Baaghi TV

Tag: DEHLI

  • چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    چھوٹی موٹی چوریاں کرکے کروڑ پتی بننے والا چور

    بھارت کے شہر دہلی کی پولیس نے 200 سے زائد ڈکیتی کے مقدمات میں ملوث ایک 48 سالہ کروڑ پتی ہوٹل کے مالک کو گرفتار کرلیا ہے جبکہ گرفتار شخص کی شناخت منوج چوبے کے نام سے ہوئی ہے جو تقریباً 25 سال سے اپنے خاندان سے چھپ کر دوہری زندگی گزار رہا تھا جبکہ چوبے پر دہلی میں 2001 سے 2023 کے درمیان 15 مجرمانہ مقدمات میں فرد جرم عائد کی جاچکی ہیں.

    بھارتی میڈیا کے مطابق منوج چوبے کا اصل تعلق اتر پردیش کے سدھارتھ نگر ضلع سے اور اسی علاقہ میں ان کا باقی خاندان بھی مقیم ہے لیکن بعدازاں وہ نیپال میں آباد ہو گئے جبکہ ایک رپورٹ کے مطابق وہ پہلی بار 1997 میں دہلی آئے اور کیرتی نگر تھانے میں کینٹین چلانے لگے۔ لیکن کینٹین میں چوری کے الزام میں پکڑے جانے کے بعد انہیں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ دہلی پولیس کے مطابق رہا ہونے کے بعد انہوں نے کرائے کے مکان میں رہائس اختیار کی اور پھر دوبارہ چوریاں کرنی شروع کردیں جبکہ منوج چوریاں کرتے اور کافی رقم کما کر اپنے گاؤں لوٹ جاتے تھے۔

    خیال رہے کہ بھارتی میڈیا نے بتایا کہ منوج کا طریقہ واردات یہ ہوتا تھا کہ وہ پہلے ریکی کرتے اور پھر ماڈل ٹاؤن، روہنی، اشوک وہار اور پتم پورہ جیسے علاقوں میں بنگلوں، مکانات اور فلیٹس کو نشانہ بنایا کرتا تھا، جبکہ منوج نے چوری کی رقم سے نیپال میں ایک ہوٹل بھی بنایا تھا۔ اس دوران انہوں نے اتر پردیش کے محکمہ آبپاشی میں ملازم ایک سرکاری افسر کی بیٹی سے شادی بھی کرلی اور انہوں نے اپنے سسرال والوں کو بتایا کہ دہلی میں ان کا پارکنگ کا کاروبار ہے اور انہیں ہر سال چھ سے آٹھ مہینے وہاں رہنا پڑتا ہے۔

    جبکہ اترپردیش میں انہوں نے اپنی بیوی کے نام پر رجسٹرڈ گیسٹ ہاؤس بھی بنایا ہوا تھا جبکہ منوج چوبے نے اسی قصبے میں اپنا پلاٹ ایک اسپتال کو بھی لیز پر دیا تھا جس کے لیے انہیں ماہانہ 2 لاکھ روپے کرایہ ملتا تھا علاوہ ازیں چوبے نے آخر کار اپنی فیملی کے لیے لکھنؤ میں ایک گھر بھی بنایا تھا جبکہ کروڑوں کی دولت ہونے اور لاکھوں روپے کرایہ وصول کرنے کے باوجود وہ ڈکیتیاں کرنے دہلی آتے رہے۔

    واضح رہے کہ ایک دن ایسا ہوا کہ متاثرین میں سے ایک نے چوری کے بعد پولیس میں شکایت درج کرائی اور ایف آئی آر بھی درج کرلی تھی جسکے بعد پولیس کو سی سی ٹی وی کیمروں سے فوٹیج ملی، جس سے انہیں چوبے کو شناخت کرنے میں مدد ملی جبکہ ایک سی سی ٹی وی میں انہیں اسکوٹر پر سوار دیکھا گیا تھا، جسے ونود تھاپا نامی شخص نے خریدا تھا۔ انڈین میڈیا کے مطابق مزید تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ چوبے نے سپنا نامی نیپالی خاتون سے شادی کی تھی اور اسے دہلی میں چھپا رکھا تھا۔ ونود اور سپنا بہن بھائی تھے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    ونود نے پولیس کو بتایا کہ اس کا بہنوئی اس کے اسکوٹر پر گھومتا رہتا تھا۔ اور آخر کار 10 جولائی کو پولیس نے چوبے کو گرفتار کر لیا جبکہ چوبے کے خلاف چوری کے 15 مقدمات درج ہیں اور ماضی میں انہیں نو مرتبہ گرفتار کیا جا چکا ہے۔ وہ نام بدلتے رہتے تھے اور واردات کے بعد چوری کی رقم کو جلدی سے چھپا دیا کرتے تھے۔ تاہم یاد رہے کہ فی الحال چوبے جی سلاخوں کے پیچھے ہیں اور ان کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔

  • جامعہ ملیہ کے طلبا پر بھارت سرکار کا کریک ڈاؤن ، عرب ایکٹوزم اور امریکی رپورٹ، تحریر طہٰ منیب

    کرونا کی تباہ کاریوں اور عربوں کے سوشل میڈیا ایکٹوزم اور اب چند گھنٹے قبل امریکہ کی جانب سے بھارت پر مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے باوجود محسوس ایسا ہوتا ہے کہ مودی ہٹ دھرمی سے باز آنے والا نہیں ہے۔

    بھارت میں گزشتہ شام سے #ReleaseJMIPeople یعنی جامعہ ملیہ اسلامیہ کے لوگوں کو رہا کرو ٹرینڈ ٹاپ پر ہے،

    یہ تین لوگ ہیں جنکی رہانی کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ صفورہ زرگر، شفاالرحمان، میران حیدر تینوں جامعہ کے طلبا ہے جن پر غیرقانونی سرگرمیوں میں ملوث ہونے کا ایکٹ UAPA Unlawful Activities Prevention Act لگا کر گرفتاری کے بعد دس دس دن کے ریمانڈ پر عدلیہ کے زریعے پولیس کے حوالے کر کے تہاڑ جیل نیو دہلی میں ڈال دیا گیا ہے، شفا الرحمان سابق طالبعلم ہیں، صفورا زرگر کی دو سال قبل شادی ہوئی ، پریگننٹ حالت میں اسے کوئی رعایت بخشے بغیر پولیس کے حوالے کیا گیا ہے،

    صفورہ زرگر

    صفورہ زرگر تہاڑ جیل میں

    شفا الرحمان

    میران حیدر

    ان کا جرم چند ماہ قبل مسلم دشمن متنازعہ شہریت بل سٹیزن شپ امینڈمیٹ بل CAB کی مخالفت میں اواز بلند کرنا تھا ، جس بل کا مقصد مسلمانوں کو بھارتی شہریت سے فارغ کر کے انہیں حراستی مراکز ڈیٹینشن کیمپوں میں ڈال کر نسل کشی کرنا تھا، جس پر روایتی بھارتی مسلم قیادت ریت کی دیوار ثابت ہوئی اور جامعہ ملیہ کے طلبا نے ظلم و تشدد آنسو گیس ، شیلنگ ، فائرنگ، لاٹھی چارج اور بعد ازاں بڑی تعداد میں گرفتاریاں پیش کر کے قربانیوں کی لازوال داستان رقم کی، اور یہ آواز ہر غیر متعصب انسان کی آواز بنی ، مسلمان بھی جاگے،

    کرونا لاک کی تباہ کاریوں نے کچھ عرصے کیلئے اس توجہ بٹائی تو ضرور تھی لیکن انتہا پسند ہندو کرونا وائرس کا زمہ دار مسلمانوں کو ٹھرانے لگے اور مسلمانوں کے خلاف نفرت کے ایک نئی لہر اٹھی اور عرب بلاگرز اور زمہ داران کی توجہ سے کچھ معاملہ بظاہر تو ٹھنڈا ہوا تو اب ان طلبا کی گرفتاریاں شروع ہو گئیں،
    گوکہ امریکی سرکاری ادارے نےبھارت میں مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک پر سفری اور دیگر پابندیوں کی تجاویز دی ہیں لیکن شاید ہی امریکہ سرکار اس پر کوئی ایکشن لے، ہمارے بھارتی بھائیوں کو ظلم کی یہ سیاہ رات اپنی قربانیوں سے کاٹنی ہے اور وہ اب کسی حد تک تیار ہو بھی چکے ہیں، ہمارا کام انکے لئے آواز بلند کرنا اور رمضان کی بابرکت ساعتوں میں انکے دعائیں کرنا ہے کہ ظلم کی یہ رات ختم ہو اور ہندو کشمیر کے مسلمانوں کو آزادی کی صبح نصیب ہو