Baaghi TV

Tag: Child Abuse

  • مسرت مصباح چائلڈ لیبر پر بول پڑیں

    مسرت مصباح چائلڈ لیبر پر بول پڑیں

    معروف بیوٹیشن مسرت مصباح نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ چائلڈ لیبر آج سے نہیں ہے جب سے پاکستان بنا ہے تب سے ہے ، تب سے ہی غربت چلی آ رہی ہے تب سے ہی لوگ بچوں سے کام کروا رہے ہیں، انہوں نے کہا کہ میں مانتی ہوں کہ ہم غریب ملک ہیں ، ہمارے ہاں مہنگائی ہے ، غربت بہت زیادہ ہے، مسائل بہت زیادہ ہیں ، ہمارے پاس آسائشیں نہیں‌ہیں لیکن قرآن مجید تو ہمارے پاس ہے نا

    ”ہماری مقدس کتاب میں بتایا گیا ہے کہ بچوں کے ساتھ کس طرح سے پیش آنا ہے” ان کے ساتھ حسن سلوک رکھنا ہے، تو میں صاحب استعداد لوگوں سے بھی ریکویسٹ کروں گی کہ وہ اپنے اردگرد گرد غریب لوگوں کی مدد کریں تاکہ وہ اپنے بچوں سے کام کروانے پر مجبور نہ ہوں. انہوں نے کہاکہ والدین کو بھی چاہیے کہ وہ گھریلو زمہ داریوں کا بوجھ معصوم بچوں پر نہ ڈالیں ان کی خوشیوں کو برباد نہ کریں. چھوٹی عمر میں کام کرنے سے بچے اپنا بچپنا کھو دیتے ہیں وہ بہت جلد دنیا کے وہ رنگ دیکھ لیتے ہیں جو دیکھنے کےلئے ان کو عمر کا ایک حصہ گزارنا پڑتا ہے.انہوں نے کہاکہ چائلڈ لیبر کی حوصلہ شکنی کریں.

    شمعون عباسی کار حادثے میں زخمی دانت ٹوٹ گیا

    عمران اشرف کو یو اےای کاگولڈن ویزہ مل گیا

    چلائو مت بہری نہیں ہوں جیا بچن نے ایسا کس کو کہا اور کیوں‌؟‌

  • آسٹریلیا؛ سابق چائلڈ کیئر ورکر پر 91 بچوں سے زیادتی کا الزام عائد

    آسٹریلیا؛ سابق چائلڈ کیئر ورکر پر 91 بچوں سے زیادتی کا الزام عائد

    آسٹریلیا کے ایک سابق چائلڈ کیئر ورکر پر 91 بچوں کے ساتھ زیادتی کا الزام عائد کیا گیا ہے جسے پولیس نے منگل کو ملک میں بچوں کے جنسی استحصال کے "خوفناک ترین، واقعات میں سے ایک قرار دیا ہے۔ افسران نے مزید کہا کہ اس پر 1,623 الگ الگ جرائم کا الزام لگایا گیا ہے جن میں آبروریزی کے 136 اور 10 سال سے کم عمر کے بچے کے ساتھ جنسی تعلق کے 110 الزامات شامل ہیں۔

    عالمی ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈارک ویب پر پوسٹ کی گئی گرافک چائلڈ پورنوگرافی دریافت کرنے کے بعد تفتیش کاروں نے اس 45 سالہ شخص کو گرفتار کیا۔ پس منظر میں بصری اشاروں کا استعمال کرتے ہوئے آخرِکار برسبین میں بچوں کی نگہداشت کے مرکز میں ان کا سراغ لگایا گیا۔ لیکن اس کے فون اور کمپیوٹر کی چھان بین کرنے کے بعد ہی افسران کو اس کے مبینہ "سفاکانہ” جرائم کی سنگینی کا احساس ہوا جو 4,000 سے زیادہ ضبط شدہ تصاویر اور ویڈیوز سے ظاہر ہوئے تھے۔

    پولیس نے کہا کہ یہ جرائم 2007 اور 2022 کے درمیان 10 مختلف چائلڈ کیئر سینٹرز میں رونما ہوئے اور نابالغ بچیوں کو خاص طور پر نشانہ بنایا گیا۔ پولیس نے بتایا کہ اس کے مبینہ متاثرین میں سے کچھ بچے ایک سال کی عمر کے تھے، چونکہ 91 میں سے 87 بچوں کا تعلق آسٹریلیا سے ہے تو پولیس کا خیال ہے کہ باقی چار نامعلوم بچوں کو 2013 اور 2014 کے درمیان زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب ملزم نے ایک مختصر مدت کے لیے بیرونِ ملک کام کیا تھا۔

    پولیس نے کسی ملک ک نام لیے بغیر بتایا کہ وہ بین الاقوامی تفتیشی اداروں کے ساتھ مل کر ان چار بچوں کے بارے میں معلوم کرنے کے لیے کام کرر ہی ہے۔ وفاقی پولیس کے اسسٹنٹ کمشنر جسٹن گف نے کہا کہ شناخت شدہ بچوں اور ان کے والدین کو میں بہت زیادہ تسلی نہیں دے سکتا ہوں۔ یہ خاندانوں، بچوں کی نگہداشت کرنے والوں، اور کیمونٹی کے لیے وسیع پیمانے پر تکلیف اور دباؤ کا باعث ہے۔ نیو ساؤتھ ویلز کے اسسٹنٹ پولیس کمشنرمائکل فٹزگیرالڈ نے کہا کہ "یہ ان کی زندگی کے دہشت ناک ترین کیسز میں سے ایک ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    انہوں نے مزید کہا کہ اس شخص نے بچوں کے ساتھ جو کیا، وہ کسی کے بھی تصور سے ماورا ہے۔ میں صرف یہ کہہ سکتا ہوں کہ پولیس میں اتنا طویل عرصہ گذارنے کے بعد کوشش کریں کہ آپ پریشان نہ ہوں لیکن یہ ایک دہشت ناک کیس ہے۔ پولیس نے بچوں سے زیادتی کا جو مواد دریافت کیا، اس کے مکمل حجم کو تلاش کرنے کے لیے ایک ٹاسک فورس مقرر کی گئی جس میں کام کرنے کے لیے کوئنز لینڈ اور نیو ساؤتھ ویلز کی ریاستوں کے تقریباً 35 جاسوسوں اور تفتیش کاروں کو بلایا گیا تھا۔

    پولیس نے بتایا کہ ہے اس شخص نے ماضی میں کیے گئے کام کی جانچ پڑتال کی سخت سیریز پاس کی تھی جو آسٹریلیا میں بچوں کی دیکھ بھال کے مراکز میں کام کرنے کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اس شخص کو 21 اگست کو کوئنز لینڈ میں عدالت میں پیش ہونا ہے۔ ایک دفعہ یہ کارروائی مکمل ہو جائے تو اسے مزید الزامات کا سامنا کرنے کے لیے نیو ساؤتھ ویلز کے حوالے کر دیا جائے گا۔

  • غیر اخلاقی مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنیوالے پانچ افراد دھر لیے گئے.

    غیر اخلاقی مواد سوشل میڈیا پر شیئر کرنیوالے پانچ افراد دھر لیے گئے.

    غیر اخلاقی مواد کی تشہیر کرنے پر پولیس نے پانچ افراد کو گرفتار کر لیا.

    بھارت کے شہر دہلی میں پولیس نے پانچ ایسے افراد کو گرفتار کیا ہے جو کہ چائلڈ پورنوگرافی کی سوشل میڈیا پر تشہیر میں مصروف تھے.

    ذرائع کے مطابق بھارتی پولیس نے "معصوم” کے نام سے ایک آپریشن شروع کیا ہے جو کہ بنیادی طور پر غیر اخلاقی مواد کی تشہیر کرنے والوں کے خلاف شروع کیا گیا ہے.