Baaghi TV

Tag: dance videos

  • عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم ،حافظ قرآن بھی تھیں

    3 فروی 1975
    عرب موسیقی کی ملکہ ام کلثوم کا یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    مصر سے تعلق رکھنے والی عالمی شہرت یافتہ گلوکارہ ام کلثوم 31دسمبر 1898میں مصر کے ایک دیہی علاقے میں پیدا ہوئیں ۔ ان کے والد صاحب کا نام ابراہیم اور والدہ محترمہ کا نام فاطمہ تھا۔ ان کے والد ابراہیم قرآن کے حافظ اور مسجد کے امام تھے اپنی بیٹی کلثوم کو بھی انہوں نے قرآن حفظ کرایا۔ بعد میں ان کے والد نے ہی ان کو گلوکاری کی طرف دھکیل دیا۔ انہوں نے گلوکار ابوالعلا سے موسیقی کی تربیت حاصل کی ۔

    انہوں نے سب سے زیادہ مصر کے عرب شاعر احمد راہی کے گیت گائے۔ اس کے علاوہ فرانسیسی شعراء کے کلام بھی گائے۔ ام کلثوم کی آواز میں بلا کی مٹھاس اور سوز و سرو شامل تھا وہ اپنی آواز کا جادو جگا کر سامعین پر سحر طاری کر دیتی تھیں یہی وجہ ہے کہ انہیں مصر کی بلبل،کوکب المشرق یعنی مشرق کا ستارہ اور عرب موسیقی کی ملکہ کے خطاب سے نوازا گیا۔ مصر کے شاہ فاروق اور جمال ناصر بھی ان کے مداحوں میں شامل تھے ۔

    شاہ فاروق نے ان کو مصر کے سب سے بڑے ایوارڈ "ذیشان الکمال” سے نوازا۔ جبکہ علامہ اقبال کا ترجمہ شدہ کلام عربی میں گانے پر حکومت پاکستان کی جانب سے ان کو ستارہ الہلال کا ایوارڈ عطا کیا گیا ۔ مصری حکومت نے ام کلثوم کی آواز میں قرآن کی تلاوت بھی ریکارڈ کروایا ۔ ام کلثوم 1923 میں اپنے آبائی گاؤں سے قاہرہ منتقل ہو گئیں ۔ 1954میں ام کلثوم کی ڈاکٹر حسن الخضری سے شادی ہوئی ۔ ام کلثوم پر گاتے وقت وجد طاری ہو جاتا تھا۔ اس لیے وہ وہ اپنے ہاتھ میں رومال رکھتی تھی وہ گانے کے دوران وجد میں آ کر اس رومال کو پھاڑ کر لیرا لیرا کر دیتی تھیں ۔

    ام کلثوم کا شمار عرب دنیا کی موسیقی کے 4 بڑے گلوکاروں میں ہوتا ہے جن میں عبدالحلیم حافظ، ام کلثوم ، محمد عبدالوہاب اور فرید الطرش شامل ہیں ۔ دنیائے عرب کی ملکہ موسیقی اور ستارہ مشرق ام کلثوم کا 3 فروری 1975 میں انتقال ہوا ان کے جنازہ نماز میں 40 لاکھ افراد نے شرکت کی تھی جوکہ ایک عالمی ریکارڈ اور ان کی انتہا درجے کی مقبولیت کا ثبوت بھی ہے۔

  • حیا ہراریت   اسرائیلی   اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    حیا ہراریت

    اسرائیلی اداکارہ اور مصنفہ

    3 فروری : یوم وفات
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آغا نیاز مگسی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    بین الاقوامی شہرت یافتہ اسرائیلی اداکارہ ، مصنفہ اور اسکرپٹ رائٹر حیا ہراریت 20 ستمبر 1931 میں ہائفہ فلسطین میں پیدا ہوئی۔ ہائفہ اس وقت اسرائیل کا حصہ ہے ۔ 1955 میں انہوں نے اپنے فنی سفر کا آغاز کیا انہوں نے بیحد متاثر کن اداکاری کے جوہر دکھائے اور اورفلمی کہانیاں لکھیں اور فلم اسکرپٹ لکھ کر بین الاقوامی سطح پر شہرت حاصل کی اور عالمی فلمی میلہ میں خصوصی ایوارڈ حاصل کیا۔ انہوں نے دو شادیاں کیں پہلی شادی اسرائیلی انجنیئر Nachman Zervanitzer سے کی چند برس بعد ان سے علیحدگی اختیار کی جبکہ دوسری شادی برطانوی فلم ڈائریکٹر Jack Clayton سے کی ۔ 3 فروری 2021 برطانیہ میں 90 سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔

  • بھارتی ڈائریکٹر شیکھر کپور ہوئے سجل علی کے دیوانے

    بھارتی ڈائریکٹر شیکھر کپور ہوئے سجل علی کے دیوانے

    بھارتی ہدایت کار شیکھر کپور جو کہ جمائما گولڈ اسمتھ کی بین الاقوامی فلم واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اِٹ کے ڈائریکٹر ہیں انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں سجل علی کے ساتھ کام اور انکو فلم میں کاسٹ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ سجل علی کی آنکھوں میں گہرائی اور معصومیت ہے. اسکو میں نے کہا تھا کہ تم شرمیلی ہو ، خوبصورت ہو باصلاحیت ہو سب ٹھیک ہے لیکن اس کردار کو کرتے ہوئے تم نے اپنے آپ کو مضبوط دکھانا ہے. جب بھی وہ سکرین پر آتی ہیں تو دیکھ اور سن کر لگتا ہے کہ جیسے وہ اپنے اندر بہت سارا درد چھپائے بیٹھی ہوئی ہیں. انہون نے فلم میں بہت اچھی اداکاری کی ہے جو کہ شائقین کو ضرور پسند آئیگی. میں نے پہلی بار ان کے ساتھ کام کیا ہے اور کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا رہا

    ہے. اگر مستقبل میں کوئی ایسا پراجیکٹ ہاتھ میں آیا جس کے لئے سجل سوٹ کرتی ہوئیں تو میں یقینا ان کے ساتھ دوبارہ کام کرنا چاہوں گا. یاد رہے کہ واٹس لو گاٹ ٹو ڈو وِد اِٹ سجل علی کا پہلا فارن پراجیکٹ ہے. سجل اس سے قبل انڈیا کی فلموں میں بھی اداکاری کر چکی ہیں.

  • کترینہ جب سے زندگی میں آئی ہے بہت کچھ سیکھا ہے وکی کوشل

    کترینہ جب سے زندگی میں آئی ہے بہت کچھ سیکھا ہے وکی کوشل

    بالی وڈ‌ اداکارہ وکی کوشل جو کہ کترینہ کیف کے شوہر ہیں انہوں نے حال ہی میں کہا ہے کہ کوئی بھی انسان مکمل نہیں ہوتا ،چاہے وہ جتنی مرضی کوشش کرلے. میں بھی پرفیکٹ‌انسان نہیں ہوں ہر انسان کی طرح مجھ میں بھی خامیاں ہیں‌. اگر کسی کو لگتا ہے کہ میں کترینہ کیف کے لئے پرفیکٹ شوہر ہوں تو ایسا نہیں ہے، لیکن میں اچھا شوہر بننے کی کوشش کرتا ہوں ، کترینہ کیف کو خوش رکھنے کی کوشش کرتا ہوں. جب سے کترینہ کیف میری زندگی میں آئی ہیں تب سے میری زدگی بدل گئی ہے میں نے بہت کچھ نیا سیکھا ہے. میں نے بہت ساری اچھی عادات کترینہ کیف سے اپنائی ہیں .ا نہوں نے مزید کہا کہ کترینہ کیف کے ساتھ میری شادی کو ایک سال ہوا ہے ، اور اس ایک سال میں جو کچھ سیکھا ہے وہ

    پوری زندگی پر بھاری ہے. انہوں ں نے کہا کہ کترینہ میری محبت ہے اور میں اسکو مرتے دم تک خوش رکھنے کی کوشش کروں گا. امید ہے کہ وہ بھی مجھ سے اتنا ہی خوش ہیں جتنا میں ان سے خوش ہوں. واضح رہے کہ وکی کوشل اور کترینہ کیف کی شادی 2021 کے دسمبر میں ہوئی دونوں ہنسی خوشی زندگی بسر کررہے ہیں.

  • راکی اور رانی کی پریم کہانی اپریل کی بجائے جولائی میں ریلیز ہوگی

    راکی اور رانی کی پریم کہانی اپریل کی بجائے جولائی میں ریلیز ہوگی

    بیٹی کی پیدائش کے بعد عالیہ بھٹ کی پہلی فلم ریلیز ہونے جا رہی ہے ، فلم کا نام ہے راکی اور رانی کی پریم کی کہانی. فلم کو کرن جوہر نے بنایا ہے. اس فلم کے زریعے عالیہ بھٹ اور رنویر سنگھ پہلی مرتبہ بڑی سکرین پر جلوہ گر ہو رہے ہیں.کرن جوہر نے اعلان کیا تھا کہ فلم اپریل میں ریلیز کی جائیگی لیکن اب انہوں نے انسٹاگرام پر فلم کا پوسٹر شئیر کرتے ہوئے بتایا کہ اب یہ فلم اپریل کی بجائے جولائی میں ریلیز ہوگی ، کرن جوہر نے بعد عالیہ بھٹ اور رنویر سنگھ نے بھی اپنے انسٹاگرام اکائونٹس پر فلم کا پوسٹر اور ریلیز کی نئی تاریخ کا اعلان کیا. اپریل کی 28 تاریخ کو

    ریلیز ہونے والی اس فلم کے حوالے کرن جوہر نے کہا کہ حکایت ہے صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے تو اس شاندار اور خاص کہانی کی مٹھاس کو بڑھانے کیلئے ہم پوری محبت سے آرہے ہیں. یاد رہے کہ عالیہ بھٹ اور رنویر کو پہلی بار اس فلم کے زریعے ایک ساتھ دیکھا جائیگا، شائقین ان کو ایک ساتھ دیکھنے کےلئے کافی بےتاب ہیں. جیسے ہی کرن نے فلم کی نیی تاریخ کا اعلان کیا تو انہیں مداحوں نے کہا کہ ہم فلم دیکھنے کے منتظر ہیں.

  • سپر پنجابی سے پنجاب کا سینما ڈیجیٹل دور میں داخل

    سپر پنجابی سے پنجاب کا سینما ڈیجیٹل دور میں داخل

    ایکشن فلم لیجنڈ آف مولا جٹ کی فقید المثال کامیابی کے بعد فلمی حلقوں میں یہ بحث زور پکڑ گئی تھی کہ اس پنجابی فلم کی کامیابی کو کیش کروانے کے لئے پنجاب کے فلم میکرز کے پاس کوئی دوسری فلم ہی نہیں ہے۔ "رنگ عشقے دا” اور "شاٹ کٹ” کے نہایت کمزور بزنس نے بھی اس تاثر کو تقویت دی۔ تاہم تین مارچ کو ریلیز ہونےوالی پنجابی فلم "سپر پنجابی” کے آفیشل ٹریلر اور گانے کے ٹیزر کو دیکھ کر گمان ہورہا ہے کہ 2023 میں سپر پنجابی پہلی بلاک بسٹر فلم ثابت ہونے والی ہے۔ "سپرپنجابی” کی لک اینڈ فیل، اس کے کلر پیلیٹس، پروڈکشن ڈیزائن، فریمنگ کسی بھی طرح انڈین پنجابی فلموں سے کم نہیں ہے۔ ہمارے ہاں جو پنجابی رومانوی کامیڈی فلمیں بنائی جاتی تھیں، ان پر سب سے زیادہ اعتراض ہی یہ اٹھایا جاتا تھا کہ ہمارے پروڈیوسرز اور ہدایتکار نئے زمانے کے ساتھ اپنی سینما سکرین کو ہم آہنگ کرنے سے قاصر ہیں۔ فلم ساز صفدر ملک اور افتخار

    ٹھاکر نے "جاوید اقبال” جیسی بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ فلم کے لکھاری اور ہدایتکار ابوعلیحہ کے ساتھ مل کر اس تاثر کو یکسر تبدیل کرکے رکھ دیا ہے۔ واضح رہے کہ سپرپنجابی نہ صرف ریکارڈ مدت میں شوٹ کی گئی ہے بلکہ شوٹنگ پیک اپ کے بعد فقط تین ماہ کے اندر اس فلم کو سینما میں 3 مارچ کو لگانے کا اعلان کرکے ابوعلیحہ نے اپنی کرافٹ اور صفدر ملک نے اپنی سینما سے محبت ثابت کردی ہے.فلم ٹریڈ اور پنجاب کے فلمی حلقوں نے سپر پنجابی کا خیر مقدم کیا ہے اور امید کی جارہی ہے کہ یہ فلم کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔

  • نیتو سنگھ کی پاکستانی فیشن ڈیزائنرز فراز منان کو تصویر کے ساتھ سالگرہ کی مبارکباد

    نیتو سنگھ کی پاکستانی فیشن ڈیزائنرز فراز منان کو تصویر کے ساتھ سالگرہ کی مبارکباد

    بالی وڈ اداکارہ نیتو سنگھ نے پاکستانی فیشن ڈیزائنر فراز منان کو سالگرہ کی مبارکباد دی ہے. نیتو سنگھ نے اپنی انسٹاگرام سٹوری میں فراز منان کے ساتھ ایک تصویر شئیر کی اور لکھا کہ سالگرہ کی بہت مبارکباد میں آپ سے بہت پیار کرتی ہوں ، آپ کے لئے ڈھیروں ڈھیر دعائیں. نتیو سنگھ نے فراز منان کے ساتھ جو تصویر شئیر کی وہ سیلفی ہے جو کہ نیتو سنگھ نے خود لی ہوئی ہے. فراز منان ان کے ساتھ کھڑے ہیں اور نیتو سیلفی لیتے ہوئے خاصی خوش دکھائی دے رہی ہیں. فراز منان کو پاکستانی شوبز ستاروں نے بھی سالگرہ کی مبارکباد دی. فراز منان پاکستان کے وہ فیشن ڈیزائنر ہیں جن کے کام کی دھوم انڈیا تک گئی. فراز کرینہ کپور سمیت بالی وڈ کی دیگر آرٹسٹوں کے ساتھ شوٹ کئے ہوئے ہیں اور بالی وڈ ستارے فراز منان کے جوڑے بہت شوق سے زیب تن کرتےہیں.

    یاد رہے کہ فراز منان پاکستان کے نوجوان نسل کے نمائندہ ڈیزائنر ہیں ان کے منفرد کام کی وجہ سے ان کو بہت جلد نمبرون فیشن ڈیزائنرز کی کیٹگری میں جگہ مل گئی . فراز انٹرنیشنل لیول کا کام کرتے ہیں جس میں‌ پاکستانی کلچر کی نمائندگی کو کبھی نہیں بھولتے. ان کے کٹس اور کام کا انداز یقینا دوسرے فیشن ڈیزائنرز کی نسبت کافی مختلف اور منفرد ہے .

  • شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    شوکت تھانوی:نامورمصنّف،مزاح نگار، شاعر اور صحافی

    2 فروری : یوم پیدائش
    نامور مزاح نگار، شاعر اور صحافی شوکت تھانوی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    شوکت تھانوی کا اصل نام محمد عمر ہے اور وہ 2 فروری 1904ءکوبندرابن ضلع متھرا میں پیدا ہوئے ۔آبائی وطن تھانہ بھون ضلع مظفر نگر تھا اور اسی نسبت سے تھانوی کہلاتے تھے۔ وہ ایک طویل عرصے تک لکھنو میں مقیم رہے جہاں انہوں نے مزاح نگاری‘ شاعری اور صحافت کے میدانوں میں جھنڈے گاڑے۔ 1930ءمیں نیرنگ خیال کے سالنامے میں ان کا مشہور مزاحیہ افسانہ “ سود یشی ریل“ شائع ہوا جس کے بعد ان کا شمار اردو کے صف اول کے مزاح نگاروں میں ہونے لگا۔

    قیام پاکستان کے بعد شوکت تھانوی پاکستان منتقل ہوگئے اور پہلے کراچی اور پھر راولپنڈی میں مقیم ہوئے جہاں وہ روزنامہ جنگ راولپنڈی کے مدیر مقرر ہوئے ۔روزنامہ جنگ میں ان کے کالم ”وغیرہ وغیرہ“ اور پہاڑ تلے بھی قارئین میں بے حد مقبول تھے۔

    شوکت تھانوی کی تصانیف میں موج تبسم‘ بحر تبسم‘ دنیائے تبسم‘برق تبسم، سیلاب تبسم‘ سودیشی ریل‘ قاعدہ بے قاعدہ‘ نیلوفر‘ جوڑ توڑ‘ سنی سنائی‘ خدانخواستہ‘ بارخاطر ، ان کی خودنوشت سوانح ”مابدولت“ اور خاکوں کا مجموعہ شیش محل شامل ہیں۔

    شوکت تھانوی4 مئی 1963ءکو لاہور میں وفات پاگئے اور وہیں حضرت میاں میر کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔

  • کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید ؛شاعرہ اوربہترین لکھاری

    کشور ناہید 1940 میں بلند شہر (ہندوستان) میں ایک قدامت پسند سید گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد آٹھویں جماعت میں تعلیم کو خیرباد کہہ دیا تھا۔

    میٹرک کے بعد اپنی ضد منوا کر کالج میں داخلہ لیا۔ فرسٹ ایر سے ہی شعر کہنے کا سلسلہ شروع ہوا۔گھر والوں کی شدید مخالفت کے باوجود اُن کا علمی ادبی سفر جاری رہا۔ تعلیمی دور تقریری مقابلوں اور مشاعروں میں حصہ لیتی رہیں اور ان کا کلام ادبی رسائل میں چھپتا رہا۔

    پنجاب یونیورسٹی میں معاشیات میں ایم اے کے دوسرے سال میں تھیں جب گھر والوں کو یوسف کامران کے ساتھ اُن کی دوستی کا علم ہوا۔ ایک ایسے گھرانے میں جہاں رشتے کے بھائیوں سے بات کرنا بھی ممنوع تھا وہاں یہ خبر قیامت سے کم نہیں تھی۔ اس جرم کی پاداش میں کشور اور یوسف کا نکاح پڑھوا دیا گیا۔ کشور کی شادی گو کہ پسند کی شادی تھی مگر اُن کے ازدواجی حالات کچھ اایسے خوشگوار نہ تھے۔کشور اور یوسف کے دو صاحبزادے ہیں۔ یوسف کامران 1984میں انتقال کر گئے۔

    کشور ناہید کے چھ شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کو ۱۹۶۹ء میں ان کی کتاب ’’لب گویا‘‘ پر آدم جی ایوارڈ بھی ملا۔ انہوں نے فرانس کی مشہور ناول نگار سمعون ڈی بوار کی کتاب ’’سیکنڈ سیکس‘‘ کا اردو ترجمہ ۱۹۸۳ء میں ’’عورت‘‘ کے نام سے شائع کیا۔ کشور ناہید کی متعدد نظموں کا انگلش اور ہسپانوی زبان میں ترجمہ ہو چکا ہے۔

    کشور ناہید کو آدم جی ایوارڈ کے علاوہ یونیسکو پر اثر منڈیلا ایوارڈ، ستارئہ امتیاز اور کولمبیا یونیورسٹی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
    .
    دل کو بھی غم کا سلیقہ نہ تھا پہلے پہلے
    اس کو بھی بھولنا اچھا لگا پہلے پہلے

    دل تھا شب زاد اسے کس کی رفاقت ملتی
    خواب تعبیر سے چھپتا رہا پہلے پہلے

    پہلے پہلے وہی انداز تھا دریا جیسا
    پاس آ آ کے پلٹتا رہا پہلے پہلے

    آنکھ آئنوں کی حیرت نہیں جاتی اب تک
    ہجر کا گھاؤ بھی اس نے دیا پہلے پہلے

    کھیل کرنے کو بہت تھے دل خواہش دیدہ
    کیوں ہوا دیکھ جلایا دیا پہلے پہلے

    عمر آئندہ کے خوابوں کو پیاسا رکھا
    فاصلہ پاؤں پکڑتا رہا پہلے پہلے

    ناخن بے خبری زخم بناتا ہی رہا
    کوئے وحشت میں تو رستہ نہ تھا پہلے پہلے

    اب تو اس شخص کا پیکر بھی گل خواب نہیں
    جو کبھی مجھ میں تھا مجھ جیسا تھا پہلے پہلے

    اب وہ پیاسا ہے تو ہر بوند بھی پوچھے نسبت
    وہ جو دریاؤں پہ ہنستا رہا پہلے پہلے

    وہ ملاقات کا موسم نہیں آیا اب کے
    جو سر خواب سنورتا رہا پہلے پہلے

    غم کا دریا مری آنکھوں میں سمٹ کر پوچھے
    کون رو رو کے بچھڑتا رہا پہلے پہلے

    اب جو آنکھیں ہوئیں صحرا تو کھلا ہر منظر
    دل بھی وحشت کو ترستا رہا پہلے پہلے

    میں تھی دیوار تو اب کس کا ہے سایہ تجھ پر
    ایسا صحرا زدہ چہرا نہ تھا پہلے پہلے

  • سنجے دت بھی پٹھان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے

    سنجے دت بھی پٹھان کی تعریف کیے بغیر نہ رہ سکے

    بالی وڈ اداکار سنجے دت نے بھی فلم پٹھان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے ہیں ، انہوں نے اس فلم کی کامیابی پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ وقت سیلبریشن کا ہے . اور میں داد دیتا ہوں شاہ رخ خان سمیت انکی پوری ٹیم کو کہ وہ آڈینز کو سینما گھروں تک لانے میں‌کامیاب ہو گئے ہیں. سنجے دت نے کہا کہ کافی عرصے کے بعد کسی فلم نے شائقین کو سینما گھروں تک آنے کے لئے مجبور کر دیا ہے. انہوں نے شاہ رخ خان کی بھی دل کھول کر تعریف کی اور کہا کہ اب شائقین کے اس طرح سینما گھروں میں آنے کو مسلسل برقرار رکھنا ہو گا اور یقینا یہ ایک چیلنج ہو گا . انہوں نے کہا کہ مجھے بہت امید ہے کہ اب شائقین ہندی فلموں کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں کا رخ کریں گےاور بائیکاٹ کلچر سے باہر نکل آئیں گے. سنجے دت نے کہا کہ پٹھان کی پوری ٹیم کے لئے تالیاں ہونی چاہیے.

    یاد رہے کہ فلم پٹھان بالی کی اس سال کی پہلی فلم بن گئی ہے جس نے اتنے بڑے پیمانے پر بزنس کیا ہے اب اس کے بعد جتنی بھی فلمیں ریلیزہوں گی یقینا وہ باقی سٹارز اور فلم میکرز کے لئے ایک چیلنج ہی ہوگا. فلم پٹھان ابھی تک 600 کروڑ سے اوپر تک کا بزنس کر چکی ہے اور مسلسل لوگ دیوانہ وار فلم کو دیکھنے کےلئے سینما گھروں‌کا رخ کررہے ہیں.