Baaghi TV

Tag: Faisal Karim Kundi

  • حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    حلقہ بندیاں آئینی ضرورت نہیں بلکہ 90 دن میں الیکشن کرانا لازمی ہے. فیصل کریم کنڈی

    پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم کنڈی کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی آئین کے مطابق انتخابات کرانے کا مطالبہ کرتی رہی ہے جبکہ حلقہ بندیاں کرنے کی کوئی آئینی ضرورت نہیں ہے لیکن 90 دن کے اندر انتخابات کرانے کی آئینی ضرورت ہے۔ لہذا انتخابات اپنے آئینی وقت کے مطابق ہو جانے چاہئں.


    پیپلزپارٹی کے رہنماء نے یہ ردعمل الیکشن کمیشن کے اس اعلان پر دیا جس میں الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ملک بھر میں حلقہ بندیاں کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ عام انتخابات 90 روز میں نہیں ہو سکتے ہیں جبکہ چیف الیکشن کمشنرسکندرسلطان راجہ کی زیرصدارت نئی حلقہ بندیوں کےمتعلق الیکشن کمیشن کااجلاس ہوا جس میں 7ویں مردم شماری کےمطابق نئی حلقہ بندیاں کرانےکی منظوری دی گئی۔

    علاوہ ازیں جاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات نئی حلقہ بندیوں کےتحت ہوں گے اور حلقہ بندیوں کاکام تقریبا 4ماہ میں مکمل ہوگا جس کی وجہ سےعام انتخابات 90روزمیں نہیں ہوسکیں گے اور الیکشن کمیشن نے نئی حلقہ بندیوں سےمتعلق شیڈول کا اعلان کرتے ہوئےصوبائی حکومتوں اور ادارہ شماریات سےمعاونت طلب کرلی ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ہیرا پھیری 3 جلد ریلیزہوگی ، فلم کا تیسرا حصہ شوٹ کر لیا گیا
    جڑانوالہ میں جو کچھ ہوا ہم شرمندہ ہیں، طاہر اشرفی
    نگراں کابینہ میں کشمیری حریت رہنما یاسین ملک کی اہلیہ مشعال ملک بھی شامل
    نگران وزیر اعلیٰ سندھ نے حلف اٹھا لیا
    ندا یاسر 16 لاکھ کمانے آئیں اور پھر شوبز کی ہی ہو کر رہ گئیں
    https://twitter.com/fkkundi/status/1691850734017413179
    تاہم یاد رہے کہ اس سے قبل سابق مشیر وزیر اعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل کریم کنڈی نے اپنی ٹوئیٹ میں مطالبہ کیا تھا کہ "الیکشن کمیشن کو اب عام انتخابات کی تاریخ دے دینی چاہیئے۔” انہوں نے اس سے قبل کہا تھا کہ انتخابات کے شیڈول کا اعلان کیے بغیر یا حلقہ بندیوں کا فیصلہ کیے بغیر نگران حکومت کو افسران کی تبدیلی کے حوالے سے احکامات جاری کرنا شروع کر دیے گئے ہیں۔ جبکہ پیپلزپارٹی کا مطالبہ ہے کہ الیکشن کمیشن فوری طور پر انتخابی شیڈول کا اعلان کرے۔

  • سینیٹ میں جو بل پیش  ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    سینیٹ میں جو بل پیش ہوا اس پر اتحادیوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا۔ فیصل کریم کنڈی

    وفاقی وزیر مملکت اور پیپلزپارٹی کے سینئر رہنماء فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا ہے کہ منسٹر آف سٹیٹ نے سینیٹ میں ایک بل پیش کیا جس میں پیپلز پارٹی اور اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں نہیں لیا گیا ہے. نجی ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ پاکستان پیپلز پارٹی ہمیشہ اپنے اتحادیوں کو آن بورڈ لیتی ہے جبکہ ہم نے کبھی ایسا نہیں سوچا جبکہ جو بل لایا گیا اعتماد میں نہ لینے کی وجہ سے ہم سمیت دیگر جماعتوں کے ارکان نے بھی اس کی مخالفت کی ہے۔

    فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ ہم تمام لوگوں کو آن بورڈ لیکر دیکھیں گے کہ اس بل پر کیا ہو سکتا ہے اور کیا نہیں، ہم ایسا بل نہیں لانا چاہتے جو کل کو ہمارے ہی گلے پڑ جائے جبکہ نگران سیٹ اپ کے حوالے سے انہوں نے احسن واحد کو بتایا کہ نگران سیٹ اپ کیلئے پی پی پی اور مسلم لیگ ن کی کمیٹی دوبارہ مل بیٹھے گی اور اس کمیٹی میں نام شیئر ہونگے جس کے بعد اس پر پر بحث ہوگی۔ علاوہ ازیں انہوں نے کہا ہے کہ ابھی نگران وزیراعظم کے نام کیلئے کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، سیاسی لوگوں کے نام سامنے آ رہے ہیں اس میں کوئی بڑی بات نہیں ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    بلوچستان میں ” باپ” کا کردار بدستور اہم رہے گا
    چین میں پاکستانی آموں کی نمائش اگست کے تیسرے ہفتے میں
    اسٹیٹ بینک کا شرح سود22 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ
    باجوڑ، خار میں دہشت گردی،سی پیک کی دس سالہ تقریبات سادگی سے منانے کا فیصلہ
    رہنما پیپلز پارٹی فیصل خان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کیا کبھی کسی سیاستدان کو کہا گیا ہے کہ ڈیپوٹیشن پر جج یا بیوروکریٹ بن جائیں، کیا سب لوگوں نے ہمارے پاس ہی آنا ہے کبھی کسی جج کو کبھی کسی بیوروکریٹ کو لے آئیں، اس کا کیا مطلب ہے جج اور بیوروکریٹ اچھی سیاست کر لیتے ہیں۔جبکہ ماضی میں ہم نے تجربے کیے ہیں اور انہی لوگوں کو بٹھا دیا لیکن جب آر ٹی ایس کا سوئچ آف ہوا تو یہ خاموش تھے، لیکن جب الیکشن گزر جاتے تو یہ کہتے کہ ہمیں تو گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں تھی۔