Baaghi TV

Tag: BNP

  • بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان؛ نگران کابینہ نے حلف اٹھا لیا

    بلوچستان کی آٹھ رکنی نگران صوبائی کابینہ تشکیل دے دی گئی ہے جس کے بعد پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے جبکہ تین مشیروں کو بھی قلمدان تفویض کردیئے گئے ہیں علاوہ ازیں بلوچستان کی نگران کابینہ میں شامل پانچ وزراء نے حلف اٹھالیا ہے اور حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں ہوئی جس میں گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگران صوبائی وزراء سے حلف لیا۔

    واضح رہے کہ تقریب میں نگران وزیراعلیٰ میرعلی مردان ڈومکی ، قبائلی و سیاسی عمائدین اور اعلیٰ سرکاری افسران نے شرکت کی اور نگران کابینہ میں شامل کیپٹن ریٹائرڈ زبیر جمالی کووزارت داخلہ، امجد رشید کو خزانہ، پرنس احمد علی کو صنعت و حرفت ،ایکسائز ، جان اچکزئی کو اطلاعات، ڈاکٹر قادر بخش کو وزارت تعلیم اور سیاحت کا قلمدان دیا گیا ہے۔ شانیہ خان ، میر دانش لانگو اور میر عمیر محمد حسنی کو وزیراعلیٰ کا مشیر مقرر کردیا گیا ہے۔

    علاوہ ازیں شانیہ خان کو سوشل ویلفیئر اوروویمن ڈویلپمنٹ ، میر دانش لانگو محکمہ ایری گیشن اور میر عمیر محمد حسنی مائنز اینڈ منرلز کے قلمدان تفویض کردیے گئے جبکہ گورنر ہاوس کوئٹہ میں نگران صوبائی وزراء کی حلف برداری کی تقریب کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئےنگران وزیراعلیٰ بلوچستان میرعلی مردان ڈومکی کا کہنا ہے کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں ۔ اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہے ۔ دوسرے مرحلے میں مزید وزراء اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کریں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان میں امن وامان پہلی ترجیح ہے ، جو ناراض بلوچ بات کرنا چاہتا ہے ان سے بات کریں گے ۔ لیکن زبردستی کسی سے بات چیت نہیں کریں گے ۔ریاستی پالیسی کے مطابق ناراض افراد سے بات کی جائے گی جبکہ نگران وزیراعلی علی مردان ڈومکی نے کہا کہ آئندہ انتخابات کے لیے محنت کریں گے اور صاف شفاف الیکشن یقینی بنائیں گے ، ہمارا کام صرف صاف شفاف انتخابات کا انعقاد کرانا ہے ۔امن وامان اور ترقیاتی منصوبے ترجیحات میں شامل ہیں ۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری سیاسی حکومت نہیں اس لیے کوئی اختلاف بھی نہیں ہیں۔ صوبائی کابینہ کی تشکیل دینے کے حوالے سے کوئی اختلافات نہیں ہیں ۔۔ جلد ہی دیگر وزراء بھی اپنے عہدے کا حلف اٹھائیں گے۔

  • نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان  نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان نے حلف اٹھا لیا

    نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان علی مردان ڈومکی نے وزارت اعلیٰ کے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے جبکہ نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی حلف برداری کی تقریب گورنر ہاؤس کوئٹہ میں منعقد ہوئی جس میں علی مردان ڈومکی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا اور گورنر بلوچستان عبدالولی کاکڑ نے نگراں وزیراعلیٰ علی مردان ڈمکی سے حلف لیا۔

    تقریب حلف برداری میں نگراں وفاقی وزیر داخلہ میر سرفراز بگٹی، سابق وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال خان، سابق صوبائی وزیر اور اراکین صوبائی اسمبلی نے شرکت کی جبکہ اس کے علاوہ آئی جی پولیس، چیف سیکرٹری بلوچستان سمیت اعلیٰ سرکاری افسران بھی تقریب میں شریک ہوئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    خیال رہے کہ علی مردان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کے علاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں جبکہ علی مردان خان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور علی مردان ڈومکی نے علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر کیا ہوا ہے۔ علاوہ ازیں علی مردان ڈومکی تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں جبکہ اس کے علاوہ علی مردان ڈومکی کے بھائی دوستن ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان ڈومکی نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد

    میر علی مردان خان ڈومکی کو نگران وزیر اعلیٰ بلوچستان نامزد کر دیا گیا ہے جبکہ ذرائع کے مطابق بلوچستان کے نگران وزیر اعلیٰ کا فیصلہ ہو گیا ہے اور میرعلی مردان خان ڈومکی کا نام نگران وزیراعلیٰ بلوچستان کیلئے فائنل کرلیا گیا ہے، تاہم خیال رہے کہ آج سابق وزیرِ اعلیٰ بلوچستان جام کمال اور بلوچستان کے سیاستدان علی مردان ڈومکی نے نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ سے بھی ملاقات کی تھی ، اور ان کو نگران وزیر اعظم کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد دی تھی۔

    بلوچستان کے نگران وزیراعلیٰ کے لیے مشاورت کا آج آخری روز تھا اور اس حوالے سے وزیراعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو اور قائد حزب اختلاف ملک سکندر ایڈووکیٹ کے درمیان گزشتہ روز بھی ملاقات ہوئی تھی۔ جبکہ آج آخری مرحلے میں ڈومکی کا نام طے کرلیا گیا ہے اور اب بتایا جارہا ہے کہ نگران وزیر اعلیٰ ڈومکی ہی ہوں گے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پی سی بی کی جانب سے یومِ آزادی پر جاری کی گئی ویڈیو نے صارفین کو مشتعل کر دیا
    ایشیا کپ 2023: ٹکٹوں کی آن لائن بکنگ ،قیمتوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
    الیکشن کمیشن نے انتخابی ضابطہ اخلاق مزید سخت کر دیا
    انگلش کرکٹرکرس ووکس آئی سی سی مینزپلیئر آف دی منتھ قرار

    تایم واضح رہے کہ میر علی مردان خان ڈومکی کا تعلق بلوچستان کےعلاقے لہڑی سے ہے اور وہ سابق سینیٹر میر حضور بخش ڈومکی کے بیٹے ہیں۔ جبکہ علی مردان ڈومکی 13 اکتوبر 1972 کو پیدا ہوئے تھے اور ان کے والد حضور بخش ڈومکی 1975 سے 1977 تک سینیٹر رہے علاوہ ازیںڈومکی نے علامہ اقبال یونیورسٹی اسلام آباد سے سوشیالوجی میں ماسٹرز کیا اور وہ تحصیل ناظم لہڑی اور ضلع ناظم سبی بھی رہ چکے ہیں۔ جبکہ علی مردان کے بھائی دوستین ڈومکی رکن اسمبلی اور وزیر مملکت رہ چکے ہیں۔

  • الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ قمر زمان کائرہ

    پیپلز پارٹی کے رہنماء قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشنز کے آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے اور ہمیں الیکشن میں دیر نہیں کرنی چاہیئے، الیکشن اپنے وقت پر ہونے چاہئیں۔ جبکہ قمر زمان کائرہ کا نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن میں حلقہ بندیوں کا وقت 4 مہینے کا ہوتا ہے، فیصلے اکثر آخری دن ہی ہوتے ہیں، مجھے سندھ کے اندرونی معاملات کا پتہ نہیں ہوتا، اگر کوئی بندہ اس قابل ہے کہ وہ کام کرسکتا ہے اس کی مدد کرنی چاہیئے۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کی بگڑتی سیکیورٹی کی حالت ہمارے لیے چیلنج ہے، ہماری مرکزی حکومت اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے کام کررہی ہے۔ علاوہ ازیں مسلم لیگ ن کے رہنما عطاء تارڑ نے کہا کہ ہر انسان کی اپنی مرضی ہوتی ہے کہ کون سے پارٹی کب چھوڑنی ہے، چیئرمین پی ٹی آئی نے وہ کارمہ نامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔ عطاء تارڑ نے کہا کہ عمران خان نے سیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے فوجی تنصیبات کو نقصان پہنچایا، شہداء کی قبروں کی بے حرمتی کی گئی۔

    انہوں نے مزید کہا کہ ہماری عوام نے ان کے منصوبے کو ناکام بنایا، کچھ لوگ جماعت اندررہ کربھی اختلاف کرنا مناسب سمجھتے ہیں۔ جبکہ ن لیگ کے رہنما کا کہنا تھا کہ مجھے تو شہزاد اکبر کسی میٹنگ میں نظر نہیں آیا، یہ سب بیرون لوگوں کی سازش تھی، ان لوگوں نے ملک کو تباہ برباد کردیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما سینیٹرسرفرازبگٹی کا کہنا تھا کہ ہمارے لیے بہت سے چیلنجز ہیں، یہ چیلنجز صرف سیاست دانوں کے لیے نہیں پوری قوم کے لیے ہیں، پیپلزپارٹی کے رہنما قمرزمان کائرہ کا کہنا ہے کہ الیکشن آگے جانے کا کوئی امکان نہیں، ہمیں 3 مہینے کے اندر الیکشن کی تیاری کرنی چاہیئے، مسلم لیگ ن کے رہنما عطا تارڑ کا کہنا ہے چیئرمین پی ٹی آئی نےسیاست کے لبادے میں پاکستان کو نقصان پہنچایا، انہوں نے وہ کارنامہ انجام دیا جو ہمارا دشمن نہ کرسکا۔

    نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر داخلہ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا کہ اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی جانب سے انوار الحق کاکڑ صاحب کا نام نگراں وزیراعظم کے لیے آیا تھا، کاکڑ صاحب ایک بہتر چوائس تھے۔ سرفراز بگٹی نے کہا کہ سردار اختر مینگل صاحب ہمارے بزرگ ہیں، سردار اختر مینگل صاحب ہمارے لیے قابل احترام ہیں، اختر مینگل صاحب نے ہمارے چیئرمین سینیٹ پر اعتراض نہیں کیا، انہوں نے میرعبدالقدوس پر اعتراض نہیں کیا، میرے لیے تعجب کی بات ہے سردار صاحب چاہتے کیا ہیں۔

  • تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    تاحال نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کا فیصلہ نہ ہوسکا

    وزیراعلیٰ میرعبدالقدوس بزنجو نے نگراں وزیراعلیٰ کے لیے سیاسی رابطے تیز کردیئے ہیں جبکہ پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ بلوچستان میرعبدالقدوس بزنجو نے نگران وزیراعلیٰ کے نام پر اتفاق رائے کے لیے اپوزیشن لیڈر ملک سکندر خان ایڈووکیٹ سے رابطہ کیا ہے اور نگران حکومت کے قیام پر بات چیت کی ہے۔

    علاوہ ازیں وزیراعلیٰ بلوچستان نے چئیرمین سینٹ محمد صادق سنجرانی اور میر خالد خان مگسی بھی سے رابطہ کیا ہے اور ذرائع کا کہنا ہے کہ عبدالقدوس بزنجو نے صوبے کی سینئر سیاسی قیادت سے بھی رابطے کیے ہیں ، بلوچستان میں نگران وزیراعلیٰ کے نام پر جلد پیش رفت متوقع ہے۔ جبکہ نگراں وزیراعلیٰ کے لیئے جمیعت علماء اسلام ف کی جانب سے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان بادینی کا نام دیا گیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی نے گودار سے رکن اسمبلی حمل کلمتی کو نگراں وزیراعلیٰ کے لیے نامزد کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم واضح رہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما میرعلی حسن زہری، سینیٹر کہدہ بابر اورسابق بیوروکریٹ شبیر مینگل ،سوڈان میں پاکستانی سفیر بہروز ریکی،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے بھائی اعجاز سنجرانی اور وزیراعلیٰ عبدالقدوس بزنجو کے رشتے دار نصیر بزنجو بھی بھی نگراں وزیراعلیٰ بلوچستان کی دوڑ میں شامل ہیں۔

  • بی این پی نے ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج میں رد و بدل مسترد کردیا

    بی این پی نے ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج میں رد و بدل مسترد کردیا

    بلوچستان نیشنل پارٹی نے بھی ڈیجیٹل مردم شماری میں بلوچستان کی مجموعی آبادی کو کم کرنے کے فیصلے کو مسترد کردیا ہے جبکہ بلوچستان نیشنل پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل جان بلیدی، اور مرکزی سنئیر نائب صدر میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر میر رحمت صالح بلوچ اور دیگر رہنماؤں نے رخشان ریجن کی تنظیمی صورتحال اور پارٹی کی عوامی مقبولیت اور انتخابی سرگرمیوں سمیت دیگر ایجنڈوں سے متعلق اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج میں رد و بدل کرنا اور بلوچستان کی مجموعی آبادی کو کم کرنا ناانصافی ہے جسےمسترد کرتے ہیں۔

    جبکہ اجلاس میں نیشنل پارٹی کے نائب صدر ڈاکٹر اسحاق بلوچ، مرکزی رہنما سردار اسلم بزنجو، حاجی فدا حسین دشتی، عبدالخالق بلوچ ، میر شاوس بزنجو، ڈاکٹر شمع اسحاق منظور اور راہی چراغ بلوچ سمیت ریجن کے صدور و جنرل سیکرٹریز نے شرکت کی تاہم پارٹی رہنماؤں نے کہا کہ ڈیجیٹل مردم شماری کے نتائج میں ردو بدل سے بلوچستان کی اصل ابادی کم ہوگئی جو صوبے کےلیے بہت بڑے نقصان کا باعث بنے گا اور اس گناہ میں وزیراعلیٰ بلوچستان اور وفاقی کابینہ میں بیھٹے قوم پرست وزراء شامل ہیں جنہوں نے وفاق کے ساتھ ملکر بلوچستان کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا، تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی ۔

    انہوں نے کہا کہ رخشان ریجن کی انتخابی عمل میں پیسوں کا بے دریغ استعمال خطرناک ہے جو نہ صرف سیاسی عمل کے لیے نقصان کا باعث بنے گا بلکہ سماج میں بہت سے منفی اثرات و بگاڑ کو فروغ دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کہ ریکوڈک پروجیکٹ رخشان ریجن میں واقع ہے لیکن پسماندگی و لاچارگی کا عملی نمونہ بھی یہی موجود ہے، اشرافیہ طبقہ مراعات و مفادات کے حصول میں مگن ہے تو عوام کو ایک وقت کی روٹی اور ڈسپرین میسر نہیں، رخشان ریجن کے عوام نے 2018 میں قوم پرستوں کو منتخب کیا لیکن انہی قوم پرستوں نے ریکوڈک پروجیکٹ کے خفیہ معاہدے میں حکمرانوں کا ساتھ دیا اور عوام کو اس سے لاتعلق رکھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ریلوے کیرج فیکٹری کو آؤٹ سورس کرنے کا منصوبہ
    ایلون مسک کا ایک بار پھر مارک زکربرگ کیساتھ ایم ایم اے فائٹ کا عندیہ
    طالبان نے لڑکیوں پر کلاس 3 سے آگے پڑھنے پر بھی پابندی عائد کردی
    پی آئی اے کی لینڈنگ کی وجہ سے سالانہ 71 ارب کا نقصان ہو رہا ہے،اسحاق ڈار
    ہمارے دو تین دن رہ گئے، ڈر تھا کہ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور ایسا ہی ہوا،سعد رفیق

    تاہم رہنماؤں کا کہنا تھا کہ نیشنل پارٹی رخشان ریجن میں انتخابات میں بھرپور حصہ لے گی اور اس حوالے سے عوامی موبلائزشن کے ساتھ ہم خیال سیاسی جماعتوں سے انتخابات میں الائنس کے حوالے سے بھی پیش قدمی کریگی تاکہ رخشان ریجن میں حقیقی عوامی نمائندوں کو کامیاب کرایا جاسکے۔ انہوں نے مزید کہا کہ نیشنل پارٹی آئندہ انتخابات میں بڑی جماعت کے طور پر کامیاب ہوگی اور حکومت بنائے گی۔