Baaghi TV

Tag: Doctor

  • اداکاری نہیں تو کونسا شعبہ شائستہ لودھی کا جنون ہے؟

    اداکاری نہیں تو کونسا شعبہ شائستہ لودھی کا جنون ہے؟

    معروف اداکارہ شائستہ لودھی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے طب کے شعبے میں‌کام کرکے بہت مزا آتا ہے. طب کے شعبے میں‌انسان کو انسانیت کی خدمت کرنے کا موقع میسر آتا ہے اور جو سکون انسانیت کی خدمت میں ہے وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جا سکتا. انہوں نے کہا کہ میں نے ایک لمبا عرصہ شوبز میں کام کیا ہے، اورمیں نے ہر طرح کے کردار کئے مجھے میرے مداحوں نے بہت پسند کیا. مارننگ شوز ہوسٹ کئے ، شوبز انڈسٹری پر راج کیا لیکن اب میں‌سمجھتی ہوں کہ مجھے انسانیت کی خدمت پر فوکس کرنا چاہیے.

    انہوں نے کہا کہ” شوبز میں‌کام کرنے کےلئے میں‌اب بھی تیار ہوں لیکن مجھے میرے مطابق تو کردار دئیے جائیں” جب کردار ہی اچھے آفر نہیں ہوں گے میرے مطلب کے کردار مجھے نہیں‌دئیے جائیں گے تو مجھے کیا ضرورت ہے میں شوبز میں اٹکی رہوں. انہوں نے کہا کہ طب کے شعبے میں‌کام کرکے جو سکون ملا ہے اس کو دیکھ کر میں کہتی ہوں کہ کوئی مجھ سے پوچھے کہ مجھے شوبز میں رہنا ہے یا طب کے شعبے میں‌تو میں بلا جھجھک طب کے شعبے کا انتخاب کروں گی. یاد رہے کہ شائستہ لودھی کافی عرصے سے شوبز سے دور نظر آتی ہیں .

    میرے اور فیروز خان کے درمیان دوستی کے علاوہ کچھ نہیں نجیحا فیاض‌

    عمران اشرف مذاکرات ہوسٹ کریں گے ، شو کا پرومو جاری

    علی سیٹھی کی لڑکے کے ساتھ شادی کی خبروں پر ابو علیحہ کا سخت رد …

  • کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت

    باغی ٹی وی رپورٹ کے مطابق
    بڑی پیشرفت: کرونا مریضوں کی جان بچانے والی دوا دریافت
    ویب ڈیسک 16 جون 2020

    لندن: برطانوی ماہرین صحت نے دعویٰ کیا ہے کہ کرونا کے علاج میں اب تک کی سب سے بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے.
    برطانوی میڈیا رپورٹ کے
    مطابق ماہرین صحت کا کہنا تھا کہ کرونا علاج کے لیے اب تک کی سب سے اہم دوا دریافت ہوگئی، جس سے تشویشناک مریضوں کی جان بچانا ممکن ہوگا۔
    ماہرین صحت کے مطابق اس دوا کو وینٹی لیٹر پر موجود مریضوں پر بھی آزمایا گیا، 12 میں سے 11 مریض صحت یاب ہوئے، علاوہ ازیں مجموعی طور پر ایک تہائی مریضوں کی زندگیوں کو محفوظ بنایا گیا۔

    میڈیا رپورٹ کے مطابق ’ڈیکسا میتھاسون نامی دوا کوئی خاص نہیں بلکہ یہ عام ہے اور ماہرین اسے کرونا مرض کے علاج کے لیے مؤثر بھی قرار دے رہے ہیں‘۔ ماہرین کے مطابق اس دوا کو جوڑوں کے درد، الرجی اور دمہ کے لیے ایک عرصے سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

    آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین نے دوا کی آزمائش کے لیے 2100 مریضوں کا انتخاب کیا جن میں سے تیس فیصد ایسے تھے جو وینٹی لیٹر پر موجود تھے‘۔

    تحقیقی نتائج میں یہ بات سامنے آئی کہ ’ڈیکسا میتھاسون کے استعمال سے مریضوں کی موت کی شرح تیس فیصد کم ہوئی جبکہ جو مریض مصنوعی طریقے سے سانس لے رہے تھے اُن کی موت کی شرح نصف حد تک کم ہوگئی‘۔

    آکسفورڈ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ’اگر ہمیں پہلے اس دوا کی افادیت کا علم ہوتا تو برطانیہ کے پانچ ہزار سے زائد شہریوں کی زندگیاں محفوظ رہ سکتی تھیں‘۔

    ماہرین نے تحقیق کا آغاز مارچ میں کیا اور اس ضمن میں 175 اسپتالوں میں داخل ہونے والے گیارہ ہزار سے زائد مریضوں کا میڈیکل ریکارڈ حاصل کیا گیا۔

    تحقیقی ٹیم کے سربراہ مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’ہمارے لیے یہ بہت اہم پیشرفت ہے، ہمیں ایسے علاج یا دوا کی تلاش تھی جس سے مریضوں کی جان بچائی جاسکے یا دوران علاج اُن کی موت کا خطرہ کم سے کم ہو، اس سے قبل کوئی دوا نہیں ملی تھی مگر اب ہم خوش ہیں کہ ایسی دوا مل گئی ہے‘۔

    انہوں نے بتایا کہ ’حیران کن طور پر دوا کی کم خوراک بھی مریضوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے اور سب سے اچھی بات یہ ہے کہ ڈیکسا میتھاسون کی قیمت بھی مناسب ہے اور یہ ہر جگہ آسانی سے دستیاب بھی ہے‘۔

    مارٹن لیندرے کا کہنا تھا کہ ’اب ہم تمام اسپتالوں کو اجازت دے رہے ہیں کہ وہ شام سے ہی مریضوں پر دوا کا استعمال شروع کردیں‘۔

    دوسری جانب برطانوی محکمۂ صحت این ایچ ایس نے پہلے ہی اسپتالوں کو یہ دوا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کردی ہے۔