Baaghi TV

Tag: Covid 19

  • بازار کتنے دن کھولیں رہیں گے نیا فیصلہ سامنے آگیا

    بازار کتنے دن کھولیں رہیں گے نیا فیصلہ سامنے آگیا

    خانیوال:حکومت پنجاب کی طرف سے خانیوال کے تاجروں کو اتوار کو دکانیں کھولنے کی اجازت مل گئی

    پرائمری اینڈ سیکنڈری ہیلتھ کئیر ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے جمعہ اور ہفتہ کو لاک ڈائون کی پروپوزل منظور کرلی گئ کمشنر ملتان جاوید اختر محمود کے احکامات پر اسسٹنٹ کمشنرز نے تاجر تنظیموں سے ملاقات کرکے تجاوزیز ڈپٹی کمشنر کو بھجوائی تھیں۔ ڈپٹی کمشنر ظہیر عباس شیرازی کی سفارش پر پنجاب حکومت نے جمعہ اور ہفتہ کو لاک ڈائون تجویز منظور کرلی۔

    ڈپٹی کمشنر کی جانب سے تاجروں کو لاک ڈائون پر سختی سے عمل یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی حکومت پنجاب کسی کا کاروبار متاثر نہیں کرنا چاہتی تاجر حضرات اب نئے احکامات پر عمل یقینی بنائیں کورونا وباء پر قابو پانے کے لئے تاجر تعاون کریں گیں تمام مارکیٹس،،بازاروں
    دکانوں میں ایس او پیز پر عمل یقینی بنایا جائے
    ڈپٹی کمشنر خانیوال ظہیر عباس شیرازی

  • نائیجیریا نے امارات کی مختصر مدت کی پرواز معطلی ختم کردی

    نائیجیریا نے امارات کی مختصر مدت کی پرواز معطلی ختم کردی

    نائیجیریا کے ہوابازی ریگولیٹر کے ترجمان نے جمعہ کو بتایا کہ نائیجیریا نے نائیجیریا سے مسافروں کے لئے اضافی COVID-19 ٹیسٹ طلب کرنے کے بعد امارات کی ایئر لائنز کی پروازوں کی معطلی ختم کردی ہے۔ نائیجیرین سول ایوی ایشن اتھارٹی (این سی اے اے) کے ترجمان نے ایک فون کال میں کہا ، "معطلی ابھی ختم کردی گئی ہے ، کیونکہ انہوں نے ہماری خواہش کی تعمیل کی ہے۔” انہوں نے کہا کہ جلد ہی ایک بیان میں مزید تفصیلات منظر عام پر لائیں گی۔

    امارات کے ترجمان نے کہا کہ کمپنی اس بات کی تصدیق کر سکتی ہے کہ ہم ابوجا اور لاگوس کے لئے خدمات جاری رکھیں گے۔ وزارت ہوا بازی کے ایک ترجمان نے پیر کو ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ متحدہ عرب امارات (متحدہ عرب امارات) نائیجیریا سے پرواز سے قبل پولیمریز چین ری ایکشن (پی سی آر) ٹیسٹ کی ضرورت کے علاوہ روانگی سے چار گھنٹے پہلے تیز رفتار ٹیسٹ لینے کی اضافی ضرورت کو شامل کر رہا ہے۔ .انہوں نے کہا کہ اضافی ٹیسٹ پر اصرار کرنے والی ایئر لائنز کو اس وقت تک معطل کردیا جائے گا جب تک کہ روانگی کے چار گھنٹوں کے اندر دوسرا ٹیسٹ کرانے کے لئے مناسب ڈھانچہ نہیں لگا دیا جاتا۔

    4 فروری کو ایئر لائن کے کنٹری منیجر کو لکھے گئے خط اور "امارات کی ہوائی کمپنیوں کی نائیجیریا کی کارروائیوں کی معطلی” کے عنوان سے ، این سی اے اے نے کہا کہ ایئر لائن نے نائیجیریا سے مسافروں کو تیز رفتار اینٹیجن ٹیسٹوں سے گزارا "جو کہ ایسی لیبز میں لیا گیا کے جن کی منظوری نہیں دی گئی ہے اور نہ ہی اس کی اجازت ہے”۔ مناسب ریگولیٹری باڈیز ”۔ این سی اے اے نے اپنے خط میں کہا ہے کہ امارات کو معطل کرنے کا فیصلہ اس لیے لیا گیا کہ مناسب انفراسٹرکچر موجود نہ ہونے تک یا تو تیز جانچ کے بغیر مسافروں کو قبول کرنے کی یا اس وقت تک نائیجیریا جانے والی پروازوں کو معطل کرنے کی درخواست پر عمل کرنے پرایئر لائن ناکام رہی تھی-

    رواں ماہ ، متحدہ عرب امارات کے حکام نے کہا ہے کہ نائیجیریا سے دبئی جانے والی ایئر لائن کے مسافروں کو داخلے کی اجازت نہیں ہوگی اگر وہ تیسرے ملک کے راستے جاتے ہیں اور صرف براہ راست پروازوں میں داخل ہوسکتے ہیں ، صنعت کے ذرائع اور روانڈا ایئر ویب سائٹ پر ٹریول نوٹس کے مطابق۔

  • میاں چنوں میں کرونا ایس او پیز پر عمل

    میاں چنوں میں کرونا ایس او پیز پر عمل

    میاں چنوں . محکمہ تعلیم پنجاب کے حکم پر پوری پنجاب کے سکولوں میں بچوں کو ب فارم جمع کروانے کا کہا گیا تھا جس سے سرکاری سکولوں میں پڑھنے والے طلباء و طالبات کو بہت سی سہولیات ملے گئی

    جیسا کہ فری تعلیم طلباء و طالبات کو وظائف وغیرہ وغیرہ۔ ب فارم جمع کرونے کی آخری تاریخ 30 جنوری 2021 ہے۔

    اس سلسلے میں دیگر شہروں میں نادرا آفس میں والدین کا رش دیکھنے میں آیا اور نہ ہی کرونا ایس او پیز پر عمل نہ دیکھنے میں آیا۔
    میاں چنوں میں نادرا آفس کے عملے نے والدین کو بیٹھنے کے لیے کرسیاں فراہم کی اور کرونا ایس او پیز پر عمل بھی کرویا۔

  • بورے والا میں بڑے پیمانے پر آگہی و تقسیم ماسک پروگرام

    بورے والا میں بڑے پیمانے پر آگہی و تقسیم ماسک پروگرام

    کرونا وائرس کی حالیہ لہر پہلے کی نسبت تیز بھی ہے اور خطرناک بھی. چنانچہ اہلیانِ بورےوالا کو کرونا کی تباہ کاریوں سے بچانے کیلئے گلوبل یوتھ آرگنائزیشن رجسٹرڈ ، ڈسٹرکت بورےوالا موومنٹ اور ٹائیگر فورس بورےوالا کے شاہین صفت نوجوانوں کے ہمراہ امام بارگاہ روڈ اور ملحقہ علاقوں میں عملی آگہی اور تقسیمِ ماسک کی مہم چلائی گئی. اس مہم کے دوران پیدل افراد، موٹر سائیکل سواروں، رکشا ڈرائیوروں اور دکانداروں کو آگہی بھی دی گئی اور ساتھ ماسک بھی تقسیم کئے جاتے رہے.
    ایکٹیوٹی کا آج تیسرا روز تھا. ایک کامیاب اور شاندار ایکٹیوٹی پر تمام نوجوان مبارکباد کے مستحق ہیں. سید ساجد نقوی بیورو چیف، سید علی حسنین نقوی، علی عثمان سید عامر اعجاز، شیخ سلیم، اللہ یار بٹ، حماد رزاق چدھڑ جبکہ ٹائیگر فورس بورےوالا کے سلمان حیدر، شوکت علی، احمد الیاس، ملک ارشد، عثمان علی، فرخ جٹ نے بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کیا.
    سجاد حسین بخاری صاحب کا کہنا تھا کہ ہمیں صحت مند پاکستان کے لیے عوام الناس آگہی پیدا کرنے کی پر زور کوشش کرنی ہے اور ہم جناب کامران بشیر ڈوگر، اسسٹنٹ کمشنر / ایڈمنسٹریٹر میونسپل کارپوریشن بورےوالا اور جناب شکیل اکرم اینڈ برادرز آف فضل دین فارما پلس کے ممنون ہیں جنہوں نے اس شاندار ایکٹیوٹی کیلئے ہمیں اپنے بے لوث تعاون سے نوازا.

  • احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    احتساب-احتساب-معاف-کرو-پاکستان-صاف-کرو–وہاب ادریس خان

    لفظ احتساب کو جتنی پزیرائی اس حکومت نے پچھلے دو سالوں میں بخشی وہ پاکستان کی تاریخ میں اس سے قبل اس لفظ کو حاصل نہ تھی۔تحریکِ انصاف اوربالخصوص عمران خان نے احتساب کو ایک نئی شکل دی۔ عمران خان کی طرف سے ان کی حکومت کے ابتدائی دنوں میں یہ اعلان کیا گیا کہ وہ پاکستان کو ریاستِ مدینہ جیسا بنائیں گے۔تحریکِ انصاف کی حکومت کے دوران احتساب واقعی میں زوروشور سے شروع ہوا اور احتساب کے نام پر بہت سے کیسز بنائے گئےاور ان کا نتیجہ تقریباَ وہی تھا جو ہمیشہ سے نکلتا رہاہے اور بہت سے کیسز بے نتیجہ ختم ہوگئے یا ابھی تک التوا کا شکار ہیں۔ ہمارے ملک میں احتساب کے بعد پیدا ہونےوالی صورتحال دیکھ کرانگریزی کا ایک محاورہ ذہن میں آتا ہے. (Excess of Everything is Bad) یعنی کسی چیز کی بھی زیادتی ٹھیک نہیں ہوتی۔ابھی تک کے حالات دیکھ کر یہی لگتا ہے کہ ہماری ملک بھی احتساب کو برداشت کر پایا یا پھر اس طریقے کارکو نہیں سہہ پایا کیونکہ وہ کیس حدیبیہ مل کا ہو، پانامہ ہو یا چینی سکینڈل جب بھی کوئی کیس شروع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ ایک اعلان یہ بھی کیا جاتا ہے کہ اس کیس کی انکوائری پاکستا ن کے بننے سے لیکر آج تک کی ہو گی یا پھر اس کی انکوائری کم ازکم کچھ گزشتہ دہائیوں پر محیط ہوگی جو اس بات کا اشارہ ہوتا ہے کہ ہم کیس شروع تو کر رہے ہیں مگر یقین کریں اس کو ختم کرنےکا ہمارا کوئی ارادہ نہیں، کیونکہ تھوری سی عقل رکھنے والا شخص بھی جانتا ہے کہ پاکستان میں پرانا ریکارڈموجود بھی ہو تواسے غائب کروانا مشکل نہیں اور رہی بات گواہان کی تو اس بات کا قوی امکان ہوتا ہے کہ جس دور سے انکوائری شروع کی جارہی ہےاس دور کا کوئی گواہ نہیں موجود ہوگا۔اوراگر کوئی غلطی سے زندہ ہوا بھی تو جب تک کیس چلنا ہے گواہ خود ہی اللہ کو پیارا ہو جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت شاید یہ سمجھ بیٹھی ہے کہ عوام نے ان کو ہمیشہ کے لئے ووٹ دے کر منتخب کر لیا ہےاور بھول جاتے ہیں کہ ان کے پاس صرف تین سال رہ گئے ہیں۔ وزرا، اپوزیشن، حکومتی وزرا سرکاری ملازمین، ریٹائرڈ ملازمین ہر کسی کا احتساب شروع ہو چکا ہے۔ ہمارے ملک میں احتساب اور کرونا وائرس میں کافی مما ثلت پائی جاتی ہے، کیونکہ احتساب بھی کرونا وائرس کی طرح بہت تیزی سے لوگوں کواپنی زد میں لیتا ہے اور کرونا کی طرز پر کچھ کو نگل جاتا ہے۔ اور جن کو نگلنے کی حیثیت نہیں ہوتی ان کو چھوڑ دیتا ہے۔یہاں یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ جو اثرات کرونانےپوری دنیا پر چھوڑے ہیں احتساب نے بھی ہمارے ملک کا تقریباَ وہی حال کیا ہے۔ کرونا کی وجہ سے جہاں پوری دنیا میں لاک ڈاون ہے ہمارے ملک میں احتساب نے بھی کا فی عرصے سے اکانومی کا لاک ڈاون کر رکھا ہے۔ کوئی ادارہ کوئی افسر احتساب کے ڈر سے کام کرنے کو تیار ہی نہیں ہوتا۔

    عمران خان صاحب اگر آپ نے ریاستِ مدینہ بنانی ہی ہے تو اصول بھی مدینہ کی ریاست بنانے والوں کے اپنانے چاہئے تھے۔ حضور پاک ﷺنے جس طرح فتح مکہ کے موقع پر حکمت کے تحت عام معافی کا اعلان فرمایا،وزیرِاعظم صاحب کو چاہئے تھا 2018کے الیکشن جیتنے کے بعد مشروط معافی کا اعلان کیا جاتا جس کے تحت اپوزیشن کے کیسز معاف کرے کے بدلے کرپشن کی سخت سزا کی قانون سازی کروا سکتے تھے جو کہ اپوزیشن اور پوری پارلیمنٹ مرتےکیا نہ کرتے کے اصول پر تسلیم کر لیتی۔اور آپ ریاستِ مدینہ کے ماڈل جیسی بھی قانون سازی با آسانی کروا سکتے تھے۔ مگر اس وقت عالم یہ ہے کہ کو ئی بھی بِل پاس کروانا تو بہت دور کی بات ہے حکومت اگرکوئی آرڈیننس بھی لے آئے تو اس کو اپو زیشن کے شور شرابے کی وجہ سے واپس لینا پڑتا ہے۔

    ہمارے ملک میں کرپشن اگر چہ پی ٹی آئی حکومت سے پہلے حلال تو نہیں تھی مگر معاشرہ کا اہم حصہ اور ضرورت بن چکی تھی۔پولیس، بیوروکریٹس، ریڑھی والا، سیاست دان چھوٹے بڑے تمام طبقے اس میں ملوث تھے اور یہ سلسلہ کئی دہائیوں تک چلتا رہا کہ اچانک پی ٹی آئی کی حکومت آنے پر لوگوں کو بتایا گیا کہ کرپشن معاشرہ میں ایک بہت بڑی لعنت ہےاور یہ کوئی اچھی چیز نہیں ہے۔ عمران خان صاحب اکثر کہتے ہیں کچھ سخت فیصلے کرنےپرتے ہیں مگر وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ کچھ اہم فیصلے بھی کرنے پرتے ہیں۔ یہاں پر میں ایک بڑی مثال اپنے چھوٹے سےقلم سے دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں جب شراب کی حرمت آگئی تو اس سے پہلے کسی کے عمل پر بھی کوئی پکڑ نہیں رکھی گئی کیونکہ حرمت سے پہلے اسکو جائز سمجھا جاتا تھا۔اور اسی طرح اسلام میں قرآن میں اور ہمارے نبی ﷺ نے جس چیز سے جب لوگوں کو روکا تو ان کے اس سے پہلے عمل پر کوئی پوچھ گچھ نہیں کی گئی، اور پھر فتح مکہ کے موقع پرحضور پاک ﷺ کا معافی دینے کا عمل یہ وہ سنہری اصول ہیں جن کی بنیاد پر ریاستِ مدینہ قائم کی گئی۔

    اگر چہ ہمارے ملک میں ماضی میں ہونے والی کرپشن کو کسی بھی تناظر میں جائز قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن ایک اہم فیصلہ کر کے پچھلے کرپشن کے کیسز کو ہتھیار بنا کراگر ملک میں اہم اورموثر قانون سازی کی جا سکے تو اس وقت کے حا لات میں سب سے بڑا احتساب یہی ہو گا اور آنے والی نسلیں وزیرِاعظم کی احسان بھی مند ہوں گی۔

  • پے در پے اہل حدیث علماء کی وفیات اور کرونا سے متعلق ہماری غفلت ، تحریر طہ منیب

    پے در پے اہلحدیث علماء کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر افسوس کیا جائے کم ہے، جہاں ان علماء کی وفیات غم کا باعث ہیں وہیں کرونا کے حوالے سے ہماری غفلت کی بھی عکاس ہیں، پہلے دن سے کرونا سے متعلق صرف چند ایک کو چھوڑ کر بالعموم علماء کا موقف انتہائی نامناسب تھا، ہر مسئلہ میں اسلام کے خلاف کافروں اور یہودیوں کی سازش کو لائے بغیر ہماری بات میں وزن نہیں پڑتا، تقریباً سب علماء کی وفات سے قبل صورتحال وہی تھی جو کرونا کے متاثرین کی ہوتی ہے، یعنی سب ہی کھانسی اور سانس کی تکلیف کے باعث ہی خالق حقیقی سے جا ملے،

    رمضان المبارک سے قبل اس کا پھیلاؤ محدود سرکل میں تھا لیکن بعد میں یہ کسی خاص حلقے، کمیونٹی سے نکل کر عوامی ہو چکا تھا، رمضان المبارک کے شروع میں گوجرانولہ میں ہزاروی صاحب کے جنازے کے مناظر انتہائی تنگ جگہ پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے جنازے میں شریک عوام اور علماء کی اکثریت اہل حدیث حلقوں میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور بعد میں ہونیوالے جنازوں کے مناظر بھی پہلے جنازے سے مختلف نہیں تھے،

    حافظ ابن حجر کی وباؤں سے متعلق کتاب کی پوسٹ ایک بار پہلے بھی کی آج بھی تزکرہ کردیتا ہوں کہ جب بغداد میں وبا سے بچنے کیلئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد اموات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، اب اگر ان بزرگوں کے کرونا ٹیسٹس نہیں ہوئے تو اس بنیاد پر یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں کرونا نہیں تھا اور اس پر چشم پوشی خدانخواستہ باقیماندہ علماء کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جوانوں کے برعکس بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، جو پہلے سے کسی معمولی عارضے کا شکار ہوں انکے کیلئے کرونا کا معمولی وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ کرونا ایک حقیقت ہے، اس سے متعلقہ زبان زد عام سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی حد تک درست ہوں لیکن اس وبا کا جان لیوا ہونا سو فیصد درست اور ثابت ہے، اب بھی وقت ہے، ضد چھوڑ ہم اس وبا سے متعلق بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔

  • کسی طبقہ کی بیوقوفی اور اس پر حکومتی مجرمانہ غفلت کب سے ہمارے لیے معیار ہو گئی ؟ تحریر، طہ منیب

    ہم ردعمل کا شکار ہی کیوں ہوں ؟ کیا ہم میں عقل خرد سمجھ بوجھ نہیں رہی جو ہم کسی کے عمل کے ردعمل کی بنیاد پر فیصلہ سازی کریں؟ کسی کا کنویں میں کودنا ہمارے لیے کب سے کودنے کی دلیل بن گیا؟ جو جس نے جتنا غلط کیا اسکی سزا خود کو دینا کسی صورت دانش مندی کا تقاضہ نہیں۔ وائرس پہلے بھی تھا ، اب بھی ہے اور ان کے ان جلوسوں سے یقیناً بڑھے گا اور اسکے ردِعمل کا شکار ہم ہونگے تو پھلے پھولے گا جسکا نتیجہ پوری قوم بھگتے گی،

    وائرس نا رکا تھا نا رکا ہے، کسی کے جاننے والے کو ہوا یا نہیں سے اب اکثر کو یہ لگ چکا ہے، اب ہر طبقہ میں اسکے متاثرین موجود ہیں، اس کو سنبھالنے کے لیے حکومتی وسائل اب ناکافی ہوچکے، قرنطینہ مراکز بھر چکے، اب یہ آپ پر ہے آپ ردِعمل کا شکار ہوکر سب سے پہلے خود، اپنی فیملی، حلقہ احباب ، ملک و قوم کو اسکا شکار بناتے ہیں یا عقلمندی و خرد کا مظاہرہ کرتے ہوئے جزباتیت اور ردعمل کا شکار ہوئے بغیر احتیاطی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے سب کی حفاظت کے ضامن بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں حکمت و دانائی کو بروئے کار کر درست فیصلوں اور ان پر عمل پیرا ہونے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین