Baaghi TV

Tag: Economic

  • نگراں حکومت کیلئے اکاؤنٹ خسارے جیسا بڑا چیلنج

    نگراں حکومت کیلئے اکاؤنٹ خسارے جیسا بڑا چیلنج

    نگراں حکومت کے لئے ایک اور بڑا چیلنج کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کو سرپلس میں لانا بھی ہے کیونکہ چار ماہ مسلسل سرپلس رہنے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں آگیا اور اسٹیٹ بینک رپورٹ کے مطابق مسلسل 4 ماہ مسلسل کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس رہنے کے بعد کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں چلا گیا ہے.

    جبکہ جون کے مقابلے جولائی میں تجارتی خسارہ 99 فیصد بڑھ کر 2 ارب 10 کروڑ ڈالر رہا، جبکہ جون میں تجارتی خسارہ 1 ارب 5 کروڑ ڈالر تھا۔ تاہم رپورٹ کے مطابق جون کے مقابلے جولائی میں برآمدات 2 ارب 11 کروڑ ڈالر پر برقرار رہیں۔

    علاوہ ازیں جولائی میں کرنٹ اکاؤنٹ 80 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا خسارہ ریکارڈ کیا گیا۔ تاہم یاد رہے کہ اتحادی حکومت میں گزشتہ مالی سال اخراجات 2 ہزار 860 ارب روپے بڑھ گئے تھے اور ایک سال میں سود کی ادائیگیوں میں 2 ہزار 649 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے، جب کہ دفاعی اخراجات 176 ارب روپے بڑھ گئے۔ وفاقی وزارت خزانہ نے فسکل آپریشن رپورت 2022-23 جاری کی جس کے مطابق اتحادی حکومت میں گزشتہ مالی سال اخراجات 2 ہزار860 ارب روپے بڑھ گئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی
    علاوہ ازیں رپورٹ کے مطابق ایک سال میں سود کی ادائیگیوں میں 2 ہزار 649 ارب روپے کا اضافہ ہوگیا، اور گزشتہ مالی سال دفاعی اخراجات 174 ارب روپے بڑھے، جب کہ گزشتہ مالی سال بجٹ خسارے میں 1261 ارب 55 کروڑ روپے کا اضافہ ہوا۔ جبکہ رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مالی سال 2022-23 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 7.7 فیصد رہا، جب کہ مالی سال 2021-22 میں بجٹ خسارہ جی ڈی پی کے 7.9 فیصد تھا، گزشتہ مالی سال2022-23 کل آمدنی9633 ارب روپے رہی۔

  • سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر

    اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سابق گورنر ڈاکٹر شمشاد اختر کو نگراں وزیر خزانہ مقرر کر دیا گیا ہے جبک نگراں وزیر اعظم انوار الحق کی کابینہ کے اہم ارکان کے چناؤ کا عمل جاری ہے خیال رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کی تقرری ایسے وقت میں کی گئی ہے جب پاکستان بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے پروگرام میں شامل ہے۔جبکہ اس میں 3 ارب ڈالر کے نو ماہ کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے تحت ملک کو گزشتہ ماہ تقریباً 1.2 بلین ڈالر کی پہلی قسط موصول ہوئی تھی۔

    خیال رہے اس وجہ سے نگراں وزیر خزانہ کی تقرری کو بہت اہمیت دی جارہی تھی جس میں اس عہدے کے لیے کئی اور نام بھی سامنے آئے تھے۔ تاہم واضح رہے کہ ڈاکٹر شمشاد اختر کو رواں ہفتے یوم آزادی کے موقع پر صدر ڈاکٹر عارف علوی کی جانب سے نشان امتیاز سے بھی نوازا گیا تھا۔ اور انہوں نے 2 جنوری 2006 سے تین سال تک اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر خدمات انجام دیں تھیں اور ملک کے مرکزی بینک کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون بنی تھیں۔

    یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک کی گورنر کے طور پر اپنی تقرری سے قبل، ڈاکٹر شمشاد اختر نے جنوری 2004 سے ایشیائی ترقیاتی بینک (ADB) کی ڈائریکٹر جنرل برائے جنوب مشرقی ایشیا کے طور پر بھی خدمات انجام دی ہیں اور اس سے قبل وہ محکمہ کی ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل بھی رہی ہیں، شمشاد اختر مشرقی اور وسطی ایشیا میں شعبہ کی ڈائریکٹر، گورننس، فنانس اور ٹریڈ ڈویژن کے عہدے پر بھی فائز رہ چکی ہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    اور ان کے خاندانی پس منظر کا ذکر کریں تو حیدرآباد میں پیدا ہونے والی ڈاکٹر شمشاد اختر نے اپنی ابتدائی تعلیم کراچی اور اسلام آباد میں حاصل کی ہے۔ جبکہ شمشاد نے 1974 میں پنجاب یونیورسٹی سے بی اے اکنامکس کی ڈگری حاصل کی تھی اور پھر ڈاکٹر شمشاد اختر نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے معاشیات میں ایم ایس سی بھی کیا ہوا ہے۔ انہوں نے 1977 میں یونیورسٹی آف سسیکس سے ڈیولپمنٹ اکنامکس اور1980 میں یو کے پیسلے کالج آف ٹیکنالوجی سے معاشیات میں ایم اے اور پی ایچ ڈی کر رکھی ہے۔

  • جوبائیڈن نے چین کو کمزور اقتصادی ترقی کے سبب ٹکنگ ٹائم بم کہہ دیا

    جوبائیڈن نے چین کو کمزور اقتصادی ترقی کے سبب ٹکنگ ٹائم بم کہہ دیا

    صدر جو بائیڈن نے چین کو ٹکنک ٹائم بم سے تشبیہ دیا ہے کیونکہ ان دنوں ان کے کچھ مسائل چل رہے ہیں جبکہ صدر جو بائیڈن نے کہا ہے کہ چین ٹائم بم کی طرح ہے کیونکہ اس کی معیشت ٹھیک نہیں چل رہی اور یہ مستقبل میں ایک بڑا مسئلہ بن سکتا ہے۔ امریکی صدر نے ایک خصوصی اجتماع میں چین کے بارے میں بات کی۔ انہوں نے کہا کہ چین کو کچھ مشکلات کا سامنا ہے جو کہ اچھی بات نہیں ہے کیونکہ جب برے لوگوں کو مسائل ہوتے ہیں تو وہ برے کام کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ چین کو نقصان نہیں پہنچانا چاہتے لیکن ان کے ساتھ منصفانہ اور اچھے تعلقات رکھنا چاہتے ہیں۔

    صدر جو بائیڈن نے یہ بات سیکرٹری آف سٹیٹ انتھونی بلنکن کے چند ہفتے قبل کسی دوسرے ملک کے دورے کے بعد کہی۔ بلنکن کا دورہ دونوں ممالک کو بہتر دوست بنانا تھا۔ صدر جو بائیڈن نے کہا کہ امریکہ اب چین پر اتنی رقم خرچ نہیں کرے گا۔ ہنری کسنجر نامی ایک بہت ہی اہم شخص، جو دوسرے ممالک کے ساتھ امریکہ کے تعلقات کا انچارج ہوا کرتا تھا، جب وہ 100 سال کا ہو گیا تو بیجنگ کا دورہ کرنے گیا۔ وہ وہ شخص تھا جس نے امریکہ اور چین کے درمیان تعلقات کا آغاز کیا۔

    جب سے دونوں ممالک 1979 میں دوست بنے تھے، حال ہی میں ان کی دوستی واقعی خراب ہوئی ہے۔ تاہم یاد ہے جب صدر جو بائیڈن نے رقم اکٹھا کرنے کے لیے ایک خصوصی تقریب میں بات کی تھی؟ ٹھیک ہے، انہوں نے چین کے رہنما صدر شی جن پنگ کے بارے میں کچھ باتیں کہیں۔ اس نے اسے ایک ڈکٹیٹر کہا، جس کا مطلب ہے کوئی ایسا شخص جس کے پاس بہت زیادہ طاقت ہو اور وہ لوگوں کو یہ کہنے کی اجازت نہیں دیتا کہ معاملات کیسے ہوتے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    صادق سنجرانی سب سے آگے،بڑا گھر بھی مان گیا، سلیم صافی کا دعویٰ
    سابق آئی جی کے پی کے بھائی کو اغوا کے بعد کیا گیا قتل
    غیرقانونی کاموں پر جواب دینا پڑتا ہے. عطاءاللہ تارڑ
    ایران اور امریکا کے درمیان منجمد فنڈز کی بحالی کا معاہدہ
    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں نمایاں تیزی
    کل، صدر جو بائیڈن نے ایک اصول بنایا جس کے مطابق امریکہ کے لوگ اہم کام کرنے والی چین کی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو پیسے نہیں دے سکتے۔ امریکہ اور چین کو سیکھنے کی ضرورت ہے کہ ساتھ کیسے چلنا ہے کیونکہ اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو بڑی لڑائی ہو سکتی ہے۔ اسے مصنوعی ذہانت کے ذریعے مزید خراب کیا جا سکتا ہے، جو چیزوں کو مزید غیر دوستانہ بنا سکتا ہے۔ کسنجر کا خیال ہے کہ دونوں ممالک کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ پرامن طریقے سے ایک ساتھ کیسے رہنا ہے۔ صدر کے فیصلے کے بعد، امریکی کمپنیوں کو چین میں کمپیوٹر چپس جیسی اہم ٹیکنالوجیز میں پیسہ لگانے کی اجازت نہیں ہے۔

  • سعودی عرب اور ایران کا  اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    سعودی عرب اور ایران کا اقتصادی تعلقات مضبوط بنانے کاعزم

    ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے کہا ہے کہ سعودی عرب اور ایران نے بعض امور پر سیاسی اختلافات کے باوجود اقتصادی تعلقات کو مضبوط بنانے پر اتفاق کیا ہے۔ عرب میڈیا کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حسین امیرعبداللہیان نے بتایا:’’میراسعودی ہم منصب شہزادہ فیصل بن فرحان کے ساتھ یہ سمجھوتا ہوا ہے کہ اس مرحلے پر ہمیں بعض امور پرمختلف سیاسی نظریات کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارتی، اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو مضبوط بنانا چاہیے‘‘۔

    انھوں نے کہا کہ تہران ایک مستحکم اقتصادی تعاون کا خواہاں ہے جو دونوں اطراف میں اقتصادی خوش حالی کا باعث بنے گا۔اس طرح کی مشترکہ کوششوں سے الریاض کے ساتھ مفاہمت کے عمل مستحکم بنانے میں مدد ملے گی۔ سعودی عرب اور ایران نے مارچ میں چین کی ثالثی میں سات سال کے بعد سفارتی تعلقات بحال کرنے کے معاہدے کا اعلان کیا تھا۔اس معاہدے کے تحت الریاض اور تہران نے ایک دوسرے کے شہروں میں سفارت خانے اور قونصل خانے دوبارہ کھولنے اور 20 سال قبل ہونے والے سکیورٹی اور اقتصادی تعاون کے معاہدوں پر عمل درآمد سے اتفاق کیا تھا۔

    حسین امیر عبداللہیان نے بتایا کہ سعودی عرب میں حال ہی میں مقرر کیے گئے ایرانی سفیر آیندہ دنوں میں الریاض میں اپنی ذمے داریاں سنبھال لیں گے۔ایران نے گذشتہ ماہ الریاض میں اپنا سفارت خانہ دوبارہ کھولاتھا۔ تہران میں سعودی سفارت خانے کو دوبارہ کھولنے کا نظام الاوقات ابھی تک نہیں دیا گیا ہے۔ ایرانی وزیرخارجہ نے اس سال حج کے بہ طریق احسن انعقاد پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہزادہ فیصل کے ساتھ براہ راست بات چیت کے ذریعے کسی بھی ’’معمولی مسئلہ‘‘کو فوری طور پر حل کیا گیا ہے۔تاہم انھوں نے ان مسائل کی نوعیت کے بارے میں تفصیل سے نہیں بتایا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اعظم خان نےعمران خان پرقیامت برپا کردی ،سارے راز اگل دیئے،خان کا بچنا مشکل
    سیما جسم فروش خواتین کی طرح بھارت آئی،تحقیقاتی اداروں کا دعویٰ
    چیف سیکرٹری کا جعلی زرعی ادویات کیخلاف کریک ڈاؤن تیز کرنے کا حکم
    گذشتہ ماہ سعودی وزیرخارجہ شہزادہ فیصل نے تہران کا تاریخی دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے ایرانی ہم منصب حسین امیرعبداللہیان اور صدر ابراہیم رئیسی سے ملاقات کی تھی۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے 2016 میں تہران میں اپنے سفارت خانے اور مشہد میں قونصل خانے پر ایرانی حکومت کے حامی مظاہرین کے حملے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات منقطع کر دیے تھے اور سفارتی عملہ کو واپس بلا لیا تھا۔