Baaghi TV

Tag: drama

  • تعداد کی بجائے معیار پر توجہ دیتی ہوں صبا قمر

    تعداد کی بجائے معیار پر توجہ دیتی ہوں صبا قمر

    اداکارہ صبا قمر نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں نے کبھی بھی تعداد کو کوالٹی پر ترجیح نہیں دی، یہی وجہ ہے کہ بعض اوقات کافی وقت لگ جاتا ہے چھوٹی یا بڑی سکرین پر آتے آتے. انہوں نے کہا کہ ہر انسان کی زندگی کے کچھ اصول ہوتے ہیں اور میری بھی زندگی کی اصول ہیں اور پہلا اصول یہ ہے کام کے حوالے سے کہ کام معیاری کرنا ہے تعداد کو ترجیح نہیں دینی. انہوں نے کہا کہ میرے پاس اس وقت تین فلموں کی آفر ہے لیکن میں سوچ بچار کررہی ہوں، ان میں سے کوئی ایک فلم شاید کر لوں اس کے علاوہ میرے پاس ڈرامے بھی ہیں وہ بھی کررہی

    ہوں. انہوں نے کہا کہ مجھے کوئی کمپلیکس نہیں ہے کہ میں چھوٹی سکرین پر نظر آ رہی ہوں بڑی سکرین پر نہیں . مجھے ہر جگہ پر اپنے مداحوں کی محبت ملتی ہے میرے لئے یہی کافی ہے صبا قمر نے کہا کہ فنکار وہی ہے جس کو فن پر دسترس ھاصل ہو مجھے لگتا ہےکہ اداکاری اگر حقیقت کے قریب نہ ہو تو شائقین اسے پسند نہیں‌کرتے اس لئے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں حقیقت کے قریب اداکاری کروں اور اپنے مداحوں کو خوش کروں. یاد رہے کہ صبا قمر نے فلم کملی میں اپنی صلاحیتوں کا بہترین مظاہرہ کیا.

  • کلاس فیلو کو خط لکھا اور پکڑا گیا احسن خان

    کلاس فیلو کو خط لکھا اور پکڑا گیا احسن خان

    سینئراداکار احسن خان نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کی ہیں کچھ ایسی باتیں جن کے بارے میں‌ انہوں نے کبھی پہلے کھل کر بات نہیں کی، انہوں نے کہا ہےکہ میرا ایک بھائی میرا جڑواں ہے ہم دونوں کی شکل بھی بہت ملتی ہے. میرا بھائی بہت زیادہ شرارتی تھا ، وہ شرارتیں کرتا تھا ، اور مار مجھے پڑتی تھی ، اور ایسا شکل ملنےکی وجہ سے ہوتا تھا، انہوں نے کہا میں جب سکول میں پڑھتا تھا تو مجھے ایک لڑکی پسند آ گئی اور میں نے اسکو اسی پسندیدگی میں خط

    لکھ دیا ، وہ خط اس لڑکی کو ملنے کی بجائے اسکی ایک دوست کے ہاتھ لگ گیا اور اس کے بعد سکول میں‌میری بہت بدنامی ہوئی، اس خط میں‌، میں نے ایسا کچھ نہیں لکھا تھا بس پسند کا اظہار کیا تھا، لیکن میری بڑی بدنامی ہوئی، احسن خان نے کہا کہ میں‌ اداکاری کرکے بہت اچھا محسوس کرتا ہوں، میں یہ نہیں دیکھتا کہ کردار نیگیٹو ہے یا پازیٹیو ، بس اداکاری کرنے کا مارجن اچھا ہونا چاہیے. مجھے کوئی کمپلکس نہیں‌ہوتا کہ میرا امیج ہیرو کا ہے کہیں وہ خراب نہ ہوجائے.

  • لڑکیاں امیر لڑکوں سے شادی کریں ثناء نواز

    لڑکیاں امیر لڑکوں سے شادی کریں ثناء نواز

    سینئراداکارہ ثناء نواز نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ لڑکیوں کو چاہیے کہ جب بھی وہ شادی کا فیصلہ کریں تو یہ دیکھیں کہ جس سے شادی کررہی ہیں اس کے پاس کتنا پیسہ ہے کیونکہ پیسہ نہ ہو تو جتنی مرضی محبت ہو وہ شادی کے بعد ختم ہوجاتی ہے. انہوں نے کہا کہ میں یہ نہیں کہتی کہ غریب لڑکوں سے شادی نہ کریں لیکن اپنے فیوچر کو ضرور سیکیور کریں. انہوں نے کہا کہ میرا نام اب ثناء نواز ہے اور میں خوش ہوں اب اپنی زندگی سے. ثناء نے کہا کہ میری فٹنس کا راز یہ ہے کہ میں بہت زیادہ خود پر توجہ دیتی ہوں ، ورزش کرتی ہوں کھانے پینے کا

    خیال رکھتی ہوں، مجھے بہت اچھا لگتا ہے جب لڑکیاں میری طرف دیکھ کر خود کو فٹ رکھنے کی کوشش کرتی ہیں. انہوں نے کہا کہ انسان کو کوئی بھی فیصلہ سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے. واضح رہے کہ ثناء نواز نے اپنے شوہر فخر سے خلع لیتے ہوئے اس رشتے کو ختم کر دیا ہے. اب وہ اپنے بچوں کے ساتھ اکیلی زندگی گزار رہی ہیں اور ان کہنا ہےکہ میں اپنے بچوں کے ساتھ بہت خوش ہوں. ثناء نے کہا کہ کام انسان کو مصروف رکھتا ہے اس لئے کوشش کریں‌کہ کام میں مصروف رہیں زندگی ایکبار ملتی ہے اسکو ہنس کر گزاریں.

  • قیصر خان نظامانی گھر میں نوکرانی نہ رکھنے کی وجہ بتا دی

    قیصر خان نظامانی گھر میں نوکرانی نہ رکھنے کی وجہ بتا دی

    سینئر اداکار قیصر خان نظامانی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں اور میری اہلیہ ہم دونوں مصروف رہتے ہیں ، ہمارے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ ہم گھر کے کام خود کر سکیں لیکن ہم نے اپنے گھر میں نوکرانی نہیں‌رکھی ہوئی ہاں ایک وقت تھا جب ہمارے گھر میں نوکر ہوا کرتے تھے لیکن اب ایسا نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ نوکرانی اس وقت رکھنا چھوڑ دی، جب اس نے میرے بیٹے کو اغواء کرنے کی کوشش کی، تفصیلات بتاتے ہوئے اداکار نے کہا کہ میرا بیٹا آٹھ ماہ کا تھا ، میری نوکرانی اسکو اٹھا کر لے گئی، لیکن گھر سے باہر نہ لیجا سکی کیونکہ گھر کے باہر

    میرے جاننے والے بیٹھے ہوئے تھے اب وہ کمرے سے باہر تو بیٹے کو لے آئی لیکن واپس کیسے لاتی اس سے پوچھ گچھ ہوتی کہ کہاں سے لائی ہو بیٹے کو لہذا وہ اسکو سیڑھیوں پر چھوڑ کر بھاگ گئی اور اس کے بعد ہمیں نہیں پتہ کہ وہ کہاں گئی، اس واقعہ نے ہمیں بہت پریشان کیا، اور ہم نے نوکروں کو رکھنا ہی چھوڑ دیا میں میری اہلیہ، اور بچے ہم سب اپنے کام خود کرتے ہیں. مجھے کئی دن تک نیند نہیں‌ آئی تھی جب نوکرانی نے میرا بیٹا اغواء کرنے کی کوشش کی.

  • لاہور والوں سے اللہ بچائے نازش جہانگیر

    لاہور والوں سے اللہ بچائے نازش جہانگیر

    اداکارہ نازش جہانگیر نے اپنے حالیہ انٹرویوں میں کہا ہے کہ میرا تعلق اسلام آباد سے ہے اور ہمارے شہر کے لوگ بہت سادی طبیعت کے ہوتے ہیں.جبکہ کراچی کے لوگ بہت زیادہ برگر ہیں، اور عجیب و غریب سے برگر ہیں.لاہوریوں سے تو اللہ بچائے. ایسی لمبی لمبی پھینکتے ہیں کہ میری توبہ. انہوں نے کہا کہ میں نے تھیٹر سے کام کی شروعات کی، اور ماڈلنگ بھی کی، ڈرامہ میرے پلان میں بالکل بھی نہیں تھا لیکن مجھے ڈرامے آفر ہوئے تو میں‌نے اس میں بھی قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا اور آج آپ کے سامنے ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے اچھی گاڑیاں

    خریدنے کا بہت شوق ہے لیکن میرے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں چار سال مسلسل کام کیا ہے تو اب جا کر میں‌نے گاڑی خریدی ہے اور اس گاڑی کو جب سے خریدا ہے گھر میں ہی کھڑا کیا ہوا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ کہیں‌ میری گاڑی لگ نہ جائے. کراچی کی سڑکیں ٹوٹی ہوئی ہیں، نازش نے کہا کہ میرے ابو کہا کرتے تھے کہ قدر انسان کو تب ہوتی ہے جب وہ اپنے پیسوں سے کوئی چیز خریدتا ہے. اور مجھے واقعتا ابو کی اب یہ بات یاد آتی ہے. انہوں نے کہا کہ مجھے کام کرنے کا جنون ہے. جب بھی جو اچھا کام ملتا ہے کر لیتی ہوں اور کرکے واپس اسلام آباد چلی جاتی ہوں.

  • ہم جن وقتوں میں بڑے ہوئے وہ سادہ تھے رابعہ کلثوم

    ہم جن وقتوں میں بڑے ہوئے وہ سادہ تھے رابعہ کلثوم

    اداکارہ رابعہ کلثوم جو آج کل ہمیں ڈرامہ سیریل مجھے پیار ہوا تھا میں وہاج علی کی بہن بنی دکھائی دے رہی ہیں انہوں نے اپنے ھالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ جب ہم بڑے ہو رہے تھے اس وقت چیزیں سادہ تھیں‌وہ وقت سادہ تھے ، پیچیدگیاں نہیں تھیں‌مسئلے مسائل نہیں تھے ، سوشل میڈیا نہیں تھا، گھریلو زندگی بہت آسان نہیں تھی. لیکن جیسے جیسے وقت آگے بڑھا ہے ٹیکنالوجی نے ترقی کر لی ہے ویسے ویسے مسائل بھی بڑھے ہیں، اور پیچیدگیاں بھی بڑھی ہیں، آج ہمارے پاس سوشل میڈیا ہے ہم ہر ضروری اور غیر ضروری چیز پر بحث کررہے ہوتے ہیں، یہ سوچے بغیر کہ اس کا فائدہ یا نقصان کیا ہوگا ، ہم ہر چیز میں‌ بحث‌ کرکے مسئلے کھڑے کر دیتے ہیں. انہوں نے کہا کہ

    ٹھیک ہے بات ہونی چاہیے لیکن ہمیں بلینس کو بھی مد نظر رکھنا چاہیے، اگر ہم بیلنس نہیں‌رکھیں گے تو پھر سوسائٹی میں اوررشتوں میں بگاڑ پیدا ہو گا کہ جو کہ کسی کے بھی حق میں‌نہیں ہے. انہوں نے کہا کہ ہم اپنی پسند کے مطابق بات کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہمارا نقطہ نظر درست ہے اگلے کا نہیں اس طرح کی چیز ہمیں اپنے زہنوں سے نکالنی ہو گی ورنہ ہم اکیلے رہ جائیں گے.

  • اور جب حبہ بخاری نے اپنے والد کے ساتھ جھوٹ بولا

    اور جب حبہ بخاری نے اپنے والد کے ساتھ جھوٹ بولا

    چھوٹی سکرین کی اداکارہ حبہ بخاری اور عاریض احمد نے محبت کی شادی کی ، انہوں نے ایک ساتھ ڈراموں میں کام بھی کیا ان کی آن سکرین جوڑی کافی سراہی گئی ، لیکن جلد ہی یہ حقیقی زندگی کی بھی جوڑی بن گئی. حبہ بخاری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں عاریض کے ساتھ بہت خوش ہوں، ہم کبھی کبھی ایک دوسرے کے ساتھ مذاق کرتے رہتے ہیں، میری جب شادی ہوئی توشروع شروع میں ، میرے والد ایک دن مجھے فون کررہے تھے میں‌کسی وجہ سے فون نہ اٹھا سکی ، فون اٹھایا تو انہوں نے کہا کہ بیٹا کہاں ہو فون کیوں نہیں اٹھا رہی تو میں نے

    مذاق میں جھوٹ بول دیا کہ عاریض مجھ سے گھر کے کام کرواتا ہے صبح سے کپڑے برتن دھو رہی تھی تو اس پر میرے والد نے کہا کہ ٹھیک ہے تمہارا گھر ہے کرو کام ، عاریض اس وقت میرے پاس ہی موجود تھے انہوں نے کہا کہ تمہارے والد کو تم بتائو کہ تم مذاق کررہی تھی ورنہ ان کے دل میں‌رہ جائیگا کہ بیٹی پر ظلم ہو رہا ہے اور شوہر اچھا نہیں ہے، حبہ نے کہا کہ جب عاریض نے مجھے ایسا کہا تومیں نے محسوس کیا کہ ہاں ٹھیک کہہ رہا عاریض میرے پاپا کے دل میں‌ایسی بات آسکتی ہے. یوں مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا.

  • جھوک سرکار ایک پرعزم اور دیانت دار پولیس افسر کی کہانی

    جھوک سرکار ایک پرعزم اور دیانت دار پولیس افسر کی کہانی

    ڈرامہ سیریل جھوک سرکار جو کہ چھ جون سے آن ائیر ہونے جا رہا ہے اس میں فرحان اختر ایک پولیس آفیسر کا کردار نبھاتے ہوئے نظر آرہے ہیں ، کہانی کو لکھا ہاشم ندیم نے ہے ہاشم ندیم وہی ہیں جنہوں نے پری زاد بھی لکھا تھا. پری زاد کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی تھی، ڈرامے کی ڈائریکشن سیف حسن کی ہے. کاسٹ میں‌ فرحان سعید‘ حبا بخاری‘آصف رضا میر‘ ماہم شاہد‘ سکینہ سموں‘ملک رضا‘سعد اظہر‘ اسد ممتاز ملک‘عدیل افضل اور دیگر سے شامل ہیں.جھوک سرکارایک پرعزم اور دیانت دار پولیس افسر ارسلان کی کہانی ہے جو بے خوف ہو کر ناانصافی

    کے خلاف سینہ سپر ہے۔ ”جھوک“ میں قائم ظلم کی بھول بھلیوں اور سماجی برائیوں کو اپنے غیر متزلزل عزم سے پاک کرنے کے مشن کے ساتھ آگے بڑھتا ہے۔ یہ کام سہل نہیں کیونکہ اس سفر میں اسے ایک بے رحم باپ بیٹے کی جوڑی پیرل اور میرال کا سامنا ہے اور پورا جھوک ان کی سفاکیت کا شکار ہے۔ جھوک نامی قصبے کے گرد گھومتی اس ڈرامے کی دلفریب کہانی اقتدار‘ سیاست‘ہوس اور انصاف جیسے اہم موضوعات کا احاطہ کرتی ہے ۔یہ ڈرامہ سیریل طاقت اور اثر و رسوخ کے جال میں پھنسے اس قصبے کے سادہ لوح باشندوں کو درپیش جدوجہد پر روشنی ڈالتی ہے۔

  • کشمیر کی حسین وادی میں فلمایا گیا ڈرامہ نیم پانچ جون سے نشر ہو گا

    کشمیر کی حسین وادی میں فلمایا گیا ڈرامہ نیم پانچ جون سے نشر ہو گا

    کشمیر کی حسین وادیوں میں‌شوٹ کیا گیا ڈرامہ سیریل ”نیم“ پانچ جون کو آن ائیر کیا جارہا ہے، ڈرامے کو کاشف انور نے لکھا ہے جبکہ ڈائریکشن شہزاد کشمیری کی ہے. کاسٹ میں ارسلان نصیر‘ ماورہ حسین ‘ مریم نفیس‘سید جبران ‘ اشمل خان‘ امیر گیلانی اور دیگر شامل ہیں۔ کہانی تین افراد ایک مخلص سماجی کارکن زمل ‘ایک مخلص اور سرگرم استاد شاہزل اور ایک معزز قبائلی رہنما کے بیٹے کرامت خان کی زندگیوں کے گرد گھومتی ہے ۔زمل اور شاہزل اپنی شادی کی تیاری میں مصروف ہیں ‘ ایسے میں ان کی زندگی پے درپے واقعات کی زد میں آجاتی ہے جو

    انہیں ہوس‘دھوکے اور سیاسی طاقت کی کشمکش کے جال میں اُلجھا دیتے ہیں.شائقین ارسلان نصیر اور ماورا حسیسن کو دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں دوسری طرف سید جبران کو بھی اس ڈرامے سے کافی امیدیں وابستہ ہیں ان کا کہنا ہےکہ اس ڈرامے کی کہانی کافی مختلف ہے ، جبکہ ڈائریکٹر شہزاد کشمیری کا کہنا ہےکہ ہم نے بہت ہی خوبصورت لوکیشنز پر شوٹ کیا گیا ہے شائقین نہ صرف کہانی سے محظوظ ہوں گے بلکہ لوکیشنز دیکھ کر بھی ان کو بہت مزا آئیگا. ماورا حسین بھی اس پراجیکٹ کو لیکر کافی پرجوش ہیں. ارسلان نصیر ایک الگ کردار نبھاتے ہوئے دکھائی دیے رہے ہیں.

  • درفشاں کو کن لوگوں سے نفرت ہے ؟

    درفشاں کو کن لوگوں سے نفرت ہے ؟

    اداکارہ درفشاں سلیم جنہوں نے صحیح معنوں میں بہت کم عرصے اپنا نام بنایا ہے انہوں نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں محنت پر یقین رکھتی ہوں. اور محنت سے ہی میں نے نام اور مقام بنایا ہے، انہوں نے کہا کہ مجھے ان لوگوں سے شدید نفرت ہے جو جھوٹ بولتے ہیں اور مسلسل جھوٹ کے زریعے دوسروں کو بے وقوف بناتے ہیں،. درفشاں نے کہا کہ میں نہ خود جھوٹ بولتی ہوں نہ ہی جھوٹ بولنے والوں کو پسند کرتی ہوں. انہوں نے کہا کہ مجھے بہت سارے ایسے لوگ ملے جنہوں نے جھوٹ سے کام لیا اور مجھے بے وقوف بنانے کی کوشش کی میں‌نے

    ان کو چلتا کیا. انہوں نے کہا کہ ہر جگہ اچھے برے لوگ ہوتے ہیں اور انہی کے درمیان رہ کر ہمیں اپنا آپ منوانا ہوتا ہے. جو لوگ شوبز کو صرف شوبز ہونے کی وجہ سے ٹارگٹ کرتے ہیں میرا ان سے شدید اختلاف ہے بھئی جیسے آپ اپنی فیلڈ میں‌کام کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں ویسے ہی ہم بھی فیلڈ میں کام کرتے ہیں اور پیسہ کماتے ہیں، کر تو ہر کوئی محنت ہی رہا ہے کسی کو کسی پر انگلی نہیں اٹھانی چاہیے. یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم کیا کررہے ہیں.