Baaghi TV

Tag: Fraud

  • پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف فراڈ کے الزام پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف فراڈ کے الزام پر مقدمہ درج

    پی ٹی آئی رہنماء کیخلاف خیانت کےالزام پر مقدمہ درج

    تحریک انصاف کے سابق صوبائی وزیرراجہ راشد حفیظ کیخلاف امانت میں خیانت کےالزام پر مقدمہ درج کر دیا گیا ہے جبکہ رپورٹس کے مطابق مقدمہ امانت میں خیانت کے الزام کے تحت تھانہ نیوٹاؤن میں درج کیاگیا ہے، مقدمہ عثمان پورہ راجہ بازار کے رہائشی ذیشان خان کی مدعیت میں درج کیا گیا۔

    جبکہ ایف آئی آر کے متن میں راجہ راشد حفیظ نے برطانیہ بھجوانےکےعوض 8لاکھ70ہزار روپےوصول کئے تھے۔ برطانیہ بھجوانےکیلئےراشد حفیظ کے پاس شیخ فہد لےکر گیاتھا۔پی ٹی آئی رہنما کےدفترکےچکرلگانےکےبعد اب شیخ فہد نےمدد سےانکارکردیا ہے۔
    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    لاہور:سفاک شوہر نے اپنی امریکن نیشنل اہلیہ کو تشدد کرکے قتل کردیا
    ون ویلرز اور ہلڑبازی کرنے والوں کےخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ
    76 ویں یوم آزادی: پاکستان ملٹری اکیڈمی کاکول میں آزادی پریڈ کا انعقاد
    گریٹر پارک میں یوم آزادی کی تقریب ،آتشبازی اور میوزیکل پروگرام کا انعقاد
    تاہم خیال رہے کہ راجہ راشد حفیظ 9مئی واقعات کے بعد تاحال روپوش ہیںسابق صوبائی وزیرحساس ادارےکےدفترپرحملےکےمقدمہ میں نامزدمرکزی ملزم بھی ہیں

  • مرزا شہزاد  اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست

    مرزا شہزاد اکبر، صوفیہ مرزا کیخلاف فراڈ سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست


    معروف کاروباری شخصیت عمر فاروق ظہور نے سابق معاون خصوصی برائے احتساب مرزا شہزاد اکبر سمیت مختلف نام ایک آن لائن درخواست میں درج کیئے ہیں جن کے خلاف 420 سمیت مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرنے کی درخواست کی ہے جبکہ روزنامچہ کے متن کے مطابق سٹیشن ہاؤس آفیسر (ایس ایچ او) پولیس سٹیشن کی جانب سے خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، مرزا شہزاد، رضابادشاہد، مرزا کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کی درخواست گزار عمر فاروق ظہور نے اپیل کی ہے.


    جبکہ متن میں درخواست گزار نے کہا کہ ان ملزمان نے میرے خلاف جھوٹی ایف آئی آر درج کروائی تھی جبکہ درخواست گزار ملزمان خوش بخت مرزا، مریم مرزا، مائرہ خرم، شہزاد اکبر، عمید بٹ اور علی مردان شاہ کے خلاف فوجداری مقدمہ کے اندراج کا مطالبہ کر رہاہے۔ جبکہ عمر فاروق ظہور نے کہا جب لاہور میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے کارپوریٹ کرائم سرکل نے درخواست گزار کی سابقہ ​​اہلیہ خوش بخت مرزا کی جانب سے جمع کرائی گئی رپورٹ کی بنیاد پر انکوائری شروع کی تھی۔ انکوائری کے نتیجے میں دو ایف آئی آر درج کی گئیں، ایف آئی آر نمبر 36/20، مورخہ
    05.10.2020، اور ایف آئی آر نمبر 40/20، مورخہ 09.10.2020۔ ایف آئی آر نمبر 36/20 میں درخواست گزار اور دیگر پر سوئٹزرلینڈ میں سرمایہ کاروں کو دھوکہ دینے کا الزام لگایا گیا تھا تاہم ایف آئی آر نمبر 40/20 میں ان پر ناروے میں بینک فراڈ کا الزام لگایا گیا تھا۔ لیکن ان الزامات کی پہلے ہی پاکستان اور اس میں شامل متعلقہ ممالک دونوں میں تحقیقات گئیں جس کے بعد کچھ نہ ملنے پر وہ بند کر دیے گئے۔ جبکہ ایف آئی اے حکام نے مذکورہ ملزم کے کہنے پر جھوٹا مقدمہ درج کیا تھا، اس وقت کے وزیر اعظم عمران خان کے خصوصی مشیر برائے احتساب شہزاد اکبر نے اپنے دفتر میں تمام لوگوں کی موجودگی میں جعلی دستاویزات تیار کیں تھیں۔

    درخواست گزار نے مزید کہا کہ مذکورہ ملزم نے دھوکہ دہی سے سیکشن
    188 CrPC 1898 کے تحت کابینہ سے منظوری حاصل کی، اس حقیقت کو چھپاتے ہوئے کہ سوئٹزرلینڈ اور ناروے میں تحقیقات کے بعد تمام مقدمات پہلے ہی بند ہو چکے ہیں۔ جبکہ جے آئی ٹی نے یہ نتیجہ اخذ کیاتھا کہ مذکورہ ایف آئی آر میں الزامات جھوٹے، غیر سنجیدہ اور جعلی دستاویزات پر مبنی تھے۔ نتیجتاً، بورڈ کی منظوری سے، جے آئی ٹی ایف آئی اے نے سیکشن 173 سی آر پی سی کے تحت کینسلیشن رپورٹ مجاز عدالتوں میں جمع کرائی تاکہ وہ جھوٹی ایف آئی آر ختم ہوسکیں، جبکہ عدالت نے دونوں کینسلیشن رپورٹس سے اتفاق کیا۔ ملزمان نے وزیر اعظم کے اس وقت کے مشیر برائے احتساب عمید بٹ اور علی مردان شاہ (ایف آئی اے کے افسران کے ساتھ ملی بھگت سے مبینہ طور پر درخواست گزار خوش بخت مرزا سے بلیک میلنگ اور رقم بٹورنے ایسا کیا تھا جن کی معاونت مذکورہ بالا نے کی.

    علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ درخواست گزار اور ان کے خاندان کے دیگر افراد کے خلاف جھوٹے فوجداری مقدمات درج کروائے گئے جبکہ جھوٹا مقدمہ درج کر کے مجھے بدنام کرنے کی کوشش کی جبکہ مجھے جان سے مارنے کی دھمکیان دینے سمیت سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دیتے رہے۔ درخواست گزار کو ملزم کی جانب سے تیار کردہ جعلی دستاویزات کی بنیاد پر متعدد مواقع پر بلیک میل، دھمکیاں، ہراساں
    کرنے اور بھتہ خوری کا نشانہ بنایا گیا۔ لہٰذا، میں درخواست کرتا ہوں کہ درج ذیل جرائم کے لیے مذکورہ افراد کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا جائے.

    تاہم خیال رہے کہ دوسری جانب شہزاد اکبر نے گزشتہ روز اپنے میں بیان میں کہا کہ میں عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی نہیں ملا، میں نے کبھی فون پر یا کسی اور ذریعے سے عمر فاروق ظہور سے بات نہیں اور ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پہلے عمر فاروق ظہور نے بیان دیا تھا کہ میں نے زلفی بخاری کے فون کرنے کا بتایا، جبکہ ٹی وی پر سنا کہ اب یہ شخص کہہ رہا ہے میں نے فرح گوگی کے فون کرنے کا بتایا، یہ شخص ناروے میں پیدا ہوا مگر ناروے میں شہریت ختم کردی گئی.

  • مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی

    مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی

    مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں. ترجمان سول ایویشن اتھارٹی
    ترجمان سول ایویشن اتھارٹی سیف اللہ خان نے باغی ٹی وی کو بھیجے گئے اپنے ایک بیان میں بتایا ہے کہ مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے جبکہ ممکنہ ان لائین پولیو ویکسینیشن کارڈ فراڈ بارے ان کا کہنا تھا کہ عوام الناس کو مطلع کیا جاتا ہے کہ سول ایویشن اتھارٹی کی جانب سے مسافروں کے لئے پولیو ویکسینیشن کارڈ کی کسی قسم کی کوئی شرط نہیں رکھی گئی ہے۔

    انہوں نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ عوام الناس سے درخواست ہے کہ وہ پولیو کارڈ حاصل کرنے کے لئے کسی بھی غیر مصدقہ ان لائین پیشکش پر کان نہ دھریں جبکہ مسافر بالخصوص ان ان لائین عناصر کو نظر انداز کریں جو اپنے آپ کو مختلف ائرلائنز کا نمائندہ ظاہر کرتے ہوئے لوگوں کو ورغلانے کی کوشش کرتے ہیں.

    مزید یہ بھی پڑھیں؛
    حکومت کی مدت کے آخری دن، قومی اسمبلی میں مزید قوانین منظور
    اعجاز چوہدری کو جیل میں بی کلاس کی فراہمی کی درخواست پر سماعت ملتوی
    میڈیا ملازمین کی کم سے کم تنخواہ حکومت کی مقررکردہ ہوگی،مریم اورنگزیب
    عمر فاروق ظہور نامی شخص سے کبھی ملا اور نہ ہی فون پر بات کی،شہزاد اکبر
    جبکہ ان کا اس بارے میں مزید کہنا تھا کہ اس انتباہ کا مقصد مسافروں کو پولیو کارڈ کے نام پر موقع پرست مفاد پرستوں کے ہاتھوں ان لائن ہونے والے فراڈ سے بچانا ہے کیونکہ مختلف میڈیا پلیٹ فارمز پر دیکھا جانے والا لیٹر اسلام اباد ائیرپورٹ کی اندرونی خط و کتابت تھی جو منسوخ ہوچکا ہے لہذا اس بات کو بلکل واضح کیا جاتا ہے کہ مزکورہ لیٹر کسی بھی طرح پولیو سے متعلق ٹریول ایڈوائزری نہیں ہے اور مسافروں سے التماس ہے کہ جس ملک کے سفر کا ارادہ رکھتے ہوں ائرلائن سے اس ملک کی ہیلتھ بالخصوص پولیو ویکسینیشن پالیسی بارے ضرور پوچھیں ناکہ کسی فراڈی کی باتوں میں آئیں.