Baaghi TV

Tag: celebrities

  • راکھی کی شرلین چوپڑہ سے دوستی ہوگئی

    راکھی کی شرلین چوپڑہ سے دوستی ہوگئی

    راکھی ساونت اور شرلین چوپڑہ کی آپسی لڑائی کے لئے دونوں ہی بہت مشہور ہیں، شرلین چوپڑہ نے گزشتہ دنوں راکھی ساونت کو گرفتار بھی کروایا. دونوں کے درمیان میڈیا پر لفظی جنگ جاری رہی ، لیکن اب سننے میں آیا ہے کہ راکھی اور شرلین کی دوستی ہو گئی ہے. راکھی ساونت نے اس بات کی تصدیق خود کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ شرلین اور میرے درمیان جتنے بھی اختلافات تھے وہ سب ختم ہو گئے ہیں ہم ایک دوسرے کی دوست بن گئی ہیں، شرلین نے مجھے اپنے گھر پر بلایا اور کہا کہ تمہارے ساتھ بہت غلط ہوا ہے تم یہ کیوں کہتی ہو کہ آئی لو مائی عادل

    تم کہا کرو کہ آئی لو مائی سیلو ، راکھی نے کہا کہ شرلین نے کہا کہ تم پہلے والی راکھی بنو اور کام کرو کام میں خود کو مصروف رکھو. تم ایک بار پھر پردیسیا گرل بن جائو وقت بہت بڑا مرہم ہوتا ہے. راکھی نے کہ شرلین نے ایسے وقت میں میرا ساتھ دیا ہے جب میں ٹوٹ کر بکھری پڑی ہوں. مجھے شرلین نے جو باتیں کہیں ہیں یقینا وہ قابل غور ہیں میں کوشش کروں گی کہ ان پر عمل کروں. یاد رہے کہ راکھی نے شرلین پر الزامات لگائے تھے اور شرلین کا راکھی پر الزام تھا کہ میری نازیبا تصاویر اس نے سوشل میڈیا پر جاری کی ہیں.

  • عامر خان  اس بار کنگنا رناوت کے نشانے پر

    عامر خان اس بار کنگنا رناوت کے نشانے پر

    بالی وڈ اداکارہ کنگنا رناوت سرخیوں میں رہنے کا ہنر خوب جانتی ہیں ، وہ ہر کسی کو لیتی ہیں آڑھے ہاتھوں. انہوں نے اس بار لیا ہے بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان کو آڑھے ہاتھوں انہوں نے سنا دی ہیں انہیں کھری کھری ، بولیں کہ میں نے چار بار نیشنل ایوارڈ جیتا ہے اور میں بھارت کی واحد ایسی اداکارہ ہوں جس کے پاس نیشنل ایوارڈ ہیں. عامر خان کو اگر یہ نہیں پتہ کہ کس کردار کے لئے کونسی اداکارہ پرفیکٹ ہیں تو ان کا اللہ ہی حافظ ہے. تفصیلات کے مطابقعامر خان کو چند روز قبل بھارت کی معروف مصنفہ شوبھا ڈے کی سوانح عمری پر کتاب کی

    تقریب رونمائی میں مدعو کیا گیا. تقریب کے دوران جب ان سے پوچھا گیا کہ شوبھا ڈے کے کردار پر فلم بنی تو اس کردار کو کون صحیح نبھائے گا، جس پر عامر خان نے پریانکا چوپڑا اور عالیہ بھٹ کا نام لیا۔اس موقع پر مصنفہ نے کہا کہ کیا وہ اس حوالے سے کنگنا رناوت کا نام لے سکتی ہیں، جس پر عامر خان نے بھی کنگنا کی تعریفوں کے پل باندھ دیئے۔اس حوالے سے جب ویڈیو وائرل ہوئی تو کنگنا رناوت نے عامر خان کو تنقید کا نشانہ بناڈالا اور کہا کہ انہوں نے میرا نام لینے کی بجائے پریانکا اور عالیہ بھٹ کا نام لیا.

  • کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    کترینہ کیف کو اردو کس نے سکھائی ؟‌

    سب جانتے ہیں کہ کترینہ کیف کو اردو بولنی نہیں آتی تھی انہوں نے فلموں میں‌ کام کرکے اردو اور ہندی سیکھی. لیکن کترینہ کیف کی اردو ایک پاکستانی اداکار نے ٹھیک کی اور اس پاکستانی اداکار کا نام علی ظفر ہے. علی ظفر نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت میں جا کر کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا. جب میں بھارت میں کام کرنے گیا تو اس دوران کترینہ کیف سے کام کرنے کے سلسلے میں ملاقاتیں رہیں اور کام کے دوران میں نے محسوس کیا کہ کترینہ کیف کو اردو بولنے میں دوقت محسوس ہوتی ہے اس لئے میں نے ان کو اردو سکھائی. انہوں نے کہا کہ آپ کہہ سکتےہیں کہ کترینہ کیف کا اردو سکھانے کے معاملے میں استاد رہا ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ

    میں نے ہمیشہ کام کرکے عزت کمائی ہے. میں مقابلے پر یقین نہیں رکھتا نہ ہی کسی کی ٹانگیں‌ کھینچتا ہوں میں خود اچھا کام کرنے پر اپنی توجہ مرکوز رکھتا ہوں. انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ طیفا انٹربل کو بہت زیادہ پسند کیا گیا، میں ایسی فلمیں بنانے کی کوشش جاری رکھوں گا. انہوں نے کہا کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہوتی ہے اس لئے میں مشکلات سے نہیں گھبراتا ان کا مقابلہ کرتا ہوں .

  • سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    سلمی آغا ژالے سرحدی کی کیا لگتی ہیں؟‌

    ٹی وی اداکارہ ژالے سرحدی نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ سلمی آغا رشتے میں میری پھوپھو لگتی ہیں. میرے دادا ضیاء سرحدی تھے ضیاء سرحدی وہ ہیں جنہوں نے دلیپ کمار سے بھی کام کروایا. انہوں نے یہ بھی کہا کہ سلمی آغا سے میں نے بہت کچھ سیکھا میری آدھی فیملی شوبز سے تعلق رکھتی ہے. انہوں نے کہا کہ اداکاری میں مجھے کبھی بھی دلچپسی نہیں تھی. مجھے گلوکاری میں دلچپسی تھی. لیکن قسمت میں اداکارہ بننا لکھا ہوا تھا تو اداکارہ بن گئی. ژالے سرحدی نے کہا کہ میں‌کم مگر معیاری کام کرنے کو ترجیح دیتی ہوں. اسی لئے میں سکرینز پر

    کم کم دکھائی دیتی ہوں انہوں نے مزید کہا کہ کام کوئی بھی آسان نہیں ہوتا. چاہیے وہ اداکاری ہو یا گلوکاری دونوں ہی کام مشکل ہیں. دونوں ہی کام شوق اور کوشش سے ہوتے ہیں. ژالے سرحدی نے کہا کہ بڑی یا چھوٹی سکرین پر کام کرنے کا چارم الگ ہے. میرا دونوں میڈیم میں کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا ہے. انہوں نے یہ بھی کہا کہ پاکستان میں ویب سیریز میں کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے جو کہ اچھی علامت ہے. یاد رہے کہ ژالے سرحدی نے لاتعداد ٹی وی ڈراموں میں کام کیا شائقین ان کی اداکاری کو بے حد پسند کرتے ہیں.

  • ماڈٌلنگ کرتے دیکھا تو والدین نے شادی کروا دی اعجاز اسلم

    ماڈٌلنگ کرتے دیکھا تو والدین نے شادی کروا دی اعجاز اسلم

    سیئنراداکاراعجاز اسلم نے کہا ہے کہ میں اکلوتا بیٹا تھا اس لئے مجھ پہ خاندان والوں کی طرف سے شادی کا بہت زیادہ دبائو تھا. میرے والدین نے جب مجھے ماڈلنگ کرتے دیکھا تو انہوں نے میری شادی کروا دی ، کم عمری میں ہی میں شادی کے بندھن میں بندھ گیا. اعجاز اسلم نے کہا کہ میں نے شادی کے بعد اپنے کیرئیر پر بھرپور توجہ دی . میں نے دیکھا کہ میری فیملی نے میری شادی کے بعد میرے شوق کی تکمیل کےلئے میرا بہت زیادہ ساتھ دیا. اعجاز اسلم

    نے کہا کہ شادی کے بعد میں بہت زیادہ ذمہ دار ہو گیا تھا یہ چیز دیکھ کر میرے والدین بہت خوش ہوتے تھے کہ میں جلد ہی اپنی ذمہ داریوں کا احساس کر لیا. میں اپنے مزاج کے مطابق کام کرتا ہوں اگر سکرپٹ پسند نہ آئے تو میں نہیں‌ کرتا. میں ان لوگوں سے بالکل اتفاق نہیں کرتا جو لوگ یہ کہتے ہیں‌ کہ آج ڈرامہ اچھا نہیں‌ بن رہا. آج بہت اچھا ڈرامہ بن رہا ہے.

  • بگ باس نہ جیتنے کا افسوس نہیں پریانکا چوہدری

    بگ باس نہ جیتنے کا افسوس نہیں پریانکا چوہدری

    بگ باس 16 کے فنالے سے باہر نکلنے والی پریانکا چوہدری نے کہا ہے کہ ہو سکتا ہے لوگوں کو ایم سی سٹین کی سادگی پسند آئی ہو جو وہ جیتا ہے. مجھے اپنی ہار کا افسوس نہیں ہے لیکن امید تھی کہ میں جیتوں گی یہ امید مجھے خود پہ یقین کی وجہ سے تھی. لیکن کوئی بات نہیں ہار جیت ہوتی رہتی ہے. گھر سے باہر نکلی تو پتہ چلا کہ لوگ مجھے اتنا پیار کرتے ہیں. مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ میں سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہی ہوں. لوگ مجھے اتنا پیار کرتے ہیں یہ دیکھ کر میری آنکھوں میں آنسو آگئے . لوگوں کی محبت کے احسان تلے دب گئی ہوں میں. لوگ تو یہ

    بھی کہہ رہے ہیں کہ مجھے شاہ رخ خآن اور سلمان خآن کے ساتھ فلم مل گئی ہے اگر تو ایسا ہے تو مجھے بہت خوشی ہے اور یہی میری جیت ہے. پریانکا نے کہا کہ میں اپنی ہار پر افسردہ نہیں ہوں اسلئے میرے مداح بھی افسردہ نہ ہوں. ایم سی سٹین جیتا ہے ہم سب اسکی خوشی میں شامل ہیں. یاد رہے کہ بگ باس 16 ایم سی سٹین جیتا ہے جبکہ پریانکا ہار گئی ہیں ، پریانکا کے بارے میں کہا جا رہا تھا کہ وہ بگ باس کے تمغے کو اپنے نام کریں گی.

  • ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    ضیا محی الدین کراچی میں سپردخاک

    کراچی: ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ کراچی میں ادا کردی گئی۔

    باغی ٹی وی: معروف ہدایت کار و ٹی وی میزبان ضیا محی الدین آج صبح 92 برس کی عمر میں انتقال کرگئے تھے جس کے بعد ا ن کی نماز جنازہ بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں قائم امام بارگاہ یثرب میں ادا کی گئی اور ان کی تدفین ڈیفنس فیز 8 کے قبرستان میں کردی گئی۔

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے-

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا…

    ضیا محی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہے۔

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

  • ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے،وزیراعظم

    وزیراعظم شہباز شریف نے ممتاز اداکار ، صداکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کے انتقال پر تعزیت کا اظہارکیا ہے-

    باغی ٹی وی: وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ ضیا محی الدین اپنی ذات میں ایک فن پارہ تھے، ضیا محی الدین کے مخصوص انداز نے پاکستان سمیت دنیا بھر میں دھوم مچائی، افسوس ہے کہ کئی خوبصورت خوبیوں کا مالک شخص معاشرے سے کوچ کرگیا۔

    وزیراعظم شہباز شریفنے کہا کہ ضیا محی الدین کی آواز ہمارے ذہن میں گونجتی رہےگی، ضیا محی الدین کی صلاحیتوں اور ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں، اللہ تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور لواحقین کو صبر جمیل دے، آمین۔

    واضح رہے کہ ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں کراچی میں انتقال کرگئےضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائے گی۔

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

  • عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیاء محی الدین 20 جون 1933ء کو لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان روہتک (ہریانہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی قصور اور لاہور میں گزاری۔

    آپ وہ واحد ادبی شخصیت تھے جن کے پڑھنے اور بولنے کے انداز کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اردو طنزو مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی نے ضیاء محی الدین کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا کہ ضیاء اگر کسی مردہ سے مردہ ادیب کی تحریر پڑھ لے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے۔

    برطانیہ میں 1960ء میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ایڈورڈ مورگن فوسٹر کے مشہور ناول ”A Passage to India“ پر بنے اسٹیج ڈرامے میں ضیاء محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کر کے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسی شاندار اور باکمال پرفارمنس دی کہ شائقین حیرت زدہ رہ گئے۔
    اس کے علاوہ ان کے انگریزی ٹی وی ڈراموں میں ”ڈینجرمین، دی ایونجرز مین، ان اے سوٹ کیس، ڈیٹیکٹو، ڈیتھ آف اے پرنسس، دی جیول پرائڈ، ان دی کرائون اور فیملی“ سرفہرست ہیں۔

    ضیاء محی الدین نے اپنے فلمی سفر کا آغام 1962ء میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ کلاسیکی فلم ”لارنس آف عریبیہ“ سے کیا تھا۔
    اس فلم میں انہوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا جسے عمر شریف اس بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے کیوں کہ وہ غلط کنویں سے پانی پی لیتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اس فلم میں مختصر کردار ادا کیا لیکن یادگار پرفارمنس دی۔
    ان کی مشہور انگریزی فلموں میں ”خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئے ٹاکی اور پارٹیشن‘‘ بھی شامل ہیں۔

    1969ء اور 1973 ء میں انہوں نے پی ٹی وی سے ایک اسٹیج شو ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ کا آغاز کیا اور بطور میزبان ایسی پرفارمنس دی کہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی توجیح و تشریح اور پاکستانیوں میں اردو زبان سے محبت بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قوم کو احساس دلایا کہ اردو زبان دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے جس کے لہجے میں الہامی کیفیت ہے، اسی لیے ضیاء محی الدین کو اردو زبان کا سب سے حسین و دلکش لہجہ کہا جاتا تھا۔

    اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اختتام پر وہ ایک منفرد ڈانس کیا کرتے تھے، جو شائقین کے دلوں کو بہت بھاتا تھا اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیاء کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سب سے نمایاں ہیں۔

    انہوں نے اردو زبان کے نایاب شاعر و فلسفی مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے خطوط جس انداز میں پڑھے، اس سے بھی انہیں بہت شہرت ملی۔
    ضیاء محی الدین نے دو کتابیں ”دی گاڈ آف مائی ایڈولیٹری“ اور ”اے کیرٹ از اے کیرٹ: میموریز اینڈ ریفلیکشنز“ بھی تخلیق کی تھیں۔

    آپ کو 2003ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا انہیں پیپلز پارٹی دور میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور 2004ء میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

  • اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائےگی۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ضیاء محی الدین کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا گورنر پنجاب نے کہا کہ ضیاء محی الدین لیجنڈ آرٹسٹ تھے-


    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے، 50 کی دہائی میں لندن کی رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے اس فلم میں ایک یادگار کردار ادا کیا ضیامحی الدین براڈوے کی زینت بننے والے جنوبی ایشیا کےپہلے اداکار تھے 70 کی دہائی میں پی ٹی وی سےضیامحی الدین شو کے نام سے منفردپروگرام شروع کیا اور 1973 میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کےڈائریکٹر مقرر کردیئےگئے۔

    جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد ضیا محی الدین واپس برطانیہ چلےگئے90 کی دہائی میں مستقل پاکستان واپس آنےکا فیصلہ کیا، ضیام حی الدین نے انگریزی اخبار دی نیوزمیں کالم بھی لکھے، ضیامحی الدین کی کتاب”A carrot is a carrot” ایک مکمل ادبی شہہ پارہ ہے۔

    ضیامحی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہےضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔