Baaghi TV

Tag: Fsd

  • ریسکیو 1122 پر فیک کال کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ

    ریسکیو 1122 پر فیک کال کرنیوالوں کیخلاف کارروائی کرنے کا فیصلہ

    فیصل آباد (عثمان صادق) ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ آئند ہیلپ لائن 1122 پر رانگ کال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ یہ بات ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر ریسکیو 1122 انجینئر احتشام واہلہ کے زیر صدارت اہم اجلاس سینٹرل ریسیکو اسٹیشن میں منعقد ہونے والے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کی۔ جس میں ایمرجنسی آفیسر آپریشنز غلام شبیر (آپریشنز) سمیت تمام افسران نے شرکت کی ۔ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر انجینئر احتشام واہلہ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوۓ کہا کہ ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر بڑھتی ہوئی غیر ضروری کالز کی وجہ سے فیصلہ کیا گیا کہ آئند ہیلپ لائن 1122 پر رانگ کال کرنے والے افراد کے خلاف قانونی کارروائی کی جاۓ گی۔ واضح رہے کہ پنجاب ایمرجنسی سروس ایکٹ 2006 کے مطابق ریسکیو ہیلپ لائن 1122 پر جھوٹی کال کرنے والے شخص کو 6 ماہ قید اور پچاس ہزار روپے تک جرمانہ بھی ہوسکتا ہے ۔انکا مزید کہنا تھا کہ غیر ضروری کالز کی وجہ سے کنٹرول روم آپریٹرز پر اضافی بوجھ پڑتا ہے اور مستحق افراد کو ایمرجنسی کی صورت میں کنٹرول روم سے رابطہ کرنے میں تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے. ریسکیو فیصل آباد کو روزانہ کی بنیاد پر پانچ ہزار کے قریب مجموعی کالز موصول ہوتی ہیں جن میں سے ایمرجنسی کی کال صرف 300 ہیں. عوام کو چاہئے کہ صرف ایمرجنسی کی صورت میں 1122 پر کال کریں اور ایک ذمہ دار شہری ہونے کا ثبوت دیں۔

  • پے در پے اہل حدیث علماء کی وفیات اور کرونا سے متعلق ہماری غفلت ، تحریر طہ منیب

    پے در پے اہلحدیث علماء کی وفات کسی سانحے سے کم نہیں، اس پر جسقدر افسوس کیا جائے کم ہے، جہاں ان علماء کی وفیات غم کا باعث ہیں وہیں کرونا کے حوالے سے ہماری غفلت کی بھی عکاس ہیں، پہلے دن سے کرونا سے متعلق صرف چند ایک کو چھوڑ کر بالعموم علماء کا موقف انتہائی نامناسب تھا، ہر مسئلہ میں اسلام کے خلاف کافروں اور یہودیوں کی سازش کو لائے بغیر ہماری بات میں وزن نہیں پڑتا، تقریباً سب علماء کی وفات سے قبل صورتحال وہی تھی جو کرونا کے متاثرین کی ہوتی ہے، یعنی سب ہی کھانسی اور سانس کی تکلیف کے باعث ہی خالق حقیقی سے جا ملے،

    رمضان المبارک سے قبل اس کا پھیلاؤ محدود سرکل میں تھا لیکن بعد میں یہ کسی خاص حلقے، کمیونٹی سے نکل کر عوامی ہو چکا تھا، رمضان المبارک کے شروع میں گوجرانولہ میں ہزاروی صاحب کے جنازے کے مناظر انتہائی تنگ جگہ پر بغیر کسی حفاظتی انتظامات کے جنازے میں شریک عوام اور علماء کی اکثریت اہل حدیث حلقوں میں کرونا کے پھیلاؤ کا سبب بنی اور بعد میں ہونیوالے جنازوں کے مناظر بھی پہلے جنازے سے مختلف نہیں تھے،

    حافظ ابن حجر کی وباؤں سے متعلق کتاب کی پوسٹ ایک بار پہلے بھی کی آج بھی تزکرہ کردیتا ہوں کہ جب بغداد میں وبا سے بچنے کیلئے اجتماعی دعا کا اہتمام کیا گیا اس کے بعد اموات کی تعداد کئی گنا بڑھ گئی، اب اگر ان بزرگوں کے کرونا ٹیسٹس نہیں ہوئے تو اس بنیاد پر یہ دعویٰ ہرگز نہیں کیا جا سکتا کہ انہیں کرونا نہیں تھا اور اس پر چشم پوشی خدانخواستہ باقیماندہ علماء کے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ جوانوں کے برعکس بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوتا ہے ، جو پہلے سے کسی معمولی عارضے کا شکار ہوں انکے کیلئے کرونا کا معمولی وار جان لیوا ثابت ہوتا ہے ۔ کرونا ایک حقیقت ہے، اس سے متعلقہ زبان زد عام سازشی تھیوریاں ممکن ہے کسی حد تک درست ہوں لیکن اس وبا کا جان لیوا ہونا سو فیصد درست اور ثابت ہے، اب بھی وقت ہے، ضد چھوڑ ہم اس وبا سے متعلق بتائی گئی احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ اللہ ہمارا حامی و ناصر ہو۔