Baaghi TV

Tag: COIVD

  • مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کرونا وائرس کا شکار ہو گئے

    مسلم لیگ ن کے ایم پی اے کرونا وائرس کا شکار ہو گئے

    میاں چنوں سے تعلق رکھنے والے مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی MPA رانا بابر حسین کرونا وائرس کا شکار ہوگے، پاکستان مسلم لیگ نون کے MPAرانابابرحسین کرونا وائرس میں شکار ہوگئے، کرونا وائرس کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آگئی ہے ۔تمام دوستوں اور اہلیان حلقہ سے دعا کی درخواست بھی کی ، رانا بابر حسین نے کرونا ٹیسٹ مثبت آنے پر خود کو قرنطینہ کر لیا ،

    دوسری جانب وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی اشرف انصاری سے ملاقات ہوئی۔ یونس انصاری اور طاہر بشیر چیمہ بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اشرف انصاری اور یونس انصاری کا گوجرانوالہ کے لئے اربوں روپے کا ترقیاتی پیکیج دینے پر وزیراعلیٰ عثمان بزدار کو خراج تحسین پیش کیا۔ اشرف انصاری کا کہنا تھا کے آپ نے یونیورسٹی کے قیام کا اعلان کر کے گوجرانوالہ کے لوگوں کے دل جیت لئے ہیں۔ آپ کی قیادت میں گوجرانوالہ ترقی کرے گا اور عوام کے مسائل حل ہوں گے۔ شہر کی صفائی کے لئے جی ڈبلیو ایم سی کو 106گاڑیاں فراہم کرنا قابل تحسین ہے۔ اس موقع پر یونس انصاری کا کہنا تھا کے ماضی میں گوجرانوالہ کی صفائی اور دیگر بنیادی مسائل کو بری طرح نظر انداز کیا گیا تھا۔ گوجرانوالہ کو لاہور سیالکوٹ موٹروے سے منسلک کرنے سے عوام کا دیرینہ مسئلہ حل ہوں گے۔ ہمیں آپ کی قیادت پر بھرپور اعتماد ہے۔ عثمان بزدار کا اس موقع پر کہنا تھا کے صوبہ کے تمام شہروں کی یکساں ترقی ہمارا عزم ہے۔

    خدمت کے جذبے سے کام کررہے ہیں۔ عوام کے مسائل حل کرنے کے لئے ہر وقت دروازے کھلے رکھتے ہیں۔ گوجرانوالہ کے ترقیاتی منصوبوں کی خود مانیٹر نگ کروں گا اور ترقیاتی منصوبوں کو بروقت پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے گا۔ گوجرانوالہ میرا اپنا شہر ہے اور اس کے مسائل پر میری پوری نظر ہے۔ اپوزیشن کو نشانہ بناتے ہوئے عثمان بزدار نے کہا کے اپوزیشن کا منفی بیانیہ عوام نے مسترد کردیاہے اور پی ڈی ایم مکافات عمل کا شکار ہو کر ٹوٹ چکی ہے۔ پی ڈی ایم بے سمت دوڑنے والا سیاسی ہجوم ہے۔

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد