Baaghi TV

Tag: ECp

  • ضمنی انتخاب: بلوچستان میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم

    ضمنی انتخاب: بلوچستان میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم

    کوئٹہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)نے 26 جنوری کوصوبہ بلوچستان میں منعقد ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر(ای ایم سی سی )قائم کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترجمان ای سی پی کے مطابق اس سینٹر میں عوام الناس کو ان انتخابات کے حوالے سے رابطہ کرنے اور اپنی شکایات درج کرانے کی سہولت ہو گی شکایات کے بروقت اَزالہ کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جائے گی اور اِس مقصد کے لیے سینٹر میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے حوالے سے عوام کی شکایات کے اندراج اور ان کے فوری حل کے لیے 4 سطحوں پر کنٹرول سنٹرز قائم کئے ہیں جس میں الیکشن کمیشن سیکرٹیریٹ اسلام آباد کے علاوہ صوبائی، ڈویژن اور ضلعی سطح پر بھی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ای سی پی کے مطابق عوام ضمنی بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں شکایات کے اندراج کے لیے ای ایم سی سی سینٹر کے عملے سے ای میل complaints@ecp.gov.pk پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے ای ایم سی سی میں ایک مخصوص ہیلپ لائن بھی دی ہے جس کا رابطہ نمبر 051111327000 ہےکنٹرول سینٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ فیکس نمبر 0519204404 کے ذریعے بھی شکایات بھیجی جا سکتی ہیں۔

    سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیموں کے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا

    25 جنوری تک ای ایم سی سی میں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک شکایات جمع کرائی جا سکتی ہیں پولنگ کے دن 26 جنوری کو ایم ای سی سی نتائج موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا عوام مذکورہ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں شکایات کے اندراج کے لیے ای ایم سی سی (EMCC) سنٹر کے عملہ سے ای میل پربھی رابطہ کر سکتے ہیں،کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے (EMCC)میں ایک مخصوص ہیلپ لائن کی سہولت بھی دی ہے جس کا رابطہ نمبر 051111327000 ہے۔

    آئین اور قانون کی پاسداری ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، شرجیل میمن

    الیکشن کمیشن کے مطابق کنٹرول سنٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہےفیکس نمبر 0519204404 کے ذریعے بھی شکایا ت بھیجی جا سکتی ہیں 25 جنوری تک EMCC میں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک شکایات جمع کرائی جا سکتی ہیں جبکہ پولنگ کے دن 26 جنوری کو ای ایم سی سی (EMCC) نتائج کے موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا۔

    نشئی شوہروں سے تنگ دو خواتین نے آپس میں شادی کر لی

  • الیکشن کمیشن نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 5 ستمبر کے کیسز ڈی لسٹ کردیے ہیں اور ان کیسز میں توہین الیکشن کمیشن میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز بھی جاری کیے گئے تھے جبکہ عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کیخلاف 5 ستمبر کو مقرر کیے گئے توہین الیکشن کمیشن کیسز ڈی لسٹ کر دیے گئے۔

    جبکہ الیکشن کمیشن کے مطابق بینچ کی عدم دستیابی کی وجہ سے یہ کیسز ڈی لسٹ کئے گئے ہیں جو مجموعی طور پر 5 کیسز ہیں اور ان میں دو چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان، دو فواد چوہدری اور ایک کیس اسد عمر کے خلاف ہے، جبکہ ان کیسز میں ملزمان پر الیکشن کمیشن کے خلاف توہین آمیز رویہ اورغیراخلاقی زبان کے استعمال کے الزمات ہیں۔

    جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ عمران خان، اسد عمر اور فواد چوہدری کے خلاف توہین الیکشن کمیشن کیسز میں الیکشن کمیشن نے عمران خان اور اسد عمر کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست پہلے ہی منظور کرلی تھی تاہم انہیں شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا تاہم چئیرمین پی ٹی آئی کے وکیل نے شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے کے لیے وقت مانگا تھا اور کہا گیا تھا کہ شوکاز نوٹس کا جواب جمع کرانے سے قبل چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان سے مشاورت ضروری ہے۔

    علاوہ ازیں یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے توہین الیکشن کمیشن میں عمران خان، فواد چوہدری اور اسد عمر کو نوٹسسز جاری کرتے ہوئے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کی تھی دوسری جانب ریحان شیخ کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) نے آئندہ عام انتخابات کیلئے الیکشن کمیشن کو تجاویز پیش کردیں۔ مسلم لیگ ن نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہدہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہوں گے۔

    ترجمان الیکشن کمیشن کیجانب سے جاری تفصیلات کے مطابق پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ساتھ مشاورتی اجلاس ہوا، جس کی صدارت چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے کی، پاکستان مسلم لیگ ن کے وفد نے الیکشن کمیشن کو بریف کیا کہ مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) نے مردم شماری کے رزلٹ اور اُسکی اشاعت اتفاق رائے سے منظور کی ہے، جبکہ تمام سیاسی پارٹیوں نے معاہد ہ کیا تھا کہ 2023 کے انتخابات نئی مردم شماری پر ہونگے۔

    مسلم لیگ کا مؤقف تھا کہ الیکشن کمیشن کے طرف سے جاری کردہ حلقہ بندی کا شیڈول آئین اور قانون کے عین مطابق ہے، انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل بھی حلقہ بندی کے ساتھ ہونا چاہیے۔ تاہم ن لیگ کے مطابق حلقہ بندیوں اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا عمل ایک ہی مرحلے میں مکمل ہو جائے اور انتخابات کے انعقاد میں تاخیر نہ ہو۔

    علاوہ ازیں لیگی وفد نے مطالبہ کیا کہ ضابطہ اخلاق پر مشاورتی عمل دوبارہ ہونا چاہیے، نفرت انگیز تقریروں پر پابندی ہونی چاہیے جبکہ امیدواروں کے اخراجات کو کم کرنے کیلئے صرف پوسٹر اور اسٹیکر کی اجازت ہونی چاہیے جبکہ چیف الیکشن کمشنر نے یقین دہانی کروائی کہ الیکشن کمیشن جتنے مختصر وقت میں ممکن ہوا حلقہ بندی اور انتخابی فہرستوں کی تجدید کا کام ایک ساتھ مکمل کرے گا جبکہ الیکشن کمیشن ضابطہ اخلاق پر قانون کے مطابق سیاسی جماعتوں سے مشاورت کرے گا اور اُسکے بعد ضابطہ اخلاق کو حتمی شکل دی جائے گی۔ تاہم الیکشن کمیشن نے یقین دہانی کروائی کہ انتخابات شفاف اور غیر جانبدارانہ ہونگے اور تمام پارٹیوں کو یکساں مواقع میسر ہوں گے اور ضابط اخلاق کی خلاف ورزی پر سخت قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جائے گا۔

  • الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری جبکہ چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان،بیرسٹر علی ظفر،عمیر نیازی اور علی محمد خان بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے.

    اعلامیہ کے مطابق جے یو آئی ف کے وفد میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،جلال الدین،مولانا درویش اور سینیٹر کامران مرتضی بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے، اور الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا، پی ٹی آئی نے90دن میں انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا.

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے بتایا کہ اسوقت حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی وفدنے بتایاکہ گرفتار رہنماؤں و کارکنان کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے ، پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارٹی کو سیاسی ریلیوں کی اجازات اور لیول پلئنگ مہیا کئےجائیں، جبکہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ کوئی شک نہیں کہ انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے،
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    جے یو آئی ف کے مطابق مردم شماری کے گزٹ نوٹیفیکشن کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنا چاہیے، آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں،امیدواروں اور ووٹرز کو سہولت میسر ہو، اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلدازجلد ہو، الیکشن کمیشن اس بات کویقینی بنائےگاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہونگے، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رہےگا.

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

    انہوں نے کہا 2018 کے الیکشن پاکستان میں سیاہ ترین الیکشن کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت آئی انہوں نے معاشی بدحالی ، بیروزگاری اور لاقانونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا ہر طرف لوٹ مار اور کوئی کسی کو قانون کا پابند نہیں سمجھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قومی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا ۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آنے والے انتخابات میں 2018 کی تاریخ دھرائی گئی تو ملک کو نقصان سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں جس سے پوری قوم کا اتفاق ہو ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ تجویز دی کہ ہر ضلع کے الیکشن کمیشن چئیرمن کو ڈی ۔آر ۔او بنایا جائے اور الیکشن کا پورا سسٹم الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہو تب انتخابات کی شفافیت کسی حد تک ممکن ہے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان کے 63 لاکھ آبادی کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو بالکل ناانصافی ہے ۔

    مولانا عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو جواب دیا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے آپ ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں اور الیکشن کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ مردم شماری کی روشنی میں مربوط حلقہ بندیاں تشکیل دیکر فوری طور پر انتخابات کرایا جائے۔

  • الیکشن نتائج  مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ

    الیکشن نتائج مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدات اہم اجلاس ہوا ہے جس میں الیکشن کمیشن کو رزلٹ مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ دی گئی جبکہ الیکشن کمیشن نے اس سسٹم پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا جبکہ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا ہے جس میں ممبران الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ہے۔

    تاہم اجلاس میں الیکشن کمیشن کو رزلٹ مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ دی گئی اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ پریذائیڈنگ آفیسر سے ریٹرننگ آفیسر کے پاس موبائل ایپ سے فوری رزلٹ کی ترسیل ممکن ہوگی، ریٹرننگ آفیسر بھی فوری ووٹوں کے درست اعداد وشمار کے ساتھ غیرحتمی رزلٹ مرتب کرسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر
    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    خوفناک ٹریفک حادثے میں چار بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق
    چیئرلفٹ آپریشن؛ دو بچے ریسکیو کرلیئے گئے

    واضح رہے کہ جس پر الیکشن کمیشن نے اس سسٹم پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کے کام کا بھی کا جائزہ لیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں اور محکمہ شماریات کو ضروری مراسلہ جات بھی روانہ کیے ہیں، جس میں متعلقہ اداروں سے میٹنگ بھی ہوئی ہیں اور آج ان کو ٹیلفون پربھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ فوری طورپرالیکشن کمیشن کو ضروری نقشہ جات اور دیگر ڈیٹا مہیا کریں تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کا عمل فوری طور پر شروع کرسکے۔

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔

  • الیکشن کمیشن نے تقرری    و تبادلوں پرپابندی لگا دی

    الیکشن کمیشن نے تقرری و تبادلوں پرپابندی لگا دی

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نگران حکومت کی تشکیل تک وفاقی سطح پرتقرروتبادلوں پر پابندی لگادی ہے جبکہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے سیکرٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کو خط لکھا گیا ہے ، جس میں کہا گیا ہے کہ علم میں آیا ہےوزارتوں اورڈویزنژمیں تقرروتبادلوں کی منصوبہ بندی کی گئی ہے،نگران حکومت کےآنےتک ایسےکسی اقدام گریزکیاجائے۔

    خط کے مطابق قومی اسمبلی اور وفاقی کابینہ تحلیل ہوچکی ہے،لہٰذا نگران سیٹ اپ کی تشکیل تک ہرقسم کےتقرروتبادلے روک دیئےجائیں جبکہ خط میں کہا گیا ہے کہ جلد نگران وزیراعظم اورکابینہ کی تشکیل ہوجائےگی،نگران حکومت کی تشکیل کےبعد قانون کےمطابق تقرروتبادلےکئےجاسکتےہیں۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان کے حوالے سےامریکا پر لگائے جانے والے الزامات جھوٹے ہیں،امریکی محکمہ خارجہ
    چین:سیاحتی مقام پر دریا میں اچانک سیلابی ریلا آگیا،کئی افراد بہہ گئے
    ڈالر کی قیمت میں ایک بار پھراضافہ
    گیسٹ ہاؤس کی آڑ میں قحبہ خانہ،5 خواتین سمیت 11 ملزمان گرفتار
    نئے چئیرمین نیپرا نے چارج سنبھال لیا
    پشاور ہائیکورٹ میں اے پی ایس واقعے کے متعلق کیس کی سماعت
    انجرڈ پرسنز میڈیکل بل؛ مریض کو پوچھا تک نہیں جاتا. سینیٹر مہر تاج

    تاہم خط میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ نگراں حکومت کے آنے تک ایسے کسی اقدام گریز کیا جائے، نگراں حکومت کی تشکیل کے بعد قانون اور پالیسی کے مطابق ٹرانسفر پوسٹنگ کی جا سکتی ہے۔ لیکن اس وقت فلحال وزیر اعظم شہباز شریف کوئی بھی تبادلہ نہیں کرسکتے ہیں.

  • سیکرٹری الیکشن کمیشن کی مدت ملازت میں توسیع

    سیکرٹری الیکشن کمیشن کی مدت ملازت میں توسیع

    چیف الیکشن کمشنر کی منظوری کے بعد سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کو مزید ایک سال توسیع دے دی گئی ہے جبکہ سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کو ملازمت میں مزید ایک سال توسیع دے دی گئی ہے، اور چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی منظوری سے توسیع کا باضابطہ نوٹیفیکیشن بھی جاری کردیا گیا ہے۔

    سیکرٹری الیکشن کمیشن عمر حمید کی 8 جولائی کو توسیع کی مدت پوری ہو چکی تھی، تاہم اب وہ آئندہ سال جولائی تک اپنے عہدے پر فرائض انجام دیتے رہیں گے۔ جبکہ اس سے قبل چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت اسلام آباد اور پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کا اجلاس ہوا، جس میں ممبران الیکشن کمیشن اور دیگر متعلقہ اداروں کے کام نے شرکت کی۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ایکسپریس ٹرینوں کی وقت کی پابندی 59فیصد سے کم
    عالمی ریٹنگ ایجنسی کی رپورٹ میں پی ٹی آئی احتجاج کا بھی ذکر
    سونا ایک بار پھر مہنگا ہونے لگا
    سوات مینگورہ لینڈ سلائیڈنگ ،چار بچوں کی دب جانے کی اطلاع
    ڈالر 250 روپے کی سطح پر آنے کی پیش گوئی
    اجلاس میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انتظامات اور فوری الیکشن انعقاد سے متعلق امور زیر غور آئے، جب کہ صوبہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے انتظامات سمیت دیگر امور بھی زیر بحث آئے۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق اجلاس میں الیکشن کمیشن حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ بلدیاتی انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا استعمال بھی نہیں ہو سکتا، آئی ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا سکتی۔

    اجلاس میں اس بات پر بھی اتفاق ہوا کہ فوری الیکشن کے لیے پنجاب حکومت لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور رولز میں ضروری ترمیم کرے۔ الیکشن کمیشن کے اجلاس نے قرار دیا کہ پنجاب حکومت نے لوکل گورنمنٹ کے رولز میں ترمیم کر دی، رولز کے ساتھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے، ترمیم کے لیے پنجاب حکومت کو خط لکھا جائے۔