Baaghi TV

Tag: flood

  • بند ٹوٹنے سے سیلاب نے تباہی مچادی

    بند ٹوٹنے سے سیلاب نے تباہی مچادی

    پنجاب کے مختلف شہروں میں سیلاب نے تباہی مچا رکھی ہے جس سے بورے والا اور بہاولنگر میں درجنوں دیہات زیرآب آگئے ہیں، حفاظتی بند ٹوٹنے سے کئی علاقوں کا زمینی رابطہ منقطع ہوچکا ہے جبکہ بہاولپور میں دریائے ستلج کا ریلا دریائی پٹی پر تباہی مچانے لگا ہے، بستی لالہ ڈیرہ، بستی آرائیاں، اور ڈیرہ بکھا کے متعدد علاقے زیر آب آگئے ہیں اور عارضی بند ٹوٹنے سے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی بھی سیلاب کی نظر ہوگئی ہے.

    واضح رہے کہ بورے والا میں بھی دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب سے تباہ کاریاں جاری ہیں، دریا کے بیلٹ پر بنے 90 فیصد عارضی حفاظتی بند ٹوٹ گئے۔ پانی میں گھرے سیکڑوں افراد مدد کے منتظرہیں اور ادھر بہاولنگر میں سیلابی ریلے کی تباہ کاریاں تیز ہوگئی ہیں، تیزبہاؤ کی وجہ سے دریائی بیلٹ کے قریب وسیع علاقہ زیرآب آگیا، 60 سے زائد دیہات کے زمینی رابطے منقطع ہوگئے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    اب ہمارے گھر کر کے نیٹ فلکس پر میری بیوی آئیگی یاسر حسین
    اوپن مارکیٹ میں ڈالر 316 روپے پر پہنچ گیا
    بلوچستان؛ نگران مشیر معدنیات کیخلاف مقدمہ درج
    جبکہ خیرپور ٹامیوالی میں ہیڈ اسلام کے مقام پر اونچے درجے کا سیلابی ریلا گزر رہا ہے، ہیڈ گنڈا سنگھ کے مقام پر پانی کی سطح بیس فٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور پانی کا اخراج ایک لاکھ اٹھارہ ہزارکیوسک ریکارڈ کیاگیا۔ جبکہ دریائے ستلج میں سیلاب کے تیز بہاؤ کے باعث لودھراں کی نواحی بستیاں زیر اب آ گئیں، متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کیلیے ریسکیو کا کام جاری ہے۔ علاوہ ازیں متاثرین کا کہنا ہے کہ پانی ہمارا سب کچھ بہا کرلے گیا، نہ گھر بچا اورنہ ہی فصلیں،اہلخانہ کو منتقل کررہے ہیں۔

  • دریائے ستلج؛ سیلاب متاثرین دربدر

    دریائے ستلج؛ سیلاب متاثرین دربدر

    دریائے ستلج میں اونچے درجے کے سیلاب کے باعث بڑا ریلا وہاڑی پہنچ گیا ہے جبکہ عارضی حفاظتی بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہوگیا ہے، بھارتی سیلابی ریلا دریائے ستلج اور پاکپتن کے مقام پر اوور فلوکرگیا تھا جس کے نتیجے میں ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں زیر آب آگئیں ہیں۔

    جبکہ قصور میں گاؤں ولے والا سیلابی پانی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے اور کسانوں کی کروڑوں روپے کی فصلیں بھی تباہ ہو گئی ہیں جبکہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پاک فوج امدادی کاموں میں مصروف ہے تاہم ہیڈ سلیمانکی پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ چھیالیس ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا جبکہ دریائے ستلج میں ہیڈ گنڈا سنگھ والا کے مقام پرپانی کی سطح بائیس فٹ پر برقرار ہے۔ اور سیلاب متاثرین دربدر کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہیں.

    ذرائع کے مطابق تاحال لوگوں کی مال مویشیوں کے ساتھ نقل مکانی جاری ہے اور ریسکیو ٹیمیں لوگوں اور مویشیوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی میں مصروف ہیں علاوہ ازیں انتظامیہ کی جانب سے سیلابی صورتحال کے پیش نظر ہائی الرٹ جاری کردیا گیا ہے اور لوگوں سیلابی علاقہ سے دور رہنے کا کہا گیا ہے.
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    ماہرہ کے ساتھ کام کرنے کا سوال ہی نہیں پیدا ہوتا خلیل الرحمان کا ایک بار ماہرہ پر وار
    دوست کی کمسن بیٹی سےزیادتی کےالزام میں افسر معطل
    ملکی سلامتی کے فیصلوں کی حمایت اشد ضروری، تجزیہ، شہزاد قریشی
    علاوہ ازیں فورکاسٹنگ ڈویژن کی پیشن گوئی کے مطابق سلیمانکی ہیڈ ورکس کے مقام پر اونچے درجے کے سیلاب کی توقع گئی تھی ،دریں اثنا، پنجاب میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے ایک بیان میں کہا تھا کہ دریائے ستلج میں گنڈا سنگھ والا کے مقام پر کی سطح کم ہو رہی ہے جبکہ سلیمانکی ہیڈ ورکس میں پانی کی سطح بڑھ رہی ہے اسلام ہیڈ ورکس پر دریا میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔

    پی ڈی ایم اے کے مطابق قصور، اوکاڑہ، پاکپتن، وہاڑی، بہاول نگر، ملتان اور لودھراں کے نشیبی علاقے سیلاب کی زد میں ہیں اور ان علاقوں میں مقامی انتظامیہ کو ہائی الرٹ کر دیا گیا بیان میں کہا گیا تھا کہ ان علاقوں میں سیلاب سے متعلق امدادی مراکز کے قیام کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں جب کہ انخلا کا عمل جاری ہے آج سے پہلے پنجاب کی صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے کہا تھا کہ ضلع اوکاڑہ میں 56 مقامات سیلاب سے متاثر ہونے کی توقع ہے۔

  • منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر گئے، پی ڈی ایم اے

    منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر گئے، پی ڈی ایم اے

    ملک کے مختلف شہروں میں سیلاب متاثرین کی مشکلات میں کم نہ ہوسکیں ہیں، اور ہزاروں ایکڑ پر کھڑی فصلیں تباہ ہوگئی ہیں جبکہ لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی پر مجبور ہیں۔ اور ملک میں جاری مون سون بارشوں اور سیلابی ریلوں سے مختلف شہروں میں متاثرین کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، علاوہ ازیں لوگوں کے مکانات، مویشی اور کھڑی فصلیں تباہ ہوگئے ہیں۔

    پاکپتن کے علاقوں میں سیلابی ریلوں میں پھنسے لوگ پلاسٹک کے ٹینکوں سے کشتیاں بنا کر متاثرین اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کر رہے ہیں۔ علاوہ ازیں حویلی لکھا میں دریائے ستلج ہیڈ سلیمانکی کے مقام پرسیلاب نے ہر چیز تباہ کر کے رکھ دی ہے۔ ننکانہ صاحب میں ہیڈ بلوکی کے مقام پر دریائے راوی میں سیلابی پانی کے بہاو میں کمی آئی لیکن پانی سے تباہ کاریوں میں کمی نہ آسکی، سیلاب سے درجن سے زائد دیہاتوں میں مال مویشی، ہزاروں ایکٹر پر کھڑی فصلیں برباد ہوگئیں۔

    علی پور میں محکمہ ایریگیشن کے افسران اور عملے کی لاپرواہی کے باعث فلڈ بندوں کی حالت خستہ ہوگئی، جگہ جگہ بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے، سیلاب کی صورتحال میں فلڈ بند ٹوٹ سکتے ہیں۔ جبکہ سندھ کے شہر دادو میں کچے کے 30 سے زائد دیہات پانی کی لپیٹ میں ہیں، امدادی سرگرمیاں شروع نہ ہونے پر سیلاب متاثرین نے سڑک کنارے بسیرا کر لیا ہے۔

    گھوٹکی کے مقام پر دریائے سندھ میں درمیانے درجے کا سیلاب برقرار ہے، اور لوگ اپنی مدد آپ کے تحت نقل مکانی کرکے محفوظ مقامات پر منتقل ہورہے ہیں۔ بلوچستان کے شہر جعفرآباد میں بارش کا جمع شدہ پانی تاحال نہ نکالاجاسکا، اور بارش کے پانی کے باعث لوگ مصیبت میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے سندھ میں تونسہ کے مقام پر، راوی میں سدھنائی کے مقام پر اور ستلج میں سلیمانکی اور اسلام ہیڈ میں نچلے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے سندھ میں گڈو اور سکھرکے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب کاامکان ہے۔ ترجمان کے مطابق منگلہ ڈیم 86 فیصد اور تربیلا ڈیم 88 فیصد پانی سے بھر چکے ہیں۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    ترجمان پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ پنجاب کے مختلف اضلاع میں 24 گھنٹوں میں طوفانی بارشوں کا امکان ہے، سیالکوٹ اور نارووال کے ندی نالوں میں اور راولپنڈی نالہ لئی میں اگلے 24 گھنٹوں میں طغیانی کے امکانات ہیں۔ اور ضلعی انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ این ڈی ایم اے کے مطابق خیبرپختونخوا، شمالی پنجاب میں تیز ہواؤں اور بارش کا امکان ہے، جب کہ گلگت بلتستان، کشمیر اور اسلام آباد میں بھی گرج چمک کےساتھ بارش کا امکان ہے۔

  • نہر میں شگاف؛ سیکڑو ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ

    نہر میں شگاف؛ سیکڑو ایکڑ پر کھڑی فصل تباہ

    سندھ کے علاقوں گھوٹکی اور جیکب آباد میں نہر میں شگاف پڑنے سے سیکڑو ایکڑ پر کھڑی فصل، گھر اور اسکول زیر آب آگئے ہیں جبکہ رپورٹ کے مطابق گھوٹکی کے گاؤں ناڑی گڈانی کے قریب آر ڈی سیون پر مسو واہ نہر میں 30 فٹ چوڑا شگاف پڑگیا، جس سے کپاس اور چاول کی سیکڑوں ایکڑ پر فصل زیرآب آگئی۔

    علاقہ مکینوں کا کہنا ہے کہ نہر میں شگاف کی اطلاع دینے کے باوجود محکمہ آبپاشی کا عملہ تاحال نہیں پہنچا، جس کی وجہ سے بڑے نقصان کا خدشہ ہے۔ جبکہ جیکب آباد میں ٹھل موسیٰ اللہ آباد نہر میں بھی 10 فٹ چوڑا شگاف پڑنے کے بعد پانی شہر کی طرف بڑھنے لگا، قریبی اسکول سمیت گھروں میں پانی داخل ہوگیا۔

    علاقہ مکین اپنی مدد آپ کے تحت شگاف پر کرنے کی کوشش کررہے ہیں، مکینوں کا کہنا ہے کہ اطلاع دینے کے باوجود بھی محکمہ آبپاشی کا عملہ نہیں پہنچا۔

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    عمران خان کو سائفر کے سیاسی استعمال کی قیمت چکانا پڑے گی۔ خواجہ آصف
    بھتہ طلبی پر ایس ایچ او سول لائن کو ساتھیوں سمیت مقدمہ درج کرکے گرفتار کر لیا گیا
    ہم پاکستان میں قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں. امریکہ
    عمران خان کی عبوری ضمانت میں 8 اگست تک توسیع
    دوسری جانب گھوٹکی اور دیر میں ٹریفک حادثات میں 4 افراد جاں بحق اور 4 زخمی ہوگئے ہیں، اطلاعات کے مطابق گھوٹکی میں اوباڑو موٹر وے کے قریب مزدا اور ٹریلر میں تصادم کے نتیجے میں 2 سگے بھائی جاں بحق ہوگئے، لاشوں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا، پولیس کے مطابق حادثے میں جاں بحق بھائیوں کا تعلق سکھر سے ہے۔ ادھر دوسری جانب دیر میں عشیری درہ روڈ پر کار کھائی میں جاگری، واقعے میں 2 افراد جاں بحق اور 4 زخمی۔ پولیس کے مطابق ریسکیو ٹیموں نے زخمیوں کو اسپتال منتقل کردیا۔

  • وہاب ریاض لمبے بوٹ پہن کر بارش کا پانی چیک کررہے، ویڈیو وائرل

    وہاب ریاض لمبے بوٹ پہن کر بارش کا پانی چیک کررہے، ویڈیو وائرل

    وہاب ریاض کی ایک ویڈیو وائرل ہے جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وہ ایک شاہراہ پر لانگ شوز پہن کر پانی میں کھڑے ہیں اور آنے جانے والوں کو دیکھ رہے ہیں جبکہ کیمرہ مین ان کی ویڈیو بنا رہا ہے۔ جبکہ قومی کرکٹر کے اس عمل پر سوشل میڈیا صارفین نےسخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے طرح طرح کے تبصرے کرتے ہوئے انہیں موٹر سائیکل سواروں اور دیگر کا خیال رکھنے کی نصیحت کی ہے۔


    خیال رہے کہ وزیراعلیٰ کے مشیر برائے کھیل وہاب ریاض بارش کے بعد شاہراہوں کے دورے کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہیں جس کے باعث انہیں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسری جانب سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ وہاب ریاض اسپیڈ میں گاڑی چلا رہے ہیں جس سے موٹر سائیکل پر جانے والے فیملی اور دیگر پر پانی کے چھیٹے جاتے دکھائی دے رہے ہیں.
    مزید یہ پڑھیں؛
    وزیراعظم کی غیرملکی سرمایہ کاری سے متعلق مواقع تلاش کرنے کی ہدایت
    ڈی جی پی ٹی اے کے گھر چوری کی واردات
    شمالی وزیرستان؛ خودکش دھماکے میں 3 اہلکار شہید جبکہ 10شہری زخمی
    امریکی صدر کی سرکاری رہائش گاہ وائٹ ہاؤس سے کوکین برآمد
    اسحاق ڈار کی امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم سے ملاقات
    لاہورمیں 285 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوچکی ہے،عامر میر
    سی پیک کے دس سال مکمل،وزیراعظم شہبازشریف کی چین اورپاکستان کو مبارکباد
    یاد رہے کہ ملک بھر میں ہونے والے شدید بارشوں کے باعث بچوں ، خواتین سمیت 12 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور میں صبح چار بجے سے شروع ہونے والی طوفانی بارش کے باعث شہر ڈوب گیا اور اہم شاہراہیں سمندر کا منظر پیش کرنے لگیں، جہاں تاحد نگاہ پانی ہی پانی موجود۔

  • طوفانی بارشوں کی پیشگوئی؛ سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا

    طوفانی بارشوں کی پیشگوئی؛ سیلاب کا خطرہ مزید بڑھ گیا

    وفاقی دارالحکومت سمیت ملک کے بالائی علاقوں میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ مزید بارش جبکہ چند مقامات پر موسلا دھار بارش کا امکان ہے جس کے باعث نشیبی علاقے زیر آب آنے اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ ہے۔ جبکہ این ڈی ایم اے نے موسمی صورتحال کے پیش نظر تمام متعلقہ اداروں کو الرٹ رہنے جبکہ مسافروں، سیاحوں اور دیگر لوگوں کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ محکمہ موسمیات کے مطابق آج بدھ کے روزکشمیر، گلگت بلتستان ،خیبر پختونخوا ،اسلام آباد، خطہ پوٹھوہار ،بالائی /وسطی پنجاب اور شمال مشرقی بلوچستان میں آندھی اورگرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے ۔ اس دوران بالائی پنجاب، اسلام آباد، کشمیر، بالائی خیبر پختونخوا میں چند مقامات پر موسلا دھاربارش کی توقع ہے جبکہ ملک کے دیگرعلاقوں میں موسم شدید گرم اورمرطوب رہے گا۔

    دوسری جانب نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) نے مون سون بارشوں کے سلسلہ کے دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی و طوفان کے ساتھ شدید بارشوں کے پیش نظر ضروری احتیاطی تدابیر پرمبنی ہدایات جاری کی ہیں۔ این ڈی ایم اے کی جانب سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ مون سون بارشوں کا پہلا سلسلہ 8 جولائی تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ اس دوران ملک کے مختلف علاقوں میں آندھی و طوفان کے ساتھ شدید بارشیں متوقع ہیں، بارشوں سے پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ جبکہ نشیبی علاقوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔

    این ڈی ایم اے نے اس ممکنہ موسمی صورتحال کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو ہنگامی مشینری اور عملے کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایات جاری کی ہیں جبکہ ضلعی انتظامیہ کو ایمرجنسی اور میڈیکل عملہ کی موجودگی یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ سیاحوں اور مسافروں کو موسمی حالات سے باخبر رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے جبکہ متعلقہ اداروں کو سیلاب کے خطرے سے دوچار علاقوں کے مکینوں کو پیشگی اطلاع فراہم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے ۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    صفائی کی مد میں کروڑوں روپے خورد برد کر لیے گئے، میر صادق عمرانی
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    بھارت کی جانب سے پانی چھوڑنے سے دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ بڑھ سکتا ہےمسجد نبوی میں 4.2 ملین نمازی اور زائرین کی آمد ریکارڈ
    اسٹاک ایکسچینج میں مندی کا رجحان
    گلگت بلتستان میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اہم ترین اجلاس طلب
    عمرانی دورحکومت میں 29 افراد کو فوجی عدالتوں سے سزا سنائی گئی،درخواست دائر
    علاوہ ازیں مون سون کی بارشوں کے دوران عوام سے کہا گیا ہے کہ ٹپکتی چھتوں ، دراڑ والی اور کچی دیواروں کی مرمت یقینی بنائیں، چھتوں اور صحن سے نکاسی آب یقینی بنائیں، گھر و گلی محلوں کی نالیوں اور سیوریج میں کوڑا ہر گز مت پھینکیں، نشیبی علاقوں کے رہائشی تہہ خانوں میں رہائش سے گریز کریں ، بجلی کی تاروں اور کنکشن کی مرمت کرائیں،ایمرجنسی میڈیکل کٹ تیار رکھیں،موسمی حالات سے مسلسل باخبر رہیں،بلا ضرورت گھر سے باہر نکلنے سے گریز کریں،تیز آندھی و طوفان کی صورت میں درختوں ، بوسیدہ دیواروں اور پلوں سے دور رہیں۔ این ڈی ایم اے نےکہا کہ بارش کے دوران دریائوں ، ندی نالوں کو پار کرنے اور ان میں نہانے سے گریز کریں،گیلے لباس وجسم کے ساتھ برقی آلات کو ہرگز نہ چھوئیں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں اور مقامی انتظامیہ سے تعاون کریں۔

  • بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 100سے زیادہ ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر

    بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں سیلاب نے تباہی مچادی، 100سے زیادہ ہلاکتیں، لاکھوں بے گھر

    بھارت، نیپال اور بنگلہ دیش میں مون سون بارشوں کی وجہ سے شدید تباہی ہوئی ہے۔ کم و بیش سات ملین افراد نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں جبکہ ہلاکتوں کی تعدا د بھی 100سے زائد ہو چکی ہے۔
    باغی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سات ریاستوں میں سیلاب سے51افراد ہلاک ہو ئے ہیں۔بھارتی صوبے آسام اور بہار سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ گذشتہ دس دنوں میں کم و بیش ساڑھے چار ملین افراد محفوظ مقام پر منتقل ہوئے ہیں۔بارشوں کی وجہ سے ٹرانسپورٹ کا نظام بری طرح متاثر ہے۔ سڑکیں اور ریلوے لائنیں ڈوب چکے ہیں۔ آسام کے 30اضلاع حالیہ سیلاب سے متاثر ہوئے ہیں جس کے نتیجے میں چار ملین سے زائد افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔ آسام میں 15افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اسی طرح بہار کے 12اضلاع تباہی ہوئی ہے جس کی وجہ سے اڑھائی ملین لوگوں نے نقل مکانی کی جبکہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 24ہو گئی ہے۔

    دریں اثناء نیپال میں سیلاب کی وجہ سے 70افراد مارے جا چکے ہیں۔ دو ملین لوگ متاثر ہوئے ہیں۔ بنگلہ دیش میں سیلاب متاثرین کی تعداد چالیس ہزارہے۔ جبکہ 16افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

    واضح رہے کہ جنوبی ایشیاء میں ہر سال سیلاب آتے ہیں۔ 2017ء میں سیلاب کی وجہ سے بھارت،نیپال اور بنگلہ دیش میں کم از کم 80افراد ہلاک ہوئے تھے۔ جبکہ فصلیں، جائیدادیں اور گھر تباہ ہو گئے تھے