Baaghi TV

Tag: celebrities

  • کام  کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    کام کے لئے میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ چھوڑوں گا کاشف نثار

    نوجوان نسل کے نمائندہ ڈائریکٹر کاشف نثار نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں کہا ہے کہ میں نے لاہور نہیں چھوڑا نہ ہی میرا لاہور چھوڑنے کا ارادہ ہے اور کام کے لئے لاہور کو چھوڑ کر تو میں کبھی بھی کراچی نہیں گیا. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ میں یہاں اپنے انداز سے کام کررہا ہوںا اور میں بہت مطمئن ہوں ٹھیک ہے جو لوگ کراچی میں بیٹھ کر کام کررہے ہیں وہ اس سے مطمئن ہیں میں یہاں کام کرکے مطمئن ہوں . انہوں نے کہا کہ بات کہیں رہنے یا نہ رہنے کی نہیں ہوتی بس کام اچھا ہونا چاہیے ہر کوئی ہر جگہ رہ کر اگر کام اچھا کررہا ہے تو اچھی بات ہے. جہاں

    تک آج اور کل کے ڈرامے کی بات ہے تو میں اس بحث میں نہیں پڑتا. یاد رہے کہ کاشف نثار نے بس رانجھا رانجھا کردی جیسے ڈرامے تخلیق کئے ہیں اور ایوارڈ بھی حاصل کر چکے ہیں. انہوں نے ابھی تک جتنا بھی کام کیا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے انکی ڈائریکشن کا انداز دوسروں سے یکسر مختلف ہے، کاشف نثار کی سب سے اچھی بات یہ ہے کہ وہ اپنی شرائط پر کام کرتے ہیں. کاشف نثار نے باری سٹوڈیو میں اپنا ایک دفتر بھی کھول رکھا ہے اور زیادہ تر وہیں وقت گزارتے ہیں.

  • بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    بشری انصاری نے بی گل سے کیا کہا؟‌

    سینئر اداکارہ بشری انصاری جو کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں آج موجود تھیں انہوں نے وہاں کہا کہ میں ایک ہی طرح کے کردار کر کر کے تھک گئی ہوں ، میں کچھ مختلف کرنا چاہتی ہوں لیکن ایسا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا کچھ نیا اور روٹین سے ہٹ کر بن ہی نہیں رہا کہ میں سوچوں کہ ہاں میں کروں . میں ایک سال میں ایک ہی ڈرامہ مشکل سے اب کرتی ہوں وجہ یہی ہے کہ کرداروں میں‌یکسانیت ہے کہانیوں میں یکسانیت ہے. آرٹسٹ کے پاس کرنے کو کچھ نیا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے آج کی رائٹر بی گل سے کہا ہے کہ میرے لئے کچھ نیا لکھیں میں کچھ الگ

    اور نیا کرنا چاہتی ہوں میں تنگ آ گئی ہوں روٹین کی کہانیوں سے. انہوں نے کہا کہ ایک ڈرامے میں میں نے اپنی بہو کو تھپڑا مارا توجب میں اپنی بیٹی کے پاس کینڈا گئی تو اس نے کہا کہ امی آپ نے ڈرامے میں اپنی بہو کو تھپڑ مارا ، میں اپنی بیٹی کے اس سوال کی وجہ سے بہت شرمندہ ہوئی وہ الگ بات ہے کہ میں نے کہانی اور اپنے کردار کو جسٹیفائی کرنے کے لئے بہت دلیلیں دیں . بشری نے کہا کہ میرے کریڈٹ پر چند ایک کردار ایسے ہیں جن کو لوگ آج بھی پسند کرتے ہیں بس میں انہی کی ٹوکری سر پر اٹھا کر پھرتی ہوں.

  • پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی شاندار پرفارمنس

    آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے زیر اہتمام لاہور میں جاری تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول 2023 کے دوسرے روز کے اختتام پر یوکرینی گلوکارہ کمالیہ، معروف گلوکار علی ظفر، وہاب بگٹی اور ایکما دی بینڈ کی پرفارمنس نے فیسٹیول کو چار چاند لگا دیے جبکہ اہلیان لاہور کی بڑی تعداد نے میوزیکل پروگرام میں شرکت کی، الحمرءآرٹس کونسل لاہور کا لان شہریوں سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا، یو کرینی گلوکار کے ”دل دل پاکستان“ اور علی ظفر کے ”الے“ اور لیلیٰ او لیلیٰ نے دھوم مچا دی، لاہور کے باسیوں نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں میوزک کو بھرپور طریقے سے انجوائے کیا، ارمان رحیم، منیب، مصطفی بلوچ سمیت دیگر گلوکاروں نے بھی پرفارم کیا جس کو شہریوں نے بہت پسند کیا۔پاکستان لٹریچر

    فیسٹیول کا آج تیسرا اور آخری دن ہے آج بھی مختلف سیشنز اور میوزیکل پرفارمنسز ہوں گی. طالب علم اور نوجوانوں کی بڑی تعداد اس فیسٹیول میں شریک ہو رہے ہیں. اس فیسٹیول کے روح رواں احمد شاہ کا کہنا ہے کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ پی ایل ایف کو اہلیان لاہور نے اس قدر عزت بخشی ہے. امید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا. احمد شاہ اس فیسٹیول کو مزید شہروں میں کرنے کا بھی ارادہ رکھتے ہیں .

  • اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    اداکاری کرنا بہت مشکل کام ہے وسیم اکرم

    معروف کرکٹر وسیم اکرم جن کی عید الفطر پر فلم منی بیگ گارنٹی ریلیز ہو رہی ہے انہوں نے حال ہی میں اس ھوالے سے انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ اداکاری بہت ہی مشکل کام ہے. میں پچھلے تیس پینتیس سال سے کمرشلز میں کام کررہا ہوں اس لئے مجھے کیمرے کے سامنے جانے کا اعتماد تو پہلے سے تھا لیکن اداکاری کے لئے کسی سے میں نے گائیڈ لائن نہیں لی بس جو ڈائریکٹر نے کہا وہ کیا. وسیم اکرم نے کہا کہ ایک پیراگراف کو یاد کرنا اور پھر اداکاری کرنا اتنا مشکل کام ہے یہ پہلے اندازہ نہیں تھا. فیصل قریشی کے ساتھ چونکہ میں پہلے بہت سارے کمرشلز

    کر چکا تھا اس لئے جب اس نے مجھے یہ کردار آفر کیا میں نے حامی بھر لی. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں شاید ہی دوبارہ کوئی فلم کروں گا لیکن اس فلم سے بہت سے نام جڑے ہیں ان کےکیرئیر کے لئے اس فلم کی کامیابی بہت ضروری ہے. وسیم اکرم نے کہا کہ میں نے دیکھا ہے کہ فلم میں تمام اداکاروں نے بہت اچھے سے کام کیا. میں نے 9 دن کی شوٹنگ کروائی . میرا کردار اس میں بہت اہم ہے میرے مداحوں کو میری اداکاری ضرور پسند آئیگی.یاد رہے کہ منی بیگ گارنٹی عید الفطر پر ریلیز ہونے جا رہی ہے اس فلم کے ساتھ کامران شاہد کی فلم ہوئے تم اجنبی بھی سینما گھروں کی زینت بنے گی .

  • ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    ہیری مارٹنسن:سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر

    پیدائش:06 مئی 1904
    جامشوگ، سویڈن
    وفات:11 فروری 1978ء
    اسٹاک ہوم، سویڈن
    اہم اعزازات:نوبل ادب انعام
    ۔ 1974ء
    ۔ (shared with آیونڈ جوہنسن)
    شریک حیات:Moa Martinson
    ۔ (1929-1940)
    ۔ Ingrid Lindcrantz

    ہیری مارٹنسن(1904 تا 1978 )سویڈش زبان کے معروف ادیب و شاعر تھے۔ ان کی ادبی خدمات کے اعتراف کے طور پر انھیں اورہم وطن آیونڈ جوہنسن کو 1974ء میں نوبل ادب انعام مشترکہ طور پر دیا گیا۔

  • مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی:ہندوستانی لوک گلوکارہ

    مالنی اوستھی (پیدائش: 11 فروری 1967) ایک ہندوستانی لوک گلوکارہ ہے۔ وہ ہندی اور متعلقہ زبانوں جیسے اودھی، بندیل کھنڈی اور بھوجپوری میں گاتی ہیں۔ وہ ٹھمری اور کجری میں بھی پیش کرتی ہیں۔ حکومت ہند نے انہیں 2016 میں پدم شری کے شہری اعزاز سے نوازا۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    Malini Awasthi (born 11 February 1967) is an Indian folk singer.
    She sings in Hindi and related languages such as Awadhi, Bundelkhandi and Bhojpuri.
    She also presents in Thumri and Kajri.
    The Government of India awarded her the civilian

  • امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    امجد اسلام امجد کی وفات سے5 دن قبل روضۂ رسولﷺ پرحاضری،ویڈیووائرل

    لاہور:معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد جمعے کے روز 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے کے سبب انتقال کرگئے تھے جس سے قبل انہوں نے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی۔

    امجد اسلام امجد نے وفات سے پانچ دن پہلے روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کی سعادت حاصل کی تھی اور مسجد نبوی میں اپنا کلام بھی پیش کیا تھا۔مرحوم کی یادگار ویڈیو مدینہ منورہ کے سابق او پی ڈی منیجر ڈاکٹر خالد عباس نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ سے شیئر کی جو اب سوشل میڈیا پر وائرل ہورہی ہے۔

    ڈاکٹر خالد نے ویڈیو کے کیپشن میں لکھا ‘آخری سفر سے پہلے مدینہ منورہ میں آخری بھرپور اور پرنم حاضری امجد اسلام امجد کی’۔انہوں نے مزید لکھا کہ ‘ریاض الجنہ میں ان کی حاضری میں حضوری کا گہرا رنگ تھا اور اپنی نظم لبیک مدینہ منورہ میں” میں حاضر ہوں میں حاضر ہوں” سناتے سناتے اپنے رب کے حضور ہمیشہ رہنے کے لیے چلے گئے، اے میرے رب مدینہ منورہ میں میرے آخری مہمان کی مغفرت فر ما’۔

    امجد اسلام امجد 4 اگست 1944 کو لاہور میں پیدا ہوئے، انھوں نے 1967 میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے (اردو) کیا، 1968 تا 1975 ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ اردو میں استاد رہے اور اگست 1975 میں امجد اسلام امجد کو پنجاب آرٹ کونسل کا ڈپٹی ڈائریکٹر مقرر کیاگیا۔

     

    امجد اسلام امجد کو ستارہ امتیاز، صدارتی تمغہ حسن کارکردگی سمیت کئی ایوارڈ سے نوازاگیا ۔معروف شاعر، ادیب اور ڈرامہ نویس امجد اسلام امجد 78 سال کی عمر میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کرگئےتھے

     

    امجد اسلام امجد کےاہل خانہ نے ان کے انتقال کی تصدیق کردی ہے، اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کا انتقال دل کا دورہ پڑنے سے ہوا۔

    معروف شاعر ، دانشور اورڈرامہ نگار امجد اسلام امجد کو لاہور کے میانی صاحب قبرستان میں سپرد خاک کردیا گیا۔امجد اسلام امجد کی نماز جنازہ ڈیفنس فیز 1 کی جامع مسجد میں ادا کی گئی جس میں مرحوم کے عزیز و اقارب ، ادبی حلقوں کی شخصیات اور اہل علاقہ نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔

    نمازجنازہ کے بعد امجد اسلام امجد کا جسد خاکی تدفین کیلئے میانی صاحب لایا گیا، تدفین کے وقت بھی امجد اسلام امجد کے چاہنے والے بڑی تعداد میں موجود تھے ۔واضح رہے کہ امجد اسلام امجد کو گزشتہ روز ہارٹ اٹیک ہوا تھا جو جاں لیو ثابت ہوا، ان کی عمر 78 برس تھی۔

  • سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح:سیدہ فرحت کی بولتی شاعری

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    سیدہ فرحت

    یوم وفات: 11؍فروری 2003

    اصل نام کرامت فاطمہ اور تخلص سیدہ فرحت تھا۔
    یکم؍اپریل 1938ء کو بھوپال مدھ پردیش میں پیدا ہوئیں۔ آٹھویں کلاس تک بھوپال میی سلطانیہ اسکول میں تعلیم پائی جہاں ان کے والد محکمہ پولیس کی ملازمت کے سلسلے میں مقیم تھے۔ ان کے انتقال کے بعد اپنے ماموں ڈاکٹر عابد حسین کے پاس جامعہ ملیہ اسلامیہ، دہلی آگئیں اور ان کی نگرانی میں گھر پر ہی تعلیم حاصل کی۔ بارہ سال کی عمر سے شاعری شروع کی، جعفر علی خاں اثر سے کلام پر کچھ عرصے تک اصلاح لی۔ ان کا کلام ماہنامہ ’’شاہراہ‘‘، ’’نئ روشنی‘‘، ’’آجکل‘‘ آور دیگر رسائل میں شائع یوتا رہا۔
    جب جامعہ ملیہ میں انجمن ترقی پسند مصنفین کی شاخ قائم ہوئ تو اس کی ممبر بنیں۔ شادی کے بعد علی گڑھ منتقل ہوگئیں۔ وہاں 1962ء میں خواتین کی ادبی انمجمن ’’بزم ادب‘‘ قائم کی جو آج بھی فعال ہے۔ فلاحی کاموں میں بھی سرگرم رہیں۔
    11؍فروری 2003ء کو علی گڑھ میں انتقال کر گئیں۔
    ان کے دو شعری مجموعے ’’بزم خیال‘‘ اور’’سازحیات‘‘ ہیں اور بچوں کے لئے نظموں کی کتاب ’’بچوں کی مسکان‘‘ہے۔ ان کی بیٹی نے سن 2016ء میں’’کلیات سیدہ فرحت‘‘ شائع کی۔

    بحوالہ ریختہ ڈاٹ کام

    سیدہ فرحتؔ صاحبہ کی شاعری سے انتخاب

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بحر ہستی میں تلاطم کبھی ایسا تو نہ تھا
    خیر و شر کا یہ تصادم کبھی ایسا تو نہ تھا

    کھوجتا رہتا تھا انسان وہ گم گشتہ بہشت
    خود بناتا ہے جہنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    بھیجے ہر دور میں جس نے کہ پیمبر اپنے
    وہ خدا ذہنوں سے گم ہے کبھی ایسا تو نہ تھا

    ساز دل جو کبھی نغمات طرب گاتا تھا
    اب ہے محروم ترنم کبھی ایسا تو نہ تھا

    علم کے گوہر نایاب جو دیتا تھا کبھی
    اب ہے خوناب وہ قلزم کبھی ایسا تو نہ تھا

    قتل انسان تو اب روز کا معمول ہوا
    دل سے مفقود ترحم کبھی ایسا تو نہ تھا

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    نہ فرش خاک پہ ٹھہریں گے نقش پا کی طرح
    رواں دواں ہیں فضاؤں میں ہم ہوا کی طرح

    پکار وقت کی نزدیک تھی مگر ہم نے
    سنا ہے دور سے آتی ہوئی صدا کی طرح

    سزائیں دیتی ہے مکر و فریب کی دنیا
    صداقتوں کا ہے اظہار اک خطا کی طرح

    خدا کرے تجھے احساس درد و غم نہ رہے
    دعائے خیر وہ دیتے ہیں بد دعا کی طرح

    نہ ہو سخن میں جو شان پیمبری ممکن
    خموش رہ کے بھی دیکھیں ذرا خدا کی طرح

    جھلک دکھائے کہیں تو امید کا سورج
    ہجوم یاس ہے امڈی ہوئی گھٹا کی طرح

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سوز دل پاس وفا درد جگر ہے کہ نہیں
    جو تھا مسجود ملائک وہ بشر ہے کہ نہیں

    فرش گیتی سے سر عرش پہنچنے والے
    کوچۂ دل سے تری راہ گزر ہے کہ نہیں

    گرم بازار ہے ہر سمت ہوس خیزی کا
    جذبۂ عشق کا بھی دل پہ اثر ہے کہ نہیں

    جس میں ہو جلوہ فگن کون و مکاں کی وسعت
    اہل دانش میں وہ انداز نظر ہے کہ نہیں

  • خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    خیبرپختونخوا:سیاحتی مقامات پر برفباری دیکھنےکے لیے8لاکھ سےزائد سیاحوں کی آمد

    پشاور: رواں سال موسم سرما کی برفباری دیکھنے کیلیے 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔برف پوش پہاڑ دیکھنے کے لیے خیبرپختونخوا کے سیاحتی مقامات پہنچے، سب سے زیادہ 5 لاکھ سیاح مالم جبہ پہنچے، ملکی اور غیر ملکی سیاح خیبرپختونخوا کے برف پوش پہاڑوں کے اسیر بن گئے۔

    ایک ماہ کے دوران 8 لاکھ سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے خیبرپختونخوا کے بالائی سیاحتی مقامات کا رخ کیا۔ محکمہ سیاحت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ پانچ لاکھ 52 ہزار 785 سیاحوں نے مالم جبہ کا رخ کیا جس میں 17 غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں جبکہ2لاکھ33ہزار666 سیاحوں نے گلیات کا رخ کیا۔رپورٹ کے مطابق کاغان ناران میں 79ہزار548 سیاح برفباری کے مزے لینے پہنچے، دور دراز مقام اپر و لوئر چترال میں 23ہزار711 ملکی اور 31غیر ملکی سیاحوں نے سیر کی، 1ہزار سے زائد ملکی اور غیر ملکی سیاحوں نے اپر دیر کا رخ کیا۔

    خیبرپختونخوا کے محکمہ سیاحت اتھارٹی کے ترجمان محمد سعد کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی سہولت کیلئے ٹورازم پولیس اور عملہ تمام سیاحتی مقامات پر تعینات ہے، جہاں مستعد اہلکار سیاحوں کی مشکلات کے ازالے کے لیے خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ سیاحوں کو آرام دہ سفر کے لیے سڑکوں پر بروقت برف ہٹائی گئیں اور اب بھی مقامی انتظامیہ کے ساتھ ملکر سیاحوں کو بہتر سہولیات دینے کی کوشش کی جارہی ہے۔

    واضح رہے کہ رواں سال سیلاب کے بعد مالاکنڈ ڈویژن کی وادی سوات میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی تھی، جس کے بعد حکومت، انتظامیہ اور پاک فوج نے سیاحت کو بحال کرنے کے لیے مواصلاتی اور رہائشی نظام کو ہنگامی بنیادوں پر بحال کیا۔

  • لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور:تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا رنگارنگ آغاز

    لاہور: آرٹس کونسل کراچی کے زیر اہتمام تین روزہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا آغاز جمعہ کی دوپہر الحمرا آرٹس کونسل لاہور میں ہو گیا جو اتوار کی رات تک جاری رہے گا۔ سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار شاہ نے فیسٹیول کا افتتاح کیاجبکہ انور مقصود، افتخار عارف، حامد میر، نیئرعلی دادا، کامران لاشاری، جسٹس (ر) ناصرہ اقبال، کشور ناہید، ظفر مسعود، میاں فقیر اعجاز الدین، فتح محمد ملک، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی رضی احمد و دیگر بھی افتتاحی تقریب میں موجود تھے۔

    الحمراء کے ہال نمبر 1 میں جگہ نہ ہونے کے باعث ہزاروں افراد نے باہر اسکرین پر افتتاحی تقریب میں شرکت کی جبکہ تقریب سے قبل لاہور شہر کی بڑی سڑکوں اور چوراہوں پر بینرز اور پوسٹر آویزاں کیے گئے، الحمراء آرٹس کونسل کو جھنڈیوں، پوسٹروں اور بینرز سے سجایا گیا اور کتابوں کے اسٹال بھی لگائے گے۔فیسٹیول کے لیے پہلے روز تقریباً دس ہزار افراد نے الحمراء کا دورہ کیا جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی جنہوں نے انور مقصود اور حامد میر اور احمد شاہ کا پرجوش استقبال کیا۔

    اجلاس سے قبل امجد اسلام امجد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی جنہوں نے اس فیسٹیول میں شامل ہونا تھا لیکن آج صبح اچانک ان کا انتقال ہوگیا، امجد اسلام امجد کی خالی کرسی پر ان کی تصویر رکھی گئی۔ آرٹس کونسل کراچی کے ڈائریکٹر ایڈمن شکیل خان نے امجد اسلام امجد کے لیے دعائے مغفرت کی جبکہ افتخار عارف اور کشور ناہید نے امجد اسلام امجد کی خدمات پر اظہارِ خیال کیا۔

    سندھ کے صوبائی وزیر تعلیم و ثقافت سید سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم بہت کچھ کھو چکے اب ہمارے پاس کھونے کو کچھ نہیں رہا، سچل سرمست، لعل شہباز قلندر اور بھلے شاہ کی شاعری میں جو پیغام ہے اس کو عام کرنے کی ضرورت ہے، پنجاب حکومت ایسے لوگوں کی سرپرستی کرے جو صوفیائے کرام کے امن کے پیغام کو عام کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

    صدر آرٹس کونسل کراچی محمد احمد شاہ نے خطبہ استقبالہ میں کہا کہ جس قوم کی ثقافت مر جاتی ہے وہ قوم زندہ نہیں رہ سکتی، ہمارے معاشرے میں بہت نفرتیں اور لڑائیاں ہیں، ہمیں ان نفرتوں کو ادب اور ثقافت کو ترقی دے کر ختم کرنا ہے اور ہم تمام اکائیوں میں بھائی چارہ، امن اور دوستی کا پیغام لے کر لاہور آئے ہیں تاکہ پاکستان کے نوجوانوں کو ادب اور ثقافت کے ساتھ جوڑیں۔انہوں نے کہا کہ لاہور،ملتان اور سندھ ایک ہی انڈس تہذیب کا حصہ ہیں تاہم لاہور قدیم ثقافتی شہر ہے جس کی اپنی تاریخی و تہذیب ہے، لاہور کے دوستوں کا اصرار تھا کہ عالمی اردو کانفرنس کی طرز پر لاہور میں بھی ایک کانفرنس منعقد کی جائے، ہم نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول متعارف کرایا جس کو ہم پورے پاکستان کی اکائیوں میں لے کر جارہے ہیں۔اس موقع پر معروف دانشور انور مقصود، حامد میر، فقیر اعجاز الدین اور ذوالفقار زلفی نے بھی اظہارِ خیال کیا۔