Baaghi TV

Tag: Fawad

  • فضا علی کی بیٹی مہندی سے اپنے ہاتھ پر ڈیزائن کی بجائے کیا لکھواتی ہیں ؟‌

    فضا علی کی بیٹی مہندی سے اپنے ہاتھ پر ڈیزائن کی بجائے کیا لکھواتی ہیں ؟‌

    اداکارہ فضا علی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ مجھے تو بہت شوق تھا ہاتھوں پر مہندی لگوانے کا جب میں اپنی بیٹی کی عمر کی تھی. لیکن میری بیٹی فارال کو ایسا بالکل بھی کوئی شوق نہیں ہے. وہ اگر ہاتھ پر مہندی لگواتی بھی ہے تو ماں لکھواتی ہے یا کوئی سٹار بنواتی ہے. فضا علی نے کہا کہ عید خوشیوں بھرا تہوار ہوتا ہے. ہمیں اس کو پورے اہتمام کے ساتھ منانا چاہیے. اور ہمیں ان لوگوں کو ضرور یاد رکھنا چاہیے جن کے پاس کھانے کو نہیں ہوتا. یا پہننے کو کپڑے نہیں ہوتے. میری ہمیشہ سے یہ کوشش ہوتی ہے، میں ان بچوں کو کپڑے لیکر دوں جوتے

    لیکر دوں اور میں ایسا کرتی بھی ہوں. فضا علی نے کہا کہ عید کے روز میں اپنی سہیلوں سے ملتی ہوں ، رشتہ داروں کو ملتی ہوں، میں اپنی زندگی کو اپنی بیٹی کے ساتھ بہت زیادہ انجوائے کررہی ہوں. فضا علی نے مزید کہا کہ میری بہت خواہش ہے کہ میں اپنی بیٹی کو خود مختار بنائوں اور کل کو یہ اپنے پائوں پر کھڑی ہو کر نہ صرف لوگوں کی مدد کرے بلکہ اپنا گھر بھی خود بنائے.اور میں ابھی سے اس کے زہن میں یہ چیز ڈال رہی ہوں کہ اپنے پائوں پر کھڑے ہونا ہے.

  • میرے سابقہ شوہر نے کبھی مجھے بیوی والا رتبہ نہیں دیا فضا علی

    میرے سابقہ شوہر نے کبھی مجھے بیوی والا رتبہ نہیں دیا فضا علی

    اداکارہ فضا علی جنہوں نے چند سال پہلے اپنے شوہر سے طلاق لی ہے. دونوں کی ایک بیٹی ہے ان کے سابقہ شوہر کا نام فوادفاروق تھا. اپنی ذاتی زندگی کو پہلی بار ڈسکس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جب میں نے شادی کی تو آنکھوں میں سپنے تھے گھر بسانے کے ، اچھی بیوی اور ماں بننے کے، میں ماں بنی اچھی بیوی بنی ، لیکن مجھے بیوی ہونے کا رتبہ نہ مل سکا. میرے شوہر نے ہمیشہ مجھے اگنور کیا، اس نے کبھی مجھے مارا نہیں ، لیکن اپنی زندگی میں مصروف رہے ، میں شوٹنگز کرتی کام کرتی گھر آتی شوہر کی توجہ کی ضرورت ہوتی تھی وہ مجھے توجہ نہیں دیتا تھا، اسکو اپنے کام اپنے تعلقات بہت عزیز تھے وہ انہی میں‌مصروف رہتا تھا. فواد کو شاید ایک بیوی کی

    ضرورت ہی نہیں تھے پتہ نہیں انہوں نے مجھ سے شادی کیوں کر لی. میں ترستی رہی میاں بیوی کے رشتے کو شوہر کی توجہ کو ، پھر ایک وقت ایسا آیا کہ مجھے سوچنا پڑا اور میں نے اپنے شوہر سے علیحدگی کا فیصلہ کر لیا شوہر کے ساتھ رہ کر بھی ایسی ہی زندگی تھی جیسی ابھی ہے. تو ٹھیک ہے وہ خوش ہے تو میں بھی خوش ہوں. بیٹی کو پال رہی ہوں‌کام کررہ ہوں.

  • مسئلہ عید پر فواد و مفتی منیب مقابلے بازی پر میری رائے از طہ منیب

    گئے دنوں کی بات ہے صاحب حکومت کے ترجمان ہوا کرتے تھے، میڈیا کی سکرینوں پر راج ہوا کرتا تھا، کیمرہ مین آگے پیچھے پھرتے تھے، سب اچھا چل رہا تھا ، پھر کسی کے اشارہ ابرو پر اس وزارت سے سائیڈ پر لگا دئے گئے تو وہ درد اور غم ایسا تھا کہ ناقابل برداشت۔ وزرات سائنس و ٹیکنالوجی کی بدقسمتی کہ ایک بدزبان و بدچلن وکالت کا پیشہ رکھنے والا آدمی جس کی زبان اور ہاتھ دونوں سے لوگ پریشان ہیں اسے میڈیا میں ان رہنے کیلئے کچھ تو چاہیے تھا۔

    بھلا ہوا ہمارے دینی بھائیوں کہ ان سیکیورٹی کا کہ حضرت کا آسان ترین ہدف رویت ہلال اور اسکے ماضی کے تضادات اچھا ہدف نظر آئے تو سو بسم اللہ کر گزشتہ سال کی طرح امسال دوپہر میں ہی اعلان کر دیا کہ آج ٹھٹھہ میں چاند نظر آئے گا اور کل عید ہوگی۔ ہمارا دینی طبقہ حسب سابق ان سیکیورٹی کا شکار ہو کر دفاعی و جارحانہ پوزیشن میں آگیا اور یوں صاحب بہادر کو مطلوبہ اہداف حاصل ہو گئے۔

    اور رویت کے مسئلہ پر لبرل و سیکولر بریگیڈ کی جانب سے فواد چوہدری کی اس نوک جھونک کو سائنس و ٹیکنالوجی کی فتح قرار دیا جانا بھی کسی بیوقوفی سے کم نہیں ہے۔ ایک مشیر نے تو یہاں تک کہا ہے کہ یہ پریس کانفرنس ملک میں سائنس و ٹیکنالوجی کے نئے باب کھولے گی۔

    ان کو عرض کی کہ لگتا ہے ‏فواد چوہدری کی پریس کانفرنس کے اگلے ہی لمحے پاکستان نے چاند پر قدم رکھ دئیے، کرونا کی ویکسین ایجاد ہو گئی، غربت مٹ گئی، دنیا بھر سے طلباء ٹیکنالوجی کی تعلیم لینے پاکستان آ رہے ، چینی، روسی و امریکی ماہرین کی اعلی تعلیم کیلئے فواد چوہدری سے اپیل کرنے لگے ہیں، جس پر کچھ ان کے بہی خواہوں کو تکلیف پہنچی تو گزارش کی کہ ‏نان ایشو کو ایشو بنانے اور اسکی بنیاد پر پورے ملک میں انتشار پر مبنی اقدام کو سائنس و ٹیکنالوجی کی ترقی سے تعبیر کرنے پر اگر کچھ جواب دے ہی دیا تو وہ گستاخی ہو گئی۔

    اب سمجھنے کی بات یہ ہے کہ ہم ایک شہرت کے بھوکے میڈیا کے ترسے شخص کو ویلیو کیوں دیں؟ اس کی اسلام دشمنی جو وہ مولوی کو گالی اور جہالت کے طعنے دے کر پوری کرے اسے لفٹ ہی کیوں کرائیں۔ دونوں فریقین میں بنیادی اختلاف اپنی آنکھ سے دیکھنا اور ایپ سے سائنٹیفکلی جاننا ہے اور ہونا وہی ہے جو رویت ہلال کمیٹی نے طے کرنا ہے کہ کل عید ہو گی یا نہیں اور اسی بنیاد پر کل عید کا فیصلہ کر دیا ہے ۔

    ایسے گھٹیا طور طریقے اختیار کر کے کبھی اسلام پسند کو پاکستان کے قیام کا اور اسکی ترقی کا دشمن قرار دینے والے شخص کو آپکا حد سے زیادہ ڈسکس کرنا اسے یقیناً اور تسکین پہنچائے گا۔