Baaghi TV

Tag: Corruption#

  • ایف بی آر کا جولائی میں  538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا دعویٰ

    ایف بی آر کا جولائی میں 538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے کا دعویٰ

    ایف بی آر کی طرف سے جاری ایک اعلامیہ دعویٰ کیا گیا ہے نے کہا ہے کہ جولائی میں 534 کے ہد ف کے مقابلہ میں 538 ارب روپے کے محصولات جمع کرنے دعویٰ کیا ہے جبکہ اعلامیہ کے مطابق ایف بی آر نے کہا ہے کہ جولائی 2023 میں 49ارب روپے کے ریفنڈز بھی جاری کئے گئے ہیں۔

    جبکہ رواں ماہ کے دوران براہ راست ٹیکسز کی مد میں30 فیصد کا اضافہ ہواہے، گزشتہ سال جولائی کے مقابلہ ان لینڈ ریونیو ٹیکسز کی مد میں 18 فیصد کا اضافہ ہوا۔ تاہم اس سے قبل جون میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو( ایف بی آر) نے ملکی تاریخ میں پہلی بار ریکارڈ محصولات اکٹھا کرنے کا دعویٰ بھی کیا تھا.

    وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے جون میں اب تک جمع ہونے والے محصولات سے متعلق بیان جارری کرتے ہوئے کہا تھا کہ میں وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار ایف بی آر نے 26 جون تک محصولات مد میں 7000 ارب اکٹھا کر لیا۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے مزید بتایا تھا کہ 30 جون تک اس میں مزید اضافہ ہوگا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    جبکہ یاد رہے کہ واضح رہے کہ قومی اسمبلی نے مالی سال کے بجٹ میں بہت سی ترمیم کی اور حکومت نے بجٹ میں ٹیکس وصولیوں کا ہدف 9 ہزار 200 سے بڑھا کر 9 ہزار 415 ارب روپے مقرر کیا، پنشن ادائیگی 761 ارب سے بڑھا کر 801 ارب کردی گئی تھی اس کے علاوہ فنانس بل میں مزید ترمیم کے تحت 215 ارب کے نئے ٹیکس عائدکیےگئے ہیں۔

  • عمران خان کی مقدمات دوسری عدالت منتقلی کی درخواستیں مسترد

    عمران خان کی مقدمات دوسری عدالت منتقلی کی درخواستیں مسترد

    چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی 6 مقدمات دوسری عدالت منتقلی کی درخواستیں مسترد کردی گئی ہیں جبکہ بشریٰ بی بی کی جعلسازی کا مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کی گئی ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے محفوظ فیصلہ سنادیا


    سلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامرفاروق نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ عدالت چیئرمین پی ٹی آئی کے خلاف 9 مئی واقعات، جعلسازی اور دیگر مقدمات میں عمران خان کی 6 مقدمات دوسری عدالت منتقلی کی درخواستیں مسترد کرتی ہے.

    جبکہ عدالت عالیہ نے بشریٰ بی بی کی جعل سازی کا مقدمہ دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست پر بھی کہا کہ بشریٰ بی بی کی جعل سازی مقدمہ کو دوسری عدالت منتقل کرنے کی درخواست بھی مسترد کی جاتی ہے اور عدالت نے موقف اختیار کیا کہ ان کے پاس کیا ٹھوس وجہ ہے کہ یہ اپنے مقدمات دوسری عدالت منتقل کرنا چاہتے ہیں.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛سرمایہ کاروں کی حفاظت نہیں کریں گے تو پھر کوئی نہیں آئے گا،وزیر اعظم
    توشہ خانہ کیس،ٹرائل پر حکم امتناع جاری کرنے کی استدعا پر فیصلہ محفوظ
    چلی سےچارسدہ آنیوالی خاتون نے اسلام قبول کرکے پاکستانی نوجوان سے شادی کرلی
    سیلاب متاثرین کیلئے ہاؤسنگ اسکیم دنیا کا سب سے بڑا منصوبہ ہے، شرجیل میمن

    تاہم یاد رہے کہ گزشتہ روز اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے عمران خان اور بشریٰ بی بی کی جانب سے کیسز ٹرائل کے لیے کسی اور کورٹ کو منتقل کرنے کی درخواستوں پر دلائل سننے کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا تھا جو اب انہوں نے پڑھ کردیا ہے.

  • حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف پیپلز پارٹی میدان میں آ گئی.

    حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف پیپلز پارٹی میدان میں آ گئی.

    پاکستان پیپلز پارٹی نے حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف ریفرینسز دائر کرنے کیلئے لائرز کمیٹی قائم کر دی.

    کمیٹی سردار لطیف کھوسہ، حیدر زمان قریشی، امجد اقبال قریشی، سید مجتبی حیدر شیرازی، شکیل عباسی، سید جرار حسین بخاری پر مشتمل ہوگی.

    پیپلز پارٹی کی لائرز کمیٹی حکومت اور حکومتی ارکان کی کرپشن چور بازاری سرکاری مالیاتی بددیانتی کے خلاف ریفرینسز دائر کرے گی.

    پیپلز لائرز کمیٹی اعلئ عدلیہ اور نیب میں حکومتی بدعنوانیوں کے خلاف ریفرینسز دائر کریگی.

  • محکمہ ہیلتھ سفید ہاتھی بن گی, اربوں روپے کےگھپلوں اور کرپشن  کانکشاف

    محکمہ ہیلتھ سفید ہاتھی بن گی, اربوں روپے کےگھپلوں اور کرپشن کانکشاف

    گوجرانوالہ:محکمہ ہیلتھ سفید ہاتھی بن گیااربوں روپے کےگھپلوں اور کرپشن کانکشاف

    گوجرانوالہ:میڈیکل کالج کامنصوبہ 3 ارب سے 7 ارب روپے تک کیسے پہنچا دستاویز سامنے آ گئیں

    گوجرانوالہ:وزیر اعلی پنجاب کی انسپیکشن ٹیم نے 18 صفحات پر مشتمل رپورٹ میں کرپشن کا کچاچٹھا کھول دیا

    گوجرانوالہ:میڈیکل کالج منصوبے کو مکمل کرنے کی بجائے جان بوجھ کرتاخیری حربے استمال کیے گئے ،رپورٹ میں انکشاف

    گوجرانوالہ:منصوبے 2016 فروری کو مکمل ہوناتھا جس کو جون 2022 تک لیجایاگیا،رپورٹ

    گوجرانوالہ:ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ سہیل انجم بٹ نےبائیو میڈیکل انجینئر ناصر سے مل کرپشن اور کمیشن کی انتہائی کی ، رپورٹ میں انکشاف

    گوجرانوالہ:بلڈنگ مکمل ہونے سے قبل ہی آلات خرید لیے گئے جس جو زائد المعیاد ہوگئے انسپیکشن ٹیم کاانکشاف

    گوجرانوالہ:آلات جلد خریدنے کامقصد کمیشن بنانا اور کرپشن تھا،

    گوجرانوالہ:بائیو میڈیکل انجینئر کو ناصر کو نوکری سےفارغ کردیا گیاتھا

    گوجرانوالہ:کرپشن کے کینگ ڈپٹی ڈائریکٹر پراجیکٹ سہیل انجم بٹ کے خلاف کرپشن ثابت ہونے کےباوجود کارروائی نہ کی گئی

    گوجرانوالہ:بااثر ڈاکٹر سہیل انجم بٹ آج بھی ایم ایس کارڈیالوجی وزیرآباد تعینات

    گوجرانوالہ:انسپکشن ٹیم کے چیئرمین فیصل عباس ،ممبر انجینئرنگ اکبرعلی نے رپورٹ وزیراعلی پنجاب کو پیش کردی

  • مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مارخورسےحرام خور تک کا سفر

    مار خور ایک نہایت ہی اعلی خصوصیات کا حامل جانور ہے۔ یہ پہاڑی علاقوں میں پایا جاتا ہے اور مشکل سے مشکل پہاڑی راستوں پر با آسانی سفر کرتا ہے۔ مارخور پاکستان کا قومی جانور بھی ہے اور بہت ساری بین الاقوامی تنظیمیں اس بات کا خدشہ ظاہر کر چکی ہیں کہ آنے والے سالوں میں مارخور کی نسل ختم ہو سکتی ہے۔ اس وقت پوری دنیا میں مار خور کی تعداد صرف چند ہزار ہے اور پاکستان میں چار ہزار سے زیادہ نہیں ہے۔

    کچھ پاکستانی اس بات کو بھی لے کر پریشان ہیں کہ اگر مارخور نہ رہا تو پاکستان کا قومی جانور ختم ہو جائے گا، لیکن میں اس خیال سے زیادہ پریشان نہیں کیونکہ مارخور سے ملتا جلتا ایک جانورہمارے معاشرے اور پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل رہا ہے۔ پاکستان بننے کے بعد پہلے پہل تو یہ جانوربہت کم تعدادمیں پایا جاتا تھا لیکن اب ہر گلی اور محلے میں پایا جاتا ہے اور اس جانور کا نام ہے حرام خور۔ یہ درندہ صفت انسان ملک کے بہت سے اداروں میں پائے جاتے ہیں جو حرام کے چند روپوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو نوچ نوچ کر کھا رہے ہیں۔

    میری حکومتِ پاکستان سے التجا ہے کہ مارخور کی بجائے حرام خور کو اپنا قومی جانور قرار دیا جائے کیونکہ ان کے جانور ہونے پر تو اختلاف کسی کو نہیں ہوگا، اور ایک فائدہ یہ بھی ہو گا کہ حرام خور وطنِ عزیز میں وافر مقدار میں پایا جاتا ہے ۔ کئی صدیوں تک ان کے ختم ہونے کا کوئی خدشہ بھی نہیں اسلئے ضروری ہے کہ پاکستان کے تمام اداروں میں کرپٹ عناصریعنی حرام خوروں کو پاکستان کا قومی جانور قرار دیا جائے۔

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔