Baaghi TV

Tag: blog

  • دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    دلکش ظاہری دنیا کے گھناؤنے مخفی پہلو تحریر: محمد عبداللہ اکبر

    ہم جس سمت یا نظر سے دنیا دیکھ رہے یا ہمیں دیکھائی جا رہی ہے دنیا اس سے یکسر مختلف ہے
    ہمیں اقوام متحدہ پڑھائی جا رہی ہے
    انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں۔
    ایڈ کے نام پہ ایسی ایسی فاؤنڈیشنز اور تنظیمیں دیکھائی جا رہی ہیں جن کا ظاہر کچھ اور باطن کچھ اور ہے۔
    ہمیں یورپ کا لبرل طبقہ دکھا کے براڈ مائنڈڈ بننے کی طرف اشارے کیے جا رہے ہیں۔
    ہمیں سیکولر لوگوں سے سنگتیں  بنانے کا درس دیا جاتا رہا ہے۔
    جبکہ اگر ہم بڑی بالغ نظری سے دنیا کو دیکھیں تو یہی لوگ جو ہمیں ان سب چیزوں کی اقتدا کا درس دیتے نظر آ رہے ہیں یہ اپنی مذہبی جنونیت سے بھرے ہوئے اسلام مخالف درندے ملیں گے۔
    چند ایک نہیں یہ سارے کے سارے ہی ایسے ہیں۔
    دیکھا نہیں کبھی یہودیوں نے ہٹلر کو قاتل یا درندہ کہنے نہیں دیا جبکہ اس کے قتل جیسا قتل بھی کسی نے کیا ؟؟؟
    اور آ جائیں دیکھیں عیسائیوں کو وہ یاد ہے نا نیوزی لینڈ والا واقعہ دکھائیں کسی یورپی ملک کے ٹیلی ویژن نے اسے دہشتگرد گردانا ہو۔
    سفید فام نسل پرست بس اس سے آگے اس پہ کوئی لیبل لگایا ہو ؟؟
    ان کی اداکارائیں ہوں یا کوئی اور سلیبریٹیز۔۔۔ کتنی دفعہ ایسا سامنے آیا کہ وہ ان کی ایجنسیز کے کام کرتی ہوئی پکڑی گئیں۔
    یہی ہے نا جن کو تم لبرل سیکولر کہہ کے اپنے اصل اپنے دماغوں کو کرید رہے ہو ؟
    اور دوسری طرف ہم نابالغ سے مسلمان۔۔۔!!
    اقوام متحدہ
    اس کے اگر کام دیکھو تو وہ ہمیں محض ایک خول نظر آئے گا ہم نے اس کے ظاہری خول کو ایکسپٹ کیا جبکہ اس کے نیچے چھپا وہ یورپ زدہ انسانیت مخالف چہرہ کبھی دیکھنےکی جرات نہ کی۔
    کوئی کرے بھی کیسے ؟؟؟
    ایسا کہنے والے کو جذباتی مولوی، ملاں کہہ کے ٹھکرانا تو ہمارے معاشرے کا بہت سستا سا جملہ ہے جو انہوں نے ہمیں سستے داموں دیا اور ہم نے اسے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔

    لبرل ازم:-

    لبرل ازم کی اصل تعریف اور اس کی اصلیت سے ناواقف مگر اس میں پورے کے پورے ڈوبنے کے لیے تیار…
    دیکھو نا سامنے ہی ہے ہماری وہ دو ٹکے کی صباء قمر کی شکل میں نابلد سی سلیبریٹی، جو کبھی تو ”چیخ“ ڈارمے کو سامنے لے آتی ہے تو کبھی ”باغی”۔
    تم کیا سمجھتے ہو یہ محض ڈرامہ ہی ہے ؟؟؟
    نئی بھائی یہ ڈرامہ نہیں ہے کون ایسی سکرپٹس پہ پیسا پانی کی طرح بہاتا ہے؟؟؟
    پورے کا پورا ایک ایسا خاندانی نظام سامنے رکھنے کی کوشش کی جاتی کہ جس میں لفظ ”اسلامی معاشرے“ کی بالکل مخالفت کی جاتی ہے۔
    اور ہمارے معاشرے کی عورت انہی کی انسٹا سٹوریز کو فالو کر رہی ہوتی ہیں جن میں ان کا جسم پردے اور ستر سے ترستا دیکھائی دیتا ہے۔
    اعتراض کرنے پہ سیدھا مولوی ملاں کا لیبل سامنے کھڑا پایا جاتا۔
    تمہیں بتاوں لبرل ازم کیا ہے ؟؟
    مہیش بھٹ کا اپنی بیٹی عالیہ بھٹ کو اپنی ران پہ بیٹھا کے برہنہ فوٹو شاپ کروانا
    یہ ہے لبرل ازم۔۔۔۔
    تم کہتے ہو کے یار ہم اس حد تک تو نہیں گئے۔
    تو بھائی ان جیسی اداکاراؤں سے پوچھیں کہ ان کے گرو کون ہیں ؟؟
    جھٹ جواب آئے گا دی لیجنڈ مہیش بٹ، امیتابھ بچن سر۔
    باقی خود اندازہ لگا لیں۔
    اور سیکولرزم
    مذہبی قیود سے دور ایک آزاد معاشرہ
    کیا حرام کیا حلال کون جانتا ان چیزوں کو بھائی ؟؟
    یہ آج کل کی دنیا ہے مذہب، مسجد کی حد تک اچھا لگتا ہے یہ سیاستیں یہ ریاستیں یہ مذہب سے آزاد اچھی لگتی ہیں۔
    ہوا وہی جو ان کی توقعات تھیں
    انکا یہ منجن بھی مسلم دنیا نے ہاتھوں ہاتھ خریدا۔ کیونکہ بھائی ہم آج کی دنیا میں پیدا ہوئے ہیں
    یہ مذہب چودہ سو سال پہلے کی غاروں میں چھپی چیزیں ہیں۔
    ہمیں دکھایا یہ جاتا کہ کے بھئی مسلمانوں کا مسئلہ ہی دو وقت کی روٹی ہے۔
    کیا دین، کیا جہاد یہ سب تو نفلی سی چیزیں تھیں جو ادا ہو گئیں اب آؤ ادھر خوراک کی طرف دنیا بھوکی مر رہی ہے اور تم ہو کے اسلام اور جہاد کے نعرے لگاتے بس نہیں کرتے۔
    دیکھ لو پاکستان میں چلنے والی فاؤنڈیشنز پہ پابندیاں لگا کے تھر اور بلوچستان میں قادیانیت اور عیسائیت کے علمبرداروں کو کھلی فضا مہیا کر دی گئی کہ آؤ ہم نے اب اس قوم کا مسئلہ روٹی کپڑا اور مکان بنا دیا ہے ایک پلیٹ دو اپنا نظریہ چسپاں کرو اور ان کا نظریہ جس پہ پہلے ای ڈگمگاتے پھر رہے ہیں وہ ان کے اندر سے کریدو اور وہ یہ سب کام کر رہے ہیں۔
    جبکہ اگر یہی کام اس ملک کے اندرونی لوگ اپنی مدد آپ کے تحت کریں تو جھٹ چند سیاسی اور لبرل گرگٹ اپنے گھروں سے پینٹ کوٹ پہن کے میڈیا کے نمائندوں کو بلا کے ہیپی ازم کا نعرہ لگاتے ہوئے الزام عائد کرنا شروع کر دیتے ہیں کہ
    جی ان کو زبردستی کلمہ پڑھایا جا رہا ہے
    یہ تو ظلم ہے
    یہ تو ان کے حق پہ ڈاکہ ڈالا جا رہا ہے
    نہیں سر۔۔!! ہم تو یہ نہیں ہونے دیں گے
    ہم ٹھہرے ان کے ٹھیکے دار۔۔۔
    جبکہ حقیقت تو یہ ہے کہ وہ اس جگہ ان لوگوں کو برادشت ہی نئی کرنا چاہتے جو وہاں فقط رضائے الٰہی کے لیے کام کرنا چاہتے ہیں اور اس قوم کو ان کا نظریہ دکھانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔
    اس موقع پہ ایک شعر یاد آیا

    مغربی تہذیب نے جادو کچھ ایسا کر دیا

    ماں تو پردے میں رہی بیٹی کو ننگا کر دیا

    ایک ثانئے رکیں اور سوچیں

    کیا دیا ہمیں ان چیزوں نے ؟؟؟

    رسوائی، ذلالت۔۔۔
    دنیا میں محکومیت۔۔۔
    یہاں تک کہ آج ہم اپنے حق کی خاطر بھی لڑنے سے پہلے دنیا کی طرف دیکھتے ہیں کہ مائی لارڈ اقوام متحدہ غصہ نہ کر جائے وہ کیا سمجھیں گے کے آپ تو سیکولر تھے، آپ تو لبرل تھے صاحب آپ کن چکروں میں پڑ گئے؟؟؟
    ہم نے ان سب نعروں کی چمک میں جو چیز کھوئی وہ اپنی اصل تھی۔
    زندگی کا ہر شعبہ ہماری ثقافت سے جڑا ہوا ہے جیسے روح اور جسم کا ساتھ آج ہم اس لیے مجموعی طور پہ زوال کا شکار ہیں۔
    ہماری ثقافت سے ہی ہماری اقدار و روایات جڑی ہوئی ہیں افسوس صد افسوس…!!
    کہ لوگوں نے ناچ گانے کو ہی ثقافت سمجھ لیا اسی کو فروغ دے کے وہ مغربی تہذیب کا حصہ بننے میں فخر محسوس کررہے ہیں اگر ہماری ثقافت ہمارے پاس ہوتی تو ہم یوں اقوام عالم میں ذلیل نہ ہوتے
    اگر کوئی ایسے نظام کے خلاف دو بول بول دے تو ان کی کیسے کیسے جڑیں ہلانے کی کوششیں کی گئیں۔
    سامنے ہے محمد مرسی رحمۃ اللّٰہ علیہ فوجی بغاوت کروا کے کہاں کا کہاں پہنچا دیا گیا۔
    اور دوسری مثال ترکی وہ تو شکر یہ کے وہ قوم اپنی قیادت سے مطمئن تھی اور نظریے پہ کھڑی تھی سو بچ گئے۔
    اور پاکستان میں چند لوگ جنہوں نے یہ باتیں کیں یا تو ان پہ زبان بندی، پابندی، یا وہ جیلوں میں سڑ رہے ہیں۔

    عزیزو!!
    اب یہ تحریر پڑھ کے کچھ لوگ فنڈامنٹلسٹ، بنیاد پرست جذباتی اور پتہ نئی کیا کیا لیبل چسپاں کرنے کی کوشش کریں گے مگر اس کےالفاظ میں چھپا درد کاش ہر دل کا در کھٹکٹا کے دکھا سکتا اور سمجھا سکتا کے ہم کون تھے۔۔؟؟
    کیا تھے۔۔۔؟؟ ہمیں کہاں ہونا چاہیے…؟؟
    اور آج ہم کہاں ہیں۔۔۔؟؟
    اور کس وجہ سے ہیں…؟؟

  • سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

    پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

    یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

    مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

    یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

    یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

    جگر کی صفائی
    ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

    جسمانی ورم کم کرے
    ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

    بیکٹریا سے لڑتا ہے
    اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

    کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے
    ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    جسمانی چربی گھلائے
    ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

    دل کو صحت مند بنائے
    ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    دماغ کے لیے بھی بہترین
    ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

    مضبوط مدافعتی نظام
    ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

    ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
    ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

    بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے
    ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

    اچھی نیند میں مددگار
    اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

  • سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے تحریر: حبیب الرحمان

    ہر ثقافت کے اپنے مصالحے اور جڑی بوٹیاں ہوتے ہیں جو غذائی اعتبار سے کسی پاور ہا?س سے کم نہیں ہوتے، ان میں سے ایک ہلدی بھی ہے۔

    پاکستان بھر میں اسے عام استعمال کیا جاتا ہے جس کے متعدد فوائد ہیں۔

    یہ کھانے کا رنگ اور ذائقہ ہی بہتر نہیں کرتی بلکہ جراثیم کش ہونے کے ساتھ ساتھ مضبوط اینٹی آکسائیڈنٹ مصالحہ بھی ہے۔

    مگر کیا آپ جانتے ہیں کہ سونے سے قبل دودھ میں ہلدی ملا کر پینا کس قدر فائدہ مند ہے؟

    یہ مشروب جسم کے لیے جادو اثر ثابت ہوتی ہے اور اگر اسے روزانہ پینا عادت بنالیا جائے تو جسمانی مدافعتی نظام مضبوط، زہریلے مواد کے اخراج اور دیگر مختلف امراض سے بچا سکتا ہے۔

    یہاں اس کے فوائد درج ذیل ہیں۔

    جگر کی صفائی
    ہلدی کے بارے میں سائنسی طور پر ثابت ہوچکا ہے کہ یہ جگر کے لیے فائدہ مند مصالحہ ہے، یہ جسم کے اندر صفائی کا کام کرتا ہے جبکہ جگر میں فیٹی ایسڈ کے اجتماع کی روک تھام کرتا ہے، ہلدی ملا دودھ جگر کی غذا اور کیمیکل پراسیس کرنے کی صلاحیت کو بڑھاتا ہے جبکہ ایسے مواد کو جسم سے خارج کرتا ہے جس کی ضرورت نہیں ہوتی، جس سے جسم زہریلے مواد سے بچتا ہے۔

    جسمانی ورم کم کرے
    ہلدی کا بنیادی جز curcumin ہوتا ہے جو کہ ورم کش خصوصیات رکھتا ہے، جس کی وج ہسے عام ورم کے لیے اس کا علاج ہوتا ہے جبکہ جوڑوں کے امراض اور دیگر مساءلسے تحفظ ملتا ہے۔ سونے سے قبل ایک گلاس اس مشروب کا پینا ایسے انزائمے کو بلاک کرتا ہے جو جسمانی ورم کا باعث بنتے ہیں۔

    بیکٹریا سے لڑتا ہے
    اس مشروب کو پینے سے جسم کی اینٹی بایوٹیک صلاحیت بہتر ہوتی ہے جو کہ بیکٹریا اور وائرسز سے لڑتے ہیں، جس سے موسمی نزلہ زکام اور گلے کی خراش کے علاج میں مدد ملتی ہے۔

    کینسر سے لڑنے کی طاقت بڑھتی ہے
    ہلدی میں ایک طاقتور اینٹی آکسائیڈنٹ ہوتا ہے اور طبی تحقیقی رپورٹس کے مطابق ہلدی جسم کے اندر تکسیدی تناﺅ کو کم کرنے میں مدد دیتی ہے جو کہ کینسر جیسے خطرناک امراض کی وجہ بنتا ہے، یہ صرف کینسر کی روک تھام ہی نہیں کرتا بلکہ اس سے لڑنے والا مصالحہ بھی ہے۔ ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ ہلدی کا استعمال کینسر زدہ خلیات کا خاتمہ کرکے رسولی کو بڑھنے سے روکتا ہے۔

    جسمانی چربی گھلائے
    ہلدی ملا دودھ نہ صرف میٹابولزم کی رفتار بڑھتا ہے بلکہ یہ چربی کو ہضم کرنے کا عمل بھی تیز کرتا ہے، اس مشروب کو پینا عادت بنالینا جسم میں چربی کے اجتماع کو روکتا ہے جس سے توند سے نجات ملتی ہے۔

    دل کو صحت مند بنائے
    ہلدی ایسے مواد کو جسم میں خارج ہونے سے روکنے میں مدد دیتی ہے جو ورم اور خون کی شریانوں سے جڑے امراض کا باعث بنتا ہے، ہر رات ہلدی ملا دودھ پینا امراض قلب میں مبتلا ہونے کا خطرہ کم کرتا ہے۔

    دماغ کے لیے بھی بہترین
    ہلدی ملا دودھ پینا دماغ میں ایسے جز کی سطح کو بڑھاتا ہے جو الزائمر اور دماغی تنزلی کا باعث بننے والے دیگر امراض سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔

    مضبوط مدافعتی نظام
    ہلدی میں موجود اینٹی آکسائیڈنٹس دفاعی خلیات جیسے ٹی سیلز، بی سیلز اور دیگر کو متحرک کرتے ہیں، جس سے جسمانی مدافعتی نظام زیادہ مضبوط ہوکر بیرونی جراثیموں پر حملہ آور ہوتا ہے۔

    ہڈیاں مضبوط ہوتی ہیں
    ہلدی ہڈیوں کا حجم گھٹنے کی روک تھام کرتی ہے، جبکہ کیلشیئم سے بھرپور دودھ میں آدھا چائے کا چمچ ہلدی کو ملانا ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے موثر مشروب ثابت ہوتا ہے۔

    بلڈ گلوکوز لیول کنٹرول کرے
    ہلدی میں شامل اجزا بلڈگلوکوز لیول کو کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، جس سے ذیابیطس کے مریضوں کو مختلف پیچیدگیوں سے بچنے میں مدد ملتی ہے۔

    اچھی نیند میں مددگار
    اس مشروب کا استعمال نیند کے معیار کو بہتر بناسکتا ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ دودھ میں ہلدی ملا کر پینا بے خوابی کی شکایت کو دور کرنے میں مدد دیتا ہے، اس کے علاوہ یہ مشروب ذہنی بے چینی بھی کم کرتا ہے، جس سے بھی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

  • وہی عمر رضی اللّٰہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حاکم           تحریر: خنیس الرحمٰن

    وہی عمر رضی اللّٰہ عنہ 22 لاکھ مربع میل کے حاکم تحریر: خنیس الرحمٰن

    میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا ۔یہ اللّٰہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فر مایا ۔کون عمر وہی عمر جو شیطان کے راستے میں آجاتا تو وہ اپنا راستہ تبدیل کرلیتا۔وہی عمر جس جو اللّٰہ کے نبی کی دعا تھا کہ اللّٰہ عمرو بن ہشام اور عمر بن خطاب میں سے کوئی ایک عطاء کردے جسے اسلام کو تقویت مل جائے ۔دعا کہ کچھ روز بعد عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذاللہ قتل کے ارادے سے جارہے تھے لیکن اللّٰہ نے عمر کو ساری زندگی کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا محافظ بنا دیا ۔وہی عمر جس نے اسلام قبول کیا اور مکہ میں جاکر بیت اللہ میں نماز پڑھی تھی کسی کی جرأت نہیں تھی کہ عمر کو ہاتھ بھی لگا کر دکھائے ۔ہر چوک چوراہے میں جا کر عمر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لوگوں کو پہنچاتے ۔
    وہی عمر جس سے پوچھا گیا تقوی کیا یے کہنے لگے میں جب خطاب کی بکریاں چرایا کرتا تھا راستے میں جو کانٹے پڑے ہوتے اس کاہٹاتا اسی کو تقوی کہتے ہیں ۔
    وہی عمر جو ہر محاذ پر ہر میدان میں اللّٰہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ ہوتے ۔
    وہی عمر جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی ان سے کہا اے عمر میں نے جنت میں تیرا گھر دیکھا لیکن مجھے تیری غیرت یاد آگئی۔
    وہی عمر جب سلطنت کے حاکم بنے تو شاہانہ زندگی گزارنے والا عمر ٹاٹ کے بستر پر سونے لگا ۔زیتون کے تیل کے ساتھ روٹی کھا نے والا ۔کوئی عمر کی عدالت میں کیس لیکر آتا پاکستان کی عدالتوں کے فیصلے کی طرح مایوس ہوکر نا جاتا ۔اگر والی مصر کا بیٹا بھی جرم کرتا تو اس کو بھی سزا دینے کے لیے تیار ہوجاتے آؤ وقت کے حکمرانوں کچھ سیکھو عمر سے جو 22 لاکھ مربع میل کا حاکم تھا ۔
    وہی عمر جو زمین پر بات کرتا اللّٰہ قرآن کی آیت بنا کر نازل کردیتا ۔
    وہی عمر جس کے عہد میں وہ علاقے فتح ہوئے جس کے بارے میں اللّٰہ کے نبی نے نوید سنائی ۔
    وہی عمر جو اس بات سے بھی سے بھی ڈرتے اگر فرات کے کنارے کتا بھی مرجائے تو مجھ سے سوال کیا جائے گا ۔
    وہی عمر جس کے بیٹے نے اسامہ بن زید کے وظیفے کے متعلق کچھ کہا تو عمر نے وہ عام باپ کا بیٹا نہیں بلکہ موتہ کے شہید کا بیٹا ہے۔
    وہی عمر جس نے انصاف کے تقاضوں پورا کیا اور جو انصاف کے تقاضوں پر قاضی پورا نا اترتے تو ایکشن لیتے ۔
    وہی عمر اگر اس کی سلطنت کا کوئی وزیر مشیر یا گورنر شاہانہ طرز زندگی گزارتا ضروریات زندگی کے بے جا استعمال کرتا فوری جاکر اس غیرت دلاتے اور تنبیہ کرتے ۔
    وہی عمر جس کے پاس ہار لیا جاتا مال غنیمت کا ملا ہوا واپس قاصد کے پاس پھینک دیتے ۔

    وہی عمر جو دعا کیا کرتے اے اللّٰہ مجھے موت دینا تو شہادت کی اور شہر مدینہ میں یہی ہوا نماز فجر ادا کررہے تھے ابو لو لؤ فیروز نے ان پر خنجروں کے وار ان کے پیٹ میں کیے شدید زخمی ہوگئے اور تین روز بعد زخموں کی تاب نا لاتے ہوئے رب کی جنتوں کے مہماں بن گئے اور نبی آخر الزمان کے پہلو میں آپ کو دفن کردیا گیا ۔
    اللّٰہ کڑوڑوں رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے عمر رضی اللہ کی قبر پر اور ان کی مٹی کو سیراب کرے ۔
    یکم محرم الحرام کا دن عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا دن ہمیں یہ پیغام دیتا یے کہ اگر عمر جیسا حکمران چاہتے ہو تو عمر جیسی رعایا بھی بننا پڑے گا ۔
    گذشتہ چند روز قبل ٹویٹر کے اوپر ٹرینڈ چلایا گیا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کے دن چھٹی دی جائے تعطیل کا اعلان کیا جائے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ تعطیل کے دن کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہمیں کرنا یہ ہوگا کہ اس دن ہم اپنے دفاتر, اداروں, سکول و کالجز اور یونیورسٹیز میں یعنی کے ہر مقام پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمات کو ان کی سیرت کے پہلوؤں کو اجاگر کیا جانا چاہئے.
    سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ آج کے ہر حکمران اور رعایا کے لئے ایک کردار ہیں جن کی زندگی کے اہم پہلوؤں کو ہم پڑھ کر اس کو سمجھنے کی کوشش کریں اور ہمیں معلوم ہو ریاستیں کیسے چلتی ہیں اور تبدیلی کیسے آتی ہے.

  • پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال                  تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے کم عقل مشر اور بھارتی چال تحریر:عرفان ممند

    پی ٹی ایم کے مشر اعظم منظور پشتین نے ایک ٹویٹ کیا۔ جس کا عکس آپ اس تحریر کے ساتھ دیکھ سکتے ہیں اور یہ ٹویٹ تاحال ان کے ٹویٹر کی ٹائم لائن پر موجود ہے۔ ٹویٹ میں انھوں نے ایک اطالوی صحافی کا مضمون پوسٹ کیا ہے۔ مضمون کا ٹائٹل ہی کئی لوگوں کے کان کھڑے کر دینے والا ہے:
    Taliban back in Waziristan? Or may be ‘they never left’

    اردو میں لکھیں تو:
    کیا طالبان وزیرستان میں واپس آگئے ہیں؟ یا شاید وہ ‘کبھی یہاں سے گئے ہی نہیں تھے’

    مضمون کی مصنفہ فرانسسکہ مارینو نامی اطالوی صحافی ہیں۔ موصوفہ "Apoclypse Pakistan” نامی کتاب کی مصنفہ ہیں جس میں بھارتی موقف کو ترجیح دیتے ہوئے انھوں نے 2611 کا سارا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کی ایک ناکام سی کوشش کی تھی۔

    اس نئے مضمون میں بھی انھوں نے بجائے گراونڈ ورک کرنے کے پی ٹی ایم اور اس تنظیم سے جڑے کرداروں کو (جو کہ پاکستان کے ایک مخصوص طبقہ کے نمائندے بھی ہیں) ہی موقع دیا ہے کہ وہ اپنا موقف دیں اور اسی پر بنیاد رکھتے ہوئے پورا مضمون لکھ ڈالا جس میں انھوں نے بڑی ڈھٹائی سے پاکستان کی دہشت گردوں کے خلاف کاروائیوں کو اٹھا کر کھڑکی سے باہر پھینکا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ طالبان کبھی وزیرستان سے نکلے ہی نہیں اور پاکستانی ایسٹبلشمنٹ یا عرف عام میں پاکستانی فوج نے جو کچھ بھی دہشت گردوں کے خلاف کیا وہ ایک ٹوپی ڈرامہ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتا۔ (حالانکہ اب تو بین الاقوامی رائے عامہ کا اس بارے میں واضح موقف ہے)

    اب اس مر مزید یہ کہ مضمون کہیں اور نہیں بلکہ ایک بھارتی آن لائن نیوز ویب سائیٹ The Quint میں چھپا ہے۔

    چلیں اطالوی خاتون اور ان کے بھارتیوں سے زیادہ پیار کی کوئی نہ کوئی توجیح نکل آئے گی مگر سوال یہ ہے کہ بالکل اسی انداز میں پاکستان کے پشتونوں کے چند خیر خواہ بالکل اسی انداز میں ان دونوں پر فریفتہ کیوں ہورہے ہیں؟ اور وہ بھی عین ان دنوں میں جب پی ٹی ایم کو ایک طرف پی ٹی ایم سے جڑے کچھ کارکنان کے والدین نے ایکسپوز کرنا شروع کیا ہےتو دوسری طرف کشمیر کے مسئلے پر بھارت کو پوری دنیا میں شدید سبکی کا سامنا کرنا پڑھ رہا ہے۔ اور اس کے بیانئیے کو جس مین اس نے ہمیشہ پاکستان کو ایک دہشت گردوں کا گڑھ قرار دینے کی ناکام کوشش کی، اس بیانییے کو شکست کا سامنا ہے، ایسے میں ایک بھارت نواز صحافی کی بھارتی جریدے میں چھپی ایک پراپیگنڈا تحریر کو پہلے فرحت اللہ بابر، پھر بشری گوہر پھر LUMS کی پروفیسر اور ٹویٹر پر Resistance movement کی سرخیل ندا کرمانی(اس تحریک پر بھی جلد ہی آپ لوگوں کو کچھ مطلع کروں گا) نے شئیر کیا پھر ثنا اعجاز اور پھر آخر میں مشر اعظم منظور پشتین نے اس پوری تحریر کو پورے طمطراق کے ساتھ اپنی ٹائم لائن پر چسپاں کر دیا۔ یاللعجب

    یہ وہی منظور ہے جو اپنے آپ کو غیرت مند پشتونوں کا والی سمجھتا ہے اور اس کا اور اس کے اس پاس کے لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ ایک ایسے ملک کے جریدے کا پراپیگنڈا تحریر پھیلا رہے ہیں جس پر اس وقت پوری دنیا میں تھو تھو ہورہی ہے۔

    میں نے پہلے سوچا تھا کہ ڈاکٹر عبدالحئی اور ان کے والد ڈاکٹر نور محمد کے حوالے سے کچھ لکھوں گا اور اس میں یہ بتانے کی کوشش کروں گا کی کیسے ٹی ٹی پی کے خارجیوں کی طرح پی ٹی ایم کے خارجیوں پر بھی کم و بیش وہی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی ہیں جن کا احادیث میں کئی بار ذکر کیا گیا ہے۔ فرق صرف بندوق اور موبائل فون کا ہے۔ کام دونوں کا ایک ہی ہے، تفرقہ، فتوی اور تقسیم در تقسیم۔

    مگر اس تحریر کا منظور کی ٹائم لائن پر آنا اور اس کی تنظیم سے جڑے باقی لوگوں کا اس تحریر کو پھیلانا۔۔ اس بات نے آمادہ کیا۔۔ کہ پہلے اس بات کو اپنے پی ٹی ایم کے پشتون بھائیوں سے کھل کر پوچھا جائے کہ ٹھیک ہے تم لوگوں نے جہاد کا مذاق اڑایا اپنے مشر اعظم کے کہنے پر، تم نے پاکستان کے خلاف نعرہ بازی کی، تم نے لر و بر کا نعرہ لگایا، تم نے پشتون ولی کا علم اٹھانے کا دعوی کیا مگر تم لوگوں کی غیرت کو کیا ہوا کہ تم لوگ بھارت کے پراپیگنڈا کو اپنی بات بنا کر پیش کرنا شروع ہوگئے ہو؟ کیوں تم لوگوں نے پشتون نوجوانوں کو اسی راہ پر لگانے کی واضح کوششیں شروع کردی ہیں جس راہ پر کسی زمانے میں BLA, BRA اور TTP جیسی دہشت گرد تنظیمیں کم عقل نوجوانوں کو لگاتی تھیں؟

    تمھاری عقل کو کیا ہوگیا ہے؟ تم لوگ یہ دعوی کرتے ہو کہ تم حکمران رہے ہو، اس خطے کے۔ چلو مان لیا، تو کیا حکمرانوں کی اولاد اتنی بے عقل ہے کہ وہ اس طرح کے اقدامات سے اپنی ہی قوم کو کمزور کرے گی؟

    اب وقت ہے کہ راستہ سیدھا رکھتے ہوئے ہم پشتون عوام کے اصلی مسائل پر بات کریں۔۔

    تعلیم، تعمیر اور خوشحال مستقبل کی بات کریں۔

    صحت بمع سہولت کی بات کریں۔

    بات کریں تو اپنے پیاروں کی ان کے مستقبل کی اور اس مستقبل کا پشتون قوم اور علاقے کی ترقی سے جڑے خواب کی۔

    بھارتی سورما جو کچھ کشمیر میں کر رہے ہیں اور آج جو انھوں نے 19 لاکھ آسامی مسلمانوں کے ساتھ کیا اور جو وہ افغانی مسلمانوں کے ساتھ کر چکے وہ تم سب کی آنکھیں کھول دینے کے لئیے کافی ہونا چاہئیے۔

    پشتون زندہ باد
    پاکستان پائندہ باد

  • مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں        تحریر: معاذ عتیق راز

    مقبوضہ کشمیر کے نوجوان عمران خان کی کشمیر پالیسی پر مطمئن ہیں تحریر: معاذ عتیق راز

    آج میرے پاس جموں کے تین لڑکے آئے. جو وہاں کی یونیورسٹیز سے پڑھے ہیں اور یہاں جاب کرتے ہیں. میں نے ان سے مختلف سوالات کیے. جن میں وہاں کے حالات اور پاکستانی حکومت کی پالیسی اور طریقہ کار کے متعلق بھی سوال تھا. جو کچھ انہوں نے بتایا وہ یکسر اس سے مختلف تھا جو ہم سوشل میڈیا پر دیکھتے ہیں. وہ عمران خان کی پالیسی اور طریقہ کار پر بالکل مطمئن تھے.

    جو چیزیں انہوں نے بتائی. اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہاں کے مسلمان نوجوان سیاسی طور پر بھی پاکستانی نوجوانوں سے زیادہ بالغ ہیں. ہم ہر چیز کو ن لیگ پی ٹی آئی اور پی پی پی کی آنکھ سے دیکھتے ہیں. جبکہ حالات کچھ اور ہیں اور ہم سے تقاضہ بھی کچھ اور کر رہے ہیں.
    واللہ اعلم

    جذباتی نوجوانوں سے درخواست ہے ضروری نہیں فوج کچھ کر رہی ہے اس کا سوشل میڈیا پر اعلان کرے. کچھ کام پوشیدہ رکھ کر کیے جاتے ہیں.

    میرا ایمان اور یقین ہے کہ کشمیر جہاد سے ہی آزاد ہو گا. لیکن.اس کے ساتھ یہ یاد رکھیں جنگ کہاں کب کیسے لڑنی ہے یہ ہماری فوج کو معلوم ہے. اللہ پاک فوج کو کامیاب کرے اور کشمیر آزاد ہو.

    آخری ہے.
    انڈیا ہمارے الیکشن کے بعد فوج مخالف بیانیے کو لے کر فیفتھ جنریشن وار ہم پر کر رہا ہے.اور آج ہمارا نوجوان اس جنگ میں جانے انجانے میں دشمن کا مدد گار ثابت ہو رہا ہے. ہمیں سوشل میڈیا الیکٹرانک میڈیا پر بھر پور طریقے سے جواب دینا چاہیے.
    #رازِنہاں
    معاذ عتیق راز

  • صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی——–تحریر:صابر ابو مریم پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی

    صہیونیوں کے لئے خطرے کی گھنٹی——–تحریر:صابر ابو مریم پی ایچ ڈی اسکالر، شعبہ سیاسیات، جامعہ کراچی

    صہیونیوں کی غاصب و جعلی ریاست اسرائیل گذشتہ کئی برس سے مسلسل کئی ایک محاذوں پر شکست سے دوچار ہو رہی ہے، اگر اندرونی طور پر بات کی جائے تو جعلی ریاست کے اندر اس کے حکمرانوں پر کرپشن سمیت نہ جانے کئی ایک ایسے الزامات ہیں جس کے باعث کسی بھی وقت ان کو جیل بھیجا جا سکتا ہے۔انہی مسائل میں سیاہ فام صہیونیوں کے ساتھ نسلی امتیاز کا معاملہ بھی صہیونیوں کی جعلی ریاست اور اس کی حکومت کے لئے وبال جان بن چکا ہے۔
    اگر بیرونی سطح پر جائزہ لیں تو گذشتہ سات برس میں صہیونیوں کے تما نئے ہتھکنڈے جو انہوں نے سنہ2006ء کے جنگ میں شکست کھانے کے بعد شروع کئے تھے سب کے ساب بری طرح ناکامی کا شکار ہو چکے ہیں۔صہیونی جعلی ریاست اسرائیل کی حمایت یافتہ دہشت گرد تنظیم داعش شام، عراق، لبنان سرحد سمیت متعددمقامات پر شکست کھا چکی ہے اور داعش مخالف قوتوں جن میں ایران، شام، لبنان، حزب اللہ سمیت روس اور چین کی حمایت شامل ہے ان کاپلڑا بھاری نظر آ رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اپنی اسی شکست کو دنیا کی نظروں سے اوجھل کرنے کے لئے براہ راست میدان میں کود پڑا ہے۔کبھی براہ راست شامی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مختلف فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہاہے تو کبھی شام کے انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن شام بھی مسلسل اسرائیل کی جارحیت کا دفاع کرتے ہوئے اسرائیل کے تمام حملوں کو پسپا کر رہا ہے اور اپنے دفاع پر کسی قسم کا دباؤ اور سودے بازی کرنے پر رضامند نہیں ہے۔دنیا کی نام نہاد امن پسند قوتو ں بشمول امریکہ وبرطانیہ اور دیگر یورپی ممالک نے شام کے خلاف تمام ہتھکنڈے آزما لئے ہیں لیکن شا م صہیونی اسکیم کے تحت شروع کی گئی اس جنگ میں ثابت قدمی کے ساتھ ڈٹا ہوا ہے۔
    اسرائیل نے گذشتہ دنوں پچیس اور چھبیس اگست کی درمیانی شب کو شام،لبنان اور عراق کی فضائی حدود کی خلا ف ورزی کی ہے لیکن دنیا کی بڑی بڑی نام نہاد حکومتیں اس خلاف ورزی پر خاموش ہیں۔شام میں ایک فوجی ٹھکانہ کو اسرائیلی ڈرون نے نشانہ بنا کر وہاں پر موجود دو حزب اللہ سے تعلق رکھنے والے کمانڈروں کو شہید کیا، اسی طر ح عراق میں بھی ایک سینئر کمانڈر کو نشانہ بنایا گیا جبکہ اسی رات لبنان کے دارلحکومت بیرو ت کے مضافاتی علاقہ ضاحیہ کی سول آبادی والے علاقے کو بھی نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تاہم اس کوشش میں اسرائیل کے دونوں ڈرون طیارے تباہ ہو گئے جبکہ دوسری طرف کوئی جانے نقصان نہیں ہوا ہے۔
    اتفاق کی بات یہ ہے کہ اسرائیل نے جس دن حملہ کا انتخاب کیا اسی دن حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے شا م کو ایک سالانہ تقریب بعنوان لبنان و شام سرحد پر داعش کے خلاف فتح کے خطاب کرنا تھا۔اسرائیل کی اس بھونڈی حرکت سے پوری دنیا کی سیاست کی نظریں لبنان پر اس وقت گڑھ گئیں جب صبح دو اسرائیلی ڈرون طیارے تباہ ہوئی اور مغربی میڈیا نے خبر دی کہ حزب اللہ نے دونوں ڈرون طیاروں کو تباہ کر دیا ہے لیکن تنظیم کے عہدیدار محمد عفیف نے واضح کیا کہ حزب اللہ نے کسی ڈرون کو نشانہ نہیں بنایا او ر مزید تفصیلات تنظیم کے سربراہ سید حسن نصر اللہ آج شام اپنے خطاب میں بیان کریں گے۔
    غاصب جعلی ریاست اسرائیل کے صہیونی آبادکار اور حکومت پہلے ہی اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ حزب اللہ قیادت اس طرح کی بھونڈی حرکتوں پر خاموش بیٹھنے والی نہیں ہے اور یقینا سید حسن نصر اللہ کوئی اہم اعلان کریں گے۔اسی طرح امریکی اعلیٰ عہدیدار مائیک پومپیو نے بھی لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کو ٹیلی فون کیا اور کہا کہ کسی بھی طرح معاملہ کو ختم کرنے کی کوشش کی جائے۔اس بارے میں سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر میں کہہ دیا کہ لبنان حکومت کا یہ فریضہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ سمیت سلامتی کونسل اراکین کو اسرائیل کی کھلی خلاف ورزیوں پر احتجاج کرے لیکن حزب اللہ اسرائیل سمیت کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دے سکتی کہ آئندہ اس طرح کا واقعہ دوبارہ رونما ہو اور ہماری فضائی حدود کی خلاد ورزی کی جائے۔واضح رہے کہ اسرائیل نے سنہ2006ء کی لبنان اسرائیل جنگ کے بعد پہلی مرتبہ براہ راست لبنان کے کسی علاقہ کو اس طرح نشانہ بنانے کی جرات کی ہے۔
    دوسری طرف مقبوضہ فلسطین کے اندر خطرے کا سائرن بج چکا ہے کیونکہ حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقریر کے دوران صہیونی فوجیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظارکرو اور دیکھو کہ ہم کس وقت کس طرح تم سے اس کا انتقام لیتے ہیں۔انہوں نے نیتن یاہو کو کہا کہ تمھیں ایک ٹانگ پر کھڑا کر دیں گے۔ہم کسی صورت اسرائیل کو معافی نہیں دے سکتے۔
    صہیونی آباد کارپہلے ہی سید حسن نصر اللہ کے بارے میں اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولتا ہے اور جب بھی جو کہتا ہے وہ کرتا ہے۔صہیونیوں آباد کاروں نے اپنے بنکروں میں جانا شروع کر دیا ہے کیونکہ گذشتہ دو روز سے لبنان کے شمالی سرحدی علاقوں میں اسرائیلی فوجیوں کی پریشانی بھی بڑھتی ہوئی پائی گئی ہے اور اسرائیل کا سب سے جدید سسٹم آئرن ڈو م کی بیٹریاں بھی نصب کی جا رہی ہیں تاہم یہ اس بات کی غمازی ہے کہ اسرائیلی فوجی بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور جانتے ہیں کہ حزب اللہ کے سربراہ نے بات کی ہے وہ یقینا عمل کریں گے۔
    خلاصہ یہ ہے کہ وقت بتائے گا،کیونکہ خود حزب اللہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ انتظار کرو ہم تمھیں سبق سکھائیں گے۔ایک دن، دون، تین یا چار دن، کس وقت،کیسے اور کب یہ ہم خود فیصلہ کریں گے۔اسرائیل کے لئے یہ صورتحال شدید سنگین اور خطرناک صورتحال میں تبدیل ہو تی چلی جا رہی ہے ایک طرف اندرونی خلفشار بڑھ رہا ہے دوسری طرف حزب اللہ کے ساتھ ماضی کی 33روزہ جنگ میں پہلے ہی اسرائیل کو بدترین شکست کا سامناہو اتھا جس کو کوئی بھی صہیونی فراموش نہیں کر سکا ہے۔خود جعلی ریاست اسرائیل کی صورتحال یہ ہے کہ دیواروں پر دیواریں کھڑی کر کے خود کو محدود کر رہی ہے۔ایسی صورتحال میں اسرائیل کے لئے کسی بھی جنگ کا متحمل ہونا نا ممکن ہے۔بہر حال اسرائیل نے لبنان سمیت کئی ایک ملکوں کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی ہے جس پر یقینا خاموش رہنا مناسب عمل نہیں ہے۔حزب اللہ کے سربراہ نے پہلے بھی مقبوضہ فلسطین میں آ کر آباد ہونے والے صہیونی آباد کاروں کو متنبہ کیا تھا کہ اپنے اپنے وطن میں واپس لوٹ جائیں ورنہ نیتن یاہو اس جنگ میں ایندھن کے طور پر انہی آباد کاروں کو استعمال کرے گا۔اسرائیل پر جنگ کے سائے منڈلا رہے ہیں لہذا صہیونی آباد کار اپنے بنکروں میں چلے جائیں۔ اور عنقریب صہیونیوں کی جعلی ریاست ایسے ہی کسی معرکہ میں نابود و زوال پذیر ہو گی اور اللہ کا وعدہ بیت المقدس کی آزادی کے ساتھ حتمی پورا ہو کر رہے گا۔

  • اب بیان بازی نہیں چلے گی۔۔۔تحریر خنیس الرحمان

    آج بائیس دن بیت گئے میری وادی سنسان ہے۔۔کرفیو ہے سب کچھ بند ہے ناجانے وادی کے بچوں نے ان بائیس دنوں میں دودھ بھی پیا ہوگا یا نہیں۔۔وادی کی بہنوں نے کچھ کھایا بھی ہوگا کہ نہیں،وادی کی ماؤں نے اپنے بیٹوں کے منہ میں ذائقے دارکھانے کے نوالے بھی ڈالے ہونگے کہ نہیں۔۔ناجانے کیسے دن ان کے بیت رہے ہونگے نا ان کو عالَم کی خبر نا عالَم کو ان کی خبر۔۔ظالم مودی نے وادی کے باسیوں کو جیتے جی مار دیا ہے۔۔مجھے تو وہ زندہ لاش کی مانندمحسوس ہوتے ہیں۔۔ہاں ہاں مودی صاحب تو میری وادی کی سانسیں بند کرنے کے بعد اب اسلامی برادری ہی سے اس کی داد وصول کررہے ہیں۔۔متحدہ عرب امارات نے بھی نا سوچا جس ظالم مودی نے میرے کلمہ گو بھائیوں کو جیتے جی مار دیا ان کو مفلوج کردیا اور میں اس کو صلہ اس صورت میں دوں کے اس کے گلے میں ہار ڈلے۔۔
    اب آتا ہوں سفیر کشمیر پاکستان کی طرف جس کے بانی نے کہا تھا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے جس کے سابق آرمی چیف نے کہا تھا کہ کشمیر کے بغیر پاکستان ایک ناقابل تسخیر ریاست ہے آج وہ صرف وادی کے لیے یہی کررہی ہے کہ ایک یا دو دن ان کے نام کردیے،مظفر آباد سمیت پاکستان کے ہر شہر میں جلسے کردیے۔۔آپ کیا سمجھتے ہیں جلسوں سے کشمیر پاکستان کو مل جائے گا،فردوس عاشق اعوان،مریم نواز،شیخ رشید،سرور خان،عثمان بزدار کے ایک بیان سے کشمیرآپ کے قدموں میں رکھ دیا جائے گا ہاں مجھے خوشی یہ ضرور ہے کہ پچھلی حکومتوں کی نسبت موجودہ حکومت نے کشمیر کا نام لینا گوارا کیا لیکن نام لینے سے کیا بنے گا ہم کب تک کشمیریوں کو کہتے رہیں گے ہم ہر حد تک کشمیریوں کے لیے جائیں گے جب کرفیو کے دوران کشمیری بیٹیوں کو نوچ نوچ کر آر ایس ایس کے غنڈے جان سے مار دیں گے،جب وادی کا بچہ بچہ آر ایس ایس کے نیزے پر چڑھے گا جب کشمیر کی سڑکیں خون سے لت پت ہوں گی،جب کشمیرکی جھیل اور دریا خون سے رنگیں ہونگے۔۔
    وزیراعظم عمران خان نے آج قوم سے خطاب کیا وہی پرانی بیان بازی جو پانچ اگست سے اب تک چل رہی ہے۔۔خان صاحب بیان بازی کا وقت نہیں کشمیریوں کے لئے کچھ کیجئے وہ آپ سے بڑی امیدیں آس لگا کر بیٹھے ہیں۔۔آپ ان کے محسن بنیں۔۔آپ کس منہ سے اپنے آپ کو سفیر کہتے ہیں کشمیر کا ان کشمیریوں کا دشمن مودی دبئی ایوارڈ وصول کرنے کے لئے جب جاتا ہے تو آپ کے ملک کی فضائی حدوداستعمال کرتا ہے آپ نے تو قوم سے کہا تھا ہم نے فضائی حدود بند کردی۔۔آپ اقوام متحدہ سے اور دنیا کے منصفوں سے یہ کہہ رہیں کہ ہم ان کو بتائیں گے بھارتی حکومت خوفناک نظریے پر چل رہی ہے آپ کے وزیر خارجہ صاحب کہہ رہے ہیں کہ ہم ان کو بتائیں گے کہ کشمیر میں کیا ہورہا ہے جناب وہ تو کہتے تھے ہمارے پاس ایسے سیٹلائیٹس ہیں جو ہمیں ہرپل کی خبر دیتے ہیں۔۔کوئی پتہ بھی گرتا ہے تو ہمارے سیٹلائیٹ بتاتے ہیں آپ ان کو بتائیں گے کشمیر میں کیا ہورہا ہے بھارت کیا ہے۔۔۔
    وزیر اعظم صاحب قوم آپ سے کبھی مایوس نہیں ہوگی اٹھیں اور صلاح الدین ایوبی کے روحانی بیٹے بنیں ہمت کریں یہ غیر مسلم کبھی آپ کے ساتھ ثالثی نہیں کریں گے اگر کی بھی تو ساتھ وہ آپ کا نہیں بلکہ غیر مسلم ہی کا دیں گے کیونکہ اس کے بارے آج سے چودہ سو سال پہلے رب کریم نے کہہ دیا تھا الکفر ملۃ واحدۃ کہ کافر ایک ملت ہیں یہ کبھی تمہارا ساتھ نہیں دیں گے۔۔قوم آپ سے امیدیں لگا کر بیٹھی ہے اس ملک کی افواج غزوۃ ہند کی منتظر ہے آپ انہیں اجازت دیں اوروہ بندوق سے کشمیر کا فیصلہ کریں کیونکہ اب باتوں سے فیصلوں کا وقت ختم ہوچکا ہے اورکشمیر کی آزادی کا واحد حل ہی یہ ہے دیکھ لیجئے آپ بھی سمجھ گئے کہ بھارت مذاکرات سے لائن پر آنے والا نہیں اس سے اب آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے کا وقت ہے..

  • آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    آخر پاکستان میں لوگ فوری جنگ کے کیوں خواہاں ہیں؟—— تحریر: حافظ احتشام الحق

    مودی سرکار نے کشمیر میں آرٹیکل 370 کا خاتمہ کرکے اپنے گلے میں جو گھنٹی باندھی ہے اس کا انجام اگر کسی کو بالخیر نظر آتا ہے تو اسکو تھوڑا سا انتظار کرنے کی ضرورت ہے۔

    پاکستان میں اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ پاکستان بھارت کو “فوری “ اور “منہ توڑ” جواب دے ۔

    حیرت انگیز طور پر اس مطالبے میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جو امن کی بھاشا کا راگ الاپتے آئے ہیں اور پاکستانی فوج کا مذاق اڑانے اور پاکستانی پالیسیز کو غلط قرار دینے کے ساتھ ساتھ حکومت اور فوج کے خلاف کچھ نہ سننے والوں کو “مطالعۂ پاکستان” اور “بوٹ پالشیا” ہونے کا طعنہ دیتے آئے ہیں۔

    میرا ان سب سے ایک ہی سوال ہے۔ آخر آپ کو جنگ کی اتنی جلدی کیوں ہے؟

    مودی سرکار نے کشمیر پہ جو کٹا کھولا ہے وہ اگر ان کے لئے خود مسئلہ بننے والا ہے تو آخر ہم اس وقت کا انتظار کیوں نہیں کرسکتے جب تک کہ ایسا کرنا آخری اور کاری ضرب کے مترادف ہوگا؟

    مودی سرکار کے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر آج جس طرح عالمی میڈیا کا ردعمل آرہا ہے کم از کم میں نے پچھلے پچیس تیس سال میں ایسا نہیں دیکھا۔ جس طرح مغربی میڈیا ان مظالم کو پیش کر رہا ہے اس پر اگر کسی کو لگتا ہے کہ انڈین حکومت پر پریشر نہیں تو وہ غلطی پر ہے ۔

    انڈیا پہ عالمی دباؤ بتدریج بڑھ رہا ہے ۔ اور نہ صرف یہ بلکہ پوری دنیا میں موجود مسلمان، اور خصوصا پاکستانی اور کشمیری ملکر جس طرح سے سوشل میڈیا کے زریعے اس مسئلے کو ہائی لائیٹ کر رہے ہیں اس سے مودی سرکار کی پریشانی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ٹوئیٹر ہینڈلر سے سرکاری سطح پر انڈیا کے خلاف پروپیگنڈہ کے ٹوئیٹس کو ہینڈل کرنے کے لئے رابطہ کیا گیا ہے۔

    یہ تو تھی بیرونی صورتحال اندرونی طور پر اپوزیشن بھی اس سلسلے میں اپنا پریشر مودی سرکار پر بتدریج بڑھا رہی ہے۔ کئی اسٹیٹ نے آرٹیکل 370 کے خاتمے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے “constitutional coup “ اور آئین کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے ۔

    اندرونی طور پر دوسرا پریشر سپریم کورٹ کا بھی ہوگا ۔ کشمیر میں آرٹیکل 370 کے خاتمے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا گیا ہے۔ کشمیر کی خطرناک صورتحال کے پیش نظر سپریم کورٹ میں آج اس کیس کو سننے کا آغاز ہوا۔ انڈین سپریم کورٹ سے اس ضمن میں بہت امید ہے کیونکہ اس آرٹیکل کا خاتمہ اور (سو کالڈ) الیکٹڈ گورنمنٹ کو اریسٹ کرکے منسٹری کے کنٹرول میں دینا براہ راست انڈین آئین کی کچھ شقوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

    اٹارنی جنرل نے سپریم کورٹ سے درخواست کی ہے کہ صورتحال خطرناک ہے اور حکومت کو کچھ وقت دیا جائے ۔ اور جسطرح دو ہزار سولا میں برہان وانی کی شہادت کے وقت کے صورتحال تھی اس سے بچنے کے لئے کرفیو نافذ کیا گیا ۔ اور کیمیونیکیشن پر بین ہے ۔ لیکن جلد اسمیں بہتری آئے گی۔ حکومتی درخواست پر سماعت دو ہفتے تک ملتوی کی گئی ہے لیکن پٹیشنر اگر اگلے چند دن میں صورتحال سے مطمعین نہ ہو تو عدالت سے رابطہ کرسکتا ہے ۔ جو یقیناً ہونے والا ہے کہ کشمیر کی صورتحال خراب تو ہوسکتی ہے بہتر نہیں ۔

    اندرونی طور پر تیسرا پریشر خود کشمیریوں کا ہے ۔ جسطرح سخت کرفیو اور سخت اقدامات کے باوجود کشمیری باہر نکلے اور دس اگست کو احتجاج کیا وہ پوری دنیا نے براہ راست دیکھا ۔ کشمیر کی جنگ آزادی “ناؤ اور نیور “ تک پہنچ گئی ہے۔ دنیا روز کرفیو اور بہت بڑی تعداد میں فوج کی موجودگی کے باوجود کشمیریوں کو احتجاج کرتےہوئے دیکھ کر مسئلے کی سنگینی کا اندازہ لگا رہی ہے۔

    دوسری طرف پاکستان کشمیر ایشو کو ہر سطح پر ہائی لائیٹ کر رہا ہے ۔ چاہے وہ سیکیورٹی کونسل ہو او آئی سی یا دیگر دوست ممالک کو اعتماد میں لینے کا معاملہ ۔ پاکستانی عوام مسلسل حالت احتجاج میں ہے چاہے سوشل میڈیا ہو، ریلیاں اور مکمل احتجاج کا معاملہ ہر شہر اور ہر سطح پر احتجاج کیا جارہا ہے۔ انڈیا کے یوم آزادی پر سرکاری سطح پر یوم سیاہ منانا ایک بہت اہم قدم ہے۔

    چائنا کا اس مسئلے پر تشویش کا اظہار اور پاکستان کے ساتھ مل کر سلامتی کونسل میں اٹھانے کا ارادہ ایک الگ اہمیت رکھتا ہے ۔ جو اس مسئلے کو دو ملکوں کے بجائے تین نیوکلئیر پاور ممالک کے درمیان ہونے والے عالمی ایشو بنا دے گا۔

    انڈین چینلز پر پاکستان کے ہر اقدام پر بڑھتا ہوا شور اس بات کا ثبوت ہے کہ انڈیا اس وقت مسئلہ کشمیر کو خود اس نہج پر لا چکا ہے کہ جلد اس کے ایک منطقی حل کے سوا بلاخر کوئی چارہ نہ رہے گا ۔

    اس قسم کی چومکھی مودی سرکار کتنا برداشت کرے گی اس کا اندازہ اگلے چند دنوں میں بخوبی ہونے والا ہے۔ مودی سرکار اس پریشر کو ریلیز کرنے کے لئے یقیناً پاکستان پر دباؤ ڈالنے اور
    انتخابات سے پہلے کی طرح کی کوئی کاروائی کرے یہ بعید از قیاس نہیں ۔ اور پاکستان اپنا آخری پتے اس وقت ہی شو کرے گا۔

    پاکستان پہل کرکے اس پریشر کو انڈیا سے اپنی طرف منتقل کرنے کی غلطی کے بجائے اسٹرٹیجیک موو لے رہا ہے ۔ کیونکہ یہ تو طے شدہ امر ہے کہ کشمیر کا مسئلہ ہمیشہ طاقت سے ہی حل ہونا ہے ۔ لیکن ایک اچھا کھلاڑی نہ وقت سے پہلے اپنے ارادے کا اظہار کرتا ہے نہ اپنے اگلے قدم کا۔ اسلئے زرا دھیرج رکھئیے ۔ اور صحیح وقت پر صحیح فیصلے کا انتظار کیجئے.

  • کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    کشمیر توجہ مانگتا ہے!—— تحریر: بلال شوکت آزاد

    ویسے تو کشمیریوں کا نوحہ بہتر سالوں سے جاری ہے کہ وہاں ہندوتوا کے جھنڈے تلے مسلمانوں کا قتل عام، ظلم اور زیادتی ایک عام سی بات بن کر رہ گئی ہے۔

    ہم بہتر سالوں سے روزانہ میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر ضرور سنتے رہتے تھے جس میں کسی کشمیری بزرگ کا بہیمانہ قتل، کسی کشمیری بہن کی لٹی عزت کی کہانی اور کسی نوجوان کے تباہ شدہ خوابوں کا فسانہ سننے کو مل جاتا تھا۔

    آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میں یہ بار بار "تھا” کیوں کہہ رہا ہوں؟

    کیا آج وہاں ظلم اور زیادتی کا بازار بند ہو چکا ہے؟

    یا وہاں پر بزرگوں کا بہیمانہ قتل نہیں ہورہا؟

    یا وہاں پر ہماری کشمیری بہنوں کی عزتیں محفوظ ہوگئی ہیں؟

    اور یا پھر نوجوانوں کے خواب شرمندہ تعبیر ہو رہے ہیں؟

    کیا وجہ ہے کہ میں یہ کہنے پر مجبور ہوگیا ہوں کہ ہمیں دس سالوں سے میڈیا کے ذریعے ایسی کوئی نہ کوئی خبر بھولے بھٹکے ضرور مل جاتی تھی جس میں کشمیر میں جاری ظلم کا فسانہ ہمیں سننے پڑھنے کو مل جاتا تھا۔

    لیکن ابھی گزشتہ 16/17 دن سے جاری ظلم و زیادتی، قتل و غارت بلکہ سادہ لفظوں میں کہوں تو کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی کی ہمیں خبریں دائیں بائیں سے ضرور مل رہی ہیں لیکن ہمارے میڈیا پر وہی صورتحال غالب ہے جو اول دن سے تھی، عالمی میڈیا خبر تو دیتا ہے لیکن اپنی جانبداری کو چھپا نہیں پاتا۔

    کوئی بھی یہ نہیں بتا رہا کہ اس سال فروری سے لے کر آج کے دن تک ک سترہ ایسے مقامی کشمیری صحافی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں جو اپنی بساط کے مطابق کشمیر کے حق اور ظلم کی چکی میں پسنے والوں کی آواز دنیا بھر میں پھیلانے کا ذریعہ بنے ہوئے تھے۔

    اس وقت سوشل میڈیا پر بے شمار خبریں پڑھنے سننے کو مل جاتی ہیں کشمیر کے متعلق، جن کی حقیقت یا تو کشمیری جانتے ہیں یا اللہ بہتر جانتا ہے۔

    لیکن جو بھی خبریں پڑھنے سننے کو مل رہی ہیں وہ کوئی اتنی حوصلہ افزا اور قابل برداشت نہیں۔

    سرکاری چھتری کے نیچےبھارتی فوج، پیراملٹری فورسز اور سرکاری ایجنسیز ہی کشمیر میں میں ظلم نہیں ڈھا رہیں بلکہ آر ایس ایس کے مہاسبائی غنڈے اور انتہا پسند ہندو کھل کر کشمیریوں کا استحصال کر رہے ہیں بلکہ یہ اطلاعات بھی مل رہی ہیں کہ کہ بھارت نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے باضابطہ خاتمے سے پہلے صرف کشمیر سے ہندوؤں کو نکلنے کا حکم ہی نہیں دیا بلکہ اضافی فوجی دستے بھی تعینات کیے اور انتہا پسند ہندو غنڈوں کو بھی لگاتار فلائٹس کے ذریعے کشمیر پہنچایا تاکہ وہ بڑے پیمانے پر کشمیر میں کشمیری مسلمانوں کی نسل کشی میں میں حکومت بھارت کی مدد کر سکیں۔

    اس وقت موجود خبروں کے تناظر میں بتاتا چلوں کہ کوئی چار ہزار کے قریب حریت پسند سنگباز کشمیری نوجوان زبردستی اٹھا کر جیلوں میں ڈالے گئے ہیں اور بعد میں انہیں نوجوانوں کے گھروں میں بھارتی فوجی دندناتے ہوئے گئے اور ان کی بہنوں بیٹیوں کو اغوا کر کے فوجی بیرکوں میں لے گئے ہیں۔

    خبریں تو اور بھی بہت سی ہیں جنہیں سن پڑھ کر کسی بھی غیرت مند مسلمان کو غصہ آ سکتا ہے اور اگر ضمیر زندہ ہو تو وہ انسان غصے سے پھٹ بھی سکتا ہے۔

    یہ اتنی ساری کہانی یا تمہید بیان کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔

    اب آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھائی ہم تو 72 سالوں سے مسئلہ کشمیر اور کشمیری مسلمانوں پر پر پڑھ، لکھ، سن اور بتا رہے ہیں تو اب کون سی ایسی توجہ ہے جو کشمیر مانگتا ہے اور ہمیں دینی ہوگی؟

    معذرت کے ساتھ کہنا چاہوں گا کہ ہم بہت سالوں سے بطور پاکستانی قوم کشمیر کو صرف یوم یکجہتی کشمیر، 14/15 اگست یا پھر کشمیر میں ہوئے کسی بڑے سانحے کے بعد یاد کرتے تھے اور دو دن خوب شور مچا کر خاموش ہو جاتے تھے۔

    میں یہاں کسی مخصوص گروہ، کسی مذہبی جماعت، کسی سیاسی جماعت اور کسی رائٹ لیفٹ یا سنٹر کی بات نہیں کر رہا بلکہ میرے مخاطب ساری پاکستانی قوم ہے۔

    ہم نے قائد اعظم کے انتقال کے بعد کشمیریوں کو سوائے ڈھکوسلوں، حکمت اور مصلحت کے لولی پاپس اور سیاسی بیان بازیوں کے کوئی ایسی گرانقدر خدمات پیش نہیں کیں جو کشمیریوں کا دکھ کم یا دور کر سکتیں یا مرہم بن کے ان کے دکھوں کا مداوا کر سکتیں۔ (جو انڈر دا ٹیبل کیا گیا اسے یہاں پر بیان کرنا کسی صورت بھی ممکن نہیں اور نہ ہی اسے بیان کرنا اس وقت اتنا اہمیت رکھتا ہے جب پاکستان اندرون اور بیرون معاشی مسائل کا شکار بھی ہو اور عالمی اداروں کی نظر میں یہ کسی اچھے تشخص کا حامل بھی نا ہو)۔

    ہمیں اب مسئلہ کشمیر کو باقاعدہ اپنی زندگیوں میں وہ اہمیت اور وہ جگہ دینی ہوگی جس کا وہ حقدار ہے۔

    کل لاہور میں کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے عنوان سے سیمینار منعقد کیا گیا جو اس رویے، اس روش اور اس ضرورت کو عوامی بنانے کی جانب پہلا قدم ہے۔

    کشمیر یوتھ الائنس اور اپیکس گروپ آف کالجز کے زیراہتمام لاہور میں "کشمیر توجہ چاہتا ہے” کے عنوان سے سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں نوجوانوں کی تنظیمات کے نمائندگان اور میڈیا کے شعبے سے تعلق رکھنے والے طلبہ شریک تھے۔

    سیمینار کی صدارت رانا عدیل ممتاز کررہے تھے جبکہ مقررین میں سینئر اینکرپرسن مبشر لقمان، اینکراسامہ غازی، سینئر صحافی واستاد ڈاکٹر مجاہد منصوری، اسلامک سکالر اشتیاق گوندل، یوتھ ایکٹیوسٹس رضی طاہر، طہ منیب، عدیل احسن، مہک زہرا، عائشہ صدیقہ اور احقر بلال شوکت آزاد شامل تھے۔

    رانا عدیل ممتاز نے خطاب میں کہا کہ

    "پاکستانی نوجوان بھارت کو ہر محاذ ہر شکست دینے کیلئے آگے بڑھیں، پہلا قدم ٹیکنالوجی ہے، اس کے استعمال سے بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب کریں۔”

    مبشر لقمان صاحب نے اظہار خیال کرتے ہوئے مسلم دنیا پر تنقید کی اور کہا کہ

    "کوئی اسلامی ملک حقیقی غیرت اسلامی کا مظاہرہ نہیں کررہا، مسلمان کشمیر میں مسلسل جانیں دے رہے ہیں اور ہمیں مالی مفادات عزیز ہیں جبکہ بھارت ایک جانب کشمیر میں خون کی ندیاں بہا رہا ہے اور دوسری جانب آبی جارحیت دکھا رہا ہے، کبھی بن بتائے پانی کھول دیتا ہے جو سیلاب کا سبب بنتے ہیں اور کبھی پانی روک کر خشک سالی کا سبب بنتا ہے، دنیا کو بتا دینا چاہتا ہوں پاکستان کا پانی روکیں گے تو 20 کروڑ خودکش بمبار تیار ہوجائیں گے۔”

    ڈاکٹرمجاہد منصوری نے کہا کہ

    "حیران ہوں کہ نئی دہلی میں بیٹھے 100سے زیادہ بین الاقوامی میڈیا کے نمائندگان کو کشمیرکی صورتحال دکھائی کیوں نہیں دیتی؟ میڈیا کے طلبہ سوشل میڈیا کے ذریعے دنیا کے سامنے سوال کریں کہ یہ کیسی بے حسی ہے۔”

    اسلامک سکالر اشتیاق گوندل نے کہا کہ

    "ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے، ہم مسلمان ہیں اور بحثیت مسلمان کسی خطے میں ظلم ہو ہم اس کے خلاف آواز اٹھاتے رہیں گے، کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے اور پاکستان کا حصہ ہے، تاریخ کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔”

    اینکر اسامہ غازی نے اپنی گفتگو میں کہا کہ

    "اگلے دو سال بہت اہم ہیں، کشمیر میں تحریک آزادی میں نیا جذبہ پیدا ہوگا، مودی کو بہت جلد اپنی غلط پالیسیوں کا احساس ہوگا، کشمیر بھارت کے ہاتھ سے نکل رہا ہے”۔

    سیمینار سے کشمیر یوتھ الائنس کے قائدین اور ایکٹیوسٹس رضی طاہر، رانا عدیل احسن، طہ منیب اور بلال شوکت آزاد نے بھی اظہار خیال کرتے ہوئے اہل کشمیر پر ہونے والے ظلم وستم کو روکنے کیلئے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑا۔

    اقوام متحدہ سے مخاطب ہوکر ان پر عزم نوجوان مقررین نے کہا کہ

    "اقوام متحدہ دراصل اقوام شرمندہ بن چکی ہے جبکہ او آئی سی بھی محض مذمتی بیانات تک محدود ہے۔”

    سیمینار کے آخر میں کشمیر کیلئے خصوصی دعا کی گئی اور یہ عہد کیا گیا کہ کشمیر یوتھ الائنس ہر وہ دروازہ کھٹکھٹائے گی جو کشمیر کے لیے آواز بلند کرنے کا حوصلہ اور ارادہ رکھتا ہوگا اور یہ سلسلہ رکے گا نہیں بلکہ کشمیریوں کی آزادی کے لئے "کشمیر توجہ مانگتا ہے” کے نام سے ملک گیر تحریک چلانے کے لیے پرعزم ہے۔

    کل ہوئے سیمینار میں نوجوانوں کی ایک اچھی خاصی تعداد موجود تھی جو کہ ایک حوصلہ افزا بات ہے اس صورتحال میں کے کشمیر مکمل طور پر بند ہے یہاں تک کہ ایک چڑیا بھی پر نہیں مار سکتی اور اگر یہ کہا جائے کہ کشمیر ایک جیل بن چکی ہے تو غلط نہ ہوگا۔

    ہمیں کشمیر کی وہ پر شور آواز بننا ہوگا جو اقوام عالم کے کانوں کے پردے پھاڑ دے کیونکہ اب یہ حکمت اور مصلحت کی کھیلیں کھیلنے کا وقت نہیں کہ یہاں ہر سیکنڈ پر ایک کشمیری مسلمان مرد اور عورت کٹ اور لٹ رہے ہیں۔

    اور جب تک یہ ہوتا رہے گا ان کا خون اور ان کی آہ و بکا صرف بھارتی درندوں کے ہاتھ ہی نہیں ہوگی بلکہ اس کا کچھ نہ کچھ کچھ کریڈٹ ہمارے سر بھی ہوگا۔

    میں نے کل سیمینار کے شرکاء سے گفتگو کرتے ہوئے بھی یہی بات کہی تھی اور یہاں پر بھی یہی کہوں گا کہ

    "ہمیں تمام طرح کی گروہ بندیوں، ذاتی مفادات اور تفرقہ بازی سے نکل کر ایک متحدہ قوم بننا ہوگا تاکہ ہم سب مل کر اپنے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کی آواز بن سکیں، اور ان کی آزادی کی تحریک پاکستان کے گلی کوچوں سے نکال کر اقوام عالم کے گلی کوچوں تک پہنچائیں۔
    یقین مانیے ہماری باتیں، ہمارے تجزیے اور خبریں تب تک بالکل بے معنی ہیں جب تک ہمارے کشمیری مسلمان بہن بھائیوں کو وہ توجہ نہیں ملتی ہماری جانب سے اور اقوام عالم کی جانب سے جو ان کی آزادی کو یقینی بنا سکے۔
    ہم خواہ غریب ہوں یا امیر ہوں، ان پڑھ ہوں یا پڑھے لکھے ہوں خواہ کسی بھی حیثیت میں ہوں ہمیں اپنے حلقہ احباب میں "کشمیر توجہ مانگتا ہے” تحریک کو عام کرکے پوری پاکستانی قوم کو کشمیر کا دکھ سنانا اور کشمیریوں کی حق خودارادیت کے لئے لیے میدان بنانا ہو گا لہذا اب کمر کس لی جائے اور میدان میں نکلا جائے کہ باتیں بہت ہو گئیں ، اب عمل کا وقت ہے۔”

    قصہ مختصر میں اپنی بات سمیٹتا ہوں اسی جملے کے ساتھ کہ

    "بھائیو بہنو! آپ لوگ خدارا اب نظریاتی بالغ ہوجائیں اور اپنا پورا وقت مظلوم کشمیریوں کے لئے وقف کر دیں کہ "کشمیر توجہ مانگتا ہے”۔”