Baaghi TV

Tag: foreign news

  • برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    برصغیر کی نامور شاعر پنڈت برج نارائن چکبست

    زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
    موت کیا ہے، انہیں اجزا کا پریشاں ہونا

    برج نارائن چکبست 19 جنوری 1882 کو فیض آباد میں پیدا ہوئے ۔ اصل نام پنڈت برج نارائن چکبست تھا لکھنؤ میں تعلیم حاصل کی. 1908ء میں قانون کا امتحان پاس کرکے وکالت کرنے لگے۔

    9 برس کی عمر سے شعر کہنا شروع کردیا تھا۔ کسی استاد کو کلام دکھایا نہ کوئی تخلص رکھا. چکبست اُن کی گوت تھی، کہیں کہیں اس کا استعمال کیا ہے۔ غالب ؔ، انیسؔ اور آتش ؔسے متاثر تھے۔ شاعری کی ابتداء غزل سے کی۔ بعد میں قومی نظمیں لکھنے لگے۔ایک رسالہ ’ستارۂ صبح‘ بھی جاری کیا تھا۔ چکبست کا مجموعہ کلام ‘‘صبح وطن ‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔

    12 فروری1926ء کو ایک مقدمے کی پیروی کیلئے بریلی گئے. لکھنؤ واپسی آنے کیلئے بریلی ریلوے سٹیشن پر فالج کا حملہ ہوا اور چند ہی گھنٹوں بعد سٹیشن پر ہی انتقال ہوگیا۔

    ان کے کچھ اور اشعار :

    دردِ دل، پاسِ وفا، جذبۂ ایماں ہونا
    آدمیّت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

    ﺍﺱ ﮐﻮ ﻧﺎﻗﺪﺭﯼٔ ﻋﺎﻟﻢ ﮐﺎ ﺻﻠﮧ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﺮ ﭼﮑﮯ ﮨﻢ ﺗﻮ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﯾﺎﺩ ﮐﯿﺎ

    دنیا سے لے چلا ہے جو تو حسرتوں کا بوجھ
    کافی نہیں ہے سر پہ گناہوں کا بار کیا

    چھٹکی ہوئی ہے گورغریباں پہ چاندنی
    ہے بیکسوں کو فکر چراغ مزار کیا

    سر میں سودا نہ رہا پاؤں میں بیڑی نہ رہی
    میری تقدیر میں تھا بے سر و ساماں ہونا

    ہے مرا ضبطِ جنوں، جوشِ جنوں سے بڑھ کر
    تنگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

    ہم اسیروں کی دعا ہے کہ چمن سے اک دن
    دیکھتے خانہ صیّاد کا ویراں ہونا

    ﺍﮔﺮ ﺩﺭﺩ ﻣﺤﺒﺖ ﺳﮯ ﻧﮧ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺁﺷﻨﺎ ﮨﻮﺗﺎ
    ﻧﮧ ﮐﭽﮫ ﻣﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮨﻮﺗﺎ ﻧﮧ ﺟﯿﻨﮯ ﮐﺎ ﻣﺰﺍ ﮨﻮﺗﺎ

  • عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ عدیلہ سلطان

    عدیلہ سلطان (عثمانی ترکی زبان: عدیلہ سلطان ; 23 مئی 1826 – 12 فروری 1899) ایک عثمانی شہزادی، ایک خاتون دیوان شاعرہ اور مخیر حضرات تھیں۔ وہ سلطان محمود دوم کی بیٹی اور سلطان عبدالمجید اول اور عبدالعزیز کی بہن تھیں۔

    ابتدائی زندگی
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان 23 مئی 1826 کو پیدا ہوئے۔ اس کے والد کا نام سلطان محمود دوم تھا اور اس کی والدہ زرنیگر حنیم تھیں۔ 1830 میں اپنی والدہ کی موت کے بعد، جب وہ چار سال کی تھیں، انہیں اپنے والد کی سینئر ساتھی، نیوفیدان کدن کی دیکھ بھال سونپ دی گئی۔

    عدیلہ کی تعلیم محل میں ہوئی تھی۔ اس نے قرآن، عربی، فارسی، موسیقی اور خطاطی کے اسباق لیے۔ اس نے خطاطی کے اسباق ابوبکر ممتاز افندی کے ساتھ حاصل کیے، جو اس دور کے سب سے مشہور خطاط تھے۔ اس نے حاصل کردہ تعلیم کے ساتھ، اپنی حساس شخصیت کے ساتھ مل کر، اس نے نظمیں لکھیں، ایسا کرنے والی واحد شہزادی بن گئی۔

    1839ء میں اس کے والد کی وفات کے بعد، جب وہ تیرہ سال کی تھیں، اس کے بڑے سوتیلے بھائی، نئے سلطان عبدالمجید اول نے اسے اپنی سرپرستی میں لے لیا۔

    شادی
    ۔۔۔۔۔
    1845ء میں، اس کے بھائی سلطان عبدالمجید نے اس کی شادی دامت مہمت علی پاشا سے کرائی، جو شاہی اسلحہ خانے میں بطور مشیر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ہیمسین میں پیدا ہوا، وہ گلتا کے چیف آغا، ہاکی عمر آغا کا بیٹا تھا۔ وہ بہت چھوٹی عمر میں استنبول آیا، جہاں اس نے اپنا بچپن اینڈرون میں گزارا۔

    شادی کی تیاریاں 24 مارچ 1845ء کو شروع ہوئیںاور شادی کا معاہدہ 28 اپریل کو مقدس آثار کے اپارٹمنٹ، توپکاپی پیلس میں مکمل ہوا۔ تقریب کی انجام دہی کے بعد، طوطے کو دارصاد آغا لایا گیا جہاں سے اسے توفانی گلی سے کران محل لے جایا گیا۔ شادی کی تقریبات اگلی گرمیوں تک موخر کر دی گئیں۔ یہ شادی فروری 1846ء میں ہوئی اور پورا ہفتہ چلی۔ تقریبات کے آخری دن، عدیلہ کو دفتردربار میں واقع نیستا آباد محل لے جایا گیا۔ یہ محل کسی زمانے میں سلطان مصطفٰی ثالث کی بیٹی ہاتیس سلطان کا تھا۔

    شادی کے بعد، محمد علی پاشا بحری بیڑے کا کمانڈر بن گیا، اور پانچ مرتبہ اس عہدے پر فائز رہا، اور اس کے بعد ایک مختصر عرصہ تک اس عہدے پر فائز رہا۔ گرینڈ وزیر اپنے بھائی سلطان عبدالمجید کو۔ دونوں کے ایک ساتھ چار بچے تھے، ایک بیٹا سلطان زادے اسماعیل بے، اور تین بیٹیاں، حیریئے حنِمسلطان، سِدیکا حنِمسلطان، اور ع لیے حنِمسلطان۔ اس کا انتقال 1868 میں اپنے چھوٹے سوتیلے بھائی سلطان عبدالعزیز کے دور حکومت میں ہوا۔ ان کی زندہ بچ جانے والی اکلوتی بیٹی، ہیری 1846 میں پیدا ہوئی، جو اپنے والد کے ایک سال بعد 1869 میں انتقال کر گئی۔
    مذہب
    ۔۔۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان ایک مذہبی خاتون تھیں۔ تقریباً 1845ء میں، وہ شیخ شمنولو علی آفندی کی پیروکار بن گئیں اور نقشبندی صوفی حکم کی رکن بن گئیں۔ اس نے نیست آباد محل میں شیخوں اور درویشوں کی میٹنگیں منعقد کیں، جو غریب لوگوں کے لیے ایک قسم کے ایپلیکیشن بیورو کے طور پر کام کرتی تھیں جو ان کی ضروریات شہزادی کو بتاتی تھیں۔
    موت
    ۔۔۔۔۔
    عدیلہ سلطان کا انتقال 12 فروری 1899 کو تریپن سال کی عمر میں ہوا، جو محمود کا آخری زندہ بچ جانے والا بچہ تھا۔ انہیں ایوپ، استنبول میں اپنے شوہر کے مقبرے میں سپرد خاک کیا گیا۔

  • ترکیہ، شام زلزلہ؛  اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ، شام زلزلہ؛ اموات 25 ہزار سے بھی تجاوز کرگئیں

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے اموات کی تعداد 25 ہزار سے تجاوز کرگئی، ایک لاکھ سے زائد افراد زخمی ہیں.

    6 روز کے دوران 1500 سے زائد آفٹر شاکس آچکے ہیں. گرنے والی ہزاروں عمارتوں کے ملبے میں دبے افراد کو نکالنے کیلئے ریسکیو آپریشن جاری ہے 100 گھنٹے گزرنے کے بعد بھی کئی افراد کو زندہ نکال لیا گیا. دبے ہوئے افراد کے زندہ بچنے کی امیدیں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کم ہوتی جارہی ہیں۔ ترکیہ اور شام میں 6 فروری کی صبح آنے والے زلزلے کے باعث تباہ ہونے والی عمارتوں میں دبے افراد کو نکالنے کا کام جاری ہے. دونوں ممالک میں اب تک 24 ہزار سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں۔ امدادی سرگرمیوں میں پاکستان سمیت دنیا کے کئی ممالک کی ریسکیو ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔

    حکام اور طبی عملے کے مطابق ترکیہ میں 20 ہزار 665 افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ شام میں ہلاکتوں کی تعداد 3 ہزار 553 ہے، دونوں ممالک میں تصدیق شدہ اموات کی تعداد 24 ہزار 218 تک پہنچ گئی ہے۔ دوسری جانب شام میں اب تک 3 ہزار 600 سے زائد اموات کی تصدیق کی گئی ہے۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ سرد موسم نے لاکھوں متاثرین کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ بہت سے لوگوں کو امداد کی اشد ضرورت تھی۔

    عالمی ادارے نے کہا ہے کہ زلزلے کے بعد دونوں ممالک میں کم از کم 8 لاکھ 70 ہزار افراد کو فوری طور پر خوراک کی ضرورت ہے، صرف شام میں 53 لاکھ بے گھر افراد کو فوری پناہ درکار ہے۔ تباہ کن زلزلے کے دوران اپنے گھر کے ملبے کے نیچے پھنسی ہوئی شامی خاتون نے جس بچی کو جنم دیا تھا اس کا نام ’’آیا‘‘ رکھا گیا ہے، جس کا عربی میں مطلب ’خدا کی نشانی‘ ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق نوزائیدہ بچی کے والدین اور اس کے تمام بہن بھائی قیامت خیز زلزلے کی نذر ہوگئے، بچی کی کفالت اب اس کے والد کے چچا کریں گے۔

    ترکیہ کے علاقے دیارباکر میں 103 گھنٹے بعد ماں بیٹے کو ملبے سے ریسکیو کرلیا گیا، تو اک بار پھر اُمید بندھ گئی۔ کہارامانمارس میں شدید زلزلے سے ٹرین کی پٹریاں اکھڑ گئیں، سڑکوں کا بھی برا حال ہوگیا، امدادی کاموں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ شام کی وزراء کونسل نے زلزلے سے متاثرہ علاقوں کو آفت زدہ قرار دے دیا۔ صدر بشار الاسد نے حلب کے اسپتال میں زلزلہ متاثرین سے ملاقات کی، رضا کار تنظیم کے اہلکاروں نے 2 ننھی بہنوں کو بچالیا۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    زلزلہ زدہ ادلب کے نواحی گاؤں کے قریب ایک چھوٹا ڈیم ٹوٹ گیا، پانی نے گھروں اور کھیتوں میں داخل ہوکر شہریوں کیلئے مزید مشکلات کھڑی کردیں ترکیہ کے جنوبی وسطی علاقے میں آباد انطاکیہ کا شہر ہزاروں سال پرانی تۃزیب کا حامل ہے لیکن اس شہر کا بہشتر حصہ ملبے کا ڈھیر بن چکا ہے. عرب نیوز چینل الجزیرہ کے مطابق شام کے شہر حلب میں بے گھر ہونے والے لوگوں کے لیے حالات بدتر ہوتے جا رہے ہیں۔ سرکاری سطح پر آنے والے ماہرین نے شہر کی کم و بیش تمام ہی عمارتوں کو مخدوش قرار دے دیا ہے۔

  • افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان؛پہلے تین طالبان جنہوں نے بطور پائلٹ سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا

    افغانستان کے وہ پہلے تین طالبان جنہوں نے تاریخ میں پہلی بار بطور پائلٹ اپنے سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیئے ہیں جبکہ ان تینوں کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے اساد نامی صارف نے لکھا کہ "طالبان نے جہاز اڑانے کیلئے تین طالبان پائلٹس کیلئے پہلی بار سرٹیفیکیٹ حاصل کرلیا ہے.” جبکہ یہ تصویر اب سوشل میڈیا پر کافی وائرل ہوگئی ہے اور صارفین نے مختلف کمینٹ کیئے ہیں.


    ایک صارف نے طالبان کی بچوں کی گاڑیاں چلانے والی ویڈیو میں سے تصویر نکال کر تبصرہ کیا کہ کیا ایسے لوگوں کو سرٹیفیکیٹ دی گئی ناصرف اس نے بلکہ بہت سارے صارفین نے تنقید تاہم بہت سارے ایسے بھی ہیں جنہوں اس چیز کو سراہا ہے کہ یہ طالبان کیلئے بہت بڑی کامیابی ہے اور اسے سراہا جانا چاہئے.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے


    ایک بھارتی صارف نے لکھا کہ طالبان کو چونکہ اب یہ سرٹیفیکیٹ مل گیا ہے تو کیا یہ جہاز اڑانے کے بعد اسے لینڈ بھی کر پائیں گے؟ لیکن امید ہے کہ یہ لوگ بھارے کے اوہر سے نہیں اڑان بھریں گے. ایک اور صارف نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ اللہ اب امریکہ کی مدد کرے اور امید ہے کہ دنیا اب نائین الیون جیسے تجربے سے نہیں گزرے گی.

    صارف نوید نے کہا کہ طالبان کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ایک بہت بڑی کامیابی ہے کیونکہ جو لوگ سمجھتے ہیں کہ طالبان کچھ نہیں جانتے یہ ان نوجوان طالبان کا پائلٹس کا سرٹیفیکیٹ حاصل کرنا ان کے ناقدین کے منہ پر تمانچہ ہے.

  • ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    ابھی تک شامی زلزلہ متاثرین کیلئے بھیجی گئی امداد کافی نہیں. اقوام متحدہ

    اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) نے ترکیہ اور شام کے آٹھ لاکھ 74 ہزار زلزلہ متاثرین کی مدد کے لیے سات کروڑ 70 لاکھ ڈالرز کی رقم فراہم کرنے کی اپیل کی ہے. خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ڈبلیو ایف پی کی جانب سے جمعے کی اپیل کے بعد اقوام متحدہ نے شام میں امدادی سرگرمیوں کو آسان بنانے کے لیے فوری جنگ بندی کا مطالبہ بھی کیا ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’ترکیہ میں گھروں سے محروم ہونے والے افراد کی تعداد پانچ لاکھ 90 ہزار جبکہ شام میں دو لاکھ 84 ہزار تک پہنچ چکی ہے۔ اور اس میں چار ہزار 500 تارکین وطن بھی شامل ہیں۔ واضح رہے کہ پیر کو ہونے والے اس زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے اور یوں یہ اس خطے میں صدی کا بدترین زلزلہ ہے۔

    ڈبلیو ایف پی نے مزید کہا ہے کہ گزشتہ چار دونوں میں ترکیہ اور شام میں ایک لاکھ 15 ہزار افراد کو خوراک فراہم کی گئی ہے۔
    ڈبلیو ایچ او کے ریجنل ڈائریکٹر کورین فلیشر نے کہا ہے کہ زلزلے سے متاثر ہونے والے ہزاروں افراد کو اس وقت سب سے زیادہ ضرورت خوراک کی ہے۔ وہاں کھانا تیار کرنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ بیان کے مطابق ’شام کے شورش زدہ علاقوں میں ریسکیو آپریشن کافی مشکلات کا شکار ہے۔ وہاں ڈبلیو ایچ او اب تک 43 ہزار افراد تک پہنچ سکا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    اردو نیوز نے اے ایف پی کے مطابق لکھا کہ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے دفتر نے جمعے ہی کو کہا ہے کہ شام کے زلزلے سے متاثر علاقے میں موجود افراد کی مدد کے لیے ضروری ہے کہ فوری طور پر جنگ بندی کی جائے۔ اقوام متحدہ کے رائٹس آفس کی ٹوئٹ کے مطابق ’چیف وولکر ترک نے شام میں فوری جنگ بندی، انسانی حقوق کے احترام اور اس حوالے سے بین الاقوامی کی مکمل احترام کی اپیل کی ہے۔

  • اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    اسمارٹ فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار

    فون ملبے تلے دبے درجنوں افراد کو زندہ بچانے میں مدد گار ثابت ہو رہے ہیں.

    ترکیہ میں زلزلے کی تباہ کاریوں کے بے شمار مناظر سامنے آ رہے ہیں۔ ترکیہ میں شام کی سرحد کےقریب بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔ تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے کا کام جاری ہے۔ ریسکیو آپریشن میں ایک شخص کو زلزلے کے 104 گھنٹے گذرنے کے بعد ایک عمارت کے ملبے کے نیچے سے زندہ نکالا گیا ہے۔ واضح رہے کہ گذشتہ ہفتےکی صبح آنے والے زلزلے کے نتیجے میں جنوبی ترکیہ کے شہروں انطاکیہ، مرعش، اضنا، غازی عنتاب، ادی یمان، دیار بکر بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔

    جمعے کی صبح سے گردش کرنے والے ایک ویڈیو کلپ میں ایک بچے کو بچاتے ہوئے دکھایا گیا ہے جو 6 فروری کی صبح زلزلہ آنے کے بعد سے ملبے تلے دب گیا تھا۔ امدادی ٹیمیں بچی کو نکالنے میں کامیاب ہوگئیں۔ بچی زندہ تھی حالانکہ اس نے انطاکیا شہر میں ملبے کے نیچے 103 گھنٹے گزارے۔ ترکیہ میں انطاکیا دوسرا شہر ہے جو اس مہلک زلزلے سے متاثر ہوا ہے۔ اس علاقے میں اس کے بعد گذشتہ پیر کی صبح سے لے کر اب تک ایک ہزار سے زیادہ آفٹر شاکس آئے ہیں۔

    ترک ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی اتھارٹی نے بتایا کہ زندہ نکالی جانے والی بچی بے ہوش تھی لیکن ابتدائی طبی امداد کے بعد اس کی صحت بحال ہوگئی۔ مقامی ترک میڈیا اور بین الاقوامی میڈیا کے نمائندوں کے مطابق ملک کے شمال وسطی اور مغربی حصوں میں زبردست انسانی اور مادی نقصان ہوا ہے۔ مرعش اور غازی عنتاب شہروں میں بھی ایسا ہی منظر تھا۔ پہلے شہر میں ریسکیو ٹیمیں ایک شخص کو 104 گھنٹے تک پھنسے رہنے کے بعد ملبے کے نیچے سے نکالنے میں کامیاب ہوئیں جبکہ دوسرے شہر میں وہ ایک 66 سالہ شخص کو نکالنے میں کامیاب ہو گئیں۔ یہ شخص بھی 103 گھنٹے تک ملبے کے نیچے پھنسا رہا۔

    ساٹھ کی دہائی کا یہ شخص اپنے فون کے ذریعے زلزلے کے آنے کے چند گھنٹوں بعد تک اپنے خاندان سے رابطے میں تھا، جس کا مطلب ہے کہ ملبے کے نیچے پھنسے افراد کو تلاش کرنے میں مواصلاتی سروسز کا اہم کردار ہے۔ غازی عنتاب شہر سے تعلق رکھنے والے ایک تُرک صحافی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ اسمارٹ فونز نے ملبے تلے دبے بہت سے لوگوں کو بچانے میں فیصلہ کن کردار ادا کیا، خاص طور پر چونکہ ٹیلی کمیونیکیشن کا شعبہ زلزلے سے زیادہ متاثر نہیں ہوا تھا۔ اس کے برعکس بجلی کا نظام زیادہ متاثر ہوا ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ "ٹیلی کمیونیکیشن کمپنیوں نےغیرمعمولی نقصان کے باوجود اپنی خدمات بند نہیں کیں اور اس سے ان کے گھروں سے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ان لوگوں کے درمیان رابطے میں مدد ملی جو انہیں ملنے سے قاصر تھے۔” ویڈیو کلپس میں اپنے گھروں کے باہر زندہ بچ جانے والوں اور ملبے تلے دبے دیگر لوگوں کے درمیان فون کالز دکھائی گئی ہیں جس سے امدادی ٹیموں کے لیے ان تک پہنچنا آسان ہو گیا۔ دوسروں نے مدد کے لیے کال کرنے کے لیے لائیو براڈکاسٹ فیچر کا استعمال کیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    نیب کی سیکرٹری پنجاب اسمبلی محمدخان بھٹی کے خلاف ناجائز اثاثے بنانے کی انکوائری شروع
    سونے کی فی تولہ قیمت میں 3ہزار300روپے کااضافہ
    ملک میں ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں اضافے کا سلسلہ جاری
    سابق سیکرٹری پنجاب کی اہلیہ کا شوہر کی گمشدگی پرچیف جسٹس سےازخود نوٹس کا مطالبہ
    پاکستانی سائنسدان و ماہر تعلیم ڈاکٹر عطاء الرحمان کیلئے ایک اور بین الاقوامی اعزاز
    پاکستانی معیشت کیوں ترقی نہیں کر رہی؟ عالمی بینک نےحقائق پیش کردیئے
    جمعہ کو دوپہر کے وقت ترک صدر نے اعتراف کیا کہ زلزلے کا ردعمل اتنا تیز نہیں تھا جتنا ہم چاہتے تھے. انہوں نے کہا کہ اس وقت ایک لاکھ چالیس ہزار افراد امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ صدر طیب اردوآن نے کہا کہ زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد 18,991 اور زخمیوں کی تعداد 76,000 تک پہنچ گئی ہے۔

  • شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام زلزلہ:ملبے تلے پیدا ہونیوالی نومولود بچی کو اسے بچانے والے نے گود لے لیا

    شام میں پیر کے روز آنے والے خوفناک زلزلے کے بعد ملبے تلے معجزانہ طور پر پیدا ہونے والی بچی کو ملبے سے نکالنے والے شامی شخص نے گود لے لیا۔

    باغی ٹی وی:"بی بی سی” کے مطابق معجزاتی طور پر شامی نومولود بچی کو اس کے رشتہ دار نے ملبے کے نیچے سے زندہ نکال لیا تھا۔ بچی کے والدین اور چار بہن بھائی زلزلہ میں جاں بحق ہوچکے ہیں-

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 20 ہزار سے تجاوز کرگئی

    ہزاروں افراد نے اس بچی کو گود لینے کی پیشکش کی ہے جو پیر کے زلزلے کے بعد شمال مغربی شام میں منہدم ہونے والی عمارت کے ملبے تلے پیدا ہوئی تھی اس کی ماں، باپ اور اس کے چاروں بہن بھائیوں کی موت زلزلے کے بعد جنڈیریس قصبے میں ہوئی تھی۔

    بچی کو ملبے سے نکالنے والے صلاح البدران نامی شخص نے گود لیا ہے جو بچی کو اسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد اپنے ساتھ لے جاسکیں گے۔

    اس کی دیکھ بھال کرنے والی ماہر اطفال ہانی معروف نے کہا، "وہ پیر کو اتنی بری حالت میں پہنچی، اس کے گلے پر زخم تھے، وہ ٹھنڈی تھی اور بمشکل سانس لے رہی تھی وہ اب مستحکم حالت میں ہے۔

    آیا کے بچاؤ کی ویڈیوز سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئیں۔ فوٹیج میں ایک شخص کو عمارت کے منہدم ہونے والے ملبے سے دوڑتے ہوئے دکھایا گیا، جس میں ایک بچے کو مٹی میں لپٹا ہوا تھا۔

    حکومتی امدادی کارروائیوں پر تنقید، ترکیہ میں ٹوئٹر سروس بند

    اس بچی کو زندہ نکالنے والے شامی نے بتایا کہ انہوں نے بچی کا نام ‘آیاہ’ رکھا ہے جس کے معنی ہیں ‘اللہ کی جانب سے بھیجی گئی نشانی’-

    بچی کو نکالنے والے اس کے رشتہ دار نے کہا کہ وہ اسے گود لے گا اور اپنے بچوں کے ساتھ اس کی پرورش کرے گا یہ بچی ابھی ہسپتال میں داخل ہے اور صحت یاب ہو رہی ہے میں نے اسے اپنی والدہ عفرا کا نام دیا ہے تاکہ یہ مرحوم کے خاندان کے لیے یادگار رہے۔

    مذکورہ شخص نے مزید بتایا کہ زلزلے کے نتیجے میں ان کا گھر بار سب تباہ ہوگیا، وہ اپنے اہلخانہ کے ہمراہ ایک ٹینٹ میں فی الحال رہ رہے ہیں۔

    قبل ازیں خاندان کے ایک رشتہ دار خلیل السواد نےکہا تھا کہ وہ ابو ردینہ اور اس کے اہلخانہ کو تلاش کر رہے تھے، انہوں نے پہلے ابو ردینہ کی بہن کو تلاش کیا، پھر ام ردینہ کو تلاش کیا اور اس کے قریب ہی اس کی نومولود بچی مل گئی ۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

  • سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی پرت دریافت

    سائنس دانوں نے سطح زمین سے 161 کلو میٹر نیچے ایک نئی تہہ دریافت کی ہے جس سے سیارے کا تقریباً 44 فیصد حصہ ڈھکا ہوا ہے۔

    باغی ٹی وی: ماہرین کے مطابق پگھلی ہوئی چٹانوں کا یہ خطہ، جس کے متعلق پہلے کچھ معلوم نہیں تھا، ایستھینواسفیئر کا حصہ ہے جو ٹیکٹونک پلیٹوں کے نیچے اور مینٹل کے اوپری حصے میں موجود ہے۔ یہ خطہ نرم سرحد تشکیل دیتا ہے جس کے سبب ٹھوس چٹانوں کی سلیں حرکت کرتی ہیں۔

    سعودی عرب میں نبطی دور کی حنوط شدہ خاتون کا چہرہ بحال

    یہ نئی دریافت عرصے سے رکھے جانے والے ان نظریات کو غلط ثابت کرتی ہے کہ پگھلی ہوئی چٹانیں ایستھینواسفیئر کے گاڑھے پن کو متاثر کرتی ہیں۔

    محققین نے حیرت کا اظہار کیا ہے کہ کون سے عوامل asthenosphere کو نرم بناتے ہیں اور پگھلی ہوئی چٹانوں کو اس کا حصہسمجھتے ہیں۔ اگرچہ زمین کا اندرونی حصہ زیادہ تر ٹھوس ہے، چٹانیں وقت کے ساتھ ساتھ آہستہ آہستہ منتقل اور حرکت کر سکتی ہیں۔

    جیونلن ہوا، آسٹن کی یونیورسٹی آف ٹیکساس کے جیکسن اسکول آف جیو سائنسز میں پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلو، اپنی ڈاکٹریٹ کی تحقیق کے لیے ترکی کے نیچے واقع زمین کے پردے کی زلزلہ کی تصاویر کا مطالعہ کر رہے تھے جب انھوں نے جزوی طور پر پگھلی ہوئی چٹان کے آثار دیکھے۔ اس نے اپنا کام 2020 میں شروع کیا جب وہ براؤن یونیورسٹی میں ڈاکٹریٹ کے طالب علم تھے۔

    50 ہزار سال بعد پہلی بار زمین کے قریب سے گزرنے والا سبز دم دار ستارہ آج آسمان پر…

    جیونلِن ہوا کا ایک بیان میں کہنا تھا کہ جب ہم کسی چیز کے پگھلنے کے متعلق سوچتے ہیں تو ہم خود بخود یہ سوچنے لگ جاتے ہیں کہ یہ مائع مادے کے گاڑھے ہونے میں بڑا کردار ادا کرتا ہوگا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوا کہ جہاں پر پگھلا ہوا مادہ زیادہ مقدار میں بھی تھا وہاں بھی مینٹل کے بہاؤ پر انتہائی معمولی اثر ڈال رہا تھا۔

    سائنسدانوں نے پہلے اس چٹان کی تہہ کے کچھ حصوں کو دیکھا تھا اور سوچا تھا کہ یہ ایک بے ضابطگی ہے، لیکن جیونلن اور اس کے ساتھی محققین کو اس بات کا ثبوت ملا کہ اس کی وسیع تر موجودگی تھی۔

    تحقیقی ٹیم نے اس بات کی تصدیق کی کہ asthenosphere ٹھوس اور پگھلی ہوئی چٹان دونوں پر مشتمل ہے اور اگرچہ یہ چٹان بعد میں جزوی طور پر پگھلی ہوئی ہے، لیکن یہ پلیٹوں کی نقل و حرکت میں حصہ نہیں ڈالتی اور نہ ہی ان کے لیے حرکت کرنا آسان بناتی ہے۔

    اس سے قبل یہ نظریہ تھا کہ ان ٹیکٹونک پلیٹوں کی حرکات ان پگھلی ہوئی چٹانوں سے منتقل ہونے والی تپش کے سبب ہوتی ہے۔ لیکن یہ نئی دریافت واضح کرے گی کہ ٹھوس چٹانوں کی سلیں سطح کے نیچے کس طرح بآسانی حرکت کرتی ہیں۔

    زمین کی مقناطیسی میدان میں خلل پرندوں کو ان کی منزل سے بھٹکاسکتا ہے،تحقیق

  • امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نےایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں

    امریکا نے ایران پر نئی پابندیوں کے تحت ایران کی پیٹروکیمیکل اور دیگر کمپنیوں پر پابندیاں عائد کردیں۔

    باغی ٹی وی: امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق ایران کی 6 پیٹرو کیمیکل کمپنیوں، ان کی ذیلی کمپنیوں،ملائیشیا اور سنگاپور میں تین کمپنیوں پر پابندیاں لگائی ہیں۔

    بھارت میں ویلنٹائنز ڈے "گائے کو گلے لگانے” کے دن کے طور پر منایا جائے…

    ان کمپنیوں پر الزام ہے کہ وہ امریکی پابندیوں کے خلاف ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکل اور پیٹرولیم کے خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل کا کام کر رہی ہیں۔

    رپورٹس کے مطابق سنگاپور اور ملائیشیا کی کمپنیوں پر کروڑوں ڈالر مالیت کے ایرانی پیٹرو کیمیکل، پیٹرولیم پیداوار، فروخت اور ترسیل میں ملوث ہونے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں پابندیوں میں شامل کمپنیوں پر امریکی کمپنیوں سے کاروبار کرنے پر پابندی اور ان کمپنیوں کے امریکا میں موجود اثاثے بھی ضبط کیے جا سکتے ہیں۔

    امریکی وزیر خارجہ انٹونی بلنکن نے کہا کہ جمعرات کو محکمہ خزانہ کی جانب سے ایران پر عائد پابندیوں کا مقصد پیٹرو کیمیکلز اور پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت سے متعلق امریکی پابندیوں کو "تباہ” کرنے کی تہران کی کوششوں کو روکنا ہے واشنگٹن ایسے اقدامات کرتا رہے گا۔

    ایک غلطی نے گوگل کی پیرنٹ کمپنی الفابیٹ کو 100 ارب ڈالرز سے محروم کردیا

    بلنکن کے بیانات امریکی ٹریژری کی جانب سے ان کمپنیوں پر پابندیوں کے اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے ہیں جن پر ایشیا میں ایرانی پیٹرو کیمیکلز اور تیل کی خریداروں کو پیداوار، فروخت اور ترسیل میں حساس کردار ادا کرنے کا الزام ہے امریکہ کا یہ اقدام تہران پر دباؤ بڑھانے کی واشنگٹن کی کوششوں کے ایک حصے کے طور پر کیا گیا ہے۔

    ایرانی تیل کی سمگلنگ کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کا تازہ ترین امریکی اقدام 2015 کےایران جوہری معاہدے کو بحال کرنے کی کوششوں کے دوران سامنے آیا ہے۔ اس دوران ایران اور مغرب کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں کیونکہ ایران میں حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں۔

    امریکی انڈر سیکرٹری برائے خزانہ برائن نیلسن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران امریکی پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مشرقی ایشیا میں اپنی پیٹرو کیمیکل اور تیل کی مصنوعات فروخت کرنے کے لیے تیزی سے خریداروں کی طرف رجوع کر رہا ہے۔

    ترکیہ اور شام میں تباہ کن زلزلے سے اموات کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز

    نیلسن نے مزید کہا کہ امریکہ کی توجہ تہران کے غیر قانونی آمدنی کے ذرائع کو نشانہ بنانے پر مرکوز ہے اور وہ ان لوگوں کے خلاف پابندیاں لگاتا رہے گا جو جان بوجھ کر اس تجارت کو سہولت فراہم کرتے ہیں۔

  • ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    ترکیہ اور شام میں زلزلے سے ہلاکتوں کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز

    رواں ہفتے کے آغاز پر ترکیہ اور شام میں آنے والے زلزلے کے باعث اموات کی تعداد 22 ہزار سے تجاوز کرگئی، ریسکیو کے کام میں مصروف حکام کا کہنا ہے کہ یہ وقتی تعداد ہے جس میں ہر گھنٹے بعد نیا اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

    باغی ٹی وی : زمین کی ہولناک لرزش کو4 روز گزرنے کے بعد ملبےسے بچوں سمیت کئی افراد کو زندہ نکال لیاگیا جب کہ گزرتے وقت کے ساتھ مزید افراد کے زندہ نکلنے کی امیدیں دم توڑنے لگی ہیں ریسکیو عملہ مسلسل خون جما دینے والےموسم میں انسانی جانیں بچانے کی تگ و دو میں مصروف ہے۔

    ہر گذرتے لمحے کے بعد شام اور ترکیہ کے تباہ کن زلزلے اور اس کے بعد آنے والے آفٹر شاکس کو دیکھتے ہوئے متاثرہ علاقوں میں کسی بھی فرد کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔

    گذشتہ سوموار کی صبح ترکی اور شام میں آنے والا زلزلہ جس میں ہزاروں عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں کو کئی دہائیوں میں آنے والے سب سے زیادہ خونی زلزلے کا نام دیا جا رہا ہے۔

    اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیوگوتیریس کا کہنا ہےکہ امدادی پروگرام کےسربراہ ترکیہ، شام کا دورہ کریں گے، زلزلہ زدہ علاقوں میں لوگوں کومرنےسےبچانے کے لیے ہرممکن مدد کی ضرورت ہے۔