاحیتوں کا پوری طرح اندازہ کر لیا تھا
    جب سلطنت برطانیہ کے لئے برصغیر میں اپنی حکومت قائم رکھنا مشکل ہوگیا تو اس نے ایک منصوبے کے تحت مسلمانوں اور ہندووں کے درمیان نفرت کے عوامل پیدا کر کے انکو ہوا دینا شروع کردی تاکہ مسلمان اپنی محرومیوں اور غیر محفوظ مستقبل کے خدشات کو بنیاد بنا کر اپنے حقوق کے تحفظ کے لئے برصغیر کی تقسیم کی طرف نکل جائیں
    خطے کی اکثریت کی حامل ہندو لیڈر شپ صورتحال کو سمجھنے کی بجائے انگریزی استعمار کی اس سازش کا ایندھن بنتی گئی اور مسلمانوں کو اپنے ساتھ رکھنے کی حکمت عملی و روادارانہ ماحول ترتیب نا دے سکی جسکی ذمہ داری بھی اکثریت ہونے اور تمام شعبہ ہائے زندگی میں فوقیت رکھنے کی بنیاد پر مسلمانوں سے زیادہ بہرحال انہی پر عائد ہوتی تھی
    ہندووں ، سکھوں ، بدھوں اور مسلمانوں کے مشترکہ برصغیر کی آزادی کے لئے انگریزوں کے خلاف جدوجہد آزادی میں سب سے زیادہ قربانیاں دینے کے باوجود مسلمان مستقبل کے خدشات کا شکار تھے جس کا جواز فراہم کرنے سے ہندو لیڈرشپ کبھی بری الذمہ نہیں ہوسکتی لہذا یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ برصغیر کی تقسیم اور الگ وطن کے حصول کے لئے مسلمانوں کو مجبور کر دیا گیا تھا ایک بدقسمتی یہ رہی کہ ہندوستان کے مسلمانوں میں اپنا مستقبل طے کرنےکے لئے اتفاق برقرار نا رہ سکا جسکا دشمن قوتوں نے بھرپور فائدہ اٹھایا
    انگریزی استعمار نے مستقبل کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے دانستہ طور پر تقسیم کے وقت پرامن تبادلہ آبادی کا کوئی بندوبست نہیں کیا تھا بلکہ باہمی قتل و غارت کا تماشہ دیکھا دوسری طرف تقسیم کے فارمولے کے مطابق مسلم اکثریت کے علاقوں حیدرآباد ، جونا گڑھ اور بالخصوص ریاست کشمیر کو انڈیا میں شامل کر کے دونوں خطوں میں کشمکش کی بنیاد رکھ دی تھی انہیں معلوم تھا کہ اس سازش کے ذریعے خطے میں کبھی امن قائم نہیں ہوسکے گا خطے کے دونوں ممالک اپنے وسائل اور توانائیاں باہمی جنگ و جدل میں ضائع کرتے رہیں گے خطے کی آزادی اور تقسیم سے آج تک یہ حقیقیت کھل کر سامنے آچکی ہے
    خطے میں بدامنی اور باہمی جنگ و جدل میں پاکستان کی نسبت انڈین لیڈرشپ کے ویژن کا فیلئیر زیادہ ہے کشمیر کے معاملے میں اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق فیصلے کا پاکستانی مطالبہ نیت کے درست اور حق پر ہونے کی دلیل ہے کیونکہ اس مطالبے کے بعد پاکستان دراصل آزاد کشمیر سے دست بردار ہوکر کشمیریوں کو آزادانہ فیصلہ کرنے کا اختیار دیتا ہے جس میں مستقل بنیادوں پر کشمیر سے محرومی کے خدشات بھی موجود ہیں اس سے زیادہ کوئی ملک کیا رواداری اختیار کرسکتا ہے؟
    کشمیر پر قبضہ برقرار رکھنے کے لئے انڈیا کی ہٹ دھرمی سے اندازہ ہوتا ہے کہ انڈین لیڈر شپ نے ابھی تک حقائق کا درست ادراک نہیں کیا نا ہی مستقبل میں سمجھنے کے کوئی امکانات نظر آرہے ہیں
    یہ پہلو بھی غور طلب ہے کہ کیا ترجیحا” انڈیا اور دوسرے درجے میں پاکستان بیرونی سازشوں اور اپنے اندرونی مذہبی جنونیوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر باہمی رواداری ، امن ، ترقی اور خوشحالی سے اسی طرح دور رہیں گے ؟
    یہ پہلو دونوں ملکوں کے سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ خطے کے موجودہ حالات کو برقرار رکھ کر فائدہ کس کا ہورہا ہے اور نقصان کس کا ؟
    کیا اس پہلو پر دشمن کے مقام سے نیچے اتر کر بڑے بھائی کی حیثیت سے انڈیا اور اسکی جنتا کبھی غور کر پائیں گے ؟
    ( خلیل احمد تھند )

  • حالات، حکومت اور حجرہ کمیٹی میں حاضری ، تحریر محمد نعیم شہزاد

    ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ کی انتہائی اہم حجرہ کمیٹی (کمیٹی روم) تک رسائی، باعث جگ ہنسائی اور اہلیان پاکستان کو ورطہ حیرت میں ڈال گئی۔ عین اس وقت کہ جب کشمیر میں جاری کرفیو کو قریب تین ماہ کی مدت ہونے کو ہے اور وزیراعظم پاکستان کشمیر کے مقدمہ کو شد و مد کے ساتھ لڑ رہے ہیں اور دوسری طرف اپوزیشن جماعتیں متحد ہو کر حکومت گرانے کے در پے ہیں اور مولانا فضل الرحمن کی آزادی مارچ کی آمد آمد ہے، اسلام آباد سے بیک وقت پر مزاح اور باعث خفت و ندامت خبریں سننے کو مل رہی ہیں۔

    تفصیل اس اجمال کی کچھ یوں ہے کہ پاکستانی ٹک ٹاک سٹار حریم شاہ نے بڑے پر تکلف انداز میں ایک نیا ویڈیو کلپ اپلوڈ کیا ہے جس میں موصوفہ وزارت خارجہ کے کمیٹی روم میں پریزائیڈنگ سیٹ پر براجمان ہوئیں اور ایک کلپ شوٹ کیا۔ بابائے قوم کا پورٹریٹ بھی سوچتا ہو گا کہ یہ دن بھی دیکھنا تھا کہ جب قوم کا مستقبل یوں فن اور فین فالوانگ کا رسیا ہو جائے گا اور انتہائی اہم مقام پر بھی ظریفانہ طرزِ عمل سے باز نہ رہ پائے گا۔

    قطع نظر اس بات کے کہ اس واقعہ نے قابل غور معاملات سے ہمیں کس قدر دور کر دیا، فوری قابل غور یہ امر ہے کہ یہ وقوعہ کیونکر وقوع پذیر ہوا، کیا ملک پاکستان میں ذمہ داران اس قدر غیر ذمہ دار ہو گئے ہیں کہ اس قسم کے واقعات رونما ہونے لگے اور اب لگے تحقیقات کرنے۔ دال میں ضرور کچھ کالا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ حکومتی جماعت کے بعض اراکین بذات خود حکومت کو نیچا دکھانے اور اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے اس قسم کے حالات پیدا کرتے ہیں اور یہ بعید از قیاس ہرگز نہیں۔

    حریم شاہ کے بقول کمیٹی روم میں ان کو کسی نے منع نہ کیا بلکہ معاونت بھی فراہم کی تو کیسےممکن ہے کہ یہ سب انجانے یا لاعلمی میں ہو گیا۔ خان صاحب کو انتہائی محتاط رہنا ہو گا بطور خاص صنف نازک کی طرف سے تو ان پر وار ہوتے ہی رہتے ہیں، ریحام خان، عائشہ گلا لئی اور اب حریم شاہ، اپنے قریبی احباب پر نظر رکھیں اور چوکنے رہیں، یہ اسی قبیل سے ہیں جو بصورت زلیخا یوسف علیہ السلام کو کنعان کی جیل میں بھجوا دیتی ہیں۔

    آخر میں ایک واقعہ موقع کی مناسبت سے حضرت بہلول کا بیان کرتا چلوں۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ایک مرتبہ حضرت بہلول خلیفہ ہارون رشید کے دربار میں گئے اور خلیفہ کی غیر موجودگی میں موقع پا کر مسند خلافت پر براجمان ہو گئے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کو کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔ سزا کے بعد جب ان کو خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا تو وہ کبھی روتے اور کبھی ہنستے۔

    خلیفہ نے بصد حیرت اس طرزِ عمل کی وجہ دریافت کی تو جواب ملا کہ کوڑے کھانے سے بہت تکلیف ہوئی اس لیے روتا ہوں اور ہنستا اس بات پر ہوں کہ اس مسند پر چند گھڑیاں بیٹھا ہوں تو یہ حال ہوا ہے، خلیفہ کا کیا حال ہو گا جو مستقل اس نشست پر بیٹھتا ہے۔
    بے شک اس میں عقل والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔