Baaghi TV

Tag: CPEC

  • وفاقی حکومت کاگوادر یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں.  احسن اقبال

    وفاقی حکومت کاگوادر یونیورسٹی سے کوئی تعلق نہیں. احسن اقبال

    وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ لاہور کی گوادر یونیورسٹی نہ تو سی پیک کے تحت ہے اور نہ ہی کسی سرکاری فنڈنگ کی ہے، حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی آف گوادر کے نام سے یونیورسٹی قائم کی ہے۔ جبکہ لاہور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام پر وفاقی حکومت کو مختلف حلقوں کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔

    پیپلزپارٹی کے رہنما فرحت اللہ بابر نے اپنی ٹویٹ میں کہا کہ خدا کا شکر ہے کہ کوئی بھی گوادر کو لاہور یا کہیں نہیں لے جا سکتا، اگر وہ کر سکتے تو بہت پہلے یہ کام کر چکے ہوتے اور صرف لاہور میں پاک چائنا گوادر یونیورسٹی کے قیام سے مطمئن نہ ہوتے۔ لاہور میں گوادر یونیورسٹی کے قیام کے حوالے سے وضاحت پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ یہ یونیورسٹی نہ تو سی پیک کے تحت ہے اور نہ ہی کسی سرکاری فنڈنگ کی ہے۔ یہ کسی نے پرائیوٹ یونیورسٹی کا چارٹر منظور کروایا ہے جسکا حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔


    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    جبکہ اپنی ٹویٹ میں وزیر منصوبہ بندی کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت نے گوادر میں یونیورسٹی آف گوادر کے نام سے یونیورسٹی قائم کردی ہے، اور اس کے نئے سینکڑوں ایکڑ پہ مشتمل کیمپس کی تعمیر کے لئے فنڈنگ بھی جاری کی ہے۔

  • سی پیک  سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    سی پیک سے خطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوگا. نائب وزیر اعظم چین

    چین کے نائب وزیر اعظم ہی لیفنگ ان دنوں پاکستان کےدورہ پر ہیں اور انہوں ایک تقریب میں کہا ہے کہ سی پیک دونوں ممالک کے درمیان اہم منصوبہ ہے جس سےخطے میں ترقی کے نئے دور کا آغاز ہوا، پاک چین دوستی ہمالیہ سے بلند اور سمندر سے گہری ہے۔ اسلام آباد میں چین پاکستان اکنامک کوریڈور کی 10 سالہ تقریب سےخطاب کرتے ہوئےسی پیک کی دس سالہ تقریب میں شرکت سے خوشی ہوئی،سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کاحصہ ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان فلیگ شپ منصوبے ہے۔

    جبکہ انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک نے دونوں ممالک کے مفاد کو نئی جلا بخشی ہے، اوریہ منصوبہ پاک چین دوستی کے نئے دور کا آغاز ہے،دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور تاریخی تعلقات ہیں،پاکستان ، چین اچھے پڑوسی ،دوست اور پارٹنر ہے۔ ہی لیفنگ نے کہا نے کہا کہ سی پیک کے تحت پاکستان میں سڑکوں کے جال بچھائے گئے سی پیک کے تحت اربن ریلوے،فائبر آپٹیکل کے منصوبوں کو عمل جامہ پہنائیں گے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ

    دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ توانائی بحران ختم کرنے میں پاک چین اقتصادی رہداری (سی پیک) نے اہم کردار ادا کیا جس کے باعث ملکی برآمدات میں اضافہ ہوا، سی پیک کے تحت منصوبوں کو وقت سے پہلے مکمل کیا۔

    سی پیک کے 10 برس مکمل ہونے کی تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہے، پاکستان اور چین آئرن برادرز ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چینی قیادت نے ہمیشہ پاکستان کے ساتھ دوستی نبھانے میں اہم کردار ادا کیا، آج دونوں ممالک کے لیے یاد گار دن ہے، سی پیک کے تحت پاکستان میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہوئی، چند منصوبوں پر ابھی بھی کام جاری ہے جو تکمیل کے مراحل میں ہیں۔

    وزیراعظم نے کہا کہ سانحہ باجوڑ کے باعث سی پیک کی سالگرہ سادگی سے منارہے ہیں، اب ہم سی پیک کے دوسرے مراحل میں داخل ہورہے ہیں، صدر شی چنگ پنگ نے دورہ پاکستان کے موقع پر سی پیک کا تحفہ دیا۔

  • ماڈل اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

    ماڈل اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھ دیا گیا

    وزیراعظم شہبازشریف نے ماڈل اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھ دیا ہے اور اس موقع پر ان کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبوں کا آغاز نوازشریف کی بدولت ہوا تھا جس میں بجلی، اورنج لائن منصوبے بنائے سمیت سڑکوں کا جال بچھایا گیا واضح رہے کہ اسلام آباد میں ماڈل اسپیشل اکنامک زون کا سنگ بنیاد رکھنے کی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم شہباز شریف، وفاقی وزیر احسن اقبال اور اعظم نذیر تارڑ سمیت متعدد لوگ شریک ہوئے۔


    جبکہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہبازشریف کا کہنا تھا کہ نواز شریف کے دور میں سی پیک منصوبوں کا آغاز کیا گیا، 2015 سے 2018 تک سی پیک پر سرمایہ کاری ہوئی، سی پیک کے تحت توانائی اور سڑکوں کے منصوبے بنائے گئے، 2018 کے بعد سی پیک منصوبوں کو منجمد کردیا گیا۔ خیال رہے کہ وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک کے تحت ملک ترقی کرے گا، یہ منصوبہ کئی سال پہلے مکمل ہونا تھا، سی پیک میں نوازشریف کی بڑی کاوش ہے، 2015 تک اس منصوبے پر سرمایہ کاری کی گئی، سی پیک 5 سال تعطل کا شکار رہا۔

    شہباز شریف کا کہنا تھا کہ سیلاب سے پورے ملک میں تبائی ہوئی ہے جس سے ہزاروں ایکڑ زمین زیرآب آئی، ہمیں لاکھوں ٹن گندم باہر سے منگوانا پڑی علاوہ ازیں پاک چین تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاک چین تعلقات میں تعطل پیدا کردیا گیا تھا، چین کا پاکستان کے ساتھ کمال تعلق کی نفی کرنے کی کوشش کی گئی اور چین کے پاکستان ساتھ تعلقات کو بگاڑنے کی کوشش کی گئی، چین میں لیبر بہت مہنگی ہوگئی ہے۔

    وزیراعظم نے مزید کہا کہ چین نے ٹیکسٹائل انڈسٹری کو آہستہ آہستہ خیرآباد کہنا شروع کردیا ہے اور ہمارے پاس چین کی سیکنڈ ہینڈ مشینری پاکستان میں لانے کا موقع تھا، سی پیک کے تحت لگنے والے اسپیشل زونز تعطل کا شکار ہوئے۔ جبکہ شہباز شریف کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہمیں تیل کی امپورٹ پربھی27 ارب ڈالرخرچ کرنے پڑے، بڑھتی مہنگائی نے پوری دنیا کی تبائی مچائی، روس یوکرین جنگ کی وجہ سے اشیا مہنگی ہوئیں، 100 ارب روپے وفاق نے صوبوں میں تقسیم کیے، دوست ممالک سے سیلاب کے لیے امداد آئی۔

  • 9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام جاری. احسن اقبال

    9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام جاری. احسن اقبال

    وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی پروفیسر احسن اقبال کا کہنا ہے کہ خصوصی اقتصادی زونز ( ایس ای زیڈز) چینی سرمایہ کاروں کو ان مراعات سے فائدہ اٹھانے کا موقع فراہم کریں گے جو پاکستان غیر ملکی سرمایہ کاری کے لیے پیش کرتا ہے۔ چین کے حالیہ دورہ کے بعد خصوصی گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ہم 9 خصوصی اقتصادی زونز پر کام کر رہے ہیں۔ جبکہ رشکئی خصوصی اقتصادی زون کا افتتاح اس ماہ کے آخر میں کیا ہوجائے گا۔ اسی طرح سندھ، پنجاب اور بلوچستان میں دیگر اقتصادی زونز بھی ترقی کے مراحل میں ہیں۔ پاکستان کو سستی لیبر فورس کا بڑا فائدہ ہے۔ چین میں، بہت سی صنعتیں لاگت کی بڑھتی ہوئی سطح کی وجہ سے پیداواری لاگت کا سامنا کر رہی ہیں اور اب وہ ویتنام، کمبوڈیا اور لاؤس جا رہی ہیں۔

    علاوہ ازیں وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ پاکستان کا بنیادی ڈھانچہ بہت اچھا ہے اور پھر اس کے پاس چین پاکستان اقتصادی راہداری ( سی پیک) کا فریم ورک ہے۔ اس لئے چینی کاروباری اداروں کے لیے پاکستان میں ان اقتصادی زونز میں منتقل ہونا بہت ہی پرکشش ہے۔ بہت سی چینی کمپنیاں پاکستان آ رہی ہیں۔ بہت سے چینی سرمایہ کاروں نے گوادر فری زونز میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اور ہم نئی ٹیکنالوجیز پر مبنی اپنے زرعی شعبے کو ترقی دینے کے منتظر ہیں۔ جبکہ اپنے بیجوں کے معیار کو اپ گریڈ کرنے کے لیے تعاون کی کوشش بھی کر رہے ہیں تاکہ وہ کمپنیاں جو تحقیق اور بیج تیار کر رہی ہیں، ہماری مدد کر سکیں۔ احسن اقبال کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان پانی کو محفوظ کرنے اور زراعت میں کارکردگی لانے کے لیے آبپاشی کی نئی ٹیکنالوجیز بھی تلاش کر رہا ہے۔ ہم فوڈ پروسیسنگ انڈسٹری میں بھی شراکتداری کے خواہاں ہیں۔ کان کنی کے شعبے میں بھر پور مواقع کے بارے میں انہوں نے کہا کہ پاکستان میں ماربل کے بہت بڑے ذخائر ہیں، جنہیں نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے اور اسی طرح پاکستان کے پاس لیتھیم اور دیگر کانیں بھی ہیں جن کی معدنیات الیکٹرک گاڑیوں میں استعمال ہوتی ہیں۔

    وزیر وزیر کے خیال میں پاکستان مشترکہ تعاون اور ٹیکنالوجی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی میں بھی شراکتداری کا خواہاں ہے۔ پاکستان میں بہت بڑی تعداد میں نوجوان آبادی ہے جس میں بہت اچھی آئی ٹی مہارتیں ہیں۔بہت سی چینی ٹیکنالوجی کمپنیاں پاکستان میں انسانی وسائل کی کم قیمت اور ہماری نوجوان آبادی کی اعلیٰ مہارتوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے پاکستان منتقل ہو رہی ہیں۔ اس لیے میرے خیال میں زراعت، صنعت، کان کنی، آئی ٹی، توانائی کے شعبے یہ تمام شعبے چینیوں کے لیے بہت امید افزا ہیں اور چینی ادارے پاکستان میں سرمایہ کاری کریں گے۔وفاقی وزیر نے کہا کہ چین کی بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنیاں آکر ہاؤسنگ سیکٹر میں سرمایہ کاری کر سکتی ہیں اور مزید کہا کہ ہمارے پاس ہاؤسنگ کی بہت زیادہ کمی ہے۔ہم پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے بہت پرکشش شرائط پیش کر رہے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    شاہراہ قراقرم؛ سیاحوں کی گاڑی کو حادثہ 6 افراد جانبحق
    بیوی کے ساتھ کیسے پیش آیا جائے بیٹے کو بتاتی رہتی ہوں غزل صدیق
    سلمان خان نےفالج کے بعد میرے اسپتال کے بل ادا کیے، اورکسی جگہ اس کی تشہیر بھی نہیں کی،راہول رائے

    سی پیک منصوبوں کی سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حکومت پاکستان چینیوں کی سیکیورٹی کے لیے اضافی احتیاط برت رہی ہے۔ ہم نےسی پیک منصوبوں کو سیکورٹی کی چار پرتیں فراہم کی ہیں۔ سی پیک ایک بہت ہی تذویراتی منصوبہ ہے، چین اور پاکستان کے دشمن اسے کامیاب ہوتے نہیں دیکھنا چاہتے۔انہوں نے مل کر کام کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ چینی انٹرپرائز کے تحفظ کے لیے جس قسم کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ اس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ 10,000 اہلکاروں پر مشتمل ایک خصوصی فورس بنائی گئی ہے جو مکمل طور پر سی پیک منصوبوں کی حفاظت کے لیے وقف ہے۔ اس کے علاوہ ہم نے اس فورس کو اپنی پولیس، نیم فوجی دستوں اور مقامی سیکورٹی کے ساتھ ضم کر دیا ہے۔ یہ سیکورٹی اہلکار اعلیٰ ترین سطح کی سیکورٹی فراہم کرنے کے لیے تعینات ہیں۔

    دوسری جانب وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال کا کہنا ہے کہ جس شخص نے کبھی یو سی نہیں چلائی اس کے سپرد ملک کردیا گیا، اور اس نے تجربے کرتے کرتے ملک کی تباہی کردی، ترقی کرتے پاکستان کو اناڑی کے سپرد کردیا گیا۔

    احسن اقبال کا کہنا تھا کہ لوگ کہتے ہیں آپ نے حکومت کیوں قبول کی، اگرمعیشت کو اس حال پر چھوڑ دیتے تو عوام کا مستقبل بھی دم توڑ دیتا، ہم نے معیشت کےعلاج کےلیے کڑوی دوائی کھائی، وہ معیشت جسے پی ٹی آئی چیئرمین آئی سی یو میں پھینک دیا گیا تھا۔ وفاقی وزیر نے مزید کہا کہ معیشت آج اپنے پاؤں پر کھڑی ہورہی ہے، آج دوست ممالک کا اعتماد بحال ہورہا ہے۔ احسن اقبال کا کہنا تھا کہ پی ٹی آئی چیئرمین نے نہ مرغی اور نہ انڈہ دیا، اس نے صرف خواب دکھایا اور چلا گیا۔

  • پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان، چین ایم ایل ون منصوبے پر عملدرآمد تیز کرنے پر متفق

    پاکستان اور چین نے ایم ایل۔ون اور خصوصی اقتصادی زونزکے نفاذ پر عملدرآمد کو تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے تاکہ منصوبوں کو بروقت مکمل کیا جا سکے جبکہ وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی ،ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال اور چیئرمین نیشنل ڈویلپمنٹ اینڈ ریفارم کمیشن (این ڈی آر سی) زینگ شانجی کے درمیان بیجنگ میں ہونے والی ملاقات کے دوران اتفاق کیا گیا۔ تاہم واضح رہے کہ وفاقی وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال سی پیک کی 10 سالہ تقریبات کے سلسلے میں چین کے چار روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔ اپنے دورے میں قومی ترقی اور اصلاحاتی کمیشن کے وائس چیئرمین کے ساتھ خصوصی مشترکہ تعاون کمیٹی (جی سی سی) کے اجلاس کی مشترکہ صدارت کے علاوہ اہم چینی حکام کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔

    چیئرمین این ڈی آر سی ژینگ شانجی سے ون ٹو ون ملاقات کے دوران وفاقی وزیر منصوبہ بندی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی جانب سے چیئرمین ژینگ کو عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور انہیں سی پیک منصوبوں پر عملدرآمد میں مکمل تعاون کی یقین دہانی بھی کرائی۔ اس موقع پر وفاقی وزیر منصوبہ بندی کی تجویز پر چیئرمین این ڈی آر سی نے پاکستان کی برآمدات کو بڑھانے اور خصوصی اقتصادی زونز کی ترقی کو تیز کرنے کے لئے چینی مہارت کی بھی پیشکش کی۔ دونوں فریقوں نے سی پیک کے فریم ورک کے تحت جاری تعاون کا جائزہ لینے کے لئے مشترکہ ورکنگ گروپس کے باقاعدہ اجلاس منعقد کرنے اور اگلے مرحلے کے لئے تمام منصوبوں کی عملدرآمد کو یقینی بنانے کا فیصلہ بھی کیا جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہے جن میں صنعت کاری، زراعت، سائنس و ٹیکنالوجی اور سماجی شعبے پر زیادہ توجہ مرکوز کرتا ہے۔

    یاد رہے کہ اپریل 2022 میں حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعد سے، موجودہ حکومت نے شہباز شریف کی سربراہی میں سی پیک منصوبوں کو بحال کیا گیا ہے جو پچھلی حکومت نے روک دے تھے۔ ملاقات میں ایک دہائی قبل سی پیک کے آغاز کو یاد کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے اپنے ہم منصب سے کہا کہ سی پیک کی ترقی کا سفر شاندار ’سفر رہا جس میں بہت سے چیلنجز کا سامنا رہا لیکن حکومت ثابت قدم رہی۔ 2013 سے دونوں اطراف کے متعلقہ اداروں نے ایک ٹیم کے طور پر کام کیا اور توانائی اور فزیکل انفراسٹرکچر کے کلیدی منصوبوں کو کامیابی کے ساتھ نافذ کیا،جس سے سی پیک کے اگلے مرحلے کی مضبوط بنیاد رکھی گئی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    سعودی عرب نے اسٹیٹ آف پاکستان میں 2 ارب ڈالر ڈپازٹ کردیئے،اسحاق ڈار
    سرکاری ملازمین کا دوسرے روز بھی مطالبات کی منظوری کے لئے احتجاج
    پیپلز پارٹی کی حکومت نے شہر میں امن و امان بحال کیا،وزیراعلیٰ سندھ
    چیئرمین پی ٹی آئی جیسا ڈکٹیٹر ملکی تاریخ میں پیدا نہیں ہوا، شرجیل میمن
    موسم گرما میں حاملہ خواتین کے لئے قدرتی مشروبات
    سویڈن میں اسلام دشمن سرگرمی پر جنرل ہسپتال میں ہیلتھ پروفیشنلز کی احتجاجی ریلی
    کویت کا سویڈش زبان میں قرآن کریم کے ایک لاکھ نسخے شائع کرنے کا اعلان

    اس موقع پر چیئرمین این ڈی آر سی نے کہا کہ چین اور پاکستان اچھے دوست اور شراکت دار ہیں۔ عالمی سیاست کے اتار چڑھاؤ کے باوجود دونوں ممالک ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور ایک دوسرے کی مکمل حمایت کی ہے۔ انہوں سی پیک کی ترقی میں احسن اقبال کے کلیدی کردار کو بھی سراہا۔ واضح رہے کہ چینی حکام گزشتہ سال اپریل میں احسن اقبال کو سی پیک کا لقب دے چکی اور سی پیک کے منصوبوں کو بحال کرنے میں ان کی خدمات کو بھی سراہا ہے۔

  • FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    FATF اور اس کا طریقہ کار کیا ہے، پاکستان ہی FATF کے چنگل میں کیوں؟؟

    پاکستان کے الیکٹرانک، پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا پر پچھلے کچھ عرصہ سے FATF کی خبروں، تبصروں، تجزیوں اور پیشین گوئیوں سے بھرا پڑا ہے اس کی وجہ بھی آپ لوگوں کو معلوم ہے کہ پاکستان جون 2018 سے FATF کی گرے لسٹ میں اور FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل درآمد کرتا چلا آرہا ہے لیکن FATF کسی طور مطئمن ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا ہم اس پر بات کریں گے کہ آخر اس کی وجوہات کیا ہیں کہ FATF آخر پاکستان سے خوش کیوں نہیں ہورہا حالانکہ 16 فروری سے اکیس فروری تک جاری رہنے والے اجلاس سے قبل ہمارے دوست ممالک نے بھی بڑی یقین دہانیاں کروائی تھیں اور عزت مآب وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بھی بڑے دعوے کیے تھے کہ فلاں بھی ہمارے ساتھ ہے اور فلاں بھی ہمارے ساتھ لیکن اجلاس کے بعد وہی FATF کے محبوبہ کی خواہشات کی طرح بڑھتے ہوئے "ڈو مور” کے مطالبات ہیں.
    ہمارے بہت سارے احباب تو FATF کو ہی نہیں جانتے کہ یہ کیا بلا ہے اور کیونکر ہمارے سروں پر مسلط ہوئی ہے.FATF کا قیام جولائی 1989 میں جی سیون (G-7) ممالک کے فرانس منعقدہ اجلاس میں کیا گیا تھا. بعدازاں اس کی تعداد بڑھتی رہی اور ابھی دو علاقائی تنظیموں سمیت 39 ممالک اس FATF کا حصہ ہیں. بنیادی طور پر یہ بین الحکومتی ٹاسک فورس ہے جو منی لانڈرنگ جیسے جرائم کے خلاف ملکوں کے مشترکہ اقدامات کے لیے قائم کی گئی مگر نائن الیون کے بعد جب دنیا میں دہشت گردی اور War Against Terror کی صدائیں متواتر سنائی دی جانے لگیں تو FATF کے بنیادی مقاصد میں منی لانڈرنگ کے ساتھ ساتھ ٹیرر فنانسنگ کو مانیٹر کرنے اور اس کی روک تھام کے لیے اقدامات کا اضافہ کیا گیا. FATF منی لانڈرنگ اور ٹیرر فنانسنگ کی روک تھام کے لیے ٹیکنیکل طریقہ کار کو اختیار کرتی ہے اور ممبر ممالک میں ایسے قوانین وضع کرواتی ہے جن کی زد میں آکر ٹیرر فنانسنگ اور منی لانڈرنگ جیسے جرائم کی روک تھام ہوسکے اور ان میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لاکر سزائیں وغیرہ دی جاسکیں.
    اس FATF کے طریقہ کار اور اسٹینڈرڈ سب ممالک کے لیے ایک جیسے ہوتے ہیں. جو ممالک ان اسٹینڈرڈز پر پورا نہ اتریں اور وہاں سے افراد یا تنظیمیں منی لانڈرنگ یا ٹیرر فنانسنگ میں ملوث ہوں تو ان پر نظر رکھنے اور وہاں سے ان جرائم کے خاتمے کے لیے اقدامات کرنے کے لیے ان کو گرے لسٹ میں ڈالا جاتا ہے. جو ممالک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل کرکے ان جرائم پر قابو پالیں تو ان کو دوبارہ سے وائٹ کردیا جاتا ہے اس کے لیے سال میں تین دفعہ جائزہ سیشنز ہوتے ہیں جن میں ممبر مماک کے نمائندے شامل ہوتے ہیں یہ جائزہ سیشنز فروری، جون اور اکتوبر میں ہوتے ہیں. لیکن اگر ان سبھی جائزہ سیشنز کے بعد بھی کوئی ملک FATF کے دیئے گئے ایکشن پلان پر عمل نہ کرسکے تو اس کو بلیک لسٹ کردیا جاتا ہے اور بین الاقوامی سطح پر اس ملک کے ساتھ لین دین اور برآمدات و درآمدات متاثر ہوجاتی ہیں ، آئی ایم اور ورلڈ بینک جیسی تنظیمات بھی اس ملک سے ہاتھ کھینچ لیتی ہیں وغیرہ وغیرہ.
    یہ تو تھیں پڑھی لکھی باتیں جو قوائد و ضوابط کا حصہ ہوتی ہیں یا ہیں لیکن آپ کو یہ بات جان کر بڑا تعجب ہوگا کہ اس وقت FATF کی گرے لسٹ میں پاکستان کے علاوہ جو ممالک شامل ہیں 90 فیصد دنیا ان کے نام تک بھی نہیں جانتی ہے اور FATF کی حالیہ بلیک لسٹ میں صرف دو ملک شمالی کوریا اور ایران شامل ہیں. یعنی بجز ان تین سرکردہ ممالک کے باقی ساری دنیا بہت شریف ہے. امریکہ جس نے وار آن ٹیرر کے نام پر ملکوں کے ملک اجاڑ دیئے، لاکھوں انسانوں کو قتل کیا، امریکن خفیہ ایجنسیاں جو دنیا بھر میں اپنے پنجے گاڑی بیٹھی ہیں وہ FATF کی نظر میں بالکل شریف ہیں. بھارت کہ جس کی مسلسل لابنگ اور کوششوں سے پاکستان FATF کا منظور نظر ٹھہرا ہے اس کی اپنی کیفیت دیکھیں تو ایک کلبوشن یادیو اور اس کی ٹیرر فنانسنگ کا سب سے بڑا ثبوت ہے جو اپنے مکمل نیٹ ورک کے ساتھ پکڑا گیا تھا اس کے علاوہ بھارت کی اپنی سبھی ہمسائیہ ریاستوں میں ٹیرر پھیلانے کے لیے کی گئی فنانسنگ بڑی پاک صاف ہے جو FATF کی پکڑ میں نہیں آتی.کشمیر میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی اور کشمیریوں کی نسل کشی FATF کے کسی قانون یا معیار کے نزدیک جرم نہیں ٹھہرتا جو اسے کلین چٹ دی ہوئی ہے.

    اور پاکستان جو امریکہ کی war on terror میں شامل ہونے کی غلطی کربیٹھا تھا اور تاحال اپنے ہی گلی محلوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے ہزاروں جانیں اس دہشت گردی کی نظر ہوچکی ہیں، پاکستان کی اکانومی کا بھٹہ اس دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بیٹھ چکا ہے اور دنیا بجائے پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کرکے پاکستان کو اس اکنامک کرائسز سے نکلنے میں مدد دینے کے پکڑ کر FATF کے کٹہرے میں بٹھا کر ڈو مور کی ایک لمبی فہرست تھما دی کہ جاؤ یہ یہ کام کرکے آؤ، فلاں فلاں بندے کو جکڑ کر سزاء دے کر آؤ کہ وہ اسلامی معاشی نظام کے تحت صدقے اور زکوٰة جیسی معمولی رقومات سے دنیا کا بہترین ریلیف کا نیٹورک چلا کر ہمارے سودی اور سامراجی نظاموں کے خلاف ایک صاف شفاف اسلامی نظام کیوں کھڑا کر رہے ہیں.
    پاکستان نے FATF کی ایما پر پاکستان میں جن افراد کو پکڑ کر سزاؤں سے نوازا ہے اور ان کے سبھی ادارے حتیٰ کے ایمبولینسز، ڈسپنسریز اور اسکولز تک اپنی تحویل میں لے لیے ہیں ان کو ماضی میں پاکستان کی عدالتیں بالکل کلیئر کرچکی ہیں اور دنیا بلکہ حتیٰ کہ اقوام متحدہ تک یہ مانتی اور جانتی ہے کہ ان افراد کا دہشت گردی سے کوئی لینا دینا نہیں ہے اور اب اس شخص کو جس کیس میں گیارہ سال قید بمع جرمانے کے سزاء سنائی گئی وہ کیس بھی بڑا دلچسپ ہے کہ ان پر کوئی دہشت گردی اور ٹیرر فنانسنگ وغیرہ کا جرم تو ثابت نہیں ہوسکا البتہ انہوں مساجد اور مراکز بنائے ہیں جو شاید دہشت گردی کے لیے استعمال ہوسکیں.
    لیکن FATF ہے کہ وہ ماننے کو تیار نہیں ہے اور اس نے پاکستان میں ڈو مور کی مزید لسٹ تھما کر جون تک وقت دے دیا ہے. تو صاف سمجھ آرہی ہے کہ FATF اور اس کے اسٹینڈرڈ بذات خود کوئی مسئلہ نہیں ہے بلکہ اس کے پیچھے اسٹیک ہولڈرز اور ان کے مفادات اصل ایشو ہیں. کیونکہ پاکستان نے اپنے بے گناہ لوگوں کو فقط اس لیے جیلوں میں بھیجا ہے اور کوئی جرم ثابت نہ ہونے پر بھی سزائیں سنائی ہیں لیکن دنیا اس کو ماننے کو تیار نہیں ہے. حالانکہ حافظ سعید وہ شخص ہیں جو کبھی امریکہ کے خلاف نہیں لڑے البتہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد ناٹو سپلائی پر ملک گیر کمپین کی تھی اور دوسری طرف جو لوگ براہ راست امریکہ سے لڑتے رہے امریکہ ان کو پھولوں کے ہار پہنا رہا ہے، گلبدین حکمت یار کا ریڈ کارپٹ استقبال ہوتا ہے، جس حقانی نیٹورک کے نام پر ساری دنیا پاکستان کو مطعون کرتی رہی اسی سراج الدین حقانی کا کالم نیویارک ٹائمز میں پبلش ہورہا ہے. افغانستان سے امریکہ کے نکلنے تک پاکستان کا FATF کی گرے لسٹ سے نکلنا مشکل معلوم ہوتا ہے اسی طرح پاکستان CPEC ایک ایسا جرم ہے پاکستان کو جو سامراجی طاقتوں کو ہضم نہیں ہورہا کچھ تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کو CPEC کی سزا بھی FATF کے چنگل میں جکڑ کر دی جارہی ہے.یہ دو بڑی اہم وجوہات سمجھ آتی ہیں جن پر عالمی طاقتیں پاکستان پر FATF کی گرے لسٹ اور بلیک ہونے کے خوف کی صورت پریشر برقرار رکھ کر کچھ لو اور کچھ دو کی مزید پالیسی چاہتی ہیں.
    محمد عبداللہ کے مزید بلاگز پڑھیں

    Muhammad Abdullah
    Muhammad Abdullah
  • ہم گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، چینی سفارتکار

    ہم گوادر میں پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر حملے کی سختی سے مذمت کرتے ہیں، چینی سفارتکار

    چینی سفارت کار لیجین زاؤ نے اپنے ٹویٹر بیان میں کہا کہ چینی سفارتخانہ پرل کانٹینینٹل ہوٹل گوادر میں دہشت گردانہ حملے کی سختی سے مذمت کرتا ہے، انکا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور دیگر سیکیورٹی اداروں کی جانب سے بہادرانہ کاروائی قابل تعریف ہے. ہم شہید اور زخمی سیکورٹی اہلکاروں کے خاندانوں سے اظہارِ ہمدردی کرتے ہیں.
    یاد رہے کہ آج بروز ہفتہ افطاری سے پرل کانٹینینٹل ہوٹل پر دہشت گردانہ حملہ کیا گیا جس میں ایک سیکورٹی اہلکار کی شہادت جبکہ دو زخمی ہوئے تمام سولینز کو بحفاظت نکال لیا گیا تھا بعد ازاں تین دہشتگرد بھی ہلاک کر دئے گئے تھے.