Baaghi TV

Tag: Canada

  • ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ذیا بیطس کے مریضوں میں کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے،تحقیق

    ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں بلڈ شوگر اور انسولین کی سطح میں اضافے کے اثرات کے نتیجے میں بعض قسم کے کینسر کے واقعات اور اموات کا خطرہ زیادہ ہو سکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: ایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا مریضوں کی پتے، آنتوں یا جگر کے سرطان سے موت واقع ہونے کے امکانات میں اضافہ ہوجاتا ہے۔

    رات دیر تک جاگنا ٹائپ 2 ذیا بیطس کے خطرات بڑھا دیتا ہے، تحقیق

    جرنل ڈائبیٹولوجیا میں شائع ہونے والی اس نئی تحقیق کے مطابق مجموعی طور پرذیابیطس میں مبتلا افراد کی کینسر سے موت واقع ہونے کے امکانات 18 فیصد تک بڑھ جاتے ہیں جبکہ وہ خواتین جو ذیابیطس میں مبتلا ہوتی ہیں ان کی موت اینڈومیٹریل کینسر سے واقع ہونے کے امکانات بہت زیادہ ہوتے ہیں۔

    اگرچہ پچھلے مطالعات میں ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں قلبی نتائج کے بارے میں بڑے پیمانے پر چھان بین کی گئی ہے، لیکن اس بارے میں کم معلوم ہے کہ آیا کینسر کی شرح اموات کے لیے ایسی عدم مساوات موجود ہے۔

    یونیورسٹی آف لیسٹر کے محققین کا کہنا تھا کہ کینسر کے خطرے کو بھی اتنی ہی توجہ دی جانی چاہیئے جتنی ذیابیطس سے پیش آنے والی دیگر پیچیدگیوں، جیسے کہ قلبی مرض، کو دی جاتی ہے۔

    ہوپ اگینسٹ کینسر نامی خیراتی ادارے کی مالی اعانت سے کیے جانے والے مطالعے میں یہ معلوم ہوا کہ ٹائپ 2 ذیابیطس میں مبتلا خواتین کی چھاتی کے سرطان سے موت واقع ہونے کے خطرات 9 فی صد زیادہ تھے اور ان خطرات میں اضافہ سامنے آرہاتھا۔

    انار ایک سُپر فوڈ،ذیابیطس کو روکتا ہے اور دل کی حفاظت کرتا ہے،نظام ہاضمہ کو مضبوط کرتا ہے

    سائنس دانوں نے بتایا کہ چھاتی کے سرطان کے معائنے کا دائرہ وسیع کرنا فائدہ مند ہوسکتا ہے(جو فی الحال انگلینڈ میں 50 سے 71 سال کی خواتین کا کیا جاتا ہے) تاکہ ذیابیطس میں مبتلا کم عمر خواتین کا معائنہ کیا جاسکے۔

    1998 سے 2018 تک جاری رہنے والی تحقیق میں محققین کی ٹیم نے ذیابیطس میں مبتلا 1 لاکھ 37 ہزار 804 برطانوی شہریوں کے ڈیٹا کا معائنہ کیا جنس، موٹاپا، نسل، سماجی و اقتصادی حیثیت، اور تمباکو نوشی کی حیثیت جیسے عوامل کا استعمال کرتے ہوئے تمام وجوہات، تمام کینسر، اور کینسر سے متعلق شرح اموات کے رجحانات کا تجزیہ کیا جن کی اوسط عمر 64 برس تھی اور ان کو اوسطاً 8.4 سال تک دیکھا گیا۔معائنے کے اس دورانیے میں تحقیق میں شریک 39 ہزار سے زائد افراد کی موت واقع ہوئی۔

    تحقیق میں یہ بات معلوم ہوئی کہ مطالعے کے دوران 55 سے 65 سال کے درمیان ٹائپ 2 ذیابیطس کے مریضوں میں کینسر سے ہونے والی اموات معمولی سی کم ہوئیں لیکن 75 سے 85 سال کے دوران اس تعداد میں اضافہ دیکھا گیا۔

    روزانہ دودھ کا ایک گلاس پینا اوردہی کھانا ٹائپ 2 ذیا بیطس کیلئے مفید ہے،تحقیق

  • 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت

    مصر میں آثار قدیمہ کے ماہرین نے 4 ہزار 300 سال پرانی ممی دریافت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی:”الجزیرہ کے مطابق” مصری ماہرین آثار قدیمہ نے دارالحکومت قاہرہ کے قریب ایک فرعونی مقبرہ دریافت کیا ہے، جس میں ملک میں اب تک دریافت ہونے والی سب سے قدیم اور "سب سے مکمل” ممی موجود ہے۔

    مصر می‌ نو عمر لڑکے کی ممی سے سونے کا دل دریافت

    ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق مصر کے علاقے سکارا میں زمین سے 20 میٹر نیچے موجود ایک کمرے سے تقریباً 25 ٹن وزنی تابوت میں ایک ممی ملی۔

    10 افراد پر مشتمل ماہر آثار قدیمہ کی ٹیم کے مطابق جب تابوت کو کھولا گیا تو اس میں سونے کے پتوں میں لپٹی ہوئی ایک ممی ملی جس کے سر پر ایک بینڈ اور سینے پر ایک بریسلٹ موجود تھا جس سے خیال کیا جاسکتا ہے کہ یہ کسی امیر انسان کی ممی ہے۔

    سونے کے پتے سے ڈھکی ہوئی ممی کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ یہ 4 ہزار 3 سو سال پرانی ہے جس کی دریافت آثار قدیمہ کیلئےاہمیت کی حامل ہےممی کیساتھ مجسمے، مٹی کے برتن دیگر اشیاء بھی ملی ہیں، یہ ممی مصر میں اب تک پائی جانے والی سب سے قدیم اور مکمل غیر شاہی ممی ہے۔

    زمین کی اندرونی تہہ نے الٹی جانب گھومنا شروع کردیا ہے،تحقیق

    ماہرین کے مطابق ایک اور مقبرہ راز کا محافظ اور محل کے عظیم رہنما کے معاون میری کا تھا،”خفیہ محافظ” کا پجاری لقب محل کے ایک سینئر اہلکار کے پاس تھا جس نے خصوصی مذہبی رسومات انجام دینے کی طاقت اور اختیار دیا تھا۔

    ہاؤس نے مزید کہا کہ تیسری قبر فرعون پیپی اول کے اہرام کمپلیکس کے ایک پادری کی تھی اور چوتھی قبر فیٹیک نامی جج اور مصنف کی تھی۔

    مصر کی قدیم نوادرات کی سپریم کونسل کے سربراہ مصطفیٰ وزیری نے کہا کہ فیٹیک کے مقبرے میں اس علاقے میں اب تک پائے جانے والے "سب سے بڑے مجسموں” کا مجموعہ شامل ہے۔

    مقبروں کے درمیان بے شمار مجسمے پائے گئے، جن میں سے ایک مرد اور اس کی بیوی اور کئی نوکروں کے ہیں۔

    بچوں کی مزید قبریں دریافت ہونے پرہرطرف خوف کی فضا

  • سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

    سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب

    سعودی عرب پہلی مرتبہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا صدرمنتخب ہوگیا۔

    باغی ٹی وی: سعودی عرب کی شہزادی حیفا بنت عبدالعزیز المقرن کو چیئرمین مقرر کردیا گیا،سعودی عرب اس سال پہلی مرتبہ الریاض میں یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ کمیشن کے 45 ویں اجلاس کی میزبانی کرے گا۔


    سعودی پریس ایجنسی کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی ادارے کے ایک متفقہ فیصلے میں سعودی عرب کو عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی کا باضابطہ چیئرمین قراردیا گیا ہے۔اس کی سربراہ شہزادی حیفا بنت عبدالعزیزالمقرن ہیں۔وہ یونیسکو میں سعودی عرب کی مستقل مندوب اور یونیسکو کی پروگرامز اور خارجہ تعلقات کمیٹی کی چیئرپرسن ہیں۔


    ایس پی اے نے بتایا ہے کہ کمیٹی کا اجلاس 10 سے 25 ستمبرتک ہوگا۔یونیسکو میں سعودی عرب کے مستقل مشن نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ وہ شروع سے ہی یونیسکو کا ایک وقف رکن ملک ہے، یہ فیصلہ کن اقدام مملکت کے لیے ثقافتی ورثے کے تحفظ، فروغ اور تحفظ کو مزید فروغ دینے کا ایک موقع ہے۔

    شہزادی حیفا نے کہا کہ یہ فیصلہ یونیسکو میں سعودی عرب کی کوششوں، شاہ سلمان بن عبدالعزیزاور ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی جانب سے ثقافتی شعبے کی سرپرستی ، معاونت اور وزیر ثقافت شہزادہ بدربن عبداللہ بن فرحان کی جانب سے جاری حمایت کا بھی مظہرہے۔

    واضح رہے کہ یونیسکو کی عالمی ثقافتی ورثہ کمیٹی جنرل اسمبلی کے ذریعے منتخب کردہ 21 ریاستوں کے نمائندوں پر مشتمل ہے۔ یہ کمیٹی عالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں اپنے مقامات کی شمولیت کے خواہاں ممالک کی تجاویز کا جائزہ لیتی ہے،ماہرین کو ان مقامات پر رپورٹ کرنے میں مدد فراہم کرتی ہے اورعالمی ثقافتی ورثے کی فہرست میں مجوزہ مقامات کے فیصلے کا حتمی جائزہ فراہم کرتی ہے۔

    یاد رہے کہسعودی عرب یونیسکو کی دواورمرکزی کمیٹیوں کا بھی رکن ہے۔اس کے پاس اس کی ایگزیکٹوکونسل کی رکنیت ہے اور وہ بین الحکومتی کمیٹی برائے تحفظ غیر منقولہ ثقافتی ورثہ کا بھی رکن ہے۔

  • صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    صومالیہ: امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر 10 ساتھیوں سمیت ہلاک

    صومالیہ میں امریکی فورسز کے آپریشن میں سینیئر داعش کمانڈر بلال ال سوڈانی 10 ساتھیوں سمیت مارا گیا۔

    باغی ٹی وی: غیر ملکی میڈیا کے مطابق امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کے حکم پر صومالیہ میں آپریشن رواں ہفتے کیا گیا۔

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    بیان میں کہا گیا کہ امریکی فورسز کی کارروائی میں داعش کا سینیئر کمانڈر بلال ال سوڈانی ہلاک ہوگیا، آپریشن کے دوران کوئی شہری ہلاک یا زخمی نہیں ہوا، داعش کے کمانڈر کو صومالیہ کے جنوبی علاقے میں واقع ایک غار میں نشانہ بنایا گیا۔

    آسٹن نے کہا کہ بلا ل السوڈانی افریقہ میں تنظیم کی سرگرمیوں کو وسعت دینے اور افغانستان سمیت دنیا بھر میں اس کے آپریشنز کی مالی مدد میں اہم کردار ادا کر رہا تھا۔

    آسٹن نے کہا کہ آپریشن میں کوئی شہری ہلاک نہیں ہوا ۔ اس آپریشن سے اندرون اور بیرون ملک امریکیوں کو دہشت گردی سے بچانے کے لیے امریکہ کے پختہ عزم کی عکاسی ہوتی ہے۔

    سیاسی جماعت کے رہنما نے اہلیہ اور دو بچوں سمیت کی خود کشی

    یہ کارروائی امریکی افریقی کمان کے اس اعلان کے چند دن بعد کی گئی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ صومالی دارالحکومت موغادیشو کے شمال مشرق میں گالکاڈکے تحفظ میں صومالی فوج کے ساتھ ملکر دفاعی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔

    اس واقعے میں صومالی نیشنل آرمی کی فورسز 100 سے زائد الشباب جنگجوؤں کے ایک بڑے اور شدید حملے کے بعد شدید لڑائی میں مصروف تھیں۔امریکہ کے مطابق اس کارروائی میں تحریک الشباب کے تقریباً 30 جنگجو مارے گئے تھے۔

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

  • جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار

    جوزف بروڈسکی: روسی نژاد نوبیل انعام یافتہ امریکی شاعر اور مضمون نگار۔

    اصل نام آؤسیف ایلیکزینڈرووچ بروڈسکی تھا ایک روسی نژاد امریکی شاعر اور مضمون نگار تھے 24 مئی 1940 میں پیدا ہونے والے جوزف بروڈسکی{Joseph Brodsky} لینین گراڈ کے ایک روسی یہودی گھرانے میں پیدا ہوئے ان کا تعلق ایک ممتاز اورقدامت پسند ربانی خاندان، شورر (شور) سے تھا۔ اس کے ددھیال کا تعلق جوزف بین اسحاق بیخور شور سے ہے۔ اس کے والد ، الیکزینڈر بروڈسکی ، سوویت بحریہ میں ایک پیشہ ور فوٹو گرافر تھے ، اور ان کی والدہ ، ماریہ والپرٹ بروڈسکایا ، ایک پیشہ ور ترجمان تھیں جن کے کام سے اکثراس خاندان کی کفالت میں مدد ملتی تھی۔ وہ فرقہ وارانہ اپارٹمنٹ میں رہتے تھے ، ان کی زندگی بچپن کا حصہ غربت اورپسماندگی میں گزرا۔ بچپن میں بروڈسکی لینین گراڈ کے محاصرے سے بچ گئے جہاں وہ اور اس کے والدین فاقوں اور بھوک سے مر گئے اور ان کی ایک خالہ بھوک سے مر گئی۔ بعد میں وہ محاصرے کی وجہ سے مختلف صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوگئے۔ بروڈسکی نے تبصرہ کیا کہ ان کے بہت سارے اساتذہ سامی { یہودی} مخالف ہیں اور انہیں ابتدائی عمر سے ہی اختلاف کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ انہوں نے نوٹ کیا کہ “میں نے لینن کو حقیر سمجھنا شروع کر دیا ، یہاں تک کہ جب میں پہلی جماعت میں تھا ، اس کے سیاسی فلسفے یا عمل کی وجہ سے نہیں ۔۔ بلکہ ان کی ہر جگہ کی تصویروں کی وجہ سے۔”

    ایک نوجوان طالب علم کی حیثیت سے جوزف بروڈسکی “ایک غیر مہذب بچہ” تھا جو اپنے اسکول میں لڑنے جھگڑنے والا بچی جانا جاتا تھا۔ پندرہ سال کی عمر میں بروڈسکی نے اسکول چھوڑ دیا اور کامیابی کے بغیر سب میرینرز اسکول میں داخل ہونے کی کوشش کی۔ وہ ملنگ مشین آپریٹر کی حیثیت سے کام کرتا رہا۔ بعدازاں ، معالج بننے کا فیصلہ کرنے کے بعد انہوں نے کرسٹی زندان میں اور سلائی کرنے کا کام کیا۔ اس کے بعد انہوں نے ہسپتالوں میں ، جہاز کے بوائلر روم میں ، اور ارضیاتی اسفار کی متعدد ملازمتیں رکھی۔ اسی وقت ، بروڈسکی نے خود تعلیم کے ایک پروگرام میں مشغول کیا۔ انہوں نے پولش بولنا سیکھا ،تاکہ وہ پولینڈ کے شعراء جیسے Cesesła Miłosz ، اور انگریزی کے کاموں کا ترجمہ کرسکیں تاکہ وہ جان ڈونی کا ترجمہ کرسکیں۔ راستے میں ، اس نے کلاسیکی فلسفہ ، مذہب ، خرافات ، اور انگریزی اور امریکی شاعری میں گہری دلچسپی حاصل کرلی۔

    جوزف بروڈسکی کو شمالی روس کے ایک مزدور کیمپ میں پانچ سال قید کی 18 ماہ قید کے بعد 1972 میں سوویت یونین سے جلاوطن کیا گیا تھا۔ جوزف بروڈسکی کے مطابق ادب نے اس کی زندگی کو گھیر لیا۔ انہوں نے کہا ، “میں ایک عام سوویت لڑکا تھا۔ “میں اس نظام کا آدمی بن سکتا تھا۔ لیکن کسی چیز نے مجھے الٹا کردیا: [فیوڈور دوستوفسکی] انڈر گراؤنڈ سے نوٹس پڑھ کر مجھے احساس ہوا کہ میں کیا ہوں۔ میں برا ہوں۔”

    بروڈسکی نے سوویت حکام کی سختیوں اور پابندیوں کے بعد امریکہ چلے گئے۔ اور 1972 میں سوویت یونین سے اور بقول ان کے “ہجرت کی” سختی سے نصیحت ہوئی ۔ ڈبلیو ایچ آڈن اور دوسرے حامیوں کی مدد سے ریاست ہائے متحدہ میں مقیم ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے ماؤنٹ ہولیوک کالج ، اور ییل ، ​​کولمبیا ، کیمبرج ، اور مشی گن سمیت یونیورسٹیوں میں تعلیم وتدریس کے پیشے سے منسلک ہو گئے۔

    ماسکو اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر آندرے رنچین کے مطابق: “بروڈسکی وہ واحد جدید روسی شاعر ہے جس کے جسمانی کام کو پہلے ہی کانونائزڈ کلاسک کا اعزازی خطاب دیا گیا ہے ۔ بروڈسکی کا ادبی تخصیص ایک غیر معمولی رجحان ہے۔ کسی بھی دوسرے ہم عصر روسی مصنف کو اس طرح کی متعدد یادداشتوں کا ہیرو تسلیم نہیں کیا گیا ہے۔ کسی اور کے پاس اتنی ساری کانفرنسیں ان کے لیے وقف نہیں تھیں”۔

    سوویت یونین چھوڑنے سے پہلے ، بروڈسکی نے اپنے پسندیدہ روسی شاعر انا اخماٹووا کے ساتھ تعلیم حاصل کی۔ جلاوطنی کے بعد وہ امریکہ چلے گئے۔ ، جہاں اس نے بروکلین اور میساچوسٹس میں قیام کیا۔ ۔ان کے دوست شاعر سیمس ہینی کے مطابق ، وہ “مبہوت ، محنتی اور ایک خاص مقدار میں خلوت میں رہتے تھے۔”

    بروڈسکی نے اپنی نسل کے سب سے بڑے روسی شاعر کے طور پراپنی ادبی حیثیت کو منوایا، نو شعری مجموعوں کے ساتھ ساتھ مضامین کے کئی مجموعے بھی شائع ہوئے ، اور 1987 میں ادب کا نوبل انعام ملا۔ انگریزی ترجمے میں ان کی شاعری کی پہلی کتاب 1973 میں شائع ہوئی۔جو فکریہ اور شاعرانہ شدت کے ساتھ ایک نئی شاعرانہ حساسیت کا حامل تھا۔

    کولمبیا یونیورسٹی اور ماؤنٹ ہولیوک کالج میں درس و تدریس کے علاوہ ، جہاں انہوں نے پندرہ سال تک درس دیا ، بروڈسکی نے 1991 سے 1992 تک ریاستہائے متحدہ کے شاعر لاریوٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ 1993 میں ، انہوں نے امریکی شاعری اور خواندگی پروجیکٹ کو ڈھونڈنے کے لئے اینڈریو کیرول کے ساتھ شمولیت اختیار کی۔ ایک نان نفع تنظیم ، جوجوزف بروڈسکی کے الفاظ میں ، “ثقافت کو امریکی ثقافت کا ایک زیادہ مرکزی حصہ بنانے کے لئےہے “۔

    جوزف بروڈسکی، جان ڈون سے لے کر آڈن تک انگریزی مابعد الطبعیاتی شعرا سے بہت متاثر تھے۔ اس کے علاوہ بہت سارے دیگر مصنفین جیسے ٹامس وینکلووا ، آکٹیوو پاز ، رابرٹ لوئل ، ڈیرک والکوٹ ، اور بینیٹاٹا کریری کی تحریروں سے بھی استفادہ حاصل کرتے رہے۔

    جوزف بروڈسکی 28 جنوری 1996 کو اپنے بروکلین اپارٹمنٹ میں دل کا دورہ پڑنے سے 55 سال کی عمر میں انتقال کر گئے۔ وہ وینس اٹلی میں Isola di San Michele کے قبرستاں میں دفن ہوئے۔

    جوزف بروڈسکی کی ایک نظم

    بیلفاسٹ دھن {Belfast Tune}
    یہاں ایک خطرناک شہر کی لڑکی ہے
    وہ اپنے سیاہ بالوں کو مختصر تراشتی ہے
    تاکہ اس کی کم تعداد کو خوفزدہ کرنا پڑے
    جب کسی کو تکلیف ہو۔
    وہ اپنی یادوں کو پیراشوٹ کی طرح جوڑتی ہے۔
    اس نےاسے گرا دیا ، وہ کوئلےجمع کرتی ہے
    اور گھر میں سبزیوں کو پکاتی ہے: وہ گولی چلاتے ہیں
    یہاں وہ کھاتے ہیں جہاں
    آہ ، ان حصوں میں کہیں زیادہ آسمان ہے ، کہیں ،
    زمین۔۔ لہذا اس کی آواز کی آواز
    اور اس کے گھورنے سے آپ کی ریٹنا پر بھورے رنگ کی طرح داغ پڑتا ہے
    جب آپ سوئچ کرتے ہو تو بلب
    نصف کرہ ، اور اس کے گھٹنے کی لمبائی کا بٹیر
    اسکرٹ کو پکڑنے کے لئے اسکرٹ کا کٹ ،
    میں نے اس کو یا تو پیار کیا تھا یا قتل کیا ہے یا اس کا خواب دیکھا ہے
    کیونکہ یہ قصبہ بہت چھوٹا ہے۔

    ترجمہ احمد سہیل

  • افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر پابندی؛ ضیاءالدین یوسف زئی اپنے آنسو نہ روک سکے

    افغان خواتین کی تعلیم پر بات کرتے ہوئے ضیاء الدین یوسف زئی اپنے آنسو پر قابو نہ پاسکے

    نوبل انعام یافتہ ملالہ کے والد اور اسے پرواز کرنے دو کتاب کے مصنف، تعلیم بارے متحرک کارکن ضیاء الدین یوسف زئی نے ایک پشتو میڈیا پلیٹ فام سے بات کررہے تھے جب افغانستان کی خواتین بارے ان پر حصول تعلیم پر پابندی کی بات آئی تو وہ جزباتی ہوگئے اور اپنے آنسو نہ روک پائے.


    اس انٹرویو میں انہوں نے پشتوں زبان میں بات کرتے ہوئے افغانستان کے مردوں سے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ؛ "میں اپنے افغان پشتون بھائیوں سے ناراض ہوں کیونکہ انہیں خواتین اور اپنی بچیوں کے اس حقوق کے حق میں آواز بلند کرنی چاہئے اور حصول تعلیم پر لگی ان پابندیوں کیخلاف ان کا ساتھ دینا چاہئے. انہوں نے مزید کہا کہ تعلیم ہر مرد و عورت کا برابر کا حق ہے لہذا ہم مردوں کو بھی ان خواتین کا ساتھ دینا چاہئے جن سے ان کا یہ حق چھینا گیا ہے.”

    صحافی ملک رمضان اسراء نے ضیاء الدین یوسفزئی کی یہ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے پشتوں اور انگریزی میں لکھا کہ تعلیم بارے متحرک کارکن افغان خواتین اور بچیوں کی تعلیم بارے بات کرتے ہوئے اپنے آنسو پر قابو نہ رکھ سکا. اور انہوں نے مردوں سے درخواست کی کہ وہ خواتین کے حصول تعلیم کیلئے دنیا بھر میں اپنی آواز بلند کریں.


    ضیاء الدین یوسفزئی نے اپنی ایک ٹوئیٹ میں دعا کی کہ؛ "خدا کرے کہ میری آواز تمام افغانوں اور پشتونوں کو سنائی دے اور وہ تعلیم، کام اور آزادی کے انسانی حقوق کی جدوجہد میں افغانستان کی بیٹیوں اور بہنوں کے ساتھ کھڑے ہو کر اپنی آواز کو ان کی آواز میں شامل کریں۔”

  • مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا

    مائیک پومپیو نے شہزادہ محمد بن سلمان کو اپنی کتاب میں عالمی تاریخی شخصیت قرار دے دیا
    سابق امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی نئی کتاب ’’ نیور گیو این انچ: فائٹنگ فار دا امریکہ آئی لو‘‘ کا پوری دنیا میں چرچا ہے ۔ پومپیو کی یادداشتوں میں بہت سے سرپرائز موجود ہیں۔ اس کتاب نے بہت سے معاملات پر موجود معلومات کی روشنی میں امریکہ کے اندر اور باہر امریکی سیاسی حلقوں اور میڈیا کی دلچسپی کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

    اپنی یادداشتوں میں پومپیو نے سعودی عرب کا بھرپور دفاع کیا ہے ۔ انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ سعودی عرب کے ساتھ ان کے سفارتی تعلقات امریکی میڈیا کو پریشان کر رہے تھے۔ پومپیو نے زور دے کر کہا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ایک مصلح ہیں جو اپنے وقت کے اہم ترین رہنماؤں میں سے ایک ثابت ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان عالمی سطح پر واقعی ایک تاریخی شخصیت ثابت ہوں گے۔

    اپنی کتاب میں پومپیو نے اکتوبر 2018 میں اپنے ریاض کے دورے کا حوالہ دیا اور کہا کہ جس چیز نے میڈیا کو گوشت کے مذبح میں سبزی خوری سے زیادہ پاگل پن کا شکار کردیا وہ سعودی عرب کے ساتھ ہمارے تعلقات تھے۔ ٹرمپ کی جانب سے خود کو سعودی عرب جانے کا ٹاسک سپرد کئے جانے کے حوالے سے پومپیو نے بتایا کہ ایک طرح سے مجھے لگتا ہے کہ صدر ٹرمپ مجھ سے حسد محسوس کر رہے تھے کیونکہ میں ہی وہ تھا جس نے واشنگٹن پوسٹ اور نیویارک اور حقیقت سے دور رہنے والے دوسرے بزدلوں کو تکلیف پہنچائی تھی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ خاشقیجی کا قتل اشتعال انگیز اور ناقابل قبول تھا لیکن انہوں نے اس بات سے اتفاق نہیں کیا کہ خاشقیجی ایک "صحافی” تھے۔ پومپیو نے میڈیا پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میڈیا نے خاشقیجی کو "سعودی باب ووڈورڈ” بنا دیا تھا حالانکہ خاشقیجی ایک ایکٹوسٹ تھے۔

  • نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    نوجوان کو قتل کرنیوالے کو سزائے موت کا حکم

    سعودی عرب میں ڈیڑھ ماہ قبل کار میں ایک نوجوان کو جلا کر مار ڈالنے کی ویڈیو نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ واقعہ جدہ میں پیش آیا تھا۔ مقتول بندر القرھدی کے مقدمہ کے وکیل اور مشیر عبد العزیز القلیصی نے بتایا ہے کہ بندر القرھدی کیس کا فیصلہ جاری کردیا گیا ہے جس میں مجرم کو سزائے موت سنا دی گئی ہے۔ القلیسی نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا "اے اللہ، تیری ہی حمد ہے جب تک کہ تو راضی نہ ہو جائے، مقتول اور شہید بندر بندر القرھدی کا مقدمہ مدعا علیہ کے خلاف سزائے موت کے ساتھ ختم ہوا۔ یہ اللہ کی طرف سے احسان ہے۔ ہم اس مقدمہ میں تعاون اور مدد کرنے والے ہر شخص کا بھی شکریہ ادا کرتے ہیں۔ مقدمہ کے آغاز سے لیکر عدالت تک میں کام کرنے والے اپنے دفتر کے ارکان کا بھی شکرگزار ہوں۔
    https://twitter.com/ks2k_A/status/1618505964289724417
    العربیہ نیٹ کے مطابق مقتول کے والد طہٰ القرھدی بھی وکیل کے ساتھ ویڈیو میں نمودار ہوئے اور انہوں نے کہا کہ الحمد للہ، مجرم برکات کو سزا سنا دی گئی۔ یہ اس بہتر اور پاک ملک میں اللہ کا حق اور انصاف ہے۔ واضح رہے ڈیڑھ ماہ مواصلاتی ویب سائٹس کے کارکنوں نے ایک ویڈیو بڑے پیمانے پر شیئر کی تھی جس میں ایک ایک نوجوان کو گلی میں چیختے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔ نوجوان پکار رہا تھا ’’ میں تو بہت پیارا ہوں‘‘۔ بندر کو اس کے دوست ورغلا کر لائے تھے اور جدہ میں ایک گاڑی میں اسے جلا دیا تھا۔

    اس وقت بندر کے والد طٰہ نے ’’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘‘ کو بتایا تھا کہ میرا بیٹا بندر میرے ساتھ ایک ہی گھر میں رہتا ہے اور میری اس سے آخری مرتبہ ملاقات اس وقت ہوئی تھی جب وہ اپنے ساتھ ایک برگر اور شوارما پر مشتمل کھانے کے طور پر لایا اور اسے اپنے کمرے کے دروازے پر لٹکا کو چھوڑ کر چلا گیا تھا۔ بدقسمتی سے وہ اپنی موت کی وجہ سے اپنے لٹکائے ہوئے کھانے کو کھانے واپس نہیں آسکا۔ اس کے دوست نے اس کے ساتھ غداری کی اور اس کو زندگی سے محروم کردیا۔

    انہوں نے کہا میرا بیٹا بندر اپنی مہربانی اور اچھے سلوک کے لیے جانا جاتا تھا۔ وہ 20 سال سے سعودی ایئرلائنز میں کام کر رہا تھا۔ وہ حسن سلوک کے سوا کچھ نہیں جانتا تھا۔ میں نے اسے دوسروں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کے لیے پالا تھا اور اسے نیکی سے محبت کرنا سکھایا تھا۔ انہوں نے دکھ سے بھرے الفاظ میں کہا تھا کہ کام پر اس کا ساتھی وہی ہے جس نے اس کے ساتھ دھوکہ کیا۔ اور جو واقعہ پیش آیا وہ ہمارے معاشرے کے لیے غیر معمولی ہے۔ ہم نے اس سے قبل ایسے واقعے کے متعلق کبھی نہیں سنا۔

  • ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    ڈرون جو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر600 میل فاصلہ طے کر سکتا ہے

    نیویارک: امریکی کمپنی نے سامان لے جانے والے ڈرون میں ایک نئی پیشرفت کا اعلان کیا ہےجو 100 پاؤنڈ وزن اٹھا کر 600 میل (960) کلومیٹر کا فاصلہ طے کرسکتا ہے۔

    باغی ٹی وی: خود مختار ڈرون کومشہور کمپنی مائٹی فلائے نے بنایا ہے اور ڈرون کو سینٹو کا نام دیا گیا ہے یہ ایک وقت میں 450 کلوگرام وزن اٹھا کر اسے 960 کلومیٹر کے فاصلے تک لے جاسکتا ہے ڈرون اپنے سافٹ ویئر کے بل پر اڑتا ہے، لینڈ کرتا ہے اور خود ہی سامان کو باہر بھیجتا ہے سب سے اہم بات یہ ہے کہ ٹیک آف کے لیے اسے بہت کم جگہ درکار ہوتی ہے۔

    پاکستان کی معیشت تباہی کے قریب پہنچ چکی ہے،امریکی اخبار

    اس کا فریم کاربن فائبر کا ہے جس کا کل وزن 161 کلوگرام ہے ڈرون کو اٹھانےکےلیے اس میں 8 پنکھڑیاں لگائی گئی ہیں جبکہ یہ کم رن وے کےلیے اپنے پروپلشن پوڈ بھی استعمال کرتا ہے۔ اسی بنا پر یہ زیادہ سے زیادہ 240 کلومیٹر فی گھنٹے کی رفتار سے سفر کرسکتا ہے۔ سینو کی لمبائی 5 اور چوڑائی 4 میٹر ہے جبکہ اس کے اندر ایک کنویئر بیلٹ بھی لگایا گیا ہے جس پر چیزیں رکھی اور اٹھائی جاسکتی ہے۔ یہ بیلٹ ایئرپورٹ کی سامان پٹی کی طرح ازخود کام کرتا ہے۔

    سلمان خان کی نئی فلم ’کسی کا بھائی، کسی کی جان‘ کا ٹریلر جاری

    کمپنی کےمطابق یونائیٹڈ پوسٹل سروس کے 96 چھوٹےپیکٹ لے جاسکتا ہے اور زمینی گاڑی سے دوگنی رفتار سے سفر کرتے ہوئے سامان کی تیزترین رسائی کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ امریکی ایف اے اے اتھارٹی نے اسے استعمال کی اجازت بھی دے چکی ہے۔

  • پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن  ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا،ماہر اقبالیات اور شاعرہ جرمن ڈاکٹر این میری شمل

    پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا

    ممتاز جرمن فلسفی ،مستشرق ، ماہر اقبالیات اور شاعرہ ڈاکٹر این میری شمل

    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ممتاز جرمن اسکالر‘ ماہر اقبالیات‘ مستشرق اور اردو زبان کی پرستار ڈاکٹر این میری شمل 7 اپریل 1922 کو جرمنی کے شہر ایفرٹ میں پیدا ہوئیں ان کے والد صاحب کا نام انا شمل اور والدہ محترمہ کا نام پاؤل تھا۔ انہوں نے جرمنی کے شہر بون میں اعلی تعلیم حاصل کی اور بعد ازاں ہاروڈ اور بون یونیورسٹی میں بطور پروفیسر اپنے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔ انہیں انگریزی عربی فارسی ترکی اور اردو زبان پر عبور حاصل تھا۔

    تحقیق اور تصوف اور اسلامیات و اقبالیات سے گہری دلچسپی تھی جبکہ پاکستان کی علاقائی زبانوں سندھی، سرائیکی اور پنجابی زبانوں سے بھی گہری دلچسپی تھی وہ پاکستان کو اپنا دوسرا گھر سمجھتی تھیں۔ وہ کئی بار پاکستان کا دورہ کر چکیں مختلف کالجز اور کانفرنسز اور یونیورسٹیز میں لیکچرز دیتی رہیں ۔

    انہوں نے علامہ اقبال کی تصانیف” بانگ درا، پیام مشرق اور جاوید نامہ کا جرمن زبان میں ترجمہ کیا۔ حکومت پاکستان کی جانب سے این میری شمل کو 3 ایوارڈز سے نوازا گیا جن میں ہلال امتیاز ستارہ امتیاز اور عالمی صدارتی اقبال ایوارڈ شامل ہیں ۔

    ڈاکٹر شمل میری نے 19 سال کی عمر میں مملوک خاندان کے مصر میں خلیفہ اور قاضی کا مقام کے عنوان سے ڈاکٹریٹ کیا۔ انہوں نے علامہ اقبال کی کتاب” جاوید نامہ” کا منظوم ترجمہ بھی کیا۔ وہ جرمن‘ انگریزی‘ عربی‘ فارسی‘ اردو اور دیگر پاکستانی زبانوں پر عبور رکھتی تھیں۔ انہوں نے اقبال کے علاوہ سندھی زبان کی ممتاز علمی اور ادبی شخصیات پیر علی محمد راشدی‘ پیر حسام الدین راشدی‘ غلام ربانی آگرو اور جمال ابڑوکی تصانیف کو بھی جرمن زبان میں منتقل کیا۔

    ڈاکٹر این میری شمل کی زندگی میں ہی حکومت پاکستان نے لاہور میں ایک سڑک کو ان کے نام سے موسوم کر دیا تھا جس پر بھرپور خوشی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے متعدد بار مذاق میں کہا تھا کہ "پاکستانیوں نے میرے مرنے کا بھی انتظار نہیں کیا "۔ این میری شمل انگریزی اور جرمن زبان میں شاعری کرتی تھیں۔

    انگریزی اور جرمنی میں ان کے 2شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں ۔ تصوف اور اسلامیات سے انہیں خاص دلچسپی تھی۔ ان کی 100 سے زائد کتابیں شائع ہو چکی ہیں ۔ انہوں نے علامہ اقبال کے مذہبی خیالات پر مبنی "جبرائیل کے پر” کے عنوان سے ایک کتاب لکھی این میری شمل کا 26جنوری 2003 کو جرمنی کے شہر بون میں انتقال ہوا۔