Baaghi TV

Tag: blog

  • بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارت آزاد کشمیر کےمتعلق کیا ارادے رکھتا ہے ، تحریر مہتاب عزیز

    بھارتی وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے مودی حکومت کے پہلے 100 دن مکمل ہونے پر اہم پریس کانفرنس میں کہا ’’ہم جلد آزاد کشمیرپربھی قبضہ حاصل کر کے بھارت کی تکمیل کریں گے‘‘۔
    دو روز پہلے بھارتی ریاست گجرات کے وزیر اعلیٰ وجے روپانی نے کہا تھا ’’پاکستان آزاد کشمیر کھونے کے لیے تیار رہے‘‘
    اس سے قبل بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن روات نے کہا تھا ’’آزاد کشمیر پر قبضے کے لیے صرف بھارتی حکومت کے حکم کا انتظار ہے، آرمی کی تیاری مکمل ہے۔
    حالیہ دنوں میں بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ اور وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے بھی آزاد کشمیر پر قبضے کے حوالے سے بیان دے چکے ہیں۔

    بھارت کا ٹریک ریکارڈ ہے کہ وہ ماحول بنانے کے بعد ایڈونچر سے دریغ نہیں کرتا۔ کئی ایک واضع مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔
    1965 میں ہم نے اپنی پسند کا محاذ کھولنے کا لال بہادر شاستری کے بیان اور اس طرح کے دیگر بیانات کو نظر انداز کیا۔ پھر ہمیں لاہور اور سیالکورٹ کے محاذ پر اچانک حملہ برداشت کرنا پڑا۔
    1971 میں ایک بار پھر ہم بھارتی دھمکیوں کو نظر انداز کرتے رہے۔ ہمارا خیال تھا کہ بھارتی بیانات کا جواب صرف بیانات سے دینا ہی کافی ہوگا۔ لیکن جب بھارتی افواج مشرقی پاکستان میں داخل ہوئیں تو ہمیں وقت سے پہلے بھرپور تیاری نہ کرنے کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔

    ممکنا فوجی تصادم پر نظر رکھنے والے تھنک ٹینک خبردار کر چکے ہیں کہ بھارت ستمبر یا اکتوبر کے دوران لائن آف کنٹرول پر کوئی مس ایڈونچر کر سکتا ہے۔ جس طرح اس سال فروری میں الیکشن کا ماحول بنانے کے لیے پلوامہ دھماکہ اور اُس کے بعد پاکستانی سرحد عبور کر کے بمباری کا ڈرامہ کیا گیا تھا، ایک بار پھر قوی امکانات ہیں کہ ویسا ہی ڈرامہ مقبوضہ کشمیر کے حالات سے دنیا کی نظر ہٹانے کے لیے کیا جائے۔

    غور کیا جائے تو اس طرح کی کسی جنگ کے لیے بھارت طویل عرصے سے تیاریاں کر رہا ہے۔ پہاڑی علاقے میں جنگ کی تربیت (Mountain Warfare Training) کے لیے بھارت کی دہیرادون ملٹری اکیڈمی میں ایک الگ ادارہ بدراج کیمپ (Bhadraj Camp) کے نام سے1999 میں قائم کیا گیا تھا۔ کشمیر کے محاذ پر جنگ کی خصوصی تربیت کے لیے بلندی پر جنگ کا تربیتی ادارہ High Altitude Warfare School (HAWS) گلمرگ مقبوضہ کشمیر میں قائم ہے۔ بھارتی فوج پہاڑی علاقے میں جنگ کے لیے اب تک 10مختص پہاڑی ڈویژن (Mountain Division) قائم کرچکی ہے۔ ان میں آٹھ عمومی ڈویژن اور 2 خصوصی حملہ آور ڈیژن ہیں۔ ان 10 ڈویژنز میں ایک لاکھ سے ایک لاکھ تیس ہزار فوجی میں جنہیں پہاڑی علاقے میں جنگ کی خصوصی تربیت اور مخصوص اسلحہ مہیا کیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج حالیہ عرصے میں دو مزید پہاڑی ڈویژن کے قیام کے لیے دن رات مصروف ہے۔ ان دونوں پہاڑی ڈویژنز کو گن شپ، یوٹیلیٹی اور اٹیک ہیلی کپٹروں کے تعاون سے جنگ کی تربیت دی جارہی ہے، یا تربیت مکمل ہو چکی ہے۔ اس مقصد کے لیے بھارت نے امریکہ سے جدید ترین جنگی ہیلی کاپٹر ’اپاچی اے ایچ 64 ای کا سودا کیا ہے۔ مودی کی حکومت نے امریکہ سے 110 کروڑ ڈالر (جو تقریباً 8,000 کروڑ بھارتی روپے بنتے ہیں) کے عوض 22 جنگی اپاچی ہیلی کاپٹر خریدنے کا معاہدہ کیا تھا۔ جن میں سے آٹھ جنگی ہیلی کپٹر انڈیا کو مل چکے ہیں۔ جنہیں ورکنگ باونڈری پر جموں کے قریب پھٹانکورٹ کے ہوائی اڈے پر تعینات کیا گیا ہے۔

    (یہاں یہ امر بھی دلچسب ہے کہ پاکستان نے امریکہ سے نو عدد اے ایچ ون زیڈ وائپر اٹیک ہیلی کاپٹرز فراہم کرنے کا وعدہ کیا ہوا ہے۔ معاہدے کے مطابق یہ ہیلی کپٹر پاکستان کو 2018 میں مل جانا تھے۔ لیکن تاحال امریکہ نے انہیں پاکستان کے حوالے نہیں کیا ہے۔)

    جنگوں پر نظر رکھنے والی کئی تنظیمیں آگاہ کر چکی ہیں۔ کہ بھارتی فوج وادی نیلم سے ملحقہ کنٹرول لائین کے دوسری طرف واقع مقبوضہ کشمیر کے اضلاع کپواڑہ اور بانڈی پورہ میں بھاری توپ خانہ اور اسلحہ جمع کر رہا ہے۔
    ہندوستان کے انتہائی اہم اور ذمہ دار افراد کے تمام بیانات اور فوجی تیاریوں کو صرف کیدڑ بھبکیاں اور بھڑکیں قرار دے کر نظر انداز کرنا بالکل بھی حقیقت پسندانہ طرز عمل نہیں ہے۔ جوابا ہمیں جس طرح کی تیاریاں کرنا چاہیں تھیں وہ کہیں دیکھنے کو نہیں مل رہی ہیں۔
    عسکری تیاریاں کیا ہیں ہم اُنہیں پاک افواج پر چھوڑتے ہیں۔
    البتہ کسی بھی ممکنا بڑے یا محدود پیمانے کی جنگ کی صورت میں عوام کو جس طرح سول ڈیفنس، فرسٹ ایڈ وغیرہ کی تربیت کی اشد ضرورت ہے۔ اُس حوالے سے حکومت اور متعلقہ اداروں کو متحرک ہونا چاہیے
    تحریر مہتاب عزیز

  • وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ، تحریر سید زید زمان حامد

    جب سیدنا ابوبکرؓ نے اپنے بعد سیدنا عمرؓ کو خلیفہ بنانے کیلئے لوگوں سے مشورہ کیا تو لوگوں نے کہا کہ عمرؓ ویسے تو بہت اچھے ہیں مگر طبیعت کے بہت سخت ہیں۔ اس بات کو سن کر سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا، ”عمرؓ اس لیے سخت ہیں کہ میں نرمی کرتا ہوں۔۔۔“
    اکثر جب کچھ لوگ مجھ سے یہ کہتے ہیں کہ آپ طبیعت کے بہت سخت ہیں تو میں ان کو یہی واقعہ سناتا ہوں۔میں منافقوں اور پاکستان کے دشمنوں پر اس لیے سخت ہوں کہ ریاست پاکستان اور حکومت پاکستان ان دشمنوں کے معاملے میں خطرناک حد تک نرمی کا معاملہ رکھتے ہیں۔اگر ریاست پاکستان، حکومت، عدلیہ اور فوج پاکستان کے دشمنوں پر سختی کریں، غداروں اور منافقوں کو سولی چڑھائیں، سازشیوں کے سر وقت پر کچلے جائیں تو پھر مجھے کیا ضرورت ہے کہ میں اتنی بے چینی اور جلال کے ساتھ دشمنوں کے خلاف اذان دوں۔۔۔؟
    میں کفار و منافقین و دشمنوں کے خلاف اس لیے جلال دکھاتا ہوں کہ ریاست کا بوسیدہ نظام ان سانپوں کو پالتا ہے۔کیا ریاست پاکستان اجتماعی طور پر ہر فیصلہ درست کررہی ہے؟کیا پاکستان میں عدل و انصاف ہے؟کیا منافقین اور دشمن سزا پا چکے ہیں؟ظاہر ہے کہ نہیں۔۔۔ تو پھر اجتماعی فیصلے بھی تو غلط ہی ہورہے ہیں ناں۔۔۔!

    معاملہ پاکستان اور امت رسولﷺ کا ہے۔ اگر کہیں پاکستان اورامت کو حکومتی فیصلوں سے تکلیف پہنچے گی تو پہلے میں نصیحت کروں گا، پھر تنبیہ کروں گا اور پھر بھی اگر وہ ظلم پر اسرار کرتے رہے تو پھر اعلان جنگ ہوگا۔یہ پاکستان کسی کے باپ کا نہیں ہے، سیدی رسول اللہﷺ کی امانت ہے۔ اس کے معاملے میں یہ فقیر کسی کا لحاظ نہیں کرے گا۔

    میرے بہت سے دوست سرکاری افسران ہیں۔ میں اکثر ان سے پوچھتا ہوں کہ تم اپنے آس پاس خیانت و ظلم ہوتے دیکھتے ہو تو آواز کیوں نہیں اٹھاتے؟ان کا ہر دفعہ ایک ہی جواب ہوتا ہے: ”یار سرکاری نوکری کی مجبوریاں ہوتی ہیں۔“

    یاد رکھیں، ہم بھی سرکاری نوکری کررہے ہیں۔۔۔ ”سرکارﷺ “ کی نوکری، ہماری بھی مجبوریاں ہیں۔
    آج اس پاک سرزمین کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں اور امت رسولﷺ کے دفاع اور آبرو کی حفاظت کیلئے ہمیں اذان دیتے بیس برس ہوچکے ہیں۔ ہماری”سرکاری نوکری“ کی صرف ایک مجبوری ہے: اور وہ یہ کہ سیدی رسول اللہﷺ سے ہم خیانت نہیں کرسکتے!باقی ہمیں کسی چیز کا لحاظ نہیں کریں گے۔جب معاملہ پاکستان کا ہو، امت رسولﷺ کا ہو، تو ہم کبھی بھی کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، چاہے حکومت ہو، عدلیہ ہو، فوج ہو یا میڈیا۔اللہ نے جو فراست اور تجربہ ہمیں عطا فرمایا ہے اور جو ڈیوٹی ہم سے لے چکا ہے اور لے رہا ہے، اس کا تقاضا ہے کہ ہم ریاست کا نظام چلانے والوں پر گہری نگاہ رکھیں۔

    جاہل ہم سے کہتے ہیں کہ حکومت کو آپ سے زیادہ پتہ ہے، وہاں زیادہ بہتر دماغ نظام چلانے کیلئے بیٹھے ہیں۔تو پھر ہمارا سوال ان سے یہ ہے کہ پھر ملک میں اتنا فساد کیوں ہے، ملک میں اتنا ظلم کیوں ہے، ملک میں اتنی جہالت کیوں ہے، ملک میں کفر کا نظام کیوں ہے، مسلمان کی آبرو اور خون اتنا سستا کیوں ہے۔۔۔؟؟؟

    یہ ہمارے ریاستی اداروں کے اجتماعی گناہ ہی تھے کہ جن کی وجہ سے 1971 ءمیں ہمارا ملک ہی ٹوٹ گیا۔سقوط ڈھاکہ کسی ایک فرد واحد کی وجہ سے نہیں بلکہ ریاست کے ہر ادارے کی جہالت و حماقت کی وجہ سے ہم پر عذاب بن کر مسلط ہوا۔ اب ہم کسی پر اندھا اعتماد نہیں کریں گے، بلکہ عمل کی گواہی مانگیں گے۔

    براس ٹیکس ایک فرد کا نام نہیں ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ فقیر اس ادارے کا سربراہ ہے، مگر ہماری ٹیم میں اس ملک کے اعلیٰ ترین محب وطن اور صاحب فراست لوگ شامل ہیں۔ ہم انہیں دشمنوں کے شر اور حاسدوں کے حسد سے بچانے کیلئے پس پردہ رکھتے ہیں، مگر جو بات ہم کرتے ہیں اس میں گہری فراست اور تحقیق شامل ہوتی ہے۔

    حکومت، میڈیا، عدلیہ اورافواج کی ہمیشہ کچھ مجبوریاں ہوتی ہیں۔الحمدللہ، ہماری کوئی مجبوریاں نہیں ہیں، ہم نے کسی سے تمغے نہیں لینے، تنخواہ، پنشن اور مراعات طلب نہیں کرنی، کوئی عہدہ نہیں چاہتے۔جب یہ زنجیریں پیروں میں نہ ڈلی ہوں تو ظالم کے سامنے حق بات کہنا قدر آسان ہوجاتا ہے۔

    اللہ کے فضل سے ہمیں اب اپنے آپ کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ نہ ماننے والے تو اللہ اوراسکے رسولﷺ کو نہیں مانتے، اور جن کو اللہ نے زندہ دل عطا کیے ہیں وہ ہمارے مشن کی اہمیت اورقوت کو پہچانتے ہیں۔ہم صرف دربار نبویﷺ سے احکامات لیتے ہیں، اور پاکستان کے معاملے میں دنیا کی اور کوئی طاقت ہمیں مجبور نہیں کرسکتی۔ ان شاءاللہ۔یہ بات ہم کوا یک بار پھر واضح کردیں کہ پاکستان کے دفاع اور غزوہ ہند میں ہمارا یہ مشن ایک کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے بدترین دشمن مشرک اور منافق اس کو روکنے اور ختم کرنے کیلئے سر دھڑ کی بازی لگارہے ہیں۔ ہمارے خلاف صرف وہی بات کرے گا جو ازلی بدنصیب ہے، متکبر ہے یا منافق ہے!
    استغفر اللہ، میں تکبر نہیں کررہا، صرف اللہ کا فضل بیان کررہا ہوں۔پچھلے 12 سال سے پاکستان کے میڈیا میں ہوں، ہزاروں اذانیں دی ہیں، کوئی ایک ”یوٹرن“ دکھا دیں، کوئی ایک بات دکھا دیں کہ جو کہی ہو اورغلط ثابت ہوئی ہو؟ کیا پھر بھی آپ کو اللہ کا فضل اور کرم نظر نہیں آتا۔۔۔؟

    ہر معاملے میں یہ فقیر اس قوم پر حجت تمام کرچکا ہے۔ کوئی ایسا مسئلہ اب باقی نہیں ہے کہ جس پر تفصیلی تجزیہ کرکے فیصلہ کن حل نہ بتا دیا گیا ہو۔ حکومتی نظام کی درستگی ہو، معیشت کی اصلاح ہو، نظام کی تبدیلی ہو، اخلاقی و روحانی تربیت ہو، ملکی دفاع و غزوہ ہند کے معرکے ہوں۔ تمام حجتیں تمام کی جاچکی ہیں۔آج بھی اس ملک میں ہزاروں بے شرم اور بے غیرت ایسے ہیں کہ جن کا کام صرف ہماری اذان کا تمسخر اڑانا ہے، طنز کرنا ہے، حملے کرنا ہے اور اس مشن کوروکنا ہے۔
    آواز سگاں کم نہ کند رزق گدارا
    کتوں کے بھونکنے سے فقیرکا رزق کم نہیں ہوجاتا۔۔۔!

    آج پاکستان کی حکو مت، میڈیا اور نظام میں اس فقیر کو ایک دشمن کی طرح دور رکھا جاتا ہے، حالانکہ یہ خود ملک و قوم و ملت کے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ کفر اور ظلم کے نظام میں کلمہءحق بلند کرنے کی یہ ادنیٰ سی قیمت ہے کہ جو ہم بہت شوق سے دے رہے ہیں۔
    اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
    مجھے ہے حکم اذاں لا الہ الا اللہ۔۔۔!

    مشرکوں سے جنگ اب بہت نزدیک ہے۔ جوہمارا مذاق اڑاتے ہیں اور طنز کرتے ہیں کہ یہ بھارت سے جنگ کروانا چاہتے ہیں، جلد ہی وہ ہنسیں گے کم اورروئیں گے زیادہ۔حجت اس حکومت اور نظام پرپوری ہوچکی ہے، ہمیں ان کے طنز اور مذاق سے دھیلا فرق نہیں پڑتا۔ہم جس مالک کی ڈیوٹی کررہے ہیں، الحمدللہ، وہ ہم سے راضی ہے، اور ہم اس سے راضی ہیں!
    تحریر سید زید زمان حامد

  • سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    سسکتا ہوا ہمارا معاشرہ اور جمہوریت ، تحریرعبدالواسع برکات

    ہمارے وزراء دس دس لینڈ کروز لے کر اور چار چار گاڑیاں سیکورٹی کی لے کر روڈ پر چلتے ہیں ، ایم این اے ، ایم پی اے ان کا بھی یہی حال ہے ، وفاقی کابینہ کے ارکان ان سے کم نہیں ہیں اور چاروں وزرائے اعلیٰ جو خود کو خادم اعلیٰ کہلانے سے شرماتے نہیں ان کے پروٹوکول کو بھی عوام دیکھتی ہے سب لگژری گاڑیوں میں عیش و عشرت کے ساتھ سفر کرتے ہیں اگر روڈ پہ ذلیل و خوار ہوتی ہے تو ان حکمرانوں کو ووٹ دے کر اپنا حکمران بنانے والی عوام ذلیل ہوتی ہے کوئی بسوں میں دھکے کھا رہا ہے تو کوئی ٹوٹ پھوٹ کا شکار گلیوں بازاروں سے تکلیف سہہ کر گزر رہا ہے۔ کسی کے پاس آرام دہ سفر کا کرایہ نہیں ہے تو کوئی صحت کے ہاتھوں مجبور کہیں سفر نہیں کر سکتا ۔

    اس مجبور عوام کے لیے عوام کے ووٹوں سے بنے وزیروں مشیروں کے پاس کوئی وقت نہیں ہے کہ اس عوام کے لیے بھی کبھی سوچ لیں جس کے ووٹ سے ہم ایوان اقتدار تک پہنچ پائے ہیں ۔ عوام کی بے بسی دیکھنی ہو تو کسی بھی تھانے میں چلے جائیں وہاں کوئی نہ کوئی صلاح الدین ظلم و ستم سہہ رہا ہوگا ۔ عدالتوں میں چلے جائیں وہاں بھي وکیلوں کے ہاتھوں عوام ہی لٹ رہی ہو گی ۔ سرکاری دفتروں میں دیکھ لیں رشوت کے بغیر وہاں عوام کی کوئی سنتا نہیں ۔ ہسپتالوں کی ایمرجنسی میں داخل ہو جائیں جب تک آپ کا مریض آخری سانسوں میں تڑپنے کی ایکٹنگ نہیں کریے گا آپ کو سیریس نہیں لیا جائے ۔ خود ان وڈیروں ، وزیروں مشیروں کے بیڈ روم اتنے بڑے ہیں کہ وہاں وسیع و عریض ایمرجنسی وارڈ بن سکتے ہیں لیکن ہسپتالوں میں ایک بیڈ پر تین تین مریض لیٹے اپنی زندگی کی سانسیں پوری کر رہے ہیں ۔
    پانچ پانچ بار جا کر ڈاکٹر کو بلائیں گے تو چھٹی دفعہ ماتھے پہ شکنیں سجائے وہ آئے گا دو تین سنا کر چلا جائے گا۔ یہ دو دن پہلے کی خبر ہے کہ سندھ کے علاقے میر پور کے سرکاری ہسپتال میں بچے کی لاش لے کر جانے کے لیے سرکاری ایمبولینس نے دو ہزار روپے مانگ لیے کیوں کہ ایمبولینس میں پٹرول نہیں ہے اور جس ایمبولینس میں پٹرول ہے اس کو ہسپتال کا ایم ایس ذاتی استعمال کے لیے کہیں لے کر گیا ہوا ہے ۔ادھر بچے کے والد کے پاس یہ دو ہزار نہیں تھے تو وہ ایمبولینس نہیں لے جا سکا اور پھر ہسپتال انتظامیہ ایمبولینس کی انتظامیہ کی آنکھوں کے سامنے والد اور چچا بچے کی لاش کو موٹر سائیکل پر گھر لے کر جا رہے تھے کہ راستے میں حادثہ کا شکار ہو کر والد اور چچا بھی فوت ہو گئے ۔ (انا للہ وانا الیہ راجعون)

    یہ سندھ کا میر پور ہے جہاں کا بھٹو ابھی تک نہیں مرا لیکن عوام روز مرتی ہے کبھی ہسپتالوں میں کبھی تھانوں میں کبھی کچہریوں میں کبھی سڑکوں پر کبھی چوراہوں پر غریب عوام روز مرتی ہے عوام کے اس خون کی وجہ سے ہی سندھ میں ابھی تک بھٹو نہیں مرتا شاید کبھی مر بھی نہ سکے ۔ ہمارا قانون اتنا بوسیدہ اور بے بس ہے کہ کبھی امیر زادے کو وزیر زادے کو وڈیرے کو نہیں پکڑ سکتا ہاں !!!! صلاح الدین کو پکڑ کر چوبیس گھنٹوں میں انصاف کا ترازو قائم کرکے اس کو موت کے گھاٹ اتار سکتا ہے ۔ لیکن کسی کروڑ پتی کے لیے جس نے ملک پاکستان میں عوام کے اربوں لوٹے ہوں گے اس کے ہاتھوں چھڑیاں بھی کھاتا ہے ہمارا قانون ان اربوں کے ڈاکوؤں کو وی آئی پی پروٹوکول کے ساتھ جیل میں رکھتا ہے کہیں گرم ہوا نہ لگ جائے ۔

    یہاں عوام کے لیے ایک ایمبولینس کی سہولت نہیں میسر مگر ان اقتدار کے مگرمچھوں کا علاج لندن کے ہسپتالوں میں ہی ہونا ہے ۔ پاکستان کے ہسپتالوں کی حالت انہوں نے کبھی ٹھیک کی ہی نہیں تو خود یہ کیوں ان ہسپتالوں میں جائیں گے ان کے پاس تو عوام کا لوٹا وافر مال ہے اس سے یہ لندن امریکہ برطانیہ جاتے ہیں وہاں کے ہسپتالوں میں اپنا علاج کراتے ہیں اور اپنی عوام کو یہ موٹر سائیکل پہ لاشیں لے کر جانے پہ مجبور کرتے ہیں اس سے ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا ان کی سیاست چلنی چاہیے ، ان کی سیٹ پکی رہنی چاہیے ، ان کے کمیشن جاری رہنے چاہئیں ، ان کی پارٹی حکومت میں رہنی چاہیے بس ان کی سب ترجیحات روز اول سے یہی ہیں اور عوام بس ان کو الیکشن کے دنوں میں بھلی لگتی ہے الیکشن کے بعد یہ عوام کو جانتے ہی نہیں ہوتے ۔ لیکن آخر یہ کب تک چلے گا ؟؟؟ کب تک یہ عوام سسکتی رہے گی اپنے ہی خادموں کے ہاتھوں …. کب تک ننھے پھول مسلے جاتے رہیں گے اپنے ہی مسیحاؤں کے ہاتھوں آخر کب قانون عوام کی بھی رکھوالی کرے گا ؟؟؟ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھنے والوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں کہیں ایسا نہ ہو کہ دیر ہو جائے اور عوام میں شعور آ جائے ۔
    تحریر از عبدالواسع برکات

  • عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    عالمی یوم جمہوریہ پہ سندھ میں میرٹ و انسانی حقوق کا جنازہ ، تحریر انشال راؤ

    پندرہ ستمبر بروز اتوار دنیا بھر میں عالمی یوم جمہوریہ منایا گیا، جمہوریت کا انسانی حقوق سے گہرا تعلق ہے جسے عالمی انسانی حقوق کے چارٹر UDHR کے آرٹیکل 21 میں واضح کیا گیا ہے، اقوام متحدہ کے مطابق "Democracy is fundamental building block for peace, sustainable development & human rights”. انسانی معاشرے کی فلاح کے لیے اقوام متحدہ نے ایجنڈہ 2030 تک sustainable development کے لیے سترہ اہم نکات پر کام کرنے کی ٹھان رکھی ہے، کسی بھی معاشرے کی ترقی میں تعلیم و تعلیم یافتہ طبقے کی کلیدی حیثیت ہے اور بچے اس معاشرے میں Sustainable Development کا چہرہ ثابت ہوتے ہیں،
    بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح نے فرمایا کہ "Education is the matter of life & death for nation” اور آئین پاکستان میں تعلیم کی سہولت دینا حکومت کا فرض اور ذمہ داری ہے آج بہتر سال گزرنے کے بعد بھی حقائق انتہائی المناک اور مایوس کن ہیں UNESCO کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں دو کروڑ سے زائد بچے اسکول کا منہ نہیں دیکھتے جس سے روز روشن کی طرح حقیقت سب پہ عیاں ہوجاتی ہے کہ ملک و قوم کی تنزلی کی اصل وجہ کیا ہے، تعلیم کی زبوں حالی کی فہرست والے ممالک کے حساب سے پاکستان افریقہ کے پسماندہ ترین و جنگ زدہ ممالک سے بھی پیچھے ہے، پاکستان کے تمام یونٹس میں صوبہ سندھ ایک ایسا یونٹ ہے جو تعلیم میں سب سے پیچھے ہے اگر سندھ کی تعلیم کا بغور جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں تعلیمی پسماندگی و معذوری کے حساب سے سندھ نیچے سے ٹاپ پر ہے،
    پچھلے دنوں سیکریٹری تعلیم کو ایک نجی ٹیلیویژن چینل پر انٹرویو دیتے سنا جس میں ایسے ایسے انکشافات سامنے آئے کہ حیرانگی خود حیران ہوکر رہ گئی مگر ایک سیکریٹری تعلیم تھے کہ ان کی ڈھٹائی کو سلام ہے، سیکریٹری تعلیم نے انکشاف کیا کہ 2019 تک محکمہ تعلیم سندھ کے پاس محکمہ کا ڈیٹا ہی جعلی تھا، انہیں کچھ نہیں معلوم تھا کہ کتنے اسکول بند ہیں، کتنے کھلے ہیں، کتنے اسکولوں میں فرنیچر ہے اور کتنے اسکول بجلی پانی وغیرہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، کون کون سے اسکول صرف ریکارڈ میں ہیں جنکا گراونڈ پر کوئی وجود نہیں ہے، کتنی انرولمنٹ ہے، قاضی شاہد پرویز سیکریٹری تعلیم ڈھٹائی کیساتھ ہنستے ہوے بتاتے رہے کہ آفس میں بیٹھ کر افسران و سپرنٹنڈنٹ صاحبان ڈیٹا بناکر بھیج دیتے تھے، تعلیم کی ابتر حالت کو دیکھتے ہوے محکمہ تعلیم سندھ نے SPSC پر عوام و دنیا کا عدم اعتماد دیکھتے ہوے ورلڈ بینک کی شراکت سے ملک کے مستند ترین اچھی ساکھ والے ادارے IBA کے زریعے ٹیسٹ کے زریعے 2000 ہیڈماسٹرز بھرتی کرنے کا اشتہار دیا جس کے لیے تقریباً بیس ہزار افراد نے درخواستیں جمع کروائیں مگر بمشکل ایک ہزار امیدوار ہی کامیاب ہوپائے،
    ان ہیڈماسٹرز سے پہلے سندھ کے سرکاری اسکولوں میں مجبور سے مجبور والدین بھی اپنے بچوں کو داخل کروانا پسند نہیں کرتے تھے، سندھ کے اسکول بالخصوص پرائمری اسکول اوطاقوں، شادی ہالز، پارٹی دفاتر، گودام و مویشی کے باڑوں کے طور پہ استعمال ہوتے تھے، اساتذہ کی اکثریت کو پڑھانے سے زیادہ گپ شپ میں دلچسپی تھی، نوبت یہاں تک آ پہنچی تھی کہ تاریخی اسکولوں میں جن میں ہزاروں میں انرولمنٹ ہوا کرتی تھی کہ ڈبل ڈبل شفٹ لگانا پڑتی تھی وہاں تیس اساتذہ پینتیس طلبہ، چوبیس اساتذہ سولہ طلبہ، پچاس پچاس اساتذہ چالیس سے پچاس طلبہ کی تعداد تک آ پہنچے تھے، اساتذہ پرائیویٹ اسکولوں میں تو پڑھالیتے مگر سرکار سے بھاری تنخواہیں وصول کرکے بھی پڑھانا پسند نہ کرتے تھے، بقول سیکریٹری قاضی شاہد پرویز و منسٹر محکمہ تعلیم کے کلرک بادشاہ اور پیراشوٹی افسران آفسز میں بیٹھ کر رپورٹیں بناکر کاغذوں کا پیٹ بھرتے رہتے، جو فنڈز سرکار سے آتے وہ ہوا میں اڑ یا اڑا دئیے جاتے جبکہ اسکولوں میں بچوں کے بیٹھنے کی بینچز تک نہ ہوتیں، رہی بات پانی بجلی، لیٹرین یا دیگر سہولیات کی وہ تو سوچنا ہی محال ہے، کھیل و تفریح کے لیے فنڈز تو باقاعدگی سے جاری ہوتے رہے مگر کسی اسکول میں ایک پلاسٹک انڈہ بال تک کا وجود نہیں، اساتذہ کی بڑی تعداد ویزا سسٹم پر رہتی جنہیں منتھلی لیکر ڈیوٹی فری سہولت دے دی جاتی، ان حالات کی وجہ سے سرکاری اسکول و اساتذہ سندھ کی عوام میں اپنا اعتماد مکمل کھوچکے تھے،
    IBA کے زریعے بھرتی کردہ ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز نے اسکولوں میں آکر انتھک محنت و لگن سے کام کیا، اپنے ہاتھوں سے رنگ روغن چونا وغیرہ کیا، کچروں کے ڈھیروں کو اسکول سے یا آس پاس سے اٹھایا، کمیونٹی کے مخیّر حضرات سے مل کر اسکول میں بنیادی سہولیات کو بحال کرکے بہتر ماحول بنایا، تعلیم پر خصوصی توجہ دی جن سے کمیونٹی کا اعتماد سرکاری اسکولوں پر بحال ہونا شروع ہوا، اساتذہ کی اپنے ذاتی رسورسز پر ٹریننگز و موٹیویشنز کیں تاکہ وہ بہتر تعلیم مہیا کرسکیں، تاریخ میں پہلی بار SMC کمیٹیوں کو ایکٹیو کرکے پوری دیانتداری سے SMC فنڈز کو اسکولوں میں یوٹیلائز کیا، پرائیویٹ اسکولوں کی طرز پر اپنی مدد آپ کے تحت نرسری کلاسز کو قائم کیا، پہلی بار پرائمری سطح پر نصابی سرگرمیوں کیساتھ ساتھ غیرنصابی سرگرمیوں کو متعارف کروایا، اس کے علاوہ حقیقیططور پر گلی گلی گھر گھر پھر کر انرولمنٹ ڈرائیو مہم چلائیں جن سے ہزاروں آوٹ آف اسکول چلڈرن اسکولوں میں داخل ہوے الغرض کہ جن اسکولوں میں آئی بی اے ہیڈماسٹرز کو تعینات کیا گیا وہ کھنڈر اسکول سے ماڈل اسکول میں تبدیل ہوگئے جن کی بدولت سندھ کے سرکاری اسکولوں پر عوام کا اعتماد بحال ہوا،
    یہ آئی بی اے ہیڈماسٹرز ہی تھے جنہوں دور دراز تک اپنے خرچ پر جا جا کر اسکول پروفائیلنگ کی جس کی بنیاد پہ محکمہ تعلیم کو پہلی بار حقیقی ڈیٹا دستیاب ہوا اور اب وہ اسی ڈیٹا کی بنیاد پہ کوئی بھی پالیسی بناکر کامیاب بناسکتے ہیں، ان کی دیانتداری و شاندار کارکردگی کو نہ صرف محکمہ کے افسران بلکہ سیکریٹری و وزیر تعلیم تک سراہتے رہے ہیں اور انہیں مستقل کرنے کی یقین دہانی کرواتے رہے لیکن پھر مافیا مائنڈسیٹ کو جب کرپشن و اقربا پروری کے خاتمے کا ڈر ہوا تو "اس کو چھٹی نہ ملی جس نے سبق یاد کیا” کے مصداق سندھ حکومت کے کرپٹ افسران و وڈیرہ شاہی حکومت نے میرٹ پہ بھرتی اور دیانتدار ہیڈماسٹروں کو ہی محکمے سے فارغ کرنے کی ٹھان لی اور ان کی نوکریوں کو ختم کرنے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا جسکے خلاف ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز احتجاج کرنے کے لیے کراچی پہنچ گئے،
    پندرہ ستمبر کو کراچی پریس کلب پر کئی گھنٹے احتجاج کے بعد جب کسی حکومتی نمائندے نے ان کی ذات تک نہ پوچھی تو انہوں نے وزیراعلیٰ ہاوس کے سامنے دھرنا دینے کا اعلان کرکے پریس کلب سے کوچ کیا، آئی بی اے ہیدماسٹرز و ہیڈمسٹریسز کو روکنے کے لیے پولیس کی بھاری نفری آڑے آگئی اور ان پر تاریخ کا بدترین تشدد شروع کردیا جسکے نتیجے میں متعدد ہیڈماسٹرز و ہیڈمسٹریسز زخمی ہوگئے اور بہت سارے گرفتار کرکے جیل منتقل کردئیے گئے، زخمی ہیڈماسٹرز میں دو کی حالت انتہائی نازک بتائی جاتی ہے متعدد خواتین بھی شدید زخمی ہوئیں جن میں سے ایک کے بازو میں فریکچر بھی ہوگیا، عالمی یوم جمہوریہ پر سندھ حکومت نے نہتے ہیڈماسٹروں پہ تشدد کرکے دنیا میں یہ پیغام دیدیا ہے کہ ان کے نزدیک انسانی حقوق کی کوئی حیثیت نہیں، یہ وڈیرے تھے اور وڈیرے ہیں جو بات انہیں ناگوار گزریگی تو وہ یہ کسی طور پہ برداشت نہیں کرینگے،
    آئین پاکستان ہر شہری کو پرامن احتجاج اور قانونی چارہ جوئی کا حق دیتا ہے اس کے علاوہ عالمی انسانی حقوق چارٹر میں پرامن احتجاج، اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے اور قانونی چارہ جوئی کا حق ہر انسان کے لیے یکساں موقع ہے جبکہ سندھ حکومت کے نزدیک نہ آئین پاکستان کا احترام ہے نہ ہی کسی عالمی قانون کا، پندرہ ستمبر کے دن سندھ کی حکمران جماعت نے محض ایک شخص کی ذاتی رائے پہ مبنی بیان کو بنیاد بناکر پورے سندھ میں احتجاجی جلسے و ریلیاں نکالیں لیکن وہی حق عوام کو دینے کے لیے تیار نہیں، یہ میڈیا ریکارڈ کا حصہ ہے کہ کس بیدردی سے سندھ پولیس نے آئی بی اے ہیڈماسٹروں پر بہیمانہ تشدد کیا،
    میڈیا نمائندگان جوکہ کسی بھی معاشرے کی کان آنکھ اور زبان کا کردار ادا کرتے ہیں زمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوے جب میڈیا نے سندھ حکومت کے آئی بی اے ہیڈماسٹروں سے غیرانسانی و غیراخلاقی سلوک پر احتجاج کیا اور سوالات کیے تو ترجمان وزیراعلیٰ سندھ بیرسٹر مرتضیٰ وہاب نے ڈھٹائی کیساتھ اس مذموم حرکت کو جائز قرار دے دیا اور انہیں مستقل نہ کیے جانے کے سوال پہ موقف دیا کہ گریڈ 17 میں کسی کو بغیر کمیشن کے بھرتی نہیں کیا جاسکتا اس لیے قانونی رکاوٹوں کے باعث انہیں مستقل نہیں کیا جاسکتا، جبکہ یہی سندھ حکومت ہے جس نے وٹرنری ڈاکٹرز کو بغیر کسی تحریری امتحان کے گریڈ سترہ میں بھرتی کرکے اسمبلی بل کے زریعے مستقل کردیا، ریونیو اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے محکمے میں گریڈ سترہ میں اپنے پیاروں کو بغیر کسی کمیشن یا کسی تحریری ٹیسٹ کے بھرتی کرکے انہیں اسمبلی بل پاس کرکے مستقل کرتے ہوے نہ تو کوئی قانونی رکاوٹ پیش آئی نہ ہی کسی میرٹ کا احترام یاد آیا،
    میڈیکل کالجز یونیورسٹی اور بورڈز میں اپنے من پسند افراد و عزیز و اقارب کی بھرتی بغیر ٹیسٹ کے کرلی جائے تو بھی عین جائز و آئینی ہے، ڈاکٹرز جن سے لاکھوں نہیں کروڑوں افراد کی جان و صحت کا معاملہ وابستہ ہے انہیں بغیر کسی انٹرویو یا ٹیسٹ کے بس گھر بیٹھے اپائنٹمنٹ آرڈرز دئیے گئے ان سب کا قانونی جواز پیدا ہوجانا بھی سمجھ سے بالاتر ہے، ان سب سے بڑھ کر تعجب و حیرانکن بات یہ کہ محکمہ قانون سندھ میں گریڈ 17 اور گریڈ 18 کے اٹارنیز کو گھر بیٹھے آرڈر دیکر حال ہی میں مستقل کردیا گیا تو کوئی قانونی رکاوٹ آڑے نہیں آئی، یہ پاکستانیوں کیساتھ ساتھ پاکستان کی بدقسمتی ہے کہ وڈیرہ شاہی کا تسلط ہے ان کے نزدیک قانونی رکاوٹیں تمام تر خرابیاں صرف میرٹ پہ بھرتی افراد کے معاملے میں ہی پیدا ہوجاتی ہیں اس کی دو اہم وجوہات ہیں ایک یہ کہ ان میں نہ انکے سیاسی غلام ہوتے ہیں نہ ہی ان کو کروڑوں روپے دیکر آئے ہوے ہوتے ہیں اس لیے ان کے لیے کوئی جگہ نہیں جبکہ جو لوگ ان کے اپنے ہوں یا بھاری رشوت دیکر ان کرپٹ بیوروکریٹس و وڈیروں کی جیبیں گرم کرکے آئیں تو وہ عین جائز ہیں،

    آئین پاکستان کا آرٹیکل 27 تعصبانہ قانون کی مخالفت کرتا ہے ایک ہی ملک یا صوبے میں ایک طبقے کے لیے قانون کچھ اور جبکہ غریبوں و مڈل کلاس طبقے کے لیے کچھ اور، بیرسٹر مرتضیٰ وہاب صاحب ایک ہی صوبے میں دو قانون کیا آرٹیکل 27 کی کھلی خلاف ورزی نہیں؟ بیرسٹر صاحب آپکے نزدیک قانونی جوکہ اصل میں نااہل ہیں وہ تو بغیر کسی ٹیسٹ کے بھرتی ہوے جبکہ یہ ہیڈماسٹر صاحبان و ہیڈمسٹریسز تو ملک کے سب سے مستند ادارے IBA کے زریعے بھرتی ہوے ہیں اور رہی بات کمیشن SPSC کی تو اس کی ساکھ کا یہ حال ہے کہ سندھ کی عوام اسے ہاوس آف کرپشن اور سفارش کہتی ہے جسے ملک کی اعلیٰ عدلیہ سپریم کورٹ تک نے نااہل اور کرپٹ ترین ادارے کی سند سے نوازا ہے،
    پنجاب حکومت نے ہزاروں ہیڈماسٹرز و تعلقہ ایجوکیشن افسران کو NTS کے زریعے بھرتی کیا اور مستقل کردیا، بالکل اسی طرح وفاق میں بہت سارے محکموں میں NTS و دیگر اچھی ساکھ کے اداروں کے زریعے گریڈ 17 اور 18 کی بھرتیان کنٹریکٹ پر کی گئیں جن کی مستقلی کے لیے موجودہ وفاقی حکومت نے پچھلے ماہ ہی کمیٹی تشکیل دی ہے، سندھ حکومت کو آئی بی اے ہیڈماسٹرز کی مستقلی میں قانون کی پابندی کا کوئی احترام نہیں معاملہ صرف بدنیتی پر مشتمل ہے کہ ان کے اپنے پیارے اور ان کے سیاسی غلام کوئی نہیں جس کی بنا پر سندھ حکومت اور اسکی کرپٹ بیروکریسی کو یہ لوگ برداشت نہیں،
    معلوم نہیں سندھ میں کب تک یوں ہی میرٹ کا جنازہ نکالا جاتا رہیگا؟ نجانے کب تک اندھیرنگری چوپٹ راج ایک ہی صوبے میں دو دو چار چار قانون رہینگے؟ پتہ نہیں وہ کونسا خوش نصیب دن ہوگا جب سندھ میں بھی میرٹ کی بحالی و قدر ہوگی؟ ہوگی یا نہیں یہ تو آنے والا وقت ہی ثابت کریگا مگر اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ سندھ حکومت و سندھ کی بیوروکریسی میرٹ کی ازلی دشمن ہے، اخلاقی طور پر پاکستانی عوام و پاکستان کے باضمیر اشرافیہ کو سندھ میں میرٹ کی بحالی کے لیے کردار ضرور ادا کرنا چاہئے۔
    تحریر انشال راؤ

  • پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان، تحریر: محمد فہد شیروانی

    پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان، تحریر: محمد فہد شیروانی

    پاکستان پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے پرانی سیاسی تاریخ رکھنے والی واحد جماعت ہے جس میں پاکستان بھی ہے اور عوام بھی ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد پاکستان کے عظیم سیاسی لیڈر شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1967 میں رکھی۔ ابتدا ہی سے پاکستان پیپلز پارٹی کو عوام کی جانب سے بے حد پذیرائی ملی اور اس کے لیڈر ذوالفقار علی بھٹو اپنی تعمیری مثبت سوچ اور شعلہ بیانی کے باعث پاکستان بھر کی عوام کے دل میں گھر کر گئے۔
    راقم نے پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ممبر قومی اسمبلی محترمہ شاہدہ رحمانی صاحبہ سے پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان میں خدمات کے حوالے سے خصوصی گفتگو کی۔ شاہدہ رحمانی کا کہنا ہے کہ ایک مخصوص گروہ ہمیشہ سے ہی پاکستان پیپلز پارٹی کو بلاوجہ تنقید کا نشانہ بناتا آ رہا ہے جو کہ حقائق کے بالکل برعکس ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی نے ہمیشہ ملک اور عوام کی خدمت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی نے پاکستان کے لئے نا قابل فراموش خدمات سر انجام دی ہیں۔ جب ان سے پاکستان پیپلز پارٹی کی ابتداء سے لے کر آج تک کی خدمات کے بارے سوال کیاگیا تو انہوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کی پاکستان کے لئے خدمات کی مندرجہ ذیل تفصیل بتائی ہے۔
    پیپلزپارٹی نے اپنے ٹوٹل 14 سالہ دور حکومت میں پاکستان کو.اور پاکستانی عوام کو کیا کیا دیا، اس کو تاریخ کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔

    ایٹم بم دیا،
    آئین دیا،
    نوے ہزار قیدی فوجی انڈیا سے چھڑا کر دیے،
    قادیانیوں کا مسلہ حل کیا،
    چین کو تیسری دنیا میں متعارف کرایا،
    اسے ویٹو پاور بنایا،
    ریلوے، سٹیل مل، ایف آئی اے، کے تحفےدیے،
    قائد اعظم یونیورسٹی دی،
    گومل یونیورسٹی دی،
    زوالفقار علی بھٹو یونیورسٹی دی،
    پاکستان کا پہلا لا کالج اور یونیورسٹی دی،
    کے پی کے میں پانچ یونیورسٹیاں دیں،
    امریکی صدر سے معافی منگوائی،
    چھ ماہ نیٹو سپلائی بند رکھی،
    بینظر انکم سپورٹ ادارہ بنایا،
    واہ کینٹ میں واہ ہیوی انڈسڑی بنائی،
    کہوٹہ اٹامک پلانٹ بنایا،
    چین، انڈیا، ایران سے اپنا ہزاروں میل رقبہ واپس لیا،
    بہترین خارجہ پالیسی دی،
    اسلامی سربراہی کانفرنس میں امت مسلمہ کو متحد کیا
    خواتین کو ووٹ کا حق دیا،
    روس کے ساتھ تعلقات کو استوار کیا اور پاکستان کو امریکی تسلط سے نکالا، (1974 میں بھی اور 2010 میں بھی)
    شناختی کارڈ دے کر پہچان دی،
    سب سے بڑی یونیورسٹی علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی بنائی۔
    سب سے بڑی مسجد شاہ فیصل مسجد بنائی
    میزائل ٹیکنالوجی دی،
    کشمیر کی جنگ ساری دنیا میں لڑی،
    سی پیک دیا،
    گوادر پورٹ دی،
    اٹھارویں ترمیم دی،
    پاک ایران گیس پائپ لائن دی،
    امریکی اڈے خالی کرائے،
    سوات میں امن قائم کیا،
    صوبوں کو انکا حق اور پہچان دی،
    سب سے بڑھ خون بہا کر جمہوریت دی،
    بلوچوں کو عام معافی دے کر قومی دھارے میں شامل کیا، جس وجہ سے سردار اختر مینگل اب ملکی سیاست کا حصہ بنے،
    دہشتگردوں اور دہشتگرد جماعتوں کی سرعام مذمت کی، نام لے کر للکارا اور شہادتیں دی،
    تنخوائیں سو فیصد بڑھائیں،
    سعودی عرب اور ایران دونوں طرف پاکستان کا توازن برابر رکھا، ثالثی کا کردار ادا کیا،
    دنیا کے سامنے پاکستان کا موقف جارحانہ انداز میں دلیری سے پیش کیا،
    بہاولپور اسلامیہ یونیورسٹی، اور ملتان یونیورسٹیاں دیں، پارٹی کے مخلص لوگوں کو وزیر اعظم بنایا
    مڈل کلاس فیملی کے لوگوں کو سندھ کا وزیر اعلی بنایا،
    سندھ میں تقریباً 20 یونیورسٹیز بنائیں
    دریاء سندھ پر 5 بڑے پل بنائے

    سب سے اہم بات کہ سندھ میں دل کے 8 نئے جدید NICVD ہسپتال بنائے جہاں لاکھوں روپے کا علاج مفت ہوتا ہے
    پہلی بار چھوٹے صوبوں کو متفقہ این ایف سی ایوارڈ دیا
    2 بوائز اور 2 گرلز کیڈٹ کالجز دیئے
    سندھ کے ساتھ پاکستان کے ثقافتی مراکز پر کام کیا
    ہوا سے بجلی بنانے والی ونڈ مل لگائی
    پاکستان کی پہلی شاہ لطیف صوفی یونیورسٹی بنائی جہاں صوفیوں اور اولیاء کرام کے بارے میں تحقیق پر کام کیا جا رہا ہے
    ہندو کمیونٹی کے لیئے آسانی پیدا کی کہ ان کے نکاح نامے / شادیوں کو قانونی شکل دی اور وہ رجسٹر ہونے لگے۔
    زمینی حقائق کے تناظر میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ان احسن اقدامات اور خدمات سے کوئی ذی شعور انحراف نہیں کر سکتا۔ امید کرتے ہیں کہ پاکستان پیپلز پارٹی اپنے چئیرمین بلاول بھٹو ذرداری صاحب کی لیڈر شپ میں پاکستان اور پاکستان کی عوام کی خدمات کے مشن کو ایسے ہی جاری ساری رکھے گی۔

  • حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب اپناؤ دین و دنیا بچاؤ تحریر: ساجدہ بٹ

    حجاب تو عزت و وقار دیتا ہے۔

    ہمارا دین اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جس میں زندگی کے سب اصول بتائیے گئے ہیں۔
    یوں تو ہر طرح کے موضوع پر مکمل علم عطا فرما دیا گیا۔
    لیکن آج کے دور میں بےحیائی اور عُریانی عام ہو رہی ہے۔آخر کیوں یہ ماجرا زیادہ عام ہو رہا ہے؟؟
    اس کی سب سے بڑی وجہ عورتوں کا بے پردہ ہونا ہے
    جب عورت ہر کسی پر حسن کے جلوے بکھیرے گی تو بے حیائی ہی جنم لے گی۔
    پتہ نہیں کیوں آج کی عورت پردے سے اتنا دور بھاگتی ہے۔
    حلانکہ اِس میں تو عورت کی عزت و وقار قائم رہتا ہے ایک طرف تو دین اسلام کی تعلیمات پر عمل درآمد ہورہا ہوتا ہے اور دوسری طرف دنیاوی لحاظ سے دیکھا جائے تو ہر کوئی ایسی عورت کی بہت قدر کرتا ہے۔ایسی عورت کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
    دوسری طرف ایسی عورت جو بے پردہ ہو لوگ اس کی بلکل بھی قدر نہیں کرتے ۔
    بلکہ شک و شبہ میں پڑ کر گھر سے نکال دیا جاتا ہے ۔یا پھر ویسے ہی اُن کی کوئی عزت نہیں رہتی ۔
    تو پھر کیوں نہ ہم لوگ حجاب کو اپنا کر دین اور دنیا دونوں محفوظ کریں۔

    اپنی اسلامی تعلیمات کا بغور مطالعہ کیا جائے تو یہ پردے کے احکام واضح طور پر بیان کیے گئے ہیں۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی احادیث مبارکہ سے بے حد رہنمائی حاصل ہوتی ہے

    قرآنِ کریم میں اللّٰہ تعالیٰ نے واضح طور پر پردے کا حکم بھی نازل فرمایا اور ساتھ ہی ساتھ یہ تعلیمات بھی دی گئی کے آخر پردہ کیوں کیا جائے۔
    اس کی ضرورت کیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ارشاد فرمایا

    "آپ مومن عورتوں سے فرما دیں کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھا کریں”
    (سورۃ البقرہ)
    پھر اسی سورۃ البقرہ کی ایک اور آیت میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا

    "اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں ”
    پھر اس کے علاوہ وہ مرد جن سے زینت چھپانے کی پابندی نہیں اُن کے بارے میں بھی واضع تعلیمات دے دی گئی۔

    یعنی ان سب تعلیمات کے جاننے کے بعد معلوم ہوا کی پردے کی اسلام میں بہت اہمیت ہے ۔
    اسی طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بے شمار تعلیمات پردے کے احکام کے بارے میں دیں
    حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔

    ایک دفعہ حضور کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حضرت علی سے فرمایا
    غیر محرم عورت پر نظر پر نظر نہ جماؤ۔مسلسل دیکھتے نہ جاؤ جو نظر اچانک پڑ گئی وہ تو معاف ہے قصداً اگر غیر محرم پر نظر ڈالی تو یہ معاف نہیں۔

    اس طرح حضرت عائشہ صدیقہ کے اخیافی بھائی کی بیٹی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر آئیں تو رسول اللہ صلی علیہ وآلہ وسلم نے اپنا چہرہ دوسری طرف پھیر لیا جب آپ کو بتایا گیا کہ وہ حضرت عائشہ کی بھتجی ہیں تو آپ نے فرمایا جب عورت بالغ ہو جائے تو اس کے لیے حلال نہیں کے وہ اپنے منہ اور ہاتھ کے سوا جسم کا کوئی حصہ ظاہر کرے۔آپ نے ہاتھ کی حد بھی بیان فرمائی۔آپ نے اپنی کلائی پر ہاتھ رکھا۔آپ کی مٹھی و ہتھیلی کے درمیان صرف ایک مٹھی
    کی جگہ باقی تھی۔

    ہمارے پیارے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کس طرح کھول کھول کر تمام تعلیمات واضع فرمائی تا کہ اُن کی اُمت مسلمہ کو کسی قسم کی پریشانی لاحق نا ہو۔
    لیکن افسوس کے ہم لوگ عمل کم کرتے ہیں ۔
    جب اللہ تعالٰی کی تعلیمات کی نا فرمانی کی جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ بھی انسان کو ذلت و رسوائی کی پستیوں میں گرا دیتے ہیں ۔جہاں صرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے اور کچھ نہ دکھائی دیتا ہے اور نا سمجھ عطا ہے

    درس قرآن کو گر ہم نے نہ بُھلایا ہوتا

    تو زمانے نے یہ زمانہ نہ دکھایا ہوتا۔

    آج کا معاشرہ بہت سی برائیوں سے بھرا ہوا ہے ۔جس میں سے سب سے زیادہ اہم ترین مسئلہ عورت کا بے پردہ ہونا ہے۔
    جو اصل فساد کی جڑ ہے۔بہت سی برائیاں بے پردگی کی وجہ سے پھیلتی ہیں

    لیکن اس معاشرے میں ایسی خواتین اور بیٹیاں بھی موجود ہیں جنہوں نے اپنی اسلامی تعلیمات کو اپنا کر معاشرے میں اہم مقام بھی حاصل کیا ہے ۔اور عزت و احترام کی نگاہ سے انہیں دیکھا جاتا ہے ۔
    میں ایسی بہنوں کو دل سے سلام کرتی ہوں۔

    حجاب پہننے والی لڑکی کی لوگ کتنی عزت کرتے ہیں ۔
    یہ میں اپنی آپ بیتی کہانی سناتی ہوں۔
    پہلے تو صرف کتابوں میں پڑھا یا سنا تھا کہ با پردہ اور حجاب پہننے والی لڑکی جو ہر طرح سے اپنے آپ کو محفوظ رکھے ہوئے با پردہ زندگی گزارے اُس کی عزت معاشرہ کرتا ۔
    لیکن میں نے اپنی آنکھوں سے ایسی لڑکی دیکھی جس کی ہر کوئی عزت کرتا ۔اُس کا ادب کرتا ۔
    میں خود اُسے دیکھ کر خدا کا شکر بھی ادا کرتی کہ ایسے بھی لوگ ہیں ابھی اس دنیا میں ۔
    وہ لڑکی میری کلاس فیلو تھی ۔میں چونکہ یونیورسٹی کی طالبہ ہوں ۔تو یہ تو سب کو معلوم ہے کہ وہاں لڑکے اور لڑکیاں اکھٹے تعلیم حاصل کرتے ہیں ۔اور یونیورسٹی کا ماحول کیسا ہوتا ہے اس سے بھی سب با خوبی واقف ہیں۔
    میں اپنی کلاس کی لڑکی جس کا نام رانی ہے ۔اُس کے حجاب کو سلام کرتی ہوں ۔وہ لڑکی ما شاء اللہ اپنے آپ کو مکمل نقاب میں رکھتی کبھی اُس کو کسی لڑکے نے تو کیا ہم لڑکیوں نے بھی نہیں دیکھا ۔ایسا پردہ سبحان اللہ۔
    صرف یہ نہیں کہ پردہ کیا بلکہ اس نے اس پردے کی لاج رکھی اپنے آپ کو ہر فتنے سے محفوظ رکھا ۔کبھی کسی کی غیبت نہیں کی ۔کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ کسی کو برا بھلا نہیں کہا ۔کسی سے کبھی فضول بات چیت نہیں کی۔
    اُس نے پردہ تو کیا ہی لیکن جو پردے کا احترام کیا میں کہتی ہوں میرے پاس الفاظ نہیں کے کیا لکھوں ۔
    سب سے بڑی بات تو یہ کے سب اُس کی اتنی قدر کرتے احترام کرتے ۔اساتذہ کرام بھی اُس لڑکی کی بہت عزت و احترام کرتے۔
    کلاس کے تمام طالب علم اُسے بہت عزت دیتے اور جب اُس کے بارے میں بات کرتے تو کہتے رانی بہت اچھی لڑکی ہے رانی شریف لڑکی ہے۔
    حلانکہ اُس با پردہ ہونے کے علاوہ شاید کوئی اور خاص خوبی نہیں تھی جیسے کلاس میں کوئی بہت ذہین طالب علم ہو تو چلو کہا جاتا ہے اس لیے کلاس میں اساتذہ کرام بھی عزت کرتے ہیں ۔لیکن وہ عام سی طالب علم ہونے کے باوجود حد درجہ قدر کی نگاہ سے دیکھی گئی ۔وہ واقعی ہی صرف نام کی رانی نہیں کردار کی رانی بھی ہے ۔
    اُس کی اتنی عزت کیوں کی جاتی تھی کیوں کوئی بھی اُس سے مل کے یہ نا کہتا کے لڑکیاں تو سب آج کل کی بری ہوتی ہیں ۔یہ بھی ایسی ہو گی ۔اُس خدا کی بندی نے خدا کے احکام کی پابندی کی حجاب کو اپنا اشار بنا لیا ۔
    اپنی دین اور دنیا دونوں سنوار رہی ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے مزید عمل کی توفیق عطا فرمائے آمین۔
    میری اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور آپ کو عمل کی توفیق عطا فرمائے اور با پردہ زندگی گزارنے کی توفیق دے۔
    اللہ تعالیٰ اُمت مسلمہ کی تمام ماؤں بہنوں بیٹیوں کو با پردہ رہنے اور اُس پردے کی لاج رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔
    اُمت مسلمہ کی تمام عورتیں ایسی ہو جائیں کے کوئی غیر مسلم دیکھے تو پہچان جائے کہ یہ مسلمان عورت ہے قابلِ احترام ہے۔ ہمارا کردار ایسا ہو کے کوئی ہمارے بارے میں غلط تصور بھی اپنے ذہن میں نا لائے ۔
    چلو آج ہم بھی عہد کریں مغربی تہذیب کو ٹھوکر مار کر اپنی اسلامی تعلیمات کا لبدا اوڑھ کر حجاب اپنا کر اپنی دین اور دنیا دونوں محفوظ کر لیں ۔

    ہیں تیز ہوائیں تہذیب کی لیکن

    ماتھے سے دوپٹہ کبھی اڑنے نہیں دوں گی۔

    ان شاء اللہ۔

  • جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    جناب وزیر اعظم عمران خان صاحب!! تحریر: میر محسن الدین

    آپ تک میری کہانی پہنچ چکی ہوگی۔
    ہوا یہ کہ میں نے دکھوں کے مارے اس معاشرے کو کچھ تفریح دینے کا سوچا ۔
    میرا تو ذہن بھی ٹھیک سے کام نہیں کرتا مگر پھر بھی اتنا سوچ لیا۔

    میں نے کیمرے میں منہ چڑایا اور اے ٹی ایم کھول کر اپنا پھنسا ہوا کارڈ نکالا۔
    میری بھولی بھالی شکل اور معصوم شرارت نے بہت سوں کو محظوظ کیا۔
    وزیر اعظم صاحب میں چور نہیں تھا، اگر میں چور ہوتا تو پیسہ نکال کر پولیس کو اسکا حصہ تھما دیتا اور خود عیش کرتا لیکن بدقسمتی یہ کہ میں چور نہیں تھا۔
    مجھے بس مذاق سوجھی تھی لیکن اس کی سزا آپ ہی کی ماتحت پولیس نے مجھے یہ دی کہ میری کھال چھیر دی، ادھیڑ دی، مجھے چاقو گھونپ دئیے، مجھے جسم کے نازک حصوں پر سریوں سلاخوں سے مارا اور میرے ننگے بدن پر گرم استری لگا لگا کر جلا کر مار دیا…

    عمران خان صاحب!!
    ایک سوال کروں؟
    آپ نے مدینہ کی ریاست اور انصاف کی بات کرکے عملی کوئی ایکشن نہ کرنا کہاں سے سیکھا؟
    آپ نے ساہیوال واقعہ کے قاتلوں کو نشان عبرت بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن بعد میں سب بھلا دیا اور سب وہی پرانا چلنے لگا۔
    اگر واقعی آپ ایسا کرتے تو شاید آج میں بچ جاتا۔
    آپ نے خالی خولی وعدوں پر آنکھوں میں دھول جھونکنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ صاحب!!
    میں نے حوالات میں پولیس سے بس یہ پوچھنے کی جسارت کی کہ آپ نے مارنا کہاں سے سیکھا جس پر وہ درندوں کی طرح مجھ پر ٹوٹ پڑے۔
    کیا یہ میں نے کوئی جرم کیا؟
    میں نے تو اسی قانون کی بات کی جو آپ نے پڑھا کہ حوالات اور جسمانی ریمانڈ میں پولیس کو مارنے کا کوئی حق نہیں ہے۔
    چیف جسٹس صاحب!! ایک سوال کرسکتا ہوں کہ آپ نے قانون کی اتنی سنگین پامالی پر خاموش رہنا کہاں سے سیکھا؟

    جناب آرمی چیف قمر باجوہ صاحب!!
    میرے متعلق آپ کو بھی علم ہوا ہوگا۔
    ایک سوال آپ سے بھی کرونگا۔
    آپ ملک میں جب باقی معاملوں تماشوں میں ان رہ سکتے ہیں۔
    جب آپ کرکٹ تک میں کردار رکھ سکتے ہیں، آپ کے ماتحت ادارے ہر جگہ پہنچ سکتے ہیں تو پولیس میں میرے قاتلوں کو نظر انداز کرنا آپ نے کہاں سے سیکھا؟

    میرے عوام تو میرے لئے بول رہے ہیں، میرے سوال آپ ملک کے اختیار و اقتدار والوں سے ہیں.. میری جلی کٹی لاش آپ ریاست کے بڑوں کا منہ چڑا رہی ہے۔
    کیا آپ مجھے اور میرے ملک کے لوگوں کو جواب دے سکتے ہو؟؟

    فقط آپکا صلاح الدین

  • جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟ تحریر: ابوبکر قدوسی

    جب اس کی ماں نے اسے جنم دیا ہو گا تو کیسے خوش ہو گی ؟
    ہاں اس کا سر کچھ کچھ غرور سے اور کچھ فخر سے اٹھ رہا ہو گا اور پھر میٹھی سی مسکان اس کے لبوں کے کونوں سے آزاد ہونے کو مچل مچل جاتی ہو گی ….. لیکن آج اس ماں نے جب اسی بیٹے کے جسم کو دیکھا ہو گا تو کس طرح ٹوٹ کا چاہا ہو گا کہ کاش وہ پیدا ہی نہ ہوتا ..
    ہاں وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کو آج یہ وحشت نہ دیکھنا پڑتی –
    وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کا یہ زخم زخم بدن ماں کو دیکھنا نہ پڑتا –
    کہتے ہیں کہ اس نے اے ٹی ایم مشین سے کارڈ چوری کیا ، بھلے کیا ہو ، لیکن ہاتھ کاٹ دیتے یہ کیا کہ رگ جان ہی کاٹ دی – تھانے میں تشدد کر کے اس کو قتل کیا گیا – بعد میں کہا گیا کہ دل کا دورہ پڑ گیا – کیسی عجیب بات ہے کہ حرام کھا کھا کے لوگوں کی زندگیوں کو حرام کرنے والے ان حرام خوروں کو دل کے دورے نہیں پڑتے ، لیکن ان کے تھانوں میں جا کے سوکھے سڑے غریبوں کا کولسٹرول لیول راتوں رات ایسا ہو جاتا ہے کہ کہتے ہیں "دل کا دورہ پڑ گیا ” پھر ڈاکٹر روپورٹ بناتے ہیں کہ جی کوئی تشدد کا نشان نظر نہیں آیا –
    لیکن اس کے گھر والوں نے اس کی میت کی تصویر لے کے نشر کر دیں …
    تن ہمہ داغ داغ شد
    کی تصویر ، زخم زخم وجود بتا رہا تھا کہ انصاف بھی اندھا تھا اور مسیحا بھی –
    عمران خان صاحب کو کوئی جا کے صرف اتنا بتا دے کہ :
    خان صاحب ! آپ کی حکومت میں بھی ظلم کرنے والے آزاد ہیں ، بااختیار ہیں ، جسے چاہے قتل کر دیتے ہیں – اب آپ سیدنا عمر کی مثالیں اور مدینے کی ریاست کے بھاشن دینا چھوڑ دیں ….کیونکہ اب لوگ یقین نہیں کرتے –
    چھوڑیے خان صاحب اس کی لاش کی ، تشدد زدہ جسم کی تصویریں آپ کو کیا دکھائیں …لیجئے یہ تصویر دیکھئے ، مگر میری نظر سے –
    یہ صلاح الدین ہے ، اے ٹی ایم مشین میں کھڑا ہے اور اس کو معلوم ہو گیا ہے کہ آپ کیمرے کے پیچھے اسے دیکھ رہے ہیں ..ہاں یہ کہہ رہا ہے کہ خان صاحب ، آپ کی باتوں پر ، آپ کے نعروں پر ، آپ کے دعووں پر اور آپ کی مبینہ ریاست پر ………..ہوں ہوں ہوں …….

  • "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    "خان صاحب کے لئے گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر لینے کا فارمولا ” تحریر: ڈاکٹر حافظ اسامہ اکرم

    آج کل کشمیر کے حالات بہت مخدوش ہیں ۔ کرفیو کو ایک مہینہ ہونے والا ہے ، کشمیری بھوک پیاس ، دوائیوں کی عدم موجودگی، آنسو گیس شیل اور چھروں سے روز مر رہے ہیں ۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق کشمیری لڑکیوں کو اٹھا کر لے جایا جا رہا ہے ۔ بارہ سال کے بچوں کو بھی شہید کر کے کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی جارہی ہے ۔اس صورتحال میں موجودہ وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب خود کو اس پہ بہت زبردست متفکر بتاتے ہیں ۔ اور کشمیر کے سفیر کا درجہ دیتے ہیں لیکن ساتھ ساتھ عالمی امن کی ٹھیکہ داری بھی چونکہ صرف پاکستان کے حصہ میں آئی ہے لہذا خان صاحب اور ان کے ماننے والے یہ کہتے پھرتے ہیں کہ "کیا اب میں جنگ کر لوں ،حملہ کر دوں۔۔۔۔؟؟؟ ”
    تو ان کے لئے کچھ گذارشات ہیں کہ جناب من آپ بلکل جنگ نہ کریں ، نہ حملہ کریں۔ آپ کی سو سو مجبوریاں ہیں ،ہم آپ کو گھر بیٹھے بٹھائے کشمیر کی آزادی کا طریقہ بتاتے ہیں جس میں نہ آپ پر کوئی عالمی دباؤ آئے گا نہ آپ کو انٹرنیشنل بارڈر کراس کرنا پڑے گا ، نہ شاہین و نصر کا استعمال کرنا پڑے گا نہ آپ کے فوجی شہید ہوں گے ۔
    ان سب کا آسان حل انڈیا کا صرف ایک مکمل بائیکاٹ ہے ، اس پہ عمل تو کر کے دیکھیں ۔ ہمیں امید ہے آپ اتنے بھی بزدل بھی واقع نہیں ہونگے اور یہ کر گزریں گے ۔

    1. پاکستان انڈیا سے ہر طرح کے سفارتی تعلقات مکمل طور پر توڑ لے۔

    2.انڈیا کی روز روز کی زمینی بارڑر اور بالاکوٹ والی ہوائی حدود کی خلاف ورزی ، ڈیموں پہ بند باندھ کر پانی کی چوری سمیت تمام تر معاہدوں کی بار بار کی خلاف ورزی کے جواب میں تمام تر معاہدوں کے ختم ہونے کا اعلان کر دیا جائے۔

    3۔ ہر بین الاقوامی فورم پر انڈیا کے کشمیریوں اور دیگر اقلیتوں پہ ظلم کو دنیا کے سامنے واضح کیا جائے ۔

    4.انڈیا سے ہر قسم کی آلو ، پیاز کی تجارت ختم کردی جائے۔

    5. سوائے مذہبی رسومات کی ادائیگی کے دونوں ملکوں کے شہریوں کی ایک دوسرے کے ملک میں داخلہ اور آمدورفت بند کردی جائے۔

    6۔ انڈین سامان تجارت اور ہوائی جہازوں کو راہداری ختم کی جائے،

    اگر آپ صرف یہ کام کر لیں تو دیکھیں انڈیا کشمیر سمیت تمام تر تصفیہ طلب امور میں آپ کے قدموں میں نہ آ گرے تو ہم سزاوار ۔

  • شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما  تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    شانِ حسنین کریمین رضی اللہ عنہما تحریر: سعدیہ بنت خورشید

    سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:-
    "جب حضرت حسن رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام حمزہ رکھا اور جب حضرت حسین رضی اللہ عنہ پیدا ہوئے تو انکا نام چچا کے نام پر جعفر رکھا۔
    مجھے رسول اللہﷺ نے بلایا اور فرمایا: مجھے یہ دونوں نام تبدیل کرنے کا حکم دیا گیا ہے پس آپ علیہ السلام نے ان دونوں کا نام حسن و حسین رضی اللہ عنہما رکھا”

    یہ حدیث مبارکہ میری نظر سے گزری تو مجھے انتہائی تجسس ہوا کہ جن کے نام عرشِ بریں سے منتخب ہو کر آئے ہوں انکی شان کیا ہوگی۔ میں جنابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسوں کی شان کے بارے مزید پڑھنے کے لیے کتب احادیث کھولتی ہوں۔ صحیح بخاری کتاب فضائل الصحابہ، باب مناقب الحسن و الحسین میرے سامنے آتا ہے۔
    سیدنا عقبہ بن حارث رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    ” میں نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کو اٹھائے ہوئے ہیں اور فرما رہے ہیں، میرے ماں باپ ان پر فدا ہوں یہ نبی کریمﷺ کے مشابہ ہیں۔ حضرت علی سے انکی شباہت نہیں ملتی اور سیدنا علی زبان صدیق سے یہ کلمات سن کر ہنس رہے تھے۔”

    سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
    "جو چاہے کہ گردن، چہرہ اور بالوں کے لحاظ سے رسول اللہﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسن کو دیکھ لے اور جو چاہے کہ گردن سے ٹخنوں تک رسول اللہ ﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ کسی کو دیکھے تو وہ حسین کو دیکھ لے.”

    سیدہ فاطمۃ الزہراء رضی اللہ عنہا کے دونوں بیٹے سرور کائناتﷺ کے سب سے زیادہ مشابہ ہیں۔ اور میرے آقا صلی اللہ علیہ وسلم خود سے مشابہت رکھنے والے ان دو بچوں سے اتنا پیار کرتے ہیں کہ ایک دفعہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آپکے کندھے پر سوار ہوتے ہیں تو سرور کونین فرماتے ہیں
    "یا اللہ! مجھے اس سے محبت ہے تو بھی اس سے محبت فرما”

    لپٹتا ، چمٹتا کبھی گود میں گرتا

    یہ تو پھول تھا جو آغوش رسالت میں نکھرتا

    حسنین کریمین رضی اللہ عنہما کی شان کے کیا کہنے:

    میرے آقا ﷺ اکثر انکو اپنے مبارک کندھوں پر بٹھاتے
    اور آپ ﷺ فرماتے "یہ سردار ہیں”
    ” حسن و حسین میرے پھول ہیں.”
    "حسن و حسین شہزادے ہیں۔”

    میں کتبِ احادیث کے سنہری اوراق کو پلٹتی جاتی ہوں، پڑھتی جاتی ہوں کہ صحیح سنن الترمذی کی ایک حدیث سامنے آتی یے:
    "رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے چند صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ دعوت پر جاتے ہیں۔ کیا دیکھتے ہیں کہ سیدنا حسین رضی اللہ عنہ گلی میں کھیل رہے ہیں۔ جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے مبارک ہاتھوں کو فرط محبت سے اگے بڑھا کر پھیلا لیتے ہیں اور انکو صدرِ اطہر کے ساتھ لگا لیتے ہیں۔ علی کے لخت جگر کے چہرے پہ جناب رسالت مآب کے لب مبارک لگتے ہیں اور میرے آقا ﷺکی زبان سے پھول جھڑنے لگتے ہیں: حسین مجھ سے ہے، میں حسین سے ہوں۔ اللہ تعالیٰ اس شخص سے محبت کرے جو حسین سے محبت کرتا ہے۔”

    "حسین منی و أنا من حسین”
    (حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں)

    حدیث مبارکہ کے اس جملہ کو میں بار بار دہراتی جاتی ہوں ” حسین مجھ سے ہے اور میں حسین سے ہوں” کہ شاید مجھ پر رحمۃ للعالمین کے کہے ہوئے اس جملے کا مطلب واضح ہو جائے۔
    بار بار غور کرنے پر بات سمجھ میں آئی کہ جیسے عموماً جس سے محبت کی جاتی ہے تو اسے کہا جاتا ہے کہ تم میں اور مجھ میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    بالکل یہی مراد میرے حضور ﷺ کی ہے کہ ہے حسین مجھ سے ہے۔ یعنی کہ حسین میرا جزو ہے، حسین میرا حصہ ہے، بلاشبہ مجھ میں اور حسین میں کوئی فرق نہیں ہے۔
    اس حدیثِ مبارکہ کا معنیٰ و مطلب واضح ہوجانے پر فرط محبت سے چہرے پر مسکراہٹ پھیل جاتی ہے کہ پوری کائنات کے سردار فرما رہے ہیں

    "احب اللہ من أحب حسینا”
    وہ کتنا عظیم شخص ہوگا جو فاطمہ کے بیٹے سے محبت کرکے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ کی دعا کا حقدار ٹھہرا ہوگا۔
    (اللھم اجعل منھم)

    حضرت محمد کریم ﷺ نے دس صحابہ کرام کو ان کی زندگی میں جنت کی بشارت دے دی۔
    ابوبکر فی الجنہ
    عمر فی الجنہ
    عثمان فی الجنہ
    (الخ۔۔۔۔۔!!!)

    لیکن میں قربان جاؤں جب باری شہزادوں کی آئی تو مقام بڑھ گیا، زاویہ نگاہ بدل گیا
    صرف اسی پر بس نہیں کہ حسن و حسین جنتی ہیں
    بلکہ فرمایا:

    "حسن و حسین جنتیوں کے سردار ہیں.”
    ان شہزادوں کی عظمت و رفعت، شان و مقام، بلند مرتبے پر میرے باپ قربان ۔۔ !!

    سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
    "اللہ کے رسول علیہ الصلوۃ والسلام تشریف لاتے ہیں
    حسن ابن علی، آپ ﷺ کے کندھے مبارک پر تشریف فرما ہیں اور ان کا لعاب آپ ﷺ کے کندھے پر بہہ رہا تھا۔”

    کیسا خوبصورت منظر ہے۔۔۔!!
    جس کو رب تعالیٰ نے دونوں جہانوں کا سردار قرار دیا اس کے کندھے پر جس کا لعاب گرتا رہا ہوگا وہ بھی کتنا عظیم ہوگا۔

    جناب حسن رضی اللہ عنہ سینہ مبارک پر پیشاب کردیتے ہیں۔
    صحابہ پکڑنے کے لئے دوڑتے چلے آتے ہیں
    فرمایا: رہنے دو، کوئی بات نہیں میرا بیٹا ہے۔۔۔ اس جگہ پر پانی بہا دیتے ہیں

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو جناب حسنین کریمین کا کسی بھی وقت آنا ناگوار نہ گزرتا تھا۔
    آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ان شہزادوں کو دیکھ کر ہنستے، مسکراتے اور خوش ہوا کرتے تھے۔

    جن کی وجہ سے خوش ہوا کرتے تھے، ان کی وجہ سے ہی ایک دن کالی کملی والے میرے آقا رونے لگے۔
    زار و قطار روتے چلے جاتے ہیں
    دونوں جہانوں کے سردار کی آنکھیں آنسو بہاتی چلی جاتی ہیں۔

    سیدنا علی پوچھتے ہیں
    میرے ماں باپ آپ پر قربان…!!
    آقا کیا ہوا۔۔۔؟
    فرمایا: جبرئیل علیہ السلام مجھے خبر دے کے گئے ہیں کہ حسین کو فرات کے کنارے قتل کردیا جائے گا۔ اور کہا: اپ چاہیں تو آپ کو وہاں کی مٹی سونگھا سکتا ہوں۔۔۔
    فرمایا؛ ہاں! جبرئیل ہاتھ بڑھاتے ہیں اور مٹھی بھر مٹی مجھے پکڑا دیتے ہیں۔
    اسی وجہ سے آنکھوں پر قابو نہ پاسکا اور آنسو بہہ نکلے۔

    اس ضمن میں کئی احادیث میری نظروں کے سامنے سے گزرتی چلی جاتی ہیں۔۔

    میرے آقا روتے چلے جاتے ہیں

    اپنے شہزادے کے قتل ہونے کی خبر سن کر کیوں نہ روتے… !!

    آنکھوں سے بے اختیار آنسو رواں ہو جاتے ہیں کہ کالی کملی والے آقا کو ان بد بختوں کی وجہ سے تکلیف پہنچی۔۔۔

    منظر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    حضرت حسن، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ صلح کر کے کوفہ چھوڑ دیتے ہیں۔۔
    اور بنی ہاشم سمیت مدینہ طیبہ میں قیام پذیر ہو جاتے ہیں

    زندگی کے 47 سال گزارنے کے بعد آپ کی موت کا وقت آ جاتا ہے ۔۔۔
    آپ رضی اللہ عنہ کو اہلِ غدر زہر دے دیتے ہیں۔۔
    نبی کے نواسے کی تکلیف بڑھتی جاتی ہے۔۔۔
    شدید گھبراہٹ محسوس ہونے لگتی یے
    کہنے والے نے کہا اے ابو محمد۔۔۔!!!
    یہ گھبراہٹ کیسی۔۔۔؟؟
    یہ تکلیف کیسی۔۔۔؟؟
    ابھی جسم سے روح جدا ہو جائے گی تو سامنے
    اپنے نانا جناب رسول اللہ ﷺ، اپنے والدین( علی و فاطمہ)، اپنی نانی خدیجہ، اپنے ماموں، اپنے چچا، اپنی خالائوں کو سامنے پائیں گے۔۔۔
    یہ سنتے ہی تکلیف دور ہو جاتی ہے، گھبراہٹ ختم ہو جاتی ہے۔

    جنازے کا وقت آتا ہے۔۔۔
    اہلِ علم اور نیک لوگوں کے جنازے میں ہزاروں، لاکھوں افراد جمع ہوتے ہیں۔
    لیکن!
    یہ جنازہ تو فاطمہ کے لخت جگر کا ہے
    یہ جنازہ تو آقائے کائنات کے شہزادے کا ہے
    جہاں تک نگاہ جاتی ہے لوگ ہی لوگ نظر آتے ہیں
    یوں محسوس ہوتا کہ لوگوں کا وسیع سمندر یہاں امڈ آیا ہے۔
    مدینہ اپنی بے انتہا وسعتوں کے باوجود تنگئ داماں کا شکار ہوجاتا ہے۔۔۔

    منظر ایک بار پھر بدلتا ہے۔۔۔۔!!!

    جناب رسالت مآب کی پیشینگوئی کا وقت ہوا چاہتا ہے
    کوفی آپکو خطوط بھیج کے بلاتے ہیں
    جب سیدنا حسین رضی اللہ عنہ اپنے ساتھیوں سمیت جاتے ہیں

    کوفہ پہنچتے ہیں کہ کوفی اپنی باتوں سے مکر جاتے ہیں
    اور آپ ابن زیاد کے لشکر کے ہاتھوں شہید ہوجاتے ہیں۔۔

    وہ وقت آگیا جس کی وجہ سے سید المرسلین کی عیون سے زاروقطار آنسو مبارک نکلے تھے

    وہ لمحہ آن پہنچا جس کی وجہ سے پھول سا چہرہ بھی مر جھا گیا تھا

    ام المؤمنین سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو اس واقعہ کی خبر پہنچتی ہے تو فرماتی ہیں:

    "کیا انہوں نے ایسا کیا ہے۔۔۔؟
    اللہ تعالیٰ ان کے گھروں کو آگ سے بھر دے! یہ کہہ کر بیہوش ہو جاتی ہیں”

    فاطمہ رضی اللہ عنہا کے جگر گوشے کی شہادت پر جِن بھی رونے لگتے ہیں۔۔
    ابن مرجانہ اس چہرے پر لاٹھی مارتا ہے جو نبی ﷺ کے مشابہ تھا
    جس چہرے پر سرور کونین کے لب مبارک لگتے رہے۔۔ !!

    ابن مرجانہ پر تا قیامت لعنت برستی رہے گی

    ڈنکے کی چوٹ پہ ظالم کو برا کہتی ہوں

    ہر اس شخص پر لعنت ہے جس کا سیدنا و محبوبنا و امامنا الحسین بن علی رضی اللہ عنہ کی شہادت میں کسی قسم کا حصہ تھا
    یا الٰہی۔۔۔۔!! ہمارے دلوں کو اہلِ بیت کی محبت سے منور فرما اور روز قیامت ہمیں ان کے ساتھ اٹھانا ۔۔۔ ( آمین)