Baaghi TV

Tag: celebrities

  • امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ
    (Elizabeth Bishop)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پیدائش: 8 فروری 1911
    وفات: 6 اکتوبر 1979

    امریکی شاعرہ اور کہانی نویس الزبتھ بشپ امریکہ کی ریاست میسا چیوسیس کے چھوٹے سے شہر ورکرسٹر Worcester میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد ایک کنٹریکٹر تھے جب ان کی عمر آٹھ سال تھی تو ان کے والد کا انتقال ہوگیا تھا اور ان کی والدہ صدمے سے ذہنی مریضہ بن گئی۔

    ان کی شاعری پر میریں مور Marianne Moore کے لبرل خیالات کا گہرا اثر رہا۔ انھوں نے نیویارک کے وارسر کالج سے 1934 میں بیچلر کی ڈگری حاصل کی۔ بشپ کی نظمیں” ایک ادبی جریدے ٹرائیل بیلنس” میں شائع ہو چکی ہیں۔

    1949-1950 کے دوران وہ واشنگٹن میں شعبہ شاعری کی مشیر رھی۔

    ان کی شاعری کا اسلوب منفرد نوعیت کا ہے۔ وہ اپنی شاعری میں اپنے آپ کو” تسخیر”کرنا چاہتی ہیں۔ اور الزبتھ بشپ ” آبلہ فریبی” سے فاصلہ رکھے ہوئی ہیں۔

    ان کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ” لزبن "ہم جنس نسواں” تھی۔ یہ غلط تاثر ہے۔ ان کا کہنا ہے وہ عورتوں کی شاعری کرتی ہیں۔ بقول ان کے "عورتوں کی زیادہ تر شاعری فطرتا نیلے رنگ کے گیت ہوتے ہیں جس میں آہ و زاری کی جاتی ہے اور درد کا شکار ہوکر سادیت کے گیت لکھتی ہے۔

    1956 میں انھیں پولینٹرز انعام مل چکا ہے۔ ان کی زندگی پر بابرا ھوکر نے ایک فلم This House on Elizabeth Bishop کے نام سے بنائی۔

    بشپ کی تحریروں کی عمدہ اور شاندار خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ان کو صدیوں پرانے شعری رویوں سے آگہی اور اس کی کلیوں کو وہ سمتیں ہیں جن کو بڑی ہی مہارت سے اپنی شاعری میں سمودینے کی تخلیقی ہنر مندی ان کو آتی ہے۔ وہ اپنے جذباتی شعری اظہار کو اعتدال کے ساتھ کنٹرول کر لیتی ہیں۔ وہ اپنے جذباتی اور حساس کو بڑی مہارت سے شعری پیکر اور اس کو جمالیاتی طور پر تشکیل دے لیتی ہیں۔ جب قاری ان کے جذبوں سے آگاہ ہوتا ہے تو وہ "بلبلاتا ” بھی ہے۔ دراصل ان کے شعری فن میں یہ بات تو ہے کہ وہ اپنے ” زخموں” کو کمال ہوشیاری سے چھپا بھی لیتی ہیں۔ مگر وہ اپنی ذاتی واردات اور زخموں کو بے نقاب کرنے کے لیے اساطیری فکریات اور ڈھانچے سے اسلوبیاتی اور اپنا شعری بیانیہ ترتیب دیتی ہیں۔

    مجھے لگتا ہے کہ ہمیں بشپ کی شاعری کا مطالعہ اور تجزیہ اسرار اور پر اسرار کے ساتھ کرنا ہے۔ جس طرح ان کی شاعری صرف شاعرہ کو کشف، الہام اور وحی کے بغیر طاقتور، مباحثہ احساسات سے اپنے آپ کو الگ کرتی ہے۔ بشپ نے اس وقت جمالیاتی صوابدید کا ایک راستہ اپنایا جب اس کے بہت سے ہم عصر شعرا ان کی شعری فطانت کا کا تعاقب کررہے تھے. اور ان کی شاعری کے بہت سے ٹکڑوں کو رد و بدل کرنے بعد شائع کرنے والے شعرا کی بھی کمی نہ تھی۔ جس میں بشپ کی شعری فضا اور خوشبو محسوس ہوتی تھی۔ یہ دھوکہ دہی اور پریشانی کا سبسب بھی بنی۔ جس میں جمالیات اور تخلیقی مرکبیات، عمل کیمیائی کے بعد مراقبے کا شکار ہوجاتی ہے۔ جو ان کا حفاظتی حصار تھا۔ وہ التباس کا شکار رہی۔ مگر ان کی یہ تشکیک اور تشویش تو ہے مگر یہ مراقبہ نہیں ہے۔ یہ اصل میں شاعرہ کے نئے شعری اظہار کی تلاش اور جستجو ہے۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ” بلی کی لوری”

    ” میاوں”۔۔۔۔ نیند خواب ہوجاتے ہیں
    اپنی بڑی آنکھوں کو بند کرلو
    ایک مسرت آمیز حیرانگی کے ساتھ
    پیاری ” میاوں” ۔۔۔ اپنی چڑھتی ہوئی تیوری کو گرا دو
    بس تعاون کرو
    ایک بلی کا بچہ نہ ڈوب جائے
    مارکسی حالت میں
    خوشی اور محبت دونوں تمہارے ہوجائیں گے
    ” میاں” ۔۔۔ اداس نہ ہو
    خوشی کے دن جلد آرہے ہیں
    نیند —– اور انھیں آنے دو

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    الزبتھ بشپ کی تصانیف

    North & South (Houghton Mifflin, 1946)
    Poems: North & South. A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1955) —winner of the Pulitzer Prize[1]
    A Cold Spring (Houghton Mifflin, 1956)
    Questions of Travel (Farrar, Straus, and Giroux, 1965)
    The Complete Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 1969) —winner of the National Book Award[2]
    Geography III (Farrar, Straus, and Giroux, 1976)
    The Complete Poems: 1927–1979 (Farrar, Straus, and Giroux, 1983)
    Edgar Allan Poe & The Juke-Box: Uncollected Poems, Drafts, and Fragments by Elizabeth Bishop ed. Alice Quinn (Farrar, Straus, and Giroux, 2006)
    Poems, Prose and Letters by Elizabeth Bishop, ed. Robert Giroux (Library of America, 2008) ISBN 9781598530179
    Poems (Farrar, Straus, and Giroux, 2011)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    تلاش و ترسیل : آغا نیاز مگسی

  • سورن لتا سے  سعیدہ بانو تک کا سفر

    سورن لتا سے سعیدہ بانو تک کا سفر

    اداکارہ سورن لتا

    یوم وفات : 8 فروری
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سورن لتا 20 دسمبر 1924ء کو راولپنڈی کے ایک سکھ گھرانے میں پیدا ہوئی تھیں۔ سورن لتا کے فنی کیریئر کا آغاز 1942ء میں رفیق رضوی کی فلم آواز میں ایک ثانوی کردار سے ہوا تھا۔ 1943ء میںوہ نجم نقوی کی فلم تصویر میں پہلی مرتبہ بطور ہیروئن جلوہ گر ہوئیں، اس فلم کے ہیرو نذیر تھے۔نذیر کے ساتھ ان کی اگلی فلم لیلیٰ مجنوں تھی۔ یہی وہ فلم تھی جس کے دوران انہوں نے اسلام قبول کرکے نذیر سے شادی کرلی۔ ان کا اسلامی نام سعیدہ بانو رکھا گیا۔ اس زمانے میں انہوں نے جن فلموں میں کام کیا ان میں رونق، رتن، انصاف، اس پار اور وامق عذرا کے نام سرفہرست ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد وہ اپنے شوہر نذیر کے ہمراہ پاکستان آگئیں جہاں انہوں نے اپنے ادارے کے بینر تلے فلم "_سچائی” بنائی۔ اس فلم میں ہیرو اور ہیروئن کا کردار نذیر اور سورن لتا نے ادا کیا۔ اسی سال پاکستان کی پہلی سلور جوبلی فلم” پھیرے” ریلیز ہوئی۔ اس فلم کے فلم ساز ، ہدایت اور ہیرو نذیر تھے جبکہ ہیروئن سورن لتا تھیں۔” پھیرے” کی کامیابی کے بعد نذیر اور سورن لتا کی پنجابی فلم” لارے” اور اردو فلم "انوکھی داستان” ریلیز ہوئیں۔

    1952ء میں نذیر نے شریف نیر کی ہدایت میں فلم ” بھیگی پلکیں” تیار کی جس میں سورن لتا نے الیاس کاشمیری کے ساتھ ہیروئن کا کردار ادا کیا۔ اس فلم میں نذیر نے ولن کا کردار ادا کیا تھا۔ 1953ء میں سورن لتا کی چار مزید فلمیں ، شہری بابو، خاتون،نوکراور ہیر ، ریلیز ہوئیں۔ اس کے بعد بھی سورن لتا کی کئی اور فلمیں نمائش پذیر ہوئیں جن میں سوتیلی ماں، صابرہ، نور اسلام، شمع، بلو جی اورعظمت اسلام، شامل تھیں۔ عظمت اسلام سورن لتا کی بطور ہیروئن اور نذیر کی بطور فلم ساز اور ہدایت کار آخری فلم تھی۔ اس کے بعد سورن لتا نے چند مزید فلموں میں کریکٹر ایکٹر کردار ادا کئے تاہم چند برس بعد فلمی صنعت سے کنارہ کش ہوگئیں۔ سورن لتا ایک تعلیم یافتہ اداکارہ تھیں ، انہوں نے لاہور میں جناح پبلک گرلز اسکول کی بنیاد رکھی اور آخری وقت تک اس کی روح و رواں اور سربراہ رہیں۔
    8 فروری 2008ء کو برصغیر پاک و ہند کی نامور ہیروئن سورن لتا لاہور میں وفات پاگئیں۔ وہ لاہور میں آسودۂ خاک ہیں۔

  • ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    ہندوستان کے با اثر فنکار اور”غزل کنگ” جگجیت سنگھ

    جگجیت سنگھ جو کہ "غزل کنگ” یا "غزل کے بادشاہ” کے نام سے مشہور ہیں، ایک ہندوستانی غزل گلوکار، موسیقار تھے۔

    8 فروری 1941 میں پیدا ہونے والےجگجیت سنگھ نےمتعدد زبانوں میں گایا اورغزل کےاحیاء اور مقبولیت کا سہرا،ایک ہندوستانی کلاسیکی فن کی شکل ہے، جس نے عوام کے لیے موزوں اشعار کا انتخاب کیا اور انہیں اس انداز میں کمپوز کیا جس میں الفاظ اور راگ کے معنی پر زیادہ زور دیا گیا۔

    انہیں ہندوستانی کلاسیکی موسیقی کے لحاظ سے، ان کی کمپوزنگ کا انداز اور گائیکی (گائیکی) کو بول پردھان سمجھا جاتا ہے، جو الفاظ پر زور دیتا ہے انہوں نے پریم گیت (1981)، آرتھ (1982)، اور ساتھ ساتھ (1982)، اور ٹی وی سیریلز مرزا غالب (1988) اور کہکشاں (1991) جیسی فلموں کے لیے اپنی موسیقی میں اس کو اجاگر کیا۔

    سنگھ کو تنقیدی پذیرائی اور تجارتی کامیابی کے لحاظ سے اب تک کا سب سے کامیاب غزل گائیک اور موسیقار سمجھا جاتا ہے پانچ دہائیوں پر محیط کیریئر اور بہت سے البمز کے ساتھ، اس کے کام کی حد اور وسعت کو صنف کی وضاحت کےطورپرسمجھا جاتا ہےسنگھ کا 1987 کا البم، بیونڈ ٹائم، ہندوستان میں پہلی ڈیجیٹل ریکارڈ شدہ ریلیز تھی ان کا شمار ہندوستان کے بااثر فنکاروں میں ہوتا تھا۔

    ستار بجانے والے روی شنکر اور ہندوستانی کلاسیکی موسیقی اور ادب کی دیگر سرکردہ شخصیات کے ساتھ، سنگھ نے ہندوستان میں فنون اور ثقافت کی سیاست کرنے اور ہندوستان کے روایتی فن کے ماہرین، خاص طور پر لوک فنکاروں اور موسیقاروں کے ذریعہ تعاون کی کمی پر اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

    انہوں نے کئی فلاحی کاموں کو فعال تعاون فراہم کیا جیسے سینٹ لوئس میں لائبریری میریز سکول، ممبئی، بمبئی ہسپتال، CRY، سیو دی چلڈرن اور ALMA۔ سنگھ کو حکومت ہند نے 2003 میں پدم بھوشن سے نوازا تھا اور فروری 2014 میں حکومت نے ان کے اعزاز میں دو ڈاک ٹکٹوں کا ایک سیٹ جاری کیا گلوکار 10 اکتوبر 2011 کو انتقال کر گئے-

  • اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری

    کراچی کی عدالت نے اداکارہ سنبل اقبال کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیئے۔

    باغی ٹی وی: ایف آئی اے کے مطابق سنبل اقبال نے 2020 میں شکایت درج کرائی تھی جس کے بعد ندیم کیانی و دیگر کے خلاف پاکستان الیکٹرانک کرائم ایکٹ کے تحت مقدمہ درج ہے،اداکارہ کی جانب سے الزام عائد کیا گیا تھا کہ ندیم کیانی و دیگر نے میرے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلائی ہے ۔

    کیسے سینز کرنے سے پہلے روینہ ٹنڈن شرائط رکھتی تھیں؟ اداکارہ نے بتا دیا

    ملزم کے وکیل کے مطابق سنبل اقبال نے ندیم کیانی و دیگر کے خلاف ایف آئی اے میں شکایت درج کرائی تھی اور ندیم کیانی نے کیس میں ضمانت کرارکھی ہے اداکارہ سنبل اقبال گواہی کے لیے عدالت میں پیش نہیں ہورہی۔

    تاہم اب کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت نے گواہی اور شواہد پیش نا کرنے کے معاملے پر اداکارہ کے 10 ہزار روپے مالیت کے قابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں اور انہیں گرفتار کرکے 15 فروری کو پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

    میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

  • حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    حرا مانی اور نبیل قریشی و دیگر اپنے ساتھ ہوئے حادثے پر شدید پریشان

    کراچی میں جمشید کوارٹرز کے علاقے میں حرامانی ، نبیل قریشی و دیگر شوٹنگ کررہے تھے دو دن قبل اسی علاقے کے علاقہ مکینوں نے ڈرامے کے پچاس پر مشتمل کرو کو گھیر لیا اور ان کو شدید مارا پیٹا اور ان سے ان کے موبائل چھین لئے. ان کے جسم پر تشدد کے نشانات موجود ہیں . جمشید کوراٹرز کے قریبی تھانے میں ایف آئی آر درج کر لی گئی ہے اور ساتھ ایس ایچ او کو بھی معطل کر دیا گیا ہے. کہا جا رہا ہے کہ لوگوں کو ایک ہجوم تھا جو ڈرامے کے پورے کرو پر ٹوٹ پڑا . حرامانی شدید صدمے کی حالت میں ہیں ان سب کا کہنا ہے کہ بھپرے ہوئے ہجوم سے ہمارے

    لئے خود کی جان بچانا مشکل ہو گیا تھا. ہمارے پاس جو پیسے موبائل تھے وہ سب چھین لیا گیا ہے. ہمارے ساتھ یہ سب کیوں کیا گیا ہے ہم سمجھنے سے قاصر ہیں اتنا عرصہ ہو چکا ہے ہمیں شوٹنگ کرتے ہوئے کبھی پہلے ایسا نہیں ہوا جو کچھ اب ہوا ہے. نبیل قریشی نے کہا کہ کیا ہم جنگل میں رہ رہے ہیں جہاں کوئی قانون نہیں ہے. آرٹسٹوں پر اتنا ظلم کیا گیا ہے، اس واقعہ کی سوشل میڈیا پر بہت زیادہ مذمت کی جا رہی ہے.

  • میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

    میں نے کبھی عادل پر ہاتھ نہیں اٹھایا اپنے بچائو میں کبھی دھکا دیا ہو گا راکھی ساونت

    اداکارہ راکھی ساونت نے کہا ہے کہ میں نے کبھی اپنے شوہر عادل درانی پر ہاتھ نہیں آٹھایا جب وہ مجھے مارتا تھا تو اس وقت اپنے بچائوں میں شاید دھکا مار لیتی تھی. راکھی نے مزید کہا کہ عادل گھر چھوڑ کر جانے لگتے تھے تو میں ان کے پائوں پکڑ لیتی تھی اس دوران وہ مجھے پائوں مارتے تھے ، لاتیں مارتے تھے ، وہ نہیں دیکھتے تھے کہ مجھے کہاں چوٹ لگے گی. راکھی ساونت نے کہا کہ میری ماں نے ہمیشہ مجھے کہا کہ عورت کی زندگی میں اسکے شوہر کی بہت اہمیت ہوتی ہے لہذا میرے زہن میں یہ بات تھی کہ شوہر کی عزت ہی کرنی ہے . دل پر پتھر رکھ کر

    شوہر پر کیس کیا ہے ، سات مہینے مسلسل مجھے ٹارچر کیا اور ٹارچر بھی ایک لڑکی کے لئے کیا جس کے ساتھ اسکا شرعی تعلق نہیں تھا. میں عادل کی بیوی ہوں میرا حق ہے کہ مجھے عزت دی جائے مجھے مارا نہ جائے. راکھی نے مزید کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے یقینا مجھے اچھا نہیں‌لگ رہا لیکن کیا کیا جا سکتا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ جو لوگ میرا مذاق بنا رہے ہیں ان کو میری زندگی کے مسائل کا پتہ نہیں ہے میں کن مسائل سے گزری ہوں اور گزر رہی ہوں.

  • اداکارہ و ماڈل ریچل گل کا بڑا اعلان

    اداکارہ و ماڈل ریچل گل کا بڑا اعلان

    اداکارہ و ماڈل ریچل گل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں اب اپنے مداحوں کو باقاعدگی سے ٹی وی پر نظر آئوں گی. میں کرداروں کے انتخاب کرنے میں کافی وقت لیتی ہوں یہی وجہ ہے کہ مجھے میرے شائقین زرا وقفے وقفے سے دیکھ پاتےہیں لیکن اب میں نے فیصلہ کیا ہے کہ میں مسلسل اپنے مداحوں کو نظر آئوں گی . ریچل گل نے مزید یہ بھی کہا کہ ماڈلنگ اور اداکاری میں فرق تو ہے لیکن دونوں ہی کام بہت آسان نہیں ہیں. انہوں نے کہا کہ میں آج کل سنگیتا بیگم کا ڈرامہ دو بوند پانی کی شوٹنگ میں مصروف ہوں اور میرا کردار بہت اچھا ہے ایسا کردار میں نے کبھی پہلے نہیں کیا. اس میں جو بولی بولی گئی ہے یا جو لہجہ اپنایا گیا ہے میں اس سے پہلے زیادہ واقفیت نہیں رکھتی تھی. لیکن کام کرکے بہت مزا آیا

    ہے مجھے بہت امید ہےکہ شائقین کو یہ ہم سب کی یہ کوشش بہت پسند آئیگی . انہوں نے مزید کہا کہ سردی اور گرمی دونوں میں کام کرنا آسان نہیں ہوتا لیکن محنت اور لگن انسان سے اچھا کام کروا لیتی ہے. ریچل نے کہا کہ ابھی بھی سٹل شوٹس کر لیتی ہوں لیکن ریمپ پر واک نہیں کرتی، ریمپ پر ببہت واک کر لی اب نئے لوگوں کو مقع دیا جانا چاہیے.

  • کسی کا بھائی کسی کی جان کی شوٹنگ مکمل ، سلمان خان کا ٹویٹ

    کسی کا بھائی کسی کی جان کی شوٹنگ مکمل ، سلمان خان کا ٹویٹ

    بالی وڈ کے بھائی کہلائے جانے والے سلمان خان نے حال ہی میں ایک ٹویٹ کیا ہے اس کے زریعے انہوں نے اپنے مداحوں کو انفارم کیا ہے ان کی فلم کسی کا بھائی کسی کی جان کی شوٹنگ مکمل ہو گئی ہے. فلم 21 اپریل 2023 کو ریلیز ہو نے جا رہی ہے. اس فلم کا نام پہلے کبھی عید کبھی دیوالی تھا لیکن بعد ازاں تبدیل کرکے کسی کا بھائی کسی کی جان رکھ دیا گیا. فلم کے پرڈیوسر خود سلمان خان ہیں. جبکہ اس میں ان کے ساتھ مرکزی کردار میں‌ نوجوان اداکارہ پوجا ہیگڑے نظر آئیں گی. اس کے علاوہ اس میں بگ باس 13 سے شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے والی شہناز گل بھی بالی وڈ میں اپنا ڈیبیو کرنے جا رہی ہیں . اطلاعات یہ بھی ہیں اس فلم میں سورج پنجولی جو کہ آدیتیہ پنچولی کے بیٹے ہیں وہ بھی ہیں اور ٹی وی

    کی معرف اداکارہ شویتا کی بیٹی پلک تیواری بھی ہیں. سلمان خان کی فلم کسی کا بھائی کسی کی جان کا ٹیزر جاری ہو چکا ہے اس میں سلمان خان کی لکس کافی مختلف نظر آرہی ہیں اس فلم کا شائقین کافی بےچینی سے انتظار کررہے ہیں. دیکھنا یہ ہے کہ سلمان خان کی فلم پٹھان سے زیادہ بزنس کرنے میں کامیابی ہوتی ہے یا نہیں‌یا اس سال کی سب سے بڑی ہٹ پٹھان ہی رہتی ہے.

  • ترکی میں زلزلے کی تباہی پر فنکار پریشان

    ترکی میں زلزلے کی تباہی پر فنکار پریشان

    اداکارہ و ماڈ ل آمنہ الیا س نے ترکی میں حولناک اور ہلا کر رکھ دینے والے زلزلے پر کہا ہےکہ بہت ہی افسوسناک خبر ہے جو ہمارے برادر ملک سے ہمیں مل رہی ہے. اس زلزلے میں کئی انسانی جانیں دنیا سے چلی گئی ہیں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے. کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں . میں ان سب کے لئے دعا گو ہوں خصوصی طور پر ان لوگوں کے اہلخانہ کے لئے دعا گو ہوں جن کے پیارے ان سے بچھڑ گئے اللہ ان کو صبر عطا کرے اور وہ اس ٹروما سے جلد باہر آسکیں. اداکارہ میرا نے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک آفت آئی جس میں ہلاکتیں ہوئیں. اللہ سے بس ڈرتے ہی رہنا چاہیے ، جب یہ آفت آئی یقینا بہت سارے لوگ سو رہے تھے وہ اسی حالت میں اللہ کے پاس چلے گئے. رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ایسی آفت

    دیکھ کر . مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے اللہ کے یہ کام ہیں کیا کہہ سکتے ہیں مجھے بہت افسوس ہے اور میری بہت ساری دعائیں ہیں اللہ ترکی میں تباہی کی نذر ہونے والوں کو نارمل زندگی کی طرف دوبارہ جلدی لیکر آئیں. ماڈل و اداکارہ ریچل گل نے کہا کہ اللہ کی طرف سے یہ بڑی آفت اور قیامت تھی جو ہمارے برادر ملک پر ٹوٹی ہے. ترکی میں بہت بڑی تعداد میں جانوں کا نقصان ہوا ہے اللہ ان کی فیملیوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ہم یہاں بیٹھ کر اپنے بہن بھائیوں کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں.

  • پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    نثار عزیز بٹ

    7 فروری 2020 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل جنوری 1927 میں مردان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی مگر وہ انگلش، اردو ، فارسی اور فرنچ زبان پر بھی عبور تھا۔ پشاور میں میٹرک کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا ۔ والدین کی سختی اور مخالفت کے باوجود ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا 1951 میں برقعہ پہن کر ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن پہنچ گئیں اور ریڈیو کے پروگرام میں حصہ لیا۔ جس کے بعد وہ ریڈیو سمیت مختلف ادبی پروگرامز میں شریک ہوتی رہیں جبکہ ناول لکھنا بھی شروع کر دیا ۔

    1954 میں اپنے خاندانی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی برادری میں شادی کرنے کی بجائے صحافی اور ڈرامہ نگار اصغر بٹ سے لاہور میں شادی کی ۔ اصغر بٹ سے شادی کے بعد وہ نثار عزیز کاکا خیل کی جگہ نثار عزیز بٹ بن گئیں۔ وہ نامور پاکستانی سیاستداں سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں۔ نثار عزیز بٹ کے 4 ناول اور ایک آپ بیتی کی کتاب شائع ہوئی۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں ۔

    1: نگری نگری پھرا مسافر 2: نے چراغے نے گلے 3: کاروان وجود 4: دریا کے سنگ اور ایک آپ بیتی ” گئے دنوں کا سراغ ” شامل ہے ۔ نثار عزیز بٹ کی تمام عمر جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے گزری ۔ 7 فروری 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔