بورےوالا نجی ہوٹل میں کارنر میٹنگ کرنے پر ن لیگ کی مقامی قیادت پر مقدمہ درج ، پولیس کے مطابق مقدمہ پنجاب انفکیشن آرڈینینس کے تحت درج کیا گیا۔مقدمہ میں 15 معلوم اور 15 نامعلوم افراد نامزد کئے گئے۔ میٹنگ میں کورونا کے حوالے سے ایس او پیز کو نظر انداز کیا گیا ، مقدمہ میں ایم این اے چوہدری فقیر احمد آرائیں ، ایم پی اے سردار خالد محمود ڈوگر ، ایم پی اے چوہدری یوسف کسیلیہ ، سابق ایم این چوہدری نذیر احمد آرائیں ، منظور برکت ماڑی والا ، اسلم جمال ، نذیر رندھاوا ، خان خالد خاں ، فرخ اسلام و دیگر شامل۔ پولیس نے ملزمان کو گرفتار کرنے کے لیے رات گئے گھروں پر چھاپے مارے۔ اس حوالہ سے (ن) لیگی قیادت کا کہنا ہے کہ ایسے پرچوں سے ہم نہیں گھبراتے۔ یہ فاشسٹ کاروائیاں ہمیں 30 نومبر کے جلسے میں جانے سے نہیں روک سکتی۔ (ن) لیگی قیادت نے گھروں پر پولیس کے چھاپوں کی پر زور مزمت کرتے ہوئے حکومت کی ناکامی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ہم ہر حال میں جلسے میں شرکت کریں گے۔
Tag: COVID19
پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب
پاکستان میں کرونا کے کیسز ایک لاکھ سے متجاوز ، احتیاط ہی سب سے بڑا علاج از طہ منیب
آج پاکستان میں کرونا کے مصدقہ کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے کراس کر گئی ہے، جو صورتحال چل رہی ہے خدانخواستہ لگتا ایسے ہی کہ ساری دنیا سے کرونا ختم ہو جانا لیکن پولیو کی طرح ہم بھی انہیں آخری دو چار ملکوں میں ہونگے جہاں یہ مصیبت رہنی ہے۔ پولیو سے متعلق بھی سازشی تھیوریوں نے جتنا نقصان پہنچایا ہے اور شاید ہی کوئی پولیو مہم ہو جس میں پولیو ورکرز پر حملے نا ہوئے ہوں ، مفاد عامہ پر مبنی ویکسین کی مہم کی حساسیت یہاں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن سے کم محسوس نہیں ہوتی جسکا نتیجہ یہ ہے کہ ساری دنیا پولیو فری ہو گئی لیکن ہم ابھی تک ان دور افتادہ تین چار افریقی ممالک میں شامل ہیں جہاں پولیو ابھی بھی موجود ہے اور رواں سال ماضی کی نسبت پولیو کیسز کی تعداد بڑھی ہے،
سپین ، اٹلی ، جرمنی جو ووہان کے بعد کرونا کا مرکز بنے تھے تقریباً کرونا کی بڑھتی سپیڈ کو روک کسی حد تک نیچے لانے کے بعد ، لاک ڈاؤن کھول حالات کو نارمل کر رہے۔
جبکہ یہاں حکومت و عوام دونوں کی غیر سنجیدگی پاکستان میں کرونا کو اس پوزیشن پر لے آئی ہے، چائنہ کو تو ہم ہفتہ قبل ہی پیچھے چھوڑ چکے اور اگلے چند دن نہایت گھمبیر ہونگے ، اللہ جانے ہم کہاں کھڑے ہونگے، واحد حل احتیاط، غیر ضروری باہر نکلنا بند ، سماجی دوری ، ماسک کا استعمال ہے ، یقیناً بہت سے لوگ غیر یقینی سے یقین کی پوزیشن میں آ گئے ہیں اور اسے حقیقت سمجھنا شروع ہو گئے ، اللہ کرے یہ شعور قومی سطح پر بیدار ہو اور ہم کسی بڑے نقصان سے بچ جائیں، تعالیٰ ہمارے حال پر رحم کرے اور احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔ آمین
سارا بھارت تبلیغی جماعت کے کارکنان کو ہیرو کہ کر خراج تحسین پیش کر رہا ہے، تحریر طہ منیب
بھارتی ٹویٹر میں تبلیغی ہیروز ٹاپ ٹرینڈ پر
تبلیغی ہیروز کا ٹرینڈ اس وقت بھارتی ٹویٹر میں ٹاپ پر ہے۔

مسلم ایکٹوسٹس ، سیکولر ہندو، بھارت کی اکثر اہم غیر متشدد شخصیات تبلیغی جماعت کے کارکنان کو خراج تحسین پیش کر رہے ہیں، یہ وہی انڈیا ہے جہاں چند دن سے تبلیغی جماعت کو کرونا پھیلانے کا زمہ دار قراد دیا جا رہا تھا، جس کی بنیاد ایک تبلیغی اجتماع کو بتا دیا جا رہا تھا۔

جس کے بعد بھارت بھر میں مسلمانوں کے خلاف پہلے سے موجود شدت میں اور اضافہ ہوا ، نفرت بڑھی، جگہ جگہ بائیکاٹ کیا گیا، معروف ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی بات کی جانے لگی، حتیٰ کہ مسلمان مریضوں کو ہسپتال تک میں داخل نہیں ہونے دیا جا رہا تھا۔ اس نفرت کا دائرہ بھارت سے نکل کر عرب ریاستوں میں قیام پزیر لاکھوں ہندوؤں تک پھیل گیا، کچھ عربوں کی غیرت جاگی جس پر کچھ ہندو انتہا پسندوں نے انہیں گالیاں دیں ، جسکے جواب میں کویت سے لے کر متحدہ عرب امارات کے تمام متحرک، ایکٹوسٹس، بلاگرز، صحافی، شاہزادے اور شہزادیوں نے خبردار کیا کہ اوقات میں رہو یہاں تمہاری وجہ سے وائرس پھیل رہا اور بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نازیبا سلوک بند کرو، کہیں ایسا نا ہو کہ روزی روٹی سے جاؤ،

آج سارا بھارت جس وجہ سے تبلیغی ہیروز کی بات کر رہا انہیں خراج تحسین پیش کر رہا وہ یہ ہے کہ 129 تبلیغی ارکان نے دہلی کے ایک ہسپتال میں پلازما عطیہ کیا ہے، ایک فرد کے پلازمے سے 4 کرونا مریضوں کا علاج ممکن ہے۔ یہ وہی تبلیغی ہیں جنہیں نفرت، گالی ، بیماری بنا دیا گیا تھا آج انسانی ہمدردی کے جذبے کے تحت لوگوں کی جان بچانے کیلئے پلازمہ دے رہے ہیں جسکی تصدیق بھارتی وزارت صحت بھی کر چکی ہے۔ یہی اسلام کی تعلیمات ہیں۔ سلام ہے تبلیغی ہیروز کو۔
افسوسناک خبر!مظفرگڑھ میں قرنطینہ کئے گئے 53 افراد کا کورونا ٹیسٹ پازٹیو آگیا
مظفرگڑھ میں قرنطینہ کیے گئے مزید 53 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی،ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کیمطابق قرنطینہ کیے گئے 553 افراد رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئیں.
ضلع مظفرگڑھ میں قرنطینہ کیے گئے 537 افراد کی ٹیسٹ رپورٹس موصول ہوگئیں.ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ امجد شعیب ترین کیمطابق قرنطینہ کیے گئے 53 افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق ہوگئی.کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کو علاج کے لیے مظفرگڑھ کے رجب طیب اردوان ہسپتال منتقل کیا جارہا ہے.ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ کیمطابق نئے کیسز کے بعد رجب طیب اردوان ہسپتال میں زیرعلاج کورونا وائرس کے مصدقہ مریضوں کی تعداد 126 ہوگئی ہے.ڈپٹی کمشنر مظفرگڑھ امجد شعیب ترین کیمطابق قرنطینہ کیے گئے 553 افراد کی رپورٹس ابھی موصول نہیں ہوئیں،ان کا کہنا تھا کہ قرنطینہ کیے گئے جن افراد میں کورونا وائرس کی تصدیق نہیں ہوئی اور ان کی رپورٹس نیگیٹو آئیں،انھیں انکے اضلاع میں بھیج کر قرنطینہ میں رکھا جائیگا.
کرونا وائرس آزمائش کے ساتھ ساتھ کئی مثبت تبدیلیاں بھی لا سکتا ہے۔ فیصل بخاری
اسے سیلف آئسولیشن کہیں لوارنٹائین پکاریں یا کچھ اور مگر یہ حقیقت ھے ھم سب جہاں بھی ھیں ایک مختلف دنیا دیکھ رھے ھیں۔ میں پچھلے کچھ دنوں سے بدلتی دنیا کا مشاھدہ کر رھا ھوں اور درج ذیل حقائق میرے سامنے آۓ ھیں جو اگر یاد رکھے جائیں تو اس وبا کے بعد مثبت تبدیلی معاشرہ میں لا سکتے ھیں۔
۱۔ کئ کمپنیوں اور سرکار کے ملازم گھر بیٹھے کام کر سکتے ھیں۔ یعنی بے وجہ کی چھٹیوں سے چھٹکارا پایا جا سکتا ھے۔
۲۔ ھم اور ھمارے بچے فاسٹ فوڈ اور جنک فوڈ کے بغیر جی سکتے ھیں۔
۳۔ معمولی سزا یافتہ غریب اور لاچار قیدیوں کو آسانی سے رھائ مل سکتی ھے۔ عدالت اورجیل کےوسائل بچاۓ جا سکتے ھیں اور تھانہ کچہری کی سیاست ختم نہیں تو کم کی جا سکتی ھے۔
۴۔ ھم دنوں میں ھسپتال اورلیبارٹری قائم کر سکتے ھیں اوروہ بھی مفت!
۵۔ ھم اربوں روپے غریبوں کےبلئے جاری کر سکتے ھیں اورکمیٹیوں اور خزانہ کی وزارتوں سے باآسانی پاس کرا سکتے ھیں۔ قانون میں گنجائش موجود ھے۔
۶۔ ھم امریکہ اوریورپ میں چھٹیاں نہ گذارنےپر مر نہیں جائیں گے۔
۷۔ ترقی یافتہ ممالک اتنے ھی کمزور ھیں جتنے ترقی پزیر اور غریب ممالک۔ میری نظر میں ذیادہ کمزور!
۸۔ ھمارا خاندانی نظام ابھی بھی موجود اور قائم و دائم ھے۔ الحمد للہ۔
۹۔ اسکول میں جو پڑھایا جاتا ھے اس کی اصلیت کھل گئ ھے۔ بچوں کے وقت کا ضیاں کیا جاتا ھے خصوصی طور پر پرائیویٹ اسکول۔
۱۱۔ اگرھم پیسہ اسی احتیاط سے استعمال کریں تو پیسہ وافرھے۔
۱۱۔ ھم غیر ضروری طور پر کروڑوں ڈالر کا پیٹرول استعمال کرتے ھیں کو قومی خزانے اور زر مبادلہ پر بوجھ ھے۔
۱۲۔ امیر لوگ دراصل غرباء سے کمزور اور بزدل ھیں۔
۱۳۔ اشرافیہ طاقتورنہیں بلکہ کھوکھلی ھے۔
۱۴۔ ھر نیا ڈیزائنر لان کق جوڑا خریدنا ضروری نہیں۔ آپ پرانے سوٹ میں بھی گھر والوں کے لئے اتنی ھی اھم ھیں۔
۱۵۔ شوھر پارلر جاۓ بغیر بھی آپ سے محبت کرتا ھے اور اسے فرق نہیں پڑتا۔
۱۶۔ بزرگ ھمارے خاندانی نظام کی ریڑھ کی ھڈی ھیں۔
۱۷۔ میڈیا منافقت سے بھرا پڑا ھے اور اسے ذھن سازی کا مستند ادارہ نہ سمجھیں۔
۱۸۔ میرا جسم میری مرضی والے سمجھ گئے ھیں کہ ان کا جسم ان کے رب کی مرضی۔دنیا یقیناً بدل گئ ھے مگرپاکستان ایک مثبت انداز سے بدلے اور آگے بڑھے گا انشاءاللہ۔

اس بار نئے اور خفیہ دشمن سے پالا پڑا ہے، احتیاط سے شکست دینی ہوگی، فیصل بخاری
پشتو کی ایک کہاوت ھے "پہ جنگ کے مڑی کیگی” جس کا اردو ترجمہ "جنگ میں لوگ مرتے ھیں!” ھم سب اس وقت حالت جنگ میں ھیں اور دشمن پوشیدہ اور نیا ھے۔ کوئ حکومت چاھے جتنی بھی طاقتور، وسائل سے لیس ھو اس جنگ سے تنہا نہیں لڑ سکتی۔ یہ ھر شخص اور ھر انسان کی جنگ ھے۔ الحمدلللا ھم اشیاۓ خورد و نوش میں خود کفیل ھیں اور یہ ان حالات میں احسان خداوندی ھے۔
ھمیں صرف مضبوط، متحد اور مثبت رھنا ھے اور ھر اس بات کی پابندی کرنی ھے جو حکومت اور ریاست کہہ رھی ھے۔ گھروں سے نہ نکلنا ھمارا احسان نہیں بلکہ قانونی اور شرعی ذمہ داری ھے اور اس کی خلاف ورزی قانون اور احادیث کی خلاف ورزی ھے۔ یہ ھمارے ضعیف والدین اور معاشرے کے بزرگوں اور عمر رسیدہ لوگوں کے لئے ھے۔ ھمارے بچوں کے لئے ھے۔ ھم ایک بہادر قوم ھیں اور انشاءاللہ اس عذاب سے نکلنے والی پہلی قوموں میں ھوں گے۔ یاد رکھیں یہ کوئ جھڑپ یا لڑائ نہیں ھے بلکہ ایک بہت بڑی جنگ ھے۔ اس جنگ کے لئے ذھنی طور پر تیار رھیں کیونکہ یہ دنوں اور ھفتوں کی نہیں مہینوں پر محیط ھو گی۔ ھم نے دھشتگردی کے خلاف ایک دھائ کی جنگ جیتی ھے۔ وھاں بھی دشمن ھمارے اپنے درمیان پوشیدہ تھا۔ مگر ھم نے اسے مل کر شکست دی۔ ایک لاکھ جانیں گنوائیں مگر گھبراۓ نہیں اور دنیا کو جیت کر حیران کر دیا۔
مضبوط رھیں۔ مثبت رھیں۔ گھر پر رھیں۔ ھاتھ دھوئیں۔ اپنے پیاروں سے جڑے رھیں۔ سلامت رھیں۔ ایمان اتحاد اور تنظیم کی جو تلقین ھمیں کی گئ تھی آج بس انہی تینوں چیزوں کی ضرورت ھے۔ خصوصاً تنظیم ہعنی ڈسپلن۔ اللہ سب کو اپنی حفاظت میں رکھے۔

(فیصل بخاری )





