Baaghi TV

Tag: Crime

  • بورے والا میں ایک ہی رات  اکٹھی تین ڈکیٹی کی وارداتیں

    بورے والا میں ایک ہی رات اکٹھی تین ڈکیٹی کی وارداتیں

    بورےوالا کے تھانہ ساہوکا کے نواحی گاؤں 307/ای۔بی ڈوگراں والا میں نامعلوم چور ایک ہی رات میں چوری کی تین مختلف وارداتوں میں دو بکرے ، طلائی زیورات ، کپڑے ، موبائل فون و الیکٹرونکس کا سامان لے کر موقع سےپر فرار ہو گئے۔ پہلی واردات مقامی زمیندار محمد افضل ڈوگر ولد محمد علی ڈوگر کے گھر ہوئی جہاں نامعلوم چور دیوار پھلانگ کر گھر داخل ہوئے اور اس دوران رہائشی کمرہ میں رکھی سیف الماری و صندوقوں سے طلائی زیورات ، دس سوٹ کپڑے و سامان الیکٹرونکس چوری کر لے گئے جبکہ دوسری واردات میں نامعلوم چور مبارک علی ڈوگر کے احاطہ مویشیاں کی دیوار توڑ کر ایک بکرا اور ایک بکری چرالے گئے جبکہ تیسری واردات میں چور اسد ڈوگر ولد محمد رفیع ڈوگر کے احاطہ سے قیمتی موبائل فون چوری کر لے گئے۔ ابتدائی اطلاع پر مقامی پولیس تھانہ ساہوکا نے وارداتوں کی جگہ پر پہنچ کر شواہد اکٹھے کیے اور نامعلوم چوروں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

  • پولیس کے ظلم سے متاثرہ خاتون انصاف کے حصول کے لیے در بدر ماری ماری پھرنے لگی

    پولیس کے ظلم سے متاثرہ خاتون انصاف کے حصول کے لیے در بدر ماری ماری پھرنے لگی

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق دوسروں کو ظلم سےبچانے والی پولیس بھی ظالموں سےمل گئی، متاثرین انصاف کے لیے مارےمارے پھر رہےکہیں شنوائی نہیں ہو رہی، قانون کے رکھوالوں نے خود قانون کی دھجیاں بکھیر دیں۔ چادر چار دیواری کی عصمت بھی پامال کردی۔ تفصیلات کے مطابققصور کے علاقے منگل منڈی میں بچوں کی وجہ سے دو ہمسائیوں کا جھگڑا ہو جس میں کونسلر کہ جو جھگڑا کر رہا تھا اس نے فوراَ پولیس کو بلا لیا ،
    پولیس نے اس موقع پر کونسلر کے کہنے پر عبدالرشید کے گھر داخل ہو کر نہ صرف توڑ پھوڑ کی بلکہ بچوں اور خاتون کو تشدد کا نشانہ بھی بنایا، اس سلسلے میں گھر کے اندر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے فرج، ٹی وی اور فرنیچر کو نقصان پہنچایا اسی طرح عبدالرشید کی بیوی پر تشدد کیا اس کی رخسار پر تھپڑ مارے جس سے اس کی سماعت بھی متاثر ہو گئی، اس کے علاوہ جسمانی تشدد کر کے زخمی بھی کر دیا ۔اس کا موبائل بھی توڑ دیا، اس دوران محلے والوں یا کسی مرد کو اندر نہیں آنے دیا، الٹا یہ الزام لگایا کہ عبدالرشید کی بچے نے پولیس والوں پر حملہ کیا ہے جا میں پولیس والا زخمی بھی ہو گیا۔

    جس کے بعد پولیس نے متاثرین کے خلاف ایف آئی آر درج کر دی اور جان سے مارنے کی سنگین دفعات لگا کر بچوں کو حولات میں بند کر دیا، اس زیادتی پر متاثرین نے پولیس کے اعلیٰ افسران کے حاں بھی شکایت کی لیکن کچھ انصاف نہیں ملا، اسی طرح متاثرین نے وزیراعظم پورٹل پر بھی شکایت کی بھی کی اس پر ایکشن لیتے ہوئے انکوائری رپورٹ بھی کی گئی لیکن پولیس والوں کی زیادتی کا کچھ ازالہ نہیں کیا گیا۔ سبھی یہ کہتے ہیں آپ پر ظلم ہوا لیکن اس ظلم کا ازالہ نہیں کیا گیا ۔متاثرین نے ہر جگہ کوشش کی لیکن انصاف نہیں ملا۔