Baaghi TV

Tag: celebrities

  • شان شاہد آج کی فلموں پر برس پڑے

    شان شاہد آج کی فلموں پر برس پڑے

    شان شاہد نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کے ایک سیشن میں شرکت کی اس سیشن کو معروف رائٹر بی گل نے ہوسٹ کیا. بی گل کے ساتھ گفتگو میں شان شاہد نے کہا کہ جو ہسٹری ہوتی ہے اس کو پڑھ کر سیکھا جاتا ہے اسی طرح‌سے پرانی فلموں کو دیکھ کر بھی سیکھا جاتا ہے ، اب دیکھیے نا کہ پنجابی فلموں اور سینما کی بحالی کے لئے نئے دور والوں کو مولا جٹ بنانی پڑی. ہم نے جب کام کیا وہ دورآج کے دور سے مختلف تھا، آج تشہر کے بہت سارے زرائع ہیں ، معاوضے زیادہ ملتے ہیں. میں نے جو بھی کام کیا ہے اس پر فخر محسوس

    کرتا ہوں. میں نے ہمیشہ یہ بات یاد رکھی ہے کہ میں نیلو اور ریاض شاہد کا بیٹا ہوں. شان شاہد نے کہا کہ میں آج جو بھی ہوں اپنے مداحوں کی وجہ سے ہوں. شان نے کہا کہ اگر میری بیٹیاں‌ شوبز میں آنا چاہیں گی تو میں انہیں‌روکوں گا. انہوں نے کہا کہ مجھے جب جب اچھا کام ملے گا میں کروں گا. فلم بناتے یہ دیکھ لینا چاہیے کہ ہر طبقے نے اسکو دیکھنا ہے ، ایسی فلم نہیں‌ہونی چاہیے کہ جس کو ایک خاص طبقہ دیکھے. آج ایسی فلمیں بن رہی ہیں جو کہ ایک خاص طبقے کے لئےہوتی ہیں. فلم وہ ہوتی ہے جس کو ہر طبقہ دیکھے.

  • عید الفطر پر ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہو گا

    عید الفطر پر ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہو گا

    عید الفطر پر دو بڑی فلموں ہوئے تم اجنبی اور منی بیگ گارنٹی کا ٹاکرا ہونے جا رہاہے. دونوں فلمیں بڑے بجٹ اور ہیوی سٹار کاسٹ کے ساتھ بنی ہیں لیکن دونوں‌کے موضوع الگ الگ ہیٰں. ہوئے تم اجنبی یہ ایک پیریڈ فلم ہے جو کہ سقوط ڈھاکہ کے پس منظر میں بنائی گئی ہے.جبکہ منی بیگ گارنٹی ایک کمرشل مصالحہ فلم ہے. جس میں وسیم اکرم ،شنیرا اکرم فواد خان و دیگر شامل ہیں. پرڈیوسر میکال ذوالفقار اور شایان خان ہیں جبکہ ڈائریکشن فیصل قریشی کی ہے. ہوئے تم اجنبی کے پرڈیوسر شاہد حمید ہیں اور ڈائریکٹر کامران شاہد ہیں ، کامران شاہد نے ہی اس کی کہانی لکھی ہے. دونوں فلمیں ہر لحاظ سے بڑی ہیں اب دیکھنا یہ ہےکہ مقابلے کی اس دوڑ میں کونسی فلم شائقین کے دل کو زیادہ بھاتی ہے

    یا دونوں ہی ٹکر کے مقابلے پر کامیابی سے چلتی ہیں. منی بیگ گارنٹی میں شائقین کے لئے دلچپسی کا باعث جو زیادہ ہیں وہ ہیں فواد خان وسیم اکرم اور شنیرا اکرم اور ہوئے تم اجنبی میں سہیل احمد ، محمود اسلم اور کہانی کو جس انداز میں شوٹ کیا گیا ہے وہ دیکھنے سےتعلق رکھتی ہے. یاد رہے کہ ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر لانچ ہو چکا ہے اور شائقین کی بڑی تعداد اسے پسند بھی کررہی ہے.

  • لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 اختتام پذیر

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام الحمرا ءآرٹس کونسل لاہور میں تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کا رنگا رنگ اختتام ہوگیا، اسٹیج پر ملک کے مایہ ناز ادیب، شاعر، آرٹسٹ مجلس صدارت میں موجود تھے۔ آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی جانب سے تین دانشوروں کشور ناہید، نیئرعلی دادا اور ناہید صدیقی کو لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ دیا گیا جبکہ معروف گلوکارہ نتاشہ بیگ، ساحر علی بگا اور گلوکارہ عاصم اظہر کی شاندار پرفارمنس نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کو چار چاند لگادیے، طنز و مزاح کے بادشاہ انور مقصود نے کہاکہ مجھے یقین نہیں تھا کہ اس فیسٹیول میں اتنے نوجوان آئیں گے، لوگ کہتے تھے کہ پاکستان کے نوجوان کا ادب سے تعلق نہیں رہا آج آ کر دیکھیں کتنے ہزار نوجوان پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہیں۔ انہوں نے کہا لاہور میں پھولوں کی آمد آمد ہے، لیکن لگتا ہے کہ اس مرتبہ لاہور والے الیکشن کے انتظار میں ہیں لیکن الیکشن ہوں گے بھی یا نہیں یہ بات کوئی نہیں جانتا۔ انہوں نے کہا ان تین دنوں میں لاہور کے نوجوانوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور

    چمک دیکھ کر اندازہ ہوا کہ پاکستان کا مستقبل روشن ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوریت میں جو بھی حکومت ہو ہمیں ان کی حفاظت کرنا چاہیے کیوں کہ وہ ہماری حفاظت نہیں کر سکتے ہیں۔ احمد شاہ نے سنجیدہ گفتگو کرنے نہیں بلایا لیکن حالات ایسے حالات میں ہنسانے کا دل نہیں کرتا۔ امیر پریشان ہیں ڈالر مہنگا ہو گیا غریب پریشان ہے روٹی مہنگی ہو گئی۔ پاکستان نمک پیدا کرنے میں نمبرٹو ہے لیکن نمک حرام پیدا کرنے پر نمبر ون ہے۔ انہوں نے کہا کہ والڈ بنک نے حکمرانوں سے کہا کہ اثاثے بتاﺅ، ایک زمانے میں حکومت نے یہی فیض احمد فیض سے پوچھا تھا۔انہوں نے کہا آخر میں زیرہ نگاہ اورفیض کی دو نظموں پر گفتگو ختم کی۔”سنا ہے جنگل کا بھی کوئی دستور ہوتا“۔

  • ایم سی سٹین کی جیت، بگ باس کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا گیا

    ایم سی سٹین کی جیت، بگ باس کے فیصلے کو غلط قرار دیدیا گیا

    بگ باس 16 کا گزشتہ رات فائنل ہوا اور فائنل میں جیسا کہ ایم سی سٹین فاتح قرار پائے ہیں، بگ باس کے اس فیصلے کو سوشل میڈیا پر پریانکا چوہدری کے مداحوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے ان کا کہنا ہےکہ یہ فیصلہ تعصب پر مبنی ہے. بگ باس 16 کی ونر پریانکا چوہدری تھیں‌ لیکن فیصلے کو بدلہ گیا ہے. پریانکا چوہدری کے پرستاروں نے لگے ہاتھوں ساجد خان اور سلمان خان کی بھی کلاس کر ڈالی اور کہا کہ سلمان خان نے بگ باس میں ساجد خان کو سپورٹ کیا اور ساجد خان کی سپورٹ پریانکا چوہری کے ساتھ ہرگز نہیں تھی جس کی وجہ سے پریانکا کی جیت کو ہار

    میں تبدیل کیا گیاہے. اس بار کے بگ باس کے سیزن میں جو کچھ بھی ہوا اس کی وجہ سے بگ باس کو متعصب بھی کہا گیا.یوں بگ باس 16 کے فائنل کے بعد سوشل میڈیا پر اس فیصلے کو نہ صرف غلط کہا جا رہا ہے بلکہ تعصب سے بھرا فیصلہ کہا جا رہا ہے. سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ فرح خان نے ایک ویک اینڈ کا وار ہوسٹ کیا اور اس میں صرف اپنے بھائی ساجد کی وجہ سے پریانکا چوہدری کو تنقید کا نشانہ بنایا.

  • اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    اصغر ندیم سید آج کے ڈرامہ پر برس پڑے

    معروف رائٹر اصغر ندیم سید نے کہا ہے کہ جس طرح کی آج کہانیاں بن رہی ہیں وہ ہماری دلچسپی میں نہیں ہیں‌ نہ ہم اس طرح کی کہانیاں لکھ سکتے ہیں. انہوں نے کہا کہ رائٹرز کے ہاتھ بندھے نہیں ہونے چاہیں نہ ہی ان کو انسٹرکٹ کیا جانا چاہیے کہ یہ لکھیں اور یہ نہ لکھیں . انہوں نے مزید کہا کہ آج کل چینلز کا مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ ڈرامہ بنانے میں بہت زیادہ انوالو ہوتا ہے یہ وہ شعبہ ہے جس کا نام نہیں‌لیا جاتا. یہی طے کرتا ہے کہ کون سے ایکٹرز ہوں گے اور کہانی کیسی ہوگی. انہوں نے کہا کہ اگر کوئی بات کی جائے تو جواب ملتا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہی کچھ دکھا رہے ہیں بھئی نور الہدی شاہ سے زیادہ سندھ کی خواتین کے مسائل کس کو پتہ ہیں ؟ کیوں ان سے نہیں لکھوایا جا رہا. ہم جو لکھتے ہیں اس کے

    بارے میں‌کہا جاتا ہے کہ یہ پسند نہیں کیا جائےیہ چلے گا. مجھے کسی چینل کے مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے ایک بندے نے کہا کہ میں جیسا کہہ رہا ہوں ویسا لکھ دیں اس کے ہٹ ہونے کی گارنٹی میں دیتا ہوں تومیں نے کہا کہ جو چل رہا ہےاسکو چلانے میں آپ کا کیا کمال ، جو نہیں چل رہا اسکو اگر چلائو تو وہ ہو گا آپ کا کمال . اس بات کے بعد وہ بندہ بول نہ سکا.

  • وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    وقت بدلہ تو ڈرامے کے انداز بھی بدلے جو کہ غلط نہیں منور سعید

    سینئر اداکار منور سعید جو کافی عرصےکے بعد لاہور میں منعقد ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شریک ہوئے انہوں نے اس موقع پر کہا کہ آج کل جو ڈرامے بن رہے ہیں وہ اچھے ہیں اور آج کے دور کے مطابق ہیں. پی ٹی وی کا دور گزر گیا ہے اور جو گزر چکا ہو اسکا حال سے مقابلہ نہیں‌ کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں آج کل ایک ڈرامے کی شوٹنگ کررہا ہوں اب میں اپنے مداحوں کو نظر آیا کروں گا. انہوں نے کہا کہ آج بہت زیادہ چینلز ہیں اور سال میں بہت بڑی تعداد میں ڈرامہ بنتا ہے. لہذا کام زرا تیز ہو گیا ہے. پہلے تو ریہرسلز ہوتی تھیں اور کئی کئی دن تک چلتی

    تھیں پھر جا کر کہیں شوٹنگ ہوتی تھی. اب ریہرسلز کا تصور ختم ہو گیا ہے. پہلے ایک چینل ہوتا تھا رات کو آٹھ سے نو بجے تک ڈرامہ لگتا تھا لہذا بہت زیادہ ڈرامہ کوئی بنتا نہیں تھا. کسی آرٹسٹ کا کسی ڈرامے میں ایک بھی سین آجاتا تو اسکے لئے بہت غنیمت ہوتی تھی. منور سعید نے کہا کہ لیکن میں یہ ضرور کہتا ہوں کہ ڈرامہ بنانا جن کا کام ہے وہی بنائیں. اور کہانیوں میں یکسانیت نہیں‌ہونی چاہیے. مجھے اچھے کردار ملتے رہے تو میں ضرور کروں گا.

  • تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    تین سال سے ڈرامہ کیوں نہیں کررہی صنم سعید نے وجہ بتا دی

    ٹی وی اور فلم کی معروف اداکارہ صنم سعید نے لاہور میں‌ ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں تین سال سے ڈرامے نہیں کررہی، ڈرامے نہ کرنے کی بڑی وجہ یہ ہےکہ جس طرح کی کہانیاں لکھی جا رہی ہیں ان میں مجھے بالکل بھی دلچپسی نہیں ہے. صنم سعید نے کہا کہ مجھے جب تک کہانی اور کردار پسند نہ آئے میں سائن نہیں کرتی. میرے پاس پچھلے تین سال میں بہت ساری کہانیاں آئیں لیکن مجھے پسند نہیں آئیں. ساری کہانیاں تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریبا ایک جیسی تھی.صنم سعید نے کہا کہ میں نے ہمیشہ یہ سوچ کر کے کوئی بھی ڈرامہ سائن کیا کہ اس کے زریعے ہم سوسائٹی کو کیا پیغام دے رہے ہیں. میں اس نسل کی نمائندہ فنکارہ ہوں لیکن جیسی کہانیاں بن رہی ہیں میں ان کے حق میں

    نہیں ہوں. صنم نے کہا کہ فلموں میں بھی کام کیا اچھا تجربہ رہا لیکن یہ بات طے ہے کہ میرا جب دل کرتا ہے میں کام کرتی ہوں . انہوں نے کہا کہ چاہے تھوڑا کم کام کر لیں لیکن معیار کو ضرور مد نظر رکھیں. یاد رہے کہ صنم سعید فواد خان کے ساتھ ایک بار پھر نظر آرہی ہیں اور اس بار وہ ایک ویب سیریز میں نظر آئیں گی.

  • حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي :مصر کے ممتاز مذہبی رہنما

    پیدائش:14 اکتوبر 1906ء
    قاہرہ
    وفات:12 فروری 1949ء
    قاہرہ
    وجۂ وفات:قتلِ ارادی
    طرز وفات:قتل
    شہریت:مصر
    مذہب:اسلام
    جماعت:اخوان المسلمون
    مادر علمی:جامعہ الازہر
    تلمیذ خاص:یوسف قرضاوی
    پیشہ:سیاست داں، الٰہیات داں، مصنف
    زبان:عربی
    مؤثر:جمال الدین افغانی
    بانی تحریک اخوان المسلمون
    مدت منصب
    1928 – 1949
    صدر:تحریک اخوان المسلمون

    حسن أحمد عبد الرحمن محمد البنا الساعاتي (14 اکتوبر 1906 – 12 فروری 1949) (1324ھ – 1368ھ) مصر کے ممتاز مذہبی رہنما اور عظیم اسلامی تحریک اخوان المسلمون کے بانی تھے۔ 1923 میں تصوف کے شاذلی طریقہ سے منسوب ہوئے اور شيخ عبد الوہاب حصافی کی خدمت میں تکمیل کی، اسی لیے حسن البنا کی شخصیت سازی میں شيخ عبد الوہاب حصافی کا بہت گہرے اثرات مرتب ہوئے۔ 1927 میں دار العلوم (مصر) سے فارغ ہوئے اور شہر اسماعیلیہ میں مدرس کی حیثیت سے تقرر ہوا۔ 1928 میں اخوان المسلمون کا قیام عمل میں آیا۔ 1949 میں حسن البنا ایک بھرپور تحریکی زندگی گذارنے کے بعد 43 سال کی عمر میں قاہرہ میں گولی مار کر شہید کر دیے گئے۔
    پیدائش
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وہ 1906ء میں مصر کی بستی محمودیہ کے ایک علم دوست اور دیندار گھرانے میں پیدا ہوئے۔
    تعلیم
    ۔۔۔۔۔
    انہوں نے بچپن میں ہی قرآن حفظ کر لیا اور ابتدائی تعلیم اپنے گھر پر ہی حاصل کی۔ سولہ سال کی عمر میں وہ قاہرہ کے دار العلوم میں داخل ہوئے جہاں سے انہوں نے 1927ء میں سند حاصل کی۔
    اخوان المسلمون کا قیام
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دیہاتی علاقوں کی نسبت شہروں میں اخلاقی انحطاط زیادہ ہوتا ہے، قاہرہ کی بھی یہی صورت تھی۔ حسن البنا جب اپنے قصبہ سے قاہرہ پہنچے تو ان کی حساس طبیعت پر شہر کے غیر اسلامی رحجانات نے گہرا اثر کیا۔ انہوں نے دیکھا کہ مصر کو یورپ کا حصہ بنایا جا رہا ہے اور فرعون کے دور کی طرف پلٹنے کی دعوت دی جا رہی ہے۔ انہوں نے یہ بھی محسوس کیا کہ علما اگرچہ غیر اسلامی نظریات کے خلاف وعظ و نصیحت تو کرتے رہتے ہیں لیکن ان برائیوں کو ختم کرنے کے لیے کوئی تحریک موجود نہیں تو انہوں نے 1928ء میں شہر اسماعیلیہ میں، جہاں وہ تعلیمی سند حاصل کرنے کے بعد استاد مقرر ہو گئے تھے، اخوان المسلمون کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد ڈالی۔ 1933ء میں اخوان کا صدر دفتر اسماعیلیہ سے قاہرہ منتقل کر دیا گیا۔
    تحریکی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اعلان کیا کہ اسلام کا پیغام عالمگیر ہے اور یہ ایک مکمل نظام زندگی ہے۔ اخوان المسلمون کی تنظیم کے ذریعے انہوں نے اپنے اسی نصب العین کو عملی جامہ پہنانے کا کام شروع کر دیا۔ جلد ہی مصر کے طول و عرض میں اخوان المسلمون کی شاخیں قائم کردی گئیں۔ طلبہ اور مزدوروں کو منظم کیا گیا اور عورتوں کی تنظیم کے لیے "اخوات المسلمین” کے نام سے علاحدہ شعبہ قائم کیا گیا۔ اخوان نے مدرسے بھی قائم کیے اور رفاہ عامہ کے کاموں میں بھی حصہ لیا۔ انہوں نے ایک ایسا نظام تربیت قائم کیا جس کے تحت اخوان کے کارکن بہترین قسم کے مسلمان بن سکیں۔
    مطالبہ نفاذِ قوانین اسلامی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    حسن البنا نے اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی قوانین کے نفاذ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ 50 سال سے مصر میں غیر اسلامی آئین آزمائے جا رہے ہیں اور وہ سخت ناکام ہوئے ہیں لہٰذا اب اسلامی شریعت کا تجربہ کیا جانا چاہیے انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر کے موجودہ دستور اور قانون کے ماخذ کتاب و سنت نہیں بلکہ یورپ کے ممالک کے دستور اور قوانین ہیں جو اسلام سے متصادم ہیں۔ حسن البنا نے مصریوں میں جہاد کی روح بھی پھونکی اور اس موضوع پر ایک مستقل رسالہ لکھا اور بتایا کہ مصر ہی کے ایک عالم امام بدر الدین عینی شارح بخاری ایک سال جہاد کرتے تھے اور ایک سال تعلیم و تدریس میں مصروف رہتے تھے اور ایک سال حج کرتے تھے۔
    اخوان اور ذرائع ابلاغ
    ۔۔۔۔۔۔۔
    اخوان نے اخبار اور رسالوں کی طرف بھی توجہ دی۔ 1935ء میں رشید رضا کے انتقال کے بعد حسن البنا نے ان کے رسالے "المنار” کی ادارت سنبھال۔ اخوان نے خود بھی ایک روزنامہ، ایک ہفت روزہ اور ایک ماہنامہ جاری کیا۔ روزنامہ اخوان المسلمون مصر کے صف اول کے اخبارات میں شمار ہوتا تھا۔ ان مطبوعات اور چھوٹے چھوٹے کتابوں کے ذریعے اخوان نے اپنے اغراض و مقاصد کی پر زور تبلیغ کی اور بتایا کہ اسلام کس طرح زندگی کے مختلف شعبہ جات میں دنیا کی رہنمائی کر سکتا ہے۔
    اخوان اور دور ابتلا
    ۔۔۔۔۔۔۔
    دوسری جنگ عظیم کے آغاز تک اخوان کی دعوت مشرق کے بیشتر عرب ممالک میں جڑ پکڑ چکی تھی لیکن اخوان کا سب سے مضبوط مرکز مصر ہی تھا۔ جنگ کے بعد اخوان نے عوامی پیمانے پر سیاسی مسائل میں حصہ لینا شروع کیا۔ انہوں نے 1948ء میں فلسطین سے برطانیہ کے انخلاء کے بعد جہاد فلسطین میں عملی حصہ لیا اور اخوان رضا کاروں نے سرکاری افواج کے مقابلے میں زیادہ شجاعت کا مظاہرہ کیا۔ اس کے علاوہ دوران جنگ انگریزوں نے آزادی مصر کا جو اعلان کیا تھا اسے اخوان نے فوری طور پر پورا کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس سے اخوان کی مقبولیت میں بے انتہا اضافہ ہوا اور دو سال کے اندر اندر اخوان کے ارکان کی تعداد پانچ لاکھ تک پہنچ گئی۔ ہمدردوں کی تعداد اس سے دو گنی تھی۔ اخوان کی روز بروز مقبولیت سے اگر ایک طرف شاہ فاروق اول کو خطرہ محسوس کرنے لگا تو دوسری طرف برطانیہ نے مصر پر دباؤ ڈالنا شروع کیا کہ اخوان پر پابندی لگائی جائے چنانچہ 9 دسمبر 1948ء کو مصری حکومت نے اخوان المسلمون کو خلاف قانون قرار دے دیا اور کئی ہزار اخوان کارکنوں کو گرفتار کر لیا گیا۔
    شہادت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    تین ہفتے بعد وزیر اعظم نقراشی پاشا کو ایک نوجوان نے قتل کر دیا۔ حسن البنا کو آخر تک گرفتار نہیں کیا گیا اور 12 فروری 1949ء کی شب قاہرہ میں اس عظیم رہنما کو ایک سازش کے تحت رات کی تاریکی میں گولی مار کر شہید کر دیا گیا۔ شہادت کے وقت ان کی عمر صرف 43 سال تھی۔
    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔۔
    المراۃ المسلمۃ
    تحديد النسل
    مباحث في علوم الحديث
    السلام في الإسلام
    قضيتنا
    الرسائل
    رسالۃ المتھج
    رسالۃ الانتخابات
    مقاصد القرآن الکريم

  • پی ایس ایل سیزن 8 کا ترانہ بھی شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

    پی ایس ایل سیزن 8 کا ترانہ بھی شائقین کو متاثر کرنے میں ناکام

    پاکستان سپر لیگ (پی ایس ایل) کے 8 ویں ایڈیشن کا آفیشل گانا جاری کردیا گیا ہے جسے سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا سامنا ہے-

    باغی ٹی وی: پی ایس ایل کا گانا ’سب ستارے ہمارے‘ کو عبداللہ صدیقی نےپروڈیوس کیا ہے اور اس میں عاصم اظہر، شائےگل اور فارس شفیع نے آواز کا جادو جگایا ہے یہ گیت 3 منٹ 21 سیکنڈ پر مشتمل ہے۔ گانے میں قومی کرکٹرز نے بھی پرفارم کیا ہے۔


    پی ایس ایل کے اس ترانے کو بھی ہمیشہ کی طرح سوشل میڈیا پر ملے جلے ردعمل کا سامنا کرنا پڑا پی ایس ایل سیزن 8 کا گانا آتے ہی مداحوں نے اس بار بھی ناصرف علی ظفر بلکہ گلوکارہ نصیبو لال کو بھی یاد کیا یہاں تک کہ گروو میرا ٹوئٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کر رہا ہے-


    https://twitter.com/Raheelmanj467/status/1624641261616472064?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ


    https://twitter.com/DaniyalSardar10/status/1624688760813154306?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ
    واضح رہے کہ نصیبو لال نے آئمہ بیگ کے ہمراہ پی ایس ایل سیزن 6 کا گانا ‘گروو میرا’گایا تھا، جس کے آتے ہی لوگوں نے اسے سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا کئی لوگ جنہوں نے’گروو میرا’ پر تنقید کی تھی، وہ اب اس کی تعریف کر رہے ہیں،جبکہ کئی صارفین نے گلوکار علی ظفر کے پی ایس ایل کے شروع کے تین سیزن کے گانوں کو بہترین قرار دیا۔


    https://twitter.com/KhazranSays/status/1624462147190419456?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ
    https://twitter.com/KhazranSays/status/1624461186392805379?s=20&t=YqR9AvEdO2qW8vK9u6hAXQ

  • معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے

    کوئٹہ: معروف بلوچ لوک گلوکار محمد بشیر بلوچ انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی : بلوچی سمیت مختلف زبانوں میں لوک گیت گانے والے صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار محمد بشیر بلوچ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے۔

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    لوک گلوکار کے بیٹے محمد رضا نے والد کے انتقال کی تصدیق کی ہے محمد رضا کا کہنا ہےکہ والد کو آج دوپہر کلی دیبہ کے قریب اخوند بابا قبرستان میں سپرد خاک کیا جائےگا۔

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان عبدالقدوس بزنجو نے لوک گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    وزیرِ اعلیٰ بلوچستان کا کہنا تھا کہ بشیر بلوچ نے اپنی محنت و لگن سے بلوچی گلوکاری میں نمایاں مقام حاصل کیا، صدارتی ایوارڈ یافتہ گلوکار بشیر بلوچ دنیا بھر میں پاکستان کی پہچان تھے عبدالقدوس بزنجو نے مرحوم بشیر بلوچ کی مغفرت اور لواحقین کے لیے صبرِ جمیل کی دعا بھی کی ہے۔

    وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے بھی معروف بلوچی گلوکار بشیر بلوچ کے انتقال پر اظہار افسوس کرتے ہوئے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت اور لواحقین کو صبر جمیل عطا فرمائے۔

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار…