Baaghi TV

Tag: celebrities

  • اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    نوشی گیلانی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو زبان کی مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام نشاط گیلانی ہے۔ وہ 14 مارچ 1964 میں پاکستان کے شہر بہاولپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد مسعودگیلانی پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ نوشی نے اپنی تعلیم بہاولپور میں ہی مکمل کی۔ انہیں بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔

    ان کا پہلا مجموعہ ”محبتیں جب شمار کرنا“ منظرِ عام پرآیا تو اسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1995 میں نوشی کی شادی فاروق طراز کے ساتھ ہوئی اور وہ سان فرانسیسکو، امریکا چلی گئیں مگرکچھ عرصے بعد اُن سے علیحدگی ہوگئی۔

    نوشی اسلامیہ یونیورسٹی، بہالپور میں اردو کی اُستاد کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ 1997 میں نوشی کا دوسرا مجموعہ ”اداس ہونے کے دن نہیں“ منظرِ عام پر آیا۔ 25 اکتوبر 2008 میں نوشی سڈنی میں مقیم اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا کے سابق جنرل سکریٹری سعید خان(جو خود بھی شاعر ہیں) کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور سڈنی، آسٹریلیا چلی گئیں۔

    انہوں نے پاکستانی گلوکار پٹھانے خان کو خراجِ تحسین پیش کیا جسے پاکستان نیشنل کونسل آف دا آرٹ(PNCA) نے اسپانسر کیا۔ امریکا میں قیام کے دوران ان کے تجربات و مشاہدات بھی ان کی شاعری سے جھلکتے ہیں۔ ”ہوا“ اور ”محبت“ کے الفاظ مضبوط استعارے کے طور پہ ان کی شاعری میں بہت استعمال ہوئے ہیں۔اسی بنا پر انھیں ہوا کا ہم سُخن بھی کہا جاتا ہے۔

    ان کی شاعری کے سات مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں کے انگریزی،ملائی اور یونی زبانون میں ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔نوشی گیلانی نے آسٹریلین شاعر Les Murray کی شاعری کو اردو میں ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے خود بھی انگریزی میں شاعری(7) کی ہے۔ان کی مشہور نظم ہے،To Catch Butterflies ہے۔

    نوشی گیلانی اردو اکیڈمی آسٹریلیا کی شریک بانی بھی ہیں جس کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی۔ یہ اکیڈمی اردو شاعری و ادب کی ترویج کے لیے ہر ماہ سڈنی میں ایک نشست کا اہتمام کرتی ہے۔ ان کی نئے مجموعہ ”ہوا چپکے سے کہتی ہے“(2011) کو اس قدر پزیرائی ملی کہ اردو بازار میں آنے کے دو گھنٹوں میں ہی پہلا ایڈیشن لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا۔

    اعزازات
    خواجہ فرید ایوارڈ

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    نوشی گیلانی کی شائع ہونے والی کتابیں درج ذیل ہیں۔
    1:محبتیں جب شمار کرنا (1993)
    2:اداس ہونے کے دن نہیں(1997)
    3:پہلا لفظ محبت لکھا(2003)
    4:ہم تیرا انتظار کرتے رہے (2008)
    5:نوشی گیلانی کی نظمیں(2008)
    6:اے میرے شریکِ رسال جاں (2008)
    7: ہوا چپکے سے کہتی ہے (2011)

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
    کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں

    میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیے کہاں تک
    سیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں

    ہمارے درمیاں عہدِ شبِ مہتاب زِندہ ہے
    ہَوا چْپکے سے کہتی ہے ابھی اِک خواب زِندہ ہے

    نوشی گیلانی کی ایک نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو، کبھی تو لکھو
    ہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیں
    نہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئی
    نہ خواب میں انتظار کوئی

    اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئی
    نہ شام صد اعتبار کوئی
    نہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہ
    نہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا استعارہ
    نہ روشنی کی لکیر کوئی، نہ ان کا اپنا سفیر کوئی

    جو ان کے دکھ پر کتاب لکھے
    مسافرت کا عذاب لکھے
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو!

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی
    ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک
    لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
    بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
    اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں
    چوڑیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگنی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
    کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے
    یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
    مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
    رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں
    کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے
    رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل
    ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے
    وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
    تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
    ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف
    روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے
    اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف
    تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا
    اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف
    یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے
    سارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف
    ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرے
    سچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف
    ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہی
    گفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف
    صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہے
    لڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف
    اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہوا
    تجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف
    کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیں
    کون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف

  • عامر خان 58 سال کے ہو گئے

    عامر خان 58 سال کے ہو گئے

    بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان ہو گئے ہیں 58 برس کے. آج وہ اپنی 58 ویں سالگرہ منا رہے ہیں. عامر خان بالی وڈ کے اداکار، فلم ڈائریکٹر اور کامیاب پروڈیوسر ہیں.اپنے 30 سالہ کیرئیر کے دوران انہوں نے متعدد فلموں میں‌نہ صرف اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ فلمیں بنائیں بھی اور شائقین کی خوب داد وصول کی . ان کی خدمات کے اعتراف میں‌ انہیں حکومت ہند نے 2003 میں پدم شری اور 2010 میں پدم بھوشن سے نوازا، یہی نہیں‌بلکہ 2017 میں چین کی حکومت نے انہیں اعزازی خطاب بھی دیا. عامر خان کو نو فلم فیئر ایوارڈز، چار نیشنل فلم ایوارڈز، اور ایک اے اے سی ٹی اے ایوارڈ بھی مل چکا ہے ک. عامر خان کے پاس یہ اعزاز بھی ہے کہ ان کی فلم

    لگان آسکر کے لئے نامزد ہوئی. عامر خان نے بطور چائلڈ ایکٹر اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز اپنے ہی چچا ناصر حسین کی فلم یادوں کی بارات جو کہ 1973 میں ریلیز ہوئی اس سے کیا . اس کے بعد انہوں نے 1984 میں ایک فلم کی لیکن ان کو کامیابی نہ مل سکی لیکن 1988 میں بننے والی فلم قیامت سے قیامت تک نے ان کو راتوں رات سپر سٹار بنا دیا اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. ان کی مشہور فلموں میں دل ، راجہ ہندوستانی ، سرفروش ، عشق ،
    لگان ، رنگ دے بسنتی ، میلہ و دیگر قابل زکر ہیں. انہوں نے لال سنگھ چڈھا جیسی فلمیں بھی پرڈیوس کیں.

  • انوشکا شرما ہیں خوشی سے نہال کیوں؟‌

    انوشکا شرما ہیں خوشی سے نہال کیوں؟‌

    بالی وڈ اداکارہ انوشکا شرما آج کل بہت خوش ہیں ، اس خوشی کااظہار انہوں‌ نے کیا ہے سوشل میڈیا پر ، جی ہاں انوشکا شرما نے اپنے شوہر معروف کرکٹر ویرات کوہلی کی میچ میں سنچری بنانے پر خوشی کا اظہار کیا ہے، تفصیلات کے مطابق انڈیا اور آسٹریلیا کے درمیان احمدآباد کے نریندر مودی اسٹیڈیم میں کھیلے جانے والے چوتھے ٹیسٹ میچ میں ویرات کوہلی تین سال کے بعد سنچری کی ہے. انوشکا کے ساتھ ساتھ کرکٹر ویرات کوہلی بھی کافی خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ میری جیت اور اپنی سنچری کو اپنی اہلیہ کے نام کرتا ہوں. دوسری طرف انوشکا شرما نے سوشل میڈیا پر میچ

    کھیلتے ہوئے اپنے شوہر کی ایک وڈیو شئیر کی اور کیپش لکھا کہ میرے شوہر کی طبیعت ناساز ہے لیکن وہ پھر بھی جذبے کے ساتھ نہ صرف کھیل رہے ہیں بلکہ سنچری بھی کر لی ہے ، انہوں نے مزید یہ بھی لکھا کہ مجھے ویرات کے اس جذبے نے ہمیشہ ہی بہت سراہا ہے. انوشکا شرما کی اس پوسٹ پر انوشکا کے بالی وڈ ساتھیوں اور مداحوں نے مبارکباد کے کمنٹس کئے. واضح رہے کہ انوشکا شرما اور ویرات کوہلی نے محبت کی شادی کی اور ان کی ایک بیٹی بھی ہے. دونوں ایک دوسرے کے ساتھ ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں.

  • ملالہ یوسفزئی کی دستاویزی فلم Stranger at the Gate آسکرز نہ جیت سکی

    ملالہ یوسفزئی کی دستاویزی فلم Stranger at the Gate آسکرز نہ جیت سکی

    ملالہ یوسفزئی جو کہ گزشتہ روز سوشل میڈیا پر چھائی رہیں ، انہوں نے حال ہی میں 95 یں آسکرز کی تقریب میں شرکت کی ، اس تقریب میں انہوں‌ نے سلور رنگ کی میکسی پہن رکھتی تھی انہیں اس لباس میں بہت پسند کیا گیا ، دنیا بھر میں ملالہ کے اس انداز اور لباس کی بہت پذیرائی ہوئی. لیکن ملالہ کو آسکر نے وہ خوشی نہ دی جس کا شاید وہ آنکھوں میں خواب لئے تقریب میں شریک ہوئیں تھیں ، ملالہ یوسفزائی کی مختصر دورانیے کی دستاویزی فلمStranger at the Gate آسکرز ایوارڈ پانے میں ناکام رہی. اس ایوارڈ‌ میلے میں بہترین انٹرنیشنل فیچر فلم کا ایوارڈAll Quiet on the western front نے جیتا اس فلم کی کہانی پہلی جنگِ عظیم کے دوران پیش آنے والے

    تنازعات کی داستان کو بیان کرتی ہے. آسکرز کی اس تقریب کا میلہ لاس اینجلس میں سجا جہاں دنیا بھر سے نامور شخصیات نے شرکت کی اور ایونٹ کو یادگار بنایا ، ایونٹ کی میزبانی کے فرائض جمی کیمل نے ادا کئے. اس کے علاوہ ہم آپ کو یہ بھی بتاتے چلیں کہ آسکر ایوارڈز کی 60 سالہ تاریخ میں پہلی بار اس تقریب میں بچھائے جانے والے سرخ قالین کا رنگ تبدیل کیا گیا جسے بہت سراہا گیا.

  • بھارتی گانے ناتو ناتو نے آسکر کا میلہ لوٹ‌ لیا

    بھارتی گانے ناتو ناتو نے آسکر کا میلہ لوٹ‌ لیا

    جنوبی بھارتی فلم انڈسٹری کا گانا ناتو ناتو نے آسکر کا میلہ لوٹ لیا ہے جی ہاں تیلگو فلم آر آر آر کے لئے بنایا گیا گیت ناتو ناتو آسکر پانے میں کامیاب ہو گیا ہے . فلم کو ایس ایس راجا مولی نے ڈائریکٹ کیا ہے ، تھرلر اور ایکشن سے بھرپور اس فلم کے گیت کے ساتھ لیڈی گاگا اور ریحانہ جیسی امریکی گلوکارائوں کے گیت تھے جن کو پیچھے چھوڑتے ہوئے تیلگو زبان میں بنی اس فلم کے گیت نے آسکر کا میلہ لوٹ لیا ہے. یہ بھی ایک الگ ہی تاریخ ہے کہ لیڈی گاگا اور ریحانہ جیسی گلوکارائیں منہ تکتی رہ گئیں اور گانے کا ایوارڈ ایک ایشین فلم لے گئی. یہ کامیابی یقینا بالی وڈ

    اور سائوتھ انڈسٹری برس ہا برس یاد رکھے گی. تیلگو فلم انڈسٹری اپنے کے گانے کو آسکر ملنے پر خوب جشن منا رہی ہے ادھر بالی وڈ انڈسٹری کے سٹارز بھی اس کامیابی پر کافی خوش دکھائی دے رہے ہیں اور دیپیکا نے تو کہہ دیا ہے کہ انہیں اگر کسی اچھی تیلگو فلم میں کام کرنے کا موقع میسر آیا تو وہ ضرور کریں گی. صرف یہی نہیں بلکہ بالی وڈ اداکارہ ڈیپیکا پڈوکون نے رواں سال آسکر کی میزبانی کارکے ایک اور اعزاز اپنے نام کر لیا ہے.

  • میں ستیش کوشک کے ساتھ کسی بزنس میں نہیں تھا نہ ہی انکو قتل کیا بھارتی بزنس مین

    میں ستیش کوشک کے ساتھ کسی بزنس میں نہیں تھا نہ ہی انکو قتل کیا بھارتی بزنس مین

    بالی وڈ‌ اداکار ستیش کوشک کی موت بھی ہو گئی ہے کنٹرورشل کیونکہ ان کے بزنس پارٹنر وکاس مالو پر ان کی اہلیہ سانوی مالو نے اداکار کے قتل کا الزام دھر دیا ہے لیکن اب ستیش کے بزنس پارٹنر کہلائے جانے والے وکاس مالو نے کہا ہے کہ مجھ پر یہ الزام بالکل غلط ہے کہ میں نے ستیش کوشک کو قتل کیا ہے. میں نے تو کبھی ان کے ساتھ بزنس کیا ہی نہیں ہے. دوسری طرف وکاس کی اہلیہ سانوی کہتی ہیں کہ ستیش نے وکاس کو 15 کروڑ روپے دئیے تھے ان کی ملاقات بیرون ملک ہوئی جہاں ستیش اور وکاس کے درمیان سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، ستیش نے

    وکاس سے اپنے پیسے واپس لینے کا مطالبہ کیا اور مجبورا وکاس کو پیسے واپس کرنے کا وعدہ کرنا پڑا ، یہ سب باتیں سانوی نے دہلی کے پولیس کمشنر کوخط لکھ کر کہیں. خط میں انہوں‌نے لکھا کہ اداکار کو قتل کیا گیا ہے اور مجھے شک ہے میرے شوہر نے ایسا کیا ہے کیونکہ ستیش ان سے پیسوں کی واپسی کا مطالبہ کررہے تھے. پولیس کیس کے ہر پہلو پر تفتیش کررہی ہے، اور وکاس کو بھی جلد ہی شامل تفتیش کرنے ارادہ رکھتی ہے لیکن وکاس نے کہہ دیا ہے کہ انہوں‌نے ستیش کو قتل نہیں کیا نہ ہی وہ انکے بزنس پارٹنر تھے.

  • انوشے اشرف نے سوشل میڈیا چھوڑ‌دیا؟

    انوشے اشرف نے سوشل میڈیا چھوڑ‌دیا؟

    اداکارہ انوشے اشرف سوشل میڈیا پرکافی متحرک رہتی ہیں لیکن حال ہی میں انہوں نے اپنے انسٹاگرام اکائونٹ پر ایک پوسٹ لگا کر سوشل میڈیا سے الوداع لینے کا اعلان کیا ہے. جی ہاں انوشے اشرف اب سوشل میڈیا پر نظر نہیں آئیں گی لیکن کیوں اور کتنے عرصے تک وہ ایسا کریں گی؟. تفصیلات کے مطابق انوشے اشرف نے سوشل میڈیا سے بریک لینے کا فیصلہ کیا ہے. انہوں‌نے کہا کہ میں رمضان المبارک کا کھلے دل اور دماغ سے استقبال کرنا چاہتی ہوں اور اس مہینے میں عبادات میں مصروف رہنا چاہتی ہوں میں نہیں چاہتی کہ سوشل میڈیا پر ہونے والی گفتگو اور

    چیزوں کا حصہ بنی رہوں. انہوں‌نے کہا کہ میں اس ہفتے پہاڑوں پر جائوں گی اور ایک روحانی تربیت کے پروگرام میں شریک ہوں گی جہاں عبادت، مطالعہ، مراقبہ اور تبادلہ خیالات کے سیشن ہوں گے، انوشے اشرف نے یوں سوشل میڈیا سے بریک لینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور اس فیصلے کو بہت زیادہ سراہا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ سب کو اس مہینے سوشل میڈیا سے دور رہ کے اپنا دھیان روزہ اور نماز پر رکھنا چاہیے اور جتنا ہو سکے اللہ کی عبادت میں مشغول رہنا چاہیے.

  • اب مجھے کوئی پراجیکٹ آفر نہیں ہوتا صنم سعید نے ایسا کیوں کہا ؟‌

    اب مجھے کوئی پراجیکٹ آفر نہیں ہوتا صنم سعید نے ایسا کیوں کہا ؟‌

    پاکستان شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ صنم سعید جنہوں نے ڈراموں میں اپنی اداکاری کے جوہر دکھا کر شائقین سے ہمیشہ ہی بہت داد سمیٹی. انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ میں اگر کسی پراجیکٹ کو رد کرتی ہوں تو یہ نہیں سوچا جاتا کہ شاید میرے پاس تاریخیں نہیں‌ہوں یا میں کہیں مصروف ہوں گی یا کردار کہانی میری توقعات کے مطابق نہیں‌ہوگا . بلکہ یہ سوچا جاتا ہے کہ میں تو انکار ہی کروں‌گی. انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ اب میرے پاس کردار آتے ہی نہیں لوگوں کو لگنے لگ گیا ہے کہ میں تو ہر حال میں رد کر دوں گی اور کام نہیں کروں گی . حالانکہ

    ایسا نہیں ہے . میں کرداروں اور پراجیکٹس کے معاملے میں بہت زیادہ سلیکشن سے کام لیتی ہوں. اگر کوئی چیز پسند نہیں آئی تو میں‌نہیں‌کرتی چاہے کچھ بھی ہو اداکاری پر کمپرومائز نہیں‌کرتی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ اچھی اداکاری اور کردار لوگوں کو پسند رہ جاتے ہیں اس لئے نہایت ہی سوچ سمجھ کر انتخاب کرنا چاہیے اور سوچ سمجھ کر انتخاب کرنے میں بالکل بھی برائی نہیں ہے. یاد رہے کہ صنم سعید نے ڈراموں کے ساتھ ساتھ فلموں میں بھی کام کیا ہے لیکن فلموں میں انہیں زیادہ پذیرائی نہیں مل سکی.

  • ستیش کوشک کو قتل کیا گیا ، مرڈرر کی اہلیہ بول پڑی

    ستیش کوشک کو قتل کیا گیا ، مرڈرر کی اہلیہ بول پڑی

    بالی وڈ اداکار ستیش کوشک جن کی اچانک وفات پر سارا بالی وڈ سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ان کے بارے میں حال ہی میں ایک انکشاف ہوا ہے. کہا جا رہا ہے کہ ستیش کوشک کو قتل کیا گیا ہے . تفصیلات کے مطابق دہلی کے ایک بزنس مین نے ستیش کوشک سے 15 کروڑ روپے یہ کہہ کر لئے کہ دبئی میں ایک بزنس میں‌انویسٹ کرنے ہیں. ستیشن کوشک نے انہیں وہ پسیے دے دئیے ، اب بزنس مین ان کو نہ پیسے دنیا چاہتا تھا اور نہ ہی اس بزنس کا حصہ دار بنانا چاہتا تھا اسلئے اسکو قتل کر دیا. مرڈرر کی بیوی نے یہ بیان دیکر ایک ہلچل مچا دی ہے. تاہم دہلی کے

    ایک بزنس مین کی اہلیہ کے بیان کے بعد بالی وڈ سلیبرٹیز کی طرف سے کوئی رد عمل تاحال سامنے نہیں آیا. پولیس نے ستیش کوشکے کو قتل کئے جانے کے بیان کے بعد تفیش کا آغاز کر دیا ہے ، کہا جا رہا ہے کہ تفتیش کادائرہ وسیع پیمانے تک ہو گا اور ہر کسی سے پوچھ گچھ ہو گی تاہم ستیش کے بہت سارے ساتھیوں کو تاحال ان کی وفات کا یقین نہیں آیا. واضح رہے کہ ستیش کوشک کے بارے میں جو پہلے اطلاعات آئیں وہ یہی تھیں کہ اداکار کو دل کا دورہ پڑا جو کہ جان لیوا ثابت ہوا.

  • جاوید اختر کا ایک بار پھر پاکستان پر وار ، بولے اردو پاکستانی نہیں‌ ہندوستانی زبان ہے

    جاوید اختر کا ایک بار پھر پاکستان پر وار ، بولے اردو پاکستانی نہیں‌ ہندوستانی زبان ہے

    بالی وڈ کے معروف رائٹر اور ادیب جاوید اختر کے دل میں پاکستان کے خلاف نفرت بھری ہے اس کا اندازہ اس وقت ہوا جب انہوں نے فیض میلے میں شرکت کرکے فضول قسم کی باتیں کیں انہوں نے کہا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اردو کو پاکستان کی زبان کیوں‌کہا جاتا ہے ، ارو تو ہندوستان کی زبان ہے ، پاکستان تو کشمیر کو بھی اپنا حصہ قرار دیتا ہے تو کیا ہم اس بات کو بھی مان لیں . پاکستان تو خود 1947 کو وجود میں آیا ایک الگ ملک بنا اس کی

    زبان کہاں اردو بن گئی. انہوں نے کہا کہ زبان کا تعلق مذہب سے نہین بلکہ خطے کے ساتھ ہوتا ہے ، سارے یورپ میں اب انگریزی بولی جاتی ہے تو کیا ان سب کا مذہب ایک ہے؟ نہیں ایسا نہیں ہے. اور اردو پاکستان کی زبان کہنے والوں سے کہوں گا کہ یہ زبان ہماری ہے. ہندوستان کی زبان ہے اسے ہندوستان کی زبان کہا جائے. یاد رہے کہ جاوید اختر جب سے لاہور سے ہو کر گئے ہیں وہ روزانہ کی بنیاد پر گھٹیا قسم کے بیانات دے رہے ہیں جس کی وجہ سے سوشل میڈیا پر انہیں کافی تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے.