Baaghi TV

Tag: Dollar

  • غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی

    غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید کمی

    غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر میں مزید 1 ارب 23 کروڑ ڈالر کی کمی ہوگئی۔

    باغی ٹی وی: اسٹیٹ بینک کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق زرمبادلہ ذخائر میں کمی غیر ملکی قرض کی ادائیگی کی وجہ سے ہوئی-

    امارات کا پاکستان کا دو بلین ڈالر قرض رول اوور کرنے جبکہ مزید 1 ارب ڈالر دینے کا…

    اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ 6 جنوری تک زرمبادلہ کے ذخائر 10 ارب 18کروڑ 78 لاکھ ڈالر رہے، اسٹیٹ بینک کے پاس 4 ارب 34 کروڑ 32 لاکھ ڈالر کے زرمبادلہ کے ذخائر رہے۔

    اسٹیٹ بینک کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس 6 جنوری تک 5 ارب 84 کروڑ 46 لاکھ ڈالر رہے۔

    اس کمی کے بعد دوست ممالک سے مزید قرض لیے بغیر غیر ملکی قرض کی ادائیگی کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی، حکومت کے آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں، حکومت رواں مالی سال کے دوران گرتی شرح نموکنٹرول کرنےکی کوشش کرےگی۔

    بےنظیر انکم سپورٹ میں اربوں روپے کی بے ضابطگیاں

    یاد رہے کہ پاکستان نے آئی ایم ایف کے ساتھ 2019 میں 6 ارب ڈالر کا معاہدہ کیا تھا اور گزشتہ برس اس میں مزید ایک ارب ڈالر کا اضافہ کردیا گیا تھا۔

    آئی ایم ایف کے نویں جائزے کے بعد پاکستان کو ایک ارب 18 کروڑ ڈالر جاری ہوں گے جو التوا کا شکار ہیں، ابتدائی طور پر 2 ماہ تک مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں وفاقی حکومت کی جانب سے عالمی ادارے کی مخصوص شرائط ماننے میں عدم دلچسپی کا مظاہرہ کیا گیا تھا اور اختلاف تاحال ختم نہیں ہوسکا ہے۔

    پاکستانیوں کو امریکی ویزا کے حصول کیلئے آسانی

  • ائیر پورٹس دھند اپ ڈیٹ،انٹرنیشنل پروازیں تاخیر کا شکار

    لاہور، پشاور، فیصل آباد اور ملتان ایئرپورٹس دھند اپ ڈیٹ ،لاہور ایئرپورٹ پر دھند کے باعث انٹرنیشنل پروازوں کی تاخیر کا شکار ہیں-

    باغی ٹی وی: لاہور ایئرپورٹ پر دھند اور حدنگاہ 1200 میٹر اور کمی کا رحجان ہے تاخیر کا شکار بین الاقوامی آمد پروازوں میں پی اے 475 ریاض لاہور دن 12:20 کے بجائے رات 1 بجے متوقع ہے،پی اے 411 دبئی لاہور رات 09:10 کے بجائے صبح 05:45 پر متوقع ہے-

    جبکہ تاخیر کا شکار بین الاقوامی روانگی پروازوں میں پی اے 410 لاہور۔دبئی روانگی دن 01:10 کے بجائے رات 11 بجے متوقع اور پی اے 472 لاہور جدہ روانگی دن 04:35 کے بجائے رات 11:59 پر متوقع ہے-

    عالوہ ازیں پی اے 430 لاہور ابوظہبی روانگی رات 12:35 کے بجائے صبح 09:15 پر متوقع ہے جبکہ ای ار 525 لاہور کراچی رات 08:15 کے بجائے رات 11 بجے متوقع ہے-

    پشاور ائرپورٹ پر ہلکی بارش کے ساتھ حد نگاہ 5000 میٹر ہے ایئر لائنز کے آپریشنل وجوہات کی وجہ سے پروازوں میں تاخیر ہوئی،
    ایئر بلیو پی اے 631،ابوظہبی-پشاور صبح 9:30 بجے کے بجائے شام 07:30 بجے پہنچی،جبکہ پی آئی اے پی کے 728ریاض-پشاور دوپہر 03:30 کے بجائے رات 09:30 بجے پہنچی-

    پی آئی اے پی کے 258 شارجہ۔پشاور شام 06:05 بجے کے بجائے شام 07:30 بجے پہنچی ایئر بلیو پی کے 630 پشاور۔ابوظہبی صبح 10:30 بجے کے بجائے رات 08:30 بجے روانگی ہوئی،

    پی آئی اے پی کے 735 پشاور جدہ روانگی شام 5 بجکر 15 منٹ کے بجائے 10 بجکر 45 منٹ پر ہوگی جبکہ فیصل آباد ایرپورٹ پر حد نگاہ 1000 میٹر اور کمی کا رحجان ہے اور ملتان ائرپورٹ پر حد نگاہ 4000 میٹر ہے جبکہ رات 11:30 بجے تک ناقص حد نگاہ کا انتباہ جاری کیا گیا ہے-

    براہ کرم ہوائی اڈے روانگی سے پہلے اپنی ایئر لائن سے رابطہ کریں جبکہ فلائٹ انکوائری کیلئے مندتجہ ذیل نمبرز پر رابطہ کر سکتے ہیں-
    114
    0800 00114
    111 222 114

  • وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

    وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے وفد کی ملاقات

    باغی ٹی وی: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے متحدہ عرب امارات کے سرمایہ کاروں کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں ابوظہبی ڈویلپمنٹ ہولڈنگ کمپنی (ADQ) کے چیف ایگزیکٹو آفیسر جناب محمد حسن السویدی اور انٹرنیشنل ہولڈنگز کمپنی (IHC) کے منیجنگ ڈائریکٹر سید بصر شویب اور دیگر شامل تھے۔

    وفد سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع مواقع موجود ہوں اور ہماری حکومت سرمایہ کاروں کو بہترین سہولیات دینے کے لیے تمام تر اقدامات کر رہی ہے .


    ملاقات کے دوران وفد کو پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقعوں کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی.وفد کو شعبوں خوراک اور زراعت، ہوا بازی، بجلی، متبادل توانائی بشمول شمسی توانائی, مالیاتی خدمات، صحت کی دیکھ بھال، صنعت، لاجسٹکس، رئیل اسٹیٹ کے شعبوں میں پاکستان کی جیو اکنامک پوٹینشل پر بریفنگ دی گئی۔

    جناب محمد حسن السویدی نے ADQ کی عالمی موجودگی کو بڑھانے اور پاکستان میں کاروبار اور سرمایہ کاری کے حوالے سے دلچسپی ظاہر کی. ADQ مشرق وسطیٰ کے خطے کی سب سے بڑی ہولڈنگ کمپنیوں میں سے ایک ہے جس کے پاس ابوظہبی کی نان آئل معیشت کے کلیدی شعبوں کا احاطہ کرنے والے بڑے کاروباری اداروں کے متنوع پورٹ فولیو ہیں۔

    ملاقات میں وفاقی وزیر خزانہ و محصولات اسحاق ڈار, وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف, وفاقی وزیر ہوا بازی خواجہ سعد رفیق وفاقی وزیر سرمایہ کاری بورڈ سالک حسین اور اعلی سرکاری افسران نے شرکت کی-

  • جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    جرمنی کا پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان

    اسلام آباد: جرمنی نے توانائی بچت منصوبے کیلئے پاکستان کو 2 کروڑ 80 لاکھ یورو کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔

    باغی ٹی وی: وزارت اقتصادی امور کے مطابق حکومت پاکستان اور جرمنی نے 28 ملین یورو کے دو فریم ورک معاہدوں پر دستخط کیے جن میں پاکستان کی سماجی اقتصادی بہتری اور پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

    ٹیکساس کے پہلے مسلمان قانون سازوں نے صدیوں قدیم قرآن پاک پرحلف اٹھا لیا

    پاکستان میں تعینات جرمن سفیرالفریڈ گراناس نےجرمن حکومت اوروزارت اقتصادی امورکی نمائندگی کرتےہوئے ڈاکٹر کاظم نیاز، سیکرٹری وزارت اقتصادی امور نے توانائی اور گورننس کے شعبوں میں معاہدوں پر دستخط کیے جرمن اداروں کےایف ڈبلیو اورجی آئی زیڈ کے حکام نے بھی دستخط کی تقریب میں شرکت کی۔

    جرمنی فریم ورک ایگریمنٹ، ٹیکنیکل کو آپریشن ایگریمنٹ 2021 کے تحت جی آئی زیڈ کے ذریعے 23 ملین یورو کی گرانٹ فنانسنگ فراہم کرے گا۔ اس فریم ورک معاہدے کے تحت تین منصوبوں یعنی شراکتی مقامی گورننس، عمارات کی تعمیر میں توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے تعمیراتی منتقلی اور موسمیاتی موافقت اور لچک” کی مالی اعانت کی جائے گی۔

    معاہدے کے تحت 10 ملین یورو کی مجموعی فنانسنگ کے ساتھ شراکتی لوکل گورننس پروجیکٹ، مقامی ضروریات اور ترجیحات کو پورا کرنے کے لیے کے پی اور پنجاب میں مقامی حکام کی خدمات کی فراہمی کی صلاحیتوں کو فروغ دیا جائے گا، جبکہ عمارتوں میں توانائی کی بچت کو فروغ دینے کے لیے 3 ملین یورو کی بلڈنگ ٹرانزیشن کے دیگر منصوبے کے لیے دیئے جائیں گے۔

    امریکی ایوی ایشن سسٹم کی اپ گریڈیشن مکمل؛ مقامی پروازیں جزوی طور پر بحال

    انوینٹریز اور پائلٹ ڈیموسٹریشن ماڈلز کا استعمال کرتے ہوئے سیاسی، قانونی اور ریگولیٹری مداخلتوں کے ذریعے منتقلی ماڈل کی تعمیر کے ذریعے توانائی کی بچت کو فروغ د یا جائے، موسمیاتی موافقت اور لچک کو مضبوط بنایا جائے اور مجموعی طور پر10 ملین یورو کی فراہمی کا عزم ، موسمیاتی تبدیلی کے موافقت اور موسمیاتی خطرے کی منجیمنٹ کے لیے تمام شرائط کو بہتر بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔

    مالی تعاون کا معاہدہ 2020 مالیت کی 5 ملین یورو کی گرانٹ پر بھی دستخط کیے گئے یہ فریم ورک معاہدہ “صحت کے شعبے میں خواتین کے لیے خود روزگار” کےعنوان سےصرف ایک پروجیکٹ پر مشتمل ہو گاجس پرکے ایف ڈبلیو کے ذریعے عمل درآمد کیا جائے گا۔ یہ منصوبہ ملازمتوں اور آمدنی کے مواقع پیدا کرنے اورمحفوظ حالات کو فعال کرنےمیں مدد کرےگاجوبین الاقوامی ماحولیاتی اور سماجی معیارات کو پورا کرنے اور جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی میں حصہ ڈالنے میں مزید معاون ہوں گے۔

    لیپ ٹاپ گم ہونے پر گاہک نےغصے میں اپنی کار ہوٹل پر دے ماری

    سیکرٹری وزارت اقتصادی امور کاظم نیازنے تعاون پر جرمن حکومت کا شکریہ ادا کیا اور ملک میں اقتصادی ترقی اور پائیدار ترقی کے فروغ میں جرمن فیڈریشن کی حکومت کے اہم کردار کو سراہا۔

    جرمنی کے سفیر مسٹر الفریڈ گراناس نے اس موقع پر کہا کہ جرمنی کی طرف سے موسمیاتی موافقت، معاشی بااختیاری اور گورننس کے شعبوں میں فراہم کی جانے والی فنڈنگ نہ صرف شعبہ جاتی بہتری میں مدد دے گی بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور پائیدار ترقی کے ذریعے استفادہ کرنے والوں کی سماجی و اقتصادی ترقی میں بھی مدد گار ہوگی۔

  • پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ اور نجی کمپنی کے درمیان معاہدہ

    پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ اور نجی کمپنی کے درمیان معاہدہ

    پی ایس ایل فرنچائز اسلام آباد یونائیٹڈ اور نجی کمپنی کے درمیان معاہدہ طے پا گیا

    سابق کرکٹر سعید اجمل کا کہنا ہے کہ انٹرنیشنل لیگز کیلیے کھلاڑیوں کو جانا چاہیے،جہاں کرکٹ ہوتی ہے تو انجریز بھی ہوتی ہے،شاداب خان کی پرفارمنس آسٹریلیا میں بگ بیش کی وجہ سے ہے،ریحان الحق کا کہنا تھا کہ پی سی بی کی جانب سے پنڈی اور ملتان سے میچز شفٹ کرنے کی ابھی تک کوئی بات نہیں ہوئی ،شاداب خان پی ایس ایل کیلیے دستیاب ہوگا،پی سی بی میں ایک قانون ہونا چاہیے،لاہورکوئٹہ سمیت ہر جگہ میچ کھیلنے کیلیے تیار ہے ،

    سابق ٹیسٹ کرکٹر سعید اجمل کا کہنا تھا کہ چئیرمین تبدیل ہوتا ہے تو کھلاڑیوں پر اثر ہوتا ہے، نیا چئیرمین آتے ہی بہت سارے لوگوں کی نوکریاں چلی جاتی ہیں،جو کپتان بنا جس کو سکھایا اس کو نکالنا حل نہیں ہے،بابر جیسے دو تین اور کھلاڑی آجائے تو ہماری ٹیم ترقی کرجائے گی،میرے خیال میں بابر کو کپتانی سے ہٹانا نہیں چاہیے،ہم وائٹ بال کے کرکٹرز تیار کررہے ہیں ٹیسٹ کے نہیں، ٹیسٹ میں باولرز کو سونگ اور لینتھ پر بال کرنا پڑتا ہے، بہت عرصے بعد مجھے ایسا لگا ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ زیادہ اچھی تھی باولنگ سے، ٹیسٹ میچز میں لمبی باولنگ کرنے والے باولرز کو تلاش کرنا ہوگا، ہم نے بہترین ٹیم سلیکٹ کی ہے پرفارمنس دینا کھلاڑیوں کا کام ہے،

    برطانیہ کے بعد پشاور زلمی یورپ میں ٹیلنٹ کرنے والی پاکستان کی پہلی پی ایس ایل فرنچائز

    ٹیم آف ایچ بی ایل پی ایس ایل 7 کی قیادت محمد رضوان کے سپرد

    ایچ بی ایل پی ایس ایل7: قلندرز، سلطانز کوشکست دے کر پہلی مرتبہ چیمپیئن بن گیا

  • سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ کی آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت

    سپریم کورٹ میں دیامر بھاشا اور مہمند ڈیمز عملدرآمد کیس کی سماعت ہوئی

    سپریم کورٹ نے آڈیٹر جنرل کو ڈیم فنڈ کے ریکارڈ کا جائزہ لینے کی ہدایت کر دی ،عدالت نے حکم دیا کہ سٹیٹ بنک کیساتھ مل کر ڈونرز اور سرمایہ جاری کے تمام ریکارڈ کا جائزہ لیا جائے، دستاویزات میں بے ضابطگی ہونے یا نہ ہونے کی نشاندہی کی جائے، حکام سٹیٹ بینک نے کہا کہ ڈیمز فنڈ سے کوئی اخراجات ہوئے نہ کبھی کسی نے رقم نکالی،ڈیمز فنڈ میں اس وقت 16 ارب سے زائد رقم موجود ہے،جو رقم بھی آتی ہے سرکاری سکیورٹیز میں سرمایہ کاری کر دی جاتی ہے،نیشنل بنک کے ذریعے ٹی بلز میں سرمایہ کاری کی جاتی ہے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈیمز فنڈ کے ڈونرز کا تمام ریکارڈ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر موجود ہے،

    سیلابی پانی کے بعد لوگ مشکلات کا شکار ہیں کھلے آسمان تلے مکین رہ رہے ہیں

    آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کانجو اور سوات کا دورہ کیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا

    پاک فضائیہ کی خیبر پختونخوا، سندھ، بلوچستان اور جنوبی پنجاب کے سیلاب سے شدید متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیاں۔

    جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ سرمایہ کاری کی تو فنڈ میں دس ارب تھے جو 26 جنوری کو 17 ارب ہو جائیں گے، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عوام کو بتائیں گے کہ انکے فنڈ سے کونسی مشینری خریدی گئی،ڈیمز فنڈ کا پیسہ سیلاب کی تباہ کاریوں کی مرمت پر نہیں خرچ ہوگا،ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں، سیکرٹری واٹر نے عدالت میں کہا کہ 2.4 ارب جاری کرنے کیلئے ہدایات دے دی ہیں، جسٹس اعجاز الاحسن نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ یقینی بنائیں کہ ڈیمز منصوبے کو اس سارے عمل میں نقصان نہ ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ مالی مشکلات پر تشویش ہے، ایسے اقدامات کرنے ہیں جس سےاخراجات کم ہوں، اچھی قومیں چیلنجز کا سامنا کرتی ہیں،

    سعد رسول وکیل واپڈا نے عدالت میں کہا کہ پاور ڈویژن پر واپڈا کے 240 ارب روپے واجب الادا ہیں، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ پاور ڈویژن کیوں واپڈا کو ادائیگی نہیں کررہا ؟ سیکرٹری پاور نے کہا کہ ہمیں بجلی کی مد میں وصولیوں پر 400 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے،گردشی قرضہ 2 کھرب 600 ارب روپے سے تجاوز کرگیا، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اسی وجہ سے آئی ایم ایف نے بھی خدشات کا اظہار کیا ہے، سیکرٹری پاور نے کہا کہ بنیادی مسئلہ یہ ہے کہ بجلی کے نرخ کم اور اخراجات زیادہ ہیں،بہت سی جگہوں پر ہم 100 یونٹس فروخت کریں تو رقم 10 یونٹس کی ملتی ہے،بہت سے علاقوں میں میٹر کا تصور ہی نہیں ہے، کیسکو کمپنی نے گزشتہ سال 94 ارب روپے کی بجلی دی لیکن رقم صرف 25 ارب روپے ملی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سے یہ کمپنیاں نہیں چلتی تو نجکاری کیوں نہیں کردیتے ؟ بجلی کی تقسیم کار کمپنیاں ان کو دے دیں جو چلا سکیں، آڈیٹر جنرل ڈیم فنڈ کی تمام رقم کو چیک کریں کہ کوئی بے ضابطگی تو نہیں ہوئی ؟ ہم سب ٹرسٹی ہیں اور یہ رقم لوگوں کی امانت ہے، یہ بات انتہائی خوش آئند ہے کہ آج بھی ڈیم فنڈ میں پیسے آرہے ہیں،

    سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ ملک میں اس وقت سرکلر ڈیٹ 2.6 ٹریلین روپے ہے، سرکولر ڈیٹ میں مزید اضافہ بھی متوقع ہے، بعض گرڈ سٹیشنز پر 90 فیصد سے زائد بجلی چوری ہوتی ہے،کیسکو نے گزشتہ سال 95 ارب کی بجلی دی بل صرف 25 ارب جمع ہوا، کنڈے ڈال کر بجلی چوری کی جاتی ہے، بجلی چوری میں ہمارے اپنے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں،
    بجلی چوروں کیخلاف کارروائی بھی پورے دل کیساتھ نہیں کی جاتی، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ڈسکوز کا یہ حال ہے تو نجکاری کیوں نہیں کر دیتے؟ آئی ایم ایف اور حکومت دونوں کو ہی سرکولر ڈیٹ پر تشویش ہے، سیکرٹری پاور ڈویژن نے کہا کہ بجلی کی قیمتوں میں اضافے سے سرکولر ڈیٹ میں بہتری آئی ہے،بجلی قیمت خرید اور فروخت میں سالانہ 400 ارب روپے کا شارٹ فال ہے، وکیل واپڈا نے کہا کہ پاور ڈویژن نے سی پی پی اے کی مد 240 ارب ادا کرنے ہیں،ٹھیکیداروں کو ادائیگی نہ ہونے سے ڈیمز کا کام متاثر ہو رہا ہے،جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ممکن ہے پیسوں کی کمی کے باعث حکومت ادائیگی نہ کر پا رہی ہو، چیف جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ٹرانسمیشن لائنز منصوبے کیلئے بہت اہم ہیں وکیل واپڈا نے کہا کہ سیلاب اور سکیورٹی صورتحال کی وجہ سے ڈیمز کا کام متاثر ہوا،سیلاب سے مہمند ڈیم کے انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا،فنڈز کی کمی بھی ڈیمز منصوبوں کی راہ میں رکاوٹ بن رہی ہے،پی ایس ڈی پی میں مختص رقم بھی نہیں مل رہی،کرونا کی وجہ سے بین الاقوامی ماہرین بھی واپس چلے گئے تھے،
    ڈیمز کی تعمیر کا کام مقررہ وقت سے کم و بیش ایک سال پیچھے رہ گیا ہے، عدالت نے کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی کردیا

    عدالت کیا کرے جو ڈیم بنا رہے ہیں وہی ان معاملات کو دیکھیں گے،سپریم کورٹ

    ‏دیامیر بھاشا ڈیم کو میں نے ایٹمی پروگرام جتنا اہم منصوبہ قرار دیا اور محنت کر کے سی پیک میں شامل کروایا ، احسن اقبال

    ڈیموں کے مخالفین پاکستان کے دشمن ہیں: سابق چیئرمین واپڈا انجینئر شمس الملک

    ڈیم مخالف مہم بے نقاب ، ہم نے مقامی لوگوں کو ڈیم کے خلاف بھڑکایا، بھارتی جنرل کا اعتراف

    سینیٹ اجلاس میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر بارے رپورٹ پیش ہونے پر اپوزیشن کا احتجاج

    سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کا تذکرہ،عدالت نے کیا دیئے ریمارکس؟

    کالا باغ ڈیم ضروری،نئے ڈیمز نہ بنے تو صوبے آپس میں لڑتے رہیں گے ،چیئرمین ارسا

  • بریکنگ نیوز: امریکی ڈالر 4.05 کا ہوگیا

    بریکنگ نیوز: امریکی ڈالر 4.05 کا ہوگیا

    برازیل: برازیل میں امریکی ڈالر 4.05 کا ہوگیا.

    تفصیلات کے مطابق برازیل میں امریکی ڈالر کی قیمت 4.05 ہوگئی ہے. جس سے وہاں کی معیشت کو کافی نقصان پہنچا ہے. ایک ماہ قبل برازیل میں ڈالر کی قیمت 3.80 تھی. برازیل میں ایک ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے. وہاں کے معاشی مبصرین کہتے ہیں کہ ڈالر کی قدر میں اضافے سے ملک میں مہنگائی بھی ہوسکتی ہے. دوسری جانب برازیل کے معاشی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگلے چند روز میں ڈالر کی قدر میں مزید اضافہ دیکھا جائے گا.

  • ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    چلی میں ڈالر 680 پیسو کا
    کولمبیا میں 3198 پیسو کا
    ہنگری میں 284 فارنٹ کا
    آئس لینڈ میں 124 کرونا کا
    انڈیا میں 69 روپے کا
    انڈونیشیا میں 14139 روپیہ کا
    ایران میں 42086 ریال کا
    جاپان میں 107 ین کا
    قازقستان میں 379 ٹینگے کا
    نیپال میں 110 روپے کا
    روس میں 63 ربل کا
    جنوبی کوریا میں 1158 وان کا
    سری لنکا میں 176 روپے کا
    وغیرہ وغیرہ
    اب ذرا ان میں سے چلی، ہنگری، جاپان، روس، آئس لینڈ اور جنوبی کوریا پہ نظر ڈالیں
    یہ سب کے سب ہم سے کوئی 40, 50 سال آگے ہیں
    یہی نہیں بلکہ ہم سے تو انڈونیشیا، انڈیا اور قازقستان بهی آگے ہیں
    ہائیں؟ کیسے؟
    ڈالر اتنا مہنگا ان کے ہاں اور یہ ترقی بهی کر گئے؟چلیں چلی پہلے سامنے آگیا تو پہلے اسی کی ہی مثال لے لیں ۔ چلی میں ایک امریکی ڈالر 680 پیسو کا ہے یعنی ہم سے تقریبا 400% کم ویلیو کا لیکن اسکے باوجود بھی چلی لاطینی امریکہ کا سب سے مستحکم معیشت رکھنے والا خوشحال ملک ہے ۔ چلی کو 2006 میں OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) کا رکن بھی بنا لیا گیا ۔ چلی میں گو کہ inequality ہے لیکن پھر بھی غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کا تناسب صرف پونے تین فیصد ہے ۔

    بات یہ ہے کہ کرنسی کا گرنا یا ایک ایک ڈالر کے بدلے میں جھولیاں بھر بھر کر مقامی کرنسی کا مل جانا ہی معیشت کی کمزوری یا ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی ایکسچینچ ریٹ تو کبھی بھی معاشی کارکردگی یا معاشی ترقی کا ثبوت نہیں ہوتے ۔ دنیا ہنسے گی اگر آپ نے ایسی کوئی مثال بھی دی ۔ مثلا اس وقت ایک امریکی ڈالر 163 پاکستانی روپے کا ہے اور ایک کویتی دینار 537 روپے کا ہے تو کیا پھر کویتی دینار امریکی ڈالر سے بھی مضبوط کرنسی بن گیا یا کویت کی معیشت امریکہ سے تین سو فیصد بڑی گئی کیونکہ اس لحاظ سے تو ایک کویتی دینار ایک امریکی ڈالر کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کویتی دینار کے امریکی ڈالر سے مہنگا ہونے کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کویت کی اکانومی ایک مضبوط اکانومی ہے ۔ ملکوں کی معیشت ڈالر کے ایکسچینج ریٹس سے نہیں بلکہ برآمدات ، فارن ریزرو ، قومی پیدوار اور بچتوں میں اضافے سے ہوتی ہے ورنہ تو GDP تو چلی کا بھی 300 اب ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کا 330-340 ارب ڈالرز ۔ اب پاکستان کی پتلی حالت بھی سامنے ہے اور چلی کی خوشحالی بھی ۔

    چلی میں چلی کے لوگوں کو ایک ڈالر 680 peso میں مل رہا ہے یعنی ہمارے ملک کے دانشوڑوں کے لحاظ سے تو اندھیر ہی مچ گئ لیکن چلی میں کرنسی کی قدر کو کم رکھنے کا ٹرینڈ تو پچھلے کئی سالوں سے ہے اور ہر ایکسپورٹ اورینٹڈ اکانومی والے ملک کا یہی طریقہ ہونا بھی چاہئیے ۔ دس سال پہلے 2009 میں چلی کا پیسو 550 کے قریب تھا اب 2019 میں 680 کے قریب ہے اور مزے کی بات یہ کہ اتنی ڈی ویلیو کرنسی کے باوجود چلی کی معیشت "مضبوط معیشت” ہے کیونکہ چلی کی” آمدنی "اسکے "اخراجات” سے زیادہ ہے ۔ یا یوں کہئیے کہ اس نے اپنے اخراجات اپنی کمائی سے کم رکھے ہیں ۔ یعنی ایکسپورٹ زیادہ اور امپورٹ کم لہذا بیلنس آف ٹریڈ بھی پوزیٹو ہے ۔ 2017 میں چلی کی ایکسپورٹ 23۔69 ارب ڈالرز رہیں تھیں (جس میں سے تیس ارب ڈالرز کی تو صرف کاپر کی ایکسپورٹ ہے چین اور امریکہ کو) اور امپورٹس 31۔61 ارب ڈالرز ۔ یعنی آمدنی ذیادہ خرچہ کم باقی کی رقم منافع اور سیونگ ۔ چلی میں ملکی ڈپازٹس کا 20 فیصد قومی بچت سے آتا ہے ۔ یعنی کل ملا ایک ڈالر میں 635 پیسو دینے والے چلی کے فارن ریزرو میں تو اس 39-40 ارب ڈالرز پڑے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے اسحاق ڈالر کے ڈالر کو 100 کے آس پاس رکھنے والے پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالرز کے فارن ریزرو بھی بمشکل جمع ہو پاتے ہیں۔ ایک ڈالر کے 680 پیسو دینے والے چلی کی تو ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں رینکنگ 48 ہے اور 100 پر ڈالر کو "پھڑیئے "رکھنے والا پاکستان 158 نمبر پے ۔ 2017 میں چلی میں بیرونی سرمایہ کاری یعنی فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ FDI , 206 ارب ڈالرز کی ہوئی اور ادھر پاکستان میں بمشکل سوا 3 ارب ڈالرز ۔

    پاکستان اور چلی میں فرق صرف یہ ہے چلی میں وہ دانشوڑ طبقہ نہیں ہے جن کے 45 گروتھ والے دماغوں کو انکے پے ماسٹرز نے صرف ڈالر کا ریٹ اور اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پڑھنا ہی سکھایا یے ۔ جسکی وجہ سے قوم کے سامنے صحیح معاشی صورتحال آ ہی نہیں پاتی ۔ حالانکہ ذرا سی بھی معاشی سمجھ بوجھ رکھنے والا معیشت دان پانچ سال سے 24 ارب ڈالرز کے آس پاس کھڑی ایکسپورٹ اور پہاڑ کی طرح بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو دیکھ کر سہمے جا رہا تھا اور روپیہ ڈی ویلیو کرنے کے لئیے پچھلے تین چار سالوں سے ہر بڑا معیشت دان چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہا تھا کہ آنے والوں دنوں میں بیلنس آف پیمنٹ کا گیپ اتنا بڑھ جائگا کہ بھیک تک مانگنا پڑ جائیگی لیکن اسحاق ڈار نے اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک دشمن کر سکتا تھا ۔ پانچ سالہ دور اقدار میں لئیے گئے 41 ارب ڈالرز کے قرضے میں سے 7 ارب ڈالرز کی بڑی رقم ڈالر کی قمیت کو 100 پر "پھڑیے” رکھنے میں جھونک دی ۔ جسکا زیادہ فائدہ امپورٹرز کو ہوا اور اس فائدے سے کئی گنا زیادہ نقصان ایکسپورٹرز کو ہوتا رہا ۔ جس ڈالر کے روکے رکھنے کو ن لیگ کی اقتصادی شہہ دماغوں کی قابلیت باور کرایا جاتا رہا ہے وہ تو پورا پلان تھا پاکستان کی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا کر جانے کا تاکہ آنے والی حکومت قرضوں کی قسطیں بھر بھر کے اور معیشت کے جسم کو لگے گھاو کو بھرتے بھرتے خود ہی گھائل ہو کر منہ کے بل گر جائے ۔ اور یہ صرف معیشت کا ہی گرنا نہ ہوتا ملکی سلامتی اور سیکیورٹی بھی منہ کے بل گر چکی ہوتی ۔

    اسحاق ڈالر کا ڈالر کو 100 روپے پر روکے رکھنا پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا مریض بنا گیا گیا ۔ ایکسپورٹ تو پانچ سال تک 24 ارب ڈالرز پر ہی رہی رہیں لیکن ڈالر سستا رکھنے سے امپورٹس کا جو بل ن لیگ کی حکومت کے آغاز میں تقریبا 35 ارب ڈالرز سالانہ تھا وہ 56 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ ایکسپورٹ 24 ارب ڈالرز پر ہی کھڑی رہیں ۔ اب ظاہر ہے آپ کے گھر والے کما تو وہی 24-25 روپے رہے ہوں لیکن اللے تللوں اور خریداریوں میں 55-56 روپے لگا رہے ہوں تو باقی کا پیسہ یا تو بھیک سے آئیگا یا قرضوں اور گھر کا سامان گروی رکھنے سے ۔ اور یہی ہوا ۔ پچھلے پانچ سالوں ملکی ادارے سستے قرضوں کے بدلے گروی رکھے جاتے رہے، مارکیٹ اور آئی ایم ایف سے قرضے لیکر امپورٹ بل بھرے جاتے رہے اور ڈالر کو” پھڑیے” رکھنے میں جھونکے جاتے رہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے عمران خان کی حکومت کو آنے سے پہلے ہی اسحاق ڈار کی ڈارنامکس کا بوجھ ڈھونا پڑ گیا ۔ قرضہ لیا پچھلوں نے ، لیکن حکومت میں آتے ہی اس سال میں اس حکومت کو 7۔9 ارب ڈالرز کا پچھلوں کا یعنی ن لیگ کا لیا ہوا قرضہ اتارنا پڑا ۔ جی ہاں 7۔9 ارب ڈالرز کا ۔ اور کان کھول کر یہ بھی سن لیں کہ اگلے دو سالوں میں 27 ارب ڈالرز کا قرضہ مذید میچیور ہو جائگا ۔ یعنی پاکستان کو اگلے دو سالوں میں صرف اور صرف afloat رہنے یعنی اپنی معاشی بقا کے لئیے 50-55 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ 27 ارب ڈالرز کے قرضے دے سکے وہ جو ن لیگ اور زرداری دور میں لئیے گئے ۔ اب ننگا نہائے گا اور نچوڑے گا کیا ؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی اکنامک لٹریسی بڑھانی ہوگی ۔ 45 فیصد والے دانشوڑوں کو چھوڑیں انہیں سمجھ نہیں آنی لیکن پاکستانی قوم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی یا بدحالی کا دارومدار ڈالر یا کسی بهی بیرونی کرنسی پہ نہیں ہوتا یہ وہاں کی معیشت اور ملک کے اندر موجود حالات کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات پہ ہوتا ہے ۔ آپ کی برآمدات اگر درآمدات سے زیادہ ہوں آپ کے ملک پہ بے تحاشا قرضے نہ ہوں اور ہیومن ریسورسز پوری طرح سے جدید بنیادوں پہ استوار کی گئی ہوں تعلیم کی ریشو کم سے کم 80 فیصد ہو تو پهر ڈالر چاہے ایک ہزار روپے کا ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں نا تعلیم ہے معیشت کا کباڑا ہو چکا ہے قرضوں کی بهرمار ہے اس لیے مہنگائی ہے تنخواہیں کم ہیں تو تهوڑا زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر واویلے نے پوری کر دی ہے اس لیے زیادہ ہی ہائے ہائے ہو رہی ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ نظام انصاف اور کرپشن کی جڑ کاٹے بغیر inclusive growth کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

    جنوبی کوریا پاکستان کے ایک صوبے جتنا ہے وہی جنوبی کوریا جہاں کی سامسنگ کمپنی کا موبائل لے کر خوشی سے پهٹنے والے ہو جاتے ہو اسی ملک کی کرنسی ہم سے بهی پیچهے ہے مگر ان کے ہاں قانون اور انصاف کا راج ہے وہاں کوئی بهی جا کر کرپشن میں پهنسے بندے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہاں کرپٹ افراد سے ان کے اپنے خاندان والے بهی تعلقات ختم کر لیتے ہیں دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک گرفتار کیے جانے والے تمام کرپٹ افراد میں سے 90 فیصد نے خودکشی کر لی کیوں کہ عوام ان پہ تهوکتی پهرتی تهی رہائی کے بعد بهی ۔

    دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو قتل سے بھی بڑ جرم سمجھا جاتا ہے اور قتل کی سزاوں سے بھی سخت سزائیں منی لانڈرنگ اور کرپشن کی ہیں ۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے تو ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ اسکے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے لیکن منی لانڈرنگ تو ملک کی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بہیمانہ اور شرمناک جرم تصور کیا جاتاہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے خاندانوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرپڑتے ہیں ۔ اور یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ۔ سندھ اور پنجاب پر حکمران خاندانوں کی سربراہی میں باقاعدہ بینک بنا کر منی لانڈرنگ کے دھندے کئیے گئے ۔ اب جب منی لانڈرنگ کی جڑ کاٹی جارہی ہے تو پاکستان کے دانشوڑوں کو معیشت کی بحالی کے حقیقی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ FBR کا 5 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا منظر عام پر لانا ، FBR کا Chinese ٹیکس سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیئے جانا ، NAB کا چائنا کا ساتھ کرپشن مکاو MOU سائن کرنا اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کا سلسلہ روکنا ، یہ اور اس جیسے کئی اقدامات ایسے ہیں جو صرف اور صرف اسی دور میں اٹھائے جارہے ہیں ۔ صرف 40 ہزار والے پرائز بانڈ کو دیکھیں تو اس کھیل کی ڈائنامکس سمجھ کر ہوش اڑ جائیں ۔ اس وقت ملک میں تقریبا نو سو ارب یعنی 6 بلین ڈالرز کے پرائز بانڈ سرکولیشن میں ھیں۔۔6 ارب ڈالر ، یہ اتنا ہی جتنا ہم نے IMF سے قرضہ لیا ہے ۔کہا جاتا ھے، یہ پرائز بانڈز ملک میں سب سے زیادہ کرپشن کو فروغ دیتے تھے، کیونکہ ایک تو ان کا سائز یعنی چالیس ھزار کے بونڈ کی سو کی گڈی چالیس لاکھ بنتی ھے ۔۔اور یہ آسانی سے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوجاتے ھیں۔۔۔اور کسی کو پتہ نہی چلتا ۔۔ یہ پرائز بانڈز کئ دھائیوں سے ملک میں کالا دھن کا بہترین اور آسان زریعہ بنا ھوا تھا جس کو کسی حکومت نے روکنے کو کوشش نہی کی۔اب جب ان بانڈز کے اجراع کو بند کیا جارھا ھے تو جن جن حضرات کے پاس یہ سارے ہرائز بانڈز موجود ھیں ان کو بینک جاکر روپے میں تبدیل کروانا پڑے گا، جہاں ان کو اس انکم کا حساب دینا پڑے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کا ٹیکس دیا تھا یا نہی۔۔۔

    دانشوڑوں سے درخواست ہے کہیہ ڈالر کی اونچی اڑان والا واویلا بند کریں ۔ ہم 22 کروڑ میں سے تقریباً 98 فیصد نے تو ڈالر کو ہاتھ میں پکڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ جب کہ دانشوڑوں کا گریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے روزانہ ڈالر ہی کهاتے ہیں اور مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سارے دانشوڑ بهوکے مر جائیں گے۔ قسمے اگر جہالت پہ اگر کوئی انعام ہوتا یا سینگ لگتے تو ہمارے پاکستانی دانشوڑ بارہ سنگھے ضرور ہوتے ۔