Baaghi TV

Tag: Full movies hd

  • شبانہ اعظمی کے سجل کے بارے کیا ہیں خیالات؟‌

    شبانہ اعظمی کے سجل کے بارے کیا ہیں خیالات؟‌

    بالی وڈ کی اداکارہ شبانہ اعظمی نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہے کہ سجل علی اور میں نے ایک ساتھ کام کیا حالانکہ ہم دونوں کی عمروں میں کافی فرق ہے لیکن اس کے باوجودہ ہم دونوں کا کافی زیادہ اچھا تعلق ہے . سجل علی بہت ہی باصلاحیت ہے اور جب بھی میں اسکو دیکھتی ہوں تو دل کرتا ہے کہ اسکو گلے لگا لوں اور میں ایسا ہی کرتی ہوں ، میں سجل کو اس سے پہلے کبھی نہیں جانتی تھی ، جب اس کے ساتھ کام کیا تو اس کے بارے میں پتہ چلا اور محسوس کیا کہ سجل نے چھوٹی سی عمر میں ہی نہ صرف بہت شہرت پائی ہے بلکہ وہ ایک بہترین اداکارہ بھی ہیں. یوں شبانہ اعظمی نے سجل علی کی جم کر کی ہے تعریف. یاد رہے کہ ان دونوں نے ایک ساتھ جمائمہ گولڈ

    سمتھ کی فلم وٹس لو گاٹ ٹو ڈو ود اٹ میں کام کیا ہے. سجل پاکستان کی وہ فنکارہ ہیں جنہوں نے انٹرنیشنل سطح پر بھی بے شمار کامیابیاں حاصل کی ہیں. سجل حقیقت کے قریب اداکاری کرتی ہیں اور یہی چیز ان کو دوسروں سے مختلف اور منفرد بناتی ہے. سجل کا ان دنوں ڈرامہ سیریل ان کہی چل رہا ہے جسے شائقین بے حد پسند کررہے ہیں.

  • آج کی نسل سیکھی سکھائی ہے سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے ڈاکٹر یونس بٹ

    آج کی نسل سیکھی سکھائی ہے سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے ڈاکٹر یونس بٹ

    معروف رائٹر ڈاکٹر یونس بٹ نے اپنے حالیہ انٹرویو میں کہا ہےکہ سٹیج پلیز کو فروغ دئیے جانے کی ضرورت ہے.بہت خوشی کی بات ہے کہ انور مقصود نے لاہور میں سٹیج پلے کیا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ سوشل میڈیا کی دنیا بہت زیادہ تیز ہے. اور نوجوان نسل سیکھی سکھائی ہے.بلکہ سینئرز کو ان سے سیکھنا چاہیے. اب وقت بدل چکا ہے لہذا وقت کے تقاضے بھی تبدیل ہو چکے ہیں. ڈاکٹر یونس ملک نے یہ بھی کہا کہ میں تو انور مقصود کے کام کا بہت زیادہ معترف ہوں، انہوں نے ہمیشہ ایسا لکھا ہے کہ جو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے. ان کے جملے تو تلوار

    جیسے تیز ہوتے ہیں. میں سمجھتا ہوں کہ لاہور کیا کراچی اسلام آباد میں انور مقصود کی جانب سے سٹیج پلیز پیش کئے جانے پر میں ان کو داد دیتا ہوں کہ وہ ایک ایسے وقت میں‌ سٹیج پلیز کررہے ہیں جب لوگ سٹیج پلیز کو نہیں‌دیکھ رہے. یونس بٹ‌ نے کہا کہ ایسی چیزیں چلتی رہنی چاہیے یہ سلسلہ رکنا نہیں‌چاہیے نوجوان نسل کو ایسے سبق آموز سٹیج پلیز کی طرف راغب کرنے کےلئے یہ اقدام قابل ستائش ہے.

  • سی پرائم کی  "نور”نے کانز میلہ لوٹ لیا

    سی پرائم کی "نور”نے کانز میلہ لوٹ لیا

    پاکستان کی فلم انڈسٹری نے2023 میں بھی عالمی سطح پر نمایاں مقام حاصل کرنے کا سلسلہ جاری رکھا ہے . عمر عادل کی ڈائریکشن میں میں بننے والی فلم نورکو کانز ورلڈ فلم فیسیٹول کے آن لائن ایڈیشن میں جنوری کی بہترین ہیلتھ فلم کا ایوارڈ دیا گیا ہے. یہ فلم او ٹی ٹی پلیت فارم پر موجود ہے. کمزور نظر والوں کو کم تر سمجھنے کے موضوع پر یہ کہانی فرح عثمان نے لکھی ہے اور اس میں ثروت گیلانی، عمر رانا، تنیشہ شمیم، مزنا وقاص اور تسنیم انصاری نے اہم کردار ادا کئے ہیں۔ 17منٹ کی اس مختصر فلم میں ایک بچے نے مرکزی کردار ادا کیاہے اور دل کو چھونے والے بیانیے کو دنیا کے سامنے پیش کیا گیا ہے جس میں ثقافتی توہمات اور رواجوں کے جال میں پھنسے کئی لوگ، خاص طور پر بچے، جو اپنی کمزوری اور معصومیت کی بناء پر خاموشی سے اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ سی

    پرائم کی ایگزیکٹیو پروڈیوسر سیمیں نوید کہتی ہیں کہ پاکستان میں 4 ملین سے زیادہ بچے اسکول نہیں جاتے،مجھے پختہ یقین ہے کہ ایسے مواد کو دکھانا اور پروڈیوس کرنا، جو ہمارے ناظرین کو ایک حقیقی پیغام دے سکیں، نہایت اہم ہے۔یہ ایسا موضوع ہے جس کے بارے میں کوئی بات نہیں کرتا ہرماہ کے جیتنے والوں کو سالانہ مقابلے میں شامل کیا جائے گا جس میں ان کو نہ صرف شاندار خصوصی میٹل کے مجسمہ جیت سکتے ہیں بلکہ ان کی فلم کودنیا کے سینما کے مرکز کانز کے اسکرین پر دکھائے جانے کا موقع ملے گا۔

  • رنبیر کپور نے فواد خان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے

    رنبیر کپور نے فواد خان کی تعریفوں کے پل باندھ دئیے

    بالی وڈ اداکار رنبیر کپور نے حال ہی میں ایک بیان دیا ہے اس میں انہوں نے کہا ہے کہ میں پاکستان سے بہت سارے آرٹسٹوں کو جانتا ہوں جو بہت اچھا کام کرتے ہیں. میں فوادخان کو بھی جانتا ہوں ان کے ساتھ کام کیا ہے ، میرا ان کے ساتھ کام کرنے کا تجربہ بہت اچھا ہے ، فوادخان ایک بہت ہی اچھا پرفارمر ہے. پاکستان میں بہت سارے باصلاحیت فنکار ہیں جنہوں نے بھارت میں آکر کام کیا، جن میں‌راحت فتح علیخان اور عاطف اسلم کا نام قابل زکر ہے. ان دونوں کے گیتوں کی وجہ سے بھارتی سینما اور فلموں کوبہت زیادہ فائدہ پہنچا. رنبیر کپور نے کہا کہ میں نے

    چند دن پہلے جو بیان دیا تھا اسکو غلط طریقے سے پیش کیا گیا ہے. میں کسی قسم کی کنٹرورشل سٹیٹمینٹ نہیں‌دینا چاہتا . فن کی کوئی سرحد نہیں‌ہوتی اور سب فنکاروں کو مل کر کام کرنا چاہیے. پاکستان اور بھارت دونوں جگہ پر بہترین فنکار ہیں. یاد رہے کہ رنبیر کپور نے چند دن پہلے کہا تھاکہ میں‌پاکستانی فلموں میں کام کرنا چاہوں گا ، پاکستانی فنکار بہت اچھا کام کرتے ہیں اس کے بعد انہوں نے بیان دیا کہ فن کی سرحد نہیں ہوتی میں مانتا ہوں لیکن ملک سے بڑی کوئی سرحد نہیں‌ہوتی .

  • حریم شاہ کو طلاق نہیں‌دوں گا بلال

    حریم شاہ کو طلاق نہیں‌دوں گا بلال

    حریم شاہ کی چند پرائیویٹ وڈیوز جب سے وائرل ہوئی ہیں ہر طرف حریم شاہ کے حوالے سے گفتگو ہورہی ہے. ان وڈیوز پر صفائی دینے کےلئے حریم شاہ کے شوہر بلال بھی آ گئے ہیں میدان میں. انہوں نے ایک وڈیو پیغام جاری کرتے ہوئے کہا ہےکہ حریم شاہ کی جو وڈیوز وائرل ہوئی ہیں اس میں میں ان کے ساتھ ہوں اور ہماری پرائیویٹ وڈیوز کو لیک کرنا نہایت ہی شرمناک عمل ہے میں اس عمل کی سخت ترین الفاظوں میں مذمت کرتا ہوں. انہوں نے یہ بھی کہا کہ میں کہا کرتا تھا حریم سے کہ اپنی دوستوں ٔپر اتنا اعتبار نہ کرو، مجھے سب سے زیادہ دکھ یہ ہے کہ

    عورتوں نے ہی عورت کو بدنام کیا ہے. مجھے بہت زیادہ میسجز آرہے ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ میں حریم کو طلاق دیدوں تو میں سب کو بتا دوں کہ میں حریم کو طلاق نہیں دوں گا چاہے کچھ بھی ہوجائے ، میں لعنت بھیجتا ہوں ایسے مردوں‌پر جو مشکل وقت میں عورتوں کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں ، میں اس مشکل وقت میں حریم شاہ کے ساتھ کھڑا ہوں اور کھڑا رہوں گا اور طلاق کا مشورہ دینے والوں پر بھی لعنت بھیجتا ہوں. یاد رہے کہ حریم شاہ کی نازیبا وڈیوز وائرل ہونے کے بعد وہ خود اور ان کے شوہر بلال سوشل میڈیا پر صفائیاں دے رہے ہیں.

  • میری فرینڈز نے میری وڈیوز لیک کی ہیں حریم شاہ

    میری فرینڈز نے میری وڈیوز لیک کی ہیں حریم شاہ

    حریم شاہ گزشتہ دو دن سے سوشل میڈیا پر ٹرینڈ کررہی ہیں، ان کی کچھ پرائیویٹ وڈیوز وائرل ہو رہی ہیں جس کے بعد وہ ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ڈسکس ہو رہی ہیں. حریم شاہ کی وڈیوز منظر عام پر آنے کے بعد وہ بھی ہو گئی ہیں مجبور اس پر صفائی دینے کےلئے. حریم شاہ نے کہا ہے کہ میری پرائیویٹ وڈیوز میری سہیلوں نے وائرل کی ہیں میں اپنی سہیلیوں پر اعتبار کرتی تھی اور مجھے اسی چیز کی سزا ملی ہے. میں ان پر اتنا اعتبار کرتی تھی کہ اپنا موبائل ان کو پکڑا دیتی تھی ، اپنی کوئی بھی چیز ان سے چھپاتی نہیں تھیں، وہ میرےگھر پر آکر رہتی تھیں ، میرے

    ساتھ ان کا اٹھنا بیٹھنا تھا. میری اور میرے شوہر کی پرائیویٹ وڈیوز کا وائرل ہونا یقینا میرے لئے شرمندگی کا باعث ہیں. میں اپنی غلطی کو مانتی ہوں کہ میں نے اندھا دھند اپنی سہیلیوں‌پر اعتبار کیا. میں سب سے یہی کہوں گی کہ دوستی میں کسی پر بھی اتنا اعتبار نہ کریں کہ کل کو وہ آپکے ساتھ دشمنی کرے توآپکو بالکل ہی زیرو کر دے. میری وڈیوز کو وائرل کرنے کا مقصد ہی یہی تھا کہ مجھے لوگوں کی نظروں میں گندا کیا جائے. لیکن میرے لوگ مجھے جانتے ہیں لہذا وہ ایسی وڈیوز کو پر توجہ نہیں دیں گے.

  • انوپم کھیر کو ملا کشمیر فائلز پر ایوارڈ

    انوپم کھیر کو ملا کشمیر فائلز پر ایوارڈ

    انوپم کھیر جو کہ بالی وڈ کے بہترین اداکار مانے جاتے ہیں ان کی فلم دا کشمیر فائلز گزشتہ برس سپر ہٹ ہوئی اس نے بھارت میں کافی اچھا بزنس کیا. اس فلم کو دادا صاحب فلم فیسٹیول میں بہترین فلم قرار دیدیا گیا ہے اور ایوارڈ‌ سے بھی نوازا گیا ہے. اس فلم کےلئے انوپم کھیر سب سے زیادہ ورسٹائل اداکار کا ایوارڈ جیتنے میں بھی کامیاب ہو گئے ہیں. فلم کو وویک اگنی ہوتری نے ڈائریکٹ کیا ہے ، اگنی ہوتری نے اس فلم کو ایوارڈ‌ملنے کے بعد خوشی کا اظہار کیا اور کہا کہ میں یہ ایوارڈ ان تمام لوگوں کے نام کرتا ہوں جنہیں‌دہشت گردی نے متاثر کیا. اس موقع پر انوپم کھیر نے کہا کہ مجھے بہت خوشی ہے کہ میری فلم کو ایوارڈ ملا اور میرے کام کو بہت زیادہ سراہا گیا. انوپم کھیر

    نے کہا کہ میری کوشش ہوتی ہے کہ میں اپنے مداحوں کے لئے ایسا پراجیکٹ کروں جو روٹین سے ہٹ کرہو ، اور میری خوش قسمتی ہے کہ ہر بار میں اس میں کامیاب بھی ہوجاتا ہوں. انہوں نے کہا کہ میں سال ہا سال سے بالی وڈ کی خدمت کررہا ہوں اور میں مرتے دم تک کرتا رہوں گا. میرے مداح جب تک چاہیں گے تب تک میں کام کرتا رہوں گا.

  • لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    لاہور میں پہلی بار سٹیج پلے کرنے آیا ہوں ساجد حسن

    سینئر اداکار ساجد حسن جوکہ آج کل لاہور میں ہیں اور لاہور میں ہیں انور مقصود کے سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کے لئے . اس ڈرامے میں انہوں نے ایک اہم کردار ادا کیا ہے. اداکار ساجد حسن نے اس موقع پر انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ میں لاہور میں‌پہلی بار کوئی سٹیج پلے کرنے کے لئے آیا ہوں اس سے پہلے میں نے کبھی بھی لاہور میں اس طرح سے پرفارم نہیں کیا. ساجد حسن کے کہا کہ لاہور کے لوگ ہمیشہ ہی بہت زیادہ پیار دیتے ہیں ، میں یہاں آیا ہوں اور بہت زیادہ پرجوش ہوں ، یہاں نوجوانوں کا جوش و جذبہ دیکھ کر کافی دل خوش ہوا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ انور مقصود کے ساتھ میرا بہت پرانا تعلق ہے ہم نے ایک ساتھ بہت زیادہ کام کیا ہے. اور جب بھی کام کیا ہے وہ

    یادگار ہی رہا ہے. میں ساڑھے 14 اگست کے لئے بہت زیادہ پرجوش ہوں. ساجد حسن نے مزید کہا کہ انور مقصود اس ملک کا اثاثہ ہیں ، انہوں نے جب اورجو بھی لکھا اس نے دیکھنے پڑھنے اور سننے والوں کو سوچنے پر مجبور کر دیا . میں یہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ آیا ہوں امید ہے کہ یہاں‌ سٹیج پر کام کرنے کا تےتجربہ بہت اچھا رہے گا .

  • سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    سجاد علی نے اپنی اہلیہ اور بیٹی کے ساتھ انور مقصود کا سٹیج پلے دیکھا

    معروف گلوکار سجاد علی کو الحمراء میں دیکھ کر لوگ حیران رہ گئے جب وہ وہاں انور مقصود کا سٹیج ڈرامہ دیکھنے کے لئے پائے گئے. سجاد علی کے ساتھ ان کی اہلیہ اور بیٹی بھی تھیں. اس موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سجاد علی نے کہا کہ میں‌اپنی زندگی میں پہلی بار کسی سٹیج پلے کو دیکھنے کےلئے آیا ہوں. چونکہ میرا انور مقصود کے ساتھ بہت اچھا تعلق ہے اور ان کے کام کا میں کیا ساری دنیا دیوانی ہے وہ جب بھی کچھ لکھتے ہیں وہ سبق آموز ہوتا ہے اسلئے آج میں خاص کر یہ ڈرامہ دیکھنے کے لئے آیا ہوں. سجاد علی نے کہا کہ انور مقصود نے جب مجھے کہا کہ آپ یہ ڈرامہ دیکھنے آئیں تو مجھے لگا

    کہ یقینا اس میں کچھ الگ ہی بات ہو گی ، میں نے سٹیج ڈرامہ دیکھا ہے بہت اچھا ہے جس طرح سے ڈرامے کو سٹیج کیا گیا ہے وہ قابل ستائش ہے ، ڈرامے کے تمام کرداروں نے بہت محنت کی ہے. سجاد علی نے کہا کہ سبق آموز سٹیج پلیز نوجوان نسل کو دکھائے جانا وقت کی اہم ضرورت ہے . میں نے کبھی سٹیج پلے دیکھا نہیں تھا لیکن آج دیکھا ہے تو بہت مزا آیا ہے. ڈرامہ دیکھتے ہوئے بہت بار ایسا ہوا کہ زہن اُن وقتوں میں چلا گیا جب تقسیم ہند ہو رہی تھی .

  • انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    انور مقصود کا ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں میڈیا شو

    معروف رائٹر انور مقصود کا سٹیج پلے ساڑھے 14 اگست کا لاہور میں گزشتہ شب میڈیا شو کیا گیا.اس میں سجاد علی ، تجزیہ نگار امتیاز عالم ، ساجد حسن اور انکی اہلیہ، ڈاکٹر یونس ملک و دیگر نے شرکت کی ، ڈرامے کو دیکھنے کےلئے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد آئی. ساڑھے 14 اگست میں گاندھی اور محمد علی جناح کے آپسی مکالموں اور اُس وقت کے دور کو دکھایا گیا جب تقسیم ہو رہی تھی. ڈرامے کے ڈائیلاگز کمال مہارت کے ساتھ لکھے گئے ہیں ، ہر مکالمہ سننے والوں کے لئے ایک سبق ہے. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کے خوبصورت مکالموں کو سن کو تقسیم ہند کے وقت کی یاد بخوبی آتی ہے اور آنکھوں کے سامنے وہ منظر دوڑ جاتا ہے اور محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم

    اسی دور میں بیٹھے ہوئے ہیں جب یہ سب ہو رہا تھا. ڈرامے میں جناح اور گاندھی کا کردار نوجوان لڑکوں نے ادا کیا ہے. ساڑھے 14 اگست لاہور سے پہلے کراچی اور اسلام آباد میں پیش کیا گیا جہاں یہ ڈرامہ کئی ماہ تک چلا . لاہور میں یہ ڈرامہ تین سے چار ہفتے تک جاری رہے گا. بہت عرصے کے بعد کسی سٹیج پلے کو شائقین کی ایک بڑی تعداد دیکھنے کےلئے الحمراء کا رخ کررہی ہے.