Baaghi TV

Tag: Full movies hd

  • سنیل شیٹی کی ویب سیریز ہٹلر کا ٹریلر جاری

    سنیل شیٹی کی ویب سیریز ہٹلر کا ٹریلر جاری

    بالی وڈ اداکار سنیل شیٹی جو کہ ایک بڑی تعداد میں فین فالونگ رکھتے ہیں، ان کے مداحوں کے لئے خوشخبری ہے کہ وہ انہیں اب ویب سیریز ہٹلر میں دیکھ سکیں گے. سنیل شیٹی کی ویب سیریز ہٹلر کا ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے. ویب سیریز کے مرکزی کرداروں میں سنیل شیٹی کے علاوہ ایشا دیول، راہول دیو، برکھا بشت، ٹینا سنگھ، چاہت تیجوانی بھی نظر آئیں گے. 8 قسطوں پر مشتمل پر اس ویب سیریز میں سنیل شیٹی اے سی پی کی وردی میں دکھائی دیں گے. ویب سیریز کو پرنس دھیمن اور ولک باترا نے ڈائریکٹ کی ہے. سوشل میڈیا پر جاری ہونے والے اس ویب

    سیریز کے ٹریلر کو بہت زیادہ پسند کیا جا رہا ہے .ہٹلر 22 مارچ کو ریلیز کی جائیگی.ویب سیریز کے بارے میں سنیل شیٹی نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں بہت خوش ہوں کہ میری ویب سیریز جلد ہی شائقین دیکھ سکیں گے. مجھے ہمیشہ ہی مداحوں کے سوشل میڈیا پر میسجز موصول ہوتے رہتے تھے کہ میں کب ان کو کسی ویب سیریز میں نظر آئوں گا. انہوں یہ بھی کہا کہ او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر آنے کی خوشی کو لفظوں میں بیان نہیں‌ کر سکتا.

  • مہوش حیات کے مداحوں کے لئے خوشخبری

    مہوش حیات کے مداحوں کے لئے خوشخبری

    اداکارہ مہوش حیات جنہوں نے چھوٹی سکرین پر کامیابی سمیٹنے کے بعد بڑی سکرین کا رخ کیا. انہوں نے بڑی سکرین پر بھی کامیابی کے جھنڈے گاڑھے. مہوش حیات کے پاس یہ اعزاز ہے کہ حالیہ دور میں وہ واحد ہیروئین ہیں جن کی تمام فلموں نے دیگر ہیروئینز کی فلموں سے زیادہ بزنس کیا. مہوش نے بین الاقوامی پراجیکٹس بھی کئے جس میں مس مارول کا نام قابل زکر ہے. مداح مہوش حیات کو دیکھنے کےلئے بےتاب رہتے ہیں. ان کے لئے خوشخبری ہے کہ مہوش انہیں اب ایک بار پھر ٹی وی پر دکھائی دیں گی. جی ہاں مہوش حیات نے شعیب ملک اور ثانیہ مرزا کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا ہےکہ میں ٹی وی پر واپسی کررہی ہوں اور شائقین اس سال کے آخر میں

    مجھے ڈرامے میں دیکھیں گے. مہوش نے کہا کہ میں سکرپٹس پڑھ رہی ہوں کافی تعداد میں میرے پاس سکرپٹس موجود ہیں ہو سکتا ہےکہ ایک آدھ سکرپٹ کے لئے ہاں کردوں گی. یوں مہوش حیات نے چھوٹی سکرین پر ایک بار پھر نظر آنے کی نوید سنا دی ہے. یاد رہے کہ مہوش حیات کا شمار اس وقت ٔپاکستان کی نمبر ون ہیروئنز میں ہوتا ہے. انہوں نے ماڈلنگ میں‌ نام پیدا کیا اس کے بعد اداکاری کی طرف آئیں اور اداکاری میں ان کی یہ پہچان ہے کہ وہ پاکستان کی نمبر ون اداکارہ ہیں.

  • سلمان خان اور سورج برجاتیہ ایک بار پھر ایک ہو گئے

    سلمان خان اور سورج برجاتیہ ایک بار پھر ایک ہو گئے

    بالی وڈ اداکار سلمان خان اور سورج برجاتیا کی کامیاب جوڑی جب بھی ایک ساتھ آتی ہے کچھ نہ کچھ نیا اور الگ ہی لاتی ہے. ان دنوں نے ، میں نے پیار کیا ، ہم آپ کے ہیں کون اور پریم رتن دھن پائیو جیسی دیگر فلموں میں شائقین کو بہت زیادہ متاثر کیا، اہم بات یہ ہے کہ ان تینوں فلموں میں سلمان خان کا نام پریم رکھا گیا. کہا جا رہا ہے کہ سلمان خان اور سورج برجاتیہ ایک بار پھر ایک فلم میں نظر آئیں گے اس فلم کا نام عارضی طور پر ‘پریم کی شادی’ رکھا گیا ہے۔ کہاجا رہا ہے کہ یہ فلم دیوالی 2024 کو ریلیز کی جائیگی . زرائع کا کہنا ہے کہ اس فلم پر سلمان خان اور سورج

    پرجاتیہ کی بات چیت کافی عرصے سے چل رہی تھی اور اب آکر فلم کے معاملات طے پا گئے ہیں. اس فلم کی شوٹنگ رواں برس نومبر/دسمبر میں شروع کیا جائیگی . پریم کی شادی میں سلمان خان کے علاوہ دیگر کاسٹ میں کون کون شامل ہو گا اس کی تفصیلات سامنے آنا باقی ہیں‌. لیکن سلمان خان اور سورج برجاتیہ کے مداح کافی خوش ہیں. یاد رہے کہ سورج اور سلمان کی جوڑی انکی پہلی ہی فلم سے سپر ہٹ ہے.

  • شاہ رخ خان نے  کپل شرما کی زندگی کے بد ترین دور میں کس طرح  انکی مدد کی ؟

    شاہ رخ خان نے کپل شرما کی زندگی کے بد ترین دور میں کس طرح انکی مدد کی ؟

    ہندوستان کے معروف اداکار. کامیڈین اور میزبان کپل شرما برسوں سے اپنے مداحوں کے دلوں پر راج کر رہے ہیں۔ ان کا ‘دی کپل شرما شو،’ ناظرین شوق سے دیکھتے ہیں اس شو کو ٹی وی کی تاریخ کا ایک بہترین انٹرٹینمنٹ شو مانا جاتا ہے . کپل شرما نے حال ہی میں ایک انکشاف کیا ہے کہ جب انکی زندگی اور کیرئیر کے معاملات ٹھیک نہیں‌چل رہے تھے تو اس وقت وہ ڈپریشن کا شکار ہوتے چلے جا رہے تھے ایسے میں شاہ رخ خان نے ان سے ملاقات کی اور انہیں ایک گھنٹے تک تسلی دی اور کہا کہ سب تم سے پیار کرتےہیں تم پریشان مت ہو،

    آج اگر اچھا وقت نہیں ہے تو کل آجائیگا بس انتظار کرو ، خود کو خوش رکھو. کپل شرما پر رجت شرما کے شو میں ایک الزام لگا کہ انہوں نے شو پر انیل کپور، اجے دیوگن، اکشے کمار اور شاہ رخ خان جیسے بڑے سٹارز کو انتظار کروایا اور شو پر گئے نہیں تو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ اُن وقتوں‌کی باتیں ہیں جب میں شدید ڈپریشن میں تھا اور شدید زہنی مسائل سے جُوج رہا تھا. یاد رہے کہ کپل شرما کی بالی وڈ انڈسٹری کے تقریبا تمام بڑے فنکاروں کے ساتھ دوستی ہے سب ان کے کام اور ٹیلنٹ کی وجہ سے کافی سراہتے ہیں.

  • پروین بابی فلم شان کے سیٹ سے مہیش بھٹ کے ساتھ کیوں بھاگیں؟‌

    پروین بابی فلم شان کے سیٹ سے مہیش بھٹ کے ساتھ کیوں بھاگیں؟‌

    بالی وڈ کے معروف ہدایتکار مہیش بھٹ اور پروین بابی کا معاشقہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں ہے. حال ہی میں فلمساز مہیش بھٹ نے پروین بابی کے ساتھ بھاگنے کی داستان سنائی. انہوں نے کہا کہ جب پروین بابی فلم شان کررہیں تھیں جس میں وہ مرکزی کردارمیں تھیں اسی دوران ان کا دماغ کا علاج چل رہا تھا اور ڈاکٹروں نے کہا کہ ان کو بجلی کے جھٹکے لگیں گے اور چھ سے آٹھ ہفتوں تک ایسا ہوتا رہے گا. یہ سن کر میں کافی پریشان ہوا کیونکہ میں جس خاتون سے محبت کرتا تھا اسکو دماغی طور پر بیمار دیکھ کر کافی پریشانی ہورہی تھی . اور بجلی کے جھٹکے دیے بغیر پروین بابی کا علاج ممکن نہ تھا. مجھ سے یہ سب برداشت نہیں‌ہو رہا تھا لہذا جب وہ فلم شان کرہی تھی تو میں اسکو

    لیکر بھاگ گیا اور بنگلور لے گیا میں ، شان کے ڈائریکٹر رمیش سپی کے دفتر گیا لیکن کچھ نہ کہا واپس آگیا کیونکہ پروین اس فلم کی ہیروئین تھی اور ان دنوں میں‌دماغی بیماری ایک بہت بڑا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، یوں مجھے پروین بابی کو لیکر بھاگنا پڑا. یاد رہے کہ مہیش بھٹ نے اپنی اور پروین بابی کی زندگی اور تعلق پر فلم بنائی جس کا نام تھا وہ لمحے یہ فلم 2005 میں ریلیز ہوئی تھی اس میں کنگنا رناوت نے پروین بابی کو کردار ادا کیا تھا جسے بہت سراہا گیا تھا.

  • شاہ رخ خان نے تاپسی پنو سے یہ کیوں کہا؟ بےعزتی نہ کروانا

    شاہ رخ خان نے تاپسی پنو سے یہ کیوں کہا؟ بےعزتی نہ کروانا

    بالی وڈ کے کنگ کہلائے جانے والے شاہ رخ خان نہ صرف بہترین اداکار ہیں بلکہ ان کو بھارتی فلم انڈسٹری کا سب سے زیادہ خوش مزاج آرٹسٹ بھی کہا جاتا ہے. شاہ رخ خان کے بارے میں بہت ساری بالی وڈ شخصیات کہتی ہیں کہ وہ بہت گرمجوشی سے ملتے ہیں اور اپنائیت کا احساس ہوتا ہے. حال ہی میں اداکارہ تاپسی پنوں نے بھی ایک ایسی ہی بات شئیر کی ہے جس سے اداکار کے خوش مزاج ہونے کا ثبوت ملتا ہے. تاپسی نے کہا کہ جب میں پہلی بار شاہ رخ خان سے ان کے گھر ملی تھی ۔ان کے مینجر نے انہیں شاہ رخ خان سے متعارف کرایا تو شاہ رخ خان نے کہا کہ میں ان کو انکے کام کی وجہ سے آل ریڈی جانتا ہوں. تاپسی نے کہا کہ شاہ رخ خان نے میرے برے وقت میں میری بہت

    مدد کی ، انہوں نے میرا تعارف اپنے کچھ غیر ملکی مہمانوں سے کروایا اور مجھے بہترین اداکارہ کہا ، انہوں نے مہمانوں سے کہا کہ میں آپ کا تعارف بہترین اداکارہ سے کرواتا ہوں ، تو مجھے سمجھ نہیں آئی کہ کس کو بہترین اداکارہ کہہ رہے ہیں میں نے شاہ رخ خان جو کہ اپنے غیر ملکی دوستوں کے ساتھ کھڑے تھے انکی باتوں میں‌خلل ڈالا اس کے بعد شاہ رخ خان نے مجھے الگ لیجا کر کہا کہ بےعزتی مت کرا میں تیری ہی بات کررہا ہوں.

  • شرمیلا ٹیگور کو ان کے شوہر نواب منصور علی خان پٹودی  نے کیسے پرپوز کیا ؟ اداکارہ نے بتا دیا

    شرمیلا ٹیگور کو ان کے شوہر نواب منصور علی خان پٹودی نے کیسے پرپوز کیا ؟ اداکارہ نے بتا دیا

    بالی وڈ اداکارہ شرمیلا ٹیگور جنہوں ساٹھ اور ستر کی دہائی میں بالی وڈ انڈسٹری پر راج کیا ان کے نام سے فلمیں بکتی تھیں، شرمیلا اپنی خوبصورتی اور بہترین اداکاری کی وجہ سے آج بھی جانی جاتی ہیں. انہوں نے اپنے زمانے کے معروف کرکٹر نواب منصور علی خان پٹودی کے ساتھ شادی کی. حال ہی میں‌ شرمیلا ٹیگور نے اپنی محبت کی کہانی شئیر کی اور بتایا کہ کس طرح انہیں ان کے شوہرمشہور کرکٹر نواب منصور علی خان پٹودی نے پیرس میں پرپوز کیا تھا. انہوں نے کہا کہ ہم دونوں‌پیرس میں تھے اور وہاں پر باسٹیل ڈے تھا اور پورا شہر سڑکوں پر اپنی

    آزادی کا جشن منا رہا تھا۔ نواب منصور علی خان پٹودی نے گھٹنے کے بل بیٹھ کر مجھے کہا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی ، شور بہت زیادہ تھا میں سن نہ سکی کہ انہوں نے کیا کہا ہے. انہوں نے دوبارہ دہرایا کہ کیا تم مجھ سے شادی کرو گی تو میں نے کہہ دیا ہاں یوں اس کے بعد ہم دونوں کی شادی ہو گئی. شرمیلا نے کہا کہ میرے شوہر نہایت ہی نفیس انسان تھے انہوں نے کبھی بھی مجھے کسی بات سے اس طرح‌سے منع نہیں‌کیا تھا کہ محسوس ہو کے حق جتا رہے ہیں یا روایتی شوہر بن رہے ہیں.

  • سنیتا مارشل کو ہے کس کردار کی تلاش ؟

    سنیتا مارشل کو ہے کس کردار کی تلاش ؟

    ماڈلنگ میں کامیابی کے جھنڈے گاڑھنے کے بعد اداکاری کا رخ کرنے والی سنیتا مارشل نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ روٹین کے کرکردار تو ملتے ہی رہتے ہیں اور ہم کرتے بھی رہتے ہیں کیونکہ ہمارے پاس چوائس ہی نہیں ہوتی. انہو‌ں نے کہا کہ لیکن اداکاروں کی خواہش ضرور ہوتی ہے کہ ان کو روٹین سے ہٹ کر کردار ملیں. سنیتا نے کہا کہ میری بھی خواہش ہے کہ میں کسی پروفیشنل ایتھلیٹس کے کردار کروں ، میری شدید خواہش رہی ہے کہ میں کسی پولیس آفیسر خاتون کا کردار ادا کرؤں . انہوں نے کہا کہ ایسے کردار لڑکیوں کو بہت زیادہ موٹیویشن دیتے ہیں اور

    میری کوشش ہوتی ہے کہ ایسے کردار کروں جو لڑکیوں‌کو موٹیویشن دیں. میں خوش ہوں کہ ماڈلنگ کے بعد اداکاری کی میدان میں بھی میرے چاہنے والوں نے مجھے بے حد سراہا. سنتیا نے کہا کہ اچھے کردار کو حاصل کرنے کے لئے سال ہا سال لگ جاتےہیں. انہو‌ں نے کہا کہ آج ڈرامہ اچھا بن رہا ہے جو لوگ دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہی کچھ دکھایا جا رہا ہے. یاد رہے کہ سنتیا مارشل سے ماہرہ خان نے ایک بار کہا تھا کہ میری شکل تم سے بہت ملتی ہے تم میری بہن لگتی ہوجس پر سنتیا نے خوشی کا اظہار کیا تھا.

  • اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    نوشی گیلانی پاکستان سے تعلق رکھنے والی اردو زبان کی مقبول ترین شاعرہ ہیں۔ ان کا اصل نام نشاط گیلانی ہے۔ وہ 14 مارچ 1964 میں پاکستان کے شہر بہاولپور کے ایک علمی و ادبی گھرانے میں پیدا ہوئیں۔ اُن کے والد مسعودگیلانی پیشہ کے اعتبار سے ڈاکٹر تھے۔ نوشی نے اپنی تعلیم بہاولپور میں ہی مکمل کی۔ انہیں بچپن سے ہی شاعری کا شوق تھا۔

    ان کا پہلا مجموعہ ”محبتیں جب شمار کرنا“ منظرِ عام پرآیا تو اسے خوب پذیرائی حاصل ہوئی۔ 1995 میں نوشی کی شادی فاروق طراز کے ساتھ ہوئی اور وہ سان فرانسیسکو، امریکا چلی گئیں مگرکچھ عرصے بعد اُن سے علیحدگی ہوگئی۔

    نوشی اسلامیہ یونیورسٹی، بہالپور میں اردو کی اُستاد کی حیثیت سے کام کرتی رہیں۔ 1997 میں نوشی کا دوسرا مجموعہ ”اداس ہونے کے دن نہیں“ منظرِ عام پر آیا۔ 25 اکتوبر 2008 میں نوشی سڈنی میں مقیم اردو سوسائٹی آف آسٹریلیا کے سابق جنرل سکریٹری سعید خان(جو خود بھی شاعر ہیں) کے ساتھ رشتۂ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور سڈنی، آسٹریلیا چلی گئیں۔

    انہوں نے پاکستانی گلوکار پٹھانے خان کو خراجِ تحسین پیش کیا جسے پاکستان نیشنل کونسل آف دا آرٹ(PNCA) نے اسپانسر کیا۔ امریکا میں قیام کے دوران ان کے تجربات و مشاہدات بھی ان کی شاعری سے جھلکتے ہیں۔ ”ہوا“ اور ”محبت“ کے الفاظ مضبوط استعارے کے طور پہ ان کی شاعری میں بہت استعمال ہوئے ہیں۔اسی بنا پر انھیں ہوا کا ہم سُخن بھی کہا جاتا ہے۔

    ان کی شاعری کے سات مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ ان کی بہت سی نظموں کے انگریزی،ملائی اور یونی زبانون میں ترجمے بھی ہو چکے ہیں۔نوشی گیلانی نے آسٹریلین شاعر Les Murray کی شاعری کو اردو میں ترجمہ کیا ہے۔اس کے علاوہ انھوں نے خود بھی انگریزی میں شاعری(7) کی ہے۔ان کی مشہور نظم ہے،To Catch Butterflies ہے۔

    نوشی گیلانی اردو اکیڈمی آسٹریلیا کی شریک بانی بھی ہیں جس کی بنیاد 2009 میں رکھی گئی۔ یہ اکیڈمی اردو شاعری و ادب کی ترویج کے لیے ہر ماہ سڈنی میں ایک نشست کا اہتمام کرتی ہے۔ ان کی نئے مجموعہ ”ہوا چپکے سے کہتی ہے“(2011) کو اس قدر پزیرائی ملی کہ اردو بازار میں آنے کے دو گھنٹوں میں ہی پہلا ایڈیشن لوگوں نے ہاتھوں ہاتھ خرید لیا۔

    اعزازات
    خواجہ فرید ایوارڈ

    تصانیف
    ۔۔۔۔۔۔
    نوشی گیلانی کی شائع ہونے والی کتابیں درج ذیل ہیں۔
    1:محبتیں جب شمار کرنا (1993)
    2:اداس ہونے کے دن نہیں(1997)
    3:پہلا لفظ محبت لکھا(2003)
    4:ہم تیرا انتظار کرتے رہے (2008)
    5:نوشی گیلانی کی نظمیں(2008)
    6:اے میرے شریکِ رسال جاں (2008)
    7: ہوا چپکے سے کہتی ہے (2011)

    اشعار
    ۔۔۔۔۔۔
    اس شہر میں کتنے چہرے تھے کچھ یاد نہیں سب بھول گئے
    اک شخص کتابوں جیسا تھا وہ شخص زبانی یاد ہوا

    بند ہوتی کتابوں میں اڑتی ہوئی تتلیاں ڈال دیں
    کس کی رسموں کی جلتی ہوئی آگ میں لڑکیاں ڈال دیں

    میں تنہا لڑکی دیار شب میں جلاؤں سچ کے دیے کہاں تک
    سیاہ کاروں کی سلطنت میں میں کس طرح آفتاب لکھوں

    ہمارے درمیاں عہدِ شبِ مہتاب زِندہ ہے
    ہَوا چْپکے سے کہتی ہے ابھی اِک خواب زِندہ ہے

    نوشی گیلانی کی ایک نظم
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو، کبھی تو لکھو
    ہوائیں کیوں اپنی منزلوں سے بھٹک گئی ہیں
    نہ ان کی آنکھوں میں خواب کوئی
    نہ خواب میں انتظار کوئی

    اب ان کے سارے سفر میں صبح یقین کوئی
    نہ شام صد اعتبار کوئی
    نہ ان کی اپنی زمین کوئی نہ آسماں پر کوئی ستارہ
    نہ کوئی موسم نہ کوئی خوشبو کا استعارہ
    نہ روشنی کی لکیر کوئی، نہ ان کا اپنا سفیر کوئی

    جو ان کے دکھ پر کتاب لکھے
    مسافرت کا عذاب لکھے
    ہوا کو آوارہ کہنے والو
    کبھی تو سوچو!

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    کچھ بھی کر گزرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    برف کے پگھلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    اس نے ہنس کے دیکھا تو مسکرا دیے ہم بھی
    ذات سے نکلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    ہجر کی تمازت سے وصل کے الاؤ تک
    لڑکیوں کے جلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    بات جیسی بے معنی بات اور کیا ہوگی
    بات کے مکرنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    زعم کتنا کرتے ہو اک چراغ پر اپنے
    اور ہوا کے چلنے میں دیر کتنی لگتی ہے
    جب یقیں کی بانہوں پر شک کے پاؤں پڑ جائیں
    چوڑیاں بکھرنے میں دیر کتنی لگنی ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    وہ بات بات میں اتنا بدلتا جاتا ہے
    کہ جس طرح کوئی لہجہ بدلتا جاتا ہے
    یہ آرزو تھی کہ ہم اس کے ساتھ ساتھ چلیں
    مگر وہ شخص تو رستہ بدلتا جاتا ہے
    رتیں وصال کی اب خواب ہونے والی ہیں
    کہ اس کی بات کا لہجہ بدلتا جاتا ہے
    رہا جو دھوپ میں سر پر مرے وہی آنچل
    ہوا چلی ہے تو کتنا بدلتا جاتا ہے
    وہ بات کر جسے دنیا بھی معتبر سمجھے
    تجھے خبر ہے زمانہ بدلتا جاتا ہے

    غزل
    ۔۔۔۔۔۔
    دل کی منزل اس طرف ہے گھر کا رستہ اس طرف
    ایک چہرہ اس طرف ہے ایک چہرہ اس طرف
    روشنی کے استعارے اس کنارے رہ گئے
    اب تو شب میں کوئی جگنو ہے نا تارا اس طرف
    تم ہوا ان کھڑکیوں سے صرف اتنا دیکھنا
    اس نے کوئی خط کسی کے نام لکھا اس طرف
    یہ محبت بھی عجب تقسیم کے موسم میں ہے
    سارا جذبہ اس طرف ہے صرف لہجہ اس طرف
    ماں نے کوئی خوف ایسا رکھ دیا دل میں مرے
    سچ کبھی میں بول ہی پائی نہ پورا اس طرف
    ایک ہلکی سی چبھن احساس کو گھیرے رہی
    گفتگو میں جب تمہارا ذکر آیا اس طرف
    صرف آنکھیں کانچ کی باقی بدن پتھر کا ہے
    لڑکیوں نے کس طرح روپ دھارا اس طرف
    اے ہوا اے میرے دل کے شہر سے آتی ہوا
    تجھ کو کیا پیغام دے کر اس نے بھیجا اس طرف
    کس طرح کے لوگ ہیں یہ کچھ پتا چلتا نہیں
    کون کتنا اس طرف ہے کون کتنا اس طرف

  • عامر خان 58 سال کے ہو گئے

    عامر خان 58 سال کے ہو گئے

    بالی وڈ کے مسٹر پرفیکشنسٹ عامر خان ہو گئے ہیں 58 برس کے. آج وہ اپنی 58 ویں سالگرہ منا رہے ہیں. عامر خان بالی وڈ کے اداکار، فلم ڈائریکٹر اور کامیاب پروڈیوسر ہیں.اپنے 30 سالہ کیرئیر کے دوران انہوں نے متعدد فلموں میں‌نہ صرف اداکاری کے جوہر دکھائے بلکہ فلمیں بنائیں بھی اور شائقین کی خوب داد وصول کی . ان کی خدمات کے اعتراف میں‌ انہیں حکومت ہند نے 2003 میں پدم شری اور 2010 میں پدم بھوشن سے نوازا، یہی نہیں‌بلکہ 2017 میں چین کی حکومت نے انہیں اعزازی خطاب بھی دیا. عامر خان کو نو فلم فیئر ایوارڈز، چار نیشنل فلم ایوارڈز، اور ایک اے اے سی ٹی اے ایوارڈ بھی مل چکا ہے ک. عامر خان کے پاس یہ اعزاز بھی ہے کہ ان کی فلم

    لگان آسکر کے لئے نامزد ہوئی. عامر خان نے بطور چائلڈ ایکٹر اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز اپنے ہی چچا ناصر حسین کی فلم یادوں کی بارات جو کہ 1973 میں ریلیز ہوئی اس سے کیا . اس کے بعد انہوں نے 1984 میں ایک فلم کی لیکن ان کو کامیابی نہ مل سکی لیکن 1988 میں بننے والی فلم قیامت سے قیامت تک نے ان کو راتوں رات سپر سٹار بنا دیا اس کے بعد انہوں نے پیچھے مڑ کر نہیں دیکھا. ان کی مشہور فلموں میں دل ، راجہ ہندوستانی ، سرفروش ، عشق ،
    لگان ، رنگ دے بسنتی ، میلہ و دیگر قابل زکر ہیں. انہوں نے لال سنگھ چڈھا جیسی فلمیں بھی پرڈیوس کیں.