Baaghi TV

Tag: Economy

  • پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 28 پوائنٹس اضافے سے 44 ہزار 207 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 28 پوائنٹس اضافے سے 44 ہزار 207 پر بند

    پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں کاروباری ہفتے کے آخری روز ملا جلا رجحان رہا ہے جبکہ پاکستان اسٹاک ایکسچینج کا 100 انڈیکس 28 پوائنٹس اضافے سے 44 ہزار 207 پر بند ہوا۔ کاروباری دن میں 100 انڈیکس کی بلند اور کم ترین سطحوں کا فرق 206 پوائنٹس رہا۔ بازارمیں 24 کروڑ 79 لاکھ شیئرز کے سودے ہوئے جن کی مالیت 8 ارب 51 کروڑ روپے رہی۔

    مارکیٹ کیپٹلائزیشن تین ارب روپے بڑھ کر 6 ہزار 694 ارب روپے ہے۔ اقتصادی امور پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ بلوم برگ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے معاہدے کے بعد پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں تیزی آئی ہے۔ بلوم برگ کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک ہفتے کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 11 فیصد اضافہ ہوا جو کہ کسی بھی دوسری اسٹاک مارکیٹ سے بہتر ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی
    اس حوالے سے معاشی تجزیہ کار محمد سہیل کا کہنا ہے کہ پاکستان اور آئی ایم ایف کے معاہدے کی آئی ایم ایف بورڈ سے منظوری اور سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور دیگر ذرائع کی جانب سے آنے والی فنڈنگ آئندہ ہفتوں میں اہم ہو گی۔ دوسری جانب آئی ایم ایف سے معاہدے کے بعد گزشتہ ایک ہفتے میں پاکستان کے یوروبانڈز کی مالیت میں بھی تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

  • ڈالر کی قیمت میں 86 پیسے کا اضافہ

    ڈالر کی قیمت میں 86 پیسے کا اضافہ

    ملک بھر میں مسلسل کم ہونے والی امریکی ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ریکارڈ ہونے لگا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے آخری کاروباری روز کے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت میں 86 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا ہے اور انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی کرنسی کی قیمت 277 روپے 04 پیسے سے بڑھ کر 277 روپے 90 پیسے ہو گئی ہے۔


    جبکہ مرکزی بینک کے مطابق امریکی ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں 0.31 فیصد کی تنزلی دیکھی جارہی ہے اور رواں ہفتے کے دوران چار کاروباری روز کے دوران دو مرتبہ امریکی ڈالر کی قیمت میں بڑی گراوٹ جبکہ دو مرتبہ ملکی کرنسی کی تنزلی دیکھی گئی۔ تاہم خیال رہے کہ پیر والے دن بینک تعطیلات کے باعث کاروبار نہ ہو سکا تھا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بہکی بہکی باتیں،عمران کی ذہنی حالت تشویشناک، مبشر لقمان کا اہم ویلاگ
    آئی سی سی ورلڈ کپ سے پہلے دوسرا بڑا اپ سیٹ ہو گیا
    عمران خان کیخلاف مقدمات کی تفصیلات فراہمی تک کاروائی روکی جائے، وکیل
    یونان کشتی حادثہ کے بعد کاروائیاں،35 انسانی سمگلرز گرفتار
    نومئی واقعات،خواتین کا فوجی عدالتوں میں ٹرائل نہیں ہو گا
    سویڈن واقع پر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن آف پاکستان نے فارن آفس میں مذمتی قرارداد جمع کرا دی

    علاوہ ازیں ادھر معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی ڈالر میں بڑھوتری وقتی ہے تاہم آئندہ ہفتے کے دوران روپے کی قدر میں بحالی کا سفر دیکھنے کو ملے گا جس کے باعث پٹرولیم مصنوعات سمیت دیگر درآمدات کی قیمتوں میں کمی متوقع ہے۔ دوسری جانب فی تولہ سونے کی قیمت میں ایک مرتبہ پھر تیزی سے اضافہ ہونے لگا، بین الاقوامی مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قدر 12 امریکی ڈالر اضافے کے بعد 1917 امریکی کرنسی ہو گئی ہے۔

    عالمی مارکیٹ میں قیمتیں بڑھنے کے بعد ملکی صرافہ مارکیٹوں لاہور، کراچی، اسلام آباد، پشاور، کوئٹہ، حیدر آباد، سکھر، گوجرانوالا، فیصل آباد ، ملتان سمیت دیگر جگہوں پر فی تولہ سونے کی قیمت میں 600 روپے کی بڑھوتری دیکھی گئی اور نئی قدر 208400 روپے ہو گئی ہے۔ اُدھر دس گرام سونے کے بھاؤ 515 روپے بڑھ گئے اور نئی قدر 178670 روپے ہو گئی ہے۔ مزید برآں فی تولہ اور دس گرام چاندی

  • وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت

    وزیراعظم کی زیر صدارت اسپیشل انویسٹمنٹ فسیلیٹیشن کونسل کی ایپکس کمیٹی کا اجلاس ہوا جس میں وزیر اعظم شہباز شریف نے معیشت کی بحالی اور سرمایہ کاری سے متعلق اقدامات پر اطمینان کا اظہار کردیا ہے جبکہ سرمایہ کاری کونسل کی ایپکس کمیٹی کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت کردی۔

    انہوں نے کونسل اور صوبائی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی اور شرکا کو اپنے غیرملکی دوروں اور ملاقاتوں پر بھی اعتماد میں لیا۔ شہباز شریف نے معیشت کی بہتری کے لیے آرمی چیف کے کردار کی بھی تعریف کی جبکہ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ اتحادی حکومت کو ورثے میں تباہ حال معیشت ملی۔مشکل اور دلیرانہ فیصلے ملک کو تعمیر و ترقی کی طرف واپس لا رہے ہیں لیکن ابھی بہت بڑے چیلنجز ہمارے سامنے ہیں۔ معاشی بحالی کے لیے براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ مؤثر عمل درآمد کے لئے وفاق اور صوبوں میں شراکت داری کا انداز اپنایا جائے گا۔

    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد

    جبکہ اس سے قبل وزیر اعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ اندرونی اور بیرونی عوامل کی وجہ سے پیدا ہونیوالے معاشی چیلنجوں کے پیش نظر پاکستان کو خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل جیسے نمائندہ فورم کی ضرورت طویل عرصے سے محسوس کی جا رہی تھی، معاشی پالیسیاں وضع کرنے، دوست ممالک سے سرمایہ کاری کو راغب کرنے کیلئے اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلی ٹیشن کونسل کے قیام کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

  • امید ہے کہ معاشی استحکام آئےگا.  زبیر موتی والا

    امید ہے کہ معاشی استحکام آئےگا. زبیر موتی والا

    پاکستان اور آئی ایم ایف میں معاہدے پر معاشی ماہرین نے خوشی کا اظہار کیا ہے جبکہ بزنس کمیونٹی نے ڈیل کونیم مردہ معیشت کیلئے آکسیجن کے مترادف قرار دیا، معروف صنعتکاراورچیئرمین بی ایم جی زبیر موتی والا نےاپنے ویڈیو بیان میںپاکستان کی آئی ایم ایف کیساتھ ڈیل کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہاکہ آئی ایم ایف ڈیل سےغیرملکی سرمایہ کاروں کااعتمادبحال، اسٹاک ایکسچینج بہتر، روپیہ تگڑا ہوگا۔

    زبیر موتی والا نے کہا کہ امید ہے اس سے ملک میں معاشی استحکام آئےگا۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اب ایکسپورٹ بڑھانے پر توجہ دی جائے۔ ایف پی سی سی آئی کے صدر عرفان اقبال شیخ کا کہنا ہے کہ معاشی بحران سے نکلنے کا راستہ آئی ایم ایف معاہدہ ہی تھا ۔ ورلڈ بینک ، ایشیائی ترقیاتی بینک سمیت دیگر ڈونر کے آنے کی راہ کھل گئی ۔ دس بارہ ارب ڈالر ان اداروں سے مل جائیں گے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایل پی جی کی قیمتوں میں کمی واقع
    گورنر ہاﺅس ہو یا میرا اپنا گھر عوام سے تعلق جڑا رہے گا. کامران ٹیسوری
    اعظم خان کو سی پی ایل 2023 کیلئے گیانا ایمازون واریئرز نے چن لیا
    قرض پروگرام کےحصول کیلئے وزیر اعظم نےاہم کردارادا کیا. اسحاق ڈار
    نرس کے ساتھ زیادتی،ڈاکٹر نے نازیبا ویڈیو بھی بنا لی
    چین نے پاکستان کو ڈیفالٹ ہونے سے بچایا،سری لنکن صدر نے بھی "مدد”کی وزیر اعظم
    بھارت میں جانوروں کے ساتھ جنسی تعلقات قائم کرنے کے واقعات میں اضافہ
    وزیراعظم نے ایف سی اور رینجرز کی تنخواہیں پاک فوج کے برابر کردیں
    ماہرین معیشت اور بزنس کمیونٹی کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان کو ایکسپورٹ بڑھانے پر کام کرنا ہوگا ۔ اوراوورسیز پاکستانیوں کو زرمبادلہ ملک بھیجنے میں آسانی بھی فراہم کرنا ہوگی۔

  • وزیراعظم نے تیل کے اسمگلر کے کیخلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دے دیا.

    وزیراعظم نے تیل کے اسمگلر کے کیخلاف سخت ایکشن لینے کا حکم دے دیا.

    اسلام آباد : وزیراعظم عمران خان نے تیل اسمگلنگ میں ملوث عناصر کے خلاف حتمی کارروائی کا فیصلہ کرتے ہوئےاسمگلنگ میں ملوث تمام لوگوں کے پیٹرول پمپ سیل اور جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم دے دیا ہے.اس کے علاوہ وزیراعظم نے بھاری جرمانے کرنے اور اسمگلروں کی گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن کا حکم دے دیا.
    بریفنگ میں بتایا گیا ہے کہ اسمگل شدہ تیل کی فروخت سےمعیشت کو سالانہ 150 ارب کا نقصان پہنچتا ہے. ملک میں 2094 پیڑول پمپس اسمگل شدہ تیل کی فروخت میں ملوث نکلے۔

  • سرمایہ کاری میں شاندار اضافہ ہوگیا

    سرمایہ کاری میں شاندار اضافہ ہوگیا

    اسلام آباد (اے پی پی) قومی بچت کی مختلف سکیموں میں سرمایہ پر شرح منافع میں اضافہ کے باعث سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوگیا.

    تفصیلات کے مطابق قومی بچت کی مختلف سکیموں میں سرمایہ پر شرح منافع میں اضافہ کے باعث سرمایہ کاری میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سینٹرل ڈائریکٹوریٹ آف نیشنل سیونگز( سی ڈی این ایس) کے حکام نے کہا ہے کہ حکومت نے ملک میں بچتوں کے کلچر کو فروغ دینے کےلئے شرح منافع میں اضافہ کیا ہے اور ڈیفنس سیونگ سرٹیفیکیٹ میں سرمایہ کاری پر منافع کی شرح12.47 فیصد سے 12.90 فیصد تک بڑھائی گئی ہے اور ریگولر انکم سرٹیفیکیٹ پر12 فیصد سے 12.96 فیصد بڑھایا گیا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سیونگ اکاﺅنٹس پر منافع کی شرح8.5 فیصد10.25 فیصد تک بڑھائی گئی ہے.

    اس کے علاوہ بہبود سیونگ سرٹیفیکیٹ، پنشنرز بینی فٹ اکاﺅنٹ، شارٹ، لانگ اورمیڈیم ٹرم سرٹیفیکیٹس سمیت دیگر بانڈز پربھی شرح منافع میں اضافہ کیا گیا ہے جس سے سرمایہ کاری کی شرح میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

  • عمران خان جیت گیا، معیشت کے حوالے سے اچانک ایسی خبر آگئی کہ ہر طرف جشن شروع ہوگیا

    عمران خان جیت گیا، معیشت کے حوالے سے اچانک ایسی خبر آگئی کہ ہر طرف جشن شروع ہوگیا

    اسلام آباد: چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے کہا ہے کہ انکم ٹیکس جمع کرنے والوں کی تعداد 25 لاکھ ہوگئی ہے.

    تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیو کےچیئرمین شبر زیدی نے اپنے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ مزید 7 لاکھ 50 ہزار افراد ٹیکس سسٹم میں شامل ہوگئے ہیں، ان کی شمولیت سے سال 2018 میں انکم ٹیکس گوشوارے جمع کروانے والوں کی تعداد 25 لاکھ ہوگئی. اس حوالے سے تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ پی ٹی آئی حکومت کی بڑی کامیابی ہے کہ انہوں نے مزید 7 لاکھ 50 ہزار افراد ٹیکس سسٹم میں شامل کردیئے ہیں. دوسری جانب گیس کمپنیوں کو ایکٹو ٹیکس پیئرلسٹ پر غیر موجود صارفین کو کنکشن نہ دینے کی ہدایت کردی گئی ہے.

  • امریکی ڈالر حیرت زدہ حد تک گر گیا، عمران خان کی پہلی بڑی فتح

    امریکی ڈالر حیرت زدہ حد تک گر گیا، عمران خان کی پہلی بڑی فتح

    اسلام آباد: پاکستانی روپے میں مسلسل آتھ روز سے بہتری دیکھنے میں آرہی ہے.

    تفصیلات کے مطابق پچھلے آٹھ روز سے مسلسل پاکستانی روپے میں بہتری دیکھنے میں آئی ہے جبکہ امریکی ڈالر میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے. یہ خبر پاکستانی معیشت کی بہتری کیلئے بہت اچھی ہے، اس حوالے سے بزنس مین اور معیشت کے تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستانی معیشت میں مزید بہتری آئے گی. روپے میں بہتری کی خبر کو عمران خان کی فتح قرار دیا جارہا ہے. جبکہ دوسری جانب سرحد کے دوسری پار بھارت میں آرٹیکل 35 اے اور 370 کی منسوخی کے بعد بھارتی معیشت ڈوب گئی ہے. بھارت میں ڈالر ڈیڈھ روپے مہنگا ہوا ہے اور وہاں کی اسٹاک مارکیٹ کے کروڑوں روپے ڈوب گئے ہیں.

  • آرٹیکل 35 اے اور 370 منسوخی: بھارتی معیشت ڈوب گئی

    آرٹیکل 35 اے اور 370 منسوخی: بھارتی معیشت ڈوب گئی

    باغی (ویب ڈیسک) آرٹیکل 35 اے اور آرٹیکل 370 کو منسوخ کرنے کے بعد بھارت میں امریکی ڈالر مہنگا ہوکر 70.78 کا ہوگا، اس سے قبل بھارت میں امریکی ڈالر کی قیمت 69.665 تھی.

    تفصیلات کے مطابق بھارتی راجیہ سبھا میں آرٹیکل 35 اے اورآرٹیکل 370 کی منسوخی کا بل پیش ہونے سے بھارتی معیشت کو زبردست نقصان پہنچا ہے. بھارتی روپیہ کی قدر 1.5 روپے تک گرگئی ہے جس سے ڈالر مہنگا ہوکر 70.78 کا ہوگیا ہے. اس سے قبل بھارت میں امریکی ڈالر کی قیمت 69.665 تھی. یاد رہے کہ مودی سرکار نے آج بھارتی راجیہ سبھا میں آرٹیکل 35 اے اورآرٹیکل 370 کی منسوخی کا بل پیش یا ہے جس سے کشمیر کی خود مختاری ختم ہوگئی ہے.

    دوسری جانب مودی سرکار نے کشمیر میں مزید فوجی بھیجے ہیں اور معصوم کشمیریوں پر بھارتی ظلم و ستم کا سلسلہ جاری ہے.

  • ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    ڈالر کے اتار چڑھاؤ کا ملکی معیشت اور ترقی پر اثر … فرحان شبیر

    چلی میں ڈالر 680 پیسو کا
    کولمبیا میں 3198 پیسو کا
    ہنگری میں 284 فارنٹ کا
    آئس لینڈ میں 124 کرونا کا
    انڈیا میں 69 روپے کا
    انڈونیشیا میں 14139 روپیہ کا
    ایران میں 42086 ریال کا
    جاپان میں 107 ین کا
    قازقستان میں 379 ٹینگے کا
    نیپال میں 110 روپے کا
    روس میں 63 ربل کا
    جنوبی کوریا میں 1158 وان کا
    سری لنکا میں 176 روپے کا
    وغیرہ وغیرہ
    اب ذرا ان میں سے چلی، ہنگری، جاپان، روس، آئس لینڈ اور جنوبی کوریا پہ نظر ڈالیں
    یہ سب کے سب ہم سے کوئی 40, 50 سال آگے ہیں
    یہی نہیں بلکہ ہم سے تو انڈونیشیا، انڈیا اور قازقستان بهی آگے ہیں
    ہائیں؟ کیسے؟
    ڈالر اتنا مہنگا ان کے ہاں اور یہ ترقی بهی کر گئے؟چلیں چلی پہلے سامنے آگیا تو پہلے اسی کی ہی مثال لے لیں ۔ چلی میں ایک امریکی ڈالر 680 پیسو کا ہے یعنی ہم سے تقریبا 400% کم ویلیو کا لیکن اسکے باوجود بھی چلی لاطینی امریکہ کا سب سے مستحکم معیشت رکھنے والا خوشحال ملک ہے ۔ چلی کو 2006 میں OECD (آرگنائزیشن فار اکنامک کوآپریشن اینڈ ڈویلپمنٹ ) کا رکن بھی بنا لیا گیا ۔ چلی میں گو کہ inequality ہے لیکن پھر بھی غربت کی لکیر سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کا تناسب صرف پونے تین فیصد ہے ۔

    بات یہ ہے کہ کرنسی کا گرنا یا ایک ایک ڈالر کے بدلے میں جھولیاں بھر بھر کر مقامی کرنسی کا مل جانا ہی معیشت کی کمزوری یا ترقی کا واحد پیمانہ نہیں ہوتا بلکہ کرنسی ایکسچینچ ریٹ تو کبھی بھی معاشی کارکردگی یا معاشی ترقی کا ثبوت نہیں ہوتے ۔ دنیا ہنسے گی اگر آپ نے ایسی کوئی مثال بھی دی ۔ مثلا اس وقت ایک امریکی ڈالر 163 پاکستانی روپے کا ہے اور ایک کویتی دینار 537 روپے کا ہے تو کیا پھر کویتی دینار امریکی ڈالر سے بھی مضبوط کرنسی بن گیا یا کویت کی معیشت امریکہ سے تین سو فیصد بڑی گئی کیونکہ اس لحاظ سے تو ایک کویتی دینار ایک امریکی ڈالر کے تین گنا سے بھی زیادہ ہے ۔ لیکن کویتی دینار کے امریکی ڈالر سے مہنگا ہونے کا بھی یہ مطلب ہر گز نہیں کہ کویت کی اکانومی ایک مضبوط اکانومی ہے ۔ ملکوں کی معیشت ڈالر کے ایکسچینج ریٹس سے نہیں بلکہ برآمدات ، فارن ریزرو ، قومی پیدوار اور بچتوں میں اضافے سے ہوتی ہے ورنہ تو GDP تو چلی کا بھی 300 اب ڈالرز ہے جبکہ پاکستان کا 330-340 ارب ڈالرز ۔ اب پاکستان کی پتلی حالت بھی سامنے ہے اور چلی کی خوشحالی بھی ۔

    چلی میں چلی کے لوگوں کو ایک ڈالر 680 peso میں مل رہا ہے یعنی ہمارے ملک کے دانشوڑوں کے لحاظ سے تو اندھیر ہی مچ گئ لیکن چلی میں کرنسی کی قدر کو کم رکھنے کا ٹرینڈ تو پچھلے کئی سالوں سے ہے اور ہر ایکسپورٹ اورینٹڈ اکانومی والے ملک کا یہی طریقہ ہونا بھی چاہئیے ۔ دس سال پہلے 2009 میں چلی کا پیسو 550 کے قریب تھا اب 2019 میں 680 کے قریب ہے اور مزے کی بات یہ کہ اتنی ڈی ویلیو کرنسی کے باوجود چلی کی معیشت "مضبوط معیشت” ہے کیونکہ چلی کی” آمدنی "اسکے "اخراجات” سے زیادہ ہے ۔ یا یوں کہئیے کہ اس نے اپنے اخراجات اپنی کمائی سے کم رکھے ہیں ۔ یعنی ایکسپورٹ زیادہ اور امپورٹ کم لہذا بیلنس آف ٹریڈ بھی پوزیٹو ہے ۔ 2017 میں چلی کی ایکسپورٹ 23۔69 ارب ڈالرز رہیں تھیں (جس میں سے تیس ارب ڈالرز کی تو صرف کاپر کی ایکسپورٹ ہے چین اور امریکہ کو) اور امپورٹس 31۔61 ارب ڈالرز ۔ یعنی آمدنی ذیادہ خرچہ کم باقی کی رقم منافع اور سیونگ ۔ چلی میں ملکی ڈپازٹس کا 20 فیصد قومی بچت سے آتا ہے ۔ یعنی کل ملا ایک ڈالر میں 635 پیسو دینے والے چلی کے فارن ریزرو میں تو اس 39-40 ارب ڈالرز پڑے ہیں لیکن پچھلے پانچ سالوں سے اسحاق ڈالر کے ڈالر کو 100 کے آس پاس رکھنے والے پاکستان کے پاس 10 ارب ڈالرز کے فارن ریزرو بھی بمشکل جمع ہو پاتے ہیں۔ ایک ڈالر کے 680 پیسو دینے والے چلی کی تو ورلڈ بینک کے ڈوئنگ بزنس انڈیکس میں رینکنگ 48 ہے اور 100 پر ڈالر کو "پھڑیئے "رکھنے والا پاکستان 158 نمبر پے ۔ 2017 میں چلی میں بیرونی سرمایہ کاری یعنی فارن ڈائریکٹ انویسٹمینٹ FDI , 206 ارب ڈالرز کی ہوئی اور ادھر پاکستان میں بمشکل سوا 3 ارب ڈالرز ۔

    پاکستان اور چلی میں فرق صرف یہ ہے چلی میں وہ دانشوڑ طبقہ نہیں ہے جن کے 45 گروتھ والے دماغوں کو انکے پے ماسٹرز نے صرف ڈالر کا ریٹ اور اسٹاک ایکسچینج کا انڈیکس پڑھنا ہی سکھایا یے ۔ جسکی وجہ سے قوم کے سامنے صحیح معاشی صورتحال آ ہی نہیں پاتی ۔ حالانکہ ذرا سی بھی معاشی سمجھ بوجھ رکھنے والا معیشت دان پانچ سال سے 24 ارب ڈالرز کے آس پاس کھڑی ایکسپورٹ اور پہاڑ کی طرح بڑھتے ہوئے امپورٹ بل کو دیکھ کر سہمے جا رہا تھا اور روپیہ ڈی ویلیو کرنے کے لئیے پچھلے تین چار سالوں سے ہر بڑا معیشت دان چیخ چیخ کر ہلکان ہوئے جارہا تھا کہ آنے والوں دنوں میں بیلنس آف پیمنٹ کا گیپ اتنا بڑھ جائگا کہ بھیک تک مانگنا پڑ جائیگی لیکن اسحاق ڈار نے اکنامک ہٹ مین کا کردار ادا کرتے ہوئے وہی کیا جو ایک دشمن کر سکتا تھا ۔ پانچ سالہ دور اقدار میں لئیے گئے 41 ارب ڈالرز کے قرضے میں سے 7 ارب ڈالرز کی بڑی رقم ڈالر کی قمیت کو 100 پر "پھڑیے” رکھنے میں جھونک دی ۔ جسکا زیادہ فائدہ امپورٹرز کو ہوا اور اس فائدے سے کئی گنا زیادہ نقصان ایکسپورٹرز کو ہوتا رہا ۔ جس ڈالر کے روکے رکھنے کو ن لیگ کی اقتصادی شہہ دماغوں کی قابلیت باور کرایا جاتا رہا ہے وہ تو پورا پلان تھا پاکستان کی معیشت کو بیلنس آف پیمنٹ اور قرضوں کے پہاڑ کے نیچے دبا کر جانے کا تاکہ آنے والی حکومت قرضوں کی قسطیں بھر بھر کے اور معیشت کے جسم کو لگے گھاو کو بھرتے بھرتے خود ہی گھائل ہو کر منہ کے بل گر جائے ۔ اور یہ صرف معیشت کا ہی گرنا نہ ہوتا ملکی سلامتی اور سیکیورٹی بھی منہ کے بل گر چکی ہوتی ۔

    اسحاق ڈالر کا ڈالر کو 100 روپے پر روکے رکھنا پاکستان کو 35 ارب ڈالرز کے تجارتی خسارے کا مریض بنا گیا گیا ۔ ایکسپورٹ تو پانچ سال تک 24 ارب ڈالرز پر ہی رہی رہیں لیکن ڈالر سستا رکھنے سے امپورٹس کا جو بل ن لیگ کی حکومت کے آغاز میں تقریبا 35 ارب ڈالرز سالانہ تھا وہ 56 ارب ڈالرز تک پہنچ گیا جبکہ ایکسپورٹ 24 ارب ڈالرز پر ہی کھڑی رہیں ۔ اب ظاہر ہے آپ کے گھر والے کما تو وہی 24-25 روپے رہے ہوں لیکن اللے تللوں اور خریداریوں میں 55-56 روپے لگا رہے ہوں تو باقی کا پیسہ یا تو بھیک سے آئیگا یا قرضوں اور گھر کا سامان گروی رکھنے سے ۔ اور یہی ہوا ۔ پچھلے پانچ سالوں ملکی ادارے سستے قرضوں کے بدلے گروی رکھے جاتے رہے، مارکیٹ اور آئی ایم ایف سے قرضے لیکر امپورٹ بل بھرے جاتے رہے اور ڈالر کو” پھڑیے” رکھنے میں جھونکے جاتے رہے ۔ اسکا نتیجہ یہ ہے عمران خان کی حکومت کو آنے سے پہلے ہی اسحاق ڈار کی ڈارنامکس کا بوجھ ڈھونا پڑ گیا ۔ قرضہ لیا پچھلوں نے ، لیکن حکومت میں آتے ہی اس سال میں اس حکومت کو 7۔9 ارب ڈالرز کا پچھلوں کا یعنی ن لیگ کا لیا ہوا قرضہ اتارنا پڑا ۔ جی ہاں 7۔9 ارب ڈالرز کا ۔ اور کان کھول کر یہ بھی سن لیں کہ اگلے دو سالوں میں 27 ارب ڈالرز کا قرضہ مذید میچیور ہو جائگا ۔ یعنی پاکستان کو اگلے دو سالوں میں صرف اور صرف afloat رہنے یعنی اپنی معاشی بقا کے لئیے 50-55 ارب ڈالرز کی ضرورت ہوگی تاکہ 27 ارب ڈالرز کے قرضے دے سکے وہ جو ن لیگ اور زرداری دور میں لئیے گئے ۔ اب ننگا نہائے گا اور نچوڑے گا کیا ؟

    حقیقت یہ ہے کہ ہمیں بحیثیت قوم اپنی اکنامک لٹریسی بڑھانی ہوگی ۔ 45 فیصد والے دانشوڑوں کو چھوڑیں انہیں سمجھ نہیں آنی لیکن پاکستانی قوم کو سمجھنا ہوگا کہ کسی ملک کی ترقی یا بدحالی کا دارومدار ڈالر یا کسی بهی بیرونی کرنسی پہ نہیں ہوتا یہ وہاں کی معیشت اور ملک کے اندر موجود حالات کے ساتھ ساتھ درآمدات اور برآمدات پہ ہوتا ہے ۔ آپ کی برآمدات اگر درآمدات سے زیادہ ہوں آپ کے ملک پہ بے تحاشا قرضے نہ ہوں اور ہیومن ریسورسز پوری طرح سے جدید بنیادوں پہ استوار کی گئی ہوں تعلیم کی ریشو کم سے کم 80 فیصد ہو تو پهر ڈالر چاہے ایک ہزار روپے کا ہو کوئی فرق نہیں پڑے گا لیکن پاکستان میں نا تعلیم ہے معیشت کا کباڑا ہو چکا ہے قرضوں کی بهرمار ہے اس لیے مہنگائی ہے تنخواہیں کم ہیں تو تهوڑا زیادہ محسوس ہو رہا ہے اور رہی سہی کسر واویلے نے پوری کر دی ہے اس لیے زیادہ ہی ہائے ہائے ہو رہی ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ نظام انصاف اور کرپشن کی جڑ کاٹے بغیر inclusive growth کا کوئی تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ۔

    جنوبی کوریا پاکستان کے ایک صوبے جتنا ہے وہی جنوبی کوریا جہاں کی سامسنگ کمپنی کا موبائل لے کر خوشی سے پهٹنے والے ہو جاتے ہو اسی ملک کی کرنسی ہم سے بهی پیچهے ہے مگر ان کے ہاں قانون اور انصاف کا راج ہے وہاں کوئی بهی جا کر کرپشن میں پهنسے بندے کی حمایت نہیں کرتا بلکہ وہاں کرپٹ افراد سے ان کے اپنے خاندان والے بهی تعلقات ختم کر لیتے ہیں دنیا کا واحد ملک ہے جہاں آج تک گرفتار کیے جانے والے تمام کرپٹ افراد میں سے 90 فیصد نے خودکشی کر لی کیوں کہ عوام ان پہ تهوکتی پهرتی تهی رہائی کے بعد بهی ۔

    دنیا بھر میں منی لانڈرنگ کو قتل سے بھی بڑ جرم سمجھا جاتا ہے اور قتل کی سزاوں سے بھی سخت سزائیں منی لانڈرنگ اور کرپشن کی ہیں ۔ کیونکہ ایک شخص کو قتل کرکے تو ایک شخص یا زیادہ سے زیادہ اسکے خاندان کو نقصان پہنچتا ہے لیکن منی لانڈرنگ تو ملک کی معیشت کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے جیسا بہیمانہ اور شرمناک جرم تصور کیا جاتاہے کیونکہ منی لانڈرنگ سے خاندانوں کے خاندان متاثر ہوتے ہیں غربت کی لکیر سے نیچے جا گرپڑتے ہیں ۔ اور یہی ہمارے ملک کے ساتھ ہوا ۔ سندھ اور پنجاب پر حکمران خاندانوں کی سربراہی میں باقاعدہ بینک بنا کر منی لانڈرنگ کے دھندے کئیے گئے ۔ اب جب منی لانڈرنگ کی جڑ کاٹی جارہی ہے تو پاکستان کے دانشوڑوں کو معیشت کی بحالی کے حقیقی اقدامات ہوتے نظر نہیں آرہے ۔ FBR کا 5 کروڑ 30 لاکھ افراد کا ڈیٹا منظر عام پر لانا ، FBR کا Chinese ٹیکس سسٹم کے ساتھ انٹیگریٹ کیئے جانا ، NAB کا چائنا کا ساتھ کرپشن مکاو MOU سائن کرنا اور 40 ہزار کے پرائز بانڈ کا سلسلہ روکنا ، یہ اور اس جیسے کئی اقدامات ایسے ہیں جو صرف اور صرف اسی دور میں اٹھائے جارہے ہیں ۔ صرف 40 ہزار والے پرائز بانڈ کو دیکھیں تو اس کھیل کی ڈائنامکس سمجھ کر ہوش اڑ جائیں ۔ اس وقت ملک میں تقریبا نو سو ارب یعنی 6 بلین ڈالرز کے پرائز بانڈ سرکولیشن میں ھیں۔۔6 ارب ڈالر ، یہ اتنا ہی جتنا ہم نے IMF سے قرضہ لیا ہے ۔کہا جاتا ھے، یہ پرائز بانڈز ملک میں سب سے زیادہ کرپشن کو فروغ دیتے تھے، کیونکہ ایک تو ان کا سائز یعنی چالیس ھزار کے بونڈ کی سو کی گڈی چالیس لاکھ بنتی ھے ۔۔اور یہ آسانی سے ایک ھاتھ سے دوسرے ھاتھ میں منتقل ھوجاتے ھیں۔۔۔اور کسی کو پتہ نہی چلتا ۔۔ یہ پرائز بانڈز کئ دھائیوں سے ملک میں کالا دھن کا بہترین اور آسان زریعہ بنا ھوا تھا جس کو کسی حکومت نے روکنے کو کوشش نہی کی۔اب جب ان بانڈز کے اجراع کو بند کیا جارھا ھے تو جن جن حضرات کے پاس یہ سارے ہرائز بانڈز موجود ھیں ان کو بینک جاکر روپے میں تبدیل کروانا پڑے گا، جہاں ان کو اس انکم کا حساب دینا پڑے گا کہ اتنا پیسہ کہاں سے آیا اور اس کا ٹیکس دیا تھا یا نہی۔۔۔

    دانشوڑوں سے درخواست ہے کہیہ ڈالر کی اونچی اڑان والا واویلا بند کریں ۔ ہم 22 کروڑ میں سے تقریباً 98 فیصد نے تو ڈالر کو ہاتھ میں پکڑ کر بھی نہیں دیکھا ۔ جب کہ دانشوڑوں کا گریہ یہ ظاہر کرتا ہے کہ جیسے روزانہ ڈالر ہی کهاتے ہیں اور مہنگے ہونے کی وجہ سے یہ سارے دانشوڑ بهوکے مر جائیں گے۔ قسمے اگر جہالت پہ اگر کوئی انعام ہوتا یا سینگ لگتے تو ہمارے پاکستانی دانشوڑ بارہ سنگھے ضرور ہوتے ۔