Baaghi TV

Tag: Coronavirus outbreak

  • پاکستان میں کرونا کے کیسز اور اموات میں تیزی سے پھر اضافہ ہونے لگا

    پاکستان میں کرونا کے کیسز اور اموات میں تیزی سے پھر اضافہ ہونے لگا

    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر جاری ہے. گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا سے 14 اموات ہوئی ہیں جبکہ 1167 نئے مریض سامنے آئے ہیں

    این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کرونا سے اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 849 ہوگئی ہے جبکہ مریضوں کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 36 ہزار 260 ہو گئی ہے ،پاکستان میں کورونا کے 3 لاکھ 15ہزار 446 مریض صحتیاب ہوگئے ہیں اور 13 ہزار 965 زیرعلاج ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے میں 27 ہزار 984 ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔

    این سی او سی کے مطابق اسلام آباد میں کورونا مریضوں کی تعداد 20 ہزار243 ہوگئی ہے ۔ پنجاب میں ایک لاکھ 4 ہزار 894، سندھ میں ایک لاکھ 46 ہزار 774، خیبر پختونخوا میں 39 ہزار 749، بلوچستان میں 15 ہزار 977، گلگت بلتستان میں 4 ہزار 293 اور آزاد کشمیر میں 4ہزار330 کرونا مریض سامنے آئے ہیں

    کورونا وائرس کے باعث پنجاب میں 2 ہزار 372 ، سندھ میں 2 ہزار 633، خیبر پختونخوا میں ، ایک ہزار 280، اسلام آباد میں 222، بلوچستان میں 152، ‏گلگت بلتستان میں 92 اور آزاد کشمیر میں 98 اموات ہو چکی ہیں

    این سی او سی کے مطابق ملک کے 11شہروں میں کورونا وباتیزی سے پھیل رہی ہے۔ پاکستان میں اسی فیصد کورونا کیسز گیارہ بڑے شہروں سے رپورٹ ہوئے ہین کراچی، کوئٹہ ، لاہور ، اسلام آباد، راولپنڈی، حیدر آباد ، گلگت، مظفر آباد اور پشاور بھی کورونا کے زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے۔

    پاکستان میں کرونا کی دوسری لہر،ساتھ ہی سیاسی جماعتوں نے کرونا کے پھیلاؤ کا انتظام کر لیا

    پنجاب میں بھی دوبارہ کرونا کیسز میں اضافہ ہو سکتا ہے، خطرے کی گھنٹی

    کرونا پھیلاؤ روکنے کے لئے این سی او سی کا عوام سے مدد لینے کا فیصلہ

    کرونا وائرس ، معاون خصوصی برائے صحت نے ہسپتال سربراہان کو دیں اہم ہدایات

    کرونا وائرس لاہور میں پھیلنے کا خدشہ، انتظامیہ نے بڑا قدم اٹھا لیا

    معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر فیصل سلطان نے کہا کہ پاکستان میں کورونا وائرس کی دوسری لہر بتدریج شروع ہو چکی ہے۔ دوسری لہر سے نمٹنے کے لیے ایس اوپیز پر سختی سےعمل کرنا ہو گا۔ احتیاطی تدابیر پرعمل پیرا ہو کر ہم کورونا کی دوسری لہرسے نمٹ سکتے ہیں

    دوسری جانب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہونے کے بعد مزید تعلیمی اداروں کو سیل کرنے کردیا گیا ہے ،ڈی ایچ او اسلام آباد ضعیم ضیا کا کہنا ہے کہ جو تعلیمی ادارے سیل کیے گئے ہیں ان میں بڑی تعداد نجی تعلیمی اداروں کی ہے۔ ایس او پیز پر عمل درآمد نہ کرنے کی وجہ سے بھی مزید سات تعلیمی اداروں کو سیل کیا جا رہا ہے۔

  • پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب

    آج پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کراس کر گئی ہے، جو صورتحال چل رہی ہے خدانخواستہ لگتا ایسے ہی کہ ساری دنیا سے کرونا ختم ہو جانا لیکن پولیو کی طرح ہم بھی انہیں آخری دو چار ملکوں میں ہونگے جہاں یہ مصیبت رہنی ہے۔ پولیو سے متعلق بھی سازشی تھیوریوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہی کوئی پولیو مہم ہو جس میں پولیو ورکرز پر حملے نا ہوئے ہوں ، مفاد عامہ پر مبنی ویکسین کی مہم کی حساسیت یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کم محسوس نہیں ہوتی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا پولیو فری ہو گئی لیکن ہم ابھی تک ان دور افتادہ تین چار افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو ابھی بھی موجود ہے اور رواں سال ماضی کی نسبت پولیو کیسز کی تعداد بڑھی ہے،

    سپین ، اٹلی ، جرمنی جو ووہان کے بعد کرونا کا مرکز بنے تھے تقریباً کرونا کی بڑھتی سپیڈ کو روک کسی حد تک نیچے لانے کے بعد ، لاک ڈاؤن کھول حالات کو نارمل کر رہے۔

    جبکہ یہاں حکومت و عوام دونوں کی غیر سنجیدگی پاکستان میں کرونا کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے، چائنہ کو تو ہم ہفتہ قبل ہی پیچھے چھوڑ چکے اور اگلے چند دن نہایت گھمبیر ہونگے ، اللہ جانے ہم کہاں کھڑے ہونگے، واحد حل احتیاط، غیر ضروری باہر نکلنا بند ، سماجی دوری ، ماسک کا استعمال ہے ، یقیناً بہت سے لوگ غیر یقینی سے یقین کی پوزیشن میں آ گئے ہیں اور اسے حقیقت سمجھنا شروع ہو گئے ، اللہ کرے یہ شعور قومی سطح پر بیدار ہو اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین

  • پے در پے اہل حدیث علماء کی وفیات اور کرونا سے متعلق ہماری غفلت ، تحریر طہ منیب

    پے در پے اہلحدیث علماء کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر افسوس کیا جائے کم ہے، جہاں ان علماء کی وفیات غم کا باعث ہیں وہیں کرونا کے حوالے سے ہماری غفلت کی بھی عکاس ہیں، پہلے دن سے کرونا سے متعلق صرف چند ایک کو چھوڑ کر بالعموم علماء کا موقف انتہائی نامناسب تھا، ہر مسئلہ میں اسلام کے خلاف کافروں اور یہودیوں کی سازش کو لائے بغیر ہماری بات میں وزن نہیں پڑتا، تقریباً سب علماء کی وفات سے قبل صورتحال وہی تھی جو کرونا کے متاثرین کی ہوتی ہے، یعنی سب ہی کھانسی اور سانس کی تکلیف کے باعث ہی خالق حقیقی سے جا ملے،

    رمضان المبارک سے قبل اس کا پھیلاؤ محدود سرکل میں تھا لیکن بعد میں یہ کسی خاص حلقے، کمیونٹی سے نکل کر عوامی ہو چکا تھا، رمضان المبارک کے شروع میں گوجرانولہ میں ہزاروی صاحب کے جنازے کے مناظر انتہائی تنگ جگہ پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے جنازے میں شریک عوام اور علماء کی اکثریت اہل حدیث حلقوں میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور بعد میں ہونیوالے جنازوں کے مناظر بھی پہلے جنازے سے مختلف نہیں تھے،

    حافظ ابن حجر کی وباؤں سے متعلق کتاب کی پوسٹ ایک بار پہلے بھی کی آج بھی تزکرہ کردیتا ہوں کہ جب بغداد میں وبا سے بچنے کیلئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد اموات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، اب اگر ان بزرگوں کے کرونا ٹیسٹس نہیں ہوئے تو اس بنیاد پر یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں کرونا نہیں تھا اور اس پر چشم پوشی خدانخواستہ باقیماندہ علماء کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جوانوں کے برعکس بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، جو پہلے سے کسی معمولی عارضے کا شکار ہوں انکے کیلئے کرونا کا معمولی وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ کرونا ایک حقیقت ہے، اس سے متعلقہ زبان زد عام سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی حد تک درست ہوں لیکن اس وبا کا جان لیوا ہونا سو فیصد درست اور ثابت ہے، اب بھی وقت ہے، ضد چھوڑ ہم اس وبا سے متعلق بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری

    اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔

    ۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
    ۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
    ۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
    ۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
    ۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
    ۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
    ۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
    ۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
    ۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
    ۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
    ۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
    ۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
    ۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
    ۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
    ۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
    ۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
    ۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
    ۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔

    دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔