Baaghi TV

Tag: Full movies hd

  • کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی

    کرن جوہر نے کارتک کو دوستانہ 2 سے کیوں نکالا؟ اداکار نے خاموشی توڑ دی

    کارتک آریان کا شمار اس وقت بالی وڈ‌ کے بہترین اداکاروں میں ہوتا ہے. اداکار ایک بڑی فین فالونگ رکھتے ہیں،ان کے مداح ان پر محبت کی بارش کرنے میں بالکل بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے. کارتک آریان سوشل میڈیا پر کافی متحرک رہتے ہیں اور اپنے مداحوں کو اپنے پراجیکٹس کے بارے میں آگاہی دیتے رہتے ہیں. حال ہی میں، کارتک اس وقت سرخیوں میں آئے جب انہیں کرن جوہر کی آنے والی فلم دوستانہ 2 سے اچانک ڈراپ کر دیا گیا۔ اس فلم سے نکالے جانے کے بعد ان پر نان پروفیشنل ہونے کا الزام لگایا گیا لیکن اب کارتک آریان نے اس فلم سے نکالے جانے کے حوالے سے خاموشی توڑ دی ہے. رجت شرما کے شو میں کارتک آریان سے جب سوال ہوا کہ آپ کو کرن جوہر کی فلم دوستانہ 2 سے کیوں نکالا گیا تو انہوں‌نے کہا کہ میری ماں نے مجھے سکھایا ہے کہ جب دو لوگوں کے درمیان جھگڑا ہو تو چھوٹے کو اس کے بارے میں کبھی نہیں بولنا چاہئے اور میں اس بات پر مکمل عمل کرتا ہوں اس لیے میں اس کے بارے میں کبھی بات نہیں کرتا۔ کارتک سے مزید سوال کیا گیا کہ ایسی خبریں تھیں کہ

    آپ نے مزید پیسوں کا مطالبہ کیا لیکن کرن جوہر نے دینے سے انکار کر دیا بس اسی کے نتیجے میں کارتک فلم سے باہر ہوگئے. اس پر اداکار نے واضح کیا کہ میں نے پیسے کی وجہ سے کبھی فلم نہیں چھوڑی۔ میں بہت لالچی ہوں لیکن اسکرپٹ کے معاملے میں، پیسے کے معاملے میں نہیں۔ تاہم کارتک نے اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ اسکرپٹ میں تبدیلی فلم چھوڑنے کی بڑی وجہ رہی. کارتک نے کہا کہ لیکن اب میں اور کرن اچھے تعلقات میں ہیں انہوں‌نے مجھے شہزادہ کے لئے مبارکباد بھی دی.

  • صرف مسلم علاقوں میں پٹھان کی ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے کے آر کے کا دعوی

    صرف مسلم علاقوں میں پٹھان کی ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے کے آر کے کا دعوی

    کمال آر خان جو کہ فلموں پر اپنے ریویوز دیتے ہیں وہ کرن جوہر ہوں یا شاہ رخ خان ہر کسی کو لیتے ہیں آڑھے ہاتھوں. انہوں‌ نے حال ہی میں ایک ٹویٹ کے زریعے دعوی کیا ہے کہ شاہ رخ خان کی فلم پٹھان کی ایڈوانس بکنگ صرف ان علاقوں میں ہو رہی ہے جن میں مسلم آبادی ہے ، انہوں نے کہا کہ مسلم آبادی کی وجہ سے نظام اور آندھرا میں زبردست ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے۔ مغربی بنگال میں بھی زیادہ مسلم آبادی کی وجہ سے زبردست ایڈوانس بکنگ ہو رہی ہے۔ جبکہ گجرات اور پنجاب کی ایڈوانس بکنگ خراب ہے۔ مہاراشٹر میں اوسط بکنگ ہو رہی ہے۔ کے آر کے یہ بھی دعوی کررہے ہیں کہ پٹھان فلاپ ہوجائیگی. انہوں نے فلم کا ٹریلر ریلیز ہونے کے بعد اس کا کافی مذاق اڑایا اور دیپیکا کو انجلینا جولی کی نقالن

    تک کہا. کے آر کے مسلسل شاہ رخ خان کے خلاف مہم چلا رہے ہیں،ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید وہ شاہ رخ‌خان کے خلاف کسی اسائنمنٹ پر ہیں. کبھی وہ شاہ رخ پر ناقدین کئ ریویوز خریدنے کے الزامات لگا رہے ہیں اور کبھی وہ فلم میں شاہ رخ خان کے کردار کو موضوع بحث بنا رہے ہیں، لیکن ان کے حالیہ دعوے کے مطابق شاہ رخ خان کی فلم پٹھان نہ صرف فلاپ ہو گی بلکہ اسکی ایڈوانس بکنگ صرف مسلم علاقوں میں ہو رہی ہے.

  • شاہ رخ خان منت کے باہر آکر مداحوں سے ملے

    شاہ رخ خان منت کے باہر آکر مداحوں سے ملے

    بالی وڈ سپر اسٹار شاہ رخ خان آج کل اپنی آنے والی فلم پٹھان کی پرموشنز میں مصروف ہیں اس میں انکے ساتھ دیپیکا پڈوکون اور جان ابراہم مرکزی کردار ادا کررہے ہیں.چار سال کے وقفے کے بعد شاہ رخ خان کی بڑے پردے پر واپسی ان کوکتنی راس آتی ہے یہ تو 25 جنوری کو پتہ چل جائیگا. شاہ رخ خان کے مداح پٹھان فلم دیکھنے کےلئے بےتاب ہیں اور بڑی تعداد میں ایڈوانس بکنگ کی جا رہی ہے.شاہ رخ‌خان کو دیکھنے کےلئے ان کے گھر کے باہر مداحوں کا مجمع لگا رہتا ہے وہ اکثر اپنے گھر کی بالکونی میں آکر مداحوں کو ہاتھ ہلاتے ہیں اور ان سے بات چیت کرتے ہیں. شاہ رخ خان نے اپنے مداحوں کو مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر ہینڈل پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں وہ منت کی بالکونی سے

    اپنے مداحوں کو مبارکباد دے رہے ہیں.۔ پٹھان کی ریلیز سے پہلے ان کے گھر کے باہر ایک بہت بڑا ہجوم جمع ہوا جو کہ اپنے پسندیدہ ستارے کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے دیوانے ہو رہے تھے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے شاہ رخ خان نے لکھا ”ایک خوبصورت اتوار کی شام کے لیے آپ کا شکریہ” ساتھ ہی انہوں‌ نے یہ بھی لکھا کہ پٹھان کے لئے آپ سب اپنی ٹکٹیں بک کروائیں اور میں جلد ہی آپ سے اگلی ملاقات کروں گا۔

  • عمران ہاشمی کے بیٹے کو کینسر ہوا تو سب سے پہلے کس اداکار نے انکو کال کی؟‌ اداکار نے بتا دیا

    عمران ہاشمی کے بیٹے کو کینسر ہوا تو سب سے پہلے کس اداکار نے انکو کال کی؟‌ اداکار نے بتا دیا

    بلی وڈ‌ اداکار عمران ہاشمی جو ایک بڑی فین فالونگ رکھتے ہیں، ان کی فلموں‌ کو بہت پذیرائی ملتی رہی، فلموں‌ کے حوالے سے عمران ہاشمی ایک خاص امیج رکھتے ہیں. ان کی اکشے کمار کے ساتھ سیلفی نام کی ایک فلم اسی سال ریلیز ہونے جا رہی ہے. اداکار نے اکشے کمار کے ساتھ کام کرنے کے تجربے کو شئیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میرے پسندیدہ اداکار ہیں ان کے ساتھ کام کرنا میرا خواب تھا جو پورا ہوا، عمران اشرف نے ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے ہوئے کہا کہ جب میرے بیٹے کو کینسر جیسے مرض کی تشخیص ہوئی تھی اس وقت مجھے جس اداکار نے سب سے پہلے فون کیا وہ اکشے کمار تھے. اداکار نے مزید کہا کہ اکشے مشکل وقت میں میرے ساتھ کھڑے رہے حالانکہ میری ان وقتوں میں

    اکشے کمار کے ساتھ دوستی نہیں تھی بطور اداکار ان کو جانتا تھا لیکن بطور انسان کیسے ہیں اس بارے زیادہ آگاہی نہیں تھی ، لیکن اکشے کمار نے ثابت کیا کہ وہ ایک اچھے انسان ہیں انہوں‌نے جس طرح‌سے مشکل وقت میری ڈھارس بندھائی وہ میں کبھی نہیں بھول سکتا، اکشے مشکل وقت میں میرے لئے فرشتہ بن کے آئے. فلم سلیفی میں ان کے ساتھ کام کرنے کا جب موقع میسر آیا تو میری خوشی کی انتہا نہ تھی.

  • غیر ضروری تبصروں کے خلاف نریندر مودی کے انتباہ پراکشے کمار کا ردعمل

    غیر ضروری تبصروں کے خلاف نریندر مودی کے انتباہ پراکشے کمار کا ردعمل

    بھارت میں بالی وڈ کی فلموں کے بائیکاٹ کے ٹرینڈ نے گزشتہ برس بڑی سے بڑی اور چھوٹی سے چھوٹی فلم کو بہت نقصان پہنچایا.یہ ٹرینڈ فلم پٹھان جس کی ریلیز میں دو دن باقی ہیں اس کے خلاف بھی چل رہا ہے. بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے بائیکاٹ ٹرینڈ کے حوالے سے بی جے پی کارکنوں سے کہا ہے کہ وہ فلموں کے بارے میں غیر ضروری تبصرے نہ کریں۔ کہا جا رہا ہے کہ ان کا یہ بیان شاہ رخ خان کے پٹھان کے خلاف حالیہ احتجاج اور بائیکاٹ کے رجحان کے بعد آیا ہے۔ مودی کے اس بیان پر بالی وڈ اداکار اکشے کمار نے رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ مودی نے نہایت ہی مثبت پیغام دیا ہے، اور ایسے بیانات کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے، مودی اس ملک کے سب سے زیادہ بااثر شہری ہیں اگر وہ

    کچھ کہہ رہے ہیں تو ویسا ہونا بھی چاہیے. انہوں نے مزید کہا کہ معاملات اچھے انداز میں چلنے چاہیں . یاد رہے کہ اکشے کمار نے ان خیالات کا اظہار اپنی فلم سیلفی کے ٹریلر لانچ کے موقع پر کیا اس فلم میں ان کے ساتھ معروف اداکار عمران ہاشمی بھی ہیں. یہ دونوں اداکار پہلی بار ایک دوسرے کے ساتھ کام کررہے ہیں. اکشے کمار فلم میں ایک سپر اسٹار کا کردار ادا کر رہے ہیں۔اور عمران ہاشمی ایک آر ٹی او افسر کا کردار ادا کر رہے ہیں جو اکشے کا بہت بڑا مداح ہے۔

  • عدالت کے باہر فیروز سے پرائیویسی لیک کرنے کا سوال،  اداکار خاموش رہا

    عدالت کے باہر فیروز سے پرائیویسی لیک کرنے کا سوال، اداکار خاموش رہا

    اداکار فیروز خان جنہوں نے چند روز قبل اپنے شوبز کے ساتھیوں کو نہ صرف لیگل نوٹس بھیجے بلکہ ان سے معافی کا مطالبہ بھی کیا ان کو یہ حرکت کرنے پر کافی زیادہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور سوشل میڈیا پر کہا گیا کہ انہیں چاہیے کہ یہ اپنے شوبز کے ساتھیوں سے معافی مانگیں لیکن اداکار نے تاحال ایسا نہیں کیا. حال ہی میں فیروز خان نے عدالت میں بچوں کے ساتھ ملاقات کی اس موقع پر صحافیوں نے ان سے سوالات کئے جس پر وہ خاموش رہے. فیروز سے سوال ہوا کہ انہوں نے ساتھی فنکاروں کی پرائیویسی لیک کی اس پر انہیں کسی قسم کا شرمندگی ہے تو فیروز خان

    بالکل خاموش رہے ، ایک اور سوال ہوا کہ کیا آپ ایسا کرنے پر معافی مانگیں گے اس پر بھی وہ خاموش رہے ، یہاں تک کہ انہوں نے اس سوال کا جواب بھی نہ دیا کہ وہ بچوں کے ساتھ مل کر خوش ہیں؟ اس موقع پر علیزے سلطان بھی موجود تھیں ان سے جب پوچھا گیا کہ آپ ماڈلنگ شروع کرنے والی ہیں ؟انہوں نے جواب دیا کہ نہیں ، پھر ان سے سوال ہوا کہ کیا آپ ٹی وی ڈراموں میں آنے والی ہیں تو انہوں نے کہا کہ ایسا بھی نہیں ہے یوں انکےشوبز میں آنے کی خبروں‌ کی تردید کے بعد ایسی ساری افواہیں دم توڑ گئئ ہیں.

  • شعیب اختر کے مداحوں کو جھٹکا

    شعیب اختر کے مداحوں کو جھٹکا

    معروف کرکٹر شعیب اختر کی زندگی پر بننے والی فلم راولپنڈی ایکسپریس کو لیکر ان کے مداح کافی پرجوش تھے ، اس فلم میں شعیب اختر کا کردار کرنے والے عمیر جسوال نے پہلے فلم سے علیحدگی کا اعلان کیا اس کے بعد اب شعیب اختر نے خود کو فلم سے الگ کرلیا ہے. شعیب اختر نے اس ھوالے سے ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر شئیر کی جس میں انہوں نے کہا کہ مسلسل ایسی چیزیں چل رہی تھیں جو حل نہیں ہو رہیں تھیں اور میرے اور فلم میکرز کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا مسلسل اس کی خلاف ورزی ہو رہی تھی اس لئے میں نے خود کو اس فلم سے الگ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میں تنبیہ کررہا ہوں فلم میکرز کو کہ میری زندگی پر نہ فلم بنائیں نہ ہی میرا نام استعمال کریں اگر ایسا ہوا تو میں سخت قسم کا

    لیگل ایکشن ان کے خلاف لوں گا. شعیب اختر نے مزید کہا کہ معاملات جب حل نہ ہو رہے ہوں تو پھر اچھے انداز میں الگ ہوجانا چاہیے اور میں نے بھی ایسا ہی کیا ہے. یاد رہے کہ عمیر جسوال نے بھی اسی قسم کی باتیں کہیں تھیں انہوں نے کہا کہ کچھ چیزوں پر اتفاق نہ ہونے کی وجہ سے فلم سے الگ ہو رہا ہوں . یوں شعیب اختر کے مداحوں کے لئے بری خبر یہ ہے کہ ان کے پسندیدہ کرکٹر کی زندگی پر اب فلم نہیں‌ بنے گی.

  • کیا عالیہ بھٹ دوسری بار حاملہ ہیں؟

    کیا عالیہ بھٹ دوسری بار حاملہ ہیں؟

    عالیہ اور رنبیر کا رومانس فلم برہمسٹرا کے سیٹ پر شروع ہوا گزشتہ برس اپریل میں اپنے قریبی دوستوں اور اہل خانہ کی موجودگی میں دونوں نے شادی کر لی۔ تین ماہ قبل ان کے گھر ایک بیٹی کی پیدائش ہوئی . اب یہ افواہیں اڑ رہی ہیں کہ اداکارہ ایک بار پھر حاملہ ہیں۔ ایک بھارتی ویب سائٹ کے دعوے کے مطابق اداکارہ ایک بار پھر حاملہ ہے اور یہ دعوی انہوں نے اس بنیاد پر کیا ہے کیونکہ عالیہ بھٹ نے حال ہی میں اپنی ایک میٹرنٹی کلیکشن لانچ کی ہے. عالیہ کے بارے میں یہ افواہیں گردش تو کررہی ہیں لیکن عالیہ اور رنبیر کپور نے ان افواہوں کی نہ تصدیق کی ہے اور نہ ہی تردید کی ہے. عالیہ بھٹ اپنی بیٹی راہا کی پرورش میں کافی مصروف ہیں لیکن انہوں نے جم جانا بھی شروع کر دیا ہے اور اپنے کام پر

    بھی توجہ دے رہی ہیں انہوں نے اس برس کرن جوہر کی فلم راکی اور رانی کی پریم کہانی کی شوٹنگ بھی مکمل کروانی ہے. یاد رہے کہ عالیہ بھٹ راکی اور رانی کی پریم کہانی میں رنویر سنگھ کے مقابلے میں نظر آئیں گی. عالیہ کی پہلی ہالی وڈ فلم ہارٹ آف سٹون کے ساتھ ونڈر ویمن گیل گیڈوٹ بھی اسی سال ریلیز ہونے والی ہے۔ جبکہ رنبیر کپور کی شردھا کپور کے ساتھ روم کام اس سال ریلیز ہوگی. جائے گی۔

  • دشمن مرے تے خوشی نا کریے ہوے سجنا وی مر جانا،صوفی شاعر میاں محمد بخش

    دشمن مرے تے خوشی نا کریے ہوے سجنا وی مر جانا،صوفی شاعر میاں محمد بخش

    دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجناں وی مرجانا

    صوفي شاعر میان محمد بخش 1830ء کھڑے شریف میر پور آزاد کشمیر میں پیدا ہوئے اور 22 جنوري 1907ءمیں ان کی وفات ہوئی ان کا پنجاب کے گجر قبیلے سے تعلق تھا ان کا شجرہ حسب نسب پیر شاھ غازي المعروف پیر دمڑی والا سے ملتا ہے ، انہوں نے غلام حسین سموالوي اور شیخ احمد ولي ڪشميري سے فیض حاصل کیا میان غلام محمد ڪلروڑی کی بیعت کی انہوں نے شادی نہی کی ان کی شائع شدہ تصانیف میں (سیف الملوک، تحفہ میراں کرامات غوث اعظم، تحفہ رسولیہ معجزات جناب سرور کائنات، ہدایت المسلمین، گلزار فقیر، نیرنگ عشق، سخی خواص خان، سوہنی میہنوال، قصہ مرزا صاحباں، سی حرفی سسی پنوں، قصہ شیخ صنعان، نیرنگ شاہ منصور، تذکرہ مقیمی، پنج گنج) وغیرہ شامل ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اول حمد ثنا الہی تے جو مالک ہر ہر دا
    اس دا نام چتارن والا کسے وی میدان نا ہردا

    روح درود گھنن سب جاسن آپو اپنے گھر نوں
    تیرا روح محمد بخشا تکسی کیڑے در نوں

    نیچاں دی اشنائ کولوں فیض کسے نہ پایا
    ککر تے انگور چڑھایا تے ہر گچھا زخمایا

    خاصاں دی گل عاماں آگے تے نئیں مناسب کرنی
    مٹھی کھیر پکا محمد کتیاں اگے دھرنی

    باغ بہاراں تے گلزاراں بن یاراں کس کاری
    یار ملے دکھ جان ہزاراں شکر کہاں لکھ واری

    اچی جائ نیوں لگایا بنڑی مصیبت بھاری
    یاراں باجھ محمد بخشا، کون کرے غمخواری

    لوئے لوئے بھر لے کُڑیے، جے ددھ بھانڈا بھرناں
    شام پئی بِن شام محمد، گھر جاندی نیں ڈرناں

    مرنا مرنا ہر کوئی آکھے ، میں وی آکھاں مرنا
    جس مرنے وِچ یار نئی راضی، اُس مرنے دا کی کرنا​

    بیلی بیلی ہر کوئی آکھے تے میں وی آکھاں بیلی
    اس ویلے دا کوئی نہ بیلی جدوں نکلے جان اکیلی

    پھس گئی جان شکنجے اندر جیوں ویلن وچ گنا
    رو نوں کہو ہن رہو محمد جے ہن رہوے تے مناں

    ربّا توں بیلی تے سب جگ بیلی ان بیلی وی بیلی
    سجناں باجھ محمد بخشا سُنجی پئی حویلی
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    دشمن مرے تے خوشی نی کریے ہوے سجنا وی مر جانا
    ای گر تے دن ھویا محمد تے اوڑک نو ڈوب جانا

    کام تمام میسر ھوندے ہو تے نام اودا چت دھریاں
    رحم سکے ساوے کردا قہر ساڑے ھریاں

    بادشاہا تھیں بھیک منگاوے تے تخت بھاوے کایی
    کج پرواہ نی گھر اس دے تے دایم بے پروایی

    اپ مکانوں خالی اس تھیں کویی مکان نا خالی
    ہر ویلے ہر چیز محمد تے رکھدا نت سنمبھالی

    ہر در توں ترکارن ھندا جو اس در تھیں مڑیا
    اوسے دا اس شان ودایا جو اس پاسے اڑیا

    واہ کریم امت دا والی ہو تے مھر شفاعت کردا
    جبراییل جے جسدے چاکر تے نبیاں دا سرکردا

    او محبوب حبیب ربانی تے حامی روز حشردا
    اپ یتیم یتیم داییں ہتھ سرے پر تردا

    تے حسن بازار اودے سو یوسف پردے ھون پکاندے
    ذولقرنین سلیمان جیسے خدمت گار کہاندے

    موسی خضر نقیب اناں دے اگے پجن راہی
    تے او سلطان محمد والی مرسل ہور سپاہی

    تے جیون جیون جھوٹا ماواں موت کھلی سر اتے
    لاکھ کڑوڑ تیرے تھیں سونے خاک اندر چل ستے

    بن ایی جند نکلے ناہیں ہوتے کویی جہان نا چلدا
    کعبے دے ہتھ قلم محمد تے ھور نی کج چلدا

    کیتی بے فرمانی تیری پلا پھرے اس راہوں
    تے نام اللہ بخشش بے ادبی تے ناکر پکڑ گناہوں

    چل چل پار نا ہاریں ہمت تو ہک دن بھرسیں پاسا
    بھکا منگن چڑے محمد اوڑک بھر د کاسا

    جس دل اندر ہوے پایی ہک رتی چنگاری
    اے قصہ بل بل بھامبڑ بندا نال ربے دی یاری

    جس دل اندر عشق نا رچیا ہوتے کتے اس تو چنگے
    خاوند دے گھر راکھی کردے سب پھکے ننگے

    جناں دکھاں وچ دل بھر راضی تے اناں تو سکھ وارے
    دکھ قبول محمد بخشا تے راضی رہن پیارے

    راتیں زاری کر کر رویں اوتے نیند اکھیں دی کھوندے
    فجر او گنہگار کہلاون ہر تھیں نیویں ھوندے

    ھسن کھڈن نال لگ اوں ھو سٹ کے ڈونگیاں فکراں
    تے پاٹی لیر پرانی وانگوں ٹنگ گیاں وچ ککراں

    جناں تنا عشق سمانا ہو تے رونا کم اناں
    ملدے دے رونا بچھڑے رونا تے رونا ٹردے راہاں

    جس تنمبے نال گڑتی دیندے اوس تنمبے نال پانی
    تے جیڑے اے میر محمد اوھو اے مکانی

    ریت وجود تیرے وچ سونا تے اویں نطر نا اویں
    ھنجوں دا ہتھ پانی دوھویں تے ریت مٹی ڑوڑ جاوے

    جس دل اندر عشق سمانا ہو تے اوس نی فر جانا
    بڑے سونے ملن ہزاراں اساں نی او یار وٹانا

    عشق کیا میں بن بن کھڑیاں دودھ تھیں پلیاں پلیاں
    ماھی بابل پٹ پٹ تھکے تے واہاں مول نا چلیاں

    الوداع اٹھ چلیں ساتھی ہو ڈٹھی گور اڈاراں
    نت اداسیں تے کرلاسیں کر کر یاد کتاراں

    ہاے افسوس نا دوش کسے تے لکھی قلم ربانی
    سجنا نال محمد بخشا زہر ھوی زندگانی

    ٹنڈاں پانی بھر بھر ڈولن تے وانگ دکھیاں نال
    مڑ جاون خالی گھر نو جو دوڑ بھراواں بھیناں

    ہک بلبل ایس واقعے اندر ہو تے ال نا ریی سمندی
    اجے نی چڑھیا نی کوڑھ محمد تے اڑ گی اے کرلاندی

    مالی دا کم پانی دینا اوتے بھر بھر مشقاں پاوے
    مالک دا کم پھل پھل لانا لاوے یا نا لاوے

    تے بس اساں دا وس نی چلدا کی اس ساڈا کھونا
    لسے دا کی زور محمد تے نس جانا یا رونا

    میں اندھاں تے تلکن رستہ او کیوں کر روییں سمبھالا
    دکھے دیون والے بوتے تے او ہتھ پکڑن والا

    مان نا کریو روپ گھنے دا تے وارث کون حسن دا
    سدا نا رہسن شاخن ہریاں تے سدا ناں پھل چمن دا

    سدا نا تابش سورج والی تے جیوں کر وقت دوپہراں
    بےوفایی رسم، محمد تے سدا اسے وچ تیراں

    سدا نی ہتھ مھندی رتے تے سدا نی چھنکن ونگاں
    سدا نی چوپے جا محمد سدا نی رل مل بینا

    سدا نی مرغایاں بینا تے سدا نا سر پانی
    او سدا نا سیاں سیس بلاون او سدا نا سرخی لانی

    مگر شکاری کرے تیاری ہو تے بار چریں دیاں ہرناں
    جو چڑھیاں اس بینا اوڑک تے جو جمیاں اس مرنا

    لاکھ ہزار بازار حسن دی تے اندر خاک سمانی
    لا پریت اجی محمد تے جگ وچ روے کہانی

    سدا نا باغی بلبل بولے تے سدا نا باغ بہاراں
    سدا نا حسن جوانی قایم سدا نا صحبت یاراں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    آ سجنا منہ دس کدائیں جان تیرے توں واری
    تونہیں جان ایمان دلے دا تدھّ بن میں کس کاری
    حوراں تے گلمان بہشتی چاہے خلقت ساری
    تیرے باجھ محمد مینوں نہ کوئی چیز پیاری

    دم دم جان لباں پر آوے چھوڑِ حویلی تن دی
    کھلی اڈیکے مت ہن آوے کدھروں وا سجن دی
    آویں آویں نہ چر لاویں دسیں جھات حسن دی
    آئے بھور محمد بخشا کر کے آس چمن دی

    سدا نہ روپ گلاباں اتے سدا نہ باغ بہاراں
    سدا نہ بھج بھجِ پھیرے کرسن طوطے بھور ہزاراں
    چار دہاڑے حسن جوانی مان کیا دلداراں
    سکدے اسیں محمد بخشا کیوں پرواہ نہ یاراں

    ربا کس نوں پھولِ سناواں درد دلے دا سارا
    کون ہووے اج ساتھی میرا دکھ ونڈاون-ہاراون
    جس دے نال محبت لائی چا لیا غم-کھارا
    سو منہ دسدا نہیں محمد کی میرا ہن چارہ ؟

    آدم پریاں کس بنائے اکو سرجن-ہاران
    حسن عشقَ دو نام رکھائیوسُ نور اکو منڈھ سارا
    مہبوباں دی صورتَ اتے اسے دا چمکارا
    عاشق دے دل عشقَ محمد اوہو سر-نیارا

    سرو برابر کد تیرے دے مول کھلو نہ سکدا
    پھل گلاب تے باغ-ارم دا صورتَ تک تکِ جھکدا
    یاسمین ہووے شرمندہ بدن-صفائی تکدا
    ارغوان ڈبا وچ لہو چہرہ ویکھ چمکدا

    کجھ وساہ نہ ساہ آئے دا مان کیہا پھر کرنا
    جس جسے نوں چھنڈ چھنڈِ رکھیں خاک اندر وننجِ دھرنا
    لوئِ لوئِ بھر لے کڑیئے جے تدھِ بھانڈا بھرنا
    شام پئی بن شام محمد گھرِ جاندی نے ڈرنا

    کستوری نے زلف تیری تھیں بو اجائب پائی
    منہ تیرے تھیں پھلّ گلاباں لدھا رنگ صفائی
    مہر تیری دی گرمی کولوں مہرِ تریلی آئی
    لسا ہویا چن محمد حسنِ محبت لائی

    طلب تیری تھیں مڑساں ناہیں جب لگ مطلب ہوندا
    یا تن نال تساڈے ملسی یا روح ٹرسی روندا
    قبر میری پٹِ دیکھیں سجنا جاں مر چکو سو بھوندا
    کولے ہوسی کفن محمد عشقَ ہوسی اگ ڈھوندا

    لمی رات وچھوڑے والی عاشق دکھیئے بھانے
    قیمت جانن نین اساڈے سکھیا قدر نہ جانے
    جے ہن دلبر نظریں آوے دھمیں سبہُ دھننانے
    وچھڑے یار محمد بخشا ربّ کویں اج آنے

    جے مہبوب میرے متلوبا ! توں سردار کہایا
    میں فریادی تیں تے آیا درد فراقَ ستایا
    اک دیدار تیرے نوں سکدا روح لباں پر آیا
    آ مل یار محمد بخشا جاندا وقت وہایا

    اک تگادا عشقَ تیرے دا دوجی بری جدائی
    دور وسنیاں سجناں مینوں سخت مصیبت آئی
    وس نہیں ہن رہا جیؤڑا درداں ہوش بھلائی
    ہتھوں چھٹی ڈور محمد گڈی واؤ اڈائی

    کر کرِ یاد سجن نوں روواں مول آرام نہ کوئی
    ڈھونڈ تھکا جگ دیس تمامی رہا مقام نہ کوئی
    رٹھا یار مناوے میرا کون وسیلہ ہوئی
    لائِ سبون محبت والا داغ غماں دے دھوئی

    جگّ پر جیون باجھ پیارے ہویا محال اسانوں
    بھل گئی سدھ بدھ جاں لگا عشقَ کمال اسانوں
    باغ تماشے کھیڈن ہسن ہوئے خواب اسانوں
    جاون دخ محمد جس دن ہوئے جمال اسانوں

    کی گل آکھِ سناواں سجنا ! درد فراقَ ستم دی
    آیا حرف لباں پر جس دم پھٹ گئی جیبھ قلم دی
    چٹا کاغذ داغی ہویا پھری سیاہی غم دی
    دکھاں کیتا زور محمد لئیں خبر اس دم دی

    پریئے ! خوف خدا توں ڈریئے کریئے مان نہ ماسہ
    جوبن حسن نہ توڑ نباہو کی اس دا بھرواسا
    ایہناں مونہاں تے مٹی پوسی خاک نمانی واسا
    میں مر چکا تیرے بھانے اجے محمد ہاسہ

    جو باطن اسِ نام محبت ظاہر حسن کہاوے
    حسن محبت مہرم توڑوں کیوں مہرم شرماوے
    مہرم نال ملے جد مہرم انگ نسنگ لگاوے
    حسن عشقَ اک ذات محمد توڑے کوئی سداوے

    کون کہے نہ جنس ایہناں نوں ؟ اکسے ماں پیو-جائے
    اکو ذات ایہناں دی توڑوں اگوں رنگ وٹائے
    اک کالے اک سبز کبوتر اک چٹے بنِ آئے
    چٹے کالے ملن محمد نہ بنِ بہن پرائے

    حسن محبت سبھ ذاتاں تھیں اچی ذات نیاری
    نہ ایہہ آبی نہ ایہہ بادی نہ خاکی نہ ناری
    حسن محبت ذات الٰہی کیا چبّ کیا چمیاری
    عشقَ بے-شرم محمد بخشا پچھِ نہ لاندا یاری

    جنس-کو-جنس محبت میلے نہیں سیانپ کردی
    سورج نال لگائے یاری کت گن نیلوفر دی
    بلبل نال گلے اشنائی خاروں مول نہ ڈردی
    جنس-کو-جنس محمد کتھے عاشق تے دلبر دی

    ہے سلطان حسن دی نگری راج سلامت تیرا
    میں پردیسی ہاں فریادی عدل کریں کجھ میرا
    تدھ بن جان لباں پر آئی جھلیا درد بتیرا
    دے دیدار اج وقت محمد جگّ پر ہکو پھیرا

    عشقَ فراقَ بے ترس سپاہی مگر پئے ہر ویلے
    پٹے-بندھ سٹے وچ پیراں وانگر ہاتھی پیلے
    صبر تحمل کرن نہ دندے ظالم برے مریلے
    تدھ بن ایویں جان محمد جیوں دیوا بن تیلے

    بستر نامرادی اتے میں بیمار پئے نوں
    دارو درد تساڈا سجنا! لے آزار پئے نوں
    ذکر خیال تیرا ہر ویلے درداں مار لئے نوں
    ہے غمخار ہکلی جائی بیغمخار پئے نوں

    چنتا فکر اندیسے آون بنھ بنھ صفاں قطاراں
    وسّ نہیں کجھ چلدا میرا قسمت ہتھ مہاراں
    پاسے پاسے چلی جوانی پاس نہ سدیا یاراں
    ساتھی کون محمد بخشا درد ونڈے غمخاراں

    مان نہ کیجے روپ گھنے دا وارث کون حسن دا
    سدا نہ رہسن شاخاں ہریاں سدا نہ پھلّ چمن دا
    سدا نہ بھور ہزاراں پھرسن سدا نہ وقت امن دا
    مالی حکم نہ دیئ محمد کیوں اج سیر کرن دا

    سدا نہ رست بازاریں وکسی سدا نہ رونق شہراں
    سدا نہ موج جوانی والی سدا نہ ندیئے لہراں
    سدا نہ تابش سورج والی جیوں کر وقت دپہراں
    بے وفائی رسم محمد سدا ایہو وچّ دہراں

    سدا نہ لاٹ چراغاں والی سدا نہ سوز پتنگاں
    سدا اڈاراں نال قطاراں رہسن کد کلنگاں
    سدا نہیں ہتھ مہندی رتے سدا نہ چھنکن ونگاں
    سدا نہ چھوپے پا محمد رلمل بہنا سنگاں

    حسن مہمان نہیں گھر باری کی اس دا کر ماناں
    راتیں لتھا آن ستھوئی فجری کوچ بلاناں
    سنگ دے ساتھی لدی جاندے اساں بھی ساتھ لداناں
    ہتھ نہ آوے پھیر محمد جاں ایہہ وقت وہاناں

    سدا نہیں مرگائیاں بہناں سدا نہیں سر پانی
    سدا نہ سئیاں سیس گنداون سدا نہ سرخی لانی
    لکھ ہزار بہار حسن دی خاکو وچ سمانی
    لا پریت محمد جس تھیں جگّ وچ رہے کہانی

  • شاہ رخ خان نے ٹویٹر پر اپنے مداح کو دیا ایک دلچپسپ جواب

    شاہ رخ خان نے ٹویٹر پر اپنے مداح کو دیا ایک دلچپسپ جواب

    شاہ رخ خان اکثر اپنے مداحوں کے ساتھ ٹویٹر پر #asksrk کا سیشن کرتے ہیں، پوری دنیا سے ان کے مداح ان سے رابطہ کرتے ہیں ان سے مختلف سوالات کرتے ہیں شاہ رخ خان کو جواب بھی دیتے ہیں. شاہ رخ خان نے گزشتہ روز #askrsk کا ایک سیشن رکھا ، مداحوں نے بہت سارے سوالات کئے وہیں ایک مداح نے ان کے گھر منت کے باہر کلک کی گئی ایک سیلفی ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ شاہ ر‌خ خان میں آپ کے گھر کے باہر آپ کا انتظار کر رہا ہوں باہر کیوں نہیں آرہے . اس کو جواب دیتے ہوئے شاہ رخ خان نے کہا کہ میں اس وقت بہت زیادہ سستی محسوس کررہا ہوں اور

    بستر سے نکلنے کو دل نہیں کر رہا یار. اسک ایس آر کے ٹویٹر سیشن میں شاہ رخ‌خان نے بہت سارے مداحوں کے سوالوں کے جوابات مزاحیہ انداز میں دئیے. یاد رہے کہ شاہ رخ 25 جنوری کو اپنی فلم ’پٹھان‘ کی ریلیز کا انتظار کر رہے ہیں۔ سدھارتھ آنند کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم میں دیپیکا پڈوکون، جان ابراہم، ڈمپل کپاڈیہ اور آشوتوش رانا بھی اہم کرداروں میں نظر آرہے ہیں۔ فلم کی موسیقی پہلے ہی سپر ہٹ ہو چکی ہے اور ایڈوانس بکنگ بھی جاری ہے. دیکھنا یہ ہے کہ فلم دیکھنے کے بعد شائقین کیسا رد عمل دیتے ہیں.