Baaghi TV

Tag: dance videos

  • ترکی میں زلزلے کی تباہی پر فنکار پریشان

    ترکی میں زلزلے کی تباہی پر فنکار پریشان

    اداکارہ و ماڈ ل آمنہ الیا س نے ترکی میں حولناک اور ہلا کر رکھ دینے والے زلزلے پر کہا ہےکہ بہت ہی افسوسناک خبر ہے جو ہمارے برادر ملک سے ہمیں مل رہی ہے. اس زلزلے میں کئی انسانی جانیں دنیا سے چلی گئی ہیں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے. کئی لوگ زخمی ہوئے ہیں . میں ان سب کے لئے دعا گو ہوں خصوصی طور پر ان لوگوں کے اہلخانہ کے لئے دعا گو ہوں جن کے پیارے ان سے بچھڑ گئے اللہ ان کو صبر عطا کرے اور وہ اس ٹروما سے جلد باہر آسکیں. اداکارہ میرا نے کہا کہ یہ اللہ کی طرف سے ایک آفت آئی جس میں ہلاکتیں ہوئیں. اللہ سے بس ڈرتے ہی رہنا چاہیے ، جب یہ آفت آئی یقینا بہت سارے لوگ سو رہے تھے وہ اسی حالت میں اللہ کے پاس چلے گئے. رونگھٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ایسی آفت

    دیکھ کر . مجھے سمجھ نہیں آتی کہ دنیا کس طرف جا رہی ہے اللہ کے یہ کام ہیں کیا کہہ سکتے ہیں مجھے بہت افسوس ہے اور میری بہت ساری دعائیں ہیں اللہ ترکی میں تباہی کی نذر ہونے والوں کو نارمل زندگی کی طرف دوبارہ جلدی لیکر آئیں. ماڈل و اداکارہ ریچل گل نے کہا کہ اللہ کی طرف سے یہ بڑی آفت اور قیامت تھی جو ہمارے برادر ملک پر ٹوٹی ہے. ترکی میں بہت بڑی تعداد میں جانوں کا نقصان ہوا ہے اللہ ان کی فیملیوں کو یہ صدمہ برداشت کرنے کی توفیق عطا فرمائیں ہم یہاں بیٹھ کر اپنے بہن بھائیوں کے لئے دعا ہی کر سکتے ہیں.

  • پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل

    نثار عزیز بٹ

    7 فروری 2020 یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    پاکستان کی ترقی پسند ادیبہ اور ناول نگار نثار عزیز کاکا خیل جنوری 1927 میں مردان میں پیدا ہوئیں۔ ان کی مادری زبان پشتو تھی مگر وہ انگلش، اردو ، فارسی اور فرنچ زبان پر بھی عبور تھا۔ پشاور میں میٹرک کے بعد پنجاب یونیورسٹی لاہور سے گریجویشن کیا ۔ والدین کی سختی اور مخالفت کے باوجود ادبی سرگرمیوں میں حصہ لینا شروع کر دیا 1951 میں برقعہ پہن کر ریڈیو پاکستان پشاور اسٹیشن پہنچ گئیں اور ریڈیو کے پروگرام میں حصہ لیا۔ جس کے بعد وہ ریڈیو سمیت مختلف ادبی پروگرامز میں شریک ہوتی رہیں جبکہ ناول لکھنا بھی شروع کر دیا ۔

    1954 میں اپنے خاندانی روایات سے بغاوت کرتے ہوئے اپنی برادری میں شادی کرنے کی بجائے صحافی اور ڈرامہ نگار اصغر بٹ سے لاہور میں شادی کی ۔ اصغر بٹ سے شادی کے بعد وہ نثار عزیز کاکا خیل کی جگہ نثار عزیز بٹ بن گئیں۔ وہ نامور پاکستانی سیاستداں سرتاج عزیز کی بڑی بہن تھیں۔ نثار عزیز بٹ کے 4 ناول اور ایک آپ بیتی کی کتاب شائع ہوئی۔ ان کی تصانیف درج ذیل ہیں ۔

    1: نگری نگری پھرا مسافر 2: نے چراغے نے گلے 3: کاروان وجود 4: دریا کے سنگ اور ایک آپ بیتی ” گئے دنوں کا سراغ ” شامل ہے ۔ نثار عزیز بٹ کی تمام عمر جمہوریت کی بحالی اور آمریت کے خاتمے کیلئے جدوجہد کرتے گزری ۔ 7 فروری 2020 میں ان کی وفات ہوئی۔

  • چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    چی این لونگ:ایک شہنشاہ اور فاضل، ادیب، عالم، نامور جرنیل بھی

    پیدائش:25 ستمبر 1711ء
    بیجنگ
    وفات:07 فروری 1799ء
    بیجنگ
    مدفن:مشرقی چنگ مقابر
    شہریت:چنگ سلطنت
    اولاد:نسل
    مناصب
    شہنشاہ چین
    برسر عہدہ
    08 اکتوبر 1735- 9 فروری 1796ء

    چی این لونگ ایک شہنشاہ ہوتے ہوئے فاضل، ادیب، عالم اور نامور جرنیل تھا۔ اس کے عہد میں چین آزاد اور اقتدار کا ممتاز مظہر تھا۔ اس کا دور امن و امان کا حامل تھا۔ اس کی موت کے بعد شاہی کو ایسا زوال آیا کہ وہ ہمیشہ کے لیے ختم ہو گئی اور جمہوریت نے جنم لے لیا۔
    ابتدائی حالات
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ یونگ چینگ کا ولی عہد تھا جو حرم کے ایک خواص کی بطن سے پیدا ہوا تھا۔ اس کی ابتدائی زندگی مطالعہ اور تحقیقات میں گزری۔ اس کو امور سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔ وہ حکومت کے نظم و نسق کی طرف کوئی توجہ نہیں دیتا تھا۔ اس کے علمی شوق اور افضیلت نے اسے دور دور تک مشہور کر رکھا تھا۔ وہ تصنیف، تالیف یا تحقیق میں اس قدر محو تھا کہ اسے عوام حالات تک معلوم نہیں تھے۔
    تخت نشینی
    ۔۔۔۔۔۔
    جب چی این لونگ کے باپ کا انتقال ہوا تو اس کی عمر پچیس سال تھی۔ امرائے حکومت نے اسے مجبور کیا کہ وہ امور سلطنت کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ اس نے جواب میں کہا کہ کسی ملک کی حکمرانی بڑی ذمہ داریوں کا کام ہے۔ جو اعلیٰ روایات ہمارے اسلاف نے قائم کی انہیں ایک آن کے ساتھ لیکر آگے بڑھنا تا کہ ملک ترقی کر سکے۔ عوام کے حقوق کی حفاظت اور بیرونی اقوام کے حملوں سے مادر وطن کا تحفظ ایسی ذمہ داریاں ہیں جسے شاید میں اچھی طرح سے انجام نہ دے سکوں۔ چی این لونگ کا یہ جواب وزرائے سلطنت کو اس قدر پسند آیا کہ وہ اس کی تخت نشینی پر زور دینے لگے۔ وزراء نے چی این لونگ کو آخر مجبور کر دیا کہ وہ تخت و تاج کی ذمہ داریاں سنبھال لے۔ چنانچہ لنگ 1735ء میں تخت نشین ہوا۔ تخت نشینی کے بعد اس نے چار اتالیق مقرر کیے جو اسے امور سیاست سے واقف کراتے تھے۔
    یورپی مبلغین
    ۔۔۔۔۔۔
    علحدگی پسند چینی یہ نہ چاہتے تھے کہ مسیح اور دوسرے مذاہب کے داعی چین میں آ کر اپنے مذہب کا پرچار کریں جس وجہ سے چینی مذہب اور اس کی انفرادیت کو ٹھیس پہنچے۔ یہ نفرت انگیز اور کشیدہ جذبات چی این لونگ کے دادا کے زمانے سے پرورش پا رہے تھے۔ اس طویل عرصے میں یورپ کے مشزیز اپنے اثرات کو وسیع اور ہمہ گیر بنا رہے تھے۔ چی این لونگ نے امتناعی احکامات نافذ کر دیے کہ غیر مذاہب کی تبلیغ کو فوراً ختم کر دیا جائے۔ مبلغین جو تبلیغ کے علاوہ ایک سیاسی مقصد بھی رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ان پابندیوں کی پروا نہیں کی اور اپنا کام جاری رکھا۔ جب چی این لونگ کو قانون کی خلاف ورزی کی اطلاع ملی تو اس نے ان مبلغین کو سخت ترین سزائیں دلوایں جو قانون کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ یہ کشمکش اس وقت شدید ترین ہو گئی جب جزائر فلپائن کے چینی باشندوں کو ہسپانوی باشندوں نے مسیحیت قبول نہ کرنے پر سخت سزائیں دیں گئی۔ اس کی خبر جب چین پہنچی تو چی این لونگ نے حکم دیا کہ ہسپانوی تبلیغ گھر جو چین میں تعمیر ہے سب کو مسمار کر دیا جائے۔ اس کے علاوہ ہسپانوی مبلغین کو قتل کرنے کا حکم بھی دیا جس کی وجہ سے ہسپانوی مبلغین کو چن چن کر قتل کیا گیا۔
    یورپی تاجر
    ۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ مسیحیت اور مغربی اقوام کا سخت دشمن تھا اس نے تبلیغ مسیحیت کو حددود چین میں ممنوع قرار دیا تھا۔ بیرونی تاجروں پر کڑی نگرانی کا انتظام کر رکھا تھا۔ بندرگاہوں پر ایک خاص عہدہ دار جو ہوپو کے نام سے بھی مشہور ہے کا تقرر کیا گیا جو درآمدات اور برآمدات پر نگرانی کرتا۔ تاجروں پر سختیاں اور پابندیوں کو دیکھ کر جارج سوم شہنشاہ انگلستان نے چی این لونگ کے دربار میں اپنے قاصد میکارٹنی کو بھیجا۔ مگر چی این لونگ نے میکارٹنی کو بے نیل و مراد لوٹنے پر مجبور کر دیا تھا۔ ان ناکامیوں کا حل مغربی اقوام نے عجیب و غریب نکالا۔ ان لوگوں نے کثیر مقدار میں افیون کی درآمد شروع کر دی۔ چینیوں میں افیون کے اس شدید استعمال نے اخلاقی و مالی نقصانات پیدا کر دیے۔ مانچو حکمرانوں نے افیون کی تجارت ختم کرنے کے لیے موت کی سزا مقرر کر دی تھی۔ جس کی انتہا یہ ہوئی کہ افیون کی تجارت کی وجہ سے بیرونی اقوام اور چین میں 1841ء میں جنگ بھی ہوئی جس میں چین کو شکست ہوئی۔
    وسط ایشیا کے جنگجو
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرادر چین کی آزادی اور امن کے لیے مستقل خطرہ تھے۔ چین کی سیاست میں جب کبھی انحاط دیکھتے چین پر حملہ کر دیتے۔ چی این لونگ نے اس خطرے کو پوری طرح محسوس کیا اور یہ طے کیا کہ چین کے مستقل اس خطرے کے ارتفاع سے امن کی ایک ضمانت دلائی جائے۔ چنانچہ چی این لونگ نے کثیر ترفیت یافتہ فوج تیار کی اور مناسب موقع کا انتظار کیا۔ وقت کا انتظار اس لیے کیا جا رہا تھا کہ وسط ایشیا بے امنی، قتل اور غارت گری کا ایک خونی مرکز تھا۔ چی این لونگ سے بیشتر شاہان چین کی یہ جرات نہ ہو سکی تھی کہ وہ اس بارود خانے میں چنگاری پھینکیں۔ چی این لونگ نے موافق موسم میں مناسب حالات کے ساتھ ایک کثیر فوج لے کر وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں پر حملہ کر دیا۔ اس خون ریز لڑائی میں چی این لونگ کو فتح نصیب ہوئی اور تمام سرداروں کو اس نے زیر نگین کر لیا۔ اس مہم میں خاشگر، یارقند، خوقند اور سارا وسط ایشیا تسخیر کر لیا گیا۔
    سلطنت میں وسعت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    وسط ایشیا کے جنگجو سرداروں کو زیر نگین کرنے کے بعد چی این لونگ نے 1768ء میں برما پر حملہ کر دیا تھا۔ یہ جنگ چار سال تک جاری رہی۔ اس جنگ میں چینی فوجیں برما کے دار الحکومت تک تو نہیں پہنچ پائی لیکن چین کی سیادت کو حکومت برما نے تسلیم کر لیا تھا۔ اس کے بعد 1792ء میں چینی افواج نے نیپال پر حملہ کیا تھا۔ اس لڑائی میں چین کو فتح حاصل ہوئی تھی۔ شہنشاہ چی این لونگ کی سلطنت کی حدود افغانستان اور ہندوستان کے قریب قریب تک پھیلی ہوئی تھی۔
    دستبرداری
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کو 1795ء میں دستبردار ہونا پڑا کیونکہ چینی قانونی کے لحاظ سے کوئی بھی بادشاہ ساٹھ سال سے زیادہ عرصہ حکومت نہیں کر سکتا تھا۔دستبرداری کے بعد بھی چی این لونگ امور سلطنت کی نگرانی کرتا رہا۔
    دور حکومت
    ۔۔۔۔۔۔۔
    چی این لونگ کا دور فتوحات سے قطع نظر اندرونی طور پر امن و امان کا حامل تھا۔ غریبوں اور کسانوں کی فلاح کے لیے کئی قوانین بنائے۔ چی این لونگ چین کا وہ عالم، مدبر، فن کار اور جنگجو فرمانروا ہے جس نے اپنی قابلیت سے چین کی علمی اور سیاسی زندگی میں بیش بہا اور گرانقد اضافے کیے۔ چی این لونگ چین کا آخری فرمانروا ہے جو چین کی عظمت و جلال کا ایک ممتاز مظہر تھا۔

  • چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    چارلس ڈکنز:انگلستان کا مشہور ناول نویس

    پیدائشی نام:Charles John Huffam Dickens
    پیدائش:07 فروری 1812ء
    وفات:09 جون 1870ء
    وجۂ وفات:دماغی جریان خون
    مدفن:ویسٹمنسٹر ایبی
    طرز وفات:طبعی موت
    شہریت:متحدہ مملکت برطانیہ عظمی و آئر لینڈ
    مملکت متحدہ
    مادری زبان:انگریزی

    چارلس ڈکنز یا چارلز ڈکنز (انگریزی: Charles Dickens) انگلستان کا مشہور ناول نویس تھا۔ چارلس ڈکنز 07فروری 1812ء کو لینڈ پورٹ برطانیہ میں پیدا ہوا۔ بچپن میں نامساعد حالات سے گزرا۔ جس کی جھلک اس کے ناول اولیور ٹوسٹ اور ڈیوڈ کاپر فیلڈ میں ملتی ہے۔ عملی زندگی کا آغاز ایک وکیل کے منشی کی حیثیت سے کیا۔ بعد ازاں شارٹ ہینڈ سیکھ لی اور ایک اخبار کا رپورٹر ہو گیا۔ ان دونوں ملازمتوں میں ڈکنز کو وہ سب مواد دستیاب ہوا جو بعد میں اس نے اپنے ناولوں میں استعمال کیا۔ 1836ء میں ادبی زندگی کا آغاز کیا ماہنامے میں قسط وار داستان Pickwick Papeers لکھ کر کیا جو بہت مقبول ہوئی۔ 1842ء میں امریکا کا دورہ کیا۔
    ہندستان میں 1857ء کی جنگ آزادی (جسے برطانوی غدر کہتے ہیں) میں مقامی آبادی کو شکست کے بعد انگریزی تادیبی کارروائیوں پر ڈکنز کا بیان:
    I wish I were commander-in-chief in India … I should proclaim to them that I considered my holding that appointment by the leave of God, to mean that I should do my utmost to exterminate the race.
    وفات
    ۔۔۔۔۔۔
    09 جون 1870ء کو اُس کا کینٹ برطانیہ میں انتقال ہو گیا۔

  • کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کی شادی ہو گئی

    کیارا ایڈوانی اور سدھارتھ ملہوترا کی شادی ہو گئی

    ایک طویل انتظار کے بعد آخرکار وہ دن آ گیا ہے جب سدھارتھ ملہوترا اور کیارا اڈوانی زندگی بھر کے لئے ایک دوسرے کے ہوگئے ہیں. ایک وڈیو سوشل میڈیا پر سرکولیٹ کررہی ہے جس میں ہم گھوڑے کو اس کے مالکان اور کچھ ارکان کے ساتھ سوریہ گڑھ محل سے باہر نکلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ جب صحافیوں نے شادی کے بارے میں گھوڑے کے مالکان سے پوچھا تو انہوں نے جواب دیا کہ شادی ہو گئی ہے. ایک اور ویڈیو میں ہم محل کے عملے کے ایک رکن کو گلابی یونیفارم پہنے اور مٹھائیوں کی ٹوکری پکڑے باہر نکلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھاکہ شادی بخیر و

    خیریت ہو گئی ہے اس نے یہ بھی بتایا کہ سدھارتھ ملہوترا اور کیارا ایڈوانی دونوں نے سلور رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے تھے۔یوں کیارا اور سدھارتھ جن کی شادی کی خبریں گزشتہ برس سے چل رہی تھیں وہ اب سچ ہو گئی ہیں کیونکہ اب کیارا اور سدھارتھ کی شادی ہو چکی ہے. شادی کو دھوم دھام سے کیا گیا ہے. شادی کے انتظامات ایسے رکھے گئے کہ جن کو دیکھ کر آنکھیں دنگ رہ جائیں. یاد رہے کہ سدھارتھ اور کیارا کی دوستی ایک عرصے سے چلی آرہی تھی دونوں ہی بالی وڈ کے بہترین اور کامیاب اداکار ہیں.

  • سعودی عرب کی معروف بزنس ویمن راکھی کے حق میں کھڑی ہو گئیں عمرہ کے لئے بلوا لیا

    سعودی عرب کی معروف بزنس ویمن راکھی کے حق میں کھڑی ہو گئیں عمرہ کے لئے بلوا لیا

    سعودی عرب کی مشہور اور جانی مانی میڈیا شخصیت اور بزنس ویمن سمیرا عزیز نے ایک وڈیو پیغام جاری کرکے کہا ہے کہ راکھی میں نے آپ کی کچھ وڈیوز دیکھی ہیں آپ بے حد پریشان ہیں. اپنی شادی بچا رہی ہیں یہ ایک اچھی عورت کی علامت ہے. آپ نے ایک وڈیو میں‌عمرہ کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، میں آپ کو دعوت دیتی ہوں کہ آپ عمرہ کرنے کے لئے آئیں آپ میری مہمان ہوں گی. انہوں نے اپنی وڈیو میں یہ بھی کہا کہ دکھ درد تکلیفیں آتی رہتی ہیں ان کو صبر و تحمل سے برداشت کرنا چاہیے اور دانشمندی کے ساتھ اپنے رشتے کو چلانا چاہیے. میں جتنا راکھی

    کو سمجھی ہوں وہ شوخ و چنچل ضرور ہیں لیکن دل کی بری نہیں ہیں. ان کے ساتھ یہ سب ہو رہا ہے اس چیز کی ہمیں بہت تکلیف ہے. ایک عورت ہی دوسری عورت کے دکھ درد اور تکلیف کو سمجھ سکتی ہے. میں آپ کے ساتھ کھڑی ہوں. آپ سعودی عرب آئیں میں جدہ کے قریب رہتی ہوں . اور عادل کو اپنا گھر بچانا چاہیے وہ راکھی کو سمیٹیں اس وقت راکھی بہت منشتر ہے اور اپنے وعدے پورے کریں ایک اچھے مرد کی یہی علامت ہے کہ وہ اپنے وعدے پورے کرتا ہے اپنی بیوی کو عزت دیتا ہے.

  • عادل راکھی کو مارتا تھا ،اسکو دھوکہ دے رہا تھا ہم بے خبر تھے راکھی کے بھائی کا بیان

    عادل راکھی کو مارتا تھا ،اسکو دھوکہ دے رہا تھا ہم بے خبر تھے راکھی کے بھائی کا بیان

    راکھی ساونت جن کی شکایت پر پولیس نے ان کے شوہر عادل درانی کو حراست میں لے رکھا ہے اس سے پوچھ گچھ جاری ہے. اب راکھی کی حمایت میں ان کے بھائی بھی کھڑے ہو گئے ہیں انہوں نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا ہے کہ راکھی کے ساتھ یہ سب ہو رہا تھا ہمیں‌بالکل نہیں پتہ تھا ، ہمیں تو اس دن پتہ چلا جب ہماری ماں کا انتقال ہوا ، راکھی ہمارے سامنے پھوٹ پھوٹ کر روئی اس نے تشدد کے نشانات دکھائے ، عادل نے راکھی کے ساتھ جانوروں جیسا سلوک کیا. راکھی نے سچے دل سے عادل کے ساتھ محبت کی اور پھر شادی کی وہ اس کے ساتھ گھر بسانا چاہتی تھی لیکن عادل اسکو مسلسل دھوکہ دے رہا تھا.عادل راکھی کے پیسے کھا گیا زیور چوری کر لیا.

    عادل کو اگر یہ تعلق نہیں نبھانا تھا تو وہ شادی نہ کرتا کیوں راکھی کی زندگی کو برباد کیا، شرم آنی چاہیے. راکھی نے عادل کی خاطر اسلام تک قبول کر لیا. اس لئے ہندو مسلمان کے ایک ہونے پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں. ہم راکھی کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں. راکھی کو انصاف ملنا چاہیے. جب ہمیں راکھی کے معاملات پتہ چلے تو ہم نے اسکو کہا کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں تم فکر نہ کرو ہماری طرف سے تمہیں‌ کوئی کچھ نہیں کہے گا اور ہم راکھی کے ساتھ کھڑے ہیں.

  • سدھارتھ اور کیارا کی شادی میں شاہد کپور اور کرن جوہرکی پرفارمنس

    سدھارتھ اور کیارا کی شادی میں شاہد کپور اور کرن جوہرکی پرفارمنس

    فلم شیرشاہ کے سیٹ پر ایک دوسرے سے محبت کرنے والے سدھارتھ ملہوترا اور کیارا ایڈوانی آج جیسلمیر کے سوریہ گڑھ پیلس میں شادی کے بندھن میں بندھ رہے ہیں. گزشتہ رات ان دونوں‌ کا سنگیت رکھا گیا. اس میں جہاں بالی وڈ‌ کے دیگر سٹارز نے پرفارمنس دی وہیں شاہد کپور اور کرن ارجن نے ایک خاص قسم کی پرفارمنس دی. کرن اور شاہد کی ڈانس پرفارمنس کو بہت زیادہ پسند کیا گیا. اس سنگیت میں وکی کوشل اور کترینہ کیف نے بھی شاندار قسم کی پرفارمنس دی . ان سب نے انگریزی اور ہندی گانوں پر پرفارم کیا. سنگیت میں رانجھا، من بھرایا، کبھی تمہیں، تیرا بن جاؤں گا، کہو نا، مہندی لگاکے رکھنا، ساجن جی، اور پٹیالہ پیگ جیسے گانے چلائے گئے۔ کیارا اور سدھارتھ کی شادی میں بالی وڈ‌کی اہم شخصیات بڑی تعداد میں شرکت کر رہی ہیں.

    یاد رہے کہ کیارا اور سدھارتھ کی شادی کی پہلے تاریخ رواں ماہ کی 6 تاریخ رکھی گئی تھی لیکن بعض وجوہات کی بناء پر انکی شادی کی تاریخ 7 فروری رکھی گئی اور آج یہ دونوں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ایک ہوجائیں گے. کہا جا رہا ہے کہ کیارا کی فیملی نے سنگیت میں خوب رنگ جمایا اور سدھارتھ چونکہ پنجابی فیملی سے ہیں لہذا انہوں نے پنجابی گانوں‌پر ڈانس کیا.

  • کیسے سینز کرنے سے پہلے روینہ ٹنڈن شرائط رکھتی تھیں؟ اداکارہ نے بتا دیا

    کیسے سینز کرنے سے پہلے روینہ ٹنڈن شرائط رکھتی تھیں؟ اداکارہ نے بتا دیا

    روینہ ٹنڈن کا شمار 90 کی دہائی کی سب سے مشہور اداکاروں میں ہوتا ہے ان کو مرکزی کرداروں کے لئے جانا جاتا ہے. ان کی مشہور فلموں میں‌ پتھر کے پھول ، انداز اپنا اپنا، دلہے راجہ، اناڈی نمبر 1 ، دل والے اور مہرا و دیگر کے نام شامل ہیں. ان کی خدمات کے اعتراف میں انہیں حکومت ہند کی جانب سے پدم شری ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔روینہ ٹنڈن تقریباً تین دہائیوں سے شائقین کے دلوں پر راج کررہی ہیں.انہون نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مختصر لباس پہننا، بوسہ کرنا اور ریپ کے سینز اگر ان کی کسی فلم میں‌ہوتے تو وہ ان کو سوچ سمجھ کر کرتیں اور ایسے سینز کرنے سے پہلے ڈائریکٹر کے سامنے اپنی شرائط رکھا کرتی تھیں . اور انہی شرائط کی وجہ سے انہیں فلم میکرز نے مغرور کہنا شروع کر دیا تھا،

    اسی وجہ سے کئی فلموں سے ہاتھ بھی دھونا پڑے.انہوں نے کہا کہ مجھے کرشمہ کپور کی فلم پریم قیدی آفر ہوئی تھی لیکن اس میں ہیرو کے ساتھ ایک ایسا سین تھا کہ جو میں نہیں‌کر سکتی تھی اس لئے اس فلم کو کرنے سے منع کر دیا. روینہ ٹنڈن نے کہا کہ میں نے کام اپنی شرائط پر کیا اور مجھے اس چیز کا بالکل بھی پچھتاوا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ میں نے فلموں میں سوئمنگ سوٹ نہیں‌ پہنے نہ ہی بوس و کنار کیے میں ایسا کرنے میں آسانی محسوس نہیں‌کرتی تھی.

  • آڈٰینز نے کبھی بھی سینما کا بائیکاٹ نہیں انوپم کھیر

    آڈٰینز نے کبھی بھی سینما کا بائیکاٹ نہیں انوپم کھیر

    فلم پٹھان جس نے باکس آفس پربہت بڑی کامیابی حاصل کی ہے سدھارتھ آنند کی ڈائریکشن میں‌بننے والی اس فلم سے ثابت ہو گیا ہے کہ اگر اچھی فلم بنی ہو تو شائقین سینما گھروں کا رخ ضرور کرتےہیں. فلم پٹھان کی کامیابی پر بات کرتے ہوئے انوپم کھیر نے کہا ہے کہ اچھی فلمیں بنا کر ہی شائقین کو سینما کی طرف واپس لایا جا سکتا ہے . انہوں نے کہا کہ بائیکاٹ کا ٹرینڈ‌کسی بھی فلم پر اثر انداز نہیں‌ہو سکتا .اگر اچھی بنی ہو گی فلم تو بائیکاٹ ٹرینڈ اپنی موت آپ مر جائے گا. انہوں نے کہا کہ پٹھان کو جس طرح سے لوگوں نے پذیرائی دی ہے اس کے بعد نہ صرف بائیکاٹ ٹرینڈ چلانے والوں کی ھوصلہ شکنی ہوئی ہے بلکہ بائیکاٹ ٹرینڈ نے دم توڑ دیا ہے. انوپم نے یہ بھی کہا کہ کورونا کے بعد شائقین کا سینما آنے کا

    رجحان بالکل ختم ہو گیا تھا لہذا ان کو سینما گھروں میں واپس لانے کے لئے اچھی اور ان کے مزاج کے مطابق فلمیں بنانا درکار ہے جس میں پٹھان کامیاب ہو گئی ہے. یاد رہے کہ پٹھان ابھی تک کی اس سال کی سب بڑی ہٹ ہے اور شاید اس فلم کا ریکارڈ اگلے کئی سال تک نہ ٹوٹ سکے. اس فلم کی کامیابی نے بالی وڈ کی ڈوبتی نئیا کو آسراء دیا ہے.