Baaghi TV

Tag: Election

  • نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران کابینہ کے ممکنہ نام

    نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی کابینہ میں شامل وزرا کے ممکنہ نام سامنے آگئے ہیں جبکہ نجی ٹی وی کے صحافی کے ذرائع کے مطابق نگران وفاقی کابینہ کی تشکیل کیلئے مختلف ناموں پر غور کیا جا رہا ہے اور اس میں انیق احمد جوکہ ایک بڑا معروف نام ہیں کو نگران وزارت مذہبی امور کا قلمدان سونپے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

    جبکہ اس کے علاوہ محمد علی کو نگران وزیراطلاعات بنائے جانے کی اطلاعات ہیں اور اس کے ساتھ نگران وزیرداخلہ کے لیے سرفرازبگٹی جو کہ اس وقت سینیٹر بھی ہیں کو بنایا جائے گا اور یہ اس عہدہ کیلئے ایک مضبوط امیدوار بتائے جارہے ہیں علاوہ ازیں نگران وزیرخزانہ کے لیے شمشاد اختر اور وقار مسعود کے ناموں پر غورکیا جارہا ہے بلکہ ڈاکٹر شمشاد کا نام تو ممکنہ طور پر مقرر کردیا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نگران وزیراعظم سے متحدہ عرب امارات کے سفیرکی ملاقات
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا، افسوسناک،مجرموں کے خلاف کارروائی کی جائے۔شہباز شریف
    گھریلوملازمہ رضوانہ کی پہلی پلاسٹک سرجری
    جج نے جھگڑے کے بعد بیوی کو قتل کردیا
    سابق گورنر اسٹیٹ بینک نگراں وزیر خزانہ مقرر
    واضح رہے کہ گوہر اعجاز کو نگران وزیرتجارت کا قلمدان سونپا جانے کا بتایا جارہا ہے اور اس کے ساتھ ہی تابش گوہر، ڈاکٹرعمرسیف، جلیل عباس جیلانی بھی نگران کابینہ کا حصہ ہونگے اور انہیں بھی اہم عہدے دیئے جائیں گے خیال رہے کہ جلیل عباس کو وزیر خارجہ بنائے جانے کا امکان ہے کہ ان کا اس معاملے میں بہپت اچھا تجربہ ہے. اور یہی وجہ ہے کہ خارجہ امور انہیں سونپا جائے گا.

    یہ بھی خیال رہے کہ اس کے علاوہ بھی کئی ایسے نام زیر غور ہیں جنہیں فلوقت عیاں نہیں کیا جارہا ہے لیکن ذرائع کے مطابق نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ چاہتے ہیں کہ ان پر جس قسم کا بوجھ ہے جیسے ایک پٹرولیم قیمتوں میں اضافہ سمیت آئی ایم ایف کا دباؤ اور پھر الیکشن کی ذمہ داری تو وہ چاہتے ہیں کہ ایسے قابل لوگوں کو لایا جائے جو کم از کم انہیں اس بوجھ میں بوجھ بننے کے بجائے مددگار ثابت ہوں.

  • نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    نگراں وزیراعظم کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں۔ خواجہ آصف

    سابق وزیر دفاع اور مسلم لیگ ن کے رہنماء خواجہ آصف نے کہا ہے کہ نگراں وزیر اعظم انوارالحق کاکڑ کا نام کہیں اور سے سامنے آنے میں کوئی حقیقت نہیں ہے جبکہ خواجہ آصف نے میڈیا کو بتایا کہ ضرورت تھی کہ چھوٹے صوبوں کو حکمرانی میں حصہ دیا جائے اور نگران وزیراعظم کیلئے انوارالحق کا نام سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر دیا گیا ہے جبکہ انوار الحق کا نگران وزیراعظم بننا بہت ہی اچھی بات ہے کیونکہ انوارالحق کانام نگران وزیراعظم کیلئے سرفہرست تھا۔

    سابق وزیر دفاع خواجہ آصف دعویٰ کیا کہ مسلم لیگ ن کے قائد اور سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف اگلے مہینے ستمبر میں پاکستان آجائیں گے اور نوازشریف کو اختر مینگل کے تحفظات کو دورکرنا چاہئے کیونکہ ہمیں بلوچستان کےمسائل کا قومی حل تلاش کرنا چاہئے جبکہ ہمیں بلوچستان کے ناراض لوگوں کو بھی قومی دھارے میں لانا چاہئے اور اسی میں بہتری ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    سابق وزیردفاع خواجہ آصف کا مزید کہنا تھا کہ لیڈر آف اپوزیشن یعنی حزب اختلاف نے فروری میں الیکشن کا کہا ہے، الیکشن ڈیڑھ دو ماہ آگے جاسکتے ہیں لیکن الیکشن فروری سے آگے نہیں جائیں گے اور ہم سب چاہتے ہیں کہ جلد از جلد انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے ہوجائیں اور جو بھی ملک کے لیئے بہتر وہی عوام کے ووٹ سے منتخب ہوکر اس ملک پر حکمرانی کرے جبکہ ان کا کہنا تھا نواز شریف اپنے ملک آکر سب کا سامنے کرنے کیلئے تیار ہیں.

  • انتخابات میں تاخیرہوئی تو عدالت سے رجوع کریں گے. عابد زبیری

    انتخابات میں تاخیرہوئی تو عدالت سے رجوع کریں گے. عابد زبیری

    سپریم کورٹ بار کے صدر عابد زبیری کا کہنا ہے کہ نیئر بخاری کی بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ پیپلزپارٹی کہتی ہے الیکشن نئی حلقہ بندیوں پر ہوں، اور حلقہ بندیوں کیلئےآئین میں ترمیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ جبکہ عابد زبیری کا کہنا تھا کہ پنجاب میں انتخابات پر سپریم کورٹ کے حکم پرعمل نہیں ہوا ہے، حکومت نے 90 روز میں انتخابات کرانے کےحکم پرعمل نہیں کیا، حکومت پہلی ہی پنجاب میں انتخابات نہ کرا کے آئین کی خلاف ورزی کرچکی ہے، اب عدالتی احکامات پر عملدرآمد کیسے ہوگا، عام انتخابات میں تاخیر ہوئی توعدالت سے رجوع کریں گے۔

    علاوہ ازیں احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کیلئے آئین میں ترمیم لازمی ہے اور آئین میں ترمیم دوتہائی اکثریت سے ہوتی ہے جب کہ اسمبلی میں دو تہائی ارکان ہی موجود نہیں ہیں لہذا حلقہ بندیاں نہ ہوسکیں تو آئینی بحران پیدا ہو جائے گا، حلقہ بندیوں کے معاملے پر تنازع کھڑا ہوجائے گا، اور اس تنازع کی وجہ سے انتخابات ملتوی ہونے کا خدشہ ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    190 ملین پاؤنڈ،ڈیم فنڈ کی تفصیلات دی جائیں، مبشر لقمان کا سپریم کورٹ کو خط
    لسبیلہ ہیلی کاپٹر حادثے کو ایک سال،وزیراعظم کا شہداء کو خراج تحسین
    سویڈن پولیس نے ایک بار پھر قرآن پاک کی بے حرمتی کی اجازت دے دی
    چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے ریکارڈ کروائے گئے 342 کے بیان پر دستخط کردیئے
    سربراہ پلڈٹ کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کا معاملہ سپریم کورٹ کو ہی حل کرنا پڑے گا، اس سے متعلق فیصلہ عدالتوں میں ہی ہونا ہے، پہلے 2 اسمبلیوں میں الیکشن کا مسئلہ تھا، اب عام انتخابات ہونے ہیں اور اس میں بھی مسئلہ بن سکتا ہے۔

  • وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    وزیر اعظم شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کردیا

    شہباز شریف نے الیکشن نئی مردم شماری کے بعد کرانے کا اعلان کر دیا

    وزیر اعظم شہبا زشریف نے انتخابات نئی مردم شماری کے تحت کرانے کا اعلان کردیا ہے جبکہ اس حوالے سے وزیراعظم شہباز شریف کاکہنا ہےکہ نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا چاہیئے اور مردم شماری ہوئی ہے تو اسی پر انتخابات ہونے چاہئیں، الیکشن کمیشن کی ذمےداری ہے کہ وہ انتخابات کرائیں گے، مردم شماری کے نتائج مکمل ہونے پر مشترکہ مفادات کونسل میں جائیں گے۔

    علاوہ ازیں وزیراعظم میاں محمد شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ 12 اگست کو حکومت کی مدت مکمل ہو رہی ہے، نئی مردم شماری کے تحت ہی انتخابات میں جانا ہے، جبکہ عوامی مینڈیٹ سے لیس حکومت 5 سال حکومت کرےگی۔ تاہم نگران سیٹ اپ کے حوالے سے نواز شریف سے مشاورت مکمل ہوگئی ہے ، قائد حزب اختلاف سے مشاورت کروں گا، پاکستان کی معاشی صورتحال کو آگے لے کر جائیں گے، اپوزیشن لیڈر سے مشاورت آئین کا تقاضہ ہے، پر امید ہوں اپوزیشن لیڈر مل کر نگران سیٹ اپ کا فیصلہ کریں گے، الیکشن میں مسلم لیگ ن کا امیدوار نوازشریف ہے۔

    جبکہ شہباز شریف کا مزید کہنا تھا کہ9 مئی کو دوست نما دشمن بن کر یہ حرکت کی گئی، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مجبوراً اضافہ کرنا پڑا،دو تین ماہ میں کئی بار پیٹرول کی قیمتیں کم ہوئیں ایک دوبار قیمت بڑھائی،پیٹرول کی قیمت کا دار و مدار عالمی مارکیٹ میں قیمتوں پر ہے، پیٹرول کی قیمت میرے کنٹرول میں نہیں عالمی منڈی میں کروڈ آئل کی قیمت پر دارو مدار ہے،بدقسمتی سے اس مرتبہ پیٹرول کی قیمت عالمی منڈی میں آسمان پر چلی گئی۔

  • امریکہ انتخابات منعقد کرانے کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دے دیا

    امریکہ انتخابات منعقد کرانے کے فیصلہ کو خوش آئند قرار دے دیا

    امریکا نے کہا ہے کہ چاہتے ہیں پاکستان میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔ ان اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے منعقد انتخابات کا مشاہدہ کریں گے جبکہ محکمہ خارجہ میں پاکستان ڈیسک سے منسلک پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ الزبتھ ہورسٹ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان قرض کی قسط کا معاہدہ طے پانا ایک خوش آئند اقدام ہے۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کا انتخابات منعقد کرانے کا فیصلہ خوش آئند ہے تاہم پاکستان کی سیاست کے بارے میں پاکستانی عوام کو اپنے قوانین اور آئین کے مطابق فیصلہ کرنا ہے۔ کسی ایک سیاسی جماعت کو دوسری پارٹی پر یا کسی ایک امیدوار کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے۔ الزبتھ ہورسٹ نے مزید کہا کہ چاہتے ہیں پاکستان میں انتخابات آزادانہ اور منصفانہ ہوں۔ وہ ان اصولوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے پاکستان میں منعقد ہونے والے انتخابات کا مشاہدہ کریں گے۔

    پاکستان کی معیشت پر بات کرتے ہوئے پرنسپل ڈپٹی اسسٹنٹ سیکریٹری آف اسٹیٹ نے مزید بتایا کہ 2022 میں امریکی کمپنیوں پاکستان میں غیر ملکی براہِ راست سرمایہ کاری لگ بھگ 250 ملین ڈالر کے برابر رہی۔ گزشتہ دو عشروں میں امریکہ نے پاکستان کو اربوں ڈالر کی امداد فراہم کی۔ یہ غلط تاثر ہے کہ امریکا پاکستان کو بھول گیا ہے۔پاکستان اور امریکا میں 2022ء میں باہمی تجارت کا حجم نو ارب ڈالر رہا ہے جبکہ امریکا نے گزشتہ برس چھ ارب ڈالر کی پاکستانی اشیا درآمد کیں۔

    امریکی اہلکار نے کہا کہ وہ خوش ہیں کہ آئی ایم ایف اور پاکستان اسٹینڈ بائے معاہدے پر پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ پاکستان آئی ایم ایف کے ساتھ ”میکرو اکنامک“ اصلاحات پر کام کرے جو پائیدار معاشی بحالی کا باعث بنیں۔ بلوچستان اور پشاور میں سکیورٹی فورسز پر حملے سے متعلق پوچھے گئے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ حملوں پر افسوس ہے، پاکستان کو بیشتر ملکوں کے مقابلے میں دہشت گردی کی وجہ سے زیادہ نقصان ہوا ہے۔ اس لیے امریکا اور پاکستان انسدادِ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اہم اتحادی ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    وکیل قتل کیس میں چیئرمین پی ٹی آئی کی نامزدگی، سپریم کورٹ کا بینچ دوسری بار تبدیل
    بین الاقوانی شہرت یافتہ صحافی، اینکر پرسن، کالم نگار ، مدیر اور مصنف حامد میر
    کسی صورت تو ظاہر ہو مری رنجش مرا غصہ
    انہوں نے کہا کہ امریکا پاکستان کی تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے خلاف کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ علاقائی سلامتی کو درپیش خطرات اور کالعدم ٹی ٹی پی جیسے گروہوں کی وجہ سے پاکستان کو در پیش خطرات سے نمٹنے کی کوششوں کی حمایت کرتے ہیں۔

  • وفاقی وزارت داخلہ کو طلبی کا سمن جاری ہوسکتا

    وفاقی وزارت داخلہ کو طلبی کا سمن جاری ہوسکتا

    الیکشن کمیشن نے وفاقی وزارت داخلہ کو طلبی کا انتباہ کردیا ہے جبکہ سیکریٹری الیکشن کمیشن کہتے ہیں کہ اسلام آباد کی مخصوص بلدیاتی نشستوں سے متعلق خط کا جواب نہ دینے پر طلبی کا سمن جاری ہوسکتا ہے کیونکہ انہوں نے ابھی تک جواب نہیں دیا ہے.

    الیکشن کمیشن نے وزرات داخلہ کو اسلام اباد کی بلدیاتی مخصوص نشتوں کی تعداد کا نوٹی فیکشن اورانتخابی اخراجات کے حتمی رولز جاری کرنے کے لیے خط لکھا تھا۔جس میں ہدایات پرعمل کیلئے بارہ جولائی تک کی مہلت دی گئی تھی لیکن وزرات داخلہ نے خط کا کوئی جواب ہی نہیں دیا ہے
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    کبری خان اور میں شادی نہیں کررہے گوہر رشید
    فوجی عدالتوں میں سویلین کے ٹرائل کیخلاف درخواستیں سماعت کیلئے مقرر
    علی امین گنڈاپور کے گھر کی بجلی واجبات کی عدم ادائیگی پر کاٹ دی گئی
    ڈالر کے مقابلہ میں روپے کی قدر میں مزید بہتری
    شہر یار آفریدی کی ہمشیرہ انتقال کر گئیں
    سیکریٹری الیکشن کمیشن نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزرات داخلہ کے جواب نہ دینے کا معاملہ کمیشن میں رکھے جانے پر وزرات داخلہ کو سمن جاری کیا جانے کا امکان ہے.

    یاد رہے کہ اس سے قبل :چیف الیکشن کمشنر نے حکم دیا تھا کہ وزارت داخلہ 12 جولائی تک مخصوص نشستوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن اور امیدواروں کے لئے انتخابی اخراجات کی حد کے رولز ہر صورت الیکشن کمیشن کو مہیا کرے تاکہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کیا جا سکے۔ الیکشن کمیشن سے جاری بیان کے مطابق چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجہ کی زیر صدارت پیر کو اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن کمیشن کے معزز اراکین کے علاوہ سپیشل سیکرٹری اور دیگر سینئر افسران نے شرکت کی تھی۔

    اجلاس میں بتایا تھا گیا کہ معزز عدالت عالیہ اسلام آباد کے حکم کی روشنی میں الیکشن کمیشن وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد اور شیڈول دینے کے لئے مکمل طور پر تیار ہے ، البتہ 22 جون 2023 کے اجلاس کے دوران وزارت داخلہ کے نمائندگان نے مخصوص نشستوں کی تعداد کے نوٹیفکیشن اور امیدواروں کے لئے انتخابی اخراجات کی حد کے لئے رولز بنانے کے لئے درخواست کی تھی جس پر الیکشن کمیشن نے وزارت داخلہ کو مذکورہ بالا دستاویزات مہیا کرنے کی ہدایت کی مگر تاحال وزارت داخلہ کی طرف سے جواب موصول نہیں ہوا ۔

    الیکشن کمیشن نے حکم دیا کہ وزارت داخلہ کو فوری طور پر خط تحریر کیا جائے کہ وہ 12 جولائی تک مخصوص نشستوں کی تعداد کا نوٹیفکیشن اور امیدواروں کے لئے انتخابی اخراجات کی حد کے رولز ہر صورت الیکشن کمیشن کو مہیا کرے تاکہ الیکشن کمیشن وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری کرے۔ صوبہ پنجاب کے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے بارے میں بریفنگ کے دوران الیکشن کمیشن کو بتایا گیا کہ پنجاب میں انتخابی گروپوں کی رجسٹریشن کا عمل 17 جولائی کو مکمل ہو جائے گااور الیکشن کمیشن نے صوبہ میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لئے تمام انتظامات مکمل کر لئے ہیں مگر پنجاب لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 کے سیکشن 47(1) کے تحت لوکل گورنمنٹ انتخابات کا انعقاد ای وی ایم پر ہوگا اور ووٹروں کو آئی ووٹنگ کی سہولت بھی میسر ہوگی

    اس سلسلے میں الیکشن کمیشن نے متعدد بار صوبائی حکومت کو تحریر کیا تھا کہ لوکل گورنمنٹ انتخابات کے دوران ای وی ایم کا استعمال ممکن نہیں اور آئی ووٹنگ کی سہولت بھی فراہم نہیں کی جا سکتی ۔ صوبائی حکومت پنجاب نے اس سلسلے میں لوکل گورنمنٹ کے رولز 35(4) میں ضروری ترمیم کردی ہے اور ووٹنگ کا طریقہ کار بھی الیکشن ایکٹ 2017 کے تحت مہیا کر دیا ہے لیکن لوکل گورنمنٹ ایکٹ میں ترمیم ضروری ہے تاکہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ اور رولز ایک دوسرے سے متصادم نہ ہوں ۔

    اس پر الیکشن کمیشن نےد فتر کو حکم دیا تھا کہ فوری طور پر صوبائی حکومت پنجاب کو تحریر کیا جائے کہ الیکشن ایکٹ 2017کی دفعات 103اور 94 میں وفاقی گورنمنٹ کی طرف سےای وی ایم اور آئی ووٹنگ سے متعلق ترامیم کو مد نظر رکھتے ہوئے لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2022 اور رولز میں ضروری ترمیم کرے تاکہ صوبہ میں الیکشن کا فوری انعقاد یقینی بنایا جائے ۔

  • الیکشن کس نے جیت لیا اعلان ہوگیا

    الیکشن کس نے جیت لیا اعلان ہوگیا

    میاں چنوں: غلہ منڈی کے سالانہ الیکشن کا انقعاد کیا گیا

    جس میں میاں عبدالرؤف اور ملک مقبول حسین صدر کی سیٹ کے امیدوار تھے.جبکہ محمد امجد اور شاہد نذیر جنرل سیکرٹری کی سیٹ کے اُمیدوار تھے
    ٹوٹل 171 ووٹرز اپنا حق رائے دہی استعمال کیا

    میاں چنوں غلہ منڈی سالانہ الیکشن میاں عبدالرؤف گروپ نے 79 کے مقابلے میں 89 ووٹوں سے جیت لیا غلہ منڈی ایسوسی ایشن کے سالانہ الیکشن میں صدر کی سیٹ پر میاں عبدالرؤف اور جنرل سیکرٹری کی سیٹ پر محمد امجد 10 ووٹوں سے کامیاب…

  • کیپیٹل ہل واقعہ، چینیوں کے طنز سے بھرپور تبصرے

    کیپیٹل ہل کے پرتشدد واقعے پر چینیوں نے ‘امریکی جمہوریت‘ کا مذاق اڑانا شروع کر دیا ہے اور اس کا موازنہ سن دو ہزار انیس کے ہانگ کانگ میں حکومت مخالف مظاہروں سے کیا جا رہا ہے۔

    کیپیٹل ہل پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامیوں کے ‘حملے‘ کے مناظر چین میں انٹرنیٹ پر چھائے ہوئے ہیں۔ جمعرات کی صبح چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے ایک ٹویٹ کے ساتھ دو تصویریں شائع کی ہیں۔ ایک تصویر جولائی دو ہزار انیس میں ہانگ کانگ کی لیجس لیٹیو کونسل کے احاطے پر مظاہرین کے قبضے کی ہے، جب کہ دوسری تصویر بدھ کے روز واشنگٹن کیپیٹل ہل میں پیش آنے والے واقعے کی ہے، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ٹرمپ کے کٹر حامیوں نے کیپٹل ہل پر دھاوا بول دیا ہے، سکیورٹی اہلکاروں سے ہاتھا پائی اور عمارت پر پتھراؤ کر رہے ہیں اور سیلفیاں لے رہے ہیں۔

    گلوبل ٹائمز نے ٹویٹ کرتے ہوئے طنزیہ لکھا ہے کہ اسپیکر نینسی پلوسی نے ہانگ کانگ کے فسادات کو ‘ایک خوبصورت منظر‘ قرار دیا تھا۔ حالانکہ سن دو ہزار انیس میں ہانگ کانگ کے جمہوریت نواز مظاہرے بڑی حد تک پرامن رہے تھے۔ اخبار نے لکھا ہے،”یہ دیکھنا ابھی باقی ہے کہ وہ کیپیٹل ہل کے حالیہ واقعات کے بارے میں بھی کیا اسی طرح کے خیالات کا اظہار کرتی ہیں.