Baaghi TV

Tag: FIR

  • گھر میں گھس کر مارپیٹ اور تشدد ،ڈی پی او سے انصاف کی اپیل

    قصور
    منڈی عثمان والا کے علاقہ میں بااثر لوگ محنت کش کے گھر میں گھس گئے اور مار پیٹ کرکے زخمی کرنے کے بعد قتل کی دھمکیاں دیتے ہوئے فرار ہو گئے،پولیس نے ایف آئی آر درج کی تاہم پولیس نے گھر میں داخل ہو مارپیٹ کی دفعات نہیں لگائیں اور نا ہی ملزمان کو گرفتار کیا
    تفصیلات کے مطابق محمد منشاء ولد محمد رمضان قوم انصاری سکنہ سکنہ نتارا کامل حدود منڈی عثمانوالہ نے ایس ایچ او منڈی عثمانوالہ کو 14/3/2025 کو درخواست دی کہ محمد راشد ولد عبد الرشید مسلح پسٹل، محمد ارشد ولد محمد رمضان مسلح کلہاڑی، محمد عدیم ولد احمد دین مسلح بندوق، ساکنان تارا کامل و بازی فارم تحصیل و ضلع قصور نے مورخہ 2025-03-5 بوقت ساڑھے 7 بجے گالی گلوج شروع کی اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے زبردستی میرے گھر کا بیرونی دروازہ توڑتے ہوئے اندر داخل ہوئے اور مجھے مارنے لگے
    تو گھر میں موجود سائل کی بیوی، بیٹیوں اور بیٹے نے سائل کی جان بخشی کروانی چاہی تو ملزمان نے انہیں بھی مارا پیٹا جس سے ہم سب شدید زخمی ہو گئے
    شور و غل سن کر فوری موقع پر محمد فیصل ولد محمد منشاء پہنچا اور منت سماجت کر کے ملزمان سے ہماری جان بخشی کروائی سائل نے فوری ریسکیو 15 پر کال کی تو علاقہ کی پولیس موقع پر پہنچتے ہی ملزمان گالی گلوچ اور جان سے مار دینے کی دھمکیاں دیتے ہوئے موقع سے فرار ہو گئے
    پولیس نے موقع دیا اور جائے وقوعہ سے ثبوت اکھٹے کرکے ایف آئی آر درج کر لی تاہم اس میں چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرتے ہوئے گھر میں داخل ہونے کی دفعات شامل نہیں
    اور ابھی تک پولیس ملزمان کو گرفتار نہیں کر رہی
    متاثرہ خاندان نے ڈی پی او قصور سے انصاف کی اپیل کی ہے

  • مجھ پر فحاشی کا الزام لگا کر جھوٹی ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں پائل چوہدری

    مجھ پر فحاشی کا الزام لگا کر جھوٹی ایف آئی آر کاٹی گئی ہیں پائل چوہدری

    سٹیج کی معروف اداکارہ و ڈانسر پائل چوہدری نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ میں‌13 سال سے سٹیج پر کام کر رہی ہوں کبھی فحاشی نہیں پھیلائی ، ہمیشہ صاف ستھرا کام کیا ہے، اس کے باوجود جیلسی میں‌کچھ لوگوں نے مجھ پر ایف آئی آر کٹوا رکھی ہیں، حال ہی میں جو ڈانس وڈیو وائرل ہوئی ہے وہ میری نہیں ہے وہ فیک وڈیو ہے ، ایسی وڈیوز تو مارکیٹ میں ہر روز کسی نہ کسی کی آتی ہے. میں نے ڈانس بھی ہمیشہ ایسا کیا ہے جس کو دیکھ کر فیملیز سٹیج سے نہ بھاگیں . اب جو کہ تھیٹرز کی بندش ہوئی ہے اس پر میرا موقف یہ ہے کہ جو فحاشی کرتی ہیں یا جو کرواتے ہیں ان کو پکڑا جائے.

    ان پر پابندی عائد کی جائے ہمیں کس چیز کی سزا ہے. ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ”میں جھوٹی ایف آئی آرز سے کبھی نہیں ڈری ”، میں معیاری کام کررہی ہوں اور کرتی رہوں گی . سٹیج میری پہچان ہے اور رہے گا میں ڈر کر گھر نہیں بیٹھوں گی میرے چاہنے والے اگر مجھے دیکھنا چاہتے ہیں تو میں ان کے لئے کام کروں گی . یاد رہے کہ چند روز قبل پنجاب حکومت نے سخت ایکشن لیتے ہوئے تھیٹرز پر پابندی لگا دی ہے جس پر سٹیج کے فنکار سراپا احتجاج ہیں.

    فریحہ ادریس ڈرامہ سیریل حادثہ بنانے اور اسکو دکھانے والے جیو ٹی وی پر برس …

    حادثہ ڈرامہ کسی کی ذاتی زندگی پر نہیں بنایا گیا حدیقہ کیانی کی وضاحت

    ہم خود فحاشی کے خلاف ہیں حکومت کا اقدام قابل تحسین ہے لیکن …. قیصر …

  • جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا مقدمہ درج

    جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر مبینہ حملے کا معاملہ،پولیس نے مقدمہ درج کر لیا-

    باغی ٹی وی: انسداد دہشت گردی ایکٹ کے تحت پولیس کی مدعیت میں تھانہ رمنا میں مقدمہ درج کرلیا گیا،مقدمہ میں عمران خان، مراد سعید، علی نواز اعوان، فرخ حبیب، شبلی فراز کو نامزد کیا گیا-

    ایف آئی آر کے مطابق مقدمہ میں حسان نیازی، عامر کیانی، شہزاد وسیم، راجہ بشارت، واثق قیوم، میاں اسلم اقبال، غلام سرور خان، حماد اظہر و دیگر قائدین کو بھی نامزد کیا گیا ہجوم میں سے کلاشنکوف اور دیگر اسلحہ سمیت ملزمان کو حراست میں لیا گیا۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت جوڈیشل کمپلیکس اور ہائی کورٹ پر حملے کی کوشش کی گئی۔ 25 افراد گرفتار کرلیے ہیں جبکہ دیگر کی گرفتاری کیلئے چھاپے مارے جارہے ہیں۔


    پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتاریوں کے لئے مختلف صوبوں میں پولیس ٹیمیں روانہ کردی گئی ہیں۔ سیاسی جماعت کے رہنماء ہجوم کی قیادت کررہے تھے جنہوں نے عوام کو اکسایا اور توڑ پھوڑ کے لئے آمادہ کیا۔ جوڈیشل کمپلیکس میں سرکاری املاک کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ پولیس نے حکمت عملی سے ہائی کورٹ میں ایسے کسی ممکنہ اقدام کو روکا۔

    قبل ازیں پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جوڈیشل کمپلیکس میں پیشی کے موقع پر شدید بدنظمی دیکھی گئی، پی ٹی آئی کارکنان نے عمارت کا دروازہ توڑ دیا۔ سی سی ٹی وی کیمرے توڑ دیئےکھل کر حکومت مخالف نعرے بازی بھی کی۔ بھاری نفری کے باوجود جوڈیشل کمپلیکس پر سیکیورٹی کے انتظامات درہم برہم ہوگئے۔

    سابق وزیراعظم عمران خان پیشی کیلئے ریلی کی صورت میں زمان پاک لاہور سے بذریعہ موٹروے جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پہنچے موٹروے پر جگہ جگہ چیئرمین تحریک انصاف کا استقبال کیا گیا۔ زیروپوائنٹ سے کارکنوں کی ایک بڑی ریلی ٹول پلازہ اسلام آباد پہنچی جہاں سابق ارکان اسمبلی اور کارکنوں نے اپنے لیڈر کو خوش آمدید کہا ریلی میں شامل گاڑیوں پر گل پاشی بھی کی۔

    عمران خان کی انسداد دہشتگردی عدالت اور بینکنگ کورٹ میں پیشی کے موقع پر وکلاء کی بڑی تعداد بھی موجود رہی۔ پارٹی رہنما بھی استقبال کیلئے جوڈیشل کمپلیکس پہنچے۔ پی ٹی آئی رہنما مراد سعید عمران خان کی گاڑی کی چھت پر سوار رہے۔ پی ٹی آئی کارکنان کی بڑی تعداد حفاظتی حصار توڑ کر عدالتی احاطے میں داخل ہوگئی، پارٹی کارکنوں کی جانب سے کمپلیکس کے اندرونی حصے میں ہنگامہ آرائی بھی کی گئی۔

    اسلام آباد ہائیکورٹ میں بھی بدترین بدنظمی ہوئی جہاں سکیورٹی کے سخت انتظامات اور علاقہ سیل کرنے کے باوجود وکلاء ہائی کورٹ کا دروازہ زبردستی کھول کر اندر داخل ہوئے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ میں پولیس نے میڈیا کو داخلے سے روک دیا-

    قبل ازیں وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس پر حملہ کیا، عدلیہ کی توہین کی، توڑ پھوڑ اور ہنگامہ آرائی کی جس پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے۔

    وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سی سی ٹی وی کیمروں کی مدد سے ذمہ داروں کو گرفتار کیا جائے گا، توشہ خانہ کیس میں بھی عدالت نے بار بار طلبی کے باوجود عدم پیشی پر عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے۔

    وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ بدبخت عمرانی ٹولے نے آج جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد پر حملہ کیا، گیٹ توڑ کر داخل ہوئے، سی سی ٹی وی کیمرے توڑے گئے، جوڈیشل کمپلیکس میں غنڈہ گردی کی گئی ہے اور جوڈیشل کمپلیکس کی بطور ادارے کی توہین کی گئی ہے لہٰذا توڑ پھوڑ کرنے، عدلیہ کی عزت و تکریم کو سبوتاژ کرنے پر مقدمہ درج کیا جا رہا ہے جو بھی اس میں ملوث ہے اس کو گرفتار کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا کہ پوری قوم کو اس سارے معاملے پر تشویش ہے کہ اس فتنے کو کس طرح سے اسپیشل ٹریٹمنٹ دیا جا رہا ہے، پہلی دفعہ ایسا ہو رہا ہے کہ عدالتوں میں پیشیوں کا وقت ملزم خود مقرر کر رہا ہے، دوسری طرف ایک عام آدمی چند منٹ تاخیر پر پہنچے تو اسے سزا دی جاتی ہے۔

    وزیر داخلہ نے کہا کہ آج توشہ خانہ کیس میں پہلے 9 بجے، پھر 11 بجے اور پھر عمران خان پیش ہی نہیں ہوئے جس پر عدالت نے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔قانون کا احترام نہ کرنے، غنڈہ گردی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرنے جا رہے ہیں، اس واقعے کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، عوام کو یقین دلاتا ہوں کہ قانون کے مطابق کارروائی ہوگی۔

    خیال رہے کہ اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیر اعظم اور پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان کے توشہ خانہ کیس میں ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے ہیں۔

    اسلام آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج ظفر اقبال نے عمران خان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے۔

    ایڈیشنل ڈسٹرکٹ سیشن جج نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ ہم نے ساڑھے تین بجے تک عمران خان کا انتظار کیا مگر وہ پیش نہیں ہوئے اس لیے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے ہیں۔

    واضح رہے کہ سابق وزیراعظم عمران خان کی نااہلی کے لیے دائر کیا جانے والا توشہ خانہ ریفرنس حکمراں اتحاد کے 5 ارکان قومی اسمبلی کی درخواست پر اسپیکر قومی اسمبلی نے الیکشن کمیشن کو بھجوایا تھا۔

    ریفرنس میں الزام عائد کیا گیا تھا کہ عمران خان نے توشہ خانہ سے حاصل ہونے والے تحائف فروخت کرکے جو آمدن حاصل کی اسے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا۔

    آئین کے آرٹیکل 63 کے تحت دائر کیے جانے والے ریفرنس میں آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت عمران خان کی نااہلی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

    کیس کی سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل بیرسٹر علی ظفر نے مؤقف اپنایا تھا کہ 62 (ون) (ایف) کے تحت نااہلی صرف عدلیہ کا اختیار ہے اور سپریم کورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن کوئی عدالت نہیں۔

    واضح رہے کہ عمران خان نے توشہ خانہ ریفرنس کے سلسلے میں 7 ستمبر کو الیکشن کمیشن میں اپنا تحریری جواب جمع کرایا تھا، جواب کے مطابق یکم اگست 2018 سے 31 دسمبر 2021 کے دوران وزیر اعظم اور ان کی اہلیہ کو 58 تحائف دیے گئے۔

    بتایا گیا کہ یہ تحائف زیادہ تر پھولوں کے گلدان، میز پوش، آرائشی سامان، دیوار کی آرائش کا سامان، چھوٹے قالین، بٹوے، پرفیوم، تسبیح، خطاطی، فریم، پیپر ویٹ اور پین ہولڈرز پر مشتمل تھے البتہ ان میں گھڑی، قلم، کفلنگز، انگوٹھی، بریسلیٹ/لاکٹس بھی شامل تھے۔

    جواب میں بتایا کہ ان سب تحائف میں صرف 14 چیزیں ایسی تھیں جن کی مالیت 30 ہزار روپے سے زائد تھی جسے انہوں نے باقاعدہ طریقہ کار کے تحت رقم کی ادا کر کے خریدا۔

    اپنے جواب میں عمران خان نے اعتراف کیا تھا کہ انہوں نے بطور وزیر اعظم اپنے دور میں 4 تحائف فروخت کیے تھے۔

    سابق وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ انہوں نے 2 کروڑ 16 لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد سرکاری خزانے سے تحائف کی فروخت سے تقریباً 5 کروڑ 80 لاکھ روپے حاصل کیے، ان تحائف میں ایک گھڑی، کفلنگز، ایک مہنگا قلم اور ایک انگوٹھی شامل تھی جبکہ دیگر 3 تحائف میں 4 رولیکس گھڑیاں شامل تھیں۔

  • 10 سال سے بغیر ایف آئی آر کے قید نوجوان انصاف کا منتظر

    10 سال سے بغیر ایف آئی آر کے قید نوجوان انصاف کا منتظر

    پشاور سینٹرل جیل میں بغیر ایف آئی آر کے 10 سال سے قید میسحی نوجوان نے رہائی کے لیے پشاور ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی۔

    درخواست سیف اللہ محب کاکا خیل ایڈووکیٹ کی وساطت سے دائر کی گئی۔

    درخواست گزار شکیل مسیح نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ 10سال سے سینٹرل جیل پشاور میں ایف آئی آر کے بغیر قید میں ہے، اسے پندرہ روز بعد عدالت لے جایا جاتا ہے لیکن باہر سے ہی واپس لے آتے ہیں.

    ابھی تک عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا گیا جبکہ کیس کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں، اگر ایف آئی آر ہے تو قانون کے مطابق ٹرائل کیا جائے۔

    درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ اس کے خلاف ایف آئی آر بھی درج نہیں اس لیے اسے رہا کرنے کا حکم دیا جائے۔

    شکیل سمیح کو 10 سال پہلے سیکیورٹی اہلکاروں کے قتل کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔

  • پولیس کی کاروائی، پتنگ فروشوں کی شامت آ گئی.

    راولپنڈی پولیس کی پتنگ فروشوں کے خلاف کاروائی،03پتنگ فروش گرفتار، 1400پتنگیں اور 19 کیمیکل ڈوریں برآمد، مقدمات درج

    ایس ایچ او صادق آباد اور ان کی ٹیم نے کاروائی کرتے ہوئے پتنگ فروش شبیر احمد کو گرفتار کیا، ملزم کے قبضہ سے 1200 پتنگیں اور 12 کیمیکل ڈوریں برآمد ہوئیں.

    ایس ایچ او آر اے بازار کی زیرنگرانی پولیس ٹیم نے دوران ناکہ بندی گاڑی کو روک کر چیک کیا.

    گاڑی میں سے 200 پتنگیں اور 07 کیمیکل ڈوریں برآمد کرکے نعمان بٹ اور سلمان خٹک کو گرفتار کر لیا، پولیس

    پتنگ فروشوں کے خلاف الگ الگ مقدمات درج کر لیے گئے، پولیس

    ڈویژنل ایس پیز کی جانب سے متعلقہ ایس ایچ اوز اور پولیس ٹیموں کو شاباش، پتنگ فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن مزید تیز کرنے کی ہدایت جاری کر دیں.

  • پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت، مدرسہ مہتمم پر پرچہ درج

    پی ڈی ایم کے جلسے میں شرکت، مدرسہ مہتمم پر پرچہ درج

    پی ڈی ایم کی ریلی میں مدرسہ طالبعلموں کے ساتھ شرکت کرنے پر مدرسے کی انتظامیہ پر مقدمہ درج کر لیا گیا.

    مقدمہ کورونا ایس او پیز کی خلاف ورزی کو جواز بنا کر کیا گیا.

    تفصیلات کے مطابق مدرسے کی انتظامیہ کو جلسے میں شرکت سے روکا گیا تھا لیکن اس کے باوجود شرکت کرنے پر مقدمہ درج کر دیا گیا.

    مقدمہ ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر کی مدعیت میں درج کیا گیا.