فیصل آباد(عثمان صادق)سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب ثاقب منان نے ہدایت کی کہ ریچ ایوری ڈور(ریڈ)کورونا ویکسینیشن مہم کے آخری ایام میں بھی 12 سال سے زائد عمر کے رہ جانے والے افراد کو ویکسین لگانے کے لئے ٹیمیں سرگرم عمل رہنی چاہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد ویکسینیٹ ہونے سے وباء کی روک تھام یقینی ہو۔انہوں نے یہ ہدایت ڈی سی آفس میں اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے جاری کی جس میں ڈپٹی کمشنر علی شہزاد نے ریڈ مہم کے اہداف پر بریفنگ دی۔ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ہیڈ کوارٹرز محمد خالد،سی ای او ہیلتھ ڈاکٹرکاشف محمود،سی ای او ایجوکیشن علی احمد سیان،ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر بلال احمد،ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز امداد اللہ چوہدری، سیکرٹری آرٹی اے محمد سروراور محکمہ صحت کے دیگر افسران بھی موجود تھے۔سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے مہم کے اہداف اور حاصل کردہ ٹارگٹس کا تفصیلی جائزہ لیا اور سرکاری ونجی سکولوں وکالجوں میں طالب علموں کی کوریج کو تیز کرنے کی تاکید کی۔انہوں نے آؤٹ ریچ اور فکسڈ ٹیموں کو متحرک رکھنے اور ابھی تک کم پروفارمنس والے علاقوں پر فوکس کرکے ہدف حاصل کرنے کی ہدایت کی۔میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے بتایا کہ ضلع میں ریڈ مہم تیز رفتاری سے جاری ہے اور اب تک مہم کے دوران ساڑھے 7 لاکھ افراد کی کورونا سے بچاؤ کی ویکسینیشن کی جاچکی ہے جبکہ مہم کے اختتام تک 10 لاکھ افراد کی ویکسینیشن ہوجائے گی جبکہ مہم سے قبل بھی ویکسینیشن کا عمل بلا تعطل جاری تھا اور 12 نومبر تک ضلع میں مجموعی طور پر 50 لاکھ افراد ویکسینٹ ہوجائیں گے۔انہوں نے میڈیا کے توسط سے عوام الناس سے پرزور اپیل کی کہ رہ جانے والے افراد اپنی قومی ذمہ داری اداکرتے ہوئے ویکسین لگوائیں کیونکہ کورونا ابھی مکمل ختم نہیں ہوا۔انہوں نے بتایا کہ ریڈ کمپین کے دوران ضلع زیادہ سے زیادہ افراد کو ویکسین لگوانے کے حوالے سے ٹاپ اضلاع میں شامل ہے جس کا تسلسل برقرار رکھنے کے لئے انتظامیہ کو تاکید کی گئی ہے۔اجلاس کے دوران ڈپٹی ڈائریکٹر کالجز نے بتایا کہ ضلع کے 48 سرکاری اور 85 نجی کالجز کے تمام طالب علموں کو تقریبا دونوں ڈوزلگ چکی ہیں تاہم فرسٹ ایئر اور تھرڈ ایئر میں داخلہ کے لئے اپلائی کرنے والوں (ویکسینیشن نہ ہونے کے حامل) کو فیس ووچر دینے سے قبل ویکسین لگائی جارہی ہے۔بعدازاں سیکرٹری آرکیالوجی پنجاب نے محلہ شریف پورہ سمیت دیگر علاقوں میں جاکر آؤٹ ریچ وفکسڈ ٹیموں کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا۔
Tag: Coronavirus
پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب
پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب
آج پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کراس کر گئی ہے، جو صورتحال چل رہی ہے خدانخواستہ لگتا ایسے ہی کہ ساری دنیا سے کرونا ختم ہو جانا لیکن پولیو کی طرح ہم بھی انہیں آخری دو چار ملکوں میں ہونگے جہاں یہ مصیبت رہنی ہے۔ پولیو سے متعلق بھی سازشی تھیوریوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہی کوئی پولیو مہم ہو جس میں پولیو ورکرز پر حملے نا ہوئے ہوں ، مفاد عامہ پر مبنی ویکسین کی مہم کی حساسیت یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کم محسوس نہیں ہوتی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا پولیو فری ہو گئی لیکن ہم ابھی تک ان دور افتادہ تین چار افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو ابھی بھی موجود ہے اور رواں سال ماضی کی نسبت پولیو کیسز کی تعداد بڑھی ہے،
سپین ، اٹلی ، جرمنی جو ووہان کے بعد کرونا کا مرکز بنے تھے تقریباً کرونا کی بڑھتی سپیڈ کو روک کسی حد تک نیچے لانے کے بعد ، لاک ڈاؤن کھول حالات کو نارمل کر رہے۔
جبکہ یہاں حکومت و عوام دونوں کی غیر سنجیدگی پاکستان میں کرونا کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے، چائنہ کو تو ہم ہفتہ قبل ہی پیچھے چھوڑ چکے اور اگلے چند دن نہایت گھمبیر ہونگے ، اللہ جانے ہم کہاں کھڑے ہونگے، واحد حل احتیاط، غیر ضروری باہر نکلنا بند ، سماجی دوری ، ماسک کا استعمال ہے ، یقیناً بہت سے لوگ غیر یقینی سے یقین کی پوزیشن میں آ گئے ہیں اور اسے حقیقت سمجھنا شروع ہو گئے ، اللہ کرے یہ شعور قومی سطح پر بیدار ہو اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
پے در پے اہل حدیث علماء کی وفیات اور کرونا سے متعلق ہماری غفلت ، تحریر طہ منیب
پے در پے اہلحدیث علماء کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر افسوس کیا جائے کم ہے، جہاں ان علماء کی وفیات غم کا باعث ہیں وہیں کرونا کے حوالے سے ہماری غفلت کی بھی عکاس ہیں، پہلے دن سے کرونا سے متعلق صرف چند ایک کو چھوڑ کر بالعموم علماء کا موقف انتہائی نامناسب تھا، ہر مسئلہ میں اسلام کے خلاف کافروں اور یہودیوں کی سازش کو لائے بغیر ہماری بات میں وزن نہیں پڑتا، تقریباً سب علماء کی وفات سے قبل صورتحال وہی تھی جو کرونا کے متاثرین کی ہوتی ہے، یعنی سب ہی کھانسی اور سانس کی تکلیف کے باعث ہی خالق حقیقی سے جا ملے،
رمضان المبارک سے قبل اس کا پھیلاؤ محدود سرکل میں تھا لیکن بعد میں یہ کسی خاص حلقے، کمیونٹی سے نکل کر عوامی ہو چکا تھا، رمضان المبارک کے شروع میں گوجرانولہ میں ہزاروی صاحب کے جنازے کے مناظر انتہائی تنگ جگہ پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے جنازے میں شریک عوام اور علماء کی اکثریت اہل حدیث حلقوں میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور بعد میں ہونیوالے جنازوں کے مناظر بھی پہلے جنازے سے مختلف نہیں تھے،
حافظ ابن حجر کی وباؤں سے متعلق کتاب کی پوسٹ ایک بار پہلے بھی کی آج بھی تزکرہ کردیتا ہوں کہ جب بغداد میں وبا سے بچنے کیلئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد اموات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، اب اگر ان بزرگوں کے کرونا ٹیسٹس نہیں ہوئے تو اس بنیاد پر یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں کرونا نہیں تھا اور اس پر چشم پوشی خدانخواستہ باقیماندہ علماء کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جوانوں کے برعکس بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، جو پہلے سے کسی معمولی عارضے کا شکار ہوں انکے کیلئے کرونا کا معمولی وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ کرونا ایک حقیقت ہے، اس سے متعلقہ زبان زد عام سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی حد تک درست ہوں لیکن اس وبا کا جان لیوا ہونا سو فیصد درست اور ثابت ہے، اب بھی وقت ہے، ضد چھوڑ ہم اس وبا سے متعلق بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔
سارا بھارت تبلیغی جماعت کے کارکنان کو ہیرو کہ کر خراج تحسین پیش کر رہا ہے، تحریر طہ منیب
بھارتی ٹویٹر میں تبلیغی ہیروز ٹاپ ٹرینڈ پر
تبلیغی ہیروز کا ٹرینڈ اس وقت بھارتی ٹویٹر میں ٹاپ پر ہے۔

مسلم ایکٹوسٹس ، سیکولر ہندو، بھارت کی اکثر اہم غیر متشدد شخصیات تبلیغی جماعت کے کارکنان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، یہ وہی انڈیا ہے جہاں چند دن سے تبلیغی جماعت کو کرونا پھیلانے کا زمہ دار قراد دیا جا رہا تھا، جس کی بنیاد ایک تبلیغی اجتماع کو بتا دیا جا رہا تھا۔

جس کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے موجود شدت میں اور اضافہ ہوا ، نفرت بڑھی، جگہ جگہ بائیکاٹ کیا گیا، معروف ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی بات کی جانے لگی، حتیٰ کہ مسلمان مریضوں کو ہسپتال تک میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔ اس نفرت کا دائرہ بھارت سے نکل کر عرب ریاستوں میں قیام پزیر لاکھوں ہندوؤں تک پھیل گیا، کچھ عربوں کی غیرت جاگی جس پر کچھ ہندو انتہا پسندوں نے انہیں گالیاں دیں ، جسکے جواب میں کویت سے لے کر متحدہ عرب امارات کے تمام متحرک، ایکٹوسٹس، بلاگرز، صحافی، شاہزادے اور شہزادیوں نے خبردار کیا کہ اوقات میں رہو یہاں تمہاری وجہ سے وائرس پھیل رہا اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نازیبا سلوک بند کرو، کہیں ایسا نا ہو کہ روزی روٹی سے جاؤ،

آج سارا بھارت جس وجہ سے تبلیغی ہیروز کی بات کر رہا انہیں خراج تحسین پیش کر رہا وہ یہ ہے کہ 129 تبلیغی ارکان نے دہلی کے ایک ہسپتال میں پلازما عطیہ کیا ہے، ایک فرد کے پلازمے سے 4 کرونا مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ یہ وہی تبلیغی ہیں جنہیں نفرت، گالی ، بیماری بنا دیا گیا تھا آج انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی جان بچانے کیلئے پلازمہ دے رہے ہیں جسکی تصدیق بھارتی وزارت صحت بھی کر چکی ہے۔ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ سلام ہے تبلیغی ہیروز کو۔
کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری
اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔
۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔
لاک ڈاون اور چاروں طرف پھیلا بھوک کا عفریت از فیصل ندیم
میری زندگی میں اور شائد اس سے بہت پہلے تک دنیا نے ان حالات کا سامنا نہیں کیا کرونا وائرس نے گویا ساری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے اپنی توپوں اور میزائلوں سے دنیا کے بیشمار ملکوں کو تباہ و برباد کردینے والے دنیا کے بڑے بڑے طاقتور ممالک بھی کرونا کے سامنے ڈھیر ہوچکے ہیں امریکہ جسے دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ ملک سمجھا جاتا ہے اس کے سب جدید شہر نیویارک کے جدید ترین ہسپتالوں کے انتہائی قابل ڈاکٹر آنکھوں میں آنسو لئے بے بسی کا اظہار کررہے ہیں ایسے میں پاکستان جیسا ملک بھی جو پہلے ہی معاشی بدحالی کا شکار ہے کرونا کے خلاف اپنی جنگ لڑنے میں مصروف ہے بیس کروڑ لوگوں کا ملک وسائل کی کمی کے باوجود ہر ممکن کوشش کررہا ہے کہ اپنی عوام کو اس مہیب خطرے سے بچایا جاسکے اس مقصد کیلئے ملک کے کونے کونے میں قرنطینہ سینٹر اور آئسولیشن وارڈز بنائے گئے ہیں لیکن چونکہ یہ مرض افراد میں ایک سے دوسرے میں بڑی تیزی کے ساتھ پھیلتا ہے اس لئے ضروری تھا کہ لوگوں کو ایک دوسرے سے دور رکھا جائے ہماری وفاقی اور صوبائی حکومتیں اس حوالہ سے مسلسل اقدامات کررہی ہیں مساجد مندر چرچ تعلیمی ادارے شاپنگ سینٹرز ہوٹل ریستوران کارخانے کاروبار پبلک ٹرانسپورٹ جہاز ٹرین سب ہی بند کیا گیا ہے یہ ٹھیک ہے سماجی فاصلہ رکھنا اس مہلک بیماری کا شکار ہونے سے بچنے کیلئے ضروری ہے اور اس کیلئے یہ سب اقدامات بھی ضروری ہیں لیکن ان اقدامات سے ایک اور بہت بڑا خطرہ جنم لے رہا ہے یہ وہی خطرہ ہے جس کی جانب وزیراعظم پاکستان عمران خان صاحب بار بار اشارہ کرتے رہے ہیں اور وہ ہے بھوک ۔۔۔۔
ہر طرح کا کاروبار زندگی مفلوج ہونے سے مزدور طبقہ تو فوری طور پر بری طرح متاثر ہوگیا اور بیروزگاری کے پہلے دن سے روز کمانے اور روز کھانے والے لوگوں کے چولہے ٹھنڈے ہوگئے لیکن زیادہ بڑا مسئلہ گزرتے دنوں کے ساتھ سفید پوش طبقہ بھی بیروزگاری کا عفریت تلے دب کر روزی روٹی کی تنگی کا شکار ہونا ہے بھوک کے اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد لاکھوں نہیں کروڑوں میں ہے
یہ پاکستان کے عوام کی مستقل بدقسمتی ہے کہ وسائل کی کمی کے ساتھ ساتھ پاکستانی عوام سیاسی قیادت کی موقع اور مفاد پرستی کے سبب درست منصوبہ بندی کے ساتھ کئے گئے دیرپا اور دور رس اقدامات سے ہمیشہ محروم رہے ہیں جس کا نتیجہ ملک میں ہمیشہ اتحاد و اتفاق کے بجائے انتشار و افتراق کی صورت میں نکلتا رہا ہے آج بھی کہ جب ملک اپنی تاریخ کے سب سے بڑے خطرے سے دوچار ہے ہم قومی اتفاق رائے سے محروم ہیں وفاق اور صوبوں میں ہم آہنگی کا زبردست فقدان ہے اس مہیب خطرے سے نمٹنے کیلئے باہمی تعاون کے بجائے سیاسی پوائنٹ اسکورنگ پر زور زیادہ ہے ایسے میں پاکستانی عوام پریشان ہیں کرونا وائرس اور بھوک کے خطرے سے نمٹنے کیلئے کیا راستہ اختیار کریںپاکستان کے عوام دنیا میں فلاحی کاموں پر شائد سب سے زیادہ خرچ کرنے والی قوم ہیں اب بھی بیشمار لوگ اس حوالہ سے میدان عمل میں موجود ہیں ماسک سینیٹائزر کھانا اور خشک راشن کی تقسیم کا عمل بھی ہر طرف جاری ہے لیکن اس بار ضرورت شائد اتنی زیادہ ہے کہ روایتی طریقوں سے اس آفت کا مقابلہ ممکن ہی نہیں ہے
سب سے پہلے ضروری ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں باہمی اتفاق رائے سے کرونا کے مقابلے کی تحریک کو آگے بڑھائیں انفرادی طور پر کی جانے والی تمام کوششوں کو مربوط کیا جائے اور اس بات کو یقینی بنانے کی کوشش کی جائے کہ مستحق افراد تک کم از کم خوراک ضرور پہنچائی جاسکے آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے پھندوں میں پھنسے ہمارے ملک کیلئے ممکن ہی نہیں ہے کہ وہ سارے ملک کو بٹھا کر کھلا سکے اس کار خیر میں مخیر حضرات کو شامل کرنا انتہائ ضروری ہے لیکن سیاستدانوں پر عمومی بد اعتمادی اس کار خیر کے راستے میں بہت بڑی رکاوٹ ہے اس رکاوٹ کو دور کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ وہ لوگ جن کا پاکستان میں عوامی سطح پر احترام کیا جاتا ہے انہیں آگے لاکر ان کے ذریعہ اس کام کو آگے بڑھایا جائے اگلا کام جو اس سے بہت زیادہ اہم ہے وہ یہ ہے کہ وہ علاقے جو اب تک کرونا سے محفوظ ہیں انہیں پوائنٹ آؤٹ کرکے علیحدہ کیا جائے ان میں بیرونی آمد و رفت کو سوائے اجناس کی ترسیل کے نظام کے بند کیا جائے اور پھر انہیں ہر طرح کی سرگرمی کیلئے کھولا جائے تاکہ کاروبار زندگی کو چلا کر لوگوں کی روزی روٹی کا بندوبست کیا جاسکے تمام بڑے کارخانوں اور فیکٹریز کو کھولا جائے ان میں احتیاط کے تقاضے پورے کرتے ہوئے کام شروع کیا جائے تاکہ جہاں ہم اپنے لوگوں کو روزگار کی فراہمی کا سلسلہ شروع کرکے بھوک کا مقابلہ کرسکیں وہیں دنیا سے مہنگے داموں اشیائے ضرورت خریدنے کے بجائے اپنے پاس ان کی پروڈکشن شروع کرسکیں یہ طے ہے کہ کرونا وائرس سے نجات دنوں میں ممکن نہیں ہے چین جیسے باوسائل اور جدید ملک کو بھی اس خطرے سے نمٹتے چوتھا مہینہ ہے تو ہم جیسے معاشی طور پر کمزور اور غریب ملک کو شائد اس خطرے سے نمٹنے کیلئے زیادہ وقت درکار ہوگا اس لئے یہ ممکن نہیں کہ سارے ملک کو بند رکھ کر ملک میں بھوک سے بدحال لوگوں کا جم غفیر جمع کرلیا جائے اللہ نہ کرے بھوک کے بڑھنے سے ملک افراتفری اور انتشار کی طرف بھی جاسکتا ہے اگر ایسا ہوا تو یہ ہماری بہت بڑی بدقسمتی ہوگی جان لیجئے قیادت کی اہلیت کا اصل اندازہ ہمیشہ مشکلات میں ہوتا ہے اس لئے بہت ضروری ہے کہ اس کڑے وقت میں ملکی اور صوبائی قیادت اپنے اوسان قابو میں رکھے اپنی عمومی سیاسی ضروریات سے قطع نظر ہوکر ایسے اقدامات کرے جن سے پاکستان اور اس کی عوام کا تحفظ ممکن ہو پاکستانی قوم کو بھی اس وقت میں ایک قوم ہونے کا ثبوت دینا ہوگا ذاتی اور انفرادی مفادات سے آگے بڑھ کام کرنا ہوگا اپنے اردگرد موجود اپنے ضرورت مند پاکستانی بھائیوں کی بلا تفریق رنگ و نسل و مذہب مدد کرنا ہوگی مجھے کوئی شبہ نہیں کہ اگر ہم نے کامیابی کے ساتھ اس عظیم خطرے کا مقابلہ کرلیا تو ہمیں ایک عظیم قوم بننے سے کوئی نہیں روک پائے گاخیر اندیش
فیصل ندیم
اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری
پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔
ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔
مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

(فیصل بخاری )

کرونا کی افرا تفری نے بہت لوگ بے نقاب کر دئیے،فیصل بخاری
جب ٹائٹینک TITANIC جہاز ڈوب رھا تھا تو اس میں چار طرح کے لوگ سوار تھے:
۱۔ امیر ترین لوگ جنہوں نے ٹکٹ کے ساتھ ھی حفاظتی جیکٹ اور ریسکیو والی کشتیوں کا بندوبست کررکھا تھا۔
۲۔ مڈل کلاس جنہوں نے کم از کم حفاظتی جیکٹس کا بندوبست کر رکھا تھا۔
۳۔ غریب ترین مزدور مفرور اور معتوب طبقہ جن کی اکثریت تھی مگر کسی تباھی سے بچاؤ کا کوئ سلسلہ نہیں تھا ان کے پاس۔ ان کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔
۴۔ اس جہاز کا اپنا عملہ اور کپتان جن کی ڈیوٹی ان تمام مسافرو ں کو بچانا تھا اور آخر دم تک جہاز سے نہ کودنا ان کی ذمہ داری تھی۔ھمارےمعاشرہ میں آج کل کے بحران میں کیا آپ کو من و عن یہی تفریق نظر نہیں آ رھی؟ ماریہ بی پہلے طبقہ کی روشن مثال ھے۔ ھم سب فیس بک اور ٹویٹر والے دوسرے طبقہ سے تعلق رکھتے ھیں۔ جبکہ دھاڑی والا ریڑھی والا مزدور تیسرا طبقہ ھے۔ جمھوریت میں اکثریت ترجیح ھوتی ھے مگر یہاں الٹ نظام چل رھا ھے۔
آخری طبقہ آپ کی حکومت اور سرکاری ملازم، افواج، پولیس اور ڈاکٹر نرس اور تمام لوگ ھیں جو جہاز سے نہیں کودیں گے آخری دم تک۔ کہتے ھیں اگر افراتفری نہ ھوتی اور تقسیم متوازن ھوتی تو شاید اتنی جانوں کا ضیاں نہ ھوتا۔ بے شک جہاز نے ڈوبنا تھا۔ بے شک لوگوں نے مرنا تھا مگر اس سانحہ کو تاریخ طبقاتی ناانصافی کے حوالے سے یاد رکھتی ھے۔میرے بہت پیارے دوست اس افراتفری میں میری نظروں میں ایکسپوز ھوے ھیں۔ بزدلی، نفرت اور تقسیم کا اظہار کر رھے ھیں۔ اگر آپ کو یاد ھو تو اس جہاز پر ایک گروپ وائلن بجانے والا بھی تھا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ آخری سانس تک وائلن بجائیں گے تاکہ لوگوں میں امید پیدا ھو۔ مجھے وہ وائلن والا سمجھ لیجئے۔ آئیں اپنا اپنا وائلن اٹھائیں اور لوگوں کی ھمت باندھیں!!

(فیصل بخاری)
جہاں بڑے ملک صحت کی بہترین سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ طہ منیب
سلام ہے حکومتی عہدیداران کو جو کرونا سے متعلق احتیاطی تدابیر صحافیوں اور لوگوں کے جھرمٹ میں بیان کر رہے۔ سوشل ڈسٹینسنگ گیدرنگ میں کھڑے ہو کر بیان کی جا رہی۔ آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے۔
لوگ کرونا سے متعلق احتیاط کی بجائے سیر سپاٹے اور رشتہ داروں ، میکے و سسرال کے پروگرام بنا رہے ہیں، سوشل میڈیا پر میمز اور شغل لگ رہے، فرقہ فرقہ کھیلا جا رہا ہے، پارکوں، بازاروں میں رش ویسے کا ویسا ، ریسٹورینٹ، اڈے ، بسیں، ٹرینیں سب روٹین کے مطابق، اللہ تعالیٰ ہماری حفاظت فرمائے، توکل کے ساتھ احتیاط اور عمل بھی ضروری ہے، علماء سنجیدہ ہونے کی بجائے مقابلے بازی پر اتر آئے ہیں، پیر فقیر آن لائن دم درود کی دکانیں چلا رہے،
اللہ نا کرے کے یہ وبا پھیلے ، اگر ایسا ہوا تو ہمارا نظام صحت اس سب کو برداشت کرنے کے قابل نہیں، جہاں اٹلی، امریکہ، سپین ، جرمنی سمیت بڑے بڑے ملک بہترین صحت کی سہولیات کے باوجود ناکام ہو گئے وہاں ہماری کیا اوقات ہے۔ "او کچھ نہیں ہوتا” سے بہت کچھ ہو سکتا ہے۔ لہٰذا احتیاط کریں، یہ علاج سے بہتر ہے۔







