Baaghi TV

Tag: dance videos

  • عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    عالمی شہرت یافتہ اداکار،میزبان ضیاء محی الدین کا مختصر تعارف

    ضیاء محی الدین 20 جون 1933ء کو لائل پور (فیصل آباد) میں پیدا ہوئے۔ ان کا خاندان روہتک (ہریانہ) سے تعلق رکھتا تھا۔ انہوں نے ابتدائی زندگی قصور اور لاہور میں گزاری۔

    آپ وہ واحد ادبی شخصیت تھے جن کے پڑھنے اور بولنے کے انداز کو عالمی شہرت نصیب ہوئی اردو طنزو مزاح کے بادشاہ مشتاق احمد یوسفی نے ضیاء محی الدین کے بارے میں ایک جگہ لکھا تھا کہ ضیاء اگر کسی مردہ سے مردہ ادیب کی تحریر پڑھ لے تو وہ زندہ ہوجاتا ہے۔

    برطانیہ میں 1960ء میں عالمی شہرت یافتہ ادیب ایڈورڈ مورگن فوسٹر کے مشہور ناول ”A Passage to India“ پر بنے اسٹیج ڈرامے میں ضیاء محی الدین صاحب نے ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کر کے عالمگیر شہرت حاصل کی۔ انہوں نے اس ڈرامے میں ایسی شاندار اور باکمال پرفارمنس دی کہ شائقین حیرت زدہ رہ گئے۔
    اس کے علاوہ ان کے انگریزی ٹی وی ڈراموں میں ”ڈینجرمین، دی ایونجرز مین، ان اے سوٹ کیس، ڈیٹیکٹو، ڈیتھ آف اے پرنسس، دی جیول پرائڈ، ان دی کرائون اور فیملی“ سرفہرست ہیں۔

    ضیاء محی الدین نے اپنے فلمی سفر کا آغام 1962ء میں ہالی ووڈ کی مشہور زمانہ کلاسیکی فلم ”لارنس آف عریبیہ“ سے کیا تھا۔
    اس فلم میں انہوں نے عربی بدو کا کردار ادا کیا جسے عمر شریف اس بنا پر گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے کیوں کہ وہ غلط کنویں سے پانی پی لیتا ہے۔ اگرچہ انھوں نے اس فلم میں مختصر کردار ادا کیا لیکن یادگار پرفارمنس دی۔
    ان کی مشہور انگریزی فلموں میں ”خرطوم، دی سیلر فرام جبرالٹر، بمبئے ٹاکی اور پارٹیشن‘‘ بھی شامل ہیں۔

    1969ء اور 1973 ء میں انہوں نے پی ٹی وی سے ایک اسٹیج شو ’’ضیاء محی الدین شو‘‘ کا آغاز کیا اور بطور میزبان ایسی پرفارمنس دی کہ مقبولیت کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ اس پروگرام کے ذریعے انہوں نے اردو ادب کی توجیح و تشریح اور پاکستانیوں میں اردو زبان سے محبت بیدار کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے قوم کو احساس دلایا کہ اردو زبان دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے جس کے لہجے میں الہامی کیفیت ہے، اسی لیے ضیاء محی الدین کو اردو زبان کا سب سے حسین و دلکش لہجہ کہا جاتا تھا۔

    اس شو کی خصوصیت یہ تھی کہ اس کے اختتام پر وہ ایک منفرد ڈانس کیا کرتے تھے، جو شائقین کے دلوں کو بہت بھاتا تھا اس کے علاوہ انھوں نے پاکستان ٹیلی ویژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیاء کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سب سے نمایاں ہیں۔

    انہوں نے اردو زبان کے نایاب شاعر و فلسفی مرزا اسداللہ خان غالبؔ کے خطوط جس انداز میں پڑھے، اس سے بھی انہیں بہت شہرت ملی۔
    ضیاء محی الدین نے دو کتابیں ”دی گاڈ آف مائی ایڈولیٹری“ اور ”اے کیرٹ از اے کیرٹ: میموریز اینڈ ریفلیکشنز“ بھی تخلیق کی تھیں۔

    آپ کو 2003ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے ستارۂ امتیاز اور 2012ء میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا انہیں پیپلز پارٹی دور میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی اور 2004ء میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائریکٹر مقرر کیا گیا تھا۔

  • اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    اداکار،ہدایتکار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ادا کی جائے گی

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    باغی ٹی وی: ضیا محی الدین کی نماز جنازہ آج بعد نماز ظہر ڈیفنس فیز 4 میں امام بارگاہ یثرب میں ادا کی جائےگی۔

    گورنر پنجاب بلیغ الرحمان نے ضیاء محی الدین کے انتقال پر افسوس کااظہار کیا گورنر پنجاب نے کہا کہ ضیاء محی الدین لیجنڈ آرٹسٹ تھے-


    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، انھوں نے ریڈیو آسٹریلیا سے صداکاری کے کام کاآغاز کیا، بہت عرصے تک برطانیہ کےتھیٹر کیلئے کام کیا، برطانوی سنیما اور ہالی ووڈ میں بھی فن کے جوہر دکھائے، 50 کی دہائی میں لندن کی رائل اکیڈمی آف ڈراماٹک آرٹ سے اداکاری کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے اس فلم میں ایک یادگار کردار ادا کیا ضیامحی الدین براڈوے کی زینت بننے والے جنوبی ایشیا کےپہلے اداکار تھے 70 کی دہائی میں پی ٹی وی سےضیامحی الدین شو کے نام سے منفردپروگرام شروع کیا اور 1973 میں پی آئی اے آرٹس اکیڈمی کےڈائریکٹر مقرر کردیئےگئے۔

    جنرل ضیا الحق کے مارشل لا کے بعد ضیا محی الدین واپس برطانیہ چلےگئے90 کی دہائی میں مستقل پاکستان واپس آنےکا فیصلہ کیا، ضیام حی الدین نے انگریزی اخبار دی نیوزمیں کالم بھی لکھے، ضیامحی الدین کی کتاب”A carrot is a carrot” ایک مکمل ادبی شہہ پارہ ہے۔

    ضیامحی الدین کی خدمات کے اعتراف میں 2003 میں انھیں ستارہ امتیاز اور 2012 میں ہلال امتیاز سے نوازا گیا،ضیامحی الدین نے 2004 میں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹ کی بنیاد رکھی اور زندگی کے آخری لمحات تک نیشنل اکیڈمی آف پرفامنگ آرٹس کے سربراہ رہےضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

  • پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    پیر نصیر الدین نصیر:شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی

    دین سے دور نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں سب سے الگ بیٹھا ہوں

    پیر نصیر الدین نصیر

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    سید غلام نصیر الدین نصیر گیلانی
    دیگر نام:چراغ گولڑہ
    پیر صاحب گولڑہ شریف
    حضور نصیر ملت
    نصیرالدین اولیا
    پیدائش:14 نومبر 1949
    گولڑہ شریف،پاکستان
    وفات:13 فروری 2009ء
    گولڑہ شریف، اسلام آباد،پاکستان
    مذہب:سلام
    سلسلہ چشتیہ اور قادریہ قمیصیہ
    پیشرو:غلام معین الدین گیلانی
    جانشین:پیر سید نظام الدین جامی گیلانی
    پیر سید نجم الدین گیلانی
    پیر سید شمس الدین شمس گیلانی

    پیر نصیر الدین نصیر چشتی قادری قمیصی ایک شاعر ،ادیب، محقق ،خطیب ،عالم اور صوفی باصفا و پیر سلسلہ چشتيہ تھے۔ آپ اردو، فارسی اور پنجابی زبان کے شاعر تھے۔ اس کے علاوہ عربی، ہندی، پوربی اور سرائیکی زبانوں میں بھی شعر کہے۔ اسی وجہ سے انہیں ”شاعر ہفت زبان“ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
    حالات زندگی
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ پیر غلام معین الدین (المعروف بڑے لالہ جی) کے فرزند ارجمند اور پير مہر علی شاہ کے پڑپوتے تھے۔ آپ کی ولادت 14 نومبر 1949ء میں گولڑو شریف میں ہوئی۔ آپ گولڑہ شریف کی درگاہ کے سجادہ نشین تھے۔ پیر صاحب کا انتقال 13 فروری 2009ء کو ہوا آپ کا مزار گولڑو شریف میں مرجع خلائق ہے۔
    تصانیف و تالیفات
    ۔۔۔۔۔۔
    آپ ؒ کی 36 (چھتیس) سے زائد تصانیف ہیں جن میں چند ایک کے نام درج ذیل ہیں:
    ۔۔۔۔۔۔
    ۔ (1)آغوشِ حیرت(رباعیات فارسی)
    ۔ (2)پیمانِ شب (غزلیات اردو)
    ۔ (3)دیں ہمہ اوست (عربی، فارسی، اردو، پنجابی نعوت )
    ۔ (4)امام ابوحنیفہ اور ان کا طرزِ استدلال (اردو مقالہ)
    ۔ (5)نام و نسب(در بار سیادت پیران پیر )
    ۔ (6)فیضِ نسبت (عربی، فارسی، اردو، پنجابی مناقب)
    ۔ (7)رنگِ نظام ( رباعیات اردو )
    ۔ (8)عرشِ ناز (کلام در زبان فارسی و اردو و پوربی و پنجابی و سرائیکی )
    ۔ (9)دستِ نظر ( غزلیات اردو)
    ۔ (10)راہ و رسمِ منزل ہا (تصوف و مسائل عصری)
    ۔ (11)تضمینات بر کلام حضرت رضا بریلوی
    ۔ (12)قرآنِ مجید کے آدابِ تلاوت
    ۔ (13)لفظ اللہ کی تحقیق
    ۔ (14)اسلام میں شاعری کی حیثیت
    ۔ (15)مسلمانوں کے عروج و زوال کے اسباب
    ۔ (16)پاکستان میں زلزلے کی تباہ کاریاں، اسباب اور تجاویز
    ۔۔۔۔۔
    ۔ (17)فتوی نویسی کے آداب
    ۔ (18)موازنہ علم و کرامت
    ۔ (19)کیا ابلیس عالم تھا؟
    نمونہ اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    نمونہ اشعار فارسی
    ۔۔۔۔۔۔
    اے صاحبِ اسمِ پاک!مَن یـَنصُرُنِی
    دل ریشم و سینہ چاک،مَن یـَنصُرُنِی
    دستم اگر از فضل نہ گیری ربی
    مَن یـَنصُرُنِی سَوَاک!مَن یـَنصُرُنِی

    نمونہ اشعار اردو
    ۔۔۔۔۔۔
    دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
    تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

    ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
    مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

    بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
    مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

    غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
    محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

    یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
    آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

    عمرکرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
    جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

    میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
    سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

    نمونہ اشعار پنجابی
    ۔۔۔۔۔۔
    بے قدراں کج قدر نہ جانی کیتی خوب تسلی ھو
    دُنیا دار پجاری زر دے جیویں کُتیاں دے گل ٹلی ھو
    بُک بُک اتھرو روسن اکھیاں ویکھ حویلی کلی ھو
    کوچ نصیر اساں جد کیتا پے جاسی تھر تھلی ھو

    نمونہ اشعار عربی
    ۔۔۔۔۔۔
    یا مدرک احوالي
    قد تعلم واللہ ،ما يخطر في بالي

    الفخر له جازا
    من جاء علٰي بابك، قد نال و قد فازا

    نمونہ اشعار پوربی
    ۔۔۔۔۔۔ہم کا دِکھائی دیت ہے ایسی رُوپ کی اگیا ساجن ماں
    جھونس رہا ہے تن من ہمرا نِیر بھر آئے اَکھین ماں

    دُور بھیے ہیں جب سے ساجن آگ لگی ہے تن من ماں
    پُورب پچھم اُتر دکھن ڈھونڈ پھری مَیں بن بن ماں

    یاد ستاوے پردیسی کی دل لوٹت انگاروں پر
    ساتھ پیا ہمرا جب ناہیں اگیا بارو گُلشن ماں

    درشن کی پیاسی ہے نجریا ترسِن اکھیاں دیکھن کا
    ہم سے رُوٹھے منھ کو چُھپائے بیٹھے ہو کیوں چلمن ماں

    اے تہاری آس پہ ساجن سگرے بندھن توڑے ہیں
    اپنا کرکے راکھیو موہے آن پڑی ہوں چرنن ماں

    چَھٹ جائیں یہ غم کے اندھیرے گھٹ جائیں یہ درد گھنے
    چاند سا مکھڑا لے کر تم جو آنکلو مورے آنگن ماں

    جیون آگ بگولا ہِردے آس نہ اپنے پاس کوئی
    تیرے پریت کی مایا ہے کچھ اور نہیں مجھ نِردھن ماں

    ڈال گلے میں پیت کی مالا خود ہے نصیر اب متوالا
    چتون میں جادو کاجتن ہے رس کے بھرے تورے نینن ماں

  • بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد کی شاد کردینے والی باتیں

    پارسائوں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا

    عطا شاد
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    اصل نام :محمد اسحاق
    قلمی نام:عطا شاد
    تاریخ پیدائش :01 نومبر 1939ء
    تاریخ وفات:13 فروری 1997ء
    کوئٹہ، بلوچستان

    اردو اور بلوچی کے ممتاز شاعر اور ادیب عطا شاد 1 نومبر 1939ء کو سنگانی سرکیچ، مکران میں پیدا ہوئے تھے۔
    عطا شاد کا اصل نام محمد اسحاق تھا- 1962ء میں پنجاب یونیورسٹی سے گریجویشن کرنے کے بعد وہ پہلے ریڈیو پاکستان سے اور پھر 1969ء میں بلوچستان کے محکمہ تعلقات عامہ سے بطور افسر اطلاعات وابستہ ہوئے ۔ 1973ء میں وہ بلوچستان آرٹس کونسل کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے اور ترقی کرتے کرتے سیکریٹری کے عہدے تک پہنچے۔
    ان کی اردو شعری مجموعوں میں سنگاب اور برفاگ، بلوچی شعری مجموعوں میں شپ سہارا ندیم، روچ گر اور گچین اور تحقیقی کتب میں اردو بلوچی لغت، بلوچی لوک گیت اور بلوچی نامہ شامل ہیں۔ حکومت پاکستان نے انہیں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی اور ستارۂ امتیاز عطا کیا تھا۔
    13 فروری 1997ء کو عطا شاد کوئٹہ میں وفات پاگئے۔

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    بڑا کٹھن ہے راستہ جو آ سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی کا فاصلہ مٹا سکو تو ساتھ دو
    بڑے فریب کھاؤ گے بڑے ستم اٹھاؤ گے
    یہ عمر بھر کا ساتھ ہے نبھا سکو تو ساتھ دو
    جو تم کہو یہ دل تو کیا میں جان بھی فدا کروں
    جو میں کہوں بس اک نظر لٹا سکو تو ساتھ دو
    میں اک غریب بے نوا میں اک فقیر بے صدا
    مری نظر کی التجا جو پا سکو تو ساتھ دو
    ہزار امتحان یہاں ہزار آزمائشیں
    ہزار دکھ ہزار غم اٹھا سکو تو ساتھ دو
    یہ زندگی یہاں خوشی غموں کا ساتھ ساتھ ہے
    رلا سکو تو ساتھ دو ہنسا سکو تو ساتھ دو

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    پارساؤں نے بڑے ظرف کا اظہار کیا
    ہم سے پی اور ہمیں رسوا سر بازار کیا
    درد کی دھوپ میں صحرا کی طرح ساتھ رہے
    شام آئی تو لپٹ کر ہمیں دیوار کیا
    رات پھولوں کی نمائش میں وہ خوش جسم سے لوگ
    آپ تو خواب ہوئے اور ہمیں بیدار کیا
    کچھ وہ آنکھوں کو لگے سنگ پہ سبزے کی طرح
    کچھ سرابوں نے ہمیں تشنۂ دیدار کیا
    تم تو ریشم تھے چٹانوں کی نگہ داری میں
    کس ہوا نے تمہیں پا بستۂ یلغار کیا
    ہم برے کیا تھے کہ اک صدق کو سمجھے تھے سپر
    وہ بھی اچھے تھے کہ بس یار کہا وار کیا
    سنگساری میں تو وہ ہاتھ بھی اٹھا تھا عطاؔ
    جس نے معصوم کہا جس نے گنہ گار کیا

    غزل
    ۔۔۔۔۔
    دلوں کے درد جگا خواہشوں کے خواب سجا
    بلا کشان نظر کے لیے سراب سجا
    مہک رہا ہے کسی کا بدن سر مہتاب
    مرے خیال کی ٹہنی پہ کیا گلاب سجا
    کوئی کہیں تو سنے تیرے عرض حال کا حبس
    ہوا کی رحل پہ آواز کی کتاب سجا
    وہ کیا طلب تھی ترے جسم کے اجالے کی
    میں بجھ گیا تو مرا خانۂ خراب سجا
    تمام شب تھا ترا ہجر تیرا آئینہ گر
    تمام شب مرے پہلو میں آفتاب سجا
    نہ تو ہے اور نہ میں ہوں نہ وصل ہے نہ فراق
    سجا شراب سجا جا بجا شراب سجا
    عطاؔ یہ آنکھ دھنک منزلوں کی چاہ میں تھی
    چھٹا جو ابر گھنی تیرگی کا باب سجا

  • عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار ، اداکار اور میزبان ضیامحی الدین انتقال کرگئے

    عالمی شہرت یافتہ ہدایت کار ، اداکار اور میزبان ضیامحی الدین انتقال کرگئے

    کراچی:ممتاز اداکار ، ہدایت کار اور ٹی وی میزبان ضیا محی الدین 91 برس کی عمر میں انتقال کرگئے۔

    ضیا محی الدین 20 جون 1931 کو فیصل آباد میں پیدا ہوئے، ضیا محی الدین کےوالدکوپاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کےمصنف اورمکالمہ نگار ہونےکا اعزاز حاصل تھا۔

    ضیامحی الدین کو 1962 میں فلم لارنس آف عریبیہ میں کام کرنے کا موقع ملا،انھوں نے فلم لارنس آف عریبیہ میں ایک یادگار کردار ادا کیا۔

    ضیا محی الدین نے’ضیا محی الدین شو‘ کے نام سے ایک اسٹیج پروگرام کی میزبانی بھی کی۔حکومت نے ضیا محی الدین کو 2012 کو ہلال امتیازسے بھی نوازا ،

  • کیارا اور سدھارتھ کی ریسیپشن، مہمانوں کا خود استقبال کیا

    کیارا اور سدھارتھ کی ریسیپشن، مہمانوں کا خود استقبال کیا

    بالی وڈ اداکار سدھارتھ ملہوترا اور کیارا ایڈوانی کی حال ہی میں 7 فروری کو شادی ہوئی ، اس شادی میں ویسے تو بالی وڈ کے کئی فنکاروں نے شرکت کی لیکن ریسپیشن میں بھی بالی وڈ کی ایک بڑی تعداد نظر آئی. کیارا اور سدھارتھ نے اپنی ریسپیپشن ممبئی کے ایک شاندار ہوٹل میں رکھی جہاں ان دونوں نے خود مہمانوں کا استقبال کیا، جن بالی وڈ ستاروں نے اس تقریب میں شرکت کی ان میں سلمان خان، عالیہ بھٹ، رنبیر کپور، ورون دھون، بھوشن کمار، شاہد کپور، میرا کپور اور کرن جوہر سمیت متعدد دیگر کا نام شامل ہے. ان سب کو باقاعدہ طورپر کارڈز بھیجے گئے. یاد رہے کہ کیارا اور سدھارتھ بالی وڈ کی سب سے زیادہ پسند کی جانے والی جوڑیوں میں سے ایک

    ہیں ، دونوں کافی وقت سے ایک دوسرے کے ساتھ دوستی کے تعلق میں تھے اور ہر جگہ ایک ساتھ جاتے آتے تھے ، اچانک ہی انہوں اپنے چاہنے والوں کو ایک سرپرائز دیا اور وہ سرپرائز تھا ان دونوں کا شادی کے بندھن میں بندھنے کا فیصلہ. دونوں شادی کے بندھن میں بندھ چکے ہیں اور کافی خوش ہیں. کیارا اپنی شادی پر خاصی دلکش لگ رہیں تھیں، کیارا اور سدھارھ ایک ساتھ فلموں میں بھی کام کر چکے ہیں لہذا ریل لائف کی جوڑی رئیل لائف کی جوڑی بن گئی ہے.

  • عفت رحیم نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا بائیکاٹ کیوں کیا؟

    عفت رحیم نے پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا بائیکاٹ کیوں کیا؟

    کراچی آرٹس کونسل کے صدر احمد شاہ نے لاہور آرٹس کونسل میں تین روزہ ادبی میلہ سجایا اس میلے کا نام پاکستان لٹریچرفیسٹول تھا ، اس میں مختلف قسم کے سیشنز رکھے گئے اسلام آباد ، کراچی لاہور و دیگر شہروں سے بڑی تعداد میں شخصیات نے شرکت کی . اداکارہ و ماڈل عفت رحیم بھی اس فیسٹیول میں مدعو کی گئیں تھیں لیکن اچانک انہوں نے اس فیسٹیول کا بائیکاٹ کر دیا ، تفصیلات کے مطابق عفت رحیم نے اپنے ٹویٹر اکائونٹ پرلکھا کہ پاکستان لٹریچر فیسٹیول کا شکریہ جنہوں نے مجھے ایک ڈسکشن میں بطورماڈریٹر مدعو کیا میں‌بہت خوش تھی ، ایکسائٹمنٹ کا لیول بھی کافی زیادہ تھا، لیکن مجھے علم ہوا کہ #PLF نےایک مبینہ ہریسر کوبھی ایونٹ کاحصہ بنایاہے۔میں

    ایک Alleged Harasser کےساتھ پلیٹ فورم شئیرنہیں کرسکتی اس لیےبائیکاٹ کرتی ہوں.یوں عفت رحیم نے فیسٹیول کا بائیکاٹ کیا. عفت رحیم کا اشارہ علی ظفر کی طرف تھا، عفت رحیم دراصل اس کیس میں میشا شفیع کو سپورٹ کرتی ہیں انہوں نے علی ظفر کے خلاف ایک مہم بھی چلائی. عدالت میں ابھی کیس چل رہا ہے اور یہ ابھی تک ثابت نہیں ہو سکا کہ میشا شفیع کے الزامات میں سچائی ہے لیکن میشا شفیع کے چاہنے والے فیصلہ آنے سے پہلے ہی علی ظفر کو مجرم بنا کر بیٹھے ہوئے ہیں.

  • میرے بی گل کے ڈرامے زیادہ نہیں بکتے آمنہ مفتی نے ایسا کیوں کہا؟‌

    میرے بی گل کے ڈرامے زیادہ نہیں بکتے آمنہ مفتی نے ایسا کیوں کہا؟‌

    نوجوان نسل کی نمائندہ رائٹر آمنہ مفتی نے حال ہی میں کہا ہے کہ میرے اور بی گل کے ڈرامے کم بکتے ہیں ایسا ہونے کی وجہ بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہماری کہانیاں زرا سنجیدہ ہوتی ہیں ہم طلاق شادی افئیر کو کم ڈسکس کرتی ہیں. ہم ایشوز کو ڈسکس کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، ہمیں اگر طلاقوں افئیرزوالی کہانیاں لکھنے کو کہا جائے تو یقینا ہم نہیں لکھیں گے کیونکہ ہمارا یہ مزاج ہی نہیں‌ہے. آمنہ مفتی نے کہا کہ یہ سچ ہے کہ ڈرامے پر تنقید کرنا آسان ہے لیکن ڈرامہ لکھنا مشکل کام ہے. میں نے ہمیشہ کوشش کی ہے کہ ایسا لکھوں جو شائقین کو نہ صرف پسند آئے بلکہ اس میں کوئی پیغام بھی ہو. میں دیکھتی ہوں کہ آج کل ایک ہی طرح کی کہانیاں چل رہی ہوتی

    ہیں ، بعض اوقات تو شادی طلاق والی کہانیوں کی سٹوری کی بنت ایسی ہوتی ہے کہ سر پیٹ کر رہ جائیں، انہوں نے کہا کہ میں لکھتی رہوں گی لکھنا نہیں چھوڑوں گی اور جتنا بھی لکھوں گی اپنی شرائط پر ہی لکھوں گی مجھے خوشی ہے کہ میرے مداح میرے ڈراموں‌کو پسند کرتے ہیں. آمنہ نے یہ بھی کہا کہ میں اپنے سیئنرز کے کام کو دیکھتی ہوں اس سے سیکھتی ہوں آج تو ایسا رجحان ہی نہیں رہ گیا کہ اپنے سے سیئنرزکا کام دیکھ کر سیکھا جائے.

  • بنگالی لہجہ اپنانا آسان نہ تھا شمعون عباسی

    بنگالی لہجہ اپنانا آسان نہ تھا شمعون عباسی

    نامور اداکار شمعون عباسی جو مثبت اور منفی دونوں طرح کے کردار بخوبی نبھاتے ہیں اور ان کے مداح ان کو خوب پسند بھی کرتےہیں. حال ہی میں کامران شاہد کی ڈائریکشن میں تیار ہونے والی فلم ہوئے تم اجنبی کا ٹریلر جای کیا گیا ہے اس میں شمعون عباسی ایک بنگالی کے روپ میں نظر آرہے ہیں. اپنے کردار کے حوالے سے بات کرتے ہوئے شمعون نے ھال ہی میں کہا ہےکہ میں نے پہلے کبھی بنگالی نہیں بولی لہذا اس بولی کو بولنا اور لہجے کو اپنانا بہت مشکل کام تھا. لیکن فلم میں ، میں نے جیسی بنگالی بولی ہے اسکو دیکھ کر گمان ہوتا ہی نہیں کہ میں بنگالی بولنا نہیں جانتا. انہوں‌نے کہا کہ فلم میں میرا کردار بہت اہم ہے میں‌نے بہت محنت سے اس کردار کو نبھایا ہے . پاکستان

    میں ایسی فلمیں بہت کم بنتی ہے جیسی ہوئے تم اجنبی بنی ہے. میرے اس سال دو مزید پراجیکٹ ریلیز ہونے جا رہے ہیں امید ہے کہ شائقین میرے کام کو سراہیں گے. یاد رہے کہ شمعون عباسی ٹی وی اور فلم دونوں میڈیم میں کم کم دکھائی دے رہے ہیں ان کا کہنا ہے کہ جب دل کو کوئی چیز لگتی ہے کر لیتا ہوں جب نہیں‌لگتی تو میں گھر بیٹھا رہتا ہوں .

  • نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    نور الہدی شاہ نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا؟‌

    سینئر رائٹر نورالھدی شاہ جنہوں نے پی ٹی وی کے سنہرے دور میں شاہکار ڈرامے لکھے. انہوں نے حال ہی میں لاہور میں ہونے والے پاکستان لٹریچر فیسٹیول میں شرکت کی. اس میں ان کے لئے ایک سیشن رکھا گیا جب ان سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ڈرامہ لکھنا کیوں چھوڑا ، تو انہوں نے جواب دیا کہ جب ہم سے لکھوانا چھوڑ دیا گیا تو ہم نے بھی لکھنا چھوڑ دیا. ہاں جس طرح کی کہانیاں آج لکھی جا رہی ہیں اور جس طرح سے اس میں مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ شامل ہوتا ہے وہ چیز ہمارے لئے قابل قبول نہیں ہے. ویسے بھی ہم جو لکھتے ہیں وہ چینلز چلانے میں دلچسپی نہیں

    رکھتے صاف کہہ دیتے ہیں کہ ڈرامہ ایسے نہیں ایسے لکھیں بھئی ہم نے تو موضوعات کو ڈراموں میں ڈسکس کرنا سیکھا اور ہم پیار عشق محبت افئیر اور طلاق کے گرد گھومتی ہوئی کہانیاں‌ نہیں‌ لکھ سکتے. اس کے باوجود ہمیں‌کسی سے کوئی گلہ شکوہ نہیں ، جب ایک کام جو کیا جا رہا ہے وہ ہمیں پسند نہیں‌وہ ہم کیوں‌کریں یا کیوں ناراضگی کااظہار کریں ہم خاموش ہی اچھے. اس لئے ہم خاموش بھی ہیں اور ایک سائیڈ پر بھی ہیں. یاد رہے کہ نورالہدی شاہ کی تحریروں کو شائقین دیوانہ وار پسند کرتے تھے.