Baaghi TV

Tag: corona virus

  • جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ؛ کورونا وائرس کے ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آگیا

    جنوبی افریقہ میں نئے کورونا وائرس ایریس ویریئنٹ کا پہلا کیس سامنے آ گیا ہے جبکہ جنوبی افریقہ میں نئے کورونا وائرس اومیکرون ویریئنٹ ایریس EG.5.1 کا پہلا کیس نوٹ کیا گیا ہے، وزات صحت کے بیان کے مطابق ملک میں پہلے ایریس ویریئنٹ وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔ تاہم خیال رہے کہ 9 اگست کو عالمی صحت ادارہ نے ایریس ویریئنٹ کے متعلق ایک رپورٹ شائع بھی کی تھی۔

    جبکہ واضح رہے کہ اس رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ تمام ثبوتوں کی بنیاد پر اعلان کیا جاتا ہے کہ ایریس ویریئنٹ عالمی صحت کو کووڈ 19 کے دیگر ایریس ویریئنٹوں کی طرف نچلے درجے کے ہیں، اقوام متحدہ کے ادارے کی رپورٹ کے مطابق 7 اگست تک کل 51 ممالک نے 7,000 سے زیادہ کیسز شیئر کیے ،اس کی خصوصیات کی بنیاد پر EG.5 عالمی سطح پر پھیل سکتا ہے اور کیسز میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    تاہم عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ وائرس چین (سلسلے کا 30%)، امریکہ (18.4%)، کوریا (14.1%)، جاپان (11.1%) اور اسپین (1.5%) میں موجود ہے۔ یہ سب سے پہلے انڈونیشیا میں پایا گیا تھا۔

  • کرن کھیر کے بعد پوجا بھٹ بھی کورونا میں مبتلا

    کرن کھیر کے بعد پوجا بھٹ بھی کورونا میں مبتلا

    ایک بار پھر کورونا سر اٹھا رہا ہے ، ہر دوسرا انسان کورونا میں مبتلا ہو رہا ہے. ھال ہی میں کرن کھیر کورونا میں مبتلا ہوئیں انہوں نے یہ خبر اپنے مداحوں کے ساتھ شئیر کرتے ہوئے کہا تھا کہ جو لوگ پچھلے کچھ دنوں میں مجھے ملے ہیں وہ اپنا ٹیسٹ ضرور کروائیں. کرن کھیر کے بعد نوے کی دہائی کی خوبصورت اور باصلاحیت اداکارہ پوجا بھٹ ہو گئی ہیں کورونا میں مبتلا. پوجا بھٹ جو کہ سوشل میڈیا پر کافی ایکٹیو رہتی ہیں اپنے مداحوں کو لمحہ بہ لمحہ اپنی سرگرمیوں کے بارے میں آگاہی دیتی رہتی ہیں انہوں نے یہ خبر اپنے مداحوں کے ساتھ

    ٹویٹر پر شئیر کی اور کہا کہ میں‌پہلی بار اس مہلک وائرس کا شکار ہو گئی ہوں. پوجا بھٹ نے جیسے ہی یہ خبر سوشل میڈیا پر شئیر کی تو ان کے مداحوں نے ان کی صحیتابی کےلئے دعائیں لکھنا شروع کر دیں. پوجا بھٹ کو ان کے مداحوں نے اس وائرس سے نمٹنے کے لئے مختلف قسم کے مشورے دئیے اور پوجا ان کا جواب بھی دیتی رہیں. ایک صارف نے لکھا کہ پوجا ہم آپ کو بہت زیادہ پیار کرتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ آپ ہمیشہ ہمیں چست اور توانا نظر آئیں. پوجا بھٹ نے کہا کہ میں سب سے اپیل کرتی ہوں‌ کہ ماسک لگا کر رکھیں.

  • کروانا ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگیا

    کروانا ویکسین لگانے کا عمل شروع ہوگیا

    وزیراعظم عمران خان اور وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کی بھرپور کوشش سے ضلع خانیوال میں کورونا ویکسین لگانے کا کام شروع ہو گیا ۔

    صوبائی وزیرزراعت سید حسین جہانیاں گردیزی نے ڈی ایچ کیو ہسپتال میں کورونا ویکسین لگانے کا باقاعدہ افتتاح کیا اس موقع پر ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی ،اراکین صوبائی اسمبلی فیصل اکرم خان نیازی ،ملکہ شاہدہ احمد حیات،ڈپٹی جنرل سیکرٹری پی ٹی آئی جنوبی پنجاب سید مصدق حسین شاہ، ضلعی صدر پی ٹی آئی مہر عمران پرویز دھول ،چیئرمین فرٹیلائزر اینڈ ایگریکلچر پنجاب مسعود اختر اعوان ایڈوکیٹ ،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ماریہ ممتاز سمیت دیگر محکمہ صحت کے افسران بھی موجود تھے ۔

    صوبائی وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی کی موجودگی میں فرنٹ لائن ورکر محمد اشرف ڈسپنسر کو کرونا ویکسین لگائی گئی صوبائی وزیر نے کہا کہ حکومت پاکستان سے کورونا وائرس کے جڑ سے خاتمہ کے لیے انتہائی سنجیدہ ہے تاکہ عالمی سطح تک پھیلنے والی وباء سے عوام کو جلد نجات دلائی جا سکے انہوں نے ویکسین لگوانے والے ڈاکٹرز اور عملہ پر زور دیا کہ وہ اس سلسلہ میں اپنے فرائض انتہائی ذمہ داری اور قومی فریضہ سمجھ کر انجام دیں ۔

    ڈپٹی کمشنر آغا ظہیر عباس شیرازی نے کہا کہ حکومتی پالیسی کے تحت کورونا وائرس ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کےفرنٹ لائن ورکرز کو لگائی جائے گی انہوں نے کہا کہ جان لیوا کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے حکومتی پالیسی اور ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرایا جائے گا انہوں نے بتایا کہ پہلے مرحلہ میں ڈی ایچ کیو ہسپتال اور ٹی ایچ کیوز ہسپتالوں کے فرنٹ لائن ورکرز کو ویکسین دی جائے گی ۔سی ای او ہیلتھ ڈاکٹر ماریہ ممتاز نے بتایا کہ ضلع خانیوال کے لیے کورونا ویکسین کی 580 ڈوزز موصول ہوئی ہیں جنہیں انتہائی نگہداشت سے استعمال میں لایا جائے گا اور فرنٹ لائن ورکرز کو کورونا ویکسین لگانے کے بعد ان کی صحت کی بھرپور دیکھ بھال کی جائے گی

  • کررونا ایس اوپیز کو مدنظر رکھتے ہوئے  کھلی کچہری کا انقعاد

    کررونا ایس اوپیز کو مدنظر رکھتے ہوئے کھلی کچہری کا انقعاد

    ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی ہدایات پر حکومت پنجاب کی کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جاری کردہ ایس اوپیز کیمطابق شہریوں کے مابین سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن حافظ عطاء الرحمن نے پولیس کمپلینٹ سنٹر پرعوامی مسائل وشکایات سنیں اور متعلقہ پولیس افسران کو میرٹ پر کاروائی مکمل کرکے رپورٹ بھجوانے کی ہدایت جاری۔۔۔

    خانیوال ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر محمد علی وسیم کی ہدایات پر حکومت پنجاب کی کورونا وائرس سے بچاؤ کیلئے جاری کردہ ایس اوپیز کیمطابق شہریوں کے مابین سماجی فاصلے کو یقینی بناتے ہوئے ایس پی انوسٹی گیشن حافظ عطاء الرحمن نے پولیس کمپلینٹ سنٹر پرعوامی مسائل وشکایات سنیں اور متعلقہ پولیس افسران کو میرٹ پر کاروائی مکمل کرکے رپورٹ بھجوانے کی ہدایت جاری کیں۔

    اس موقع پر ایس پی انوسٹی گیشن حافظ عطاء الرحمن نے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ انسپکٹرجنرل آف پنجاب پولیس انعام غنی محکمہ پولیس کو عوامی خدمت گارر اوران کی مشکلات کے مداوے کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں جس کے لیے خانیوال پولیس کی جانب سے عوام کو بہترین خدمات کی فراہمی کا عمل جاری ہے عوام کو ہر صورت امن و سکون کا ماحول اور فضا مہیا کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

    انہوں نے کہاکہ ڈی پی او محمدعلی وسیم کی قائدانہ صلاحیتوں کی بدولت خانیوال پولیس کی جانب سے بروقت اورموثر اقدامات کی بدولت چوری او رڈکیتی میں ملوث ملزمان کو کیفرکردارتک پہنچایا گیا ہے یہی وجہ ہے کہ جرائم کی شرح میں خاطر خواہ کمی واقع ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کھلی کچہری کا مقصددوردراز سے آئے ہوئے سائلین کی شکایات کا ازالہ ہے اورپولیس کارکردگی میں بہتری لانا ہے۔

  • کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق
    بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت
    ویب ڈیسک 16 جون 2020

    لندن: برطانوی ماہرین صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کے علاج میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے.
    برطانوی میڈیا رپورٹ کے
    مطابق ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کرونا علاج کے لیے اب تک کی سب سے اہم دوا دریافت ہوگئی، جس سے تشویشناک مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوگا۔
    ماہرین صحت کے مطابق اس دوا کو وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں پر بھی آزمایا گیا، 12 میں سے 11 مریض صحت یاب ہوئے، علاوہ ازیں مجموعی طور پر ایک تہائی مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیکسا میتھاسون نامی دوا کوئی خاص نہیں بلکہ یہ عام ہے اور ماہرین اسے کرونا مرض کے علاج کے لیے مؤثر بھی قرار دے رہے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دوا کی آزمائش کے لیے 2100 مریضوں کا انتخاب کیا جن میں سے تیس فیصد ایسے تھے جو وینٹی لیٹر پر موجود تھے‘۔

    تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ’ڈیکسا میتھاسون کے استعمال سے مریضوں کی موت کی شرح تیس فیصد کم ہوئی جبکہ جو مریض مصنوعی طریقے سے سانس لے رہے تھے اُن کی موت کی شرح نصف حد تک کم ہوگئی‘۔

    آکسفورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں پہلے اس دوا کی افادیت کا علم ہوتا تو برطانیہ کے پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکتی تھیں‘۔

    ماہرین نے تحقیق کا آغاز مارچ میں کیا اور اس ضمن میں 175 اسپتالوں میں داخل ہونے والے گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

    انہوں نے بتایا کہ ’حیران کن طور پر دوا کی کم خوراک بھی مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کی قیمت بھی مناسب ہے اور یہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہے‘۔

    مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’اب ہم تمام اسپتالوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ شام سے ہی مریضوں پر دوا کا استعمال شروع کردیں‘۔

    دوسری جانب برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی اسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔

  • ملتان ریڈ زون میں 43 علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    ملتان ریڈ زون میں 43 علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق ملتان ریڈ زون میں 43 علاقے سیل کرنے کا فیصلہ

    ملتان ان علاقوں میں وائرس تیزی سے پھیل کر روزانہ کی بنیاد کر کیس رپورٹ ہو رہے ہیں ان میں شاہ رکن عالم ، رشید آباد ، مسلم ٹاون ، بسمہ اللہ چوک ، ای بلاک ، گراس منڈی ، بلال چوک ، صدر بازار ملتان کینٹ ، دولت گیٹ ، افغان کالونی ، نیو ملتان ایس بلاک ، واپڈا کالونی ، بیرون دہلی گیٹ ، سبزہ زار کالونی ، نواب پور روڈ ، حسن پراوانہ ملتان ، جناح ٹاون سمیت دیگر علاقے شامل ہیں ، آئندہ چند گھنٹوں میں فائنل اپروول کے بعد نوٹیفکشن جاری کر دیا جائے گا جس کے بعد ان کو مکمل سیل کر دیا جائے گا جس کے تمام انتظامات مکمل کر لئے گئے ہیں۔

  • شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    شاھد خان آفریدی کا کورونا ٹیسٹ بھی مثبت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق شاہد آفریدی جمعرات سے بیمار تھے۔آن کا کہنا ہےکۂ میرے جسم میں بری طرح درد ہو رہا تھا۔
    آج ان کا کوروناواہرس کا ٹیسٹ کیا گیا تو بدقسمتی سے کورونا ٹیسٹ مثبت آیا.
    شاھد آفریدی کی عوام الناس سے گزارش ہے کۂ مجھے صحت یابی کے لئے دعاؤں کی ضرورت ہے.

  • یوم پاکستان اور کرونا وائرس،  قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    یوم پاکستان اور کرونا وائرس، قیام پاکستان کے وقت کے جذبوں کی ضرورت ہے!!! تحریر: محمد عبداللہ

    آج تئیس مارچ ہے وہ دن جو تحریک پاکستان کا سب سے خاص دن ہے. یوں تو برصغیر کے مسلمانوں کو انگریزوں کی غلامی اور ہندو کی چالبازی سے نکالنے لیے کوششیں اور کاوشیں بڑی دیر سے جاری تھیں، جنگ آزادی آٹھارہ سو ستاون سے علی گڑھ تحریک تک ،اور تحریک خلافت سے مسلم لیگ کے قیام تک برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کی اس بیچ منجھدار میں ڈولتی ناؤ کو سنبھالا دینے اور پرسکون ساحل کی سمت لانے کے لیے سینکڑوں قائدین نے اپنی خدمات سرانجام دیں.

    مسلم لیگ کے قیام کے بعد کچھ سمتیں متعین ہونا شروع ہوئیں پھر قائد و اقبال کی زیرک قیادت نے مسلمانوں کے تحفظ کا بیڑہ اٹھایا اور بالآخر تئیس مارچ انیس سو چالیس کو اسلام کے لاکھوں پروانے لاہور میں منٹو پارک میں جمع ہوئے جس کو آج گریٹر اقبال پارک کے نام سے جانا جاتا ہے ان لاکھوں فرزندان توحید نے محمد علی جناح کی قیادت میں پختہ عہد کیا کہ ہمیں کوئی وزارتیں اور پیکجز نہیں چاہیں بس لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ کی بنیاد پر ایک آزاد وطن چاہیے جہاں اسلام آزاد ہو اسلام پر کاربند ہونا آزاد ہو.

    اس دن شیر بنگال کی طرف سے پیش کی جانے والی قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کو ان کی منزل دکھا دی اور پھر سات سال کے مختصر عرصے میں قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں برصغیر کے مسلمانوں نے اپنی اس منزل کو پاکستان کی صورت پالیا. یہ منزل کوئی پھولوں کی سیج نہیں تھی بلکہ آگ و خون کے دریا تھے جن کو عبور کرنا پڑا تھا ، قربانیوں کی داستان اسماعیل و ابراہیم تھی.
    پچاس لاکھ مسلمانوں نے فقط لاالہ الا اللہ کی آزاد سرزمین پر ایک سجدے کی خاطر اپنا سب کچھ چھوڑ دیا تھا اور چل نکلے تھے مگر ہجرتوں کے یہ سفر بھی آسان نہ تھے. سولہ لاکھ مسلمانوں کو اس وطن عزیز کے لیے قربان ہونا پڑا تھا ، پاکباز ماؤں اور بیٹیوں کی عصمتیں تار تار ہوئیں تھیں اور پھر لٹے پٹے قافلے پاکستان کی سرحد پر پہنچتے تو سبز ہلالی کے سائے تلے سجدہ ریز ہوجاتے.
    آج کا دن کوئی معمولی دن نہیں ہے بلکہ اس دن کو یوم پاکستان کہا جاتا ہے یہ دن ہے ان یادوں کا، ان عہد و پیمان کا، ان قربانیوں اور ان کاوشوں کا دن ہے کہ جو اسلام کی ایک آزاد اور مضبوط ریاست کے قیام کا باعث بنیں. لیکن آج صورتحال بہت ہی نازک ہے، دنیا بھر میں پھیلنے والی وباء کرونا وائرس سے وطن عزیز پاکستان بھی محفوظ نہیں رہ پایا فقط چند دنوں کے اندر نقشہ بدل چکا ہے اس دن کے تحت ہونے والی سبھی تقریبات حتیٰ کہ افواج پاکستان کی پریڈ تک منسوخ ہوچکی ہے اور ریاست کے سربراہان مجبور ہوکر ملک بھر میں کرفیو اور لاک ڈاؤن لگانے کی سوچ بچار کر رہے ہیں.

    وزیراعظم پاکستان عمران خان کا کہنا ہے کہ پاکستان جیسا ملک جہاں پچیس فیصد لوگ یومیہ اجرت پر مزدوری کرتے ہوں وہ مکمل لاک ڈاؤن کا متحمل نہیں ہوسکتا مگر ہم اٹلی اور ایران بھی نہیں بننا چاہتے کہ کرونا کی وجہ سے لاشیں ہر طرف بکھری پڑی ہوں اور کوئی اٹھانے والا بھی نہ اس لیے پاکستان کہ ہر شہری کو قوم کا کردار ادا کرنا پڑے گا ان جذبوں کا زندہ کرنا پڑے گا کہ جو قیام پاکستان کے وقت تھے. اس وقت گھر سے نکلنے کا حکم تھا تو آج گھروں میں رہنے کا حکم ہے. اس وقت اس حکم پر عمل کیا تھا اور سر دھڑ کی بازی لگائی تھی تو پاکستان ملا تھا آج اگر گھر میں رہنے کے حکم پر عمل کرتے ہیں تو پاکستان کو بچا پائیں گے.
    اپنے گھر میں رہیے، ریاست کو مجبور مت کیجیئے کہ ان کو ملک مکمل طور پر بند کرنا پڑ جائے کہ صورتحال انتہائی حد تک خطرناک ہوتی جا رہی ہے اور یہ مکمل طور پر عوام الناس اور انتظامیہ کی لاپرواہی کے نتائج ہیں آج یوم پاکستان کا پیغام یہی ہے کہ ایک قوم بنیے نہ کہ ایک ہجوم.

    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں۔

    محمد عبداللہ

  • کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    کرونا وائرس اور ہماری ذمہ داریاں!!! تحریر: طارق محمود

    گزشتہ سال چائنہ سے شروع ہونے والا کرونا وائرس دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی اپنے پنجے گاڑ چکا ہے اور آخری اطلاعات کے مطابق پاکستان میں 370 کے قریب شہری اس کا شکار ہو چکے ہیں جن میں سے چار کامیاب علاج کے بعد اپنے گھر جا چکے ہیں جبکہ دو افراد کے لیے یہ وائرس جان لیوا ثابت ہوا ہے پاکستان میں کاروباری سرگرمیاں محدود ہو چکی ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک بھی معمول سے کم ہے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس صورتحال میں عام شہری کی ذمہ داریاں کیا ہو سکتی ہیں؟ میں پاکستانی شہریوں سے اپیل کرنا چاہتا ہوں کہ انتہائی عقلمندی اور ہوش سے کام لینا ہو گا ہمیں ایسا رویہ اختیار کرنا ہو گا کہ جس سے ہماری ذات کے ساتھ ساتھ کسی بھی شہری کو نقصان نہ ہو۔ اس کے لئے چند باتوں پر عمل درآمد بہت ضروری ہے سب سے پہلے یہ کہ کرونا وائرس سے متعلق کوئی بھی خبر شئیر کرنے سے پہلے اس بات کا اطمینان کر لیں کہ یہ خبر کس حد تک مصدقہ ہے اور اس کو جاری وہی ادارہ کر رہا ہے جس کا یہ کام ہے؟ مصدقہ خبریں ضرور شئیر کریں لیکن خدارا کوئی بھی ایسی خبر شئیر نہ کریں جو غیر مصدقہ ہو اور اس سے معاشرے میں خوف و ہراس پھیل جائے۔کیونکہ کرونا وائرس کی پاکستان میں صورتحال ایسی نہیں ہے جیسی دنیا کے دیگر ممالک میں ہے۔ مجھے ایسا لگتا ہے کہ دشمن کرونا وائرس پر بھی گھناؤنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں اور پاکستانی عوام کو مختلف طریقوں سے گمراہ کرنے کا پلان بنائے بیٹھے ہیں وہ ہم سے لاشعوری طور پر ایسے کام کروانا چاہتے ہیں جن سے پاکستان میں کرونا وائرس ذیادہ تباہی پھیلا سکے۔ اس چال کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ حکومت کرونا وائرس سے بچنے کے لیے ہمیں جو ہدایات دے ہم ان پر پوری طرح سے عمل کریں۔ دوسرا کام یہ ہے کہ ہم اپنے آپ اور خاندان کو محفوظ رکھنے کے لیے چند باتوں پر فوری طور پر عمل درآمد شروع کریں سب سے پہلے اپنی اور اپنے خاندان کی نقل و حمل کو انتہائی محدود کر دیں اور گھروں سے انتہائی مجبوری کی صورت میں باہر نکلیں۔ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ خاص طور پر بچوں اور 50 سال سے زائد عمر کے لوگ کسی صورت گھر سے باہر نہ نکلیں۔ گھر کے تمام افراد روزانہ 20 بار ہاتھ دھوئیں اور ہر بار 20 سیکنڈ کا دورانیہ ہو۔ ہینڈ سینی ٹائزر کا استعمال بھی دن میں کئی بار کیا جائے۔ جب بھی انتہائی ضروری کام سے گھر سے باہر جائیں تو فیس ماسک پہن لیں۔ کسی بھی شخص سے مصافحہ نہ کریں۔ تمام قسم کی چھوٹی بڑی تقریبات میں شرکت نہ کریں ۔ گھر پہنچتے ہی ہاتھوں کو صابن سے دھوئیں۔ یہ ایسی ہدایات ہیں جن پر عمل درآمد کر کے ہم اپنے آپ اور خاندان کو کرونا وائرس سے بچا سکتے ہیں اور اس وائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکتا ہے آپ کا یہ عمل آپ کے ذمہ دار ہونے اور پاکستان کو کرونا سے ختم کرنے کا سبب بنے گا۔ اس دوران اگر کوئی شخص جس میں اس وائرس کی علامات ظاہر ہوں تو فوری طور پر حکومت کی جانب سے جاری کردہ ہیلپ لائن نمبر پر اطلاع دی جائے۔ آخر میں امید کرتا ہوں کہ آپ میری باتوں سے اتفاق کرتے ہوئے ان پر عمل درآمد کریں گے اور کرونا وائرس کی روک تھام کے ساتھ ساتھ دشمنوں کی گھنائونی چال کو بھی ناکام بنا دیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔ پاکستان ذندہ باد

  • کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس، پاکستان سمیت دنیا بھر کی موجودہ صورتحال، اس سے بچنے کی احتیاطیں اور مسنون دعائیں

    کرونا وائرس کا حملہ اس وقت بہت شدید ہوچکا ہے اور دنیا کے بیشتر ممالک میں اس کے اب تک 1,34,113 کنفرم کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. جن میں سے 4968 لوگوں کی اموات ہوچکی ہیں جبکہ 67,003 لوگ اس مرض سے صحتیاب بھی ہوچکے ہیں.
    چین سے شروع ہونے والے اس وائرس کو شروع میں اتنا سنجیدہ نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے یہ وائرس انسانوں سے دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتا ہوتا اب مکمل گلوب پر پھیل چکا ہے. کینیڈا کے جسٹن ٹرڈو کی بیوی میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے. اسی طرح امریکی صدر ٹرمپ سے ملنے والے برازیلین شہری میں بھی کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی رپورٹ مثبت آچکی ہے جبکہ امریکی صدر ٹرمپ ٹیسٹ سے تاحال انکاری ہیں.
    کئی ایک ممالک میں اعلیٰ سطحی لوگ اس کرونا وائرس کا شکار ہوچکے ہیں جس کی وجہ سے موجودہ صورتحال یہ ہے کہ دنیا کے سبھی ممالک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کر رہے ہیں. اٹلی میں بڑی تعداد میں کرونا وائرس کے ہاتھوں اموات کے بعد اٹلی کو مکمل طور پر بند کردیا گیا ہے. سعودیہ نے گزشتہ شام بہتر گھنٹوں کا الٹی میٹم دیا تھا جس میں سے کئی گھنٹے گزر چکے ہیں اس مدت کے دوران عارضی آمد و رفت کو مکمل کرکے سعودیہ کو لاک ڈاؤن کردیا جائے گا.
    بھارت میں ایک بندے کی کرونا وائرس کی وجہ سے موت اور کئی دیگر کنفرم کیسز کے بعد بھارت نے ایران سے اپنے شہریوں کی واپسی کا پروگرام شروع کردیا ہے دہلی کے وزیراعلیٰ اروند کجریوال نے دہلی میں دفع 144نافذ کردی ہے. امریکہ میں بھی کئی کیسز کرونا وائرس کے رپورٹ ہوئے ہیں جس کی وجہ سے امریکہ نے یورپ کے ساتھ فضائی رابطے منقطع کردیے ہیں امریکہ اور میکسیکو کی سرحد پر بڑی تعداد میں اس وقت خیمہ زن لوگ موجود ہیں.


    دنیا بھر میں کھیلوں کے بڑے مقابلے منسوخ کردیئے گئے ہیں، دہلی میں ہونے والے انڈین پریمیئر لیگ کے کرکٹ میچز کو بھی منسوخ کردیا ہے. پاکستان سپر لیگ کے بقیہ میچز کے حوالے سے بھی مشاورت جاری ہے جبکہ سندھ گورنمنٹ نے یہ اعلان کیا ہے کہ کراچی میں ہونے والے میچز میں شائقین نہیں آسکیں گے صرف ٹیمیں اور ان کے آفیشلز ہی شرکت کرسکیں گے. اسی طرح سندھ کے تعلیمی اداروں کو بھی تیس مئی تک بند کردیا گیا ہے اور اس دوران ہونے والے امتحانات کو ملتوی کردیا گیا ہے.
    بدقسمتی سے شروع میں پاکستان نے کرونا وائرس کو سنجیدہ نہیں لیا حالانکہ پاکستان کے اطراف و کنار میں کرونا وائرس گھوم رہا ہے. چین سے شروع ہوا جبکہ ایران میں بڑی تعداد میں اس سے متاثرہ لوگ موجود ہیں اور انڈیا میں بھی کئی کیسز رپورٹ ہوچکے ہیں. اگر شروع میں ہی اس پر سنجیدگی دکھائی جاتی تو پاکستان اس سے بچ سکتا تھا. پاکستان میں اب تک کرونا کے 21 کنفرم کیسز ہیں جبکہ 2 لوگ اس مرض سے پاکستان میں صحتیاب ہوچکے ہیں اور بحمدللہ پاکستان میں کرونا سے تاحال کوئی موت واقع نہیں ہوئی ہے.
    لیکن ابھی بھی کرونا وائرس کو پاکستان میں اس طرح سے سنجیدہ نہیں لیا جارہا جس طرح سے دنیا بھر میں اس کو لے کر ایمرجنسی نافذ کی جا رہی ہے.پاکستان کی سرحدیں ایران کے ساتھ کچھ عرصے کے لیے بند ہوئی تھیں مگر پھر سے کھول دی گئی ہیں اور لمبی سرحدی پٹی پر اسکیننگ کے انتظامات بھی موجود نہیں جبکہ زائرین اور دیگر افراد کی آمد و رفت وسیع پیمانے پر جاری و ساری ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے لیے خطرات موجود ہیں.
    پاکستان میں تعلیمی ادارے بھی کھلے ہوئے ہیں اور چھوٹے بڑے اجتماعات بھی منعقد ہورہے ہیں اگرچہ رائیونڈ میں ہونے والا تبلیغی اجتماع موسم کی خرابی اور پنڈال میں پانی بھر جانے کے باعث دعا کروا کر ختم کردیا گیا ہے لیکن چھوٹے بڑے اجتماعات اور سیاسی جلسے جاری ہیں. جن پر فالفور پابندی عائد ہونی چاہیے. تعلیمی اداروں اور ملک میں جاری کھیلوں کے مقابلوں پر بھی فالفور کوئی ٹھوس منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اجتماعی صحت ے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ہے.
    اسی طرح عوام الناس کو بھی چاہیے کہ انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں اور دی گئی ہدایات پر عمل درآمد کریں. پبلک مقامات پر میل جول اور چیزوں کے استعمال سے گریز کریں. ماسکس ، ٹشوپیپرز اور گلوز کا استعمال کریں. عوامی اجتماعات میں شرکت سے بھی گریز کریں اور کسی بھی ناگہانی صورتحال میں اسپتال اور ڈاکٹرز سے رجوع کریں.
    یہ آفتیں اور بیماریاں انسانی اعمال کا نتیجہ ہوتی ہیں جو اللہ کی طرف سے مسلط کی جاتی ہیں تو ان آفتوں اور بیماریوں پر بجائے ٹھٹھہ و مذاق کرنے اور لطائف بنانے کے اللہ سے توبہ کرنی چاہیے یقیناً وہی شفا دینے والا اور بیماریوں اور آفتوں کو کنٹرول کرنے والا ہے. صحیح بخاری کتاب الطب میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نازل نہیں فرمائی جس کا علاج یا دوا نہ نازل فرمائی ہو یقیناً اس کرونا وائرس کی شفا بھی کسی نہ کسی چیز میں موجود ہوگی. اس کا علاج دریافت ہونے تک ہمیں چاہیے کہ ہم حتیٰ الامکان احتیاطیں اختیار کریں اور یہ دعائیں کثرت سے پڑھتے رہیں.
    أَعُوْذُ بِکَلِمَاتِ اللہ التَّامَّاتِ مِنْ شَرِّ مَا خَلَقَ
    "بِسْمِ اللَّهِ الَّذِي لَا يَضُرُّ مَعَ اسْمِهِ شَيْءٌ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيْمُ
    اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَدَنِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي سَمْعِي، اللَّهُمَّ عَافِنِي فِي بَصَرِي، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنَ الْكُفْرِ وَالْفَقْرِ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنْ عَذَابِ الْقَبْرِ ، لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ
    یہ آفات انسان کی آزمائش بھی ہوتی ہیں تو اپنا ایمان اور توکل اللہ پر مضبوط کرنا چاہیے اور اس کرونا وائرس سے بچنے کی جو احتیاطیں دنیا بھر میں بتائی جا رہی ہیں ان سے اسلامی شعار طہارت، وضو، غسل وغیرہ کی حقانیت واضح ہوتی ہے.