Baaghi TV

Tag: BRICS

  • چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    چھ ممالک کو برکس گروپ میں شمولیت کی دعوت، پاکستان نظرانداز

    تیل کی طاقت کام کرگئی سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو ایک دہائی سے زائد عرصے میں پہلی بار برکس گروپ کی توسیع میں ترقی پذیر ممالک کے گروپ کا رکن بننے کی دعوت دی گئی ہے۔ جبکہ جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامفوسا نے جمعرات کو جوہانسبرگ میں گروپ کے سالانہ سربراہ اجلاس کے اختتام پر کہا کہ اگلے سال ایران، مصر، ایتھوپیا اور ارجنٹائن بھی اس میں شامل ہوں گے۔ مدعو کیے گئے تمام ممالک نے پہلے ہی شمولیت میں دلچسپی کا اظہار کیا تھا۔ اس گروپ میں اس وقت برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقہ شامل ہیں۔

    رامفوسا نے مزید کہا کہ رکنیت کا اطلاق یکم جنوری 2024 سے ہوگا۔ ایک ویڈیو پیغام میں روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے برکس کے نئے ارکان کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ اس بلاک کا عالمی اثر و رسوخ بڑھتا رہے گا۔ اور میں نئے ارکان کو مبارکباد دینا چاہتا ہوں جو اگلے سال اس مکمل پیمانے پر کام کریں گے۔

    علاوہ ازیں روسی صدر نے مزید کہا کہ میں اپنے تمام ساتھیوں کو یقین دلانا چاہتا ہوں کہ ہم دنیا میں برکس کے اثر و رسوخ کو بڑھانے کے لئے آج شروع کیے گئے کام کو جاری رکھیں گے۔ جبکہ چین کے صدر شی جن پنگ نے بلاک کی توسیع کو تاریخی قرار دیا، جو ترقی پذیر ممالک کے ساتھ متحد اور تعاون کے اس کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

    جبکہ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس سے برکس تعاون کے طریقہ کار میں نئی روح پھونکی جائے گی اور عالمی امن اور ترقی کی طاقت کو مزید تقویت ملے گی۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ برکس ممالک کے ساتھ خصوصی، اسٹریٹجک تعلقات مشترکہ اصولوں کو فروغ دیتے ہیں، سب سے اہم بات خودمختاری کے احترام، آزادی اور داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر پختہ یقین ہے۔ انہوں نے برکس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب "محفوظ اور قابل اعتماد توانائی فراہم کنندہ” رہے گا۔

    سعودی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ 2022 میں سعودی عرب اور برکس ممالک کے درمیان مجموعی دوطرفہ تجارت 160 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اس توسیع کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ان کے ملک کو ہمیشہ یقین رہا ہے کہ نئے ارکان کو شامل کرنے سے بلاک مضبوط ہوگا۔

    اس اعلان سے سعودی عرب، جو دنیا کا سب سے بڑا خام تیل برآمد کنندہ ہے، کو دنیا کے سب سے بڑے تیل درآمد کنندہ، چین کی طرح اقتصادی بلاک میں ڈال دیا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ روس اور سعودی عرب، دونوں تیل پیدا کرنے والے بڑے گروپ اوپیک پلس کے رکن ہیں – ایک نئے اقتصادی بلاک میں ایک دوسرے کے ساتھ شامل ہوں گے۔ دونوں ممالک اکثر اپنی تیل کی پیداوار کو مربوط کرتے ہیں ، جس نے ماضی میں سعودی عرب کو اپنے اتحادی ، امریکہ کے ساتھ اختلافات میں ڈال دیا ہے۔

    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی

    جبکہ سی این این کی رپورٹ کے مطابق بلاک کی توسیع سے ممکنہ ڈی ڈالرائزیشن کا سوال پیدا ہوتا ہے ، ایک ایسا عمل جس کے ذریعے ارکان آہستہ آہستہ تجارت کرنے کے لئے امریکی ڈالر کے علاوہ دیگر کرنسیوں کا استعمال کریں گے۔ برکس ممالک ایک مشترکہ کرنسی کے بارے میں بھی بات کر رہے ہیں، جسے تجزیہ کاروں نے مستقبل قریب میں ناقابل عمل اور ناممکن چیز قرار دیا ہے۔ تایم پیوٹن نے کہا کہ مشترکہ کرنسی کا مسئلہ ایک مشکل سوال ہے لیکن انہوں نے مزید کہا کہ ہم ان مسائل کو حل کرنے کی طرف بڑھیں گے۔ یہ توسیع ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب برکس کے کچھ رکن ممالک یعنی روس اور چین مغرب کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی میں پھنسے ہوئے ہیں۔

    علاوہ ازیں ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران جیسے مغرب کے خلاف کھلے عام مخالف ممالک کو شامل کرنے کا انتخاب گروپ کو مغرب مخالف بلاک بننے کی طرف دھکیل سکتا ہے جبکہ گولڈ مین ساکس کے سابق ماہر اقتصادیات جم او نیل نے اہم ابھرتی ہوئی مارکیٹوں کی وضاحت کے لیے جو اصطلاح ایجاد کی تھی، اس کے ارکان کے درمیان سیاسی اور معاشی نظام میں گہرے اختلافات کے باوجود یہ گروپ برقرار ہے۔

  • برکس سربراہ اجلاس کا آغاز؛ زرعی تجارت ایجنڈے میں شامل

    برکس سربراہ اجلاس کا آغاز؛ زرعی تجارت ایجنڈے میں شامل

    جنوبی افریقا کے شہر جوہانسبرگ میں برکس سربراہ اجلاس 2023 کا آغاز کردیا گیا جبکہ برازیل، روس، بھارت، چین اور جنوبی افریقا کے نمائندوں نے بلاک کے اندر زرعی تجارت کو بڑھانے کے ساتھ ساتھ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کی ترقی اوراقتصادی تعاون جیسے اہم امور پر روشنی ڈالی۔ عرب میڈیا کے مطابق نمائندوں نے اجتماعی زرعی تجارت کو فروغ دینے کے لیے رکن ممالک کے مابین عدم مساوات کو دور کرنے کی ضرورت پر زوردیا.

    جبکہ خیال رہے کہ جنوبی افریقا ایگرو بزنس ورکنگ گروپ کی چیئرپرسن وانڈیل سیہلوبو نے کہا:’’ایک گروپ (برکس) کی حیثیت سے، ہم صرف 300 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات درآمد کرتے ہیں لیکن اس میں سے زیادہ تر تجارت بلاک سے باہر ہوتی ہے۔بھارت اور چین اس کا قریباً 85 فی صد درآمد کرتے ہیں اور ہم سمجھتے ہیں کہ وہ ان میں سے کچھ مصنوعات برازیل اور جنوبی افریقا سے درآمد کرسکتے ہیں اور بلاک کے اندر تجارت میں اضافہ کرسکتے ہیں‘‘۔

    علاوہ ازیں برکس ممالک کھپت اور پیداوار دونوں میں زراعت کا پاور ہاؤس ہیں، جو سالانہ اربوں ڈالر کی تجارت کرتے ہیں۔ تاہم، اس تجارت کا ایک بڑا حصہ برکس سے باہر کے ممالک – یورپ اور امریکا – کے ساتھ ہوتا ہے جس کی وجہ بلاک کے اندر تجارتی رکاوٹیں اور وسیع پیمانے پر زرعی تجارت کو آسان بنانے کے لیے ضروری بنیادی ڈھانچے کی کمی ہے۔ تاہم بھارت کی برکس بزنس کونسل کے رکن جئے شیروف نے کہا کہ ہمیں (برکس) زرعی پالیسیوں سے نمٹنے میں زیادہ مؤثرکردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔ بلاک کے اندرتجارتی رکاوٹیں زرعی پیداوار کو بہت زیادہ متاثر کرنے جا رہی ہیں اور رکن ممالک کے درمیان تحفظ پسندانہ رویہ زرعی خوش حالی کو متاثر کر سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر

    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    علاوہ ازیں فورم میں روس کے نمائندے سرگئی کیٹرین کے مطابق برکس میں زراعت سب سے اہم شعبہ ہے۔ گروپ کے ممالک 315 ارب ڈالر کی زرعی مصنوعات خریدتے ہیں اور اس تجارت کا صرف 20 فی صد برکس ارکان کے ساتھ ہوتا ہے، فورم میں نمائندوں نے بنیادی ڈھانچے کے مسائل سے نمٹنے اور بلاک کے اندر سپلائی چین کی رکاوٹوں کو حل کرنے کے مقصد سے ایک ایئرلفٹ حکمتِ عملی کا بھی انکشاف کیا تاکہ برکس ممالک کے اندر آسانی سے رسائی کا راستہ پیدا کیا جاسکے۔

    تاہم برکس بزنس کونسل برازیل شاخ کے چیئرمین جوز سیراڈور نے کہا کہ ہم نے ایک ایئرلفٹ حکمتِ عملی تجویز کی ہے جو اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ایک جامع منصوبہ ہوگا کہ ہمارے پاس برکس ممالک کے درمیان فضائی رابطہ ہو، کارگو، مسافروں اور کاروباری افراد کا بہاؤ قائم ہو جو تجارت کرنے اور کاروبار کو فروغ دینے کے لیے کام کر رہے ہیں جبکہ برکس کے افتتاحی سیشن میں بلاک کے اندر زرعی تجارت کو بڑھانا اہم موضوعات میں سے ایک تھا۔

    تاہم فورم میں ہونے والی بات چیت میں دوستانہ حکومتی پالیسیوں کے نفاذ، کھلی منڈیوں کو فروغ دینے اور عالمی تجارتی تنظیم کی جانب سے وضع کردہ کثیرالجہت معاہدوں کے نظام کو اپنانے کے ذریعے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کوترقی دینے کے بلاک کے منصوبوں پر بھی روشنی ڈالی گئی، برکس بزنس کونسل کے جنوبی افریقا شاخ کے چیئرمین بسی مابوزا نے کہا کہ ہم چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری اداروں کو پیچھے نہیں چھوڑ سکتے کیونکہ ہماری معیشتوں کی نوعیت ایسی ہے کہ وہ ایس ایم ایز کے ذریعے چلائے جاتے ہیں، اور درحقیقت ایس ایم ایز روزگار پیدا کرنے کے مرکز میں ہیں، برکس سربراہ اجلاس تین دن تک جاری رہے گا اور 24 اگست کو اختتام پذیر ہوگا۔ توقع ہے کہ برکس ممالک کے رہ نما اور دیگر مدعو مندوبین اگلے دو دنوں کے دوران میں بلاک کی توسیع اور تجارتی تعلقات سے متعلق اہم امور پر تبادلہ خیال کریں گے۔