Baaghi TV

Tag: China

  • کیپیٹل ہل واقعہ، چینیوں کے طنز سے بھرپور تبصرے

    کیپیٹل ہل کے پرتشدد واقعے پر چینیوں نے ‘امریکی جمہوریت‘ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے اور اس کا موازنہ سن دو ہزار انیس کے ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں سے کیا جا رہا ہے۔

    کیپیٹل ہل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ‘حملے‘ کے مناظر چین میں انٹرنیٹ پر چھائے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی صبح چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹویٹ کے ساتھ دو تصویریں شائع کی ہیں۔ ایک تصویر جولائی دو ہزار انیس میں ہانگ کانگ کی لیجس لیٹیو کونسل کے احاطے پر مظاہرین کے قبضے کی ہے، جب کہ دوسری تصویر بدھ کے روز واشنگٹن کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے واقعے کی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کے کٹر حامیوں نے کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا ہے، سکیورٹی اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور عمارت پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور سیلفیاں لے رہے ہیں۔

    گلوبل ٹائمز نے ٹویٹ کرتے ہوئے طنزیہ لکھا ہے کہ اسپیکر نینسی پلوسی نے ہانگ کانگ کے فسادات کو ‘ایک خوبصورت منظر‘ قرار دیا تھا۔ حالانکہ سن دو ہزار انیس میں ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز مظاہرے بڑی حد تک پرامن رہے تھے۔ اخبار نے لکھا ہے،”یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ وہ کیپیٹل ہل کے حالیہ واقعات کے بارے میں بھی کیا اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتی ہیں.

  • کرپشن اور دو شادیاں، ملک کے بڑے بینکر کو سزائے موت کی سزا

    کرپشن اور دو شادیاں، ملک کے بڑے بینکر کو سزائے موت کی سزا

    چینی عدالت نے ملک کے بڑے بینکر کو کرپشن سمیت دو شادیوں کے جرم میں سزائے موت سنادی۔

    چین کی چار بڑی سرکاری ایسٹ مینجمنٹ فرمز میں سے ایک کے سابق چیئرمین کے خلاف درجنوں مقدمات میں قانونی کارروائی کی گئی، ان پر اپنے 10 سالہ دور میں 276 ملین امریکی ڈالر سے زائد کی کرپشن کا الزام تھا۔

    عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ ملزم نے اپنی پوزیشن کا غلط استعمال کرتے ہوئے بڑے پیمانے پر رشوت لی جن میں لوگوں کو رشوت لے کر نوکری دینا، پورموشن اور ٹھیکے شامل ہیں۔

    عدالتی فیصلے کے مطابق ملزم اس جرم کا بھی مرتکب پایا گیا کہ ملزم پہلے سے بچوں اور بیوی کی موجودگی کے باوجود دوسری بیوی کے ساتھ زندگی گزار رہا تھا۔

    میڈیا رپورٹس کے مطابق چین میں مالی بدعنوانی کے بڑے کیسز میں سزائے موت سنائے جانے کا یہ ایک ایسا کیس ہے جس میں ملزم کو دو سال کی مہلت دیے بغیر سزائے موت دی جائے گی۔

  • اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟  تحریر وہاب ادریس خان

    اصل سُپر پاور کون! امریکہ،چائنہ یاکوئی اور؟ تحریر وہاب ادریس خان

    پہلے جنگ تھی پھر سرد جنگ بھی ہوئی اب آجکل مارکیٹ میں نئی چیزآئی ہے اور وہ ہے تجارتی جنگ۔ان تمام جنگوں کی ایک اہم وجہ دنیا میں اپنی حکمرانی قائم کرنا اور خود کو سُپر پاور منوانا ہے جب بھی سونامی زلزلے یا قدرتی آفات آتی ہیں تو ہمیشہ یہی سوچ آتی ہےکہ کوئی تو ہوگا جو یہ سب روک سکے۔ چائنہ، روس اور امریکہ جیسے ممالک میں بھی جب آفات آئیں تو میری توقع کے عین خلاف وہ لوگ بھی اس کونہ روک سکے، کیونکہ سپر پاور ہونے کے دعوے اور خواب تو سب کے ہی ہیں لیکن اُس ملک کو میں کیسےسپرپاور مان لوں جوقدرت کی بھیجی ہوئی کسی بھی آفت کے خلاف اپنا دفاع نہ کرسکے۔ لفظ سُپر پاورسن کر تو زہن میں کسی ایسی طاقت کا تصور بنتاہے جودنیا میں سب سے طاقتور ہو اور اس کو نقصان پہنچانا کسی کے بس میں نہ ہو۔ پچھلے کچھ سالوں میں تو ٹیکنا لوجی بہت زیادہ ترقی کر چکی اور خود کو سُپر پاور کہنے والے چاندپر بھی اپنی برتری حاصل کرنے کیلئے زوروشورسے سرگرم ہیں۔

    میں اس فیصلے پر پہنچنے ہی والا تھا کہ اصل سُپر پاور کونسا ملک ہے لیکن ایک سانحہ نے مجھے یقین دلادیا کہ سُپر پاور ہونے کے سب دعوے جھوٹے ہیں اور یہ لوگ تو خودکو ہی نہیں بچا سکتے۔ واقعہ ہےیہ آج سے قبل کچھ مہینوں کا جب ایک خطرناک وائرس نے چائنہ میں سر اُٹھایا اورپوری دنیا بہت پریشان نظر آئی، مگر میں مطمئن تھا کہ چائنہ جیسا سُپرپاور کااُمیدوار ملک ایک چھوٹے سے وائرس کو گلےسے دبوچ کر بہت جلد اس کا قلعہ قمع کردے گامگر میرے سارے بھرم آہستہ آہستہ ٹوٹتے گئے اور چین میں دیکھتے ہی دیکھتے اس وائرس نے کئی زندگیاں نِگل لیں اور پورے ملک کا نظام درہم برہم کر دیا اور میں یہ سوچنے پر مجبورہو گیاکہ نہیں یہ سُپر پاور نہیں ہوسکتا کیونکہ کسی سُپر پاور کو ایک چھوٹا سا وائرس مفلوج نہیں کرسکتااور پاکستان جیسا چھوٹا ملک ادویات بھیج کر اس کی مددکر رہا تھا تو میں نے چائنہ کانام سُپر پاور کی لسٹ میں سے نکال دیا۔

    دیکھتے ہی دیکھتےیہ وائرس پوری دنیاکو اپنی لپیٹ میں لے بیٹھا اور دنیا کے کئی سربراہان اور کئی دنیا کے شاہی خاندانوں کو بھی متاثر کیا، لیکن مجھے یقین تھا کہ یہ وائرس امریکہ کا کچھ نہیں بگار سکے گا کیونکہ میراذہن امریکہ کوسپر پاور ماننے کے بہت قریب تھااور شاید دل تو مان بھی چکا تھا۔ ایک دن میں نے ٹیلی ویژن پر امریکہ کے صدر کو شیر کی طرح دھارتے دیکھااور وہ کہہ رہا تھا کہ ہم نہیں ڈرتے اس وائرس سے، یہ عام سا فلو ہی تو ہے۔ یہ سننے کے بعد میرے یقین کو اور تقویت ملی کہ امریکہ ہی وہ سُپر پاورہے جس کی مجھے تلاش تھی مگر ابھی میرا تجسُس پوری طرح ختم نہ ہواتھا کہ وہی صدر جو کچھ روز قبل شیر کی طرح دھار رہا تھااب کسی بھیگی بلی سے کم نہ لگ رہا تھا ، آواز بھی بیٹھی بیٹھی تھی اور کہہ رہاتھا کہ پورا ملک بند کرنا ناگزیر ہو گیا ہے۔اور اگر پورا ملک بند نہ کی گیاتولاکھوں لوگ مر سکتے ہیں اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے اس چھوٹے سے وائرس نےامریکہ جیسے ملک کومفلوج کرکے رکھ دیا۔

    اس واقع کے بعد میں اس بات کا قائل ہو گیا تھا کہ چین ہو امریکہ یا روس کوئی بھی ملک سُپر پاور نہیں، بلکہ سُپر پاور تو وہ ہےجو بار بار قدرتی آفات اور کورونا وائرس جیسی بیماریاں بھیج کر تمام سُپر پارو ہونے کے دعویداروں کو چیلنج کرتا ہےکہ تم جتنے مرضی طاقت ورکیوں نہ ہو جاو جتنی مرضی ٹیکنالوجی کیوں نہ حاصل کر لو مگر اپنے خالق کے بھیجے ہوئےکسی بھی آزمائش اورعذاب سے نہیں بچ سکتے اور اب میں یہ کہنے پر مجبور ہو گیا ہوں کہ اگر کوئی سُپرپاور ہے تو اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔

  • آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    آئی ٹی ڈپلومیسی سے آپکے موبائل کی جاسوسی تک از طہ منیب

    ہم خود اجازت دیتے ہیں جب بھی ہم کوئی ایپ انسٹال کرتے ہیں، اگر ہم اسکی اجازت نا دیں تو ہم اس ایپ سے درست فائدہ ہی نہیں اٹھا سکتے ، جیسا کہ گیلری، آڈیو، کیمرہ تک ایکسس اور اس سے وہ ہمارا سب کہا ، دیکھا، بولا سنتے ریکارڈ کرتے اور اسکے مطابق اسکی بنیاد پر ہمیں گائیڈ یا ڈکٹیٹ کرتے ہیں۔ مزید جب بھی کسی ایپ کو انسٹال کرنا ہوتا ہے تو وہ ایک صفحہ سامنے لاتے ہیں جس پر انکی جانب سے اصول و ضوابط لکھے ہوتے ہیں جسے ٹک کیے بغیر آپ آگے بڑھ ہی نہیں سکتے اور جسے ہم ہمیشہ آنکھیں بند کر کے جلدی میں اسے پڑھے بغیر ہی ٹک کر کے انسٹال کے بٹن پر کلک کر کے ہی دم لیتے ہیں، اگر اسے ہم پڑھ لیں تب شروع میں ہی ہم محتاط ہو جائیں یا شاید باز آجائیں لیکن ایسا ہوتا نہیں ہے کیونکہ یہ ہمارے مزاج میں شامل نہیں ہے۔

    یہ ٹیکنالوجی میں خود مختار ممالک کا باقیماندہ دنیا پر اسی طرح کا استحصال ہے جیسا کہ وہ کمزور معیشتوں سے تعاون کے نام پر قرضوں کے بعد انکی خودمختاری گروی رکھوا لیتے ہیں اور داخلی خارجی معاملات پر کنٹرول کر لیتے ہیں۔

    بالکل اسی طرز پر انہیں بڑے ممالک کی ٹیکنالوجی میں برتری نے خطرناک حد تک دنیا کے ہر شخص کا ہر طرح کا بائیو ڈیٹا انکی گود میں ڈال دیا ہے جس سے اس شخص کو چلانا اسکی پسند نا پسند اسکی نفسیات غرض سب کچھ ان کے ہاتھ چلا گیا ہے، اور آپکی میری ہم سب کی مجبوری ہے اگر دنیا کے ساتھ چلنا ہے تو ” یہ تو ہو گا”۔ ٹیکنالوجی کا کنٹرول معاشی کنٹرول سے سو گنا بڑھ کر ہے کیونکہ یہاں چند ڈکٹیٹرز حکمرانوں یا ملکی سطح کے مرکزی اداروں تک انکی ڈکٹیشن نہیں ہوتی بلکہ اس کا دائرہ کار ہر فرد تک پہنچ جاتا ہے ۔ آپ یہ دیکھیں کہ صرف فیس بک کے ڈاؤنلوڈز پانچ سے چھ ارب کے درمیان ہیں جو دنیا کی کل آبادی کا نوے فیصد ہیں، تقریباً یہی اعداد و شمار باقی بڑی ویب سائٹس و ایپس کے بھی ہیں۔

    ٹیکنالوجی میں خود مختار دنیا کے بڑے ملکوں کی جنگیں پالیسیاں اب اسی طرز پر ہوتی ہیں جیسا کہ آپ نے دیکھا چند ماہ پہلے امریکہ نے چینی کمپنی ہواوے کو بین کیا ، روسی ایپس پہلے سے بین تھیں، روس و چائنہ میں امریکی ایپس بین ہیں۔ اور تو اور لداخ میں چین سے پڑنے والی مار کا جواب بھارت نے 59 چینی ایپس کو بین کر کے دیا ہے۔

    فی الحال پاکستان جیسے معاشی اعتبار سے کمزور ملک کے بس کی بات نہیں کہ ٹیکنالوجی کے اس میدان میں خود کوئی بڑی ایجادات کرے یا ان کمپینوں سے اپنا کچھ منوا سکے ۔ تقریباً دو ماہ حکومت پاکستان نے تقریباً ان تمام بڑی ایپس کو کچھ اصول و ضوابط پر پابند کرنے کی کوشش کی جس پر ان سب نے پاکستان سے اپنے تمام آپریشنز کو بند کرنے کی دھمکی دی اور تاحال حکومت اس پر کسی قسم کی معمولی شرائط نہیں منوا سکی، بلکہ چند ہفتے قبل پاکستان میں ٹویٹر ڈاؤن پر یہ شبہ کیا گیا تھا کہ یہ پاکستان کو ٹریلر دیکھایا گیا ہے کہ ہمارے سے اپنی سروسز کو بند کرنا کوئی بڑا سودا نہیں۔

    بہرحال ٹیکنالوجی ایک ایسا وسیع موضوع ہے جسے ایک فیس بک پوسٹ یا تحریر میں مکمل کرنا ناممکن ہے، کوشش ہوگی کہ مستقبل میں اس کے دفاعی، معاشی، معاشرتی، ثقافتی، نفسیاتی اثرات پر بات کروں ، فی الوقت اتنا ہی۔

  • کشمیر و بھارت میں مسلمانوں پر ظلم کی انتہا کرنے والے مودی کو لداخ میں چینی قبضے پر سانپ سونگھ گیا از طہ منیب

    تین دن قبل چائنہ نے پانچ ہزار فوج کے ساتھ پانچ اطراف شمالی سکم، گولان ، ناکولا پاس سے بھارت پر چڑھائی کی اور تقریباً پانچ کلو میٹر تک لداخ اندر گھسنے کے بعد قبضہ کرتے ہوئے اسی خیمے گاڑ دئیے ، پچاس کے قریب بھارتی فوجی گرفتار کیے ھو بعد ازاں انڈین آفیشلز کے رونے دھونے پر چھوڑ دئیے گئے، چینی فوج نے گولیاں بارود پھونکنے کی بجائے کنگ فو ، کراٹے، مارشل آرٹس کا مظاہرہ کرتے ہوئے ، مکوں ، گھونسوں ، ٹھڈوں ، دھکوں اور ڈنڈوں سے پیچھے دکھیلا جبکہ گالیوں ، ڈانٹ ڈپٹ کی بھی وارفئر اس بار دیکھنے میں آئی جب چینی فوج میں موجود ایک فوجی نے ارناب گوسوامی کے انداز میں بھارتی افسر کو سمجھایا جو منتوں ترلوں سے سمجھانے آیا تھا کہ کچھ صبر لیں ہمارے بڑے آ رہے ہیں وہ مل بیٹھ کر بات کر لیں گے وغیرہ وغیرہ ، اسی طرح ایک جگہ ہند کی بہادر آرمی آنگلش و چینی زبان میں ایک بینر اٹھائے کھڑی تھی کہ جس جگہ آپ کھڑے ہیں یہ معاہدہے کے مطابق یہ جگہ ہماری ہے تو آپ پلیز گو بیک۔ چائنہ نے ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے ٹھیک اگلے دن اپنے شہریوں کو بھارت چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔

    آج کی اطلاعات کے مطابق چائنہ نے مزید اپنے مزید پانچ ہزار فوجی بڑھا کر کل دس ہزار تعداد کر دی ہے جنہوں نے پیش قدمی کرتے ہوئے لداخ کی ایک پوری وادی ملکیت کا دعویٰ کر دیا ہے ، اسی طرح سیٹلائیٹ تصاویر کے مطابق لداخ کے قریب چینی سائڈ پر موجود ائر بیس پر چائنہ بڑی تعداد میں تعمیرات کر رہا ہے جس چائنہ کے لداخ سے متعلق مستقبل کی پلاننگ واضح ہوتی ہے۔

    کشمیر کی متنازعہ حیثیت کا خاتمہ ، بلوچستان میں دہشتگردی ، گلگت بلتستان میں فنڈنگ امریکی ایماء پر بھارت کی پاکستان و چین کے مشترکہ پراجیکٹ سی پیک کے خلاف بڑی سازش کو منطقی انجام تک پہنچانے یا کسی حد تک بھارت کو لداخ میں محدود کرنے کی چینی پلاننگ ہو سکتی ہے۔

    چائنہ سے مار کھانے، منتیں ترلے، درخواستیں اور جواب کے بجائے بینر اور احتجاج کرنے والی یہ فوج وہی ہے جس کے سربراہ مودی ڈھاکہ میں کھڑا ہوکر اعتراف کرتا ہے کہ ہم نے رت بہایا تو تمہیں پاکستان سے آزادی ملی،یہ وہی فوج ہے نے کشمیر میں میں ستر سالوں سے جاری ظلم و ستم میں شدت پیدا کی، آرٹیکل 370 کو ختم کرکے نو ماہ تک بدترین لاک ڈاؤن رکھا ، یہ وہی مودی کا بھارت ہے جس نے کشمیر کی امتیازی حیثیت کو ختم کرنے کے بعد بابری مسجد کا یکطرفہ فیصلہ کروا کر رام مندر کی تعمیر کا فیصلہ کروایا ، یہ وہی امت شاہ کا انڈیا ہے جس نے سیٹیزن شپ امینڈمنٹ ایکٹ لگا کر سینہ ٹھونک کر کہا ہم نے جو کہا کیا ، اور ہر بار کشمیر میں عسکریت پسندی کی ہوئی کسی کاروائی پر چون انچ کا سینہ پھلا کر پاکستان کو ٹکڑے ٹکڑے کرنے کے دعویدار مودی کو چائنہ کی لداخ میں پیشقدمی اور بھارتی ذلت پر سانپ سونگھ گیا ہے، دہلی خاموش ہے، کسی قسم کی سرجیکل اسٹرائک ، گھس کر مارنے کی بھڑک تاحال سامنے نہیں آسکی۔ تاہم بھارتی متشدد دفاعی تجزیہ جنرل ر بخشی نے احتجاجاً اپنی ایک سائڈ کی مونچھیں کٹوا لی ہیں۔ دیکھتے ہیں کہ بھارت کے جنونی عوام، چیختے چنگھاڑتے اینکرز اور بھڑکیں مارتے وزرا کیا پالیسی اپناتے ہیں۔

  • یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر نے عالمی دنیا کے قائدین کی مزاحیہ واٹس ایپ گفتگو شیئر کردی

    یوکرین کے صدر ولودومیر زیلینسکی نے عالمی دنیا کے بڑے قائدین کی واٹس ایپ گروپ کی مزاحیہ گفتگو شئیر کردی. اس گروپ میں یوکرائن، امریکہ، انگلینڈ، فرانس، جرمنی، اسپین، فن لینڈ، روس، چائنہ، ڈنمارک، شمالی کوریہ اور جنوبی کوریہ کے قائدین سمیت آئی ایم ایف اور یوکرین کے بزنس مین اور سیاستدان پیٹرو پوروشینکو شامل ہیں.

    تفصیلات کے مطابق اس گروپ کی گفتگو کا آغاز یوکرین کے قائد "خوش آمدید سب کو” سے کرتے ہیں، گفتگو میں کچھ دیر بعد یوکرین کے بزنس مین پیٹرو پوروشینکو اس وقت گروپ چھوڑ دیتے ہیں جب امریکہ کے لیڈر سب کو خوش آمدید کہتے ہیں. لیکن کچھ دیر بعد جب امریکی لیڈر بزنس کی بات کرتے ہیں تو پیٹرو پوروشینکو گروپ کو دوبارہ جوائن کرلیتے ہیں. اس بزنس ڈیل کے جواب میں جب یوکرین کے لیڈر قرضہ لینے کی بات کرتے ہیں تو آئی ایم ایف گروپ ہی چھوڑ دیتا ہے، لیکن اگلے ہی لمحے جب یوکرین اپنے قرضے کی قسط واپس کرنے کی بات کرتا ہے تو آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ کو جوائن کرلیتا ہے. سب سے مزاحیہ بات یہ تھی کہ جب یوکرین اگلا میسج یہ کرتا ہے کہ "ہمیں اگلی قسط کب ملے گی” آئی ایم ایف ایک مرتبہ پھر گروپ چھوڑ دیتا ہے.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280153510854657

    امریکی لیڈر غلطی سے میسج کردیتے ہیں کہ "تم بہت خوبصورت لڑکی ہو” لیکن ساتھ ہی اس میسج کو ڈیلیٹ کردیتے ہیں اور معافی بھی مانگتے ہیں. امریکی لیڈ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم گرین لینڈ کو خرید لیں گے، جس پر دنمارک کے لیڈر کہتے ہیں "گرین لینڈ سیل کیلئے نہیں ہے” اس ساری گفتگو کو چائنہ بھی جوائن کرتا ہے اور امریکہ کو مشورہ دیتا ہے کہ میں اس کی کاپی بناکر تمہیں 10 فیصد سستی بیچ دوں گا”.

    https://twitter.com/rama_rajeswari/status/1175280500606263296

    واضح رہے کہ یوکرین کے صدر اس میٹنگ میں آئے تھے اور یہ مزاحیہ گفتگو شیئر کی، جس پر پورا ہال قہقہوں سے گونج اٹھا.

  • صدرٹرمپ نے چین سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا

    صدرٹرمپ نے چین سے متعلق اہم فیصلہ کرلیا

    نیویارک (اے پی پی) صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چینی مصنوعات سے دس فیصد محصولات عائد کرنے کا فیصلہ موخر کردیا.

    تفصیلات کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے کرسمس کے موقع پر صارفین کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے 150 ارب ڈالر کا چینی مصنوعات پر سے دس فیصد محصولات عائد کرنے کا فیصلہ موخرکر دیا گیا ہے۔ امریکی خبررساں ادارے کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے جن چینی مصنوعات پر ٹیکس استثنٰی دیا گیا ہے ان میں لیپ ٹاپ، موبائل فونز اور کھلونے شامل ہیں۔ امریکہ کی جانب سے چین کی دیگر ہزاروں مصنوعات پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ برقرار ہے، ان مصنوعات میں کپڑے، کھانے پینے کی اشیاءاور دیگر الیکٹرانک مصنوعات شامل ہیں جن پر ٹیکس یکم ستمبر سے نافذ العمل کرنا تھا۔

    دوسری جانب امریکی حکومت کے اس فیصلے اور چین سے کئے گئے تجارتی مذاکرات کے بعد سٹاک مارکیٹس میں تیزی دیکھی گئی ہے جبکہ ممکنہ مہنگائی سے پریشان صارفین نے بھی سکھ کا سانس لیا ہے۔ صدر ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد مذکورہ چینی مصنوعات پر عائد دس فیصد محصولات کا اطلاق اب پندرہ دسمبر سے ہو گا۔

  • چین نے بھارت کو اچانک بڑی دھمکی لگادی، پوری دنیا میں کھلبلی، اب کیا ہوگا؟

    چین نے بھارت کو اچانک بڑی دھمکی لگادی، پوری دنیا میں کھلبلی، اب کیا ہوگا؟

    نئی دہلی: چین نے بھارت کو دھمکی لگائی ہے کہ چینی کمپنی ہواوے کو بھارت میں کام کرنے سے نہ روکا جائے ورنہ س کے اثرات بہت برے مرتب ہوں گے.

    تفصیلات کے مطابق چین نے بھارت کو دھمکی لگائی ہے کہ ہواوے کمپنی کو بھارت میں کام کرنے سے نہ روکا جائے اگر بھارت ہواوے کو کام کرنے سے روکتا ہے تو اس فیصلے کا اثر چین میں موجود بھارتی کمپنیوں پر ہوسکتا ہے. بھارتی وزیر سائنس اور ٹیکنالوجی راوی شنکر پرساد نے کہا ہے کہ ہندوستان میں 5G سیلولر نیٹ ورک نصب کرنے کے لئے اگلے چند مہینوں میں ٹرائلز ہونے ہیں، لیکن ابھی تک حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ آیا وہ چین کی ہواوے کمپنی کو دعوت دے رہیں یا نہیں.

    یاد رہے کہ ہواوے جو کہ دنیا کی بہترین ٹیکنالوجی کمپنیوں میں سے ایک ہے، پچھلے کچھ عرصے سے امریکہ اور چین کی معاشی جنگ کی وجہ سے زد میں آئی جب ڈونلڈ ٹرمپ نے مئی میں ہواوے کمپنی سے انڈرائڈ سسٹم ختم کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی اپنے اتحادی ملکوں کو کہا کہ چینی کمپنی ہواوے کو استعمال نہ کیا جائے، تاہم اب کہا جارہا ہے کہ بھارت نے بھی امریکی صدر کی بات مانی ہے.

  • ہم گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، چینی سفارتکار

    ہم گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، چینی سفارتکار

    چینی سفارت کار لیجین زاؤ نے اپنے ٹویٹر بیان میں کہا کہ چینی سفارتخانہ پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر میں دہشت گردانہ حملے کی سختی سے مذمت کرتا ہے، انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بہادرانہ کاروائی قابل تعریف ہے. ہم شہید اور زخمی سیکورٹی اہلکاروں کے خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں.
    یاد رہے کہ آج بروز ہفتہ افطاری سے پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا جس میں ایک سیکورٹی اہلکار کی شہادت جبکہ دو زخمی ہوئے تمام سولینز کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا بعد ازاں تین دہشتگرد بھی ہلاک کر دئے گئے تھے.