Baaghi TV

Tag: CAA

  • سکردو انٹرنیشنل ائرپورٹ؛ ریفیولنگ سہولت کی افتتاحی تقریب

    سکردو انٹرنیشنل ائرپورٹ؛ ریفیولنگ سہولت کی افتتاحی تقریب

    سکردو انٹرنیشنل ائرپورٹ پر ریفیولنگ سہولت کی باقاعدہ افتتاحی تقریب منعقد ہوئی جس میں ڈی جی سی اے اے خاقان مرتضیٰ، سی ای او پی ائی اے ائیر وائس مارشل محمد عامر حیات کی شرکت اور اس کے علاوہ ایم ڈی اینڈ سی ائ او پاکستان سٹیٹ ائل سید طحہ اور مقامی معززین اور اداروں کے اعلیٰ حکام بھی موجود تھے

    ترجمان سی اے اے سیف اللہ خان کے مطابق ڈی جی سی اے اے نے اس موقع پر کہا کہ ملکی ہوابازی کی ترقی کے لیے دو قومی پرچم بردار کمپنیوں کے درمیان اتحاد واقعی ایک اہم کامیابی ہے جبکہ ریفیولنگ نہ صرف ہوائی اڈے کی آپریشنل کارکردگی کو بہتر بنائے گی بلکہ ایئر لائنز کوبھی بڑی سہولت ہوگی.

    ڈی جی سی اے اے خاقان مرتضیٰ ہوا بازی کی صنعت کے لیے بے مثال مصنوعات اور خدمات کی فراہمی کے لیے تعاون اور عزم کے لیے پی ایس او کا شکریہ ادا کرتا ہوں، اے وی ایم محمد عامر حیات سی ای او پی ائی اے نے کہا کہ علاقائی اور بین الاقوامی رابطے گلگت بلتستان کی اقتصادی ترقی کے لیے گیم چینجر ثابت ہوں گے، سی اے اے اور پی ایس او کی بدولت پی آئی اے نے اسکردو کے لیے پہلی بین الاقوامی پرواز چلانے کا منفرد اعزاز حاصل کیا.

    ایم ڈی اورسی ائ او پی ایس او سید طحہٰ نے کہا کہ اسکردو کو ایک متحرک سیاحتی مقام بنانے میں اپنا حصہ ڈال رہے ہیں، ہم سی اے اے کی انتھک اور مسلسل حمایت کے لیے ان کی مخلصانہ تعریف کرتے ہیں، طیاروں کو ایندھن فراہم کرنےکے چار دہائیوں سے زیادہ کے تجربہ و مہارت پر فخر ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ اس موقع پر یاد گاری تختی کی نقاب کشائی اور پودا بھی لگایا گیا، بین الاقوامی اسکردو ہوائی اڈہ 14 اگست کو اپنی پہلی بین الاقوامی پرواز کوخوش آمدید کہنےکو تیار ہے جبکہ سی اے اے نے مزید کہا کہ سیاحتی مقام اسکردو اور ائرپورٹ کی حیثیت خطے کے لیے ایک اہم تجارتی اور نقل و حمل کے مرکز کی ہے.

  • مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی

    مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی

    مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی
    ترجمان سول ایویشن اتھارٹی سیف اللہ خان نے باغی ٹی وی کو بھیجے گئے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے جبکہ ممکنہ ان لائین پولیو ویکسینیشن کارڈ فراڈ بارے ان کا کہنا تھا کہ عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سول ایویشن اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کسی قسم کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عوام الناس سے درخواست ہے کہ وہ پولیو کارڈ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی غیر مصدقہ ان لائین پیشکش پر کان نہ دھریں جبکہ مسافر بالخصوص ان ان لائین عناصر کو نظر انداز کریں جو اپنے آپ کو مختلف ائرلائنز کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    جبکہ ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ اس انتباہ کا مقصد مسافروں کو پولیو کارڈ کے نام پر موقع پرست مفاد پرستوں کے ہاتھوں ان لائن ہونے والے فراڈ سے بچانا ہے کیونکہ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھا جانے والا لیٹر اسلام اباد ائیرپورٹ کی اندرونی خط و کتابت تھی جو منسوخ ہوچکا ہے لہذا اس بات کو بلکل واضح کیا جاتا ہے کہ مزکورہ لیٹر کسی بھی طرح پولیو سے متعلق ٹریول ایڈوائزری نہیں ہے اور مسافروں سے التماس ہے کہ جس ملک کے سفر کا ارادہ رکھتے ہوں ائرلائن سے اس ملک کی ہیلتھ بالخصوص پولیو ویکسینیشن پالیسی بارے ضرور پوچھیں ناکہ کسی فراڈی کی باتوں میں آئیں.

  • سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے. ڈی جی سول ایوی ایشن کا اعتراف

    سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے. ڈی جی سول ایوی ایشن کا اعتراف

    قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ایوی ایشن کا اجلاس چیئرمین مبین احمد کی زیر صدرات ہوا جس میں رکن اسمبلی سائرہ بانو نے سرفیس ٹریولنگ کے دوران حادثے میں پی آئی اے کی ایئرہوسٹس کے جاں بحق ہونے پر کہا کہ رات کے وقت یونیفارم میں کیبن کریو کو لمبے سفر پر بھیجنا رولز کی خلاف ورزی ہے۔ کیبن کریو کوغیرقانونی طور پر سرفیس ٹریولنگ کروائی جارہی، پی آئی اے کا قانون رات میں سرفیس ٹریولنگ کی اجازت نہیں دیتا۔

    پی آئی اے کے سی ای او عامر حیاب نے جواب میں بتایا کہ افسوسناک حادثہ ہوا لیکن سرفیس ٹریولنگ قانونی کےمطابق تھی، معاملے کی تحقیقات کررہے ہیں، ڈرائیور کا الکوحل اور مکمل میڈیکل ٹیسٹ کروایا ہے، غلطی اور کوتاہی ثابت ہوئی تو کارروائی کی جائے گی۔ رومینہ خورشید عالم کا کہنا تھا کہ بیرون ملک ملٹی نیشنل کمپنیاں تزئین آرائش کرتی ہیں، ہمارے یہاں ٹک شاپ تک ایئرپورٹ پر دستیاب نہیں۔

    ڈی جی سول ایشن خاقان مرتضی کا کہنا تھا کہ تین ملکی ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کررہے ہیں، جس سے بہتری آئے گی۔ سی ای او پی آئی اے کا کہنا تھا کہ پی آئی اے جتنا کماتا ہے اس میں سے بینک کو سود بھی دیتا ہے سی اے اے اور فیول کمپنی کے بقایات جات کی ادائیگی بھی کرنی ہے۔ سائرہ بانو اور رومینہ خورشید عالم نے قومی ایئر لائن پی آئی اے کے جہازوں کی بری حالت، سیٹیں گندی سیٹوں اور بدبودار ماحول پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایسی ایئرلائن پر لوگ کیسے سفر کریں گے۔ ڈی جی سول ایوی ایشن خاقان مرتضی نے بھی بے بسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سول ایوی ایشن کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے، ڈھائی سال میں ایک بھی کرپٹ ملازم کے خلاف کارروائی نہ کرسکا۔ رومینہ خورشید عالم نے کہا کہ اسلام آباد میں بہت زیادہ ہاؤسنگ سوسائٹیاں ہیں، ایئرپورٹ کے قریب بڑی عمارتیں بن رہی ہیں، سی ڈی اے اورسول ایوی ایشن کیا کررہی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    ڈی جی سول ایوی ایشن نے جواب دیا کہ بلڈنگ قوانین خلاف ورزی پرصوبائی حکومتوں کولکھا جاتا، کراچی میں 3 عمارتوں کا سندھ حکومت کو لکھا ہے، تاہم سندھ حکومت نے کوئی کارروائی نہیں کی، سندھ بلڈنگ لاء کی خلاف ورزی پرسول ایوی ایشن ایکشن نہیں لے سکتی، کراچی کے ایک بلڈرنے خلاف قانون 3 بلڈنگز بنا رکھی ہیں، بلڈر نے میرے خلاف ایف آئی آر بھی کروائی تھی۔ سائرہ بانو نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا بلڈرز نے کیسے ایف آئی آر درج کروا دی، کابینہ میں بلڈرز بیٹھے ہوں گے تو پھر ایف آئی آر تو ہوں گی۔ ڈی جی سول ایوی ایشن نے کہا کہ خدشہ ظاہر کیا کہ خدانخواستہ کوئی حادثہ ہوگیا تو اس کا دفاع نہیں کرسکیں گے۔

  • سعودی عرب نے آئی سی اے او  کی اعلیٰ کمیٹیوں میں سے ایک کی صدارت حاصل کر لی

    سعودی عرب نے آئی سی اے او کی اعلیٰ کمیٹیوں میں سے ایک کی صدارت حاصل کر لی

    سعودی عرب نے اپنے فضائی شعبے کے لیے ایک اہم کامیابیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے، انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن کی اعلیٰ کمیٹیوں میں سے ایک کی صدارت حاصل کر لی ہے۔ علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہوائی صنعت کے فروغ کے لیے سعودی عرب کی کوششوں نے سال 2023-2024 کے لیے انٹرنیشنل سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ایکاو) کی ایوی ایشن سکیورٹی کمیٹی کی چیئرمین شپ جیتنے کی راہ ہموار کی۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈاکٹر بدر بن صالح الصقری 2023-2024 کے لیے ایوی ایشن سکیورٹی کمیٹی میں سعودی عرب کے نمائندے کے طور پر کام کریں گے، اس بات کا اعلان مونٹریال، کینیڈا میں ایکاو کی کونسل کے 229ویں سیشن کے دوران کیا گیا ۔ اس اقدام کا مطلب ہے کہ سعودی عرب پالیسیوں، اسٹریٹجک سمتوں اور منصوبہ بندی کی سرگرمیوں سے متعلق سفارشات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔

    بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن 193 ممالک پر مشتمل ، اقوام متحدہ کی خصوصی ایجنسیوں میں سے ایک ہے۔اس کا مقصد سول ایوی ایشن کے شعبے میں ممالک کے درمیان تعاون اور ہم آہنگی کو مضبوط بنانا اور اس شعبے کو منظم کرنے کے لیے معیارات، فریم ورک اور پالیسیاں مرتب کرنا ہے۔ تنظیم میں ایوی ایشن سکیورٹی کمیٹی کے اہم ترین کاموں میں سے پالیسیوں، اسٹریٹجک سمتوں اور ترجیحات کے بارے میں کونسل کو اپنی سفارشات پیش کرنا اور ایوی ایشن سکیورٹی سے متعلق سرگرمیوں کی منصوبہ بندی کرنا ہے۔

    کمیٹی کی ذمہ داریوں میں عالمی معیارات اور سلامتی کی سفارشات پر مشاورت کی پیشکش، بین الاقوامی شہری ہوابازی کے لیے ابھرتے ہوئے خطرات کا اندازہ لگانا، اور صنعت کو غیر قانونی مداخلت سے بچانے کے لیے ضروری اقدامات پر عمل درآمد کرنا بھی شامل ہے۔ سعودی عرب 1962 سے تنظیم کا رکن ہے۔ اس نے 1980 میں اپنا مستقل وفد قائم کیا، اور 1986 سے اب تک تنظیم کی کونسل کا رکن ہے۔ ایکاو کا سعودی پیشہ ور افراد کی قابلیت پر اعتماد بین الاقوامی اداروں میں کمیٹیوں کو مؤثر طریقے سے منظم کرنے کی صلاحیت اور علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر ہوائی نقل و حمل کی صنعت کے لیے سعودی عرب کی مثبت کوششوں کا اثبات ہے۔

    سعودی عرب نے مختلف پروگرام اور اقدامات شروع کرکے عالمی شہری ہوا بازی سے اپنی وابستگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ علاقائی سطح پر ، سعودی مملکت "عرب سول ایوی ایشن آرگنائزیشن” میں کئی کمیٹیوں کی سربراہی بھی کرتی ہے۔ سعودی عرب ایکا‎‎و کے کوآپریٹو ایوی ایشن سیکیورٹی پروگرام مڈل ایسٹ اور ایکا‎‎ؤ کی ریجنل سیفٹی اوور سائیٹ آرگنائزیشن برائے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ جیسے اہم اداروں کے مستقل ہیڈ کوارٹرز کی میزبانی کے علاوہ خصوصی تنظیموں میں کام کرنے کے لیے سعودی ماہرین کو بھی بھیجتا ہے۔ مزید برآں، ویژن 2030 کے تحت سول ایوی ایشن سیکٹر کی حکمت عملی کے مطابق، سعودی عرب 2030 تک 330 ملین مسافروں کی نقل وحمل کے لیے دنیا بھر میں 250 مقامات تک فضائی رابطے بڑھانے کا ہدف رکھتا ہے۔

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو

  • سٹیزن شپ امینڈمٹ ایکٹ CAA کیا ہے اور انڈیا کے مسلمانوں کو اس سے کیا خطرات ہیں؟ طہ منیب

    یہ قانون 11 دسمبر 2019 کو بھارتی پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے پاس کیا گیا۔ یہ قانون بظاہر ہمسائیہ ممالک کے ظلم و ستم کا نشانہ بننے والی اقلیتوں کو شہریت دینے کیلئے بنایا گیا ہے۔ ان اقلیتوں میں ہندو ، سکھ، عیسائی اور بدھ مت تو شامل ہیں لیکن مسلمان نہیں
    انڈین مسلمانوں کو خوف ہے کہ یہ قانون انکے مستقبل پر سوالیہ نشان ہے جو NRC (نیشنل رجسٹر آف سیٹیزن ) کی ابتدائی شکل ہے۔

    نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیا ہے ؟ نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کا مقصد انڈیا کے تمام شہریوں کو ایک نیشنل رجسٹر میں شامل کرنا ہے۔ جس سے قبل انہیں اپنے آباء و اجداد کے تاریخی کاغذات کے زریعے یہ ثابت کرنا ہے کہ انہیں انڈیا میں رہنے کا حق کیوں ہے؟
    یاد رہے کہ شناختی (ID) کارڈ یا ٹیکس کی رسیدات نیشنل رجسٹر آف سٹیزن NRC کیلئے ناکافی ہیں۔

    بھارت کے کروڑوں مسلمانوں سمیت دیگر اقلیتوں کے پاس اپنے آباء و اجداد کے بھارتی ہونے کے دستاویزی ثبوت نہیں ہیں۔ سٹیزن شپ امینڈمنٹ بل کے زریعے مسلمانوں کے علاوہ تمام دیگر اقلیتوں کو بھارتی شہریت دی جائے گی۔ جبکہ کروڑوں مسلمانوں کو بھارت سے بے دخل یا حراستی (Detention) کیمپس میں رکھا جائے گا۔

    اس قانون کے بننے کے بعد بھارت کی اقلیتیں خاص طور پر مسلمان سراپا احتجاج ہیں۔ احتجاج کی ابتداء یونیورسٹی طلباء نے کی جن میں جامعہ ملیہ، جواہر لال نہرو یونیورسٹی اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے طلباء شامل ہیں۔پولیس نے نہتے طلباء پر لاٹھی چارج ، فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کے بعد بڑی تعداد میں طلباء کو گرفتار کیا۔احتجاج کا دائرہ کار ملک بھر کی یونیورسٹیوں میں پھیل گیا. دنیا بھر میں یونیورسٹی طلباء پر تشدد کے خلاف مظاہرے ہوئے۔

    19 دسمبر کو پورے بھارت میں احتجاج کیا گیا جس کے نتیجے میں 3 افراد ہلاک سینکڑوں زخمی اور ہزاروں افراد کو گرفتار کیا گیا
    نیو دہلی سمیت ملک کی متعدد ریاستوں میں انٹرنیٹ اور فون سروس معطل کر دی گئی۔آج 20 دسمبر بروز جمعہ احتجاج بدستور جاری ہے۔

    پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے گلوبل رفیوجی کانفرنس جنیوا میں عالمی دنیا کی توجہ بھارت میں پیدا ہونیوالے بحران کی طرف مبذول کروائی۔انٹرنیشنل میڈیا نے بھارتی حکومت کے انتہا پسندی پر مبنی قانون اور اسکے خلاف احتجاج کرنے والے مظاہرین پر تشدد کو کوریج دی۔محمد علی جناح کا ستر سال قبل پیش کیا گیا موقف درست ثابت ہوا۔بھارت کے مسلم و سیکولر حلقوں کی جانب سے مودی کو وقت کا ہٹلر قرار دیا جا رہا ہے جو ہند کو تقسیم کرنے کے درپے ہے۔