Baaghi TV

Tag: Election

  • ضمنی انتخاب: بلوچستان میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم

    ضمنی انتخاب: بلوچستان میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر قائم

    کوئٹہ: الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی)نے 26 جنوری کوصوبہ بلوچستان میں منعقد ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں الیکشن مانیٹرنگ اینڈ کنٹرول سینٹر(ای ایم سی سی )قائم کر دیا ہے۔

    باغی ٹی وی :ترجمان ای سی پی کے مطابق اس سینٹر میں عوام الناس کو ان انتخابات کے حوالے سے رابطہ کرنے اور اپنی شکایات درج کرانے کی سہولت ہو گی شکایات کے بروقت اَزالہ کے لیے فوری طور پر کارروائی کی جائے گی اور اِس مقصد کے لیے سینٹر میں تربیت یافتہ عملہ تعینات کردیا گیا ہے۔

    الیکشن کمیشن نے انتخابی عمل کے حوالے سے عوام کی شکایات کے اندراج اور ان کے فوری حل کے لیے 4 سطحوں پر کنٹرول سنٹرز قائم کئے ہیں جس میں الیکشن کمیشن سیکرٹیریٹ اسلام آباد کے علاوہ صوبائی، ڈویژن اور ضلعی سطح پر بھی کنٹرول رومز قائم کیے گئے ہیں۔

    تحریک انصاف کا 26 ویں آئینی ترمیم کے خلاف سپریم کورٹ سے رجوع

    ای سی پی کے مطابق عوام ضمنی بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں شکایات کے اندراج کے لیے ای ایم سی سی سینٹر کے عملے سے ای میل complaints@ecp.gov.pk پر بھی رابطہ کرسکتے ہیں کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے ای ایم سی سی میں ایک مخصوص ہیلپ لائن بھی دی ہے جس کا رابطہ نمبر 051111327000 ہےکنٹرول سینٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہے۔ فیکس نمبر 0519204404 کے ذریعے بھی شکایات بھیجی جا سکتی ہیں۔

    سی ٹی ڈی نے کالعدم تنظیموں کے 10 دہشت گردوں کو گرفتار کر لیا

    25 جنوری تک ای ایم سی سی میں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک شکایات جمع کرائی جا سکتی ہیں پولنگ کے دن 26 جنوری کو ایم ای سی سی نتائج موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا عوام مذکورہ ضمنی بلدیاتی انتخابات کے سلسلے میں شکایات کے اندراج کے لیے ای ایم سی سی (EMCC) سنٹر کے عملہ سے ای میل پربھی رابطہ کر سکتے ہیں،کمیشن نے عوام کی سہولت کے لیے (EMCC)میں ایک مخصوص ہیلپ لائن کی سہولت بھی دی ہے جس کا رابطہ نمبر 051111327000 ہے۔

    آئین اور قانون کی پاسداری ہر ادارے کی ذمہ داری ہے، شرجیل میمن

    الیکشن کمیشن کے مطابق کنٹرول سنٹر میں سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا مانیٹرنگ کی سہولت بھی موجود ہےفیکس نمبر 0519204404 کے ذریعے بھی شکایا ت بھیجی جا سکتی ہیں 25 جنوری تک EMCC میں صبح 8 بجے سے شام 5 بجے تک شکایات جمع کرائی جا سکتی ہیں جبکہ پولنگ کے دن 26 جنوری کو ای ایم سی سی (EMCC) نتائج کے موصول ہونے تک مسلسل کام کرے گا۔

    نشئی شوہروں سے تنگ دو خواتین نے آپس میں شادی کر لی

  • ای وی ایم کے ذریعے عام انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ

    ای وی ایم کے ذریعے عام انتخابات نہ کروانے کا فیصلہ

    پنجاب کی نگراں کابینہ کا بڑا فیصلہ سامنے آگیا۔ الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے عام انتخابات نہ کروانے اور گورنر پنجاب سے آرڈینینس جاری کروانے کی منظوری دے دی گئی جبکہ پنجاب کابینہ کے مطابق آئندہ عام انتخابات الیکٹرانک ووٹنگ (ای وی ایم) کے ذریعے نہیں ہوں گے، سابقہ حکومت ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کروانے کی قانون سازی کرکے گئی تھی۔

    خیال رہے کہ نگران کابینہ نے الیکشن کمیشن کی ہدایت پر آرڈیننس جاری کرنے کی منظوری دی، گورنر پنجاب ای وی ایم کے ذریعے انتخابات نہ کروانے کا آرڈیننس جاری کریں گے۔ یہ آرڈیننس تین ماہ تک موثر رہے گا، تین ماہ بعد دوبارہ آرڈیننس جاری ہو گا۔

    تاہم واضح رہے کہ الیکشن کمیشن نے موقف اپنایا تھا کہ ای وی ایم کے ذریعے انتخابات کروانا ممکن نہیں، اس کیلئے پائلٹ ہونا بھی ضروری ہے، الیکشن کمیشن کے مطابق ای وی ایم کیلئے مشینیں بھی نہیں خریدی گئیں، جبکہ پاکستان میں بجلی کی بندش بھی اہم مسئلہ ہے۔

  • کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب

    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب

    خیبر پختونخوا کے 21 اضلاع میں ہونے والے ضمنی بلدیاتی انتخابات میں آزاد امیدواروں نے میدان مار لیا جبکہ پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) دوسرے اور جمعیت علماء اسلام تیسرے نمبر پر رہی جبکہ خیبر پختونخوا کے 21 اضلاع میں ضمنی بلدیاتی انتخابات ہوئے ، الیکشن کمیشن نے 72 میں سے 71 نشستوں کے نتائج جاری کئے جن کے مطابق 40 سیٹوں پر آزاد امیدوار کامیاب ہوئے اور 14 نشستوں پر پی ٹی آئی کامیاب ہوئی ہے۔

    تاہم ترجمان الیکشن کمیشن کے مطابق 6 نشستوں پر جے یو آئی ف، 5 پر جماعت اسلامی اور 4 پر عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) نے کامیابی سمیٹی اور پاکستان پیپلز پارٹی نے دو جبکہ تحریک لبیک پاکستان ( ٹی ایل پی ) نے ایک سیٹ اپنے نام کیں، تاہم دوسری جانب غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق پشاور کی 6 میں سے 3 نشستیں پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے جیت لیں، گھڑی بنات ون، گھڑی فضل خالق اور نودھیہ بالا کی نشست پر تحریک انصاف نے کامیابی حاصل کی تھی۔

    علاوہ ازیں ویلج کونسل ریگی یوسفزئی کی نشست پر جمیعت علماء اسلام کے امیدوار کامیاب ہوئے جبکہ ویلج کونسل معروف زئی کی نسشت عوامی نیشنل پارٹی کے امیدوار نے جیت لی اور گھڑی بنات چار کی نشست پر آزاد امیدوار نے کامیابی سمیٹی۔

    جبکہ سوات کی تین ویلج کونسلز کے غیر سرکاری اور غیر حتمی نتائج کے مطابق ویلج کونسل بریکوٹ میں کسان کونسلر کی نشست پر پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے امجدعلی 578 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے جبکہ ویلج کونسل ڈوغلگے مٹہ کی یوتھ کونسلر کی نشست پر جمعیت علماء اسلام ( جے یو آئی ) کے عبدالرحمان 649 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے ہیں۔

    جبکہ ویلج کونسل قلاگے کی یوتھ کونسلر کی نشست پر آزاد امیدوار شاہد اقبال نے 625 ووٹ لے کر کامیابی سمیٹی ہے اور کوہاٹ میں ویلج کونسل کی نشست پر آزاد امیدوار محمد ناصر 1169 ووٹ لے کر کامیاب ہوئے، ویلیج کونسل 13 رحمان آباد میں آزاد امیدوار تنویر انجم نے 571 ووٹ لے کر کامیابی حاصل کی جبکہ باجوڑ میں یوتھ کونسلر کی واحد نشست پر آزاد امیدوار اسلام الدین کامیاب ہوگئے، انہوں نے 550 ووٹ حاصل کئے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    زمین تنازعہ؛ باپ پر تشدد کرنے والا ملزم گرفتار
    کے پی؛ لوئر دیر ضمنی بلدیاتی انتخابات میں پیپلز پارٹی کامیاب
    افغانستان میں سیاحتی مقام جانے پر خواتین کو روک دیا گیا
    وزیر اعظم کا عوام کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کا حکم
    علاوہ ازیں نوشہرہ درشی وارڈ نمبر 2 میں پی ٹی آئی پی کے امیدوار عبد العزیز نے 617 ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی جبکہ جمعیت علماء اسلام ف کے حمایت یافتہ امیدوار مظہر 380 ووٹوں کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہے اور نوشہرہ تحصیل جہانگیرہ ایوب آباد وارڈ 9 میں پاکستان مسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ امیدوار عالمگیر 575 ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے ۔

  • الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن؛ سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری

    الیکشن کمیشن کا سیاسی جماعتوں سے مشاورت سے متعلق اعلامیہ جاری جبکہ چیف الیکشن کمشنر اسکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت مشاورتی اجلاس ہوا، پی ٹی آئی کی جانب سے ڈاکٹر بابر اعوان،بیرسٹر علی ظفر،عمیر نیازی اور علی محمد خان بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے.

    اعلامیہ کے مطابق جے یو آئی ف کے وفد میں سینیٹر مولانا عبدالغفور حیدری،جلال الدین،مولانا درویش اور سینیٹر کامران مرتضی بذریعہ ویڈلنک شریک ہوئے، اور الیکشن کمیشن کا مشاورتی اجلاس انتہائی خوشگوار ماحول میں ہوا، پی ٹی آئی نے90دن میں انتخابات یقینی بنانے پر زور دیا.

    الیکشن کمیشن نے بتایا کہ پی ٹی آئی نے بتایا کہ اسوقت حلقہ بندیوں کی ضرورت نہیں، پی ٹی آئی وفدنے بتایاکہ گرفتار رہنماؤں و کارکنان کی فوری رہائی یقینی بنائی جائے ، پی ٹی آئی نے بتایا کہ پارٹی کو سیاسی ریلیوں کی اجازات اور لیول پلئنگ مہیا کئےجائیں، جبکہ جے یو آئی ف نے بتایا کہ کوئی شک نہیں کہ انتخابات کرانا آئینی تقاضا ہے،
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    جے یو آئی ف کے مطابق مردم شماری کے گزٹ نوٹیفیکشن کے بعد حلقہ بندیوں کا عمل مکمل کرنا چاہیے، آئندہ عام انتخابات میں سیاسی جماعتوں،امیدواروں اور ووٹرز کو سہولت میسر ہو، اعلامیہ میں یہ بھی کہا گیا کہ الیکشن کمیشن کی کوشش ہے کہ انتخابات کا انعقاد جلدازجلد ہو، الیکشن کمیشن اس بات کویقینی بنائےگاکہ تمام سیاسی جماعتوں کو یکساں مواقع میسر ہونگے، سیاسی جماعتوں سے مشاورت کا عمل آئندہ بھی جاری رہےگا.

    علاوہ ازیں جمعیت علماء اسلام کے 7 رکنی وفد کی سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری کی قیادت میں چیئرمین الیکشن کمیشن سے ملاقات کی۔ ملاقات میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ، مولانا عطاء الحق درویش ، جلال الدین ایڈوکیٹ ، راوعبدالقیوم ، عطاء اللہ شاہ ایڈوکیٹ ،نوراحمد ودیگر موجود تھے ۔اس موقع پرآئندہ انتخابات کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال گیا ۔جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری جنرل سینیٹر مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ جمعیت آئین کی دی ہوئی مدت میں صاف وشفاف الیکشن چاہتی ہے ۔2018 کے بدترین انتخابات کی تاریخ نہیں دھرانی چائیے۔

    انہوں نے کہا 2018 کے الیکشن پاکستان میں سیاہ ترین الیکشن کے طور پر یاد رکھا جائیگا ۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت آئی انہوں نے معاشی بدحالی ، بیروزگاری اور لاقانونیت کے سوا کچھ نہیں دیا ۔ مولانا عبدالغفورحیدری نے کہا کہ ملکی معیشت کو نقصان پہنچا ہر طرف لوٹ مار اور کوئی کسی کو قانون کا پابند نہیں سمجھتا تھا۔انہوں نے کہا کہ 2018 کے انتخابات کے نتیجے میں قومی اور ریاستی اداروں کو نقصان پہنچا ۔

    ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر آنے والے انتخابات میں 2018 کی تاریخ دھرائی گئی تو ملک کو نقصان سے کوئی نہیں بچا سکتا ۔انہوں نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں کہ انتخابات صاف اور شفاف ہوں جس سے پوری قوم کا اتفاق ہو ۔انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو یہ تجویز دی کہ ہر ضلع کے الیکشن کمیشن چئیرمن کو ڈی ۔آر ۔او بنایا جائے اور الیکشن کا پورا سسٹم الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں ہو تب انتخابات کی شفافیت کسی حد تک ممکن ہے انہوں نے کہا کہ مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان کے 63 لاکھ آبادی کو ختم کرنے کی کوشش ہورہی ہے جو بالکل ناانصافی ہے ۔

    مولانا عبدالغفورحیدری کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے صدر مملکت کو جواب دیا ہے کہ انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کا کام ہے آپ ہمیں ڈکٹیٹ نہ کریں اور الیکشن کمیشن کی رائے ہے کہ موجودہ مردم شماری کی روشنی میں مربوط حلقہ بندیاں تشکیل دیکر فوری طور پر انتخابات کرایا جائے۔

  • الیکشن کے انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے.  نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    الیکشن کے انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے. نگراں وزیراعلیٰ سندھ

    نگراں وزیراعلیٰ سندھ جسٹس (ر) مقبول باقر کا کہنا ہے کہ الیکشن کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے، سپریم کورٹ اپنے احکامات پر عملدرآمد کرانا جانتی ہے اور اس کے حکم پر عملدرآمد کرانا لازم ہے۔ کوشش ہوگی صاف، شفاف اور غیرجانبدار الیکشن ہوں۔ جبکہ نجی ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے مقبول باقر نے کہا کہ میرا کوئی کام ماورائے آئین نہیں ہوگا۔

    کراچی میں جرائم پر گفتگو کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ نے کہا کہ شہر میں امن قائم رکھنا حکومت کا کام ہے۔ جبکہ زائد بلوں اور لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاج حوالے سے انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج سب کا آئینی حق ہے، کے الیکٹرک سے متعلق شکایات کا علم ہے، کے الیکٹرک کے ایم ڈی سے جلد ملاقات ہوگی۔

    صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی کے چیف الیکش کمشنر کو طلب کرنے اور الیکشن کمیشن کے انکار کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صدر اور الیکشن کمیشن میں خطوط کے تبادلے کاعلم نہیں علاوہ ازیں انتخابات کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ الیکشن کے انتظامات کرنا الیکشن کمیشن کا کام ہے، یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیرِ سماعت ہے، سپریم کورٹ کے حکم پرعملدرآمد کرانا لازم ہے، الیکشن سے متعلق آئین واضح ہے۔
    غریب بچے اچانک خوشی سے جھوم اٹھے، جب ایک ٹوٹا کھلونا کباڑ سے نکلا
    توشہ خانہ فوجداری کیس میں عمران خان کی اپیل پر سماعت آج ہو گی
    ڈریپ نے دواؤں کی قیمت میں اضافے کی تردید کر دی
    نجی ٹی وی کے مطابق پیر کی حویلی میں زیادتی کا نشانہ بنائی گئی بچی فاطمہ فرڑو کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے نگراں وزیراعلیٰ سندھ مقبول باقر نے کہا کہ فاطمہ کو انصاف دلانے کی کوشش کی جائے گئی جبکہ اس حوالے سے ڈاکوؤں کی دھمکی اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں اضافے پر مقبول باقر نے کہا کہ کچے کی صورتحال پر کابینہ اجلاس میں غور کیا گیا، آپریشن میں کوتاہیوں کو دیکھا گیا ہے۔

  • الیکشن نتائج  مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ

    الیکشن نتائج مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ

    چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدات اہم اجلاس ہوا ہے جس میں الیکشن کمیشن کو رزلٹ مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ دی گئی جبکہ الیکشن کمیشن نے اس سسٹم پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا جبکہ اسلام آباد میں چیف الیکشن کمشنر کی زیرصدارت اہم اجلاس ہوا ہے جس میں ممبران الیکشن کمیشن، سیکرٹری الیکشن کمیشن اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی ہے۔

    تاہم اجلاس میں الیکشن کمیشن کو رزلٹ مرتب کرنے کے سسٹم پر بریفنگ دی گئی اور بریفنگ میں بتایا گیا کہ پریذائیڈنگ آفیسر سے ریٹرننگ آفیسر کے پاس موبائل ایپ سے فوری رزلٹ کی ترسیل ممکن ہوگی، ریٹرننگ آفیسر بھی فوری ووٹوں کے درست اعداد وشمار کے ساتھ غیرحتمی رزلٹ مرتب کرسکے گا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    مزید یہ بھی پڑھیں؛پرواز میں دوران سفر مسافرکو خون کی الٹیاں
    بچوں کے حقوق کی پامالی،ملزمان کیخلاف کاروائی ہوگی،وزیراعظم
    تعلقات کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں،برطانوی ہائی کمشنر
    ایوان صدر میں بزرگ افراد کیلئے ظہرانے کا اہتمام
    خوفناک ٹریفک حادثے میں چار بچوں سمیت پانچ افراد جاں بحق
    چیئرلفٹ آپریشن؛ دو بچے ریسکیو کرلیئے گئے

    واضح رہے کہ جس پر الیکشن کمیشن نے اس سسٹم پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے حلقہ بندی کے کام کا بھی کا جائزہ لیا ہے جبکہ الیکشن کمیشن نے صوبائی حکومتوں اور محکمہ شماریات کو ضروری مراسلہ جات بھی روانہ کیے ہیں، جس میں متعلقہ اداروں سے میٹنگ بھی ہوئی ہیں اور آج ان کو ٹیلفون پربھی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ فوری طورپرالیکشن کمیشن کو ضروری نقشہ جات اور دیگر ڈیٹا مہیا کریں تاکہ الیکشن کمیشن حلقہ بندی کا عمل فوری طور پر شروع کرسکے۔

  • شفاف الیکشن کیلئے  ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    شفاف الیکشن کیلئے ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر کوئی مسئلہ نہیں. خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ مجھے پوری امید ہے کہ میاں نواز شریف ستمبر میں وطن واپس آ جائیں گے اور میں نہیں سمجھتا کہ کوئی ایسی بڑی وجہ ہے کہ الیکشن غیر مینہ مدت کے لئے موخر کئے جائیں ، پہلے بھی الیکشن مہینہ یا پنتالیس روز کے لیے ملتوی ہوئے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں کہ الیکشن شفاف ہوں تو ڈیڑھ دو ماہ کی تاخیر سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔

    جبکہ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ بنیادی طور پر الیکشن کرانا اسکا شیڈول بنانا الیکشن کمیشن کا کام ہے، اگر تین مہینے کے اندر حلقہ بندیاں بھی ہوجائیں اور الیکشن بھی ہوجائیں تو ہمیں کوئی اعتراض نہیں، اگر یہ عملی طور پر ممکن نہیں تو پھر ڈیڑھ دو مہینے آگے بھی الیکشن چلے جائیں اس سے فرق نہیں پڑتا۔ خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ اسلام امن اور محبت کا دین ہے، مذہبی جنونیت کی ہمارے دین میں کوئی گنجائش نہیں ہے، پاکستان مسلم اکثریت کا نہیں ہے اس میں غیر مسلم آبادی بھی ہے، اہل کتاب اور انکی عبادت گاہوں کی اسی طرح عزت کریں جس طرح ہم اپنی عبادت گاہوں کی کرتے ہیں، ہمیں حکم ہے ہم دوسرے مذاہب کا احترام کریں ، سویڈن میں اور ماضی میں قریب میں واقعات ہوئے ہیں تو ہمارے ہاں بھی اگر ایسے واقعات ہو جائیں تو ہماری اخلاقی برتری کا جواز ختم ہو جاتا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    آج کتاب بینی میرا مشغلہ ہے ریما خان
    دعا ہے پاکستان کو مخلص لیڈر شپ نصیب ہوجائے بشری انصاری
    الیکشن کمیشن پر ضلعی حدود کی پابندی کرنا لازم نہیں ہوگا. فافن
    سونے کی قیمتوں میں کمی
    سابق وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ معاشی اور سوشل ناہمواری کو دور کرنا پڑے گا، جس ملک میں لوگ روٹی نہیں کھا پاتے وہاں سولہ سو کنال پر جم خانہ کلب مال روڈ پر بنایا ہوا ہے، بجلی اور گیس کی چوری میں سرکلر ڈیڈ ہے وہ چار ہزار ارب ہے، پٹرول کی قیمت بڑھتی ہے تو اسکے ساتھ ساتھ وسائل بھی بڑھنے چاہیے ، عام آدمی کے پاس اتنے وسائل ہو جائیں گے کہ وہ مہنگائی کا مقابلہ کر سکے۔ علاوہ ازیں ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی کنٹرول کرنے کا طریقہ کرپشن کو روکنا ہے، ملک میں ہزاروں ارب کی کرپشن ہوتی ہے، پانچ ہزار ارب روپے ڈیوٹی کی مد میں چوری ہوتا ہے، اگر ان چوروں کے ہاتھ کاٹیں جائیں تو اس مہنگائی کا مقابلہ کرنے کے لئے دولت موجود ہے۔

  • آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    آرٹیکل 224 کے تحت الیکشن کمیشن نوے دن میں انتخابات کرانے کا پابند ہے. پاکستان بار کونسل

    پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین ہارون الرشید اور ایگزیکٹو کمیٹی کے چیئرمین حسن رضا پاشا نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کی جانب سے حلقہ بندیوں کی وجہ سے انتخابات کو آئینی حد سے زیادہ ملتوی کرنے کے فیصلے کی شدید مذمت کی ہے۔ جبکہ جاری اعلامیہ میں انہوں نے اس حوالے سے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ حلقہ بندیوں کا شیڈول انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے اور اس بات کا بھی اظہار کیا کہ آئین کا آرٹیکل 224 الیکشن کمیشن آف پاکستان کو اسمبلیوں کی تحلیل کے بعد نوے (90) دن کے اندر عام انتخابات کرانے کا پابند بناتا ہے۔


    واضح رہے کہ وائس چیئرمین اور چیئرمین ایگزیکٹو کمیٹی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے مذکورہ فیصلے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئین کے مطابق مقررہ مدت کے اندر آزادانہ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کرائے۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    پاکستان شدید موسمیاتی تبدیلیوں کا سامنا کر رہا. راجہ پرویز اشرف
    تشدد سے پاک معاشرے کے فروغ کی طرف جانا ہو گا،مولانا عبدالخبیر آزاد
    نگران وزیر تجارت کا سرکاری مراعات نہ لینے کا اعلان
    عوام مشکل میں،ہمیں اخراجات بڑھانے کا کوئی اخلاقی حق نہیں،مرتضیٰ سولنگی
    عمران خان کو بچانے میں کردار ادا کریں، تحریک انصاف نے امریکہ سے مدد مانگ لی

    جبکہ جاری اعلامیہ انہوں نے کہا کہ پاکستان بار کونسل اور قانونی برادری نے ہمیشہ ملک کے جمہوری عمل کے تسلسل کو یقینی بنانے کے لئے ہمیشہ کوشش کی ہے اور اپنا مثبت کردار ادا کیا ہے جبکہ آزادانہ ، منصفانہ اور شفاف انتخابات کے ذریعے ہی بہتر مستقبل حاصل کیا جاسکتا ہے اور اسی میں ہی ملک کی موجودہ بدترین معاشی صورتحال سے نکلنے کا واحد راستہ ہے۔

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    ای سی پی نے ملک بھر میں نئی حلقہ بندیاں کرانے کے شیڈول کا اعلان کردیا

    الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ جاری اعلامیہ کے مطابق چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا ہے جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی ہے۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا، جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے۔ جبکہ الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ہے۔

    واضح رہے کہ الیکشن کمیشن کا نئی مردم شماری کی بنیاد پر ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرانے کا فیصلہ کیا اور حلقہ بندیاں 14 دسمبر تک مکمل کی جائیں گی حکام کا کہنا تھا کہ 21 اگست کو چاروں صوبوں اور اسلام آباد کے لئے کمیٹیاں تشکیل دی جائیں گی، یکم سے 4 ستمبر تک حلقہ بندیوں کمیٹیوں کو ٹریننگ دی جائے گی.

    الیکشن کمیشن کے نوٹیفیکشن کے مطابق حلقہ بندیوں کی ابتدائی اشاعت 9 اکتوبر کو ہوگی، اور حلقہ بندیوں کے خلاف اپیلیں 10 اکتوبر سے 8 نومبر تک کی جاسکیں گی جبکہ الیکشن کمیشن 10 نومبر سے 9 دسمبر تک شکایات پر سماعت کرے گا اور حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14 دسمبر کو ہوگی.

    جبکہ شیڈول کے مطابق حلقہ بندیوں کی حتمی اشاعت 14دسمبر2023ءکوہوگی۔ تاہم یاد رہے کہ اس سے چیف جسٹس عمر عطا بندیال سے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ نے ملاقات بھی کی تھی جو دو گھنٹے جاری رہی، ملاقات میں ملک میں عام انتخابات کے معاملے پر گفتگو کی گئی تھی۔ جبکہ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیف الیکشن کمشنر کی ملاقات میں مختلف آئینی اور قانونی امور پر بھی بات چیت کی گئی ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    جبکہ یاد رہے کہ اس سے قبل سپریم کورٹ میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے الیکشن کمیشن کی سندھ میں صوبائی حلقہ بندیوں کے خلاف درخواستوں پر سماعت کے دوران کہا تھا کہ الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیاں عوامی مفاد کا معاملہ ہیں، سپریم کورٹ میں متعدد بار حلقہ بندیوں کا معاملہ آ چکا، حلقہ بندیوں میں سرکل ذرا سا متاثر کرنے سے امیدوار کے ووٹ متاثر ہوتے ہیں، الیکشن کمیشن حلقہ بندیاں شفاف طریقہ کار سے کرے۔ چیف جسٹس نے دوران سماعت استفسار کیا تھا کہ عام انتخابات کب کرائے جارہے ہیں؟ ڈی جی لاء الیکشن کمیشن نے کندھے اچکائے تو چیف جسٹس نے مسکراہتے ہوئے کہا کہ مطلب ابھی تک عام انتخابات کی کوئی تاریخ ہی طے نہیں کی گئی۔